19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کاف۔ ہا۔ یا۔ عین۔ صاد۔ ،1۔

1۔ حروف مقطعات پر حاشیہ پارہ اول کے بالکل شروع میں گزر چکا۔ یہاں (آیت) ” کھیعص “۔ کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ یہ فقرہ کاف ھاد عالم صادق “۔ کا مخفف ہے۔ (ابن عباس ؓ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس ؓ ہی سے یہ بھی منقول ہے کہ ک مخفف کریم کا ہے، ہ مخفف ھاد کا، ی مخفف حکیم کا ع مخفف علیم کا اور ص مخفف صادق کا (روح) کلبی تابعی سے یہ معنی مروی ہیں۔ کاف لخلقہ ھاد لعبادہ یدہ فوق ایدیھم عالم ببریتہ صادق فی وعدہ (معالم) دارمی، ابن ماجہ، ابن جریر، میں فاطمہ ؓ بنت علی ؓ سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت علی ؓ اپنی دعاؤں میں یا کھیعص اغفرلی کہا کرتے تھے (روح) جس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے۔ خود ایک روایت بھی حضرت ابن عباس ؓ سے اسی مضمون کی مروی ہے۔ قال ابن عباس ھو اسم من اسماء اللہ تعالیٰ (ابن کثیر)
Ayah 19:2

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تذکرہ ہے آپ کے پروردگار کی رحمت (فرمانے) کا اپنے بندہ زکریا پر،2۔

2۔ (آیت) ” ذکریا “۔ پر حاشیہ سورة آل عمران پارہ 3 میں گزر چکا۔ آپ کی رسالت کا اثبات صرف قرآن مجید کرتا ہے، یہود اور نصرانی دونوں ان کی رسالت کے منکر ہیں۔ نصرانیوں کے ہاں ان کی حیثیت ہیکل بیت المقدس کے ایک بزرگ مجاور و خادم کی ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ یعنی اس کا مقبول ومعزز بندہ۔ اضافت اضافت تشریفی ہے۔ جب بندہ کا تعلق اللہ کے ساتھ خاص تقرب وشرف کا دکھانا ہوتا ہے تو محاورۂ قرآنی میں عموما ایسے موقع پر ذکر (آیت) ” عبداللہ “۔ یا عبدنا یا (آیت) ” عبدہ “۔ کرکے لیا جاتا ہے۔
Ayah 19:3

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

(قابل ذکر ہے) وہ وقت جب انہوں نے اپنے پروردگار کو خفیہ طور پر پکارا،3۔

3۔ اولاد کے لیے دعا یوں ہی عام طور پر چپکے ہی چپکے کی جاتی ہے اور پھر یہاں تو غالبا دوسروں سے اخفاء مقصود بھی تھا۔ اسروہ واخفوہ من قومہ (ابن عباس ؓ اناجیل موجودہ میں ذکر اس دعا کا نہیں۔ صرف جواب دعا و قبول دعا کا ہے۔ فقہاء نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ دعا میں اخفاء کو افضیلت حاصل ہے۔ مدحہ باخفاء الدعاء وفیہ الدلیل علی ان اخفاۂ افضل من الجھربہ (جصاص)
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

کہا اے میرے پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے اور تجھ کو پکار کر اے میرے پروردگار میں (کبھی) نامراد نہیں رہا ہوں،4۔

4۔ (تو پھر تیرے اس لطف مستقل وفضل مستمر پر نظر کرکے بعید سے بعید مقصود کے لیے بھی تجھ سے دعا کیوں نہ کروں) (آیت) ” شقیا “۔ شقی یہاں محروم وناکام کے معنی میں ہے۔ شقیا اے خائبا (ابن عباس ؓ (آیت) ” رب انی ....... شیبا “۔ یعنی گویا اسباب ظاہری کے لحاظ سے اب اولاد کا ہونا بہت مستبعد ہے اور میرا اس کے لیے دعا کرنا بھی بظاہر بےمحل ہے۔ انجیل میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور آپ کی زوجہ محترمہ ایشیع کا ذکر کرکے ہے :۔ ” اور ان کے اولاد نہ تھی، کیونکہ ایشیع بانجھ تھی، اور دونوں عمر رسیدہ تھے “ (لوقا۔ 1: 7) آیت میں اس کی بھی تعلیم ملتی ہے کہ کبر سنی کے طبعی اثرات سے حضرات انبیاء کو مفر نہیں۔ ہم سب ناتوانوں، کم ہمتوں، کمزوروں کے لیے پیرانہ سالی کے آلام و عوارض میں اس سے بڑی تسکین و تسلی کا سبق ملتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دعا میں الحاح و لجاجت کی افضیلت آیت سے نکلتی ہے۔ بعض برزگوں نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ ضعف پیری اور موئے سفید بھی قول سابق کی طرح کشش ترحم میں معین ہیں۔
Ayah 19:5

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد (اپنے) رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں،5۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، سوتوہی مجھے (خاص) اپنے پاس سے وارث دے

5۔ (کہ وہ میرے بعد اس مرکز توحید کی خدمات دینی اور علوم عالی کو سنبھال نہ سکیں گے) (آیت) ” الموالی “۔ مراد وہ عزیز ہیں جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں وراث و جانشین ہوتے۔ الموالی یعنی الورثۃ (ابن عباس ؓ آپ کو ان کی طرف سے یہی اندیشہ تھا کہ یہ بدمذہب، بدعمل لوگ ہیں، ہیکل کی خدمت میں قاصر رہیں گے۔ فافھم علی الدین انھم کانوا اشرار بنی اسرائیل (جصاص) (آیت) ” من ورآء ی “۔ یعنی میری موت کے بعد۔ اے من بعد موتی (معالم۔ کشاف)
Ayah 19:6

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میرا بھی واث بنے اور اولاد یعقوب کا بھی وارث بنے،6۔ اور اے پروردگار تو اسے پسندیدہ بنا دے

6۔ (علوم نبوت ومعارف ولایت میں اپنے اجداد اسرائیلی کی طرح) (آیت) ” یرثنی ویرث من ال یعقوب “۔ (وراثت سے یہاں مراد مال و دولت کی وراثت نہیں۔ حقائق عالیہ اور اخلاق فاضلہ کی میراث ہے اور انبیاء سے مال وجائداد کی وراثت تو چلتی بھی نہیں جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد بھی ہوچکا ہے :۔ صحابیوں، تابعین، اکابر مفسرین، سب سے ارث کی تفسیر علوم نبوت و شریعت منقول ہے۔ اور لفظ ارث کا اطلاق نبوت پر بالکل جائز ہے۔ قال ابن عباس ؓ ویرث من ال یعقوب النبوۃ فقد اجاز اطلاق اسم المیراث علی النبوۃ فکذلک یجوزان یعنی بقولہ یرثنی یرث علمی (جصاص) انما ارادارت النبوۃ وعلیھا خاف ان تخرج من عقبہ (ابن العربی) یرثنی العلم ویرث من ال یعقوب النبوۃ وھو مروی عن مجاھد (کبیر) المراد بالارث ارث الشرع والعلم لان الانبیاء ولا تورث (کشاف) (آیت) ” ولیا “۔ ولی یہاں سب کا اتفاق ہے کہ ولد صلبی کے مفہوم میں ہے۔ (آیت) ” من لدنک “۔ یعنی بلااسباب عادی وظاہری کے نعمتیں جو بھی آتی ہیں، سب ہی اللہ ہی کے پاس سے آتی ہیں۔ یہاں من