Ayahs 19:1–4ترکیب : ذکر مرفوع بانہ خبر مبتدء محذوف ای ہذا ثم الخبر مضاف الیٰ رحمت وھی الٰی ربک۔ عبدہ منصوب بانہ مفعول رحمۃ وقیل مفعول لذکرا ذ نادی ظرف زمان للرحمۃ اے رحمۃ اللہ ایاہ وقت ان ناداہ۔ قال رب الخ الجملۃ مفسرۃ لقولہ نادی والوھن الضعف یقال وہن یہن وہنامن باب وعدیعد ولایتعدی فی لغۃ۔ اشتعل الراس الاشتعال انتشار شعاع النار فشبہ بہ انتشار بیاض شعرالراس بجامع البیاض ثم اخرجہ مخرج الاستعارۃ بالکنایۃ بان حذف المشبہ بہ واداۃ التشبیہ شقیا اے خائبا من الاجابۃ۔ خفت بصیغہ المتکلم وقری بکسر التاء وفاعلہ الموالی اے قلودما توالمراد بالموالی جمع المولیٰ ھنا الاقارب یرثنی و یرث بالرفع الفعلین علی انھما صفتان للولی و قریٔ بالجزم علی انھما للدعا سمیا فعیل بمعنی المفعول قال اکثر المفسرین لم تسم احدا قبلہ یحییٰ و قال ابن عباس و مجاہد و جماعۃ معنالم نجعل لہ نظیر اولا مثلا من المساماۃ اوالسموو قیل معناہ لم تلد
تفسیر : اس سورة میں بھی چند بزرگوں کے تذکرے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی رحمت وقدرت کا کامل اظہار ہوتا ہے اور مقصود ان تذکروں سے یہ ہے کہ خدا پرستوں پر ہمیشہ دنیا و آخرت میں اس کی مہربانی اور عنایت ہوا کرتی ہے وہ اپنے مخلصین کی ہر موقع پر دستگیری کیا کرتا ہے اسی پر توکل چاہیے۔ پہلا تذکرہ حضرت زکریا پیغمبر (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت شہر یروسلم کے باشندے بنی اسرائیل میں ہیکل یعنی بیت المقدس کے ایک کاہن یعنی امام تھے، منجملہ اور کاہنوں کے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ یہود کی سلطنت قائم نہ رہی تھی۔ شاہان روم ان پر حکومت کرتے تھے اور ان کا ایک نائب یا گورنر یہاں رہا کرتا تھا جن کو ہیرودیس کہا کرتے تھے۔ یہ نام ان کا خاندانی نام تھا اور ہیرودیس یہود میں سے نہیں بلکہ غیر تھا۔ بیت المقدس کئی بربادیوں کے بعد حال میں ازسرنو بطرز سابق تعمیر ہوا تھا اس میں متعدد کمرے اور کئی درجے تھے اور دو منزلہ مکانات بھی تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کی بیوی الیسبات جو حضرت مریم کی خالہ تھیں بانجھ تھیں۔ زکریا کو اولاد نہ ہونے سے بعد میں اقارب کا کھٹکا تھا کہ ان سے سرانجام ملت نہ ہو سکے گا۔
Ayahs 19:5–61 ؎ یعنی ایسا کوئی جانشین فرزند عطا کر کہ میرے بعد انتظام ملت و قوم کرے کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد میرے اقارب جو اس مسند امامت پر بیٹھیں گے قوم و ملت کو برباد نہ کردیں کس لیے کہ حضرت زکریا ( علیہ السلام) کو ان کے آثار اچھے نہ دکھائی دیتے تھے۔
Ayah 19:73 ؎ بنی اسرائیل میں اس نام کا ان سے پہلے کوئی نہیں گزرا بعض مفسرین کہتے ہیں سمی بمعنی مثل ہے یعنی اس صفت کا کوئی نہیں گزرا گو ان سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہ بنی اسرائیل میں بڑے بلند مرتبہ رسول ہو گزرے ہیں مگر ان میں ایک وصف خاص تھا اور ہر گلے رارانگ و بوے دیگر است۔ یعنی بڑا لائق فرزند عطا کریں گے۔ 12 منہ
بڑھاپے میں انسان کی وہ حالت نہیں رہتی جو جوانی میں ہوتی ہے قد بھی کبڑا ہوجاتا ہے، ہاتھ پائوں بھی سکڑ جاتے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 19:84 ؎ عتیا مشتق ہے عتوی سے معناہ از حد درگذشتن وبہ پیری رسیدن۔ حقانی
Ayahs 19:9–104 ؎ بعض مفسرین کہتے ہیں زکریا کا قول ہے جو بشارت فرزند سن کر تعجب سے یہ پوچھا کہ کیا ایسا ہوگا۔ 12 منہ
Ayah 19:116 ؎ ان کی زبان بند ہوگئی تھی اشارہ سے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتا تم خود حسب دستور صبح و شام اپنی نماز پڑھ لو۔ وہ نمازیں بنی اسرائیل میں زیادہ مؤکد تھیں اور ان کی نماز تسبیح و تقدیس تھی۔ 12 منہ
