Ayahs 19:1–31 آداب دعا میں سے ایک اہم ادب اخفائ : سو یہ دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب ہے کہ دعا آہستہ اور چپکے چپکے سے کی جائے۔ کیونکہ اول تو انسان جس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کے یہاں سرّ و اخفا سب برابر ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسرے اس لئے کہ آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے دعاء کرنا اخلاص کے بھی زیادہ قریب ہے اور ریاء و نمود سے بھی محفوظ تر ہے۔ اسی لئے رب تعالیٰ نے اپنے کلام حکیم میں ہمیں اس طرح صریح طور پر اس کا حکم دیا ہے ۔ { اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً } ۔ (الاعراف :55) یعنی " تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے سے "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَدْعُوْنَہُ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً } ۔ (الانعام :63) ۔ اس لئے اصل دعاء میں یہی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ ہو۔ ہاں اگر بعض دوسرے امور پیش نظر ہوں تو اونچی آواز سے دعاء کرنا بھی درست ہے۔ جیسا کہ اگر دوسروں کو سکھانا اور تعلیم دینا مقصود ہو یا اس لئے اونچی آواز سے دعاء کی جائے کہ دوسرے اس پر آمین کہہ سکیں۔ سو اس طرح کے کسی مقصد کے لئے بلند آواز سے دعاء کرنا بھی اگرچہ جائز ہے لیکن اصل اور افضل یہی ہے کہ دعاء آہستہ عاجزانہ اور پست آواز سے ہو۔ جیسا کہ نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے اور حضرات علمائے کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (روح، قرطبی، بیضاوی، مراغی، ابن کثیر اور صفوہ وغیرہ) ۔ اور الحمد للہ راقم آثم نے اپنی کتاب " تحفہ علم و حکمت " اور دوسری کتاب " مقدس دعائیں " میں دعاء سے متعلق اس کے آداب کے بارے میں اور اس کے علاوہ دیگر تمام ضروری اور اہم آداب کے بارے میں بھی کافی سے زیادہ اہم اور ضروری معلومات جمع کردی ہیں۔ اور یہ دونوں کتابیں کوئی بیس بائیس سال قبل سے چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں اور کئی ہزار کی تعداد میں تقسیم ہوچکی ہیں ۔ والحمد للہ ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنی شان کریمی سے قبول فرما کر ان کو دنیا کے لیے نفع و فائدہ کا ذریعہ اور راقم آثم اور راقم آثم کے جملہ متعلقین کے لیے قیامت تک باقی رہنے والا صدقہ جاریہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 19:42 اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ رحمت ہی کی امید رکھنے کا درس : سو حضرت زکریا نے رب سے عرض کیا " اور میں کبھی آپ سے دعا مانگنے میں نامراد نہیں ہوا "۔ بلکہ ہمیشہ تیرے لطف و کرم سے سرفراز ہوا۔ اس لئے میں قوی امید رکھتا ہوں کہ اب بھی تو اے میرے مالک مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اللہ پاک کے حضور دعاء قوی امید و یقین کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ۔ " اُدْعُوا اللّٰہَ وَاَنْتُمُ مُّوْقِنُوْنَ بالْاِجَابَۃِ " ۔ کہ تم اللہ کو اس طرح پکارا کرو کہ تمہیں دعاء کی قبولیت کا پورا یقین ہوا کرے۔ سو اس میں رب کی رحمت کے بارے میں ہمیشہ پرامید رہنے کا درس عظیم ہے۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ دعاء میں اللہ پاک کی سابقہ عنایتوں اور کرم نوازیوں کا حوالہ دینا بھی دعاء کی قبولیت عند اللہ کے لئے خاص اثر رکھتا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ دعاء میں اپنی عاجزی اور انکساری کا بھی جس قدر ہو سکے اظہار وبیان کیا جائے کہ عاجزی کرنے والوں اور بےبسوں کو اس وحدہ لاشریک کی رحمت و عنایت بطور خاص اپنے دامن میں پناہ دیتی ہے ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بَالتَّوْفِیْقِ وَالْقَبُوْلِ ۔ سو حضرت زکریا نے اپنی اس دعا میں ایک طرف تو اپنی پیرانہ سالی اور اپنے ضعف و کمزوری کا ذکر کیا جو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو کھنچنے والی چیز ہے اور دوسری طرف اس میں اللہ تعالیٰ کی گزشتہ عنایات کا حوالہ دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا میں کبھی بھی ناکام و نامراد نہیں ہوئے۔ اور یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو کھینچنے والی چیز ہے۔ تاریخی روایات میں وارد ہے کہ حضرت معن بن زائدہ کے پاس ایک سائل آیا تو آپ نے اس سے پوچھا " تم کون ہو ؟ "، " من انت ؟ " تو اس شخص نے کہا میں وہ شخص ہوں جس پر آپ نے فلاں وقت میں احسان کیا تھا۔ تو اس پر حضرت معن نے خوش ہو کر کہا کہ خوش آمدید اس شخص کے لیے جس نے ہمارے حضور ہمارے احسان کا وسیلہ پکڑا ۔ " مرحبا بمن توسل الینا باحساننا " ۔ اور اس کے بعد آپ نے حاجت پوری کردی۔ (تفسیر المراغی ) ۔ سو محسن کے احسان کو یاد کرنا اس کے احسان مزید کا ذریعہ ہے۔ اے مالک جس طرح تو نے اپنے فضل وکرم سے اور محض اپنے فضل و کرم سے اپنی کتاب حکیم کی خدمت اور اس میں مشتغل ہونے کی توفیق وسعادت سے نوازا ہے، اسی طرح اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرما۔ اور اگر کوئی شائبہ بھی اس میں کسی بھی طرح کے کھوٹ کھپٹ کا پایا جاتا ہو اس کو دور کر کے اس کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرما لے اور اس کو راقم آثم کے اہل و عیال اور جملہ متعلقین کے لیے ہمیشہ ہمیش جاری رہنے والا صدقہ جاریہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین -
Ayah 19:53 دینی وراثت کے بارے میں فکر و اندیشہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت زکریا نے اپنے بعد اپنی دینی وراثت کے بارے میں فکر و اندیشہ کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا " اور میں ڈرتا ہوں اپنے رشتہ داروں سے "۔ کہ وہ میری مسند و عظ و ارشاد کو صحیح طور پر سنبھال نہیں سکیں گے اور علم وحی کی روشنی میں خلق خدا کی اصلاح نہیں کرسکیں گے۔ اور دین کی تعلیم و تبلیغ اور اس کے دفاع کے فریضہ کو صحیح طور پر ادا نہیں کرسکیں گے جو کہ ہماری اصل میراث اور حقیقی دولت ہے۔ (محاسن التاویل، المراغی اور المعارف وغیرہ) ۔ سو آپ کو اس بارے میں اندیشہ تھا کہ یہ لوگ آپ کے بعد آپ کی اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ اور مقدس خاندان کا اصل سرمایہ تھا۔ اس لیے آنجناب کو اس کی فکر تھی کہ خاندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے۔ اور ان روایات کا امین اور حامل بن سکے جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ تھیں۔ اور عرض کیا کہ جہاں تک ظاہری اسباب اور حالات کا تعلق اور تقاضا ہے ان کے پیش نظر اس آرزو کے بر آنے کی کوئی امید اور توقع نہیں۔ لیکن اس کے باوجود میں اے میرے مالک تیرے حضور اپنی یہ درخواست پیش کرتا ہوں کہ تیری رحمت بہرحال بہت وسیع اور تیری قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ اور تیری شان اقدس و اعلیٰ اسباب و وسائل کی محتاج نہیں۔ اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ پس تو اپنی رحمت و عنایت سے اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عنایت فرما دے جو میری اور آل یعقوب کی وراثت کو سنبھال سکے اور اس کو اے میرے رب پسندیدہ اخلاق والا بنانا۔ اور وہ کمزوریوں سے پاک اور بری ہو جو اب اس خاندان میں درآئی ہیں۔ سو اصل فکر دین و ایمان کی ہونی چاہیے نہ کہ دنیاوی مال ودولت کی۔
