Ayah 19:1اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کھٰیٰعص۔ حروف مقطعات پر کلام پہلے سورتوں کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کاف۔ کافی سے، ھا۔ ھادی ہے، یا۔ حکیم سے اور عین۔ علیم سے اور صاد۔ صادق سے ہے، یہ ابن العزیز نے ذکر کیا ہے۔ قشیری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لیے کافی ہے اپنے بندوں کو ہدایت دینے والا ہے۔ اس کا ہاتھ سب کے ہاتھوں پر ہے (یعنی سب پر غالب ہے) ان کو جاننے والا ہے اپنے وعدہ میں سچا ہے۔ یہ قول ثعلبی نے کلبی، سدی، مجاہد اور ضحاک سے روایت کیا ہے۔ کلبی نے یہ بھی کہا ہے کہ الکاف، کریم، کبیر اور کافی سے، ھا، ھادی سے ہے۔ یا رحیم سے ہے۔ عین علیم اور عظیم سے ہے۔ صاد صادق سے ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ام ہے اور حضرت علی ؓ اس طرح دعا مانگتے تھے : یا کھٰیٰعص اعفرلی، یہ غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ سدی نے کہا : یہ وہ اسم اعظم ہے جس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ عطا فرماتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور جب اس کے ذریعے دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ قرآن کے اسماء میں سے اسم ہے، یہ عبد الرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ سورت کا نام ہے۔ قشیری کا اختیار یہی ہے (1) کہ حروف مقطعات سورتوں کے نام ہیں اسی وجہ سے کہا گیا کہ کہ کھٰیٰعص پر کلام کا تمام ہے۔ گویا یہ سورت کے نام متعلق بتایا گیا ہے جیسے تو کہتا ہے : فلاں کتاب (طہارت) یا باب فلاں (وضو) پھر تو مقصد میں شروع ہوتا ہے۔ ابو جعفر نے ان حروف کو علیحدہ علیحدہ پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے وصل کیا ہے۔ ابو عمرو نے ھا میں امالہ کیا اور یاء کو فتح کے ساتھ پڑھا۔ ابن عامر اور حمزہ نے اس کے برعکس پڑھا ہے اور ان دونوں کی کسائی، ابوبکر اور خلف نے امالہ کیا ہے۔ اہل مدینہ، نافع وغیرہ نے ان دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے اور باقی قراء نے دونوں کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ خارجہ سے مروی وے کہ حسن کاف کو ضمہ دیتے تھے اور اس کے علاوہ سے حکایت ہے کہ انہوں نے ھا کو ضمہ دیا ہے۔ اسماعیل بن اسحاق نے حکایت کیا ہے کہ وہ یاء کو ضمہ دیتے تھے۔ ابو حاتم نے کہا : کفا کو ضمہ دینا اور ھا کو ضمہ دینا جائز نہیں۔ نحاس نے کہا : اہل مدینہ کے قرأت سب سے بہتر ہے اور ھا اور یا میں امالہ جائز ہے اور حسن کی قرأت جماعت قرار پر مشکل ہے حتی کہ انہوں کہا : یہ جائز نہیں ہے، ان علماء میں سے ابو حاتم بھی ہیں اس کے بارے میں ہاروا القاری نے بیان کیا ہے انہوں نے کہا : حسن رفع کو اشمام کرتے تھے، اس کا معنی ہے وہ اشارہ کرتے تھے جیسا کہ سیبویہ نے حکایت کیا ہے کہ عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : الصلوۃ والزکاۃ یومی الی الواد۔ یعنی الصلوۃ اور الزکاۃ کے لفظ وائو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اور صاد کے ہجے سے دال کو نافع، ابن کیثر، عاصم اور یعقوب نے ظاہر کیا ہے، یہی ابو عبیدہ کا اختایر ہے اور باقی قراء نے اسے ادغام کیا ہے
Ayah 19:2اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ اذنادی ربہ نداء خفیا۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذکر رحمت ربک ذکر کے رفع میں تین اقوال ہیں۔ فراء نے کہا : یہ کھٰیٰعص کی وجہ سے مرفوع ہے۔ زجاج نے کہا : یہ محال ہے کیونکہ کھٰیٰعص اس میں سے نہیں ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کے متعلق خبر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور انہیں جو بشارت دی اس کے متعلق خبر کردی اور کھٰیٰعص ان کے قصہ سے نہیں ہے۔ اخفش نے کہا : تقدیر عبارت اس طرح فیما یقص علیکم ذکر رحمۃ ربک۔ اور بعض علماء نے فرمایا : حسن نے ذکر رحمت ربک پڑھا ہے، یعنی ھذا المتلو من القرآن ذکر رحمۃ ربک۔ اور ذکرا مر کا صیغہ پڑھا گیا ہے اور رحمۃ لکھا جاتا ہے اور ھاء کے ساتھ اس پر وقف کیا جاتا ہے اسی طرح ہر اسم جو اس کی مثل ہوتا ہے اس کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس میں نحویوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس میں انہوں نے یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ھا اسماء کی تانیث کے لیے ہے تاکہ ان کے اور افعال کے درمیان فرق ہوجائے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عبدہ۔ اخفش نے کہا : یہ رحمۃ کی وجہ سے منصوب ہے اور زکریا اس سے بدل ہے جیسے تو کہتا ہے : ھذا ذکر ضرب زید عمرا عمرا ضرب کی وجہ سے منصوب ہے اسی طرح عبدہ، رحمۃ کی وجہ ہے منصوب ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تقدیم و تاخیر پر ہے اس کا معنی ہے ذکر ربک عبدہ زکریا، برحمۃ۔ پس عبدہ، ذکر کی وجہ سے منصوب ہے، زجاج اور فراء نے یہ ذکر کیا ہے۔ بعض علماء نے عبدہ زکریا رفع کے ساتھ پڑھا ہے یہ ابوالعالیہ کی قرأت ہے۔ یحییٰ بن یعمر نے ذکر نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس معنی پر کہ ھذا القرآن ذکر رحمۃ عبدہ زکریا۔ زکریا کے بارے میں قرات اور لغات سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں۔
Ayah 19:3مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ نادی ربہ نداء خفیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ادعو ربکم تضرعا و خفیۃ۔ انہ لا یحب المعتدین۔ (الاعراف) یہ پہلے گزر چکا ہے۔ ندا کا معنی دعا اور رغبت ہے یعنی انہوں نے محراب میں اس کے ساتھ اپنے رب سے مناجات کی، اس کی دلیل یہ اشارہ ہے : فنادتہ الملئکۃ و ھو قآئم یصلی فی المحراب (آل عمران :39) یہ ظاہر ہوا کہ ان کی نماز میں ہی دعا کی قبولیت ہوئی جیسا کہ انہوں نے نماز کے اندر دعا کی ان کی دعا کو مخفی کرنے کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اپنی قوم سے اس دعا کو مخفی کیا تاکہ بڑھاپے میں بچے کے سوال پر انہیں ملامت نہ کی جائے۔ دوسرا یہ کہ یہ دنیوی امر تھا اگر اس کی دعا قبول کی گئی تو وہ اپنا مقصود پا لیں گے اگر قبول نہ ہو گتی تو اس کے متعلق کسی کو علم نہ ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس دعا میں خلوص کا مظاہری کر رہے تھے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مطلع نہ تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : کیونکہ خفیہ اعمال افضل ہوتے ہیں اور ریاکاری سے پاک ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے دعا کو مخفی کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : خفیا۔ کا مطلب ہے رات کی تاریکی میں اپنی قوم سے چھپا کر دعا کی یہ تمام احتمال موجود ہیں لیکن پہل قول اظہر ہے۔
سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ دعا میں اخفا مستحب ہے اور یہ آیت اس میں نص ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اس پر تعریف فرمائی ہے۔ اسماعیل نے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں مسدد نے بتایا فرمایا ہمیں یحییٰ بن سعید نے بتایا انہوں نے اسامہ بن زید سے روایت کیا انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا اور یہ ابن کبثہ سے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے (1) فرمایا : ان خیر الزکر الخفی و خیر الرزق ما یکفی۔ بہتر ذکر خفی ہے اور بہتر رزق وہ ہے جو کفایت کرے۔ یہ عام ہے۔ یونس بن عبیدہ نے کہا : حضرت حسن کا نظریہ یہ ہے کہ امام دعا مانگے اور مقتدی بغیر بلند آواز کے آمین کہیں اور یونس نے تلاوت کی : اذ نادی ربہ ندآء خفیا۔ ابن عربی نے کہا : امام مالک نے دعا آہستہ کی اور امام شافعی نے اس میں جہر کیا۔ اور دعا میں جہر افضل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ ؓ جہراً دعا فرماتے تھے۔
Ayah 19:4اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال رب انی و ھن العظم منی اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال رب انی وھن بھی پڑھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کمزور ہونا۔ کہا جاتا ہے : وھن یھن وھنا فھوداھن۔ کمزور ہونا۔ ابو زید نے کہا : وھن یھن او و ھن یومن بھی کہا جاتا ہے۔ العظم کا ذکر کیا کیونکہ یہ بدن کا عمود ہے اس کے ساتھ جسم کا قوام ہے۔ یہ اس کی بنا (ڈھانچہ) کی اصل ہے جب ہڈیاں کمزور ہوتی ہے تو جسم کی تمام تر قوتیں کمزور ہوجاتی ہے کیونکہ جسم میں ہڈی ہی سخت اور مضبوط ہوتی ہے جب ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں تو دوسرا جسم بدرجہ اولیٰ کمزور ہوجاتا ہے۔ عظم واحد ذکر فرمایا کیونکہ واحد جنسیت کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے یہ قصد فرمایا کہ یہ وہ جنس ہے جو عمود اور قوام کا باعث ہے اور جس جس سے مرکب ہوتا ہے اس میں سخت ترین یہ ہے اس کو بھی کمزوری لاحق ہوچکی ہے۔ اگر جمع ذکری کی جاتی تو دوسرے مفہوم کا ارادہ ہوتا اور وہ یہ کہ اس سے بعض ہڈیاں کمزور نہیں ہوئیں لیکن اکثر کمزور ہوئی ہیں۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واشتعل الراس شیبا۔ ابو عمرو نے سین کو شین میں ادغام کیا ہے۔ یہ عرب کا کلام میں خوبصورت ترین استعارہ ہے۔ الاشتعال کا معنی ہے آگ کی شعاع بکھرنا، اس کے ساتھ سر میں بڑھاپے کے پھیلنے کو تشبیہ دی گئی ہے، یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا : میں کمزور اور بوڑھا ہوچکا ہوں۔ اشتعال کو بالوں کے پیداہ ہونے کی جگہ کی طرف منسوب کیا اور وہ سر ہے۔ راس (سر) کو مضاف نہیں کیا کیونکہ مخاطب کو علم ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سر مراد ہے۔ شبیاً اس کی نصب میں دو وجود ہیں۔ (ا) یہ مصدر ہے کیونکہ اشتعل کا معنی ہے شاب۔ یہ اخفش کا قول ہے اور زجاج نے کہا : یہ بد تمیز کی بنا پر منصوب ہے۔ نحاس نے کہا : احفش کا قول اولیٰ ہے کیونکہ وہ فعل سے مشتق ہے پس مصدر بنانا اولیٰ ہے۔ الشیب کا معنی ہے سفید اور سیاہ بالوں کا ملنا۔
مسئلہ نمبر 3: ہمارے علماء نے فرمایا : انسان کے لیے مستجب ہے کہ اپنی دعا میں ان انعامات کو یاد کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیے ہیں اور ایسی چیزوں کا ذکر کرے جو خضوع کے مناسب ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و ھن العظم من خضوع کا اظہار ہے اور ولم اکن بدعآ ئک رب شقیا۔ دعا قبول کرنے میں فضل کرنے کی عادت کا اظہار ہے یعنی تجھ سے دعا مانگنے میں کبھی شقی نہیں ہوا، یعنی جب بھی میں نے تجھ سے دعا مانگی تو میں دعا میں محروم نہیں رہا، یعنی تو نے مجھے دعا کی قبولیت کا عادی بنا دیا ہے۔ کہا جاتا ہے : شقی بکذا یعنی اس میں تھک گیا اور مقصود حاصل نہ ہوا۔ بعض علماء سے مروی ہے کہ محتاج نے اس سے سوال کیا اور کہا : میں وہ ہوں تو نے فلاں وقت میں اس سے احسان کیا تو اس نے کہا : خوش آمدید اسے جو ہمارے ذریعے ہم تک پہنچا اور پھر اس کی حاجت پوری کردی۔
Ayah 19:5اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانی خفت الموالی من ورآئی و کا نت امراتی عاقراً فھب لی من لدنک ولیا۔ اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانی خفت الموالی حضرت عثمان بن عفان، محمد بن علی اور علی بن حسین اور یحییٰ بن یعمر ؓ نے خفت خاکے فتحہ اور فاکلی شد اور تا کے کسرہ کے ساتھ اور الموالی کو یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ خفت کی وجہ سے یہ محل رفع میں ہے۔ اس کا معنی ہے میرے رشتہ دار موت کے ساتھ ختم ہوگئے۔ اور باقی قراء نے خفت خاء کے کسرہ، فا کے سکون اور تا کے ضمہ اور موالی کے یا کی نصب کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ خفت کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ الموالی سے یہاں مراد قریبی رشتہ دار ہیں۔ اور چچا کے بیٹے اور وہ عصبات ہیں جو نسب میں ان سے ملتے تھے۔ عرب چچا کے بیٹوں کو بھی الموالی کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
مھلا بنی عمنا مھلا موالینا لا تنبشوا بیننا ما کان مدفونا
حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ نے کہا : حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اندیشہ ہوا کہ قریبی رشتہ دار وارث بنیں گے اور باپ اور بیٹے کے علاوہ وہ لوگ وارث بنیں گے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ کے رشتہ دار دین کے لیے سستی کرنے والے تھے تو آپ کو اپنی موت سے دین کے ضیاع کا خوف ہوا، پس آپ نے ایسا ولی طلب کیا جو ان کے بعد دین کو قائم رکھے، یہ قول زجاج نے حکایت کیا ہے۔ اس قول کی بنا پر آپ نے مال کے وارث کا سوال نہیں کیا کیونکہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے۔ یہ قول آیت کی تاویل میں دونوں قول میں سے صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے علم، نبوت کی وراثت کا ارادہ فرمایا تھا مال کی وراثت کا ارادہ نہیں فرمایا تھا، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’ ہم انبیاء کا گروہ میراث نہیں چھوڑتے جو ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے “۔ (1) ۔ ابودائود کی کتاب میں ہے ” علماء انبیاء کے ورثاء ہیں، انبیاء دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے اور وہ علم کا وارث بناتے ہیں “ (2) اس کی مزید وضاحت یرثنی کے قول کے تحت آئے گی۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ حدیث مسند تفسیر میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وورث سلیمن دائود (النمل :16) اور حضرت زکریا کے قول کو یوں تعبیر فرمایا : فھب لی من لدنک ولیا۔ یرثنی و یرث من ال یقعوب۔