عاقر مثلہ قبلہ۔ 12 منہ۔
Ayah 19:121 ؎ توریت۔ 12 منہ
Ayah 19:13ترکیب : وحنانا معطوف علی الحکم مشتق من الحنان محففا الرحمۃ والرقۃ ومشددامن صفات اللہ عزوجل۔ وزکوۃ معطوف علی ماقبلہ والزکوۃ التطھیر والتزکیۃ والتمنیۃ ای جلعناہ مطھرۃ وقیل زکنیاہ بحسن الثناء علیہ کتزکیۃ الشہود وقیل صدقۃ تصدقنا بھا علی ابویہ سلام علیہ قال ابن جریر معناہ امان علیہ من اللہ وقال ابن عطیۃ التحیۃ المتعارفۃ۔ مکاناشرقیا ای من جانب الشرق والنصب علی الظرفیۃ او مفعول بہ علیٰ ان معنی انتبذت اتت مکاناومن اجل ذالک اتخذت النصاری المشرق قبلۃ والبغی ہی الزانیۃ التی تبغی الرجال قال المبرد اصلہ بغوی علی فعول وقال ابن جنی فعیل ولماکان الغبارغالباً فی النساء دون الرجال اجری مجری حائض وحائل لنجعلہ متعلق بمحذوف ای خلقنا ورحمتہ معطوفت علی آیۃ وکان اسمہ محذوف اے خلقہ امرا مقیضا خبر کان۔ 12
تفسیر : آخر ایک روز عین نماز میں دل بھر آیا۔ اللہ سے مناجات و دعا کی (ندا خفیا) کہ اے رب ! میں کبھی تجھ سے سوال کر کے محروم نہیں رہا ہوں میں تجھ سے اب التجا کرتا ہوں کہ مجھے ایک پسندیدہ فرزند عطا کر کہ امانت میں میرا وارث ہو اور اسرائیل کی نسل کا بھی وارث ہو ‘ نبوت اور بزرگی اور برکت میں بھی جو اسرائیل سے وعدہ کی گئی تھی کہ تیری نسل میں برکت دوں گا۔ فرشتہ نے خدا کی طرف سے زکریا کو مژدہ دیا کہ تیری دعا قبول ہوئی تجھ کو ایک فرزند نیک ملے گا جس کا نام یحییٰ (یوحنا) ہوگا اور اس سے پہلے اس کا نام کا کوئی نہیں ہوا ہے۔ زکریا ( علیہ السلام) کو مژدہ سن کر اپنی پیرانہ سالی اور بیوی کے بانجھ ہونے کا خیال کر کے تعجب ہوا۔ فرشتہ نے کہا کیا تعجب ہے خدا نے انسان کو معدوم سے موجود کردیا بغیر اسباب کے پیدا کرسکتا ہے اور اسباب بھی پیدا کرسکتا۔ پھر جب زکریا ( علیہ السلام) کا اطمینان ہوگیا تو فرشتہ سے اس کی علامت پوچھی۔ فرشتہ نے کہا جب وقت آئے گا تو خودبخود تین رات دن تک تیری زبان بند ہوجائے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ زکریا کچھ بات نہ کرسکتے تھے۔ امامت کے روز لوگ حسب دستور منتظر تھے کہ زکریا ( علیہ السلام) محراب یعنی اپنی خاص عبادت گاہ سے باہر آ کر نماز پڑھائیں ان کے دستور کے موافق پس باہر نکل کر لوگوں سے اشارہ کر کے کہا کہ تم بطور خود صبح و شام خدا کی حمدوثناء کرو۔ اس علامت کے چند عرصہ بعد یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ یہ لڑکپن ہی میں وعظ و تلقین کیا کرتے تھے اور بچوں کی طرح کھیل کود میں کبھی مصروف نہیں ہوئے۔ تورات پر عمل کرنے کا ان کو حکم ہوا تھا اس بات کو خذ الکتاب بقوۃ سے تعبیر کیا یعنی مضبوطی سے کتاب یعنی توریت کو پکڑ کر اس پر عمل کر اور ممکن ہے کہ ان کو کوئی خاص صحیفہ عطا ہوا ہو جو مصائب میں گم ہوگیا اور آپ کو لڑکپن ہی میں حکم یعنی حکمت اور فہم و دانائی اور حنان یعنی نرم دلی اور محبت اور دل دردمند اور زکوٰۃ یعنی طہارت ظاہری و باطنی و عطا کی گئی تھی۔
Ayah 19:14ترکیب : فاجاء یقال جاء واجاء لغتان بمعنی واحد ای الجاہا واضطرھا المخاض مصدر وھو وجع الولادۃ عندالجمھور بفتح المیم وقری بکسر ھامن تحتھا بفتح المیم وکسرھا والضمیر المونث اجعۃ ای مریم وقیل ای افتحلۃ ان لاتحزنی تفسیر للنداء سر یا السرے النھر الصغیر والجدول لان الماء یسری فیہ والجمیع سریان والسری الرئیس والجمع سراۃ وھزالھزالتحریک یقال ھزہ فانھنر تساقط اصلہ تتساقط مجزوم بانہ جواب امر۔ ترین اصلہ ترائین مثل تسمعین فریاعجیبا نادر۔ 12
