Ayahs 19:1–7بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت
حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں سر میں خوب سفیدی آگئی (اندازہ ہے کہ اب میرا چل چلاؤ ہے) اگر میں اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا کہ کوئی میرا دینی وارث نہیں ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنے موالی (یعنی چچا کے بیٹوں) سے خوف ہے کہ دین کو محفوظ نہ رکھیں گے تو دینی علوم و اعمال کا بقا کس طرح رہے گا ؟ لہٰذا آپ مجھے ایک بیٹا عنایت فرمایئے، جو میرا ولی ہو وہ میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کا بھی وارث ہو اور آپ اس سے راضی ہوں۔ میرے بڑھاپے کا تو یہ حال ہے جو اوپر بیان کیا اور میری بیوی بانجھ ہے تاہم مجھے آپ بیٹا عطا فرما ہی دیں اور ساتھ ہی یوں بھی عرض کیا کہ میں کبھی دعا کر کے محروم نہیں رہا آپ نے ہمیشہ میری دعا قبول فرمائی ہے یہ دعا بھی قبول فرمایئے۔ اپنی میراث سے میراث نبوت اور میراث علم مراد ہے اور آل یعقوب کی میراث سے دینی سیادت مراد ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبی تو تھے ہی اپنے زمانہ کے احبار کے سردار بھی تھے مطلب یہ تھا کہ یہ علمی اور عملی سرداری جو ہمارے خاندان میں جاری ہے یہ باقی رہے۔ قال البغوی فی معالم التنزیل والمعنی انہ خاف تضییع بنی عمہ دین اللہ وتغییر احکامہ علی ما کان شاھدہ من بنی اسرائیل من تبدیل الدین و قتل الانبیاء فسال ربہ ولدا صالحا یا منہ علی امتہ و یرث نبوتہ و عملہ لئلا یضیع الدین اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور بشارت دے دی کہ ہم تمہیں ایسا لڑکا دیں گے جس کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام پیدا نہیں کیا۔ (لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا) کا ترجمہ بعض مفسرین نے شبیھا و مثیلا کیا ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اس جیسا لڑکا پیدا نہیں کیا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے اس سے سید اور حصور ہونا مراد ہے جس کا سورة آل عمران میں ذکر ہے۔
Ayah 19:8بیٹے کی بشارت ملنے پر تعجب کرنا
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت دے دی اور بیٹے کا نام بھی بتادیا تو عرض کیا اے میرے رب میرے یہاں لڑکا کیسے ہوگا میری بیوی تو بانجھ ہے اور میرا بڑھاپا انتہا درجہ کو پہنچ چکا ہے، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے یہ جانتے ہوئے کہ میں بہت بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے اللہ تعالیٰ سے بیٹے کی دعا مانگی تھی پھر جب دعا قبول ہوگئی تو اب تعجب کیوں کر رہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حضرات مفسرین نے کئی باتیں لکھی ہیں اول یہ ان کا سوال حصول ولد کی کیفیت سے تھا کہ مجھے اسی عورت سے اولاد عطا ہوگی یا دوسری کوئی جوان عورت سے نکاح کرنا ہوگا، دوم یہ کہ یہ تعجب بشریت کے فطری تقاضے کے اعتبار سے ان کی زبان سے ظاہر ہوگیا قدرت الٰہی کو کامل جانتے ہوئے بھی اس قسم کے مواقع پر انسان کی زبان سے ایسے کلمات نکل جاتے ہیں سوم بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ غایت اشتیاق کی وجہ سے انھوں نے سوال کرلیا تاکہ خدائے پاک کی طرف سے دوبارہ بشارت کا اعادہ ہو اور قلبی لذت میں اضافہ ہوجائے۔
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے یہاں بیٹا کیسے ہوگا حالانکہ صورت حال اس طرح سے ہے تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کَذٰلِکَ یہ بات اسی طرح ہے یعنی واقعی تمہارے یہاں بیٹا ہوگا اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے یہ میرے لیے آسمان ہے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے اولاد پیدا کر دوں تم یہ بھی تو خیال کرلو کہ میں نے تمہیں پیدا کیا جبکہ تم کچھ بھی نہیں تھے، جس طرح تمہیں عدم سے وجود بخش دیا تو اب تم سے اولاد پیدا کردینا یہ کون سی تعجب کی بات ہے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میرے لیے کوئی ایسی نشانی مقرر فرما دیجیے جس سے مجھے پتہ چل جائے کہ میری بیوی کو استقرار حمل ہوچکا ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کے لیے یہ نشانی مقرر فرما دی کہ تم اچھے خاصے ٹھیک تندرست ہوتے ہوئے (نہ مریض ہو گے نہ گونگے ہو گے) تین دن تین رات تک کسی سے بات نہیں کرسکو گے تین رات کا ذکر تو یہاں سورة مریم میں ہے اور تین دن کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے وہاں (اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا) فرمایا ہے یعنی زبان سے تو نہیں اشارہ سے بات کرسکو گے ہاتھ یا سر کا اشارہ کرنے پر تو قدرت ہوگی لیکن زبان سے بات نہ کرسکو گے سورة آل عمران میں یہ بھی ہے کہ (وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے بات نہ کرسکو گے البتہ اللہ کے ذکر پر قدرت ہوگی اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنا اور صبح شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ صبح شام سے اوقات نماز کی پابندی مراد ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ صبح شام کنایہ ہے جمیع اوقات سے یعنی ہر وقت اللہ کی تسبیح میں مشغول رہو۔