اور اس میں عموم کی تخصیص ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) کے مال کے وارث نہ بنے تھے۔ اپنے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) نے حضرت سلیمان کو خلیفہ بنایا تھا اور اس سے حکمت و علم کے وارث ہوئے تھے، اسی طرح حضرت یحییٰ (علیہ السلام) آل یعقوب سے وارث ہوئے تھے۔ رافضیوں کے علاوہ مفسرین نے اس قرآنی آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے مگر حسن بصری سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : یرثنی مال کا وارث بنے۔ و یرث من ال یعقوب نبوت و حکمت کا وارث بنے۔ ہر وہ قول جو نبی کریم ﷺ کے قول کے مخالف ہو وہ مردود، مہجور ہے، یہ ابو عمر کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین میں اکثر کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے مال کی وراثت کا ارادہ کیا اور نبی کریم ﷺ کے قول : ” ہم انبیاء کا گروہ میراث نہیں چھوڑتے “ ( 1) ۔ احتمال رکھتا ہے کہ آپ نے اس سے عموم مراد نہ لیا ہو بلکہ اس سے مراد غالب امر ہو۔ یہ مقام غور ہے۔ اظہر اور مناسب حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لیے یہ ہے کہ انہوں نے وارثت علم اور دین مراد لی ہے۔ اس صورت میں وراثت، مستعارہ ہوگی کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا جب انہوں نے ولی طلب کیا تو انہوں نے بچے کو خاص نہیں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی امنگ کو کامل طور پر پورا فرمایا۔ ابو صالح وغیرہ نے کہا : من ال یعقوب سے مراد علم اور نبوت کی میراث ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ورا آئی ابن کثیر نے اسے مد اور ہمزہ اور یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سے مقصود اور یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھنا بھی مروی ہے، جیسے عصایٰ اور باقی قراء نے ہمزہ، مد اور یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور قراء خفت کی قرأت پر ہیں جیسے نمت، مگر جو ہم نے عثمان سے ذکر کیا ہے یہ بہت شاذ قرأت ہے حتی کہ بعض علماء نے فرمایا : وہ جائز ہی نہیں ہے۔ فرمای : وہ کیسے یہ کہتے ہوں گے : خفت الموالی من بعدی ؟ یعنی میرے وصال کے بعد حالانکہ وہ زندہ تھے۔ نحاس نے کہا : اس کی تاویل ہو سکتی ہے کہ من ورآی سے مراد من بعد موتی نہ ہو لیکن من ورائی فی ذالک الوقت ہو۔ یہ تاویل بھی بعید ہے اور دلیل کب محتاج ہے کہ وہ اس وقت کم تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کثرت کی خبر دی ہے جب انہوں نے کہا : ایھم یکفل مریم (آل عمران : 44)
ابن عطیہ نے کہا : من ورآی کا مطلب ہے اس زمانہ میں میرے بعد (2) اور یہ بھی وراء ہے جیسا کہ سورة الکہف میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و کا نت امراتی عاقراً آپ کی بیوی ایشاع بنت فاقوذ ابن قبیل تھی۔ یہ حنتہ بنت فاقوذ کی بہن تھی، یہ طبری کا قول ہے۔ حنہ یہ حضرت مریم (علیہما السلام) کی والدہ ہے جیسا کہ سورة عمران میں گزر چکا ہے۔ قتبی نے کہا : حضرت زکریا کی بیوی ایشاع بنت عمران تھی۔ اس قول کی بنا پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی خالہ کے بیٹے ہوں گے اور دوسرے قول کی بنا پر حضرت پر عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی خالہ کے بیٹے ہوں اور حدیث اسراء میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا فلقیت ابنی الخالۃ یحییٰ و عیسیٰ میں خالہ کے بیٹوں اور عیسیٰ سے ملا۔ یہ قول پہلے قول کا شاہد ہے۔ واللہ اعلم۔
العاقر اس عورت کو کہتے ہیں جو عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے بچے کا جنم نہیں دیتی اس کا ذکر آل عمران میں ہوچکا ہے اور عورتوں میں عاقر اس کو بھی کہتے ہیں جو عمر کے زیادہ ہونے کے باوجود بھی بچے جنم نہیں دیتی اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویجعل من یشاء عقیما (الشوری :50)
اسی طرح مردوں میں بھی العاقر ہوتا ہے شاعر کا قول ہے :
لبئس افتی ان کنت اعرا عاقراً جبانا فما عذری لدی کل محضر
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فھب لی من لدنک ولیا۔ یہ سوال اور دعا ہے بیٹے کے لیے، صراحتہً دعا نہیں کی، کیونکہ انہیں اپنی حالت بھی معلوم تھی اور عورت کے بارے بھی علم تھا۔ قتادہ نے کہا : ان کے لیے یہ امر جاری ہوا جبکہ عمر ستر سال سے زائد تھی۔ مقاتل نے کہا : پچہتر (75) سال تھی یہ زیادہ مناسب ہے۔ حضرت زکریا کا غالب گمان تھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کا بچہ پیدا نہ ہوگا اسی وجہ سے کہا : وقد بلغت من الکبیر عتیا۔ ایک جماعت نے کہا : بلکہ انہوں نے بچہ طلب کیا (1) پھر اس بات کی قبولیت طلب کی کہ وہ زندہ رہے حتی کہ وہ وارث بنے، اس بات سے حفاظت کے لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچے کے بارے میں دعا قبول ہو لیکن پھر وہ ختم ہوجائے اور اس سے غرض پوری نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ علماء نے فرمایا : حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بچے کے لیے دعا کی تاکہ ان کے دین کا غلبہ ہو اور ان کی نبوت کا احیا ہو اور ان کے اجر میں اضافہ ہو دنیا کی خاطر دعا نہیں کی تھی۔ رب کریم نے انہیں قبولیت کا عادی بنا دیا تھا اسی وجہ سے انہوں نے کہا : لم اکن بدعآ ئک رب شقیا۔ یہ ایک اچھا وسیلہ ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر نعمت کے وسیلہ سے سفارش طلب کی اور اس کے فضل کا، اس کے فضل کے وسیلہ سے سوال کیا۔
روایت ہے کہ حاتم طائی جو بہت سخی تھا اسے ایک شخص ملا اور اس نے اس سے سوال کیا۔ حاتم نے اسے کہا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں وہ ہوں جس پر تو نے پہلے سال احسان کیا تھا۔ حاتم نے کہا : خوش آمدید جس نے ہماری بارگاہ میں ہمیں ہی شفیع بنایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بغیر اذن کے خارق للعادت امر کا کیسے سوال کیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے انبیاء کے زمانوں میں جائز تھا اور قرآن حکیم میں اس مفہوم کی وضاحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا قال یمریم انی لک ھذا قالت ھو من عنداللہ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حساب۔
جب خارق للعادت امر کو دکھا تو دعا کی قبولیت میں ان یک امید مزید مستحکم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ھنالک دعا زکریا ربہ قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبۃ (آل عمران :38)
