19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کہیٰعص

کہیعص۔
Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ یہ تذکرہ ہے آپ کے رب کے مہربانی فرمانے کا اپنے بندے زکریا پر۔
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

اذ نادی ربہ ندآء خفیا۔ جب کہ انہوں نے اپنے رب کو پوشیدہ طور پر پکارا۔ اگر کہیعص سے مراد قرآن یا سورت ہو تو ذِکْرُ رَحْمَتِ ربک خبر ہوگی اور کہیعص مبتدا یا مبتدا محذوف ہے یعنی ہذا ذکر رحمۃ یا ذکر مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے یعنی ذکر رحمۃ ربک یتلی علیک عَبْدُہٗرحمت یا ذکر کا مفعول ہے اور زکَرِیَّا عَبْدَہٗسے بدل ہے۔ نِدَآءً خَفِیًّا یعنی زکریا نے اپنے عبادت خانہ میں پوشیدہ طور پر رات کو اپنے رب کو پکارا پوشیدہ دعا میں اخلاص زیادہ ہوتا ہے ‘ پوشیدہ دعا کرنی سنت ہے دعا کا طریقہ ہی یہ ہے کہ پوشیدہ طور پر کرے۔
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

قال رب انی وہن العظم منی واشتعل الراس شیبا (اور) عرض کیا اے میرے رب میری ہڈیاں (پیری کی وجہ سے) کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل گئی۔ وَہَنَ الْعَظْمُ ہڈی کمزور ہوگئی یعنی میں ضعیف ہوگیا ‘ ہڈیاں سارے بدن کے ستون ہیں ‘ ڈھانچہ ہیں (ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو سارے اعضاء کمزور ہوگئے) ہڈیاں باقی اجزاء بدن سے سخت ہیں جب ہڈیاں کمزور ہوگئیں تو دوسرے اجزاء کا زیادہ کمزور ہوجانا ضروری ہے العظم اسم جنس ہے (کثیر پر بھی جنس کا اطلاق ہوتا ہے یعنی فی نفسہٖ ہڈی کمزور ہوگئی کسی جگہ کی ہو۔ ) وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا یعنی سارا سر سفید ہوگیا۔ سفیدی بالوں میں ایسی پھیل گئی کہ گویا آگ بھڑک اٹھی ‘ حضرت زکریا کی اس وقت عمر کیا تھی اس سلسلہ میں علماء کے اقوال مختلف ہیں عبداللہ بن مبارک نے ساٹھ برس کہا ہے (ابن ابی حاتم) ثوری کے نزدیک ستر برس تھی (عبدالرزاق و ابن ابی حاتم نے ایک سو دس سال بتائی ہے۔ بیوی کی عمر اٹھانوے سال تھی) ۔ ولم اکن بدعآئک ربک شقیا۔ اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہیں رہا ‘ یعنی گزشتہ زندگی میں جب اور جو دعا میں نے تجھ سے کی تو نے قبول فرمائی میری دعا کو قبول کرنا تیرا معمول رہا ہے اس لئے اب بھی مجھے تجھ سے دعا قبول ہونے کی امید ہے کیونکہ قبول دعا کا تو نے مجھے عادی بنا دیا ہے اور کریم اپنے امیدوار کو نامراد نہیں چھوڑتا اس مطلب پر دعاء کی ک کی طرف اضافت۔ اضافت الی المفعول ہوگی۔ یعنی کَ دعاء کا مفعول ہوگا ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ضمیر ک فاعل دعا ہو اور دعا کی اضافت اضافت الی الفاعل ہوگی اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب تو نے مجھے (ایمان کی طرف) دعوت دی میں نے تیری دعوت قبول کی ایمان کو ترک کر کے بدبخت اور نامراد نہ ہوا اب میرے ایمان کی برکت سے میری دعا قبول فرما۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

وانی خفت الموالی من ورآی وکانت امراتی عاقرا فہب لی من لدنک ولیا۔ اور میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بی بی بانجھ ہے سو (اس صورت میں) تو مجھے خاص اپنی عنایت سے ایک میرا وارث
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

یرثنی ویرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیا۔ یعنی بیٹا ایسا مرحمت فرما دے جو میرا (یعنی میرے علم کا) اور یعقوب کے خاندان (کے علم) کا وارث ہوجائے اور اے میرے رب اس کو اپنا پسندیدہ بنانا۔ الْمَوَالِیَ (مولیٰ کی جمع) یعنی چچا کے بیٹے یا وہ لوگ جو میرے بعد میری امت کی درستگی کے متولی ہوں گے اور میرے جانشین بنیں گے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری جانشینی اچھی طرح نہ کریں گے اور امت کے لئے دین کو بگاڑ دیں گے اور میری بیوی بانجھ ہے ناقابل تولید ہے (اور ضرورت ہے صحیح جانشین کی جو میری امت کو درست رکھ سکے) اس لئے تو محض اپنے فضل اور اپنی قدرت سے مجھے بیٹا عنایت فرما جو میرے بعد میرے کاموں کو درست رکھنے کا ذمہ دار اور متولی ہو اور خاندان یعقوب (کے علم و نبوت) کا بھی صحیح متولی ہو ‘ میراث سے مراد مالی میراث نہیں ‘ علم و نبوت مراد ہے۔ انبیاء کے مال کا وارث کوئی نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے اپنی میراث میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ علم کی میراث چھوڑی ہے اس میراث کو جس نے لیا اس نے بڑی میراث پائی (وہ بڑا خوش نصیب ہے) رواہ احمد وابو داؤد و ابن ماجۃ والدارمی من حدیث کثیر بن قیس۔ ترمذی نے راوی کا نام قیس بن کثیر لکھا ہے۔ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ نے جب برشتۂ پدری رسول اللہ ﷺ : کی میراث حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے طلب کی تو صدیق اکبر ؓ نے اسی (حدیث) کی بنا پر حضرت سیدہ کو رسول اللہ ﷺ : کی کوئی میراث نہیں دی۔ اجماع بھی اسی پر منعقد ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ : کا ترکہ میراث میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ بخاری نے صحیح میں حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت عباس ؓ و ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کے ترکہ سے اپنا میراثی حصہ طلب کیا ‘ حضرت ابوبکر نے جواب دیا میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے ‘ ہم میراث نہیں چھوڑتے جو کچھ ہم چھوڑیں گے وہ خیرات (کے طور پر مسلمانوں کا حق) ہوگا۔ یہ بھی بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کی وفات کے بعد امہات المؤمنین نے چاہا کہ رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے اپنی میراث طلب کرنے کے لئے حضرت عثمان ؓ : کو حضرت ابوبکر ؓ کے پاس بھیجیں حضرت عائشہ ؓ نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم میراث نہیں چھوڑتے جو کچھ ہم چھوڑیں گے وہ خیرات ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ مالک بن اوس بن الحدثان نے کہا ‘ میں حضرت عمر ؓ کے پاس گیا ‘ میں آپ کے پاس موجود ہی تھا کہ آپ کے دربان یرفا نے آکر کہا (امیر المؤمنین) کیا حضرت عثمان ؓ حضرت عبدالرحمن ؓ حضرت زبیر ؓ اور حضرت سعد ؓ : کو داخلہ کی اجازت ہے ‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہاں یرفا نے سب حضرات کو بلا لیا پھر یرفا نے آکر کہا حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ : تشریف لائے ہیں ‘ کیا داخل ہونے کی اجازت ہے ‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہاں یہ دونوں بزرگ بھی تشریف لے آئے ‘ حضرت عباس ؓ نے فرمایا المؤمنین میرا اور ان کا تصفیہ کرا دیجئے ‘ حضرت عمر ؓ نے جماعت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا میں آپ لوگوں کو اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ہم میراث نہیں چھوڑیں گے جو کچھ ہم چھوڑیں گے وہ (سب مسلمانوں کے لئے) خیرات ہوگا ‘ پوری جماعت نے کہا بیشک ایسا فرمایا تھا اس کے بعد حضرت عمر : ؓ حضرت علی ؓ اور حضرت عباس ؓ : کی طرف ملتفت ہوئے اور فرمایا کیا آپ دونوں حضرات بھی اس سے واقف ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا (دونوں نے اقرار کیا) الحدیث۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ میرے وارث میراث میں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں اپنی بیبیوں کے خرچ اور کارندوں کی اجرت کے بعد اگر میں کچھ چھوڑ کر جاؤں تو وہ خیرات ہے۔ اس موضوع کی روایات حضرت حذیفہ بن یمان حضرت زبیر بن العوام اور حضرت ابو الدرداء سے بھی آئی ہیں شیعہ اس حدیث کا ہی انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی جامع میں حدیث مذکور حضرت ابو عبداللہ امام جعفر صادق کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا انبیاء نے میراث میں نہ کوئی درہم چھوڑا نہ دینار بلکہ میراث میں اپنی احادیث چھوڑی ہیں۔ الحدیث۔ آیت زیر تفسیر کی رفتار بھی یہی چاہتی ہے کہ یرثنی ویرث من آل یعقوب میں میراث سے مراد مالی میراث نہیں ہے کیونکہ تمام نسل یعقوب کا میراث کا وارث ہونا تو ممکن ہی نہیں تھا ‘ پھر حضرت زکریا نبی برحق تھے آپ کی شان سے بعید تھا کہ اپنے چچا کے بیٹوں کے پاس اپنے مال کے پہنچنے کا ان کو ایسا اندیشہ ہو کہ وہ اس اندیشہ سے بیٹا ہونے کی دعا کریں تاکہ چچا کے بیٹوں کو میراث میں ان کا مال نہ پہنچ جائے۔ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّارضیاً بمعنی مَرْضِیاً یعنی تو اس کو اپنا پسندیدہ بنانا اس کے قول و عمل کو پسند فرمانا یا راضیاً کے معنی میں ہے یعنی تو اس کو ایسا کردینا کہ وہ دکھ سکھ ہر حال میں راضی رہے (تیرا شکوہ نہ کرنے لگے)
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