سورة انبیاء میں فرمایا ہے (فَاسْتَجَبْنَالَہٗ وَوَھَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی وَاَصْلَحْنَا لَہٗ زَوْجَہٗ ) کہ ہم نے زکریا کی دعا قبول کی اور ان کو یحییٰ (بیٹا) عطا فرما دیا اور اس کی بیوی کو درست کردیا یعنی ولادت کے قابل بنا دیا اللہ تعالیٰ خالق الاسباب اور خالق المسببات ہے وہ اسباب بھی پیدا فرماتا ہے اور اسباب کے بغیر بھی اسے ہر چیز کی تخلیق پر قدرت ہے۔
Ayahs 19:9–11(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) سو زکریا (علیہ السلام) اپنی قوم پر نکلے یعنی محراب سے باہر آئے عام طور سے نمازی ان کے انتظار میں رہتے تھے جب وہ دروازہ کھولتے تو اندر داخل ہوجاتے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لیتے تھے اور روزانہ صبح شام ایسا ہوتا تھا اپنی بیوی کے استقرار حمل کے بعد حسب عادت محراب کا دروازہ کھولا تھا تو لوگ موجود تھے وہ حسب سابق اندر داخل ہوگئے لیکن آج صورت حال مختلف تھی کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کلام نہیں کرسکتے تھے۔ بولنے پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اشارہ سے فرمایا کہ صبح و شام حسب سابق نماز پڑھتے رہو۔ (معالم التنزیل ص 190 ج 3)
لفظ محراب سے اپنے اس زمانہ کی معروف محراب نہیں ہے مطلق نماز کی جگہ یا حجرہ مراد ہے اسی لیے بعض اکابر نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ وہ اپنے حجرہ سے نکلے اور یہ ترجمہ سورة آل عمران کی آیت (کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ ) کے مطابق ہے اور دوسرا ترجمہ یعنی نماز کی جگہ آل عمران کی دوسری آیت (فَنَادَتْہُ الْمَلآءِکَۃُ وَ ھُوَ قَآءِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ ) کے موافق ہے لفظ محراب حرب سے بمعنی جنگ مفعال کے وزن پر ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ عبادت کی جگہ کو محراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ عبادت کرنے والا گویا اس میں شیطان سے جنگ کرتا ہے (یعنی شیطان کے وسوسوں اور اس کے مزین کیے ہوئے اعمال کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور شیطان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے) ۔
Ayah 19:12حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ و اخلاق عالیہ
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوگئی اللہ تعالیٰ نے ان سے خطاب فرمایا (یَا یَحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ ) اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ لے لو مفسرین نے فرمایا کہ اس سے توریت شریف مراد ہے چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء بنی اسرائیل توریت شریف پر ہی عامل تھے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا ہے (یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا) (الآیۃ)
لفظ بقوۃ میں خوب اچھی طرح یاد رکھنا بھی آگیا اور عمل کرنے کو بھی یہ لفظ شامل ہوگیا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واسطہ سے خطاب فرمایا پھر فرمایا (وَاٰتَیْنَاہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا) (اور ہم نے یحییٰ کو بچپن ہی کی حالت میں حکم عطا فرما دیا اور یہ ان کی خصوصیت ہے کیونکہ عموماً حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر ہوجانے پر نبوت دی جاتی تھی اگر اس قول کو لیا جائے کہ انھیں بچپن ہی میں نبوت دے دی گئی تھی تو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ (یَا یَحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ ) کا خطاب حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ذریعہ ہوا۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے حکم سے فہم کتاب مراد ہے اور بعض حضرات نے حکم بمعنی حکمت اور بعض حضرات نے بمعنی فراست صادقہ لیا ہے۔ (ما ذکرہ صاحب الروح ص 72 ج 16)