مسئلہ نمبر 7 ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ آیت بچے کے لیے دعا کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اموال اور اولاد کی آفات سے ڈرایا ہے اور ان کے مفاسد پر تنبیہ کی ہے فرمایا : انما اموالکم و اولادکم فتنۃ (التغابن : (15 ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحزروھم (التغابن :14) اس کا جواب یہ ہے کہ بچے کے لیے دعا کرنا کتاب و سنت سے ثابت ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ پھر حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بری اولاد سے بچائو کیا۔ عرض کی : ذریۃ طیبۃ (آل عمران :38) اور کہا : واجعلہ رب رضیاً ۔
جب بچہ ان صفات کا حامل ہو تو دنیا و آخرت میں والدین کے لیے نفع بخش ہوتا ہے اور وہ عداوت اور فتنہ کی حد سے نکل جاتا ہے اور مسرت و نعمت کا باعث ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے خادم انس کے لیے دعا فرمائی : اللھم اکثر مالہ و ولدہ وبارک لہ فیما اعطیتہ۔ (1) اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں کثرت فرما اور جو تو اسے عطا فرمائے اس میں برکت دے۔ آپ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی تاکہ اس کثرت سے بچایا جائے جو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بندے کو اپنے مولیٰ کی بارگاہ میں اپنی اولاد کی ہدایت اور دنیا و آخرت میں اس کی نجات کی دعا کرنی چاہیے تاکہ انبیاء (علیہم السلام) اور فضلاء و اولیا کی اقتدار ہوجائے۔ اس کا بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Ayah 19:6اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یرثنی و یرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیاً ۔ اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یرثنی اہل حرمین، حسن، عاصم اور حمزہ نے یرثنی اور یرث دونوں کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں دھب کا جواب نہیں ہیں جیسا کہ سیبویہ کا مذہب ہے۔ اس کی تقدیر اس طرح ہے : ان تھبۃ یرثنۃ و یرث۔ معنی کے اعتبار سے پہلا قول زیادہ درست ہے کیونکہ انہوں نے موصوف وارث طلب کیا تھا یعنی تو مجھے ایسا ولی عطا فرما جو اس حالت اور صفت پر ہو کیونکہ ان میں بعض اولیاء وارث نہیں ہوتے۔ فرمایا : ھب لی الزی یکون ورائی۔ یعنی مجھے عطا فرما جو میرے پیچھے رہنے والا ہو، یہ ابو عبیدہ کا قول ہے اور جزم کی قرأت کا رد کیا ہے۔ فرمایا : اس کا معنی ہے اگر تو مجھے عطا فرمائے تو تو اسے وارث بھی بنا وہ کیسے اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق خبر دے رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق اس سے بہتر جانتا ہو۔ نحاس نے کہا : یہ مشہور حجت ہے کیونکہ نحویوں کے نزدیک جواب امر میں شرط اور جزا کا معنی ہوتا ہیۃ تو کہتا ہے : اطع اللہ ید خلک الجنۃ۔ یعنی ان تطعہ ید خلک الجنۃ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ نحاس نے کہا : یرثنی و یرث من ال یعقوب کے معنی کے متعلق علماء کے تین جواب ہیں : بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد نبوت کی وراثت ہے۔ بعض نے فرمایا : حکمت کی وراثت ہے۔ بعض نے فرمایا : مال کی وراثت ہے۔ رہا ان کا قول کہ نبوت کی وراثت ہے یہ محال ہے کیونکہ نبوت میں میراث نہیں چلتی۔ اگر اس میں میراث ہوتی تو کہنے والا کہتا : لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہیں جبکہ وہ نبی مرسل ہے۔ اور علم و حکمت کی میراث کا قول عمدہ ہے۔ حدیث میں ہے : العلماء ورثۃ الانبیاء۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ اور رہا مال کی وراثت کا قول تو یہ بھی ممتنع نہیں اگرچہ ایک جماعت نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لا نورث ما ترکنا صدقۃ۔ ہم میراث نہیں چھوڑتے جو ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ اس میں کوئی حجت نہیں کیونکہ ایک اپنے متعلق جمع کی اخبار کے ساتھ خبر دے رہا ہے کھبی اس کی اس معنی کے ساتھ تاویل کی جاتی ہے۔ لانورث الذی ترکنا صدقۃ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کوئی ایسی چیز پیچھے نہیں چھوڑی جو آپ کی طرف سے بطور میراث ہوتی اور یہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں آپ کے لیے اس قول : واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ و للرسول (الانفال :41) سے مباح فرمایا تھا کیونکہ للہ کا مطلب ہے سبیل اللہ۔ اور سبیل اللہ میں سے وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کی مصلحت میں تھا جب تک آپ ظاہری حیات میں تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بعض روایات میں ہے : انا معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکنا صدقۃ۔ اس میں دو تاویلیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ما بمعنی الذی ہے اور دوسرا یہ کہ جس کی یہ حالت ہو وہ میراث نہیں چھوڑتا۔ لا نورث ما ترکنا صدقۃ کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے اور یہ اکثر علماء اور جمہور علماء کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میراث نہیں چھوڑی اور جو چھوڑا وہ صدقہ ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی میراث جاری نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ شان بخشی کہ آپ کا سارا مال صدقہ بنا دیا آپ کی فضیلت میں زیادتی کے لیے جیسا کہ نکاح میں، بعض چیز آپ کے لیے مباح کی گئی ہیں جبکہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے حرام ہیں، یہ قول بعض اول بصرہ کا ہے ان میں اسے ایک ابن علیہ ہے اور باقی تمام علماء اسلام کی پہلا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ال یعقوب بعض علماء نے فرمایا : اس سے مرادیعقوب اسرائیل ہے۔ حضرت زکریا کی شادری مریم بنت عمران کی بہن سے ہوئی تھی اور اس کا نسب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف لوٹتا ہے کیونکو وہ حضرت سلیمان بن داؤد کی اولاد سے تھی اور وہ یہود ابن یعقوب کی اولاد سے تھے۔ اور حضرت زکریا (علیہ السلام) ہارون کی اولاد سے تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے۔ حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ ، لاوی بن یعقوب کی اولاد سے تھے۔ اور نبوت یعقوب بن اسحاق کی اولاد میں تھی۔ بعض علماء نے فرمایا : یہاں یعقوب سے مراد یعقوب بن ماتان ہے جو عمران بن ماتان کا بھائی تھا اور عمران حضرت مریم کا والد تھا۔ یہ دونوں حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کی نسل سے دونوں بھائی تھے، کیونکہ یعقوب اور عمران، ماتان کے بیٹے تھے اور بنو ماتان بنی اسرائیل کے رئوسا تھے، یہ مقاتل وغیرہ کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : ّل یعقوب آپ کے ماموں تھے اور وہ یعقوب بن ماتان تھے اور ان میں بادشاہت تھی اور حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت ہارون بن عمران کی اولاد سے تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے۔ قتادہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یرحم اللہ تعالیٰ زکریا ما کان علیہ من ورثتہ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) پر رحم فرمایا اس وجہ سے جوان پر ان کی ورثاء کی طرف سے تھا۔ یعقوب غیر منصرف ہے کیونکہ عجمہ ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واجعلہ رب رضیا۔ یعنی جس کے اخلاق اور افعال میں پسندیدگی ہو۔ بعض نے فرمایا : جو تیری قضاء وقدرت پر راضی ہو۔ بعض نے فرمایا : جو ایسا نیک ہو جس سے تو خوش ہو۔ ابو صالح نے کہا : اسے ایسا نبی بنا جیسے تو نے اس کے باپ کو نبی بنایا۔
