19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

(1) کھیعص۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد وثنا فرمائی ہے یعنی وہ کافی ہے ہدایت عطا فرمانے والا ہے اور عالم ہے، صادق ہے یا یہ ہے کاف کا مطلب وہ اپنی مخلوق کو کافی ہے اور ھاء سے مراد ہدایت فرمانے والا ہے اور یا سے مراد ہے کہ اس کا تسلط اور غلبہ تمام مخلوق پر ہے اور عین سے مراد کہ وہ تمام مخلوق کے احوال جاننے والا ہے اور صاد یعنی کہ اپنے وعدے میں سچا ہے یا یہ کہ کاف سے کریم اور لفظ ھا سے ھاد یا حلیم اور عین سے علیم اور صاد سے صادق کنایہ ہے یا یہ کہ صدوق سے کنایہ ہے یعنی کہ بہت ہی زیادہ سچا اور یا یہ کہ ایک قسم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے کھائی ہے۔
Ayahs 19:2–3

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

(2۔ 3) یہ تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کے مہربانی فرمانے کا اپنے بندہ زکریا ؑ پر کہ ان کو لڑکا عطا فرمایا جب کہ زکریا ؑ نے محراب میں اپنی قوم سے پوشیدہ طور پر اپنے پروردگار کو پکارا۔
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ بڑھاپے کی وجہ) سے شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

(4) اے میرے رب میرا جسم کمزور ہوگیا ہے اور میرے بال سفید ہوگئے ہیں اور اے میرے رب میں آپ سے کوئی دعا کرنے میں ناکام نہیں رہا ہوں۔
Ayahs 19:5–6

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اولاد اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

(5۔ 6) اور اپنے بعد اپنے وارثوں کے بارے میں اندیشے میں مبتلا ہوں کہ کہیں میرے علم اور تقوے کا میرے بعد کوئی وارث نہ ہو یا یہ کہ میرے ورثہ کم ہیں اور میری بیوی حسنہ ہمشیرہ ام مریم بنت عمران بن ماثان بانجھ ہے لہذا آپ خاص اپنی رحمت سے ایسا فرزند عطا فرمائیے جو کہ میرے خاص علوم میں میرا وارث بنے اور یعقوب ؑ کے خاندان کے موروثی علوم میں ان کا وارث بنے اگر ان میں یہ علوم اور بادشاہت ہوں (حضرت یعقوب ؑ کا خاندان حضرت یحییٰ ؑ کی ننھیال تھی) اور اس کا اپنا پسندیدہ اور نیکوکار بنائیے۔
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

(7) چناچہ اللہ کی طرف سے جبریل ؑ نے ان سے فرمایا اے زکریا ؑ ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جن کا نام یحییٰ ہے کہ ان کی وجہ سے ان کی والدہ کا رحم زندہ ہوا اور ہم نے زکریا ؑ کو یحییٰ ؑ سے پہلے کوئی اولاد نہیں دی تھی یا کہ یحییٰ ؑ سے پہلے یحییٰ ؑ نام کا اور کوئی نہیں تھا۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا (پیدا) ہوگا جس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

(8) زکریا ؑ نے جبریل امین ؑ کے ذریعے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے اولاد کس طرح ہوگی جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں یہ کہ میری عمر بہتر (72) سال کی ہوچکی ہے۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

(9) جبریل امین ؑ نے فرمایا جیسا کہ تم سے کہا گیا موجودہ حالت یوں ہی رہے گی تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ اس کا پیدا کرنا مجھ پر آسان ہے اور اے زکریا یحییٰ سے پہلے میں نے ہی تمہیں پیدا کیا۔
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

(10) تب زکریا ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری بیوی کے حاملہ ہونے کے لیے کوئی علامت مقرر فرما دیجیے۔ ارشاد ہوا کہ علامت یہ ہے کہ تین دن تین رات تک تم لوگوں سے بات چیت نہ کرسکو گے حالانکہ تندرست ہو گے کسی قسم کی کوئی بیماری اور گونگا پن نہیں ہوگا۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

(11) چناچہ مسجد سے اپنی قوم کے پاس تشریف لائے اور ان کو اشارہ سے یا زمین پر لکھ کر فرمایا کہ صبح و شام اللہ کی تعالیٰ کی عبادت اور پاکی بیان کرنے میں مصروف رہو۔
Ayahs 19:12–14

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑو رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس دے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور وہ پرہیزگار تھے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