تفسیر : یہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے چند اوصاف حمیدہ بیان فرمائے تاکہ وعدہ الٰہی کہ اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام یا مثل نہیں پیدا ہوا ‘ صادق آئے اور وہ اوصاف یہ ہیں جو ان کو لڑکپن ہی میں دیے گئے تھے۔ باحکمت تھے ‘ نہایت مہربان ‘ رقیق القلب تھے۔ ظاہر و باطن میں پاک اور بابرکت تھے ‘ نہایت پرہیزگار خدا ترس تھے، ماں باپ کے فرمانبردار تھے، جباروسرکش نہ تھے۔ ان خوبیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کی نسبت فرماتا ہے وسلام علیہ کہ ہمارا سلام یا سلامتی اور رحمت ہو ان پر پیدا ہونے اور مرنے اور مر کے جینے کے دن یعنی سخت اوقات میں۔ یہ ایک محاورہ جیسا ہماری زبان میں کہتے ہیں مرحبا ہے اس کے پیدا ہونے پر یا مبارک ہے اس کا پیدا ہونا۔ ان حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کو اس وقت کے ہیرودس نے ایک عورت کے کہنے سے ناحق قتل کیا۔ ان کا سرقلم ہو کر طشت میں لگا کر بادشاہ مذکور کے سامنے لایا گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی وعظ و نصیحت کرتے پھرتے تھے۔
دوسرا تذکرہ حضرت مریم کا ہے۔ اس قصہ کی ابتداء یہاں نہیں بیان کی بلکہ ان آیات میں ہے اذقالت امرۃ عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررا بنی اسرائیل میں سے ایک شخص عمران نامی تھا (یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں بلکہ اور شخص تھے) اس کی بیوی حنہ بڑی نیک بیوی تھی جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھی اس نے خدا تعالیٰ سے نذرمانی تھی کہ الٰہی یہ جو مجھے حمل رہا ہے اس سے لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ یہود میں ایسی نذروں کا قدیم دستور تھا چناچہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد سے ذرا پیشتر سموئیل (علیہ السلام) کو بھی ان کی ماں نے خدا کے لیے نذر مانا تھا اور اسی لیے عبادت خانہ میں چڑھا گئیں لیکن عمران کی بیوی نے لڑکی جنی یعنی مریم جس پر ان کو افسوس ہوا کہ لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا کیونکہ جن کو خدا کے لیے نذر مانا کرتے تھے ان کو بیت المقدس میں لا کر چھوڑ جاتے تھے وہیں ان کی پرورش ہوتی تھی اور وہ عمر بھر وہیں خدمت کیا کرتے تھے لڑکی کیا کرے گی لیکن حضرت مریم [ کو بھی ان کی ماں بیت المقدس میں چھوڑ گئیں۔ ان کے خالو زکریا (علیہ السلام) جو بیت المقدس کے امام تھے ان کی پرورش کے لیے مقرر ہوئے۔ زکریا (علیہ السلام) نے مریم کے لیے بیت المقدس کے مکانات میں سے ایک جدامکان تجویز کردیا اور یہی ان کے پاس کھانا پانی پہنچایا کرتے تھے۔ چناچہ ایک بار جو یہ ان کے پاس گئے تو ان کے پاس بےموسم کے پھل دیکھے۔ تعجب سے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے۔ مریم نے کہا اللہ نے بھیجے ہے۔ اس سے زکریا کو اور بھی امید ہوئی اور خدا تعالیٰ سے لڑکے کا سوال کیا جس پر حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے جن کا قصہ گزرا۔
Ayahs 19:15–202 ؎ یعنی اس کی ولادت اور موت اور باررگر زندگی ہر حالت مبارک۔ 12 منہ
Ayahs 19:21–231 ؎ یعنی مریم کو بغیر باپ کے بچہ دینے میں اظہار قدرت کاملہ اور لوگوں پر رحمت مقصود تھی رحمت اس لیے کہ ماں ہی کا اثر مولود میں ظاہر ہو اور عورت کی ذات میں قدرت نے نرمی اور شفقت رکھی ہے حضرت موسیٰ کے جلال کے بعد جن کے عہد میں بنی اسرائیل پر سخت سخت احکام فرض ہوئے ایک ایسا ہی رحم دل اور نرم نبی مبعوث کرنا عین حکمت تھا تاکہ بنی اسرائیل کو ان سخت احکام سے سبکدوش کرے۔ 12 منہ