4 پیغمبر بھی اولاد اللہ ہی سے مانگتے ہیں : حضرت زکریا نے اپنے عجز و نیاز کے سلسلے میں مزید عرض کیا " اور میری بیوی بانجھ ہے "۔ جو پہلے ہی بچے جننے کے قابل نہیں تھی تو اب کیا جنے گی۔ جبکہ اس کی عمر اٹھانوے برس ہوچکی ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو نظر بظاہر اگرچہ اب اولاد کی کوئی صورت نہیں، لیکن اس کے باوجود اے میرے مالک میں تجھ سے بچے کی یہ درخواست کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ امر نہ تیری رحمت سے کچھ بعید ہے اور نہ تیری قدرت سے خارج کہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور تیری رحمت بےپایاں ہے۔ سو اس سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں۔ بلکہ ان کا کام اپنے خالق ومالک کے حضور دست دعاء پھیلانا ہوتا ہے اور بس۔ اور وہ بھی اپنے خالق ومالک ہی کی عنایت کے محتاج اور اسی کے منتظر ہوتے ہیں۔ اپنی اولاد کیلئے بھی وہ اسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ اور جب پیغمبر اور حضرت زکریا جیسے عظیم الشان پیغمبر جو خود پیغمبر، ان کا بیٹا پیغمبر اور وہ خود خاندان نبوت کے چشم و چراغ اور ان کا ذکر قرآن حکیم میں اس قدر اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا گیا۔ تو جب وہ بھی اور خود اپنے لیے بچہ اللہ ہی سے مانگتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کو اولاد دے یا دلا سکے ؟ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر گمراہ اور بہکے بھکٹے ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک سے منہ موڑ کر دوسروں سے بچے مانگتے ہیں۔ اور اس کیلئے وہ طرح طرح کے آستانوں اور قبروں کے چکر لگاتے اور وہاں طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 19:6–88 حضرت زکریا کو عظیم الشان بیٹے کی خوشخبری : سو حضرت زکریا کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی گئی تو آپ نے عرض کیا کہ " مالک میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں "۔ جو بچہ ہونے کی حد سے بہت آگے ہے۔ سو اس طرح بظاہر بچہ ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ تو ایسے میں بچہ اگر ہوگا تو کس طرح ہوگا ؟ اور اس کی کیا شکل ہوگی ؟ مجھے واپس جوانی کی عمر میں لوٹا دیا جائے گا اور میری بیوی کو " عقیم " کی جگہ " ولود " بنادیا جائے گا یا ایساکس طرح ہوگا ؟ سو اس سے ایک طرف تو اس بشارت کیلئے مزید وثوق حاصل کرنا تھا کہ یہ بشارت عام حالات کے بالکل خلاف تھی۔ اور دوسرے اس سے استلذاذ بھی تھا یعنی اس خوشخبری کے اعادہ و تکرار سے لطف اندوز ہونا کہ یہ خوشخبری بہت عظیم الشان خوشخبری تھی جو ان کو بڑی دعاؤں اور التجاؤں کے بعد نصیب ہوئی تھی۔ سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ دعا جب صحیح مقصد کے لیے صحیح طور پر صحیح وقت میں اور صحیح الفاظ و انداز سے کی جاتی ہے تو اس میں اور اس قبولیت میں کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ حضرت زکریا کی یہ دعا چونکہ ایسی ہی شان کی تھی اس لیے بارگہِ الٰہی سے فوری طور پر شرف قبولیت سے مشرف ہوئی۔ اور آنجناب کو حضرت یحییٰ جیسے بےمثال بچے کی بشارت سے نوازا گیا۔ پس بندے کو چاہیے کہ ہمیشہ اپنے رب کی طرف جھکا اور اسی کی طرف متوجہ رہے اور اسی پر بھروسہ اور اعتماد رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید بکل حال من الاحوال فی الحیاۃ۔
Ayah 19:99 حضرت زکریا کے سوال کا جواب : یعنی جب حضرت زکریا نے اللہ پاک کے حضور اپنے عوارض اور موانع کا ذکر کیا کہ میرے یہاں بچہ کس طرح ہوگا جبکہ میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہیں تو اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے آنجناب کو جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا کہ تم دونوں بڑھاپے کی اسی حالت میں ہوؤگے اور تمہیں بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے بچے کی نعمت سے نواز دیا جائے گا۔ (روح، کبیر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی تم اپنی شیخوخت اور بڑھاپے کی اسی حالت میں ہوؤ گے اور تمہاری بیوی بھی عقیم اور بانجھ پن کے اسی حال میں ہوگی جس میں وہ اب ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یہ بات لوگوں کے فکر و فہم اور ان کے علم و ادراک کے اعتبار سے اگرچہ بہت مشکل بلکہ محال عادی کے اعتبار کے درجے میں ہے، لیکن اس قادر مطلق کیلئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ جس کی شان ۔ { علی کل شیء قدیر } ۔ کی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ آخر جب اس نے خود آپ کو پیدا کرلیا جبکہ آپ کچھ بھی نہ تھے تو اس کے لیے آپ کے بچے کو وجود بخشنا کیونکر اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
10 حضرت زکریا کے اطمینان کے لیے خود ان کے وجود سے دلیل : سو حضرت زکریا کے اطمینان کے لیے آنجناب سے ارشاد فرمایا گیا " اور میں اس سے پہلے خود تم کو پیدا کرچکا ہوں جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے "۔ تو جو نیست سے ہست اور معدوم سے موجود کرسکتا ہے اس کے لئے بوڑھے ماں باپ سے بچہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو جو ذوات اور اعراض وصفات کو عدم محض سے حیطہ وجود میں لاسکتا ہے اس کیلئے تبدیلی صفات کیونکر مشکل ہوسکتی ہے ؟ وہ قادر مطلق جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ عمر کے کسی خاص حصے میں اولاد کا پیدا ہونا مادے یا طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ اسی قادر مطلق کی قدرت مطلقہ کا نتیجہ ہے۔ وہ اگر بغیر ماں اور باپ کے پیدا کرسکتا ہے تو بوڑھے ماں باپ سے پیدا کردینا اس کیلئے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو بندہ جب اپنے آپ کو اس آس وامید پر اپنے رب کے دروازے پر ڈال دیتا ہے کہ میرے لیے بہرحال یہی دروازہ ہے۔ مجھے جو کچھ ملا ہے یہیں سے ملا ہے اور جو کچھ ملے گا وہ بھی یہیں سے ملے گا تو اس کے لیے خدائے رحمان کی رحمت کی گھٹا بالآخر وہاں سے نمودار ہوتی ہے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور اس شان سے نمودار ہوتی ہے کہ اسباب و ظواہر کے غلام انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں ۔ اللہم فزدنا بک ایمانا ویقینا و صدقا واخلاصا وحبا فیک و خضوعا لک و خشوعا لامرک -
