19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsبیان القرآن

Ayahs 19:38–42

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس روز یہ لوگ (حساب و جزا کے لیے) ہمارے پاس آویں گے کیسے کچھ شنوا اور بینا ہوجاویں گے لیکن یہ ظالم آج (دنیا میں) کیسی صریح غلطی میں ہیں۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب کہ (جنت و دوزخ کا) اخیر فیصلہ کردیا جاوے گا اور وہ لوگ (آج دنیا میں) غفلت میں ہیں اور وہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

(لیکن آخر ایک دن مریں گے اور) تمام زمین اور زمین کے رہنے والوں کے ہم ہی وارث (یعنی آخر مالک) رہ جاویں گے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور یہ سب ہمارے ہی پاس لوٹائے جاویں گے اور اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا (قصہ) ذکر کیجیئے وہ بڑے راستی والے پیغمبر تھے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے (جو کہ مشرک تھا) کہا اے میرے باپ تم) ایسی چیز کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ کچھ سنے اور نہ کچھ دیکھے اور نہ تمہارے کچھ کام آسکے۔ (ف 1)

ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم پہنچا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا (ف 2) تو تم میرے کہنے پر چلو تم کو سیدھا رستہ بتلاؤں گا۔ (ف 3)

ف 2۔ مرا اس سے وحی ہے جس میں احتمال غلطی کا ہو ہی نہیں سکتا۔ 3۔ اور وہ توحید ہے۔
Ayahs 19:44–45

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے باپ تم شیطان کی پرستش مت کرو بیشک شیطان رحمنٰ کا نافرمانی کرنے والا ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے باپ میں اندیشہ کرتا ہوں کہ تم پر رحٰمن کی طرف سے کوئی عذاب نہ آ پڑے پھر تم (عذاب میں) شیطان کے ساتھی ہوجاؤ۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی جب اطاعت میں اس کا ساتھ دو گے تو نفس عقوبت میں اس کا ساتھ ہوگا۔
Ayahs 19:46–48

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

باپ نے جواب دیا کہ کیا تم میرے معبودوں سے پھرے ہوئے ہو اے ابراہیم (علیہ السلام) اگر تم باز نہ آئے تو میں ضرور تم کو مار پتھروں کے سنگسار کر دوں گا اور ہمیش ہمیش کے لیے مجھ سے برکنار رہو۔

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا سلام لو اب میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی درخواست کروں گا بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہیں۔

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں تم لوگوں سے اور جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کر رہے ہو ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کی عبادت کروں گا امید ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر کے محروم نہ رہوں گا۔ (ف 5)

ف 5۔ اس گفتگو کے بعد ان سے اس طرح علیحدہ ہوئے کہ ملک شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب ان لوگوں سے اور جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے ان سے علیحدٰہ ہوگئے (تو) ہم نے ان کو اسحٰق (علیہ السلام) (بیٹا) اور یعقوب (علیہ السلام) (پوتا) عطا فرمایا اور ہم نے (ان دونوں میں سے) ہر ایک کو نبی بنایا۔ (ف 6)

ف 6۔ اسماعیل (علیہ السلام) کا اس جگہ ذکر نہ فرمانا اس وجہ سے ہے کہ اول تو وہ اوروں سے اول عطا ہوچکے تھے، بعد والوں کے ذکر سے قبل والے کا ذکر خود ہی مفہوم ہوجاتا ہے، دوسرے ان کا ذکر مستقل طور پر آئندہ قریب آنے والا ہے۔ تیسرے ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے جیسا عرب کا استجلاب قلب ہوا اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) کے ذکر سے اہل کتاب کا استجلاب قلب مناسب ہے، اور اسی نکتہ کی وجہ سے اس کے متصل موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے، پھر اس کے بعد اسماعیل (علیہ السلام) کا آوے گا۔
Ayahs 19:50–51

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان سب کو ہم نے اپنی رحمت کا حصہ دیا اور ( آئندہ نسلوں میں) ہم نے ان کا نام نیک اور بلند کیا۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور اس کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کیجیئے (ف 7) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص کیے ہوئے (بندے) تھے اور وہ رسول بھی تھے۔

ف 7۔ یعنی لوگوں کو سنایئے۔ ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقة اللہ تعالیٰ ہے۔
Ayahs 19:52–53

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لیے مقرب بنایا۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر عطا کیا۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیئے بلاشبہ وہ وعدہ کے (بڑے) سچے تھے اور وہ رسول بھی تھے اور نبی بھی تھے۔ (ف 2)

ف 2۔ رسول وہ ہے جو مخاطبین کو شریعت جدیدہ پہنچا دے اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو، خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ یا شریعت قدیمہ کی۔
Ayahs 19:55–58

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے متعلقین کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے رہتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے۔

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کیجیئے بیشک وہ بڑے راستی والے نبی تھے۔

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (کمالات میں) بلند رتبہ تک پہنچایا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں (ف 3) جن پر اللہ تعالیٰ نے (خاص) انعام فرمایا ہے منجملہ (دیگر) انبیاء کے آدم (علیہ السلام) کی نسل سے اور ان لوگوں کی نسل سے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے اور (یہ سب حضرات) ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت فرمائی ہے اور ان کو مقبول بنایا جب ان کے سامنے (حضرت) رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے (زمین پر) گر جاتے تھے۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی جن کا ذکر شروع سورت سے یہاں تک ہوا یعنی زکر یا (علیہ السلام) سے ادریس (علیہ السلام) تک۔ 4۔ یعنی باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد (بعضے) ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور (نفسانی ناجائز) خواہشوں کی پیروی کی (ف 5) سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے۔