Ayah 19:13(وَحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا) (اور یحییٰ کو ہم نے اپنے پاس سے رقت قلبی عطا فرما دی) یہ رقت قلبی مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آنے اور انھیں صراط مستقیم پر لانے اور اعمال صالحہ پر ڈالنے میں مفید ہوتی ہے اس بارے میں جو مخلوق سے تکلیف پہنچے اس پر صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
وَزَکوٰۃً (اور اس بچہ کو ہم نے پاکیزگی عطا کی) یہ لفظ زکوٰۃ کا ترجمہ ہے لفظ زکوٰۃ کا اصل معنی پاکیزہ ہونے کا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس موقع پر اس کی تفسیر میں فرمایا الطاعۃ والاخلاص کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کو اپنی فرمانبرداری اور اخلاص فی الاعمال کی نعمت فرمائی اور حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے اور مفسر کلبی نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے صدقۃ تصدق اللہ بھا علی ابویہ (یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے جو کہ ماں باپ کو عطا فرمایا)
(وَکَانَ تَقِیًّا) اور یحییٰ (علیہ السلام) تقی تھے، اس لفظ میں تمام اعمال خیر کو اخلاص کے ساتھ اور پوری فرمانبرداری کے ساتھ ادا کرنا اور چھوٹے بڑے گناہوں سے محفوظ رہنا داخل ہوجاتا ہے مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا اور گناہ کا کوئی ذرا سا ارادہ بھی نہیں کیا۔
Ayah 19:14(وَبَرًّا بْوَالِدَیْہِ ) (اور ہم نے یحییٰ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے والا بنایا) (وَلَمْ یَجْعَلْہُ جَبَّارًا عَصِیًّا) (اور اللہ نے ان کو جبار یعنی متکبر نہیں بنایا اور عصی یعنی نافرمان نہیں بنایا)
Ayah 19:15(وَسَلاَمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا) (اور یحییٰ پر اللہ کا سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن وہ زندہ ہو کر اٹھائے جائیں گے) ۔
لفظ یَمُوْتُ صیغہ مضارع اس وقت کے اعتبار سے ہے جب وہ پیدا ہوئے تھے مستقبل کا ترجمہ دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
حضرت سفیان بن عیینہ (رح) نے فرمایا کہ یہ تین مواقع (یعنی ولادت کا دن اور موت کا وقت اور قبروں سے نکلنے کا وقت) انسان کے لیے توحش کے موقع ہوتے ہیں ان تینوں مواقع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے لیے بطور خوشخبری کے فرما دیا کہ ان میں باسلامت رہنے والے ہیں۔ (ذکرہ فی معالم التنزیل)
Ayah 19:16حضرت مریم [ کا تذکرہ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ
سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے کہ جناب عمران کی بیوی نے نذر مانی تھی کہ میرے اولاد ہوگی تو اسے بیت المقدس کی خدمت میں لگا دوں گی اور خواہش یہ تھی کہ لڑکا پیدا ہو اور اسی لیے منت مانی تھی جب ولادت ہوئی تو لڑکی پیدا ہوئی اس لڑکی کا نام مریم رکھا چونکہ یہ لڑکی ایک نیک عورت کی نیک منت پر پیدا ہوئی تھی اس لیے اس کا نام مریم رکھا جس کا معنی ہے عابدہ اور ان کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی ہونے کی وجہ سے مسجد کی خدمت کے لیے نہیں تو عبادت ہی کے لیے سہی اپنی اس نذر کی وجہ سے وہ بچی کو بیت المقدس کے مقیمین کے پاس لے گئیں وہاں کے رہنے والوں نے اس بچی کی کفایت میں منافست اختیار کی اور ہر ایک چاہتا تھا کہ میں اس کی پرورش کروں جھگڑے کو نبٹانے کے لیے آپس میں قرعہ ڈالا تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام قرعہ نکل آیا لہٰذا انھوں نے مریم کو اپنی کفالت میں لے لیا وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں رہنے لگیں بیت المقدس میں ان کے لیے ایک کمرہ مخصوص کردیا تھا جو بلندی پر تھا اور اس میں زینہ سے چڑھتے اور اترتے تھے اللہ تعالیٰ نے مریم کو خوب اچھے طریقے سے نشوونما فرمایا جو دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔
جب حضرت مریم بڑی ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ ان کو بشارت دی کہ تمہیں ایک بیٹا دیا جائے گا جس کا نام مسیح ہوگا وہ دنیا و آخرت میں وجیہ ہوگا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا اور وہ گہوارہ میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے بات کرے گا۔
حضرت مریم [ کا پردہ کا اہتمام اور اچانک فرشتہ کے سامنے آجانے سے فکر مند ہونا