Ayahs 19:10–1112 محراب زکریا سے مراد حجرئہ عبادت : یعنی محراب کے لفظ سے یہاں پر وہ معروف محراب مراد نہیں جو کہ آج کل ہماری مسجدوں میں بالعموم پائے جاتے ہیں کہ یہ محراب تو اسلام میں بھی بہت بعد بنو امیہ کے دور میں شروع کئے گئے۔ بلکہ اس سے مراد وہ خاص کمرے اور عبادت خانے ہیں جو کہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس موجود ہوا کرتے تھے۔ جن میں عبادت گزار لوگ رہا کرتے تھے۔ جیسا کہ آج بھی حرم مکی کے اردا گرد ایسے بہت سے کمرے موجود ہیں جن کو وہاں عام طور پرخلوے کہا جاتا ہے۔ جو کہ عبادت گزار حضرات کے رہنے سہنے کے لئے مخصوص ہیں۔ سو حضرت زکریا اسی قسم کے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے تھے جہاں آپ قیام پذیر تھے۔ ورنہ محراب کا جو معنیٰ و مفہوم ہمارے دور اور ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے، اس کے اعتبار سے وہاں رہنے، ٹھہرنے اور وہاں سے نکل آنے کے کوئی معنیٰ ہی نہیں بن سکتے۔ اور اسی خاص عبادت خانے کو مصلّیٰ بھی کہا جاتا تھا۔ کہ اسی میں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور اسی کو " غرفہ " اور " مقصورہ " بھی کہا جاتا تھا۔ اور اہل کتاب کے یہاں اس کو " مذبح " بھی کہا جاتا تھا۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت زکریا پر یہ کیفیت طاری ہوئی تو وہ محراب عبادت سے نکل کر باہر آئے تو لوگوں سے کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اشارے سے لوگوں کو تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی ہدایت فرمائی۔
Ayah 19:1213 فرزند زکریا حضرت یحییٰ کا ذکر : سو جب حضرت زکریا کے وہ فرزند گرامی یعنی حضرت یحیٰی سنِّ شعور کو پہنچ گئے تو ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی۔ یہاں پر حذف و ایجاز اور اختصار و اندماج ہے کہ حضرت یحییٰ کی پیدائش سے لے کر بلوغ تک کے تمام مراحل کا تذکرہ چھوڑ دیا گیا۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ کیونکہ ایک تو یہ سب کچھ خودبخود معلوم ہوسکتا ہے، اس لئے اس کو فہم سامع پر چھوڑ دیا گیا۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس میں یہ درس بھی ہے کہ قرآن حکیم کوئی تاریخ اور قصے کہانیوں کی کتاب نہیں کہ قصے کو پورے کا پورا اور بالترتیب بیان کیا جائے۔ بلکہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے۔ اس میں قصے کا بیان اسی حد تک اور اسی انداز میں ہوتا ہے جس کا تعلق حق و ہدایت سے ہوتا ہے اور بس۔ اور تیسرا بڑا درس اس سے یہ ملتا ہے کہ اصل مقصد قصہ گوئی یا مولود اور میلاد کا ذکر و تذکرہ نہیں، بلکہ اصل مقصود تو دعوت و تبلیغِ حق کا وہ کام ہوتا ہے جس کے لئے حضرات انبیائے کرام کی بعثت اور ان کی تشریف آوری ہوتی ہے۔ اس لئے اصل مقصود وہی دعوت اور تبلیغ ہوتی ہے مگر اہل بدعت ہیں کہ اس اصل مقصد کو پس پشت ڈال کر سارازور محافل میلاد منعقد کرنے ہی پر صرف کرتے ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والی اللّٰہ المشتکیٰ -
14 حضرت یحییٰ کو مضبوطی سے کتاب تھامنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اے یحیٰی مضبوطی سے تھام لو ہماری کتاب کو "۔ یعنی تورات کو جو کہ اس دور کی کتاب ہدایت تھی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور کتاب مراد ہو جو خاص ان کو دی گئی ہو اور جس کا علم ہمیں نہ ہو۔ (المراغی، المحاسن، فتح القدیر وغیرہ) ۔ بہرکیف ان کو حکم دیا گیا کہ ہماری اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑو کہ اس کو پوری محنت سے سیکھو پڑھو اور اس کی تعلیمات و ارشادات کے مطابق عمل کرو۔ (روح، معارف اور محاسن وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں کامیابی کیلئے دو اہم اور بنیادی باتوں کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ ایک یہ کہ نصاب تعلیم صحیح ہو۔ اور یہ بات اپنی جگہ طے اور واضح ہے کہ صحیح نصاب تعلیم کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ نور وحی سے محرومی کے بعد ۔ والعیاذ باللہ ۔ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ اور دوسری بات یہ بھی واضح فرما دی گئی کہ نصاب تعلیم سے استفادہ اور فیضیابی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جبکہ اس پر صدق دل اور پوری محنت اور لگن سے عمل کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف حضرت یحییٰ کو جو کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامنے کی ہدایت فرمائی گئی تو اس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ شیطان اور اس کے دوست جو اس کتاب ہدایت کے ابدی دشمن ہیں وہ تمہیں اس سے برگشتہ کرنے کے لیے پورا زور لگائیں گے اور ہر حربہ استعمال کریں گے۔ اس لیے تم ان کے داؤ پیچ اور حیلوں حوالوں سے خبردار اور محتاط رہنا۔ سو حضرت یحییٰ نے اس ہدایت خداوندی کی پوری طرح نگہداشت اور پاسداری کی اور اس کو ہر طرح سے نبھایا۔ یہاں تک کہ اس کی خاطر اپنا سر بھی کٹوا دیا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
15 حضرت یحییٰ کے لیے بچپن ہی سے حکم کی نوازش : سو ارشاد فرمایا کہ " ہم نے ان کو بچپن ہی میں حکم سے نواز دیا تھا "۔ یعنی حکمت اور دین کی سمجھ اور خیر کی طرف توجہ سے۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ آپ کو بچپن میں جب دوسرے بچوں نے ایک مرتبہ اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے کہا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ۔ " مَا نَحْنُ لللَّعْبِ خُلِقْنَا " ۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، المراغی وغیرہ) ۔ اور یہ اتنی بڑی حکمت کی بات ہے کہ آج تک دنیا کے بڑے بڑے مفکر اور دانشور بھی اس سے محروم ہیں اگرچہ وہ چاند تک پہنچ چکے ہوں اور مریخ پر ڈورے ڈالنے کی تگ و دو میں لگے ہوں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو یہ سب لوگ نہ صرف یہ کہ اس اہم حکمت سے غافل و بیخبر ہیں، بلکہ یہ لوگ مادیت کے اس دور میں طرح طرح کے وسائل و ذرائع سے پوری دنیا کو اسی غفلت میں جکڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور اس غرض کیلئے وہ طرح طرح کے جال دن رات بن رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بعض حضرات نے یہاں پر " حکم " سے نبوت بھی مراد لی ہے کہ آپ کو اور حضرت عیسیٰ کو بچپن ہی میں نبوت سے سرفراز فرما دیا گیا تھا۔ (تفسیر کبیر وغیرہ) ۔ مگر جمہور کے نزدیک راحج قول پہلا ہی ہے۔