Ayahs 19:24–252 ؎ یعنی پانی اور کھانے کا سامان خدا نے غیب سے پیدا کردیا۔ 12
1 ؎ من تحتہا کے معنی بعض نے یہ بیان کئے ہیں کہ مسیح نے ان کے نیچے سے آواز دی تھی مگر صحیح مطلب آیت کا یہ ہے کہ مریم جو بوقت ولادت لیٹی ہوئی تھیں ان کے پائوں کی طرف سے کہ جس کو تخت یا نیچے کی جانب کہتے ہیں جس طرح سرہانے کو بالیں یا اوپر کی جانب کو کہتے ہیں فرشتہ نے آواز دی۔ 12 منہ۔
Ayahs 19:26–272 ؎ اس عہد میں روزہ میں بات نہ کرتے تھے۔
Ayah 19:281 ؎ ہارون سے حضرت ہارون موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی مراد نہیں کیونکہ مریم میں اور ان میں سینکڑوں برسوں کا فاصلہ ہے۔ یہ ان کی بہن نہیں ہوسکتی بلکہ ان کے نام پر کوئی دوسرا ہارون تھا جو مریم کا رشتہ کا بھائی تھا جس کی نیک بختی بنی اسرائیل میں مشہور تھی یعنی تم ایسے شریف اور نیک خاندان کی ہو کر یہ کیا کر بیٹھیں اور اگر ہارون مراد ہوں تو اخت کے معنی بہن کے ہیں بلکہ ابن اخت اخ عرب میں نسبت کے لیے بھی مستعمل ہوتے ہیں ابن اللیل چاند کو ابن السبیل مسافر کو اخ العرب عربی کو کہتے ہیں یعنی تاروں والی چونکہ عہدہ امانت حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں چلا آتا تھا اور حضرت مریم [ بھی اس مقدس و معزز خاندان میں سے تھیں اس لیے ان کو اخت ہارون کہہ کر مولود سعید پر ملامت کی۔ حقانی 12۔
(3) یا اخت ہارون اخت کے حقیقی معنی بہن کے ہیں لیکن یہاں یہ مراد نہیں بلکہ کلام عرب میں اخ اور اخت اور ابن سے مواقع میں محض نسبت کے لیے آتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں یا اخا العرب یا اخاہمدان ” اے واحد امنہم یعنی اے عرب والے اے قبیلہ ہمدان والے “ نہ یہ کہ اے عرب اور ہمدان کے بھائی اسی طرح مسافر کے لیے ابن السبیل اور چاند کے لیے ابن الیل آتا ہے وغیرہ چونکہ حضرت مریم ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھیں اس لیے ان کو شرمندہ کرنے کے لیے ان کے جد اعلیٰ ہارون کی طرف منسوب کر کے کلام کیا کہ اے ایسے بزرگ کی اولاد تجھے ایسا کرنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مریم کے حقیقی بھائی کا نام بھی ہارون تھا جو بڑے نیک مرد تھے۔ ایک پادری نے اخت کے حقیقی معنی سمجھ کر پھر ہارون اور مریم میں فاصلہ دراز خیال کر کے اعتراض جڑ دیا کہ قرآن میں غلطی ہے۔ فہم سلیم اسی کو کہتے ہیں۔
Ayahs 19:29–363 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے والی چیز کو ہوئی سمجھنا اپنے وثوق کا اظہار ہے چناچہ انہیں انجیل بھی ملی اور نبی بھی ہوئے۔ سوم یہ کہ گواہی یہود اب تم مجھ پر اور میری ماں پر لعنت کر رہے ہو مگر بجائے ان کے مجھے خدا نے بابرکت کیا ہے جہاں کہیں کیوں نہ ہوں دنیا میں بھی اور آسمان پر جانے کے بعد بھی۔ چہارم جامہ بشریت سے باہر نہیں ہوں مجھ پر بھی خدا کے احکام فرض ہیں اور میں ان کی بسروچشم تعمیل کرنے والا ہوں اس لیے اپنی ماں کا تابعدار ہوں سرکش اور نافرمان نہیں جیسا کہ حرامی بچہ ہوتے ہیں اور میری ہر حالت پر خدا کی امان ہے پیدا ہونے ‘ مرنے ‘ زندہ ہونے میں اور مجھے خدا نے نماز اور خیرات کا مؤکد حکم دیا ہے جب تک کہ میں زندہ ہوں۔ 12 منہ