یزکریا ان نبشرک بغلم اسمہ یحییٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا۔ (اللہ نے فرمایا) اے زکریا ہم تجھے ایک لڑکا (ہونے کی) بشارت دیتے ہیں جس کا نام (ہماری طرف سے) یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام (یا نظیر اور مثل نہیں بنایا ‘ یعنی تیری دعا کے موافق تیرا وارث ایک لڑکا ہوگا جس کا نام (بطور عزت افزائی) ہم نے یحییٰ رکھا ہے ‘ قتادہ اور کلبی نے سمیاً کا ترجمہ ہم نام کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ حضرت یحییٰ سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا گیا ‘ آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ نادر نام رکھنے میں مسمیٰ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ‘ سعید بن جبیر اور عطا نے سمیاً کا ترجمہ شبیہ اور مثل کیا ہے جس طرح آیت ہَلْ تَعْلَم لہ سمیًّا میں سَمَّیاً کا معنی ہے مثل اور مشابہ۔ اس صورت میں برقول بغوی یہ معنی ہوگا کہ یحییٰ سے پہلے کوئی شخص ایسا نہیں ہوا کہ اس نے گناہ بھی نہ کیا ہو اور گناہ کی طرف اس کا میلان بھی نہ ہوا ہو۔ میں کہتا ہوں شاید اس سے یہ مراد ہے کہ بیشتر فضائل اس کے اندر موجود ہوں گے جن میں بعض جزئی فضائل (دوسرے پیغمبروں کے مقابلہ میں) امتیازی ہوں گے جیسے حصور ہونا۔ یہ مراد نہیں ہے کہ یحییٰ بحیثیت مجموعی تمام گزشتہ انبیاء سے افضل ہوں گے ‘ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ( علیہ السلام) حضرت موسیٰ کلیم اللہ ( علیہ السلام) حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) سے پہلے گزر چکے تھے اور حضرت یحییٰ سے افضل تھے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول یہ نقل کیا ہے کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) سے پہلے کسی بانجھ کے ایسا لڑکا پیدا نہیں ہوا ‘ جو حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کی مثل ہوتا۔ (یہ قول بھی محل تامل ہے حضرت اسحاق کی والدہ بھی بانجھ تھیں اور کسی آیت یا حدیث سے حضرت اسحاق سے حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کی برتری ثابت نہیں) ۔ بیضاوی نے لکھا ہے یحییٰ عجمی نام ہے اور اگر عربی ہو تو فعل سے منقول ہوگا جیسے یعیش اور یعمر ‘ بعض نے کہا آپ کی وجہ سے والدہ کے رحم میں زندگی پیدا ہوگئی تھی یا آپ کی دعوت سے دین الٰہی زندہ ہوگیا تھا۔
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

قال رب انی یکون لی غلم وکانت امراتی عاقر وقد بلغت من الکبر عتیا۔ زکریا نے کہا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری تو بیوی بھی بانجھ ہے اور (ادھر) میں بڑھاپے کے انتہائی درجہ کو پہنچ چکا ہوں۔ اَنّٰی یعنی کیسے ہوگا ‘ یہ سوال انکاری نہیں ‘ طلب کیفیت کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچہ کیسے ہوگا ہم دونوں کو جوان کردیا جائے گا یا دونوں بوڑھے ہی رہیں گے اور بچہ ہوجائے گا۔ حضرت زکریا کو بنظر اسباب تعجب ہوا قدرت خدا میں ان کو کوئی کلام نہ تھا۔ عِتِیٌّاصل میں عُتُوٌّ تھا ‘ عُتُوٌّ کا معنی ہے سرکشی اطاعت سے انکار ‘ یہاں مراد ہے کمال پیری ‘ زیادہ بوڑھا آدمی بےقابو ہوجاتا ہے اس کے اعضاء حسب منشاء کام کردینے سے انکار کردیتے ہیں ‘ قتادہ نے کہا ہڈیوں کی لاغری مراد ہے۔ عاتی وہ بوڑھا آدمی جس کی ہڈیاں خشکی کی طرف مائل ہوگئی ہوں سوکھنے لگی ہوں۔ عتا الشیخ اس بوڑھے کی عمر انتہا کو پہنچ گئی۔
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

قال کذلک (اللہ نے یا بشارت دینے والے فرشتے نے) کہا ‘ بات یونہی ہے (جیسی تم نے کہی بنظر اسباب بچہ کی پیدائش عجیب بھی ہے اور بعید بھی) ۔ قال ربک ہو علی ہیں (اور) تیرے رب نے کہا میرے لئے یہ بات آسان ہے۔ مجھے اپنی منشاء کے موافق کرنے میں ظاہری اسباب کی ضرورت نہیں قال کذلککا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ زکریا نے کہا واقعہ یہی ہے جو میں نے عرض کردیا۔ وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا۔ اور اس سے پہلے ہم نے تجھے بھی تو پیدا کیا تھا جبکہ تو کچھ بھی نہ تھا ‘ بالکل معدوم تھا اور معدوم کا معنی ہی کچھ نہ ہونا آیت بتارہی ہے کہ معدوم شئی نہیں (یعنی شے کا اطلاق صرف موجود پر ہوتا ہے معدوم کو شے نہیں کہا جاتا۔ مترجم) ۔
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

قال رب اجعل لی ایۃ زکریا نے کہا ‘ اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے ‘ جس سے میری بیوی کا حاملہ ہونا معلوم ہوجائے۔ قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال اللہ نے (یا فرشتہ نے) کہا تیرے لئے (حمل کی) نشانی یہ ہے کہ تو تین راتیں (اور تین دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکے گا سورة آل عمران میں بھی یہ قصہ آیا ہے وہاں بیان کردیا گیا کہ حضرت زکریا تین دن تین رات کسی آدمی سے بات نہ کرسکے لیکن اللہ کا ذکر کرتے تھے تو زبان رواں ہوجاتی تھی اس لئے مسلسل تین روز ذکر و شکر میں مشغول رہے۔ سویا۔ ایسی حالت میں کہ صحیح سالم ہوگا یعنی کوئی بیماری لاحق نہ ہوگی نہ گونگا پن ہوگا (نہ زبان کا فالج لقوہ۔ مترجم) ۔ مجاہد نے کہا کلام سے روکنے والا کوئی مرض نہ ہوگا۔ بعض علماء نے سویاً کا ترجمہ کیا ہے مسلسل متواتر ‘ اوّل ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی الیہم ان سبحوا بکرۃ و عشیا۔ اس کے بعد زکریا مسجد سے نکل کر قوم کے پاس آئے اور اشاروں سے ان سے کہا کہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔ اَلْمِحْرَابِ (اسم ظرف لڑائی کی جگہ) مراد مسجد کیونکہ مسجد شیطان سے لڑنے کی جگہ ہے صاحب قاموس نے محراب کے متعدد معانی لکھے ہیں ‘ بالاخانہ ‘ گھر کے اندر صدر مقام ‘ مسجد میں امام کے کھڑا ہونے کی جگہ ‘ وہ مقام جہاں بادشاہ تنہائی میں سب سے الگ لوگوں سے دور رہتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے لوگ مسجد کے باہر منتظر تھے کہ زکریا اندر سے دروازہ کھول دیں تو وہ اندر جا کر نماز پڑھیں اچانک زکریا دروازہ کھول کر باہر آگئے ‘ چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا لوگوں نے کیفیت دریافت کی تو آپ نے اشارہ سے ان کو تسبیح و تنزیہ کا حکم دیا ‘ مجاہد نے اَوْحٰیکی تشریح میں کہا کہ زمین پر لکھ دیا سَبِّحُوْا یعنی نماز پڑھو اور اللہ کی پاکی بیان کرو۔
Ayah 19:12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