Ayah 19:1316 حضرت یحیٰی کے لیے رحمدلی کی خاص عنایت و نوازش : سو یہ حضرت یحییٰ کیلئے ایک اور خاص نوازش تھی جس سے آپ جناب کو نواز گیا تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو اپنی طرف سے اس عنایت سے بطور خاص نوازا تھا "۔ اور یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایات سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جس کی بناء پر وہ بچپن ہی سے باقی سب دنیا سے الگ اور ان کیلئے ایک نمونہ اور قدوہ بن جاتے ہیں۔ { من لدنا } کے الفاظ سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اس صفت سے آنجناب کو بطور خاص اور وافر مقدار میں نوازا گیا تھا اور یہ رحمت وشفقت محبت و الفت اور سوز و گداز ہی انسان کے قلب و روح کی حرارت اور اس کی زندگی کی اصل علامت ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اور حضرات انبیاء و رسل نبوت و رسالت کے جس منصب جلیل پر فائز ہوتے ہیں اس کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ شفقت و عنایت کے خاص درجہ و مرتبہ پر فائز ہوں۔ اور حضرت یحییٰ کو اس ضمن میں خاص امتیازی شان سے نوازا گیا تھا۔ سو ان کے اس سوز و گداز اور محبت الہی کے جوش کا اندازہ آپ کے ان ارشادات سے ہوسکتا ہے جو انجیلوں کے اندر موجود ہیں اور جن کی حرارت آج بھی دلوں کو گرما اور روحوں کو تڑپا دیتی ہے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ اللہ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
17 لفظ { حنان } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ حضرت یحییٰ کو حق تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص رحمت و شفقت عطا فرمائی گئی تھی جس سے آپ خلق خدا کے ساتھ شفقت اور رحم دلی سے ساتھ پیش آیا کرتے تھے۔ { حنان } اصل میں اس محبت کو کہا جاتا ہے جس میں خاص شفقت اور میلان شامل ہو۔ چناچہ عرب کہتے ہیں " حنت الناقۃ علی ولدہا " یعنی " اونٹنی نے اپنے بچے پر ترس کھایا اور اس سے پیار کیا "۔ اور اس معنیٰ میں وہ کہتے ہیں " حنت المرءۃ علی زوجہا "۔ اسی لیے عورت کو " حنہ " کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ (ابن کثیر، فتح القدیر اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو حضرت یحیٰی کو " حنان " کے اس وصف سے بھی بطور خاص نوازا گیا تھا۔ اور یہ لفظ محبت و شفقت، الفت و عنایت اور سوز و گداز کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ ایک عام اور معروف و متداول لفظ ہے۔ اس لیے تعجب ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت ابن عباس کی طرف یہ بات کس طرح منسوب کردی کہ مجھے اس کے معنیٰ معلوم نہیں۔ جیسا کہ ابن کثیر وغیرہ میں مروی و منقول ہے۔
18 حضرت یحییٰ کے لیے پاکیزگی کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کو بڑی پاکیزگی سے نوازا گیا تھا "۔ یعنی ظاہر و باطن اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے۔ سو آپ معاصی وذنوب کی ہر میل کچیل سے پاک صاف تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ نے نہ کبھی کوئی گناہ کیا اور نہ کسی گناہ کا کوئی ارادہ و خیال ہی آپ کے دل میں گزرا۔ سو آپ کے قلب مبارک کو اس طرح کے تمام شوائب سے پاک کردیا گیا تھا۔ (معارف وغیرہ) ۔ اور زکاۃ و پاکیزگی کی یہ صفت دراصل حنان ہی کا پرتو ہے۔ کیونکہ جب کسی کے اندر سوز و گداز کی صفت و کیفیت موجود ہوگی تو وہ اس کے نتیجے میں اخلاق و عقائد اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے پاک و صاف ہوگا اور کسی کدورت و آلائش کا کوئی اثر اس پر باقی نہیں رہے گا۔ نہ اس کے ظاہر میں نہ اس کے باطن میں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید فی کل آن وحین -
19 حضرت یحییٰ کی صفت تقویٰ و پرہیزگاری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ بڑے پرہیزگار انسان تھے "۔ چناچہ آپ نے زندگی بھر کوئی گناہ تو درکنار، کسی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا۔ (المراغی، الصفوۃ، فتح القدیر وغیرہ) ۔ اور آپ کی صفت اور شان یہ رہی کہ زندگی بھر اپنے رب کے مطیع و فرمانبردار رہے۔ اس کے اوامرو ارشادات پر ہمیشہ کاربند رہے اور اس کے نواہی سے ہمیشہ بچتے رہے۔ سو صفت حنان و زکاۃ کے بعد صفت تقویٰ کا ذکر آپ کی ان دونوں صفتوں کو مزید اجاگر کر رہا ہے۔ کیونکہ ان دونوں صفتوں کا تعلق انسان کے باطن سے ہوتا ہے اور باطن کی اس خوبی اور روشنی کا اظہار اس کے ظاہری اعمال و اَخلاق اور صفات و کردار سے ہوتا ہے۔ سو حضرت یحییٰ بڑے ہی متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔ ان کی ساری زندگی زہد اور ترک دنیا کی زندگی تھی۔ انہوں نے توبہ اور رجوع الی اللہ کی منادی اس زور و شور سے کی کہ اس سے دشت وجبل گونج اٹھے۔ ہیکل میں ان کی تقریر سے دل دہل جایا کرتے تھے۔ دنیا سے ان کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا۔ اس سے انہوں نے لیا کچھ نہیں۔ جنگل کے شہد اور ٹڈیوں پر آنجناب کا گزارہ تھا۔ کمبل کی پوشاک سے تن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے انہوں نے اس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی تھی اس کو خدا کی رضا کے لیے اور اس کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayahs 19:14–1520 حضرت یحییٰ کے لیے اول تا آخر سلامتی ہی سلامتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سلام ہو اس پر جس دن کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اس کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو پیدائش، موت اور بعث بعد الموت تینوں مواقع انسانی زندگی میں بڑے اہم مواقع ہوتے ہیں کہ پیدائش کے وقت وہ عالم ارواح سے نکل کر اس دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ اور موت کے وقت وہ اس دنیا سے عالم برزخ میں منتقل ہوتا ہے اور وہاں سے دوبارہ اٹھنے کے بعد عالم آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے دارالقرار میں پہنچ جاتا ہے۔ سو ان تینوں مواقع پر انسان چونکہ اپنی عاجزی اور بےبسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا بطور خاص زیادہ محتاج ہوتا ہے اس لئے آنجناب کو ان تینوں مواقع میں خاص رحمت و عنایت اور عافیت و سلامتی سے نوازا گیا۔ (روح، طبری، مراغی اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ سو حضرت یحییٰ کی پیدائش کے وقت قدوسیوں نے مبارک و سلامت کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا اور موت و انتقال کے موقعہ پر انہوں نے " اہلا و سہلا " کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ اور جس دن ان کو دوبارہ اٹھایا جائے گا اس دن بھی وہ خیر مقدمی نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے۔