تفسیر : آخر جب مریم جوان ہوگئیں تو ایک بار ان کو خوبصورت آدمی کی شکل میں خدا کا فرشتہ (جبرئیل علیہ السلام) نظر آیا، مریم گھبرائیں اور کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا ترس ہے۔ فرشتہ نے کہا میں انسان نہیں خدا کا فرستادہ ہوں اس لیے آیا ہوں کہ تجھ کو پاک فرزند دوں۔ مریم [ نے کہا یہ کیونکر ہوگا میرا اب تک کسی سے نکاح نہیں ہوا اور نہ میں حرام کار ہوں۔ فرشتہ نے کہا خدا یوں ہی اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کرسکتا ہے تب فرشتہ نے ان کے کرتے کے گریبان میں دم کردیا یعنی پھونک دیا۔ اس کے بعد سے ان کو حمل معلوم ہونے لگا۔ مریم ( علیہ السلام) لوگوں سے گوشہ اور کنارہ کے مکان میں جا رہیں (غالباً یوسف کے ساتھ وہاں سے بیت اللحم میں آرہی ہوں گی جو وہاں سے کئی میل کے فاصلہ پر ایک گائوں تھا جو آج کل شہر ہے یا اپنی خالہ کے گھر آرہی ہوں گی اور ان کی خالہ کو بھی حمل تھا چھ مہینے کا جس سے یحییٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے) پس جب خاص جنے کا وقت آیا اور درد لگے تو ایک افتادہ مکان میں آئیں جہاں ایک کھجور کا درخت تھا اور پانی نہ تھا اور ولادت کے وقت ان چیزوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے ادھر تنہائی ادھر درد ادھر ہر قسم کی بےسروسامانی نہ کھانا نہ پانی۔ ایسی حالت میں انسان کا مقتضائے طبعی ہے کہ گھبرا گئیں اور کہنے لگیں کہ کاش میں اس دن سے پیشتر مرچکتی اور نیست و نابود ہوگئی ہوتی کہ لوگ نام و نشان بھی بھول جاتے۔ ایسے سخت وقتوں میں خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی دستگیری کیا کرتا ہے پس ان کے پائیں 1 ؎ سے فرشتے نے آواز دی کہ کچھ غم نہ کرو دیکھو تمہارے پائوں کی طرف خدا نے چشمہ جاری کردیا جس قدر پانی درکار ہو لو اور اس کھجور کے درخت کو ہلاؤ تروتازہ کھجوریں اس میں سے جھڑیں گی اور جو کوئی شخص تمہیں کچھ کہے تو اشارہ سے کہہ دینا کہ میں کلام نہیں کرسکتی روزہ نذر مانا 2 ؎ ہے۔
پس پاک ہونے کے بعد ختنہ کے لیے شریعت موسوی کے موافق مریم عیسیٰ کو بیت المقدس میں لائیں فاتت بہ قومہا تحملہ یہاں ان پر لوگوں کا ہنگامہ ہوا اور طعن وتشنیع شروع ہوئی کہ تیرے ماں باپ ایسے نہ تھے تو یہ حرام کار کہاں سے پیدا ہوئے ؟ سچ بتا یہ بچہ کس کا ہے ؟ مریم نے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا کہ خود اسی سے دریافت کرلو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم بچہ سے کیونکر بات چیت کرسکتے ہیں۔ اتنے میں حضرت مسیح (علیہ السلام) گود میں سے آپ بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں (سب سے پہلے یہ جملہ یوں کہا کہ ان کے بغیر باپ کے پیدا ہونے اور عجائبِ معجزات دکھانے سے لوگ ان کو کہیں خدا کا بیٹا نہ سمجھ لیں جیسا کہ نصارٰی سمجھ بیٹھے) مجھ کو کتاب دی ہے یعنی انجیل گو اس وقت تک نہ
2 ؎ اگر روزہ میں یہ نذر مانا ہو کہ کسی سے کلام نہ کروں گا اس عہد میں اس نذر کا پورا کرنا ضرور تھا اس لیے مریم نے یہ عذر کیا اور غرض یہ تھی کہ لوگوں کو آپ جواب دینا نہ پڑے خود لڑکا ہی جواب دے دے تاکہ اس کا اعجازو کرامت معلوم ہو۔ 12 منہ
ملی تھی بلکہ تیس برس کی عمر میں جبکہ نبی ہوئے اور اسی طرح نبوت بھی جب ہی ملی اور صلوٰۃ و زکوٰۃ کی وصیت بھی اسی وقت ہوسکتی ہے لیکن یہ سب باتیں ہونے والی تھیں اور عالم غیب میں قرار پا چکی تھیں گو ظہور اس وقت تک نہ ہوا تھا لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معلوم کرایا گیا تھا اس لیے ان سب باتوں کو بلفظ ماضی اس طفولیت کے وقت میں بیان فرمایا۔ شیرخواری کی حالت میں اپنی ماں کی برأت کے لیے مسیح نے ایک ہی بار کلام کیا تھا پھر نہیں کیا بلکہ پھر اس وقت بولے جب اور لڑکے بولا کرتے ہیں جب لوگوں نے یہ کلام سنا تو حیرت میں رہ گئے اور اس لیے مریم [ پر زنا کی سزا جو قتل تھی قائم نہ کی ورنہ سزا سے بری رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی مگر اس بات کو یہود نے مخفی کردیا تاکہ لوگ ان کے معتقد نہ ہوں اور حضرت زکریا (علیہ السلام) پاکدامن پر بہتان دھر دیا۔
تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مریم [ کا چچازاد بھائی ایک شخص یوسف نامی تھا جو حضرت مریم اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو یہود اور ہیرو دوس کے خوف سے مصر لے گیا تھا اور اس کے مرنے تک وہ وہیں رہے پھر ہیرودوس کے مرنے کے 1 ؎ بعد آ کر ناصرہ گائوں میں رہے اسی
لیے ان کے متبعین کو نصاریٰ کہتے ہیں اور پھر وعظ و پند میں مصروف ہوئے اور معجزات دکھانے شروع کئے۔ لوگ جوق جوق ان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ آخر یہود کو حسد ہوا اس عہد کے حاکم کو بدگمان کر کے ان کو گرفتار کرایا کہ یہ قیصر سے باغی ہے، قید کر کے سولی دینے لے چلے مگر خدا نے ان کو زندہ وسالم اوپر اٹھا لیا اور ان کی شکل میں ایک کو انہیں میں سے کردیا جس کو سولی دی گئی ان کے بعد حضرت مریم [ کا انتقال ہوا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ان کے روبرو ہی ہیرو دوس کے ہاتھ سے شہید ہوچکے تھے۔
حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) کے قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے ذلک عیسیٰ بن مریم الخ کہ اصل حقیقت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کی یہ ہے۔ سچا واقعہ جس میں وہ جھگڑتے ہیں یہ ہے نہ وہ جو کہ یہود کہنے لگے کہ معاذاللہ وہ زنا سے پیدا ہوئے تھے اور مکار و فریبی تھے نہ وہ جو کہ عیسائی کہنے لگے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے خدا ان کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہود کا قول تو ازحد بدیہی البطلان تھا ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی اس لیے عیسائیوں کے قول کو باطل کرتا ہے ماکان اللہ ان یتخذمن ولد سبحانہ الخ کہ خدا کی یہ شان ہی نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنا دے وہ اس سے پاک ہے اذا قضٰی امرا فانما یقول لہ کن فیکون بیٹا ان کے لیے ہوتا ہے جن کو احتیاج ہے اور اس کے حکم میں تو ہر چیز ہے کن کہتے ہی ہوجاتی ہے اسی طرح بغیر سبب ظاہری یعنی باپ کے بغیر عیسیٰ کو پیدا کردیا خود عیسیٰ نے کہہ دیا انی عبداللہ الخ وان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم کہ اللہ میرا اور تمہارا دونوں کا پالنے والا ہے اسی کی عبادت کرو سیدھا رستہ یہی ہے نہ یہ کہ مجھے خدا یا اس کا بیٹا سمجھو۔
ابحاث : (1) زکریا (علیہ السلام) کا قصہ انجیل لوقا میں موجود ہے ہاں قرآن مجید میں تین روز تک اور انجیل مذکور میں ایک روز تک گونگا رہنا مذکور ہے اور مریم کے قصہ میں اس قدر تفاوت ہے کہ مریم کا ان کی والدہ کی طرف سے خدا کی نذر میں چڑھایا جانا اور زکریا ( علیہ السلام) کی نگرانی میں پرورش پانا اور اسی طرح تولد مسیح (علیہ السلام) کے وقت خرمے کے درخت کا تروتازہ ہونا اور چشمہ جاری ہونا اور پھر شیرخوارگی میں مسیح ( علیہ السلام) کا کلام کرنا ان کی اناجیل اربعہ میں موجود نہیں قرآن میں ہے البتہ ان کی اور اناجیل میں ہے جیسا کہ انجیل طفولیت وغیرہ اور اسی طرح رضاعت کے زمانہ میں یحییٰ کا کلام کرنا انجیل میں ہے قرآن مجید میں نہیں سو یہ کچھ اختلاف ایسا نہیں کہ جس سے ایک کو غلط ایک کو صحیح کہنے کی نوبت پہنچی خود چاروں انجیلوں میں اس قسم کی کمی زیادتیاں ہیں ایک میں ہے کہ مجوسی ستارہ کے اشارہ سے مسیح پاس آئے دوسری میں نہیں علیٰ ہذا القیاس۔ اور جو اختلاف ہے بھی تو اس میں قرآن مجید کا ہی عقلاً و نقلاً اعتبار ہونا چاہیے نہ ان کی کتب محرفہ کا۔
