Ayahs 19:1–6آیت 1
(ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا) ” یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ “ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا (علیہ السلام) کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہوگی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اپنی رسالت کے لئے چن لیا اور انہیں اپنی وحی کے لئے مختص کرلیا۔ انہوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء ومرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انہیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیر خواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء ومرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
جب انہوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انہیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پاجائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیر خواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔۔۔. تو انہوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انہوں نے عرض کی : (رب انی وھن العظم منی) ” اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں “ اور جب ہڈیاں، جو کہ بدن کا سہارا ہیں، کمزور ہوجاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑجاتے ہیں۔ (واشتعل الراس شیبا) ” اور بڑھکا سر بڑھاپے سے “ کیونکہ بڑھاپا ضعف اور کمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے بآت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔
(ولم اکن بدعائک رب شقیا) ” اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا “ یعنی اے میرے رب ! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر اس یہ فگن رہا اور تیرے احاسنات مجھ تک پہنچتیر ہے۔ یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احاسنات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انہیں اپنی عنایات سے نوازے۔ (وانی خفت الموالی من ورآء ی) ” اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے “ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہوگا ؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کرسکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آرہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی شفقت اور خیر خواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہوجائے اور آپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور راسلت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لئے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا کی کہ وہ انہیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہوگئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہوگئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انہوں نے عرض کی : (فھب لی من لدنک ولیا) ” سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون “ اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لئے فرمایا : (یرثنی ویرث من ال یعقوب واجعلہ رب رضیا) ” جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ “ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بےپایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
Ayahs 19:7–11آیت 7
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ” یحییٰ “ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ” یحییٰ “ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چناچہ یحییٰ (علیہ السلام) نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب و روح کی زندگی۔ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) ” نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی “ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے آپ جی اس کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔۔۔. مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہوگا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے افضل ہیں۔
جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں، جس کے لئے انہوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آگئی تو انہوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی : (رب انی یکون لی غلم) ” اے رب ! کہاں سے ہوگا میرے لئے لڑکا ؟ “ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہوگئی تو آپ کو تعجب ہوا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (کذلک قال ربک ھو علی ھین) ” یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے “ یعنی وہ امر جو عا آً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لئے یہ اس کے لئے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
(قال رب اجعل لی ایٓ) ” زکریا نے کہا : اے رب ! ٹھہرا دے میرے لئے کوئی نشانی “ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں، بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی تھی (رب ارنی کیف تحی الموتی قال اولم تو من قال بلی ولکن لیطمئن قلبی) (البقرہ : 2 /062) ” اے میرے رب ! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا ؟ فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا ؟ عرض کی کیوں نہیں، مگر یہ اس لئے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔ “ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انہیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ (قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا) ” فرمایا : تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔ “ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا : (الا تکلم الناس ثلآ ایام الا رمزا) (اٰل عمران : 3 /14) ” تو بات نہیں کرے گا تین دن تک، مگر اشارے سے “ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریا (علیہ السلام) صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق اناسنوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واذکر ربک کثیرا و سبح بالعشی والابکار) (آل عمران : 3 /14) ” نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔ “ پس ان کا دل مطمئن ہوگیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہوگئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہوگئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے (فاوحی الیھم) اور انہیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ : (ان سبحوا بکآ و عشیا) ” کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو “ کیونکہ یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