اس تفصیل کو سامنے رکھ کر اب یہاں سورة مریم کی تصریحات کو ذہن نشین کیجیے وہ ایک دن اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر گھر کے مشرقی جانب ایک جگہ چلی گئیں۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ دن سخت سردی کا تھا وہاں دھوپ میں بیٹھ گئیں اور سر کی جوئیں نکالنے لگیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ غسل کرنے کے لیے بیٹھی تھی (فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا) سے اس دوسرے قول کی تائید ہوتی ہے، اس علیحدہ جگہ میں پردہ ڈال کر بیٹھی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا گیا (فَارْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَََا) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک صحیح سالم انسان کی صورت میں ان کے سامنے کھڑے ہوگئے حضرت مریم پاکباز عفت دار اور عصمت والی خاتون تھیں وہ انھیں دیکھتے ہی گھبرا گئیں اور کہنے لگیں کہ تو کون ہے جو تنہائی میں یہاں پہنچا ؟ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تیری صورت شکل تو یہ بتارہی ہے کہ متقی آدمی ہوگا متقی کا کیا کام کہ وہ تنہائی میں کسی ایسی عورت کے پاس آئے جس کے پاس آنا حلال نہیں، میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور تو بھی اپنے تقویٰ کی لاج رکھ اور یہاں سے چلا جا۔
Ayahs 19:17–20فرشتہ کا بیٹے کی خوشخبری دینا اور حضرت مریم کا متعجب ہونا
اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے اللہ کی طرف سے ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں۔ اس پر حضرت مریم [ نے کہا تم کیا کہہ رہے ہو میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ نہ تو مجھے کسی ایسے شخص نے چھوا ہے جس کا چھونا حلال ہو (یعنی شوہر) اور نہ میں فاجرہ عورت ہوں بچہ تو حلال مباشرت سے یا کسی زانی کے زنا سے پیدا ہوتا ہے، اور یہاں تو دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں لہٰذا میرے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فرشتہ کا جواب دینا کہ اللہ کے لیے سب کچھ آسان ہے
سورة آل عمران کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے فرشتوں نے انھیں لڑکا ہونے کی بشارت دی تھی اور اس وقت بھی انھوں نے یہی کہا تھا کہ میرے لڑکا کیسے ہوگا حالانکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں وہاں ان کی بات کا جواب یوں نقل کیا ہے۔ (کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ) (اللہ اسی طرح پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے) (اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنَ ) (جب وہ کسی امر کا فیصلہ فرمائے تو یوں فرما دیتا ہے کہ ہوجا لہٰذا ہوجاتا ہے) ۔
Ayah 19:21اور یہاں فرشتہ کا جواب یوں ذکر فرمایا ہے (قَالَ کَذٰلِکَ ) (فرشتے نے کہا یوں ہی ہوگا) (قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیّْنٌ) (تیرے رب نے فرمایا ہے وہ مجھ پر آسان ہے) جس نے بغیر ماں باپ کے آدم (علیہ السلام) کو اور بغیر ماں کے حضرت حوا کو پیدا فرما دیا اس کے لیے بغیر باپ کے پیدا فرمانا کیا مشکل ہے ؟ اس کے لیے سب کچھ آسان ہے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة آل عمران (اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ آدَمَ ) (الایہ)
(وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسْ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا) یہ بھی فرشتہ کے کلام کا تتمہ ہے فرشتے نے مزید کہا کہ (تیرے رب نے یوں بھی فرمایا ہے کہ ہم اس بچہ کو لوگوں کے لیے نشانی اور باعث رحمت بنا دیں گے) اس بچہ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ وہ بغیر اسباب عادیہ کے بھی پیدا فرمانے پر قادر ہے اور یہ بچہ لوگوں کے لیے رحمت کا ذریعہ بنے گا اس کا اتباع کرنے والے اللہ کے مقبول بندے ہوں گے اور ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی۔
(وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا) (اور یہ ایک طے شدہ بات ہے اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے) پیدا ہونے والا یہ بچہ بغیر باپ ہی کے پیدا ہوگا اللہ کے فیصلہ کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔
Ayah 19:22حمل اور وضع حمل کا واقعہ، دردزہ کی وجہ سے کھجور کے درخت کے نیچے پہنچنا فرشتہ کا آواز دینا کہ غم نہ کرو درخت کا تنا ہلاؤ تر کھجوریں کھاؤ