(2) تمام اہل اسلام اور تمام عیسائی اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت (علیہ السلام) بغیر باپ کے محض قدرت کاملہ سے پیدا ہوئے تھے
1 ؎ تخمیناً بارہ برس کی عمر میں مسیح ( علیہ السلام) مصر سے واپس آئے۔ 12 منہ۔
برخلاف یہود کے کہ وہ ان کو انسان کے نطفہ سے بطور عادت پیدا ہونا کہتے ہیں اور معاذاللہ ناجائز تولد قرار دیتے ہیں مگر آج کل برائے نام مسلمانوں کا ایک گروہ جو اس زمانہ میں علوم حسیہ کی ترقی اور علوم روحانیہ کے مفقود ہوجانے اور حسن باطن اور نور قلبی کے مٹ جانے سے پیدا ہوا ہے وہ فریق قدم بہ قدم حکمائے یورپ کے چلتا اور قرآن و احادیث کو ان کے خیالات کے مطابق کرتا ہے۔ غلط تاویلات کے ذریعہ سے وہ بھی یہود کی طرح بطور عادت انسان کے نطفہ سے پیدا ہونا کہتا ہے کیونکہ خوارق عادت امور ان کے نزدیک محال ہیں۔ اس بات کے امکان پر دلائل لانے کی یہاں گنجائش نہیں مقدمہ تفسیر میں بیان ہوچکے اب ہم قرآن مجید کے وہ الفاظ بتاتے ہیں جو اسی بات پر دلالت کرتے ہیں : اول ان آیات میں فتمثل لہابشراسویا سے لے کر قال کذلک قال ربک ھو علی ھین تک صاف صاف کہہ رہا ہے کہ مریم کو فرشتہ کے کہنے سے کہ تجھ کو فرزند دینے آیا ہوں تعجب آیا اس لیے کہ نہ وہ حرام کار تھیں نہ کسی سے نکاح ہوا تھا اس پر فرشتہ کا یہ کہنا کہ تیرا رب یوں ہی کرسکتا ہے اور یہ اس پر کچھ مشکل بات نہیں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تولد بغیر باپ کے ہوا ہے۔ دوم ولنجعلہ آیۃ للناس بھی اسی کی تصریح کرتا ہے کس لیے کہ تولد مسیح اگر معمولی طور سے ہوتا پھر خواہ اس میں لوگوں کے لیے کتنے ہی برکات کیوں نہ ہوتے جیسا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تولد میں اس پر آیۃ کا اطلاق نہیں ہوتا کس لیے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بجز آیات قرآنیہ کے اور چیزوں پر لفظ آیۃ کا اطلاق ہوا ہے تو انہیں پر ہوا ہے کہ جہاں کوئی بات اس کی قدرت کی بابت عادت واسباب ظاہری بغیر پائی گئی ہو جیسا کہ اصحاب کہف پر اور صالح (علیہ السلام) کے ناقہ پر وغیر ہما۔ سوم ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم الایۃ میں اس امر کی صاف تصریح ہے کیونکہ آدم ( علیہ السلام) کے ساتھ مسیح (علیہ السلام) کو تشبیہ دینا اور اگر اس بات میں نہیں کہ جس طرح وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اسی طرح یہ بھی تو پھر اور کون سی خصوصیت آدم کے ساتھ مسیح کو ہے ؟ اور نیز اس آیت کا نزول انہی کے دفع خیال کے لیے ہے جو مسیح کو بغیر باپ کے پیدا ہونے سے خدا کا بیٹا سمجھتے تھے۔
اس کے علاوہ اسی قصے میں اور کتنی ایک باتیں خارق عادت مذکور ہیں جیسا کہ کھجور خشک سے ترخرموں کا پیدا ہونا ‘ پانی کا چشمہ نمودار ہونا ‘ مسیح کا گود میں کلام کرنا ‘ جس کی بابت یہود نے کہا تھا کہ ہم گود کے بچہ سے کیونکر بات کرسکتے ہیں ؟ اور فرشتہ کا مجسم ہو کر مریم کو نظر آنا۔ پھر یہاں بھی شاید تاویل باطل کریں گے اسی طرح عیسائیوں کی اناجیل اربعہ میں بھی اس امر کی صاف تصریح ہے حالانکہ ماوّل صاحب اپنی کتاب تبین 1 ؎ الکلام میں اناجیل مذکور کو غیرمحرف اور کلام الٰہی مان چکے ہیں۔ انجیل متی کے اول باب میں 18 درس سے لے کر آخر تک اس کی تصریح ہے جس کا ایک جملہ یہ ہے کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوئی تو ان کے اکٹھے آنے سے پہلے وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔ پھر انجیل لوقا کے اول باب میں 26 درس سے لے کر کئی جملوں تک قرآن مجید کے موافق مریم کو فرشتہ سے حمل ہونا اور مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مذکور ہے۔ پھر نہیں معلوم کہ ماوّل صاحب کس سند سے انکار کرتے ہیں اور آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں ؟