ییحی اے یحییٰ ‘ پورا کلام اس طرح تھا ‘ زکریا کی بیوی حاملہ ہوگئی ‘ پھر یحییٰ پیدا ہوگئے اور جب مخاطب بنانے کے قابل ہوگئے تو ہم نے کہا اے یحییٰ ‘ محلی نے لکھا ہے جب یحییٰ کی عمر دو سال ہوگئی تو ان سے خطاب کیا گیا۔ خذ الکتاب بقوۃ کتاب کو قوت کے ساتھ پکڑ لے۔ کتاب سے مراد ہے توریت۔ قوت سے مراد کوشش اور توفیق الٰہی سے استعانت۔ واتینہ الحکم صبیا۔ اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم یعنی حکمت اور کتاب کی سمجھ عطا کردی تھی ‘ تین سال کی عمر میں حضرت یحییٰ نے توریت پڑھ لی اور سمجھ لی تھی آیت کے اسی جملہ کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ جس نے قرآن پڑھ لیا وہ اس آیت کے حکم کا مصداق ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ بچے حضرت یحییٰ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تھے تو آپ جواب دیتے تھے ‘ ہم کو اس کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حکم سے مراد نبوت ہے ‘ بچپن میں ہی اللہ نے یحییٰ ( علیہ السلام) کو نبی بنا دیا تھا۔
Ayah 19:13

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے

وحنانا من لدنا وزکوۃ اور (ہم نے دی یحییٰ کو) اپنے پاس سے رحمت اور گناہوں سے طہارت۔ رحمت دینے کا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے۔ (1) یحییٰ ( علیہ السلام) پر اللہ نے رحم کیا ان پر اپنی رحمت نازل کی۔ (2) ان کے دل میں ماں باپ پر رحم کرنے کا جذبہ پیدا کردیا ‘ بعض علماء نے حنان کا ترجمہ ہیبت و وقار یا رزق یا برکت کیا ہے ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے حنان بروزن سحاب ‘ رحمت ‘ رزق ‘ ہیبت ‘ وقار اور دل کی نرمی۔ حنان بمعنی رحیم صفت کا صیغہ حنان سے ہی بنایا گیا ہے اور اللہ کا وصفی نام ہے۔ زکوٰۃ یعنی گناہوں سے پاکدامن رہنا ‘ بعض کے نزدیک طاعت و اخلاص۔ قتادہ و ضحاک کے نزدیک عمل صالح مراد ہے ‘ کلبی نے کہا زکوٰۃ سے مراد ہے محض عطیۂ الٰہی جو حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے والدین کو بصورت یحییٰ ( علیہ السلام) عطا ہوا تھا۔ وکان تقیا۔ اور وہ تھا پرہیزگار ‘ یعنی اطاعت شعار ‘ طاعت گزار ‘ جس نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ۔
Ayah 19:14

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

وبرا بوالدلیہ اور پاک تھا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا اور مہربان تھا۔ ولم یکن جباراً عصیا۔ اور متکبر ‘ رب کا نافرمان نہ تھا ‘ بعض علماء کا قول ہے کہ جبار وہ شخص ہے جو شدت غضب میں مارتا اور قتل کرتا ہو۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت (ہے)

وسلم علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا۔ سَلٰمٌ عَلَیْہِہر دکھ اور اذیت سے اللہ کی طرف سے اس کے لئے سلامتی ہے ‘ یہ جملۂ معترضہ ہے۔ یَوْمَ وُلِدَیعنی پیدائش کے وقت یحییٰ کو شیطان کی دسترس سے محفوظ رکھا گیا ‘ شیطان پیدائش کے وقت جو اثر بچے پر ڈالتا ہے (کچوکا دیتا ہے) یحییٰ کو اس سے بچا لیا گیا یَوْمَ یَمُوْتُاور مرنے کے دن ‘ یعنی عذاب قبر سے بھی اسے محفوظ رکھا گیا ‘ وَیَوْمَ یبعث حیًّا اور قیامت کے دن دوزخ کے عذاب سے اس کو محفوظ کردیا گیا۔ سفیان بن عیینہ نے کہا انسان کے یہ ہی تین عجیب احوال ہوتے ہیں (1) ماں کے پیٹ کو چھوڑ کر باہر اس دنیا میں آتا ہے۔ (2) دنیا سے نکل کر دوسرے عالم میں پہنچتا ہے جہاں اس کو وہ اشخاص ملتے ہیں جو اس دنیا میں اس کو کبھی نظر نہیں آئے۔ (3) زندہ ہو کر میدان حشر میں پہنچے گا اور ایسا میدان اور اجتماع اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا (نہ دنیا میں نہ عالم برزخ میں) ان تینوں حالات و مقامات میں محفوظ رہنے کی خصوصیت اللہ نے یحییٰ کو عطا فرمائی۔ یَوْمَ وُلِدَ اور یَوْمَ یَمُوْت اور یَوْمَ یبعث کا تعلق ظرف مستقر محذوف سے ہے جس سے لفظ عَلَیْہ متعلق ہے۔ ایک شبہ ا ہل کوفہ کہتے ہیں کہ ظرف مستقر کا تعلق صفت کے صیغہ سے ہوتا ہے اور صفت کا صیغہ محذوف ہوتا ہے ‘ یعنی مستقر علیہ یا حاصل علیہ۔ اہل بصرہ کہتے ہیں کہ ظرف مستقر کا تعلق فعل محذوف سے ہوتا ہے یعنی اِسْتَقَرَّ عَلَیْہِ یا حصل علیہ۔ ماضی کے صیغہ سے اگر یوم کا تعلق مانا جائے تو بیشک یَوْمُ وُلِدَکا مطلب ٹھیک ہوجائے گا ‘ یحییٰ پر سلامتی نے قرار پکڑا جس روز وہ پیدا ہوئے۔ لیکن یموت اور یُبْعَثُتو مضارع کے صیغے ہیں جن کا زمانہ ابھی نہیں آیا پھر یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ یحییٰ پر سلامتی نے قرار پکڑا۔ جس روز وہ مریں گے اور جس روز وہ اٹھائے جائیں گے اور کو فیوں کے مسلک پر صفت کا صیغہ محذوف ہوگا جو حال کے معنی میں ہوگا اس صورت میں مستقر علیہ یَوْمَ یَمُوْت اور یوم یبعث کہنا تو صحیح ہوجائے گا لیکن یَوْمَ وُلِدَ کہنا صحیح نہ ہوگا ولد ماضی کا صیغہ ہے اور مستقر بمعنی حال ہے۔ جواب محققین نحو کہتے ہیں کہ ظرف پر عامل معنوی عمل کرتا ہے یعنی صرف مصدری معنی عامل ہوتا ہے کسی زمانہ کا لحاظ نہیں کیا جاتا اسی لئے ہٰذَا زَیْدٌ قَاءِمًا میں حال (یعنی قائما کا عامل معنوی مانا جاتا ہے ‘ کسی خاص زمانہ پر دلالت بالکل نہیں ہوتی اِسْتَقَرَّ (برقول اہل بصہ) اور مُسْتَقَرٌّ (بر قول اہل کوفہ) کو عامل مجازاً قرار دیا جاتا ہے (کیونکہ عامل معنوی کے لئے کوئی لفظ نہیں بنایا گیا) اور بالفرض اگر حقیقت میں حَصَلَفعل یا حاصِلٌ (صیغۂ صفت) کے متعلق ہم مان بھی لیں ‘ تب بھی علیہ کی ظرفیت ‘ زمانیت سے خالی ہوجائے گی ‘ کیونکہ یہ ظرف فعل (حَصَلَ ) یا صیغۂ صفت (حَاصِلٌ) کے قائم مقام ہوگیا ہے اور ہر فعل کی بو اس کے اندر آگئی ہے (لیکن کسی زمانہ کے ساتھ خصوصی اقتران نہیں ہے) ۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