(فَحَمَلَتْہُ فاَنْتَبَذَتْ بْہٖ مَکَانًا قَصِیًّا) (سو اس لڑکے سے وہ حاملہ ہوگئی۔ لہٰذا وہ اس حمل کو لیے ہوئے علیحدہ ہو کر دور چلی گئی) سورة تحریم میں فرمایا (وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ ) (اور اللہ عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرماتا ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا سو ہم نے اس کے گریبان میں اپنی روح پھونک دی اور انھوں نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت والوں میں سے تھیں) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے پھونکنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے اس پھونکنے سے حمل قرار پا گیا۔ حمل قرار پانے کے بعد وہ اس حمل کو لیے ہوئے اپنے گھر سے کسی دور جگہ میں چلی گئیں پھر جب دردزہ یعنی پیدائش کا درد شروع ہوا تو اس کی وجہ سے کھجور کے درخت کے پاس آگئیں اور اس کے تنہ کے قریب یا اس سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور اسی حالت میں کہنے لگیں کہ ہائے کاش میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل ہی بھولی بسری ہوجاتی نہ کوئی جانتا نہ پہچانتا، اس وقت پریشانی کا عالم تھا جنگل تھا تنہائی تھی درد سے بےچین تھیں کوئی چھپر تک نہیں تھا جس میں لیٹیں اور یہ بھی خیال لگا ہوا تھا کہ بچہ پیدا ہوگا تو لوگ کیا کہیں گے ایسی پریشانی میں منہ سے یہ بات نکل گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مردہ ہوچکی ہوتی، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ استقرار حمل کے بعد تھوڑی ہی دیر میں ولادت ہوگئی (ذکرہ فی معالم التنزیل عنہ) آیت کریمہ کے سیاق سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دیگر حاملہ عورتوں کی طرح ان پر حمل کی مدت نہیں گزری کیونکہ اتنی لمبی مدت تک تنہا اکیلی عورت کا گھر سے باہر اور دور رہنا بعید ہے پھر اگر لمبی مدت ہوتی تو حمل کا ظاہر ہونا اور اندر پیٹ میں پرورش پانا اس سے لوگوں کو ولادت سے پہلے ہی حاملہ ہوجانے کا پتہ چل جاتا اور لوگوں کا طعن اور اعتراض شروع ہوجاتا لیکن قرآن کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ بچہ کو لے کر آئیں اس وقت لوگوں نے اعتراض کیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 19:23–24(فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَا) (سو جبریل نے حضرت مریم کو آواز دی جو اس جگہ سے نیچے کھڑے ہوئے تھے جہاں وہ اوپر کسی ٹیلے پر تھیں اور یوں کہاں (اَنْ لَّا تَحْزَنِیْ ) (کہ تو رنجیدہ نہ ہو) (کمافی الروح ص 82 ج 11)
(قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا) (تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وہاں اپنا پاؤں مار دیا جس کی وجہ سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا اور ایک قول یہ ہے کہ وہاں پہلے سے خشک نہر تھی اللہ تعالیٰ نے اس میں پانی جاری فرما دیا اور وہیں ایک خشک کھجور کا درخت تھا اس میں پتے اور پھل آگئے اور اسی وقت پک گئے۔ (معالم التنزیل ص 193 ج 3)
Ayah 19:25(وَھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا) اور تو درخت کے تنے کو حرکت دے اس سے تجھ پر ترو تازہ پکی ہوئی کھجوریں گریں گی۔ (یہ بھی بطور کرامت ہے کہ ایک زچہ عورت کے حرکت دینے سے کھجور کے درخت سے پھل گرپڑیں کیونکہ کھجور کے درخت کو تو ایک قوی مضبوط مرد بھی نہیں ہلا سکتا پھر ہلانا بھی ایسا کہ جس سے پھل گرپڑیں) ۔
Ayah 19:26(فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا) (سو تو ان تازہ کھجوروں میں سے کھا اور اس نہر میں سے پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی کر) یہ تیرا بچہ تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ فی معالم التنزیل یعنی طیبی نفسا و قیل قری عینک بولدک عیسی۔
طبّی اصول سے زچہ کے لیے کھجوروں کا مفید ہونا
یہاں پہنچ کر جی چاہتا ہے کہ صاحب بیان القرآن کی ایک عبارت نقل کردی جائے موصوف فرماتے ہیں کہ تمہارے رب نے تمہارے پاس ایک نہر پیدا کردی ہے۔ جس کے دیکھنے سے اور پانی پینے سے فرحت طبعی ہوگی، ونیز حسب روایت روح المعانی ان کو اس وقت پیاس بھی لگی تھی اور حسب مسئلہ طبیہ گرم چیزوں کا استعمال قبل وضع یا بعد وضع سہل ولادت و دافع فضلات و مقوی طبیعت بھی ہے اور پانی میں اگر سخونت (گرمی) بھی ہو جیسا بعض چشموں میں مشاہدہ ہے تو اور زیادہ مزاج کے موافق ہوگا ونیز کھجور کثیر الغذاء مولد خون مسمن و مقوی گردہ کمر و مفاصل ہونے کی وجہ سے زچہ کے لیے سب غذاؤں اور دواؤں سے بہتر ہے۔ (فی معالم التنزیل ص 193 ج 3 قال الربیع بن خثیم ما للنفساء عندی خیر من الرطب ولا للمریض خیر من العسل) اور حرارت کی وجہ جو اس کی مضرت کا احتمال ہے سو اول تو رطب میں حرارت کم ہے دوسرے پانی سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہے تیسرے مضرت کا ظہور جب ہوتا ہے کہ عضو میں ضعف ہو ورنہ کوئی چیز بھی کچھ نہ کچھ مضرت سے خالی نہیں ہوتی ونیز خرق عادت (کرامت) کا ظہور اللہ کے نزدیک مقبولیت کی علامت ہونے کی وجہ سے موجب مسرت روحانی بھی ہے انتہیٰ