Ayah 19:371 ؎ ایک گروہ ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگا دونوں کی بڑے دن میں یعنی قیامت میں خرابی ہے۔
Ayahs 19:38–40ترکیب : اسمع بہم وابصر معناً دونوں تعجب کے صیغہ لفظاً امر کے صیغہ ہیں بمعنی ما اسمعھم و ما ابصرھم بہم موضع رفع میں ہے کقولک احسن بزید ای احسن زید لفظوں میں امر اور معنی ً خبر ہے ای حسن زید، ویمکن ان یقال انہ امرلکل احد بان یحسن بزید والباء زائدۃ۔ یوم ظرف
والعامل فیہ اسمع وابصر۔ اذا قضٰی یا یوم الحسرۃ سے بدل یا حسرت کا ظرف۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا فاختلف الاحزاب کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں قومیں مختلف ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہود کچھ کہتے ہیں، نصاریٰ کچھ اور پھر باہم نصاریٰ کے فرقوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے اور تھا جن کی نسبت فرماتا ہے فویل للذین کفروامن مشہد یوم عظیم کہ منکروں کو بڑے دن کی حضوری اور اس کی شدت سے خرابی ہے بڑا دن قیامت کا دن ہے یعنی اس دن کا سامنا ہونا ہے اور اس دن میں بڑی مصیبت ہے ان کے اختلاف کا ثمرہ اس روز ظاہر ہوجائے گا۔
اسمع الخ میں یوم عظیم کی کچھ کیفیت بیان کی کہ جس روز یہ کافر ہمارے پاس آئیں گے اس روز ان کی بینائی اور شنوائی عجب ہوگی یعنی جس طرح آج اندھے اور بہرے ہیں نہ باطن کی آنکھوں سے حق دیکھتے ہیں نہ کسی سے سنتے ہیں اس روز یہ حال نہ ہوگا بلکہ خوب آنکھیں کھلی جائیں گی، کان بھی کھل جائیں گے یہی مضمون سورة ق میں بھی آیا ہے لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم الحدید۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ ان غافلوں کو حسرت کے دن سے مطلع کر دو تاکہ خوف کریں۔ پھر یوم الحسرت کی کچھ اور تشریح فرماتا ہے۔ اذا قضی الامر و ھم فی غفلۃ وھم لایؤمنون کہ یکایک ان کے لیے عذاب کا حکم دیا جائے گا اور وہ دنیا میں غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ بظاہر یوم الحسرت قیامت کا دن ہے کیونکہ جنہوں نے دنیا میں نیکی نہ کی ہوگی وہاں ان کی حسرت کا کیا ٹھکانا ہے مگر آیت کو عام رکھا جائے تو اور بھی تخویف پیدا ہوتی ہے یعنی حسرت کا دن عام ہے قیامت کے دن کو بھی شامل ہے اور موت کے دن کو بھی کہ انسان غفلت میں پڑا ہوا ایمان و حسنات سے بیخبر ہے ادھر یکایک اس کی موت کا حکم ہوجائے اس کا کام تمام ہوجائے اب اس کو ساتھ لے جانے کے لیے توشہ آخرت حاصل کرنے کی مہلت کہاں پس اس دن سے زیادہ بھی اس کی حسرت کا دن اور کوئی کیا ہوگا ؟ یہ مضمون بھی قرآن مجید کی متعدد آیات میں آیا ہے لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین اور احادیث میں بھی وارد ہے کہ انسان اپنی آرزوئوں کے پورا کرنے میں لگا ہوا ہوتا ہے کہ یکایک اجل آجاتی ہے۔ حسرت و ارمان دنیا کی جگہ دل میں آخرت کے لیے کوتاہی کرنے کی حسرتیں ساتھ ہوجاتیں ہیں۔
دنیا میں جو کچھ مال و زر زمین و باغات اس نے بڑی محنت سے حاصل کئے تھے وہ سب یہیں پڑے رہ گئے ان سب کا اللہ ہی وارث اور اخیر مالک رہے گا اور سب ایک روز خدا تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجائیں گے۔ انانحن نرث الارض ومن علیہا والینا یرجعون کا یہی مطلب ہے۔ واللہ اعلم۔