Ayah 19:7اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یزکریآ اس کلام میں حذف ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور پھر فرمایا : یزکریا انانبشرک بغلم اسمہ یحییٰ یہ بشارت (1) تین چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ (1) ایک دعا کی قبولیت اور یہ ایک کرامت و عزت ہے۔ (2) اسے بچا عطا کرنا اور وہ قوۃ ہے۔ (3) اس نام کے ساتھ ان کا منفرد ہونا۔ سورة آل عمران میں یحییٰ نام رکھنے کا معنی گزر چکا ہے۔ مقاتل نے کہا : ان کا نام یحییٰ رکھا کیونکہ وہ بوڑھے باپ اور بوڑھی ماں کے درمیان زندہ ہوئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ ان کی بیوی بانجھ تھی بچے جنم نہیں دیتی تھی۔ واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لم نجعل لہ من قبل سبیا۔ ہم نے یحییٰ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا (1) یہ حضرت ابن عباس ؓ قتادہ ابن اسلم اور سدی کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا کہ کسی کے والدین کو یہ نام رکھنے کی توفیق نہیں دی، یہ مجاہد وغیرہ کا قول ہے۔ سمیا اس کا معنی مثل اور نظیر ہے۔ یہ گویا المساماۃ اور السمو سے مشتق ہے۔ اس میں بعد ہے کیونکہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ پر انہیں فضیلت نہیں ہے مگر یہ کہ کسی خاص صفت میں فضیلت دی گئی ہو جیسے سرداری اور عورتوں سے اجتناب وغیرہ جیسا کہ سورة آل عمران میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی ہے بانجھ عورتوں نے اس کی مثل بچہ جنم نہیں دیا۔ (2) بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قبل (پہلے) کی شرط لگائی کیونکہ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سے افضل پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ اچھے ناموں کا اثر ہوتا ہے۔ عرب اچھے نام رکھنے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ وہ عار اور شرم دلانے سے زیادہ پاک ہوتے ہیں حتیٰ کہ شاعر نے کہا :
سنع الاسامی مسبلی ازر حمر تمس الارض بالھدب
رؤبہ نے نسابہ بکری کو کہا کہ اس نے اس کا نسب پوچھا تھا : أنا ابن العجاج۔ میں ابن العجاج ہوں۔ تو اس نے کہا : قصرت و عرفت۔
Ayah 19:8اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال رب انی یکون لی غلم۔ یہ انکار کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے تعجب کی بنا پر ہے کہ وہ بانجھ عورت اور بوڑے آدمی سے بچہ پیدا کرے گا۔ بعض علماء نے اس کے علاوہ بھی اقوال کہے ہیں جن کا بیان سورة آل عمران میں ہوچکا ہے۔ وقد بلغت من الکبیر عتیا۔ یعنی بڑھاپے، خشکی کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں ان کی مثل العسی ہے۔ اصمعی نے کہا : عسا الشیء یعسور عسوا و عساء کا معنی ہے خشک ہونا اور سخت ہونا۔ و قد عسا الشیخ یعسو عسیا۔ اس کا معنی ہے پیٹھ پھیرنا حد سے بڑھنا جیسے عتا ہے۔ کہا جاتا ہے : عتا الشیخ یعتو عتیا و عتیا۔ اس کا معنی ہے وہ حد سے بڑھ گیا، پیٹھ پھیر گیا۔ عتوت یا فلان تو تو عتوا و عتیا۔ اس کی اصل عتو ہے کیونکہ یہ وادی ہے پھر واو کو یاء سے بدلا گیا ہے کیونکہ وہ اس سے زیادہ خفیف اور تمام آیات یاء پر ختم ہو رہی ہیں اور جنہوں نے عتیا کہا ہے انہوں نے کسرہ اور یاء کے ساتھ ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔ شاعر نے کہا :
انما یعذر الولید ولا یع ذر من کان فی الزمان عتیا
حضرت ابن عباس ؓ نے عیسا پڑھا ہے۔ اسی طرح ابی کے مصحف میں ہے۔ یحییٰ بن و ثاب، حمزہ، کسائی اور حفص نے عتیا عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح جثیا اور صلیا ہیں۔ جہاں بھی آئے ہیں۔ حفص نے ب کیا، کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح باقی قراء نے تمام میں ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : عتیا قسیا کے معنی میں ہے، کہا جاتا ہے : ملک عات جب بادشاہ سخت دل ہو۔
Ayahs 19:9–10اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال کذلک قال ربک ھو علی ھین یعنی فرشتے نے حضرت زکریا (علیہ السلام) سے یہ کہا۔ محل رفع میں ہے یعنی الامر کذالک، یعنی معاملہ ایسا ہی ہے جیسا تجھے کہا گیا ہو۔ ھو علی حین۔ فراء نے کہا : اس کا مطلب ہے مجھ پر اس کی تخلیق آسان ہے۔ وقد خلقتک من قبل یعنی یحییٰ سے پہلے میں نے تجھے پیدا کیا تھا، یہ اہل مدینہ، بصرہ اور عاصم کی قرأت ہے۔ تمام کو فیوں نے وقد خلقناک پڑھا ہے۔ نا جمع تعظیم کے لیے ہے۔ پہلی قرأت کلام کے زیادہ مناسب ہے۔
ولم تک شیئا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تجھے جس طرح عدم کے بعد پیدا کیا جبکہ تو موجود نہ تھا، وہ یحییٰ کی تخلیق اور ایجاد پر بھی قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قال رب اجعل لی آیۃ۔ ملائکہ کے بشارت دینے کے بعد اور وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا۔ کے قول بعد طمانیت میں زیادتی کے لیے نشانی طلب کی یعنی میرے لیے کوئی نشانی بنا کر نعمت کو مکمل کر۔ یہ نشانی نعمت و کرامت کی زیادتی ہوگی۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ نے نشانی طلب کی جو اس بات پر دلالت کرے کہ بشارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے شیطان کی طرف سے نہیں ہے کیونکہ ابلیس نے ان کو وہم میں ڈالا تھا، یہ ضحاک کا قول ہے۔ سدی کے قول کام بھی یہی معنی ہے۔ اس قول میں نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ملائکہ نے انہیں آواز دی جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا۔ اس کا بیان بھی آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 19:11–12اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخرج علی قومہ من المحراب یعنی اپنی عبادت گاہ سے ان کی طرف جھانکا ہے۔ محراب بلند جگہ اور معزز مجلس ہوتی ہے۔ لوگ عبادت گاہیں زمین سے اونچی بناتے تھے۔ اس کی دلیل حضرت داؤد (علیہ السلام) کی محراب ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ لوگوں کا اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : یہ الحرب سے مشتق ہے گویا اس میں ہمیشہ رہنے والا شیطان اور شہوات سے جنگ کرتا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : الحرب (راء کے فتحہ کے ساتھ) سے مشتق ہے گویا عبادت خانہ میں رہنے والا تھکن اور مشقت اٹھاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت دلیل ہے کہ امام کا مقتدیوں سے بلند ہوناان کے نزدیک مشروع تھا۔ اس مسئلہ میں فقہاء الامصار کا اختلاف ہے۔ امام احمد بن حنبل وغیرہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور انہوں نے منبر والے واقعہ سے دلیل پکڑی ہے۔ امام مالک نے زیادہ اونچا ہونے سے منع کیا ہے، تھوڑا اونچا ہونے سے نہیں منع کیا۔ اور ان کے اصحاب نے منع کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ امام پر تکبر کا اندیشہ ہوگا۔
میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے اس میں بہتر وہ ہے جوک ابو داؤد نے ہمام سے روایت کیا ہے (1) کہ حذیفہ نے مدائن میں لوگوں کی امامت دکان پر کرائی تو ابو مسعود نے ان کی قمیص سے پکڑ کر انہیں کھنچا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ لوگوں کو اس طرح کرنے سے روکا گیا ہے ؟ حذیفہ نے کہا : ہاں۔ مجھے اس وقت یاد آیا جب تو نے مجھے کھینچا۔ اور عدی بن ثابت انصاری سے رومیت کیا ہے فرمایا : مجھے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ مدائن میں تھا۔ نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو عمار بن یاسر آگے بڑھے اور دکان پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے جبکہ لوگ نیچے تھے۔ حضرت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کے ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ حضرت عمار ان کے پیچھے پیچھے چلتے آئے حتی کہ حضرت حذیفہ نے انہیں اتار لیا۔ جب عمار نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت حذیفہ نے انہیں کہا : کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا :” جب کوئی شخص قوم کی امامت کرائے تو ان کی جگہ سے بلند جگہ پر کھڑے نہ ہو (1) “ یا اسی جیسے کلمات فرمائے۔ حضرت عمار نے کہا : اسی وجہ سے میں تمہارے پیچھے پیچھے چلاتا آیا جب تو نے میرے ہاتھوں کو پکڑا۔
میں کہتا ہوں : ان تینوں صحابہ نے بلند جگہ پر کھڑے ہونے کے بارے میں نہی کی خبر دی ہے۔ اور کسی نے حدیث منبر سے حجت نہیں پکڑی، تو یہ دلیل ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ اور اس کے نسخ پر دلیل یہ ہے کہ اس میں عمل زائد ہے اور وہ منبر سے اترنا اور چڑھنا ہے پس یہ منسوخ ہے۔ جس طرح نماز میں کلام اور سلام منسوخ ہیں۔ یہ اولیٰ ہے اس سے ہمارے اصحاب سے اترنا اور چڑھنا ہے پس یہ منسوخ ہے۔ اور اس کے نسخ پر دلیل یہ ہے کہ اس میں عمل زائد ہے اور وہ منبر سے اترنا اور چڑھنا ہے پس یہ منسوخ ہے۔ جس طرح نماز میں کلام اور سلام منسوخ ہیں۔ یہ اولیٰ ہے اس سے ہمارے اصحاب نے دلیل پیش کی ہے کہ نبی کریم ﷺ تکبر سے محفوظ تھے، نیز بہت سے آئمہ ایسے ہوتے ہیں جن میں کبر نہیں ہوتا۔ ان میں سے بعض نے یہ علت بیان کی ہے کہ منبر کی بلندی تھوڑی تھی۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاوحی الیھم ان سبحو بکرۃ و عشیا۔ کلبی، قتادہ اور بن منبہ نے کہا : اس نے ان کی طرف اشارہ کیا ہے (2) قتبی نے کہا : اس نے اشارہ کیا۔ مجاہد نے کہا : اس نے زمین پر لکھا۔ عکرمہ نے کہا : کتاب میں کئی کتب۔ کلام میں وحی کا مطلب لکھنا۔ اسی سے ذوالرمۃ کا قول ہے :
سوی الاربع الدھم اللواتی کا نھا بقیۃ وحی فی بطون الصحائف
عثر نے کہا ہے :
کو حی صحائف من عھد کسری باھداھا لا عجم طمطمی
ان دونوں اشعار میں وحی بمعنی کتابت استعمال ہوئی ہے۔
بکرۃ و عشیا دونوں ظرف ہیں۔ فراء نے کہا : العشی مؤنث ہے اور اس کی تذکیر جائز ہے جب تو اسے مبہم کرے۔ اس نے کہا : کبھی العشی، عشیۃ کی جمع ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ سورة آل عمران میں اشارہ میں حکم گزر چکا ہے۔ ہمارے علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ کوئی کہے : میں فلاں سے کلام نہیں کروں گا، پھر اس کی طرف تحریر لکھ دے یا کوئی پیغام رساں بھیج دے۔ امام مالک نے فرمایا : ایسا کرنے سے وہ حانث ہوجائے گا مگر یہ کہ اس نے بالمشافہ گفتگو کرنے کی نیت کی ہو۔ پھر رجوع کیا اور فرمایا : تحریر میں نیت نہ ہوگی اور وہ حانث ہوجائے گا مگر یہ کہ خط پہنچنے سے پہلے واپس لے لے۔ ابن القاسم نے کہا : جب وہ اس تحریر کو پڑھے گا تو حانث ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر قسم اٹھانے وال محلوف علیہ (جس کے متعلق قسم اٹھائی گئی تھی) کی تحریر پڑھے تو بھی یہ حکم ہے۔ اشہب نے کہا : جب قسم اٹھانے والا اسے پڑھے گا تو حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہوگا۔ یہ واضح ہے کہ کیونکہ اس نے کلام نہیں کی اور نہ کلام سے ابتدا کی مگر یہ کہ اس نے ارادہ کیا ہو کہ وہ اس کی کلام کا معنی نہیں جانے گا تو اس صورت میں حانث ہوجائے گا۔ ابن القاسم کا قول اس پر مخحمول ہوگا اگر قسم اٹھائے کہ وہ ضرور اس سے کلام کرے گا پھر تو وہ اپنی قسم کو پورا نہیں کرسکے گا حتی کہ بالمشافہ گفتگو کرے۔ ابن الماجشون نے کہا : اگر یہ قسم اٹھائے کہ اس نے جانا تو وہ اسے سکائے گا یا اسے خبر دے گا پھر اس نے اسے لکھ کر بھیج دیا یا کوئی پیغام رسان بھیج دیا تو وہ قسم پوری کرنے والا ہوگا۔ اور اگر دونوں نے اسے سکھایا تو قسم پوری کرنے والا نہیں ہوگا حتی کہ وہ اسے سکھائے کیونکہ ان دونوں کا علم مختلف ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ امام مالک، امام شافعی کو اور کو فیوں کا اتفاق ہے گونگا جب اپنے ہاتھ سے طلاق لکھے گا تو طلاق لازم ہوجائے گی۔ کو فیوں نے کہا : مگر کوئی شخص کئی دن بہرہ کیا گیا ہو پھر اس نے طلاق لکھی تو اس سے کوئی چیز جائز نہ ہو۔ طحاوی نے کہا : گونگا، عارضی بہرے پن کے مخالف ہے جیسا کہ مرض کی وجہ سے ایک دن جماع سے عارضی عاجز شخص کا حکم جماع سے ہمیشہ مایوس شخص کے حکم کے مخالف ہے، جیسا کہ جدائی میں عورت کے حیار کے باب میں مجنون کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ییحی خذ الکتب بقوۃ۔ یہ اختصار ہے جس پر کلام دلالت کر رہی ہے۔ الکتب سے مراد تورات ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ بقوۃ۔ سے مراد کوشش اور اجتہاد ہے، یہ مجاہد کا قول ہے (1) بعض علماء نے فرمایا : اس سے اس کا علم حاصل کرنا، اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ اور یہ عمل کرنا ہے اس کے اوامر کا التزام ہے اور نواہی سے رکنا ہے یہ زید بن اسلم کا قول ہے۔ سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و اتینہ الحکم صبیا۔ بعض علماء نے فرمایا : الحکم سے مراد احکام اور ان کی معرفت ہے۔ معمر نے روایت کیا ہے کہ بچوں نے یحییٰ سے کہا : ہمارے ساتھ چلو ہم کھیلیں گے۔ انہوں نے کہا : میں کھیل کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : و اتینہ الحکم صبیا۔ قتادہ نے کہا : آپ اس وقت دو یا تین سال کے تھے۔ مقاتل نے کہا : آپ تین سال کے تھے۔ صبیا پر نصب حال کی بنا پر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے بالغ ہونے سے پہلے پر آن پڑھا وہ وہ ہے جسے بچپن میں حکم عطا کیا گیا (2) ۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر کے طریق سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا : ” قیامت کے روز آدم (علیہ السلام) کا ہر بیٹا آئے گا اور اس پر گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے “ قتادہ نے کہا : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کبھی اللہ تعالیٰ کی کوئی چھوٹی اور بڑی نافرمانی نہیں کی۔ (3) اور نہ آپ کو کسی عورت کو خیال آیا۔ مجاہد نے کہا : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا کھانا، گھاس تھا۔ اس کے رخساروں پر آنسوئوں کے لیے گزرگاہیں بنی ہوئی تھیں۔ وسیداً وحصوراً ، کا معنی سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 19:13–14اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحنانا من لدنا، حنانا، کا عطف الحکم پر ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ الحنان کیا ہے (4) ۔ جمہور مفسرین نے کہا : الحنان کا مطلب شفقت، الرحمۃ اور المحبۃ ہے اور یہ نفس کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔ نحاس نے کہا : الحنان کے معنی میں حضرت ابن عباس ؓ سے دو قول مروی ہیں (1) فرمایا : اللہ تعالیٰ کا رحمت کے ساتھ ان پر مہربانی فرمانا (2) اور دوسراقول یہ ہے کہ جو اس نے لوگوں پر رحمت فرمائی حی کہ انہیں کفر و شرک سے نکالا (1) اس کی اصل حنین الناقۃ علی ولدھا یعنی اونٹنی کا اپنے بچے پر انتہائی مہربان ہونا، کہا جاتا ہے : حنانک و حننیک بعض علماء نے فرمایا : یہ دونوں لغتیں ہیں اور معنی ایک ہے۔ بعض نے فرمایا : حنانیک، الحنان کا تثنیہ ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عرب کہتے ہیں : حنانک یا رب وحنانیک یا رب، دونوں کا معنی ایک ہے، مراد رحمت ہے۔ امراء القیس نے کہا :
و یمنحھا بنو شمجی بن جرم معیز ھم حنا ناک ذا الحنان
اور طرفۃ نے کہا :
أبا منذر أفنیت باستبق بعضنا حنانیک بعض الشراھون من بعض
زمحشری نے کہا : حنانا، اپنے والدین وغیرہ ہما کے لیے رحمت و مہربانی اور شفقت کا مظاہر کرنا ہے۔ سیبو یہ نے یہ شعر کہا :
فقالت حنان ما أتی بک ھا ھنا أذو نسب أم أنت بالحی عارف
ابن الاعرابی نے کہا : الحنان، اللہ تعالیٰ کی صفت ہے نون مشدد کے ساتھ ہوت و اس کا معنی الرحیم ہے اور نون مخفف ہو تو اس کا معنی مہربانی کرنا اور رحمت ہے۔ الحنان کا معنی رزق اور برکت بھی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : عرب کلام میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بڑے امر کو بھی کہتے ہیں۔ اسی سے زید بن عمرو بن نفیل کا قول حدیث بلال میں ہے : اللہ کی قسم ! اگر تم اس غلام کو قتل کر دو گے تو میں اس پر رحم کروں گا۔ اس خبر کو ہر وی نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہ : حدیث بلال میں ہے ورقۃ بن نوفل حضرت بلال کے پاس سے گزرے جبکہ انہیں عذاب دیا جا رہا تھا تو ورقۃ نے کہا : واللہ لئن قتلتم لأتخذنہ حنانا۔ ہر وی نے کہا : اس کا معنی ہے میں اس پر مہربانی کروں گا اور اس پر رحم کروں گا کیونکہ یہ اہل جنت سے ہے۔
میں کہتا ہوں : الحنان کا معنی العطف ہے۔ اسی طرح مجاہد نے کہا : اور حنانا ہمارا اس کی طرف مائل ہونا یا اس کا مخلوق کی طرف کرم فرمانا ہے۔ حطیئہ نے کہا :
تحنن علی ھداک الملیک فان لکل مقام مقالا
عکرمہ نے کہا : اس کا معنی محبت ہے۔ حنہ الرجل امرأتہ، کہا جاتا ہے، دونوں کی آپس میں محبت کی وجہ سے۔ شاعر نے کہا :
فقالت حنان ما أتی بک ھنانا أذو نسب ام أنت بالحی عارف
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وزکوۃ، الزکاۃ کا معنی تطہیر، برکت اور نیکی میں زیادتی کرنا ہے، یعنی ہم نے اسے لوگوں کے لیے برکت والا بنا دیا ہے، وہ لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم نے اس کی تعریف کے ساتھ اس کا تزکیہ کیا ہے، جس طرح گواہ کسی انسان کا تزکیہ کرتے ہیں۔ پس بعض علماء نے فرمایا : زکوۃ کا مطلب ہے اس کے والدین پر اس کو صدقہ کیا، یہ ابن قتیبہ کا قول ہے۔ و کان تقیا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا اطاعت کرنے والا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے کوئی خطا کی اور نہ کبھی انہیں ایسا خیال آیا۔ اللہ کا ارشاد ہے : و برا بوالدیہ، البر، بمعنی البار ہے۔ نیکی کو فروغ دینے والا۔ جباراً ، متکبر۔ یہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی نرمی اور تواضع کے اوصاف ہیں۔
Ayah 19:15اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسلٰم علیہ یوم ولد طبری وغیرہ نے کہا (1) : اس کا معنی ہے امان۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک اظریہ ہے کہ یہ متعارف سلام ہے (2) ۔ یہ امان سے زیادہ اشرف و معزز مقال ہے کیونکہ امان کو ان کے لیے ان سے عصیان کی نفی سے بھی حاصل ہوتی ہے اور یہ کم درجہ ہے اور شرف اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا اور اسے ایسے موقع پر زندہ رکھا جہاں انسان حد درجہ ضعیف و کمزور اور حاجت میں ہوتا ہے اور حیلہ کم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قوت کی طرف محتاج ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ عمدہ قول ہے ہم نے معنی سورة سبحان میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قتل کے بیان میں سفیان بن عینیہ سے ذکر کیا ہے۔ طبری نے حسن سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) آپس میں ملے وہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے دعا کریں آپ مجھ سے بہتر ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں آپ مجھ سے بہتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر سلام بھیجا ہے اور میں نے اپنے اوپر خود سلام بھیجا ہے۔ بعض علماء نے سلام کرنے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت کا مسئلہ نکا لا ہے انہوں نے اپنے اوپر سلام کرنے میں اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی قدرو منزلت میں راہنمائی کی ہے، جو منزلت ثابت ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کو ثابت کیا۔ او قرآن حکیم میں سلام کیے جانے سے زیادہ بلند مرتبہ حکایت کیا گیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : ہر ایک کی ایک وجہ ہے (3) ۔