Ayah 19:1621 قصہ مریم و عیسیٰ کے ذکر کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کتاب میں مریم کا قصہ بھی سناؤ "۔ کہ اس میں بھی بڑے درس ہائے عبرت و بصیرت پنہاں ہیں۔ وہ عمران کی بیٹی اور داؤد کی نسل میں سے تھیں۔ بنی اسرائیل کے ایک پاکیزہ گھرانے میں انہوں نے جنم لیا۔ عام روایت کے خلاف لڑکی ہونے کے باوجود ان کو بیت المقدس کی خدمت اور عبادت کے لئے قبول کرلیا گیا اور عیسیٰ جیسے عظیم الشان بیٹے نے بغیر باپ کے ان کے یہاں جنم لیا۔ پھر یہود بےبہود کی بہتان طرازی سے معجزانہ طور پر آپ کی براءت کا قدرت کی طرف سے انتظام فرمایا گیا اور گود کے بچے نے معجزانہ طور پر آپ کی طہارت و پاکیزگی کیلئے بےمثال کلام کیا وغیرہ وغیرہ۔ " الکتاب " سے یہاں پر مراد قرآن حکیم ہے۔ جیسا کہ ظاہر و متبادر ہے۔ اور جمہور مفسرین کرام نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ ( المراغی، المحاسن، المدارک اور المعارف وغیرہ ) ۔ مگر اس سب کے باوجود بعض نے کہا کہ یہاں پر " الکتاب " سے مراد " اناجیل اربعہ " ہیں۔ بہرکیف یہاں پر ان کے ذکر کا حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اس میں بھی بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
22 حضرت مریم کی اپنے گھر والوں سے علیحدگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " جبکہ وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب جابیٹھیں "۔ یعنی بیت المقدس کی مشرقی جانب میں اپنے رب کی عبادت و بندگی کے لئے۔ (مراغی، صفوہ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور اسی بناء پر نصاریٰ نے اس مشرقی جانب کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی وجہ سے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ اس بات کو جانتا ہوں کہ عیسائیوں نے بیت المقدس کی مشرقی جانب کو اپنا قبلہ کیوں قرار دیا۔ پھر آپ ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی جائے ولادت کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ (ابن کثیر اور مراغی وغیرہ) ۔
Ayah 19:1723 حضرت مریم کی طرف روح القدس کے بھیجنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اپنا فرشتہ ان کی طرف بھیجا "۔ یعنی روح القدس۔ جن کو اللہ پاک نے روح پھونکنے کے لئے بھیجا تھا۔ نیز جو کہ وحی لانے پر ما مور و مقرر تھے جو کہ اس عالم کے لئے بمنزلہ روح کے ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں آپ کو روح القدس اور روح الامین فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف ان کو حضرت مریم کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو بغیر باپ کے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والے اس بچے کی خوشخبری سنا دیں۔ تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ اس کی بناء پر غم اور صدمے میں گھٹ کر اپنی جان ہی نہ گنوا بیٹھیں کہ میرے یہاں بغیر باپ کے یہ بچہ کیسے پیدا ہوگیا اور میں دنیا کو کیا منہ دکھاؤنگی۔ (المراغی وغیرہ) ۔
24 فرشتے کا مریم کے سامنے ظہور انسانی شکل میں : سو وہ فرشتہ آپکے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوا تاکہ آپ ان کو انسانی شکل میں دیکھ کر ان سے مانوس ہوں اور ان کے ذریعے ملنے والے کلام و پیغام اور خوش خبری کو سن کرمان سکیں۔ کیونکہ فرشتے کو اپنی اصل صورت میں دیکھ کر برداشت کرلینا آپ کے بس میں نہ تھا۔ اس لئے حضرت جبریل آپ کے سامنے انسانی شکل میں نمودار ہوئے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس ایک کامل و خوبصورت، گھنگھریالے بالوں اور سفید چہرے والے انسان کی شکل میں آئے تھے۔ (بحر، فتح، مراغی اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اگر ایسے نہ ہوتا بلکہ فرشتہ اپنی اصل اور حقیقی صورت میں ان کے سامنے آجاتا تو یہ اس کو دیکھنے اور اس کی بات سننے اور اس سے بات کرنے کی تاب نہ لاسکتیں۔ اور دیکھتے ہی خوف سے بھاگ کھڑی ہوتیں۔ نیز فرشتے کے انسانی شکل میں ظاہر ہونے میں حضرت مریم کے امتحان کا پہلو بھی ملحوظ تھا۔ سو ابتلاء و آزمائش کے اس نازک مرحلے پر حضرت مریم نے جس اعلیٰ اور پاکیزہ و عمدہ کردار کا مظاہرہ کیا وہ بےمثال تھا ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہم سب کو ایسے پاکیزہ اور مثالی کردار سے سرفراز فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 19:18–2229 حضرت مریم کے حمل اور آپ کی کنارہ کشی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت مریم کو حمل ہوگیا تو وہ اس کو لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں "۔ جنگل یا پہاڑ میں۔ اور یہ غالباً " بیت اللحم " کا وہی مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر مشہور ہے۔ اور جو کہ بیت المقدس سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور حمل اور وضع حمل کے اس قصے کے بارے میں آگے علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ عام معمول کے مطابق چھ سات ماہ کے عرصے میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ سب کچھ خرق عادت کے طور پر ایک ہی ساعت میں ہوگیا۔ (الفتوحات الالہیۃ، المعروف الجمل، صفوہ وغیرہ) ۔ " قصیّ " کے معنیٰ دور کے ہیں۔ آگے اس امر کی یہاں پر کوئی تصریح نہیں کہ " دور کی اس جگہ " سے مراد کونسی جگہ ہے۔ لیکن جیسا کہ ابھی اوپر بھی اشارہ گزرا ہے انجیلوں کی روایات سے معلوم ہوتا ہے اس سے مراد " بیت اللحم " ہے جہاں پر حضرت مریم چلی گئی تھیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مریم کو اس بچے کا حمل ہوگیا اور وہ اس کے ساتھ ایک دور جگہ چلی گئیں۔
Ayah 19:2330 حضرت مریم کی طرف سے اظہار افسوس : سو حضرت مریم صدیقہ کے ان کلمات سے انتہائی حسرت اور ندامت کا اظہار ہوتا ہے کہ " میں مرگئی ہوتی " اور مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا جو میرے لئے فضیحت و رسوائی کا باعث بنے گا۔ حضرت مریم صدیقہ ۔ سلام اللہ علہیا ۔ اپنے فطری شرم و حیا کے غلبے کی وجہ سے اس موقع پر فرشتہ کی بشارت و خوشخبری کو بھی بھول گئیں اور ان درد بھرے الفاظ سے اپنی اندرونی کیفیت کا اس طرح اظہار فرمایا جو کہ آپ کی عفت و پاک دامنی اور شرم و حیا کے کمال کی نشانی اور ثبوت ہے۔ سو یہاں سے دو اہم اور بنیادی باتوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ یہود کس قدر خبیث اور کتنی بدباطن قوم ہے جس کو حضرت مریم قدیسہ ایسی پاکیزہ ہستی پر بھی بدکاری کا ایسا ہولناک الزام لگانے میں کوئی شرم نہ محسوس ہوئی۔ اور دوسری بات یہ کہ قرآن حکیم کی اس کتاب مقدس کے دنیا پر کس قدر بڑے اور کتنے عظیم الشان احسانات ہیں کہ اس نے حضرت مریم صدیقہ کی جو اور جس طرح صفائی پیش کی اس کا عشر عشیر بھی اور کہیں، حتیّٰ کہ خود ان لوگوں کی اپنی بائبل میں بھی نہیں مل سکے گا جو ان پر ایمان کے دعویدار ہیں ۔ وللہ الحمد رب العالمین ۔ بہرکیف حضرت مریم کے ان کلمات کریمہ سے آپ کے اندر کی کیفیت اور آپ کے باطن کے مشاعر و احساسات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے کہا کاش کہ میں اس فضیحت و رسوائی کے پیش آنے سے پہلے ہی مر مٹ چکی ہوتی اور ایسی کہ لوگوں کے اذہان اور حافظوں سے بھی محو ہوچکی ہوتی۔ اور یہ طبعی تقاضا تھا حضرت مریم قدیسہ کی عفت و پاکدامنی کا۔