ف 5۔ نماز کو برباد کیا خواہ اعتقادا کہ انکار کیا، یا عملا کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی۔
Ayah 19:60

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں مگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں جاویں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی ہر نیک عمل کی جزاء ملے گی۔
Ayahs 19:61–64

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

اور ہمیشہ رہنے کے باغ جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے (اور اس کے وعدے کی ہوئی چیز کو یہ لوگ ضرور) پہنچیں گے۔

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

اس (جنت) میں وہ لوگ کوئی فضول بات نہ سننے پاویں گے بجز سلام کے اور ان کو ان کا کھانا صبح و شام ملا کرے گا۔

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ جنت (جس کا ذکر ہوا) ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کا مالک ایسے لوگوں کو بنادیں گے جو کہ خدا سے ڈرنے والا ہو۔

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم (یعنی فرشتے) بدون آپ کے رب کے حکم کے وقتاً فوقتاً نہیں آسکتے اس کی (ملک) ہیں ہمارے آگے کی سب چیزیں اور ہمارے پیچھے کی سب چیزیں اور جو چیزیں ان کا درمیان میں ہیں اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تکوینا یا تشریعا مسخرا امر ہیں، اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جس زمان میں ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے، لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں، یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت میں بھول جاتے ہیں۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہیں سو اس کی عبادت کیا کرو اور اس کی عبادت پر قائم رہ بھلا تو کسی کو اس کا ہم صفت جانتا ہے۔ (ف 8)

ف 8۔ یعنی کوئی اس کا ہم صفت نہیں تو لائق عبادت بھی کوئی نہیں، پس اسی کی عبادت کرنا ضرور ہوا۔
Ayahs 19:66–67

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور انسان (منکر بعث) یوں کہتا ہے جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے (قبر سے) نکالا جاؤں گا۔

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا (یہ) انسان اس بات کو نہیں سمجھتا کہ ہم کہ اس کو اس کے قبل (عدم سے) وجود میں لا چکے ہیں اور (یہ اس وقت) کچھ بھی نہ تھا۔ (ف 1)

ف 1۔ جب ایسی حالت سے حیات تک لانا آسان ہے تو دوبارہ حیات دینا تو بدرجہ اولی آسان ہے۔
Ayahs 19:68–71

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان کو (اس وقت میں) جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی پھر ان کو دوزخ کے گردا گرد اس حالت سے ظاہر کریں گے کہ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے۔

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ان (کفار کے) ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو جدا کریں گے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے سرکشی کیا کرتا تھا۔

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم (خود) ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ (یعنی اول) مستحق ہیں۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا اس پر سے گزر نہ ہو (ف 2) آپ کے رب کے اعتبار سے لازم ہے جو (ضرور) پورا ہو کر رہے گا۔

ف 2۔ گزر کسی کا دخولا کسی عبورا۔ جہنم کا وجود ایسا یقینی ہے کہ اس کا معائنہ سب مومن و کافر کو کرایا جائے گا، گو صورت اور غرض معائنہ کی مختلف ہوگی، کفار کو بطور دخول کے اور تعذیب ابدی کے واسطے، اور مومنین کو بطور عبور پل صراط کے اور زیادت شکر اور فرح کے واسطے۔ اور بعض عصاة کو سزائے محدود کے لئے جو کہ تطہیر ہے۔
Ayahs 19:72–75

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو خدا سے ڈر کر ایمان لاتے تھے اور ظالموں کو اس میں ایسی حالت میں رہنے دیں گے کہ گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے بہت سے ایسے گروہ ہلاک کیے ہیں جو سامان اور نمود میں ان سے بھی (کہیں) اچھے تھے۔

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں (یعنی تم) رحمٰن ان کو ڈھیل دیتا چلا جا رہا ہے (ف 3) یہاں تک کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اس کو دیکھ لیں گے خواہ عذاب کو (دنیا میں) خواہ قیامت کو (دوسرے عالم میں) سو (اس وقت) ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ برا مکان کس کا ہے اور کمزور مددگار کس کا ہے۔ (ف 4)

ف 3۔ یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کردے اور یہ مہلت چند روزہ ہے۔ 4۔ یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے، کیونکہ وہاں تو زور میں اتنی کمی ہوگی کہ اصلا زور نہ ہوگا، اسی کو اضعف فرمایا۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہدایت والوں کو ہدایت بڑھاتا ہے اور جو نیک کام ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب میں بھی بہتر ہیں اور انجام میں بھی بہتر ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ پس ان کو ثواب میں بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی جن میں مکانات اور باغات سب کچھ ہوں گے، اور انجام ان اعمال کا ابدیت ہے ان نعمتوں کی، پس کیفیة و کمیة مسلمانوں ہی کی حالت اخیرہ بہتر ہوگی، اور اخیر ہی کا اعتبار ہے۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا آپ نے اس شخص (کی حالت کو) بھی دیکھا کفر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ کو (آخرت میں) مال اور اولاد ملیں گے۔ (ف 6)

ف 6۔ خباب بن ارت صحابی لوہار کا کام کرتے تھے، ان کا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمہ رہ گیا تھا، انہوں نے ایک بار تقاضا کیا تو عاص نے جواب دیا کہ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہ کرے گا تیرے دام نہ دوں گا، انہوں نے کہا کہ اگر تو مر کر بھی زندہ ہوگا جب بھی کفر نہ کروں گا، اس نے کہا پس جب یہ بات ہے کہ میں مر کر بھی زندہ ہونے والا ہوں تو میرے پاس جب ہی آنا، میرے پاس اس وقت بھی مال اولاد سب کچھ ہوگا۔ تیرے دام بھگتا دوں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