حضرت مریم [ سے فرشتہ کا یوں کہنا کہ کوئی دریافت کرے تو کہہ دینا کہ میرا بولنے کا روزہ ہے
(فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرْ اَحَدًا فَقُوْلْیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ للرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا) (سوا اگر تو کسی انسان کو دیکھے تو کہہ دینا کہ میں نے رحمن کے لیے روزہ رکھنے کی منت مان لی ہے لہٰذا آج میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی) بنی اسرائیل کی شریعت میں نہ بولنے کا روزہ بھی مشروع تھا ہماری شریعت میں منسوخ فرما دیا گیا یوں کوئی آدمی کسی ضرورت سے کم بولے یا نہ بولے اور اشارہ سے بات کرے تو یہ دوسری بات ہے لیکن اس کا نام روزہ نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے اچانک ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ ابو اسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا ہی رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور سایہ میں نہ جائے گا اور بات نہیں کرے گا اور روزہ سے رہے گا آپ نے فرمایا اس سے کہو بات کرے اور سایہ میں جائے اور بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ (رواہ البخاری ص 991 ج 2)
حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد یاد رکھا ہے لا یتیم بعد احتلام ولا صمات یوم الی اللیل (یعنی احتلام ہونے کے بعد کوئی یتیمی نہیں اور کسی دن رات تک خاموش رہنا نہیں) (رواہ ابوداود فی کتاب الوصایا ص 41 ج 2) یعنی کسی دن رات تک روزے کی نیت سے خاموش رہنا شریعت اسلامیہ میں نہیں۔
Ayah 19:27ولادت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کے پاس گود میں لے کر آنا، قوم کا معترض ہونا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب دینا اور اپنی نبوت کا اعلان فرمانا
چونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ مریم کے بچہ تولد ہونا ہے اور وہ بھی بغیر باپ کے لہٰذا وہ بچہ پیدا ہوگیا جب اس کی ولادت ہوگئی تو اسے آبادی میں لے کر آنا تھا وہ اس بچہ کو گود میں اٹھا کر آبادی میں لے آئیں وہاں قوم کے لوگ موجود تھے انھوں نے بچہ کو گود میں دیکھ کر کہا کہ اے مریم یہ بچہ کہاں سے آیا ؟ ہمارے علم میں تو یہی بات ہے کہ تیری شادی نہیں ہوئی جب بچہ حلال کا نہیں ہے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ بچہ بدکاری سے پیدا ہوا ہے یہ تو تو نے بڑے ہی غضب کا کام کیا تیری جیسی خاتون سے بدکاری کا سرزد ہونا بڑے تعجب کی بات ہے اے ہارون کی بہن نہ تو تمہارے باپ برے آدمی تھے نہ تمہاری ماں بدکار تھی تمہیں بھی انھیں کی طرح پاک رہنا لازم تھا۔ تمہارے بھائی ہارون (جو خاندان کے ایک شخص ہیں) وہ بھی نیک شخص ہیں جب سارا ہی خاندان نیک ہے تو تمہیں بھی ہر اعتبار سے نیک اور صالح ہونا چاہیے تھا۔
حضرت مریم [ نے لوگوں کی طعن وتشنیع والی باتیں سنیں اور خود سے جواب نہیں دیا بلکہ نومولود بچہ کی طرف اشارہ کردیا جو ان کی گود میں تھا۔ لوگ کچھ یوں سمجھے کہ یہ ہم سے تمسخر کر رہی ہے۔ کہنے لگے ہم ایسے شخص سے کیسے بات کریں جو ابھی گود میں بچہ ہی ہے۔ ان لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ بچہ خود ہی بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی (یعنی عطا فرمائے گا) اور اس نے مجھے نبی بنایا یعنی مجھے نبوت عطا فرمائے گا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے برکت والا بنایا میرے ذریعہ خیر پھیلے گی اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم فرمایا جب تک کہ میں زندہ رہوں اور مجھے والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔ (لہٰذا میں اپنے خالق کے حقوق ادا کروں گا اور اپنی والدہ کے بھی) ۔ اور مجھ پر اللہ کی طرف سے سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز میری وفات ہوگی اور جس روز میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہودی اس بچہ سے دشمنی کریں گے اور ان کی نبوت کے انکاری ہوں گے اور نصرانی ان کے بارے میں بہت زیادہ غلو کریں گے کچھ لوگ ان کے بارے میں کہیں گے کہ اللہ انھیں کی ذات ہے اور کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ اللہ کا بیٹا ہے اس لیے ابھی سے ان کی زبان مبارک سے یہ کہلوا دیا کہ میں اللہ نہیں ہوں بلکہ اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ کی مخلوق ہوں اور اللہ کا مامور ہوں اس نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم فرمایا (جو خود عبادت گزار ہو وہ کسی کا معبود نہیں ہوسکتا اور عابد و معبود ایک نہیں ہوسکتے) اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک اور خدمت گزار کے طریقہ پر پیش آؤں گا۔