Ayahs 19:24–2531 رحمت خداوندی سے سرفرازی کے لیے بہانے کی ضرورت : سو رحمت خداوندی سے سرفرازی کے لیے حیلے اور بہانے کی تعلیم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور ہلاؤ اپنی طرف کھجور کے اس تنے کو "۔ تاکہ اس طرح آپ کی اپنی محنت کا بھی اس نعمت کے حصول میں کچھ دخل ہو سکے اور کسب ید کی فضیلت بھی واضح ہوجائے۔ سو اس سے یہ درس ملا کہ اسباب کی اس دنیا میں انسان کو اپنے مقدور کی حد تک اسباب اختیار کرنے چاہئیں۔ اسی لئے حضرت مریم کو درخت کا تنا ہلانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ ورنہ جو ذات خشک تنے سے تازہ کھجوریں عطا فرما سکتی ہے۔ وہ اس کو ہلائے بغیر کیوں نہیں دے سکتی۔ مگر اس میں کسب و محنت اور اسباب کو اپنانے کا درس دیا گیا ہے۔ نیز اس میں یہ ارشاد بھی ہے کہ جو ذات اقدس خشک درخت سے بغیر موسم کے تازہ کھجوریں عطا فرما سکتی ہے وہ تم کو اے مریم ! بغیرمسِّ بشر کے بچہ کی نعمت سے بھی سرفراز فرما سکتی ہے۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ دینا اور نوازنا اور ہر طرح کی اور ہر قسم کی دین اور نوازش اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے۔ پس مومن صادق کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اسی سے مانگے اور اپنا بھروسہ اور اعتماد اسی پر اور صرف اسی پر رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس مختصر سے ارشاد سے ایک طرف تو یہ درس ملتا ہے کہ بندے کو اپنے قلب و باطن اور نہاں وعیاں کا تعلق اپنے خالق ومالک سے صحیح رکھنا چاہیے تاکہ اس کی عنایات سے سرفراز ہوتا رہے کہ اس کی رحمت و عنایت سے سرفرازی کے لیے بس حیلے اور بہانے کی ضرورت رہتی ہے۔ اور دوسری طرف یہ کہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے جہاں تک ہو سکے اپنے ہاتھ پاؤں مارنے چاہئیں اور اپنی طرف سے حرکت کرنی چاہیے کہ حرکت میں برکت ہے۔ اور تیسری طرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہمیشہ اور ہر وقت جاری وساری ہے۔ وہ اسباب و مسببات کی پابند نہیں ہے۔ اس کی قدرت سب پر حاوی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 19:2632 حضرت مریم کے لیے سامان تسکین و راحت کی فراہمی : سو حضرت مریم کے لیے کھانے پینے اور سکون و راحت کے سامان کی فراہمی کے بعد آپ سے ارشاد فرمایا گیا " پس کھاؤ، پیو اور ٹھنڈا کرو اپنی آنکھوں کو "۔ اپنے اس نور نظر کو دیکھ کر جو کہ بڑی عظمت اور شان والا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان خصوصی کرامتوں اور عنایتوں کو یاد کر کے جن سے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تم کو نوازا ہے۔ اور یہیں سے یہ بھی سوچو کہ جو خدا خشک زمین سے پانی کا چشمہ جاری کرسکتا ہے، خشک درخت سے تازہ پھلوں کی نعمت سے نواز سکتا ہے، وہ یقینا بغیر باپ کے توسط کے اولاد کی نعمت سے نوازنے پر بھی قادر ہے۔ پس تم اللہ کے بخشے ہوئے تازہ پھلوں سے کھاؤ، صاف ستھرے چشمے کے اس پانی سے پیو اور اللہ تعالیٰ کی ان عنایات کو یاد کرکے اور اپنے اس پاکیزہ نور نظر کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کرو۔ اور اپنے رب کی ان عنایات پر دل و جان سے اس کا شکر بجا لاؤ جس نے نور علی نور اور سرور بالائے سرور کا ذریعہ بننے والی ان عظیم الشان نعمتوں سے آپکو نوازا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اطباء کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ ایام نفاس میں سب سے بہتر اور مفید غذا " رطب " یعنی تازہ کھجور ہے۔ اور پینے کے لیے صاف ستھرا پانی زندگی کی بنیادی اور اہم ضروریات میں سے ہے۔ پھر اولاد زندگی کا ایک عظیم الشان پھل اور سامان سکون و راحت ہے۔ پھر ان نعمتوں سے سرفرازی بھی اگر بطور اکرام و اعزاز ہو تو یہ ایک اور مہتم بالشان نعمت ہے۔ سو حضرت واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف سے حضرت مریم کو تنہائی کے اس وحشتناک ماحول میں ان تمام اہم اور بنیادی نعمتوں سے نواز دیا گیا اور وہ اکرام و اعزاز کے ساتھ اور کرامت کے طور پر ۔ فالحمد للہ جل و علا -
33 حضرت مریم کو سکوت و صمات کے روزے کی ہدایت : سو اشرار کے شر سے حفاظت کے لیے حضرت مریم کو نہ بولنے کے روزے کی نذر کی ہدایت فرمائی گئی تاکہ اس طرح ایک طرف تو آپ کی ان جاہلوں کی دل آزار باتوں سے حفاظت ہوسکے اور دوسری طرف آپ پر اس بچے کے معجزانہ کلام کا اعجاز بھی ظاہر ہوسکے جو کہ ان سب کی بولتی بند کرکے رکھ دے گا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسا آسان نسخہ اور کس قدر عجیب علاج بتایا گیا ہے جاہلوں کی جہالت کے جواب اور ان کے شر سے بچنے کا۔ کہ ان کے سامنے اپنی صفائی بیان کرنے کی بجائے معاملہ کو اپنے خالق ومالک کے حوالے کرکے سکوت و خاموشی کو اپنالو۔ سب معاملہ خودبخود اور بہترین طریقے سے حل ہوجائے گا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا۔ یعنی جس نے سکوت اور خاموشی کو اپنایا وہ نجات پا گیا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ " جواب جاہلاں خاموشی " یعنی " جاہلوں کا جواب خاموشی ہے " ۔ فَالْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 19:27–2835 ہارون کی بہن کا مطلب ؟ : اس سے مراد وہ ہارون (علیہ السلام) نہیں جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے کہ وہ تو اس سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے۔ بلکہ اس سے مراد حضرت مریم (علیہا السلام) کے وہ بھائی تھے جن کا نام ہارون تھا اور جو بڑے عابد و زاہد اور نیک و صالح شخص تھے اور جن کا زہد وتقویٰ ضرب المثل تھا۔ اور بنی اسرائیل میں اپنے نبیوں کے ناموں پر نام رکھنے کا رواج موجود تھا۔ جیسا کہ ہمارے یہاں بھی موجود ہے کہ لوگ پیغمبروں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں مثلاً محمد، احمد، مصطفی، یعقوب، یوسف، ابراہیم وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح وہاں بھی تھا۔ اور اگر یہاں ہارون (علیہ السلام) سے مراد وہی ہارون لئے جائیں جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے تو یہ بھی درست ہوسکتا ہے۔ اور اس صورت میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو ان کی بہن کہنا عربوں کے اس معروف دستور و رواج کے مطابق ہوگا کہ وہ نسبت کے لئے اس طرح کی اضافتوں کا استعمال کیا کرتے تھے۔ اور آج بھی کرتے ہیں۔ مثلاً " تمیمی " کو " اخاتمیم " اور " ہمدانی " کو " اخا ھمدان " اور اسی طرح " اخا العرب " اور " اخا الانصار " وغیرہ کہتے تھے اور کہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور جیسا کہ خود قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا ۔ { وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍ } ۔ وغیرہ۔ بہرکیف ان لوگوں نے حضرت مریم کی نسبت حضرت ہارون کی طرف کرکے ان کی سرزنش کو اور بھی سخت کردیا کہ اتنے بڑے نیک اور پاکیزہ بھائی کی بہن ہونے اور اس قدر پاکیزہ نسبت رکھنے کے باوجود تم نے یہ حرکت کیسے کی ؟ حضرت مریم کے والد ماجد کا نام عمران تھا جو مسجد اقصیٰ کے امام تھے۔ اور وہ بڑے عابد و زاہد انسان تھے۔ اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام " حنہ بنت قاقوذا " تھا۔ ( معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس طرح ان لوگوں نے حضرت مریم صدیقہ کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیا۔