Ayah 19:16اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب مریمیہ قصہ کی ابتدا ہے اس کا پہلے واقعہ سے تعلق نہیں اور خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے، یعنی دور ہوگئی۔ انبذ کا معنی پھکنکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فنبذوہ ورآء ظھورھم (آل عمران :187) من اھلھا، یعنی ان سے جو آپ کے ساتھ تھے۔ اذ، مریم سے بدل اشمال ہے کیونکہ اوقات اس پر مشتمل ہوتے ہیں جوان میں ہوتا ہے۔ الانتباذ کا معنی جدا ہونا اور علیحد ہونا ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ حضرت مریم کیوں جدا ہوئیں اور مشرقی جانب محراب میں داخل ہوئیں تاکہ خلوت میں عبادت کریں تو ان کے پاس جبرئیل آئے۔ مکانا شرقیاً ، مشرقی جانب کی جگہ۔ الشرق راء کے سکون کے ساتھ اس مکان کو کہتے ہیں جس میں سورج کی دھوپ پڑتی ہے۔ الشرق راء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد سورج ہوتا ہے۔ مشرقی مکان کا خاص کیا گیا ہے کیونکہ وہ مشرقی جہت کی تعظیم کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ انوار طلوع ہوتے تھے۔ اور جہات شرقیہ ہر چیز سے افضل تھیں، یہ طبری نے حکایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں (1) کہ نصاریٰ نے مشرق کو کیوں قبلہ بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ انتبذت من اھلھا مکاناً شرقیاً ۔ پس انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی جگہ کی جہت کو قبلہ بنا لیا وہ کہتے تھے : اگر زمین کی کوئی جہت مشرق سے بہتر ہوتی تو حضرت مریم (علیہما السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس جہت میں جنم دیتیں۔
علماء کا حضرت مریم کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : اس ارسال اور فرشتے سے گفتگو کی وجہ سے نبیہ تھیں۔ بعض نے فرمایا : نبیہ نہیں تھیں انسان کی مثال نے ان سے کلام کیا تھا اور ان کا فرشتے کو دیکھنا ایسے ہی تھا جیسے جبرئیل کو وحیہ کلبی کی صفت میں دیکھا گیا تھا جب انہوں نے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوال کیا تھا۔ پہلو قول اظہر ہے اس مفہوم پر کلام سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔
Ayahs 19:17–22اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت نہیں رمتی تھیں۔ اس لیے انسانی شکل میں آئے۔ جب حضرت مریم نے انسانی شکل میں ایک خوبصورت انسان دیکھا جس نے آپ پر قائم پردہ کو ہٹایا (اور اندر آگیا) تھا تو آپ نے خیال کیا کہ یہ کوئی برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیاً ۔ یعنی میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ بکالی نے کہا : جبریل امین رحمن کے ذکر سے گھبرا کے پیچھے ہٹے۔ ثعلبی نے کہا : وہ نیک شخص تھا تو حضرت مریم نے تعجب کی بنا پر پناہ مانگی۔ بعض نے فرمایا : تقی فعیل بمعنی مفول ہے، یعنی تو ان لوگوں سے جن سے بچاتا ہے۔ بخاری میں ہے ابو وائل نے کہا : مریم (علیہما السلام) جانتی تھیں کہ متقی عقلمند ہوتا ہے جب انہوں نے کہا : ان کنت تقیاً ، بعض نے فرمایا : تقی اس وقت میں معروف فاجر شخص کا نام ہے، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے، مکی وغیرہ نے اس حکایت کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول ضعیف ہے اندازہ سے قول کیا گیا ہے (2) ۔ جبرئیل نے حضرت مریم سے کہا : انمآ انا رسول ربک لاھب لک غلما زکیاً ۔ عطا کرنے کی نسبت جبریل نے اپنی طرف کی کیونکہ اس عطیہ کی آگاہی جبریل کی طرف سے تھی۔ ورش نے نافع سے روایت کر کے لیھب لک پڑھا ہے۔ اس مفہوم پر کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تاکہ وہ تجھے عطا کرے۔ بعض علماء نے فرمایا : لاھب اپنے معنی پر معمول ہے یعنی فرمایا میں نے اسے بھیجا تاکہ میں تجھے عطا کروں۔ اور أھب بغیر ہمزہ کے ہو تو احتمال رکھتا ہے کہ یہ بمعنی مہموز ہو پھر ہمزہ میں تخفیف کی گئی ہو جب حضرت میریم نے اس کے قول سے یہ سنا تو استفہام کے طریق پر کہا : قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر۔ یعنی مجھ سے کسی کا نکاح نہیں ہوا، ولم اک بغیاً ۔ میں ان یہ نہیں ہوں۔ یہ آپ نے بطور تاکید ذکر کیا کیونکہ، لم یمسسنی بشرکا قول حلال اور حرام کو شامل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت مریم نے اللہ کی قدرت سے کسی چیز کو بعید نہیں سمجھا لیکن انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ بچہ کیسے پیدا کیا ؟ یہ مستقبل میں خاوند کی طرف سے پیدا ہوگا یا اللہ تعالیٰ اسے پیدا فرمائے گا ؟ روایت ہے کہ جبرئیل نے جب حضرت مریم سے یہ بات کی تو آپ نے آپ کی قمیص کے گریبان میں اور آستین میں پھونک مار دی، یہ ابن جریج کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جبرئیل نے قمیص کی کشادہ جگہ کہ اپنی انگلیوں سے پکڑا اور اس میں پھونک مار دی۔ پس حضرت مریم اسی وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں۔ طبری نے کہا : نصاریٰ نے کہا حضرت مریم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حاملہ ہوئیں تو ان کی عمر تیرہ سال تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اٹھائے جانے تک بتیس سال اور کچھ دن باقی رہے اور حضرت مریم ان کے اٹھائے جانے کے بعد چھ سال باقی رہیں۔ حضرت مریم کی کل عمر پچاس سال سے کچھ زائد تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولنجعلہ یہ محذوف کے متعلق ہے یعنی نخلقۃ لنجعلہ، ہم اسے تخلیق کریں گے تاکہ اسے اپنی عجیب قدرت کی نشانی بنا دیں۔ رحمۃ اور اس کے لیے رحمت بنا دیں جو ان پر ایمان لائے۔ و کان امراً مقضیا۔ لوح محفوظ میں یہ مقدار اور مسور ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانتبذت بہ مکاناً قصیاً ۔ یعنی وہ حمل کے ساتھی دور کے مکان میں جدا ہوگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وادی کے دور کنارے پر یہ بیت لحم کی وادی ہے۔ (1) ۔ اس کے اور ایلیاء کے درمیان چار میل کا فاصلہ ہے وہ اس لیے دور چلی گئی تھیں کو قوم انہیں عار دلائے گی کہ بغیر خاوند کے بچہ جنم دیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ کوئی لمبا عرصہ نہیں ہوا تھا پس وہ حاملہ ہوئیں تھیں اور اسی وقت جنم دیا تھا، یہ ظاہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حمل کے بعد پھینکنے کا ذکر کیا ہے۔ بعض نے اس کے علاوہ قول کیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