بَرًّام بْوَالِدَتِیْ فرما کر یہ بتادیا کہ میرا کوئی باپ نہیں
یاد رہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں برا بوالدیہ فرمایا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں ان کی زبان سے بَرًّا بْوَالِدَتِیْ کہلوایا اس لفظ میں ہمیشہ کے لیے اس بات کی نفی ہوگئی کہ ان کا کوئی باپ ہو۔ نصاریٰ کی حماقت اور ضلالت کو دیکھو کہ جس ذات کو اللہ یا ابن اللہ یا الٰہ (معبود) کہہ رہے ہیں اس کا اپنا بیان تو یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور صرف ماں کا بیٹا ہوں لیکن یہ لوگ کبھی انھیں یوسف نجار کا بیٹا بتاتے ہیں اور کبھی اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں العیاذ باللہ من ذلک کلہ درحقیقت یہود و نصاریٰ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کے بارے میں جن گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے نہایت صفائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرما دیا سورة مریم میں اور سورة آل عمران میں واضح طور پر یہ بتادیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لیکن قرآن کی تصریحات کے خلاف دور حاضر کے بہت سے زندیق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں۔ (قَاتَلَھُمُ اللّٰہُ انّٰی یُؤْفَکُوْنَ )
Ayahs 19:28–35کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ اس سے پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہوجا، لہٰذا وہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ اس نے بغیر باپ کے ایک بچہ کو پیدا فرما دیا۔ جو ایسا صاحب کمال اور صاحب قدرت کاملہ ہو اس کے لیے اولاد تجویز کرنا سراپا حماقت اور ضلالت ہے۔ باپ اور بیٹے آپس میں ہم جنس ہوتے ہیں مخلوق خالق کی ہم جنس نہیں پھر مخلوق کیسے اس کی اولاد بن سکتی ہے۔ نیز مخلوق کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مدد کے لیے اولاد کو چاہتے ہیں اس لیے کہ خود ناقص ہیں اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات اور صفات میں کامل ہے اور اس میں کبھی کوئی تغیر اور نقص و ضعف آنے والا نہیں اسے کسی معاون اور مددگار کی ضرورت نہیں پھر وہ اپنے لیے اولاد کیوں تجویز کرے۔
Ayah 19:36حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اعلان کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہے
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا تھا (وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ) (اور بلاشبہ میرا رب اور تمہارا رب اللہ ہے سو تم اسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے) یہ مضمون سورة آل عمران سورة مریم اور سورة زخرف میں بیان فرمایا ہے۔
ان تمام تصریحات کے باوجود لوگوں نے مختلف جماعتیں بنا لیں جس کے معتقد ہوئے (یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کی بات کو تو پس پشت ڈالا اور خود سے اپنا دین تجویز کرلیا پھر کسی نے کہہ دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات خود اللہ کی ذات ہے اور کسی نے انھیں تیسرا معبود بنا دیا۔ اسی طرح سے خود سے گمراہی میں چلے گئے جب کوئی شخص حق کو پس پشت ڈالے گا تو گمراہی کے سوا اسے کیا ملے گا۔
Ayah 19:37(فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (سو کافروں کے لیے بڑی خرابی ہے جو ایک بڑے دن کی حاضری کے موقعہ پر ان کے سامنے آئے گی) اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو اپنی سختی اور درازی کے اعتبار سے کافروں کے لیے یوم عظیم ہوگا۔
Ayah 19:38پھر فرمایا (اَسْمِعْ بِھِِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا) (جس روز ہمارے پاس آئیں گے کیسے ہی سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے) یعنی قیامت کے دن حقائق پیش نظر ہوں گے جن چیزوں کی خبر دی گئی تھی وہ سامنے ہوں گے جن باتوں میں شک کرتے تھے وہ سامنے آجائیں گے جھٹلانے والا دانا بینا ہوجائیں گے اور تصدیق کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن اس دن کی تصدیق معتبر نہ ہوگی لہٰذا اس تکذیب کی وجہ سے (جس پر دنیا میں اصرار کرتے رہے) دوزخ میں جائیں گے۔
(لٰکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (لیکن ظالم آج کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس دنیا میں قبول حق پر راضی نہیں اور ہوش گوش کے باوجود کفر چھوڑنے اور ایمان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں)
Ayah 19:39یوم الحسرۃ کی پریشانی
(وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ ) (اور آپ انھیں حسرت کے دن سے ڈرایئے جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا) (وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لائیں گے) ۔ اس آیت میں قیامت کے دن کو حسرت کا دن بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ انھیں اس دن سے ڈراؤ۔ قیامت کا دن بڑی حسرت کا دن ہوگا، وہاں حاضر ہونے والے طرح طرح سے حسرت کریں گے ان میں سے ایک کی یہ حسرت ہوگی کہ کاش ہم واپس کردیئے جاتے اور تکذیب نہ کرتے (یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیَاتِ رَبِّنَا) اور اپنے بڑوں کے بارے میں کہیں گے کہ اگر ہم واپس ہوجاتے تو ان سے بیزاری ظاہر کردیتے۔ (لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّأَ مِنْھُمْ ) اور یوں بھی کہیں گے اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج دوزخ والوں میں شمار نہ ہوتے (لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ اَصْحَاب السَّعِیْرِ ) حسرتیں تو نہ جانے کتنی ہوں گی حدیث میں اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے ایک خاص حسرت کا تذکرہ فرمایا ہے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا اے جنت والو ! یہ سن کر وہ لوگ سر اٹھا کر دیکھیں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ تم اسے پہچانتے ہو وہ کہیں گے یہ موت ہے اور یہ اس وجہ سے کہ ہر ایک موت کو دیکھ چکا تھا پھر منادی آواز دے گا اے دوزخ والو ! وہ لوگ بھی سر اٹھا کر دیکھیں گے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ کہیں گے کہ ہاں۔ اور ان میں بھی ہر شخص موت کو دیکھ چکا تھا اس کے بعد موت کو سب کے سامنے ذبح کردیا جائے گا (جو مینڈھے کی شکل میں ہوگی) اس کے بعد یہ اعلان ہوگا کہ اے جنت والو ! تمہیں اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اب موت نہیں ہے اے جہنم والو ! تمہیں بھی اس میں ہمیشہ رہنا ہے اور اب موت نہیں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آیت بالا تلاوت فرمائی (وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (بخاری ص 291 ج 2)
سنن ترمذی میں ہے کہ جب موت کو دونوں فریق کی نظروں کے سامنے ذبح کردیا جائے گا تو اہل جنت کی خوشی اور اہل دوزخ کے رنج کا یہ عالم ہوگا کہ اگر کوئی شخص خوشی میں مرتا تو اس وقت جنت والے مرجاتے اور اگر کوئی شخص رنج کی وجہ سے مرتا تو دوزخ والے مرجاتے۔
سنن ابن ماجہ میں یوں ہے کہ موت کو پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا۔ (الترغیب والترہیب ص 544 ج 4)
Ayah 19:40پھر فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَرْثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) بلاشبہ زمین اور زمین پر جو کچھ ہے ہم اس کے وارث ہوں گے یعنی اہل دنیا سب ختم ہوجائیں گے جو مجازی مالک ہیں ان میں سے کسی کی کوئی ملکیت باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے صرف اسی کی ملکیت حقیقیہ باقی رہ جائے گی دنیا والے مر کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے جو کچھ دنیا میں کمایا تھا یہیں چھوڑیں گے اعمال لے کر حاضر ہوں گے اور انھیں پر فیصلے ہوں گے قال صاحب الروح ای یردون الی الجزاء لا الی غیرنا استقلالا او اشتراکا۔ (ص 95 ج 16)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا عقیدہ رکھنے والوں کی تردید
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں یہ جو فرمایا (وَاَوْصَانِیْ بْالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا) اس سے بعض ملحدین یہ استدلال کرتے ہیں کہ ان کی وفات ہوگئی (یہ لوگ آسمان پر اٹھائے جانے اور دنیا میں واپس تشریف لانے کے منکر ہیں) ان جاہلوں کو شیطان نے سمجھایا ہے کہ (مَا دُمْتُ حَیًّا) سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ وفات پا گئے یہ ان لوگوں کی جہالت ہے آیت سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ایسا وقت آئے گا جس میں وہ زکوٰۃ ادا کریں گے جب تک وہ دنیا میں تھے اس وقت تک ان کی مال والی زندگی نہیں تھی جب قیامت کے قریب آسمان سے تشریف لائیں گے اس وقت صاحب مال ہوں گے زکوٰۃ ادا کریں گے۔