Ayahs 19:29–3036 حضرت مریم کا اپنی قوم کو جواب اشارے سے : سو اس سب کے جواب میں حضرت مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا اور بس۔ جس سے وہ لوگ اور بھڑک اٹھے کہ کیا اس طرح تم ہمارا مذاق اڑانا چاہتی ہو جو ہماری بات کا صاف اور سیدھا جواب دینے کی بجائے ہمیں اس بچے کے حوالے کرتی ہو ؟ جو گہوارے میں پڑا ہے اور بولنے کے قابل بھی نہیں۔ بھلا اس سے ہم کس طرح کوئی بات کرسکتے ہیں ؟ مگر حضرت مریم نے چونکہ خاموشی کا روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے آپ نے ان لوگوں سے زبانی کلامی کوئی بات کرنے کی بجائے اس نومولود کی طرف اشارہ کردیا کہ ان تمام تہمتوں اور سب الزامات کا جواب یہ بچہ خود دے گا۔ اسی سے پوچھو۔ مجھے اس بارے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اس پر وہ لوگ اور بڑبڑائے کہ اس بچے سے ہم کس طرح بات کریں جو کہ ابھی گود میں ہے۔
37 حضرت عیسیٰ کا ماں کی گود میں معجزانہ کلام : سو اس پر عیسیٰ نے کہا " بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں "۔ سو اس سے آنجناب نے تصریح فرما دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ نہ کہ خدا یا خدا کا بیٹا۔ جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں۔ اور نہ ولدالزنا۔ جیسا کہ یہود بےبہبود بہتان باندھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس طرح اس بچے نے معجزانہ طور پر بولنے کے علاوہ بات بھی ایسی کہی کہ اپنی براءت و نزاہت اور اپنی والدہ ماجدہ کی پاکیزگی اور پاکدامنی بھی واضح کردی اور ساتھ ہی ساتھ یہود و نصاریٰ کے دونوں گروہوں کے گمراہوں کی ٹھوس تردید کردی۔ اور ایسی کہ آئندہ کے لیے تمام فتنوں کا دروازہ بند کردیا۔ سو اس طرح اس معصوم اور بےمثال و پاکیزہ بچے نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و عنایت سے ایسا عمدہ اور فیصلہ کن کلام کر کے ایک طرف تو حق اور حقیقت کو ہمیشہ کے لیے اور پوری طرح واضح کردیا اور اپنے بارے میں آئندہ ہونے والے تمام فتنوں کے دروازے بند کردیے۔ اور دوسری طرف اپنی والدہ ماجدہ مریم قدیسہ کی نزاکت و پاک دامنی اور عزت و عظمت کو چار چاند لگا دیے۔
38 کتاب و نبوت سے سرفرازی کا اظہار و اعلان : سو اس بچے نے مزید کہا کہ " اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے "۔ یعنی انجیل جو کہ بعد میں عطا فرمائی جائے گی۔ مگر اس امر کے یقینی ہونے کے باعث اور اس کے تحقق وقوع کی بناء پر اس کو فعل ماضی سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ (صفوۃ البیان، المراغی اور المعارف وغیرہ) ۔ اور یہی بات نبوت کے بارے میں بھی ہے کہ آپ کی نبوت سے سرفرازی بھی طے ہوچکی ہے جو بعد میں ملے گی۔ جبکہ میں اس کی عمر کو پہنچ جاؤنگا۔ لیکن اس کا فیصلہ چونکہ ہوچکا ہے اور یہ ایک طے شدہ اور قطعی امر ہے اس لیے اس کو بھی ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا۔ یعنی مجھے اللہ نے نبی بنایا۔ یعنی یہ معاملہ طے ہوگیا۔
Ayah 19:3139 اپنی خیر و برکت کی عنایت و نوازش کا ذکر وبیان : سو ماں کی گود میں کیے جانے والے اس معجزانہ کلام میں حضرت عیسیٰ نے مزید کہا کہ " میرے رب نے مجھے بڑا برکت والا انسان بنایا ہے "۔ سو میں جہاں بھی رہوں گا اور جہاں بھی جاؤں گا، مجھ سے لوگوں کو خیر و برکت ہی ملے گی اور نفع ہی پہنچے گا۔ اور جس شخص کی عظمت شان یہ ہو کیا وہ کبھی غلط نسب کا ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے ان سیدھے سادے الفاظ میں کیسی جامع اور پر مغز باتیں کہیں کہ ان سے یہود و نصاریٰ سمیت تمام باطل پرستوں کے سب فتنوں کا قلع قمع کردیا۔ اور اس طور پر کہ آئندہ قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں اور جملہ مفاسد کا راستہ بند کردیا۔ اور حق اور حقیقت کو اس سے پوری طرح واضح فرما دیا گیا اور اس حد تک نکھار کر رکھ دیا گیا کہ کسی کیلئے کسی طرح کا کوئی خفاء و غموض بھی باقی نہیں رہ جاتا سوائے ان کے جن کے خبث باطن نے ان کو اندھا کردیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کا وجود باجود سراسر خیر و برکت کا وجود ہوتا ہے۔ اور یہ ایک ظاہر بات اور کھلی حقیقت ہے کہ انہی سے اللہ کے بندوں کو دین و ہدایت کی روشنی اور وہ دولت عظمیٰ ملتی ہے جو سراسر خیر و برکت اور تمام خیرات و برکات کا مجموعہ اور ان کا منبع ومصدر ہوتی ہے۔ اور ایسے حضرات جہاں سے گزرتے ہیں راہ حق و ہدایت کو روشن و واضح کرتے اور دین و حکمت کے لعل و گہر لٹاتے اور بکھیرتے برساتے گزرتے ہیں۔ پھر جو لوگ ان کے آگے دامن پھیلاتے اور ان کی قدر کرتے ہیں وہ اپنی جھولیاں حکمت و نور کی دولت سے بھرتے اور مالا مال ہوتے ہیں۔ اور اپنی دنیا و آخرت کو بنانے سنوارنے کا سامان کرتے ہیں۔ اور جو ان سے منہ موڑتے اور ان کی ہدایات وتعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ خود اپنی حرمان نصیبی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