واذکر فی الکتب مریم اور اس کتاب میں مریم کا بھی ذکر کرو۔ الکتاب سے مراد قرآن ہے اور مریم سے مراد قصۂ مریم۔ اذ انتبذت من اہلہا مکانا شرقیا۔ سے علیحدہ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو مشرقی جانب میں تھا (غسل کرنے کے لئے) گئیں
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

فاتخذت من دونہم حجابا جب کہ وہ اپنے گھر والوں پھر ان گھر والوں سے اوٹ کرنے کے لئے انہوں نے پردہ ڈال لیا۔ انْتَبَذَتْالگ ہوگئی ‘ دور ہوگئی ‘ نَبْذٌپھینک دینا ‘ دینے سے کسی چیز کا دور ہوجانا لازم ہے۔ پس انتبذت کا مرادی ترجمہ ہوگیا دور ہوگئی۔ مَکَانًا شَرْقِیًّا مکان کے مشرقی حصہ میں ایک جگہ ‘ چونکہ سردی کا زمانہ اور سرد دن تھا اس لئے حضرت مریم مکان کے شرقی جانب سر میں کنگھا کرنے کے لئے بیٹھیں۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے حیض سے طہارت کا غسل کرنے سب سے الگ کسی جانب چلی گئی تھیں ‘ بعض کا خیال ہے عبادت کیلئے یکسو ہو کر تنہائی میں چلی گئی تھیں۔ حسن نے کہا اسی وجہ سے عیسائی مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے ہیں۔ حِجَاباً حضرت ابن عباس ؓ نے حجاب کا ترجمہ کیا پردہ ‘ بعض نے کہا دیوار کی آڑ میں بیٹھ گئیں ‘ مقاتل نے کہا پہاڑی کے پار چلی گئیں ‘ عکرمہ نے کہا حضرت مریم مسجد میں رہتی تھیں لیکن ایام حیض میں مسجد سے ہٹ کر اپنی خالہ کے گھر چلی جاتی تھیں اور فراغت کے بعد پھر مسجد میں آجاتی تھیں ‘ اتفاقاً ایک روز کپڑے اتارے غسل کررہی تھیں کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ایک خوش رو بےریش و بروت روشن چہرہ گھونگھریالے بالوں والے متناسب القامت نوجوان کے بھیس میں آ کھڑے ہوئے جیسا کہ اللہ نے فرمایا۔ فارسلنا الیہا روحنا فتمچل لہا بشرا سویا۔ پس اس حالت میں ہم نے ان کے پاس اپنے فرشتہ (جبرئیل ( علیہ السلام) کو بھیجا اور وہ ان کے سامنے ایک پورا آدمی بن کر نمودار ہوا ‘ روح سے جبرئیل ( علیہ السلام) مراد ہیں ‘ جبرئیل ( علیہ السلام) ہی کی لائی ہوئی وحی سے دین کی حیات وابستہ ہوتی ہے۔ اللہ نے روح کی اضافت اپنی جانب روح کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے کی (کیونکہ اضافت سے کبھی مضاف کی تعظیم یا توہین مقصود ہوتی ہے ‘ بادشاہ کا خادم کہنے سے خادم کی عظمت اور ولد الحجام کہنے سے ولد کی اہانت کا اظہار ہوتا ہے) ۔ سَوِیًّا یعنی نوجوان امرد کامل الاعضاء مرد۔ بعض علماء کے نزدیک روح سے مراد عیسیٰ (کی روح) ہے جو بشر کی شکل میں آگئی تھی ‘ اوّل تفسیر زیادہ صحیح ہے۔ مریم نے جبرئیل کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا اور ان کو آدمی ہی خیال کیا تو دور سے ہی پکارا اور
Ayah 19:18

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا۔ کہنے لگیں میں تجھ سے اپنے خدا رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا ترس ہے (تو یہاں سے ہٹ جا) ۔ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّاشرط ہے اس کی جزا محذوف ہے یعنی اگر تو تقویٰ والا اور پرہیزگار ہے تو مجھ سے دور رہ مجھ سے تعرض نہ کر تیرے تقویٰ کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ تو بدکاری کی طرف اقدام نہ کرے یا اَعُوْذَ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَجزا مقدم ہے اور کلام کی بناء مبالغہ پر ہے یعنی اگر تو پرہیزگار بھی ہے تب بھی میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اور پرہیزگار نہیں ہے بدکار ہے تب تو اللہ کی پناہ کی خواستگار بدرجۂ اولیٰ ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان نافیہ ہے یعنی تو پرہیزگار نہیں ہے۔
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

قال انما انا رسول ربک لاہب لک علما زکیا۔ (جبرئیل ( علیہ السلام) نے) کہا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں (تیرے رب نے مجھے بھیجا ہے) تاکہ ایک پاک دامن لڑکا تجھے عطا کروں۔ یعنی میں آدمی نہیں ہوں جس سے تو ڈر رہی ہے اور اللہ کی پناہ مانگ رہی ہے ‘ میں فرشتہ ہوں اللہ نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تجھے ایسا فرزند (تیرے کرتے ہیں پھونک مار کر) عطا کروں جو گناہوں سے پاک اور معصوم ہوگا۔ زکی پاک ‘ معصوم یا خیر و صلاح میں ترقی کرنے والا اور ہر دم بھلائی کی طرف چڑھنے والا صوفیاء کا قول ہے جس کے دونوں دن برابر ہوں (یعنی جتنی خیر و صلاح اس کو کل حاصل تھی اتنی ہی آج حاصل ہو ترقی نہ ہوئی ہو) وہ گھاٹے میں ہے۔
Ayah 19:20

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا۔ مریم ( علیہ السلام) نے (تعجب سے) کہا ‘ میرے لڑکا کیسے ہوگا مجھے تو کسی بشر نے نہیں چھوا۔ مس کرنے سے بطور کنایہ نکاح کے بعد جماع کرنا مراد ہے ‘ زنا کے موقع پر مساس کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ میں نے برا کام نہیں کیا میں نے خباثت نہیں کی زنا کی نفی کا اظہار حضرت مریم ( علیہ السلام) نے لَمْ اَکُ بَغِیًّا کہہ کر کردیا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ میں نے کسی انسان سے نہ قربت بالنکاح کی نہ زنا۔ پھر میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

قال کذلک جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا یوں ہی ہوجائے گا ‘ یعنی اللہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کر دے گا۔ قال ربک ہو علی ہیں تیرے رب نے فرمایا ہے کہ وہ (یعنی بغیر باپ کے بچے کا پیدا کرنا) میرے لئے آسان ہے۔ ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امقرا مقضیا۔ ہم ایسا کردیں گے اس لئے کہ یہ ہمارے لئے کچھ دشوار نہیں) اور اس لئے کہ ہم اس کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی اور رحمت بنا دیں اور یہ کام طے شدہ ہے۔ اٰیَۃً لِّلنَّاس یعنی ہماری قدرت کاملہ پر ایمان رکھنے کی نشانی۔ وَرَحْمَۃً یعنی ہم اس کو بندوں کے لئے رحمت بنا دیں گے۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا یعنی ازل میں فیصلۂ خداوندی اس کام کا ہوچکا ہے یا لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے یا امر امقضیا کا یہ مطلب ہے کہ یہ بات ہونی ضروری ہے اس قابل ہے کہ اس کا وقوع ہوجائے۔
Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں

فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا پھر ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا پھر اس (حمل) کو لئے ہوئے کسی دور جگہ میں الگ چلی گئیں۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے یعنی فرشتہ کے قول پر مریم ( علیہ السلام) کو اطمینان ہوگیا اور فرشتے نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دی پھر مریم نے وہ مرتہ پہنا تو وہ حاملہ ہوگئیں بعض کا قول ہے کہ جبرئیل نے کرتے کے گریبان کو چٹکی سے پکڑ کر کھینچا اور پھر گریبان پر پھونک ماری۔ بعض نے کہا کرتے کی آستین پر پھونک مار دی ‘ بعض نے کہا مریم ( علیہ السلام) کے منہ میں پھونک دیا ‘ بعض نے کہا جبرئیل نے دور سے پھونک دیا۔ غرض پھونک سے مریم ( علیہ السلام) حاملہ ہوگئیں اور حمل کو لئے لئے گھر والوں سے دور ایک جگہ پر گوشہ گیر ہوگئیں ‘ حضرت ابن عباس نے کہا وادئ بیت المقدس کے آخری حصہ میں چلی گئیں تاکہ لوگ بدنام نہ کریں ‘ تہمت سے بچنے کے لئے وہ سب سے الگ چلی گئیں۔ مدت حمل کتنی ہوئی بقول بغوی علماء کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف ہیں ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حمل اور ولادت سب کچھ ایک ہی ساعت میں ہوگیا بعض نے کہا دوسری عورتوں کی طرح نو مہینہ کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے کسی نے آٹھ ماہ اور کسی نے چھ ماہ کی مدت بیان کی ہے مقاتل بن سلیمان نے کہا ایک ساعت میں وہ حاملہ ہوئیں دوسری ساعت میں حضرت عیسیٰ : ( علیہ السلام) کی صورت بنی اور تیسری ساعت میں زوال کے بعد حضرت عیسیٰ پیدا ہوگئے۔ اس وقت حضرت مریم ( علیہ السلام) دس سال کی تھیں اور حاملہ ہونے سے پہلے دو بار حیض ہوچکا تھا۔
Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

فاجآء ہا المخاض الی جذع النخلۃ پھر درد زہ ان کو کھجور کے ایک درخت کی طرف لے آیا۔ اَجَاءَ (باب افعال کا ماضی) جَاءَ (ثلاثی مجرد) بہ زیادتی ہمزہ متعدی بنایا گیا ہے لیکن اس کا ترجمہ فقط لانا نہیں بلکہ مجبور کر کے زبردستی لانا ہے یعنی درد ولادت نے اس کو مجبور کیا اور مجبور کر کے اس کو ایک درخت کے تنا کی طرف لے آیا۔ مخاض مصدر ہے۔ مَخَضَتِ الْمَرْأْۃُعورت کے پیٹ کے اندر بچہ نے باہر نکلنے کے لئے حرکت کی ‘ مخاض کی طرف لانے کی نسبت بطور مجاز فی الاسناد ہے یعنی مخاض کے وقت اللہ اس کو لے آیا ‘ یہ مطلب ہے کہ مخاض کے سبب سے وہ آگئی درخت کے پاس۔ الی جذع النخلۃ درخت کے تنا کی طرف مریم آگئیں پردہ کرنے کی غرض سے بھی اور سہارا لینے کی غرض سے بھی ‘ جذع کسی درخت کی رگیں گدھے (تنہ) یہ درخت الگ صحرا میں خشک کھڑا تھا۔ بقول ابن ابی حاتم ابو روق نے بیان کیا کہ مریم ایسے درخت کھجور کے تنہ کے پاس پہنچیں جس کے سر پر کوئی پتہ نہ تھا ‘ مریم ( علیہ السلام) نے اس کو ہلایا تو چوٹی پر شاخیں بھی پتوں کے ساتھ نکل آئیں اور کھجوریں بھی۔ بیضاوی نے لکھا ہے اللہ نے یہ بات حضرت مریم کے دل میں ڈال دی تھی کہ وہ درخت کے پاس جائیں ‘ اللہ کو ایسی نشانیاں دکھانی تھیں جن سے مریم کا خوف جاتا رہے اور کھانے کو کھجوریں بھی مل جائیں عورتوں کے لئے کھجور بڑی اچھی (مرغوب) غذا ہے۔ قالت یالیتنی مت قبل ہذا و کنت نسیاً منسیا۔ (گھبرا کر) کہنے لگیں کاش میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی۔ حضرت مریم کو لوگوں کی شرم تھی قوم والوں کے ملامت کرنے کا خوف تھا ‘ اس لئے انہوں نے تمنائے موت۔ نسیان بھول جانا یا نہ ہونا محفوظ نہ رکھنا خواہ ضعف قوت حافظہ کی وجہ سے ہو یا غفلت کی وجہ سے یا قصداً بالارادہ دل سے فراموش کردیا گیا ہو۔ جس نسیان کی اللہ نے مذمت فرمائی (اور قابل مواخذہ قرار دیا) وہ وہی نسیان ہے جو قصداً بالارادہ ہو (خود اپنے اوپر فراموشی طاری کرلی گئی ہو) اللہ نے فرمایا فَذُوْقُوا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا اور جس نسیان کو قابل قبول عذر قرار دیا وہ بےاختیار نسیان ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کی بھول چوک اٹھا لی گئی (معاف کردی گئی) ہے۔ لیکن اگر نسیان کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد ہوتا ہے کسی چیز کو قابل اہانت قرار دے کر ترک کردینا اللہ نے فرمایا ہے نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمْوہ اللہ کو بالقصد بھول گئے ‘ پس اللہ نے بھی تحقیر کرنے کے لئے ان کو ترک کردیا۔ نسیٌ عربی لغت کے اعتبار سے فراموش شدہ چیز کو کہا جاتا ہے جیسے نقض وہ جس کو توڑا جائے (ریزے) عرف عام میں نسیٌ اس چیز کو کہتے ہی جس کی طرف التفات نہ کی جائے۔ ناقابل التفات چیز ‘ یعنی فراموش کردیئے جانے کے قابل چیز جو التفات و توجہ کے قابل نہ ہو۔ نسئی بالفتح بھی نسئی کا ہم معنی ہے جیسے وتر اور وتر اور جنس اور جنس۔ بعض کے نزدیک بالفتح مصدر ہے بمعنی مفعول۔ آیت میں لغوی معنی مراد ہے لیکن عرفی معنی کا احتمال تھا اس لئے نسیاً کی تاکید منسیاً کے لفظ سے کردی تاکہ عرفی معنی کا احتمال باقی نہ رہے (اب ترجمہ ہوگیا ‘ بھولی بسری) بغوی نے لکھا ہے نسیٌ وہ چیز جو پھینک دی گئی ہو حقیر ہونے کی وجہ سے ذکر کے قابل نہ ہو اور منسیاً کا ترجمہ ہے ترک کردہ ‘ متروک۔ قتادہ نے کہا نسیاً یعنی ایسی چیز جو ذکر نہ کی جائے اور نہ اس کو کوئی جانے ‘ عکرمہ ‘ ضحاک اور مجاہد نے کہا مردار جو پھینک دیا گیا ہو۔ بعض نے کہا کنت نسیاً کا مطلب یہ ہے کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتی۔ ایک شبہ حضرت مریم ( علیہ السلام) نے موت کی تمنا کی حالانکہ کسی دکھ یا مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا جائز نہیں۔ سورة بقرہ کی آیت فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَکی تفسیر میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ ازالہ شبہ شریعت بنی اسرائیل میں تمناء موت کی ممانعت بعد کو ہوئی اور یہ واقعہ پہلے کا تھا ‘ یا بےاختیاری کی حالت میں بلا ارادہ حضرت مریم ( علیہ السلام) کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ‘ یا حضرت مریم ( علیہ السلام) کو اپنے دین کی تباہی کا خیال پیدا ہوگیا اور یہ الفاظ دینی تحفظ کے پیش نظر انہوں نے کہہ دیئے۔ رسوائی کے اندیشے سے انسان کبھی جھوٹ بولتا ہے جس سے اس کی دینی تباہی ہوجاتی ہے۔ سورة بقرہ میں ہم لکھ چکے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے موت کی تمنا جائز ہے ‘ اس میں کوئی گناہ نہیں۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