(12۔ 13۔ 14) پھر یحییٰ ؑ نے جس وقت بالغ ہوئے اور سن شعور کو پہنچ گئے تو الہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے یحییٰ کتاب توریت میں جو احکامات ہیں ان کی پوری کوشش اور پابندی کے ساتھ پیروی کرو اور ہم نے یحییٰ ؑ کو لڑکپن ہی میں عقل وعلم عطا کیا تھا اور خاص اپنی طرف سے ان کے والدین کے لیے رحمت اور صلہ رحمی یا یہ کہ ان کو دین میں صلاحیت عطا کی تھی۔ اور وہ اپنے رب کے بڑے تابعدار اور اپنے والدین کے بڑے خدمت گزار تھے اور وہ دین میں نافرمانی کرنیوالے اور غصہ میں قتل کرنے والے اور اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی اور رحمت (ہے)

(15) اور یحییٰ ؑ کو ہماری جانب سے سلام مغفرت اور سعادت عطا ہو، جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کہ انہوں نے انتقال فرمایا اور جس وقت کہ وہ قبر سے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

(16) اور اے محمد ﷺ قرآن کریم میں سے حضرت مریم ؑ کا قصہ بھی بیان کیجیے جو وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ایک ایسے مکان میں گئیں جو مشرق کی طرف تھا۔
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا (اس وقت) ہم نے ان کی طرف فرشتہ بھیجا تو وہ ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

(17) پھر انہوں نے گھر والوں کے سامنے پردہ ڈال لیا تاکہ اس کی آڑ میں غسل کرسکیں چناچہ غسل سے فراغت کے بعد ہم نے ان پاس اپنے فرشتے جبریل امین ؑ کو بھیجا وہ ان کے سامنے ایک پورے نوجوان کی صورت میں ظاہر ہوئے ،
Ayah 19:18

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

(18) یہ دیکھ کر حضرت مریم ؑ کہنے لگیں کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو اللہ کا فرمانبردار ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ متقی ایک برے آدمی کا نام تھا حضرت مریم ؑ گھبراہٹ میں اسی کو سمجھیں اور کہنے لگیں کہ اگر تو متقی ہے تو میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

(19) حضرت جبریل ؑ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہارے پروردگار کا فرشتہ ہوں اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں ایک نیک فرزند دوں۔
Ayah 19:20

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

(20) حضرت مریم ؑ نے جبریل امین ؑ سے فرمایا کہ میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ ابھی میرا کوئی خاوند نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا یوں ہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور (میں اسے اسی طریقہ پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

(21) جبریل امین ؑ نے فرمایا بس جس طرح تم سے کہا ہے اسی طرح ہوجائے گا تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اس بغیر باپ کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لیے ایک نشانی بنائیں اور جو ان پر ایمان لائے اس کے لیے باعث رحمت بنائیں اور یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا ہوگا۔
Ayahs 19:22–23

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

(22۔ 23) چناچہ حضرت مریم ؑ حاملہ ہوگئیں اور ان کا حمل نو ماہ کا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن کا تھا چناچہ وہ اس کی پیدائش کے وقت دور دراز مقام پر لوگوں سے علیحدہ کسی جگہ پر چلی گئیں اور دردزہ کی شدت کی وجہ سے ایک خشک کھجور کے درخت کی آڑ لی اور گھبرا کر بولیں کہ کاش میں اس بچہ سے پہلے ہی یا اس دن سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیست ونابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

(24) فورا حضرت جبریل ؑ نے پائیں مکان سے ان کو پکارا کہ اے مریم ؑ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے تم دکھی مت ہو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا کی ہے اور یہ کہ تمہارے رب نے تمہارے پائیں مکان میں ایک نہر جاری کردی ہے۔
Ayah 19:25

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کجھور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

(25) اور اس کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ، اس سے تم پر تازہ کھجوریں جھڑیں گی ،
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

(26) پھر ان پھلوں کو کھاؤ اور نہر سے پانی پیو اور حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو اور آج کے بعد اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی دیکھو تو کہہ دینا میں نے تو روزہ کی جس میں بولنے کی پابندی ہے، نذر مان رکھی اور پھر اتنا کہنے کے بعد خاموش ہوجانا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ؑ خود تمہاری طرف سے جواب دے دیں گے۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

(27) حضرت عیسیٰ ؑ چالیس دن کے ہوئے تو وہ ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں قوم بولی بڑے غضب کا کام کیا۔
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

(28) اے ہارون کی بہن تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہ تھے ہارون کی عبادت و پرہیزگاری میں تشبیہ دے کر ان کی بہن کہا کیوں کہ ہارون ؑ بہت نیک انسان تھے یا یہ کہ ہارون ؑ بڑے آدمی تھے، لہذا ان کے ساتھ تشیبہ دے دی،
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