Ayahs 19:12–15آیت 12
گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لئے فرمایا : (واتینہ الحکم صبیا) ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا، نیز (وحنانا من لدنا) ” اور شفقت اپنی طرف سے “ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ (وزکوٓ) ” اور ستھرائی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہوگئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔
(وکان تقیا) ” اور تھے وہ پرہیز گار “ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔
(وبرا بوالدیہ) ” اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ “ نیز یحییٰ (علیہ السلام) اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ (ولم یکن جبارا عصیا) ” اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر “ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگرانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے، اس لئے ان کو اپنے تمام احوال میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔
(وسلم علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیا) ” اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر “ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں۔۔۔. اللہ تعالیٰ کی بیشمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء ومرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سختی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
Ayahs 19:16–21آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت مریم علیھا السلام کے بہترین حال کا ذکر کیجئے۔ جب (انتبذت) ” وہ جدا ہوئی “ یعنی جب مریم علیھا السلام اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (مکانا شرقیا) مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہوگئی تھیں۔ (فاتخت من دونھم حجابا) ” پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ “ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔
حضرت مریم علیھا السلام کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے الگ تھلگ ہوجانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لئے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ (واذ قالت الملء آ یمریم ان اللہ اصطفک و طھرک واصطفک علی ناسء العلمین۔ یمریم اقنتی لربک و اسجدی و ارکعی مع الرکعین) (آل عمران : 3 /24۔ 34) ” جب فرشتوں نے (جناب مریم سے) کہا اے مریم ! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم ! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔ “
(فارسلنا الیھا روحنا ) ” پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح “ یہاں روح سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ (فتمثل لھا بشرا سویا) ” پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا “ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص، کیونکہ حضرت مریم علیھا السلام جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں۔ جب مریم علیھا السلام نے جبریل (علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہوگئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کرلیا تھا۔۔۔. تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انہوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں : (انی اعوذ بالرحمن منک) ” میں رحمن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ (ان کنت تقیا) ” اگر تم متقی ہو۔ “ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔
حضرت مریم علیھا السلام نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا جبکہ وہ تنہائی کی حالت میں تھیں، جو ان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انہوں نے حضرت مریم علیھا السلام سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی۔۔۔. یہ تو حضرت مریم علیھا السلام کا خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت۔۔۔. خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو۔۔۔. بہترین عمل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا : (ومریم ابنت عمرن التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا) (التحریم : 66 /21) ” اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ “ اور فرمایا : (والتی احصنت فرجھا فنفخنا فیھا من روحنا و جعلنھا و ابنھا آیت للعلمین) (الانبیاء 12 /19) ” اور وہ (مریم علیھا السلام) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لئے نشانی بنادیا۔ “
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم علیھا السلام کی عفت کے عوض انہیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔ جب جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم علیھا السلام کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انہوں نے کہا : (انما انا رسول ربک) ” میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں “ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ (لاھب لک غلما زکیا) ” تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا “ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔ پس حضرت مریم علیھا السلام باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : (انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا) ” کہاں سے ہوگا میرے لئے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں “ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں۔
(قال کذلک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ ایآ للناس) ” جبریل نے کہا : یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے، اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لئے نشانی “ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بع اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غور وفکر ترک نہ کریں۔ (ورحمٓ منا) ” اور اپنی طرف سے رحمت “ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لئے، اس کی والدہ کے لئے اور تمام لوگوں کے لئے رحمت بنائیں۔
ان کا خود اپنے لئے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لئے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء ومرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لئے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لئے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ (وکان امرا مقضیا) ” اور ہے یہ کام مقرر ہوچکا “ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم علیھا السلام کے گریبان میں پھونک ماری۔
Ayahs 19:22–26آیت 22
جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ “ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔
جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم علیھا السلام کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لئے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انہیں حاصل ہوئی۔ اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم علیھا السلام کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا : مت گھبرا اور نہ غم کر (قد جعل ربک تحتک سریا) ” تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ “ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کردی ہے جس سے تو پانی پئے گی۔
(وھزی الیک بجذع النخآ تسقط علیک رطبا جنبا) ” اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں “ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں۔ (فکلی) یعنی کھجوریں کھا (واشربی) ” اور اس نہر کا) پانی پی۔ “ (وقری عینا) ”( اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر “۔ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم علیھا السلام کے لئے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے، تو فرشتے نے حضرت مریم علیھا السلام کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں : (انی نذرت للرحمن صوما) ” میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لئے روزے کی “ یعنی خاموش رہنے کی۔ (فلن اکلم الیوم انسیا) ” پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے “ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا، تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔
ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی برٓت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے ہونا ان کی برٓت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لئے، اسی جی اس ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 19:27–33آیت 27
یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
(یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ السلام) نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ (ما کان ابوک امرا سوء وما کانت امک بغیا) ” تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار “ یعنی تمہارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کررہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمہارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں، نیکی اور بدی کے معاملے میں، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چناچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم علیھا السلام سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہوگیا ؟ پس حضرت مریم علیھا السلام نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انہوں نے اس لئے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم علیھا السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا : (انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا) ” میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔ “ جب انہوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انہوں نے کہا : (کیف نکلم من کان فی المھدصبیا) ” ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ “ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام، پنگوڑے میں سے بولے : (انی عبد اللہ) ” بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں “ آپ (علیہ السلام) نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انہیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیاسئیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول : (انی عبد اللہ) ” بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں “ آپ (علیہ السلام) نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انہیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیاسئیوں کے قول سے بالاو برتر ہے۔ جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول : (انی عبد اللہ) ” میں اللہ کا بندہ ہوں۔ “ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی موافقت کرتے ہیں۔ (اتنی الکتب) ” دی اس نے مجھے کتاب “ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا (وجعلنی نبیا) ” اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انہیں جملہ انبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا : (وجعلنی مبرکا این ما کنت) ” اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں “ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ (واوصنی بالصلوٓ والزکوٓ ما دمت حیا) ” اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰٓ کی، جب تک ہوں میں زندہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکوٰٓ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا، نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں، اس کے ساتھ خوب احاسن کروں اور اس کے حقوق پورے کروں، کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز وہ ماں ہے اس لئے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔
(ولم یجعلنی جبارا) ” اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش “ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں۔ (شقیا) یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔ پس جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہوگئی تو انہوں نے فرمایا : (والسلم علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا) ” اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر “ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔
Ayahs 19:34–36آیت 34
یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں۔ پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بےبہرہ ہے، اس لئے ارشاد فرمایا : (الذی فیہ یمترون) ” جس میں لوگ جھگڑتے ہیں “ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں۔۔۔. ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں، یا اللہ کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازی سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔
(ما کان للہ ان یتخذ من ولد) ” نہیں لائق اللہ کے کہ پکڑے وہ اولاد “ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں، کیونکہ یہ ایک امر محال ہے۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور قابل ستائش ہے وہ تمام مملکتوں کا مالک ہے۔ پس وہ اپنے بندوں اور غلاموں کو کیسے اولاد بنا سکتے ہیں ؟ (سبحنہ) اللہ تبارک و تعالیٰ ہر نقص اور بیٹے کی حاجت سے پاک اور مقدس ہے۔ (اذا قصی امرا) یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ چھوٹے یا بڑے معاملے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ معاملہ اس کے لئے مشکل اور ممتنع نہیں ہوتا۔ (فانما یقول لہ کن فیکون) ” تو وہ صرف یہی کہتا ہے کہ ہوجا، پس وہ ہوجاتا ہے “ جب اس کی قدرت اور مشیت تمام عالم علوی اور سفلی پر نافذ ہے تو اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور جب وہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے (کن) ” ہوجا “ (فیکون) ” تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ “ تب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے وجود میں لانا کون اس مشکل کام ہے ؟ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا : (وان اللہ ربی و ربکم) ” بیشک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمہارا “ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ (فاعبدوہ) ” پس تم اسی کی عبادت کرو “ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لئے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الویت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لئے فرمایا : (ھذا صراط مستقیم) ” یہ ہے راستہ سیدھا “ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء ومرسلین اور ان کی متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
Ayahs 19:37–38آیت 37
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیھا السلام کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ مانتے ہیں۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے ہیں کہ وہ (معاذ اللہ) ولدالزنا ہیں۔۔۔. مثلاً : یہودی وغیرہ۔
ان تمام گروہوں کے اقوال باطل اور ان کی آراء فاسد ہیں جو شک وعناد، بےبنیاد شبہات اور انتہائی بودے دلائل پر مبنی ہیں۔ اس قبیل کے تمام لوگ انتہائی سخت وعید کے مستحق ہیں، اسی لئے فرمایا : (فویل للذین کفروا) ” پس ہلاکت ہے کافروں کے لئے “ جو اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرتے ہیں، ان میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کفریہ کلمات کہتے ہیں : (من مشھد یوم عظیم) ” بڑے دن کی حاضری سے “ یعنی قیامت کے روز جب اولین و آخرین سب حاضر ہوں گے، زمین اور آسمانوں کے تمام رہنے والے، خالق اور مخلوق موجود ہوں گے اس وقت بیشمار زلزلے ہوں گے اور اعمال کی جزا پر مشتمل ہولناک عذاب ہوں گے تب ان کا وہ سب کچھ ظاہر ہوجائے گا جو کچھ وہ چھپاتے یا ظاہر کیا کرتے تھے۔ (اسمع بھم و ابصر یوم یاتوننا) ” کیا خوب وہ سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے جس دن آئیں گے وہ ہمارے پاس “ اس روز وہ خوب سنیں گے اور خوب دیکھیں گے۔ پس وہ اپنے کفر و شرک پر مبنی اقوال و نظریات کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے : (ربنا ابصرنا و سمعنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون) (السجآ : 23 /21) ” اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ پس ہمیں دنیا میں واپس بھیج تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا۔ “ پس قیامت کے روز اس حقیقت کا یقین آجائے گا جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔
(لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین) ” لیکن ظالم لوگ آج صریح گمراہی میں ہیں۔ “ اس گمراہی کا ان کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا کیونکہ ان میں سے کچھ لوگ، بصیرت کے ساتھ حق کو پہچان کر عناد کی بنا پر روگردانی کرتے ہوئے گمراہ ہوئے ہیں اور کچھ لوگ حق و صواب کو پہچاننے کی قدرت رکھنے کے باوجود، راہ حق سے بھٹک گئے اور اپنی گمراہی اور بداعمالیوں پر راضی ہیں اور باطل میں سے حق کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ غور کیجئے اللہ تعالیٰ نے (فاختلف الاحزاب من بینھم) کہنے کے بعد کیسے فرمایا : (فویل للذین کفروا) اور (فویل لھم) نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں ضمیر کا مرجع ” الاحزاب “ ہوتا اور ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کرنے والے گروہوں میں سے ایک گروہ حق و صواب پر تھا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کہتا تھا : ” وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ “ پس وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی۔ یہ لوگ مومن ہیں اور اس وعید میں داخل نہیں ہیں، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف کفار کو اس وعید کے ساتھ مختص فرمایا ہے۔
Ayahs 19:39–40آیت 39
کسی خوفناک معاملے میں، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ” انذار “ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ” حسرت کا دن “ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین و آخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کئے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہوگا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا اسمنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو خاسرے میں ڈال دیا۔ پس اس وقت حسرت اور ندامت سے دل پارہ پارہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت سے محرومی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے استحقاق سے بڑھ کر کون سی حسرت ہوسکتی ہے، جہاں دوبارہ عمل کرنے کے لئے واپسی ممکن نہ ہو اور دنیا میں دوبارہ آ کر اپنے احوال کے بدلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔
یہ سب کچھ انہیں پیش آئے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس عظیم معاملے کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اس کے بارے میں انہیں کبھی خیال ہی نہیں آیا اور اگر انہیں کبھی خیال آیا بھی ہے تو وہ بھی غفلت میں۔ غفلت نے ان کو گھیر رکھا ہے اور مدہوشی ان پر غالب ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کے رسولوں کی اتباع کرتے ہیں۔ ان کی دنیا نے ان کو غافل کردیا، ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان ختم ہوجانے والی فانی شہوات حائل ہوگئیں۔
یہ دنیا اور اول سے لے کر آخر تک دنیا کی تمام چیزیں دنیا داروں کو چھوڑ جائیں گی اور وہ دنیا کو چھوڑ کر چل دیں گے اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا وارث اللہ تعالیٰ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف لوٹائے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ وہ ان اعمال میں خاسرہ اٹھائیں گے یا نفع میں رہیں گے، لہٰذا جو کوئی نیک کام کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرنی چاہیے اور جس کے اعمال اس سے مختلف ہیں اسے اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