40 نماز اور زکاۃ کی تاکید کا ذکر وبیان : سو حضرت عیسیٰ نے اپنی والدہ ماجدہ کی گود میں مزید کہا کہ " اس نے مجھے تاکید فرمائی نماز اور زکوٰۃ کی جب تک میں زندہ رہوں "۔ کیونکہ نماز وہ عظیم الشان بدنی عبادت ہے جو انسان کے باطن کو پاک کرتی اور اس کو معاصی وذنوب کی ہلاکتوں سے بچاتی اور محفوظ رکھتی ہے۔ جبکہ زکوٰۃ وہ عظیم الشان مالی عبادت ہے جو ایک طرف تو انسان کو حبِّ دنیا کے چنگل اور اس کی محبت سے بچاتی ہے اور دوسری طرف مال و دولت کو پاک کرتی اور اس میں برکت و بڑھوتری کا ذریعہ بنتی ہے۔ اور تیسری طرف اس سے انسان کو مسکینوں و محتاجوں کی دعائیں ملتی ہیں اور معاشرے میں الفت و محبت کی فضاء قائم ہوتی ہے۔ اس لئے یہاں پر حضرت عیسیٰ کی زبان سے کہلوایا جا رہا ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں مجھے ان دونوں عبادتوں کے التزام اور ان کی پابندی کی تاکید و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ دونوں کس قدر عظیم الشان عبادتیں ہیں۔ اسی لیے ان کی سخت تاکید فرمائی گئی ہے۔ اور یہی وہ دو بنیادی عبادتیں ہیں جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہیں۔ جبکہ ان کو شریعت مطہرہ کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق علی وجہ المطلوب بجا لایا جائے۔ سو نماز اور زکاۃ دین کی دو اہم بنیادیں ہیں۔ اسی لیے ان کی ہر دین و شریعت میں تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ بندگیِ رب اور خدمت خلق کی روح ہر دین و شریعت میں موجود رہی ہے۔ اور ان دونوں میں سے نماز انسان کا تعلق اس کے رب کے ساتھ صحیح طور پر جوڑتی اور اس کے ظاہر و باطن کو سنوارتی اور منور و معمور کرتی ہے۔ اور زکاۃ خلق خدا کے ساتھ اس کو صحیح طور پر جوڑتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 19:3241 اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا : سو انہوں نے مزید کہا " اور اس نے مجھے نیک سلوک کرنے والا بنایا اپنی والدہ کے ساتھ "۔ سو اس میں آپ کی والدہ ماجدہ مریم صِدّیقہ ۔ سَلَام اللّٰہِ عَلَیْھَا ۔ کی پاکیزگی اور عفت و پاک دامنی کا بیان ہے۔ کیونکہ وہ اگر ایسی نہ ہوتیں جیسا کہ یہود بےبہبود کا کہنا تھا تو آپ کو ان کے ساتھ اس طرح نیکو کاری اور حسن سلوک کی تعلیم و تلقین نہ فرمائی جاتی ۔ عَلَیْھمَا الصَّلوۃُ والّسلام ۔ نیز اس میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ باپ کے توسط کے بغیر صرف والدہ ماجدہ سے معجزانہ طور پر پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے یہاں پر صرف آپ کی والدہ ماجدہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جبکہ حضرت یحیٰی کے بارے میں { وبراً بوالدیہ } کے کلمات کریمہ سے انکے والد اور والدہ دونوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ نے اپنے اس کلام میں مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ سو حضرت عیسیٰ نے اپنے اس کلام سے واضح فرما دیا کہ ہرچند کہ میری ولادت خرق عادت کے طور پر ہوئی اور مجھے میرے مالک نے خاص انعامات و احسانات سے نوازا لیکن اس سب کے باوجود میں ہوں ایک بیٹا ہی۔ اور بیٹا بھی فرمانبردار۔ نہ کوئی مافوق البشر ہستی ہوں اور نہ کسی خدا کی صفت اور شائبے کا مجھ میں کوئی سوال پیدا ہوسکتا ہے ۔ (علیہ السلام) -
42 اور یہ کہ میرے اندر کسی طرح کی کوئی سرکشی نہیں : یعنی حضرت عیسیٰ نے مزید کہا " اور اس نے مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا "۔ یعنی نہ تو میں ایسا ہوں کہ تکبر اور بڑائی کے گھمنڈ میں اپنے رب کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ لوں اور نہ ہی ایسا شقی اور بدبخت ہوں کہ اپنی والدہ ماجدہ سے بدسلوکی کروں۔ بلکہ اس کے برعکس میں اپنے رب کا بندہ اور اس کا عبادت گزار ہوں کہ اس کی عبادت و بندگی اس کے بندوں پر اس کا حق لازم ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور میں اپنی والدہ ماجدہ کا بھی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوں کہ اللہ کے بعد انسان کے ذمے جو حق واجب ہوتا ہے وہ اس کے ماں باپ ہی کا حق ہے۔ سو حضرت عیسیٰ نے اپنے اس معجزانہ کلام سے واضح فرما دیا کہ ان تمام صفات و خصال اور رب تعالیٰ کے انعامات و احسانات کے باوجود میری عرفی حیثیت اور شان بشریت میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ میں بندہ اور بشر ہی ہوں۔ نیز آنجناب نے اپنے اس ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا کہ جو ماں باپ کا فرمانبردار نہیں وہ شقی اور بدبخت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 19:33–3443 حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کا ذکر وبیان : سو حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کی تعیین اور اس کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا "۔ جس کی یہ صفت اور شان بیان ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان سے بغیر باپ کے پیدا ہونے والے ایک پاکیزہ انسان اور اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے نہ کہ خدا یا خدا کے بیٹے۔ جس طرح کہ نصاریٰ نے کہا۔ اور نہ ہی حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) کی ناجائز اولاد۔ جس طرح کہ یہود بےبہبود نے اپنے خبث باطن کی بناء پر ان پر اتنا بڑا بہتان باندھا ۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر جامع اور حق اور سچ ہے قرآن حکیم کا یہ ارشاد جو کہ حق و حقیقت اور عقل و فطرت کے عین مطابق اور سو فیصد عدل و انصاف کے کانٹے پر تلا ہوا ہے۔ پس اس راہ حق و صواب سے ہٹ کر جن لوگوں نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا، انہوں نے بھی بڑے ظلم کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے اس کے برعکس آنجناب کے نسب طاہر پر لعن طعن کی انہوں نے بڑا ظلم ڈھایا۔ اور اس طرح یہ دونوں ہی گروہ راہ حق و ہدایت سے محروم ہو کر کفر و باطل اور دوزخ کی راہ پر چل پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت ہی پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 19:3544 اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہ کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہر طرح کے نقص و عیب اور ہر ضرورت و محتاجی سے۔ اور وہ پاک ہے ہر قسم کے شرک اور شوائبِ شرک سے۔ تو پھر اس کی کوئی اولاد کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور اس کا کوئی شریک کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ نہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد۔ اس کی شان ۔ { لم یلد ولم یولد } ۔ کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس حضرت عیسیٰ میں خدائی کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ وہ خداوند قدوس کی قدرت کے نمونے اس کی طرف سے بخشی ہوئی پاکیزہ روح اور اس کے کلمہ و فرمان تھے اور بس ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ سو اللہ تعالیٰ اس طرح کی تمام نسبتوں سے پاک اور ان سے اعلی وبالا ہے۔ بیٹوں کی ضرورت وحاجت اس کو ہوتی ہے جو اپنے ارادوں اور منصوبوں کو بروئے کار لانے میں کسی کا محتاج ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے اعلی وبالا ہے۔ وہ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کو صرف اتنا کہنا اور فرمانا ہوتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوچکا ہوتا ہے۔ سو حضرت عیسیٰ کی خرق عادت ولادت بھی ان کی الوہیت کی دلیل نہیں بلکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن کا کرشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ وہ یوں ہی پیدا ہوں تو وہ اس کے کلمہ کن سے بغیر باپ کے توسط کے یونہی پیدا ہوگئے ۔ (علیہ السلام) -