(29) اور کہا گیا کہ ہارون ؑ اور حضرت مریم ؑ ایک ہی باپ کی اولاد تھے اس لیے ان کی طرف منسوب کیا اور نہ تمہاری ماں بری عورت تھی چناچہ حضرت مریم ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف اشارہ کردیا کہ جو کچھ کہنا ہو ان سے کہو، قوم کہنے لگی بھلا ایسے شخص سے کیوں کر بات کریں جو کہ ابھی گود میں ہے یہ پالنے میں بچہ ہی ہے۔
Ayahs 19:30–31

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

(30۔ 31) حضرت عیسیٰ ؑ بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے ماں کے پیٹ ہی سے مجھے علم توریت وانجیل دیا (گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہے جیسے دے دی) اور ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد مجھے نبی بنایا (یعنی بنائے گا) اور میں جس مقام پر بھی ہوں، مجھے نیکیوں کی تعلیم دینے والا بنایا ہے اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے جب تک کہ میں زندہ ہوں۔
Ayah 19:32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا

(32) اور مجھے میری والدہ کا خدمت گزار بنایا اور مجھے سرکش غصہ میں قتل و غارت گری کرنے والا اور اپنے پروردگار کا نافرمان نہیں بنایا۔
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے

(33) اور جس وقت کہ میں پیدا ہوا، شیطان کے کو نچے سے مجھ کو سلامتی ہو اور قبر کی گھبراہٹ سے جب کہ میں مروں گا اور جس وقت کہ قبر سے زندہ کرکے میں اٹھایا جاؤں گا۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

(34) یہ ہے عیسیٰ بن مریم ؑ کا واقعہ اور عیسیٰ ؑ کی بالکل سچی بات جس میں نصاری شک کر رہے ہیں کہ بعض ان کو اللہ اور بعض اللہ کا بیٹا اور بعض کا شریک کہتے ہیں۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

(35) اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اولاد کے طور پر اپنائے اس کی ذات اولاد اور شریک سے بالکل ماوراء وپاک ہے کیوں کہ اس کی شان تو یہ ہے کہ کہ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے مثلا وہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا چاہتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا فرمایا تو وہ صرف اتنا فرما دیتے ہیں کہ ”کن“ ہوجا سو وہ کام ہوجاتا ہے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک خدا ہی میرا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

(36) غرض کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ اپنی قوم کو رسالت کی دعوت دینے کے لیے آئے تو فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ میرا بھی رب اور خالق و رازق ہے اور تمہارا بھی رب اور خالق و رازق ہے تو خاص اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہوئے ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

(37) اور جس توحید کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ سیدھا راستہ یعنی دین اسلام ہے تو کافروں نے باہم اختلاف ڈال دیا، بعض کہنے لگے کہ یہی اللہ ہیں بعض کہنے لگے کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے ہیں بعض بولے کہ اللہ کے شریک ہیں سو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا قیامت کے دن کے عذاب سے بہت بڑی خرابی ہے دوزخ میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے، اس کا نام ”ویل“ ہے یا یہ کہ اس سے مراد دوزخ کا گڑھا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد عذاب کی سختی ہے، اس دن یہ کافر کیسے شنوا اور بینا ہوجائیں۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اور وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

(38) قیامت کے دن یہ لوگ کیسے کچھ سننے اور دیکھنے والے ہوجائیں گے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نہ اللہ ہیں اور نہ اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں لیکن مشرکین آج دنیا میں اپنے اس قول کی بنا پر کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ ہیں اور اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں کیسے کھلے کفر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

(39) اور محمد ﷺ آپ ان لوگوں کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائیے جب کہ حساب و کتاب سے فراغت ہوجائے گی۔ اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دے جائیں گے اور جنت دوزخ کے درمیان موت کو ذبح کردیا جائے گا اور وہ لوگ اس چیز سے نادانی اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور موت کے بعد پھر جی اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

(40) اور ہم تمام زمین اور اہل زمین کے مالک ہیں یعنی آخر ایک دن سب مریں گے اور سب کے ہم ہی وارث ہیں، ہم مارتے اور زندہ کرتے ہیں اور قیامت کے دن یہ سب ہمارے ہی پاس لوٹائے جائیں گے، پھر م ان کو ان کے اعمال کی جزا دیں گے یعنی نیکی کے بدلے نیکی اور برائی کے بدلے برائی پائیں گے۔