فنادہا من تحتہا الا تحزنی پس جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کے پائین (مکان) سے ان کو پکارا کہ تو مغموم مت ہو۔ حضرت ابن عباس ‘ ضحاک ‘ سدی اور قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت مریم ایک ٹیلہ پر تھیں اور حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ٹیلے سے پیچھے نشیبی جانب کہ مریم کی بےصبری و بےقراری سن کر جبرئیل نے پکار کر کہا غمگین نہ ہو ‘ مجاہد اور حسن نے کہا جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پیٹ سے باہر آگئے تو انہوں نے پکار کر کہا غمگین نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں تحتہا کی ضمیر مریم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بعض نے کہا نخلہ کی طرف راجع ہے۔ اَلاَّ تَحْزَنِیْیعنی تنہائی اور کھانے پینے کی چیز نہ ہونے اور لوگوں کے ملامت کے خوف سے تو رنجیدہ نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریا۔ تیرے رب نے تیرے پائین سے ایک نہر پیدا کردی ہے۔ سری چھوٹی نہر ‘ طبرانی نے معجم صغیر میں حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے یہی نقل کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ ابو اسحاق کی روایت سے سوائے ابو سنان کے اور کسی نے اس کو مرفوعاً نہیں بیان کیا ابن عدی نے الکامل میں بیان کیا کہ معاویہ بن یحییٰ نے اس روایت کو معلل قرار دیا ہے اور ابن معین و نسائی و ابن المدینی نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ بخاری نے حضرت براء کی روایت سے اس حدیث کو معلق کہا ہے (ابتدائی راوی معلوم نہیں) اور عبدالرزاق و ابن جریر و ابن مردویہ نے اپنی اپنی تفاسیر میں حضرت براء کی روایت کو موقوف کہا ہے ‘ حاکم نے بھی مستدرک میں اس کو نقل کیا ہے اور شرط مسلم کے مطابق صحیح کہا ہے طبرانی نے اور حلیہ میں ابو نعیم نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ اللہ نے سری کو برآمد کردیا (زمین سے نکال دیا) تاکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ پانی پی سکیں۔ اس روایت کے سلسلہ میں ایوب بن نہیک ضعیف راوی ہے۔ ابو زرعہ اور ابو حاتم نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ بعض علماء نے تحتک کا ترجمہ کیا ہے تیرے حکم کے ماتحت یعنی اگر تو حکم دے گی تو چشمہ جاری ہوجائے گا اور رکنے کا حکم دے گی تو رک جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے (ایک روایت میں ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے) زمین پر اپنا پاؤں مارا جس سے شیریں پانی کا چشمہ برآمد ہوگیا اور بہنے لگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں ایک خشک نہر تھیں اللہ نے اس کو جاری کردیا اور خشک درخت تروتازہ ہو کر سرسبز ہوگیا اور ثمردار بن گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سری کا ترجمہ سردار ہے سر و سے مشتق ہے اس سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں۔ حسن بصری نے کہا خدا کی قسم عیسیٰ سری تھے ‘ یعنی عالی قدر سردار تھے۔
Ayah 19:25

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

وہزی الیک بجذع النخلۃ تسقط علیک رطبا جن یا۔ اور اس کھجور کے تنے کو پکڑکر اپنی طرف کو ہلا اس سے تیرے اوپر خرماء تروتازہ جھڑیں گے۔ ہُزِّیْ اِلَیْکَیعنی ہلا اور اپنی طرف جھکا ‘ بجذع میں ب زائد ہے۔ رُطَبًا جَنِّیًاتروتازہ پختہ کھجوریں جو توڑنے کی حد کو پہنچ گئی ہیں۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی

فکلی واشربی وقری عینا پھر اس کو کھا اور پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر۔ یعنی کھجوریں کھا اور نہر کا پانی اور کھجوروں کا عرق پی اور آنکھ ٹھنڈی کر یعنی دل خوش کر۔ قری قرار سے مشتق ہے آنکھ جب کوئی خوش کن منظر دیکھتی ہے تو اس پر ٹھہر جاتی ہے دوسری طرف نہیں ہٹتی۔ قَرَّ اللّٰہُ عَیْنَکَاللہ تیری آنکھ کو قرار دے۔ یعنی آنکھ کو صاف رکھے قرا اللّٰہ فوادک اللہ تیرے دل کو قرار دے ‘ یعنی خوش کرے خوش کن منظر دکھائے کہ دل اس سے دوسری طرف نہ ہٹے اقر اللّٰہ عینہ اللہ نے اس کی آنکھ ٹھہرا دی یعنی سلا دیا۔ یا قر بمعنی خنکی سے ماخوذ ہے خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم کے آنسو گرم اس لئے قرۃ العین (آنکھ کی ٹھنڈک) محبوب کو کہتے ہیں اور سنخۃ العین (آنکھ کی گرمی) ناگوار چیز کو کہتے ہیں۔ فاما ترین من البشر احد فقولی انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا۔ پس اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو اس سے کہہ دینا کہ میں نے آج اللہ کے لئے خاموش رہنے کی نذر مانی ہے اس لئے کسی آدمی سے آج کلام نہیں کروں گی۔ صَوماً یعنی خاموشی مطلب یہ کہ عیسیٰ کا معاملہ ہو یا کچھ اور کسی چیز کے متعلق میں کسی انسان سے کلام نہیں کروں گی ‘ میں نے آج ہر معاملہ میں خاموش رہنے اور آدمیوں سے کلام نہ کرنے کی اللہ کے واسطے نذر مانی ہے۔ سدی نے کہا بنی اسرائیل میں جو لوگ زیادہ مجاہدہ کرتے تھے وہ جس طرح روزہ میں کھانا نہیں کھاتے تھے کلام بھی کسی سے نہیں کرتے تھے شام تک خاموش رہتے تھے۔ بعض علماء نے کہا اللہ نے مریم کو یہ بات اشارہ سے کہنے کا حکم دیا تھا ‘ کیونکہ کلام قولی سے جھگڑا پیدا ہوتا اور حضرت عیسیٰ سے جواب دلوانا تھا ان کا قول ہر طعن وتشنیع کا قاطع تھا۔ بعض لوگوں نے کہا زبان سے صرف اتنی ہی بات کہنے کا اللہ کی طرف سے حکم ہوا تھا اس کے بعد خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَیعنی جب اپنی نذر کی میں نے تم کو اطلاع دے دی تو اس کے بعد کسی آدمی سے بات نہیں کروں گی۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت مریم ملائکہ سے کلام کرتی تھیں۔ انسان سے بات نہیں کرتی تھیں۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا

فاتت بہ قومہا تحملہ پھر اس کو (یعنی عیسیٰ کو گود میں) اٹھائے مریم اپنی قوم والوں کے پاس آئی۔ روایت میں آیا ہے کہ ولادت کے بعد فوراً حضرت عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں کے پاس حضرت مریم آئی تھیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ یوسف نجار نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ کو ایک غار میں لے جا کر رکھا تھا ‘ وہاں آپ چالیس دن تک رہیں جب ایام نفاس ختم ہوگئے تو عیسیٰ کو لے کر نکلیں راستہ میں حضرت عیسیٰ نے کہا اماں تم کو بشارت ہو میں اللہ کا بندہ اور مسیح ہوں ‘ غرض عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں کے پاس پہنچیں۔ وہ لوگ بڑے دیندار اور نیکوکار تھے ‘ مریم کے پاس بچہ کو دیکھ کر اتنے رنجیدہ ہوئے کہ رو پڑے اور قالوا یمریم لقد جئت شیئا فریا۔ کہنے لگے مریم تو نے یہ بہت برا کام کیا۔ فری الجلد کھال کو چیرنا۔ حضرت حسان نے فرمایا تھا لَاَ فْرِیَنَّہُمْمیں ان کی کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا ‘ یعنی سخت ہجا کروں گا۔ قرآن مجید میں بہت جگہ افتراء کا لفظ دروغ تراشی ‘ شرک اور ظلم کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَاس سے بڑا ظالم کون جس نے اللہ پر دروغ تراشی کی۔ وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰی اِثْمًا عَظِیْمًا اور جو شخص کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہے وہ بہت بڑا گناہ تراشتا ہے۔ آدمی کی عصمت اور صلاح میں جب شگاف پڑجاتا ہے تو شرک و معصیت کا اس سے ظہور ہوتا ہے (اس لئے شرک و معصیت کو افترا فرمایا) بعض علماء نے فریا کا ترجمہ عجیب عظیم لکھا ہے ‘ عجیب اور عظیم ترین چیز خارق عادت ہوتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا کلام ہو یا عمل جو بھی فائق اور عجیب ہو اس کو فرئ کہا جاتا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے متعلق فرمایا تھا فَلَمْ اَرٰی عَبْقَرِیًّا یَفْرِیْ فِرْیَہٗمیں نے کوئی کامل حاذق ایسا نہیں دیکھا جو عمر کے عمل کی طرح عجیب تعجب آفریں عمل کرتا ہو۔
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

یاخت ہرون ما کان ابوک امرا سوء وما کانت امک بغیا۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں زانیہ تھی۔ سدی نے کہا اخت ہارون کہنے سے ان کی مراد تھی ‘ حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون ﷺ کی نسل میں سے ہونا۔ تمیم کے قبیلہ کے فرد کو اخو تمیم کہا جاتا ہے۔ حضرت مویم ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی نسل سے تھیں اس لئے ان کو اخت ہارون کہا۔ ابن ابی حاتم نے اس قول کی نسبت علی بن ابی طلحہ کی طرف کی ہے ‘ کلبی نے کہا حضرت مریم کے علاتی بھائی کا نام ہارون تھا بنی اسرائیل میں وہ بہت ہی بزرگ اور نیک آدمی تھا۔ بغوی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے لکھا ہے مغیرہ کا بیان ہے جب میں نجران میں پہنچا تو اہل نجران نے مجھ سے کہا تم (قرآن میں) یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ کا زمانہ عیسیٰ سے اتنا اتنا (یعنی بہت مدت) پہلے تھا (پھر مریم ہارون کی بہن کیسے ہوئیں) میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے دریافت کی حضور ﷺ نے فرمایا وہ لوگ اپنے انبیاء اور گزشتہ نیک لوگوں کے ناموں پر اپنے نام رکھتے تھے (یعنی ہارون سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بھائی نہیں ہیں بلکہ ان کا ہم نام کوئی اور شخص تھا جس کو مریم کا بھائی کہا گیا ہے) رواہ مسلم۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ قتادہ وغیرہ نے کہا بنی اسرائیل میں ایک بڑا نیک عبادت گزار آدمی تھا روایت میں آیا ہے کہ جب وہ مرا تو اس کے جنازہ میں علاوہ دوسرے لوگوں کے چوبیس ہزار آدمی ہارون کے نام کے شریک ہوئے اس مرد صالح کا نام ہارون تھا ‘ حضرت مریم بھی بڑی عبادت گزار تھیں نیکی اور عبادت کی وجہ سے ان لوگوں نے مریم کو ہارون کی بہن کہہ دیا ‘ نسبی بہن مراد نہیں ہے جس طرح اللہ نے اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَان الشَّیَاطِیْنِفرمایا ہے اور فضول مال برباد کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے یعنی شیطانوں کی طرح۔ کذا اخرج عبدالرزاق و عبد بن حمید عن قتادۃ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور مزاج اور استہزاء کے حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ سابقہ عبادت اور نیکی کو دیکھ کر ایسا کہہ دیا ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا بدچلن آدمی تھا جس کا نام ہارون تھا ‘ حضرت مریم کو گالی دینے کے لئے ہارون کی بہن کہا کذا اخرج ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر۔ حضرت مریم کے باپ کا نام عمران تھا مَا کَان ابوک۔۔ پور اجملہ توبخیہ اور زجریہ ہے کیونکہ نیک لوگوں کی اولاد سے بدکاری کا صدور بہت زیادہ برا ہوتا ہے۔
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں

فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المہد صبیا مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا (کہ اس سے بات کرو) لوگوں نے کہا پالنے کے بچہ سے ہم کیسے بات کریں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا حضرت مریم ( علیہ السلام) کے پاس (بن باپ کے بچہ ہونے کی) کوئی دلیل نہیں تھی اس لئے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تاکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا کلام ان کی صداقت کی دلیل بن جائے۔ روایت میں آیا ہے کہ مریم نے جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو تو لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے ایک تو تو نے جرم کیا پھر ہم سے مذاق بھی کر رہی ہے۔ مَنْ کَان میں کا نزائد ہے جیسے ہَلْ کُنْتُ الاَّ بَشَرًا رَّسُوْلاً میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کان تامہ ہو یا دوام کے لئے ہو۔ مَہَدْسے مراد ہے ماں کی گود۔ یا گہوارہ۔ مراد یہ تھی کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی عاقل کسی شیرخوار گہوارہ میں رہنے والے بچہ سے باتیں کرتا ہو۔ فی المہد کہنے سے ناسمجھ بچہ جو بات نہیں کرسکتا۔ سدی نے کہا جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کا کلام سنا تو دودھ پینا چھوڑ دیا اور قوم کی طرف رخ کر کے بول اٹھے ‘ بعض روایات میں آیا ہے کہ جونہی حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا آپ نے فوراً منہ پستان سے ہٹا لیا اور بائیں طرف کو ذرا سہارا لے کر قوم کی طرف متوجہ ہو کر دائیں ہاتھ سے اشارہ کیا .
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

قال انی عبداللہ اتنی الکتب کہا بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے۔ عبداللہ کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ میں بارگاہِ الٰہی میں معزز ہوں اس کا خاص بندہ ہوں اور چونکہ قوم منکر تھی اس لئے آپ نے پر زور طریقہ سے اپنی عبدیت کا اظہار کیا۔ وہب نے کہا جب حضرت مریم کی قوم سے گفتگو ہو رہی تھی تو حضرت زکریا ( علیہ السلام) آگئے اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا اگر تجھے حکم دیا گیا ہے تو خود اپنی دلیل بیان کر اور بول اس پر حضرت عیسیٰ بول اٹھے اس وقت آپ چالیس دن کے تھے۔ مقاتل نے کہا پیدا ہوتے ہی آپ نے اپنی عبدیت کا اظہار کیا تھا اور سب سے پہلے یہی کلام کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو الٰہ نہ سمجھنے لگیں۔ الکتاب سے حسن کے نزدیک توریت مراد ہے آپ ماں کے پیٹ ہی میں تھے کہ اللہ نے آپ کے دل میں توریت القاء کردی تھی ‘ اکثر علماء قائل ہیں کہ انجیل مراد ہے بچپن میں ہی آپ کو انجیل عطا کردی گئی تھی جب کہ آپ مردانہ عقل کی حد تک پہنچے بھی نہ تھے ‘ بعض علماء کے نزدیک ماضی بمعنی مستقبل ہے ‘ یعنی اللہ مجھے کتاب عطا فرمائے گا۔ وجعلنی نبیا۔ اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے ‘ یعنی یقیناً آئندہ وہ مجھے نبی بنائے گا۔ بعض علماء نے کہا ‘ حضرت عیسیٰ نے تحریر لوح محفوظ کی اطلاع دی تھی (یعنی میں لوح محفوظ کی تحریر کے بموجب نبی بنایا جا چکا ہوں) جیسے رسول اللہ ﷺ سے جب دریافت کیا گیا کہ آپ نبی کب ہوئے تو آپ نے فرمایا میں اس وقت نبی تھا جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے (یعنی مٹی اور پانی سے آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کا خمیر ہی بنا تھا ‘ روح پڑی بھی نہ تھی) رواہ ابن سعد وابو نعیم فی الحلیۃ عن میسرۃ بن سعد عن ابی الجدعاء والطبرانی عن ابن عباس۔
Ayah 19:31

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے

وجعلنی مبارکا این ما کنت اور اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے میں جہاں بھی ہوں۔ یعنی آسمان میں ہوں یا زمین میں اللہ نے مجھے نفع رساں بنایا ہے۔ اس جملہ میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نفع رسانی ثابت ہو رہی ہے۔ زمین میں انسانوں کو اور آسمان میں ملائکہ کو لفظ برکت کا معنی یا ثبات خیر ہے اس پر یہ بَرَکَ الْبَعِیْر (اونٹ بیٹھ گیا) کے محاورہ سے ماخوذ ہوگا۔ یا زیادتی عطا برکت کا معنی ہے ‘ دعا میں کہا جاتا ہے اللّٰہُمَّ بَارِکْ فِیْ عَطَاءِکَاے اللہ ! اپنی عطا میں زیادتی عطا فرما ‘ یا اس کا معنی ہے عظمت و بزرگی ‘ جیسے بولتے ہیں یہ فلاں شخص کی برکت سے ہے اس جگہ مبارکًا سے بعض علماء کے نزدیک نفع رساں مراد ہے ‘ مجاہد نے کہا معلم خیر ہونا مراد ہے ‘ عطا نے کہا اللہ کی توحید و عبادت کی طرف بلانے والا ‘ بعض نے کہا مجھے اللہ نے ان لوگوں کے لئے جو میری پیروی کریں مبارک بنایا ہے۔ واوصینی بالصلوۃ والزکوۃ ما دمت حیا۔ اور زندگی بھر اس نے مجھے نماز (پڑھنے) اور زکوٰۃ (دینے) کا حکم دیا ہے۔ زکوٰۃ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے عائد کردہ فرائض مالیہ کو ادا کرنا اور نفس کو بری خصلتوں سے پاک کرلینا۔ بغوی نے لکھا ہے شبہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس کبھی مال تھا ہی نہیں پھر ان کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم کیا معنی رکھتا ہے اس کے جواب میں بعض لوگوں نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو زکوٰۃ ادا کرنے کا اس نے مجھے حکم دیا ہے ‘ بعض نے کہا زکوٰۃ سے مراد اس جگہ مالی زکوٰۃ نہیں بلکہ بکثرت بھلائی کرنا مراد ہے ‘ بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دوں۔ مَا دُمْتُ حَیًّا (یعنی جب تک میں زندہ رہوں نماز اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں)
Ayah 19:32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا

وبرا بوالدنی اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے یا یہ ترجمہ ہے کہ اس نے مجھے والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اوّل ترجمہ پر بمعنی بارٌّ (اسم فاعل) ہوگا اور دوسرے ترجمہ پر مصدر۔ ولم یجعلنی جباراً شقیا۔ اور اس نے مجھ کو سرکش بدبخت نہیں بنایا۔ جبار ‘ سرکش ‘ مغرور۔ شقی اللہ کا نافرمان یا وہ شخص جو گناہ کرے اور توبہ نہ کرے۔
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے

والسلم علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا اور مجھ پر (اللہ کی طرف سے) سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز مروں گا اور جس روز زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ السلام سلامتی ‘ حفاظت ‘ پیدائش کے وقت شیطان کے کچوکا دینے سے اور مرنے کے بعد عذاب قبر سے اور قیامت کے دن ہول قیامت اور عذاب دوزخ سے یا السلام سے مراد ہے اللہ کی طرف سے تحیت و رحمت ہر تغیر حالت کے وقت (یعنی پیدائش پھر موت پھر قیامت کے دن دوسری زندگی یہ تینوں انقلابی حالات ہیں ان میں سے ہر حالت کے وقت مجھ پر اللہ کی رحمت ہے) ۔ اَلسَّلاَمُ عَلَیَّکہنے میں درپردہ دشمنوں پر لعنت ہے جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے اور اپنے مؤمن ساتھیوں کے لئے سلامتی کا اعلان کردیا تو لامحالہ دشمنوں پر لعنت ہونے کی طرف درپردہ اشارہ کردیا ‘ جیسے اللہ نے جب والسَّلاَمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی فرمایا تو درپردہ اس امر پر تعریض ہوگئی کہ جو سیدھے راستہ پر نہ چلیں اور ہدایت سے روگرداں ہوں اور تکذیب کریں ان کے لئے عذاب ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت عیسیٰ کے اس کلام کے بعد سب لوگ سمجھ گئے کہ مریم گناہ سے پاک ہیں اس کے بعد عیسیٰ خاموش ہوگئے اور اس عمر تک کوئی بات نہیں کی جس عمر تک معمولاً بچے بات نہیں کرتے۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

ذلک عیسیٰ ابن مریم یہ ہیں عیسیٰ مریم کے بیٹے ذٰلِکَیعنی یہ جس کا ذکر اوپر کے بیان میں کیا گیا اور جو پیدائشی ‘ طور پر اپنی بندگی اور عبدیت کا معترف تھا ‘ عیسیٰ تھا مریم کا بیٹا ‘ وہ ایسا نہیں تھا جیسا عیسائی اس کو کہتے ہیں وہ نہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔ اس مختصر جملہ میں نصاریٰ کے عقائد کی پُر زور تردید ہے اور برہانی طور پر عقیدۂ نصاریٰ کے غلط ہونے کا اظہار ہے۔ قول الحق الذی فیہ یمترون۔ ہم نے وہ صحیح بات کہہ دی جس کے متعلق لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور باہم جھگڑے کرتے ہیں۔ یہودی عیسیٰ : ( علیہ السلام) کو جھوٹا جادوگر کہتے ہیں اور عیسائی خدا یا خدا کا بیٹا۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

ما کان للہ ان یتخذ من ولد سبحنہ اللہ کے لئے کسی طرح زیبا نہیں کہ وہ اپنے لئے کوئی اولاد اختیار کرے ‘ اس کی ذات پاک ہے۔ اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون۔ وہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو فرما دیتا ہے ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے یعنی جب اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے (قضا سے مراد ارادہ ہے) تو کُن (ہو جا) کہتا ہے وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے۔ عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنا بھی اسی طرح ہوا ‘ پس جو خدا ایسا (قادر مطلق) ہے وہ یقیناً مشابہت خلق سے پاک ہے اس کو حاجت نہیں کہ عورتوں کو حاملہ کر کے اپنی اولاد پیدا کرے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

وان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ اور (عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ) اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پس اس کی عبادت کرو۔ اِنَّ اللّٰہ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْکہنے سے عقیدہ کو درست کرنے اور قوت نظریہ کا کمال حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور قوت عملیہ کا کمال حاصل کرنے کی طرف بھی کہ عملی ممنوعات سے پرہیز رکھو اور مامورات کو ادا کرو یعنی اللہ کے احکام کے پابند ہوجاؤ۔ ہذا صراط مستقیم۔ یہ سیدھا راستہ ہے یعنی عقیدہ اور عمل دونوں کو درست کرلینا سیدھا راستہ ہے جس کے صحیح ہونے کی اللہ کی طرف سے شہادت دی گئی ہے۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

فاختلف الاحزاب من بینہم سو پھر بھی مختلف گروہوں نے (اس کے بارے میں) باہم اختلاف ڈال دیا۔ اَلْاَحْزَابُسے مراد ہیں یہودی اور عیسائی یا نصاریٰ کے تینوں فرقے ‘ عیسائیوں کے تین (بڑے) فرقے ہوگئے (1) نسطوریہ فرقہ کہتا تھا کہ عیسیٰ ابن اللہ تھے۔ (2) یعقوبیہ فرقہ قائل تھا کہ عیسیٰ بعینہٖ خدا تھے خدا زمین پر اتر آیا تھا پھر آسمان پر چڑھ گیا۔ (3) ملکائیہ فرقہ کہتا تھا کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ مِنْ بَیْنَہِمْمیں مِن زائد ہے یعنی عیسیٰ کے صحابیوں کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہوگیا یا عیسیٰ کی قوت کے متعلق اختلاف ہوگیا۔ فویل للذین کفروا من مشہد یوم عظیم۔ سو ان کافروں کے لئے ایک بڑے دن کے آنے سے بڑی خرابی ہونے والی ہے۔ وَیْلٌ اصل میں مصدر تھا بمعنی ہلاک۔ یہ جملہ فعلیہ کے قائم مقام ہے اور مبتدا ہونے کی حیثیت سے مبتدا ہے جملہ فعلیہ کی جگہ جملہ اسمیہ کو دینے کی غرض یہ ہے کہ فعل کا دوام اور استمرار ظاہر ہو (کسی زمانہ سے (اقتران) باقی نہ رہے) یَوْمٍ عَظِیْمٍیعنی روز قیامت ‘ مشہدبمعنی مصدر ہے ‘ یعنی جس روز کہ جزاء و سزا اور حساب سامنے حاضر ہوگا یا مشہد ظرف زمان ہے یعنی وقت شہود یا ظرف مکان ہے ‘ یعنی مقام شہود یا مشہد بمعنی شہادت ہے یعنی جس روز کہ ملائکہ اور ان کے انبیاء اور ہاتھ پاؤں اور بدن کی کھالیں ان کے کافر اور فاسق ہونے کی شہادت دیں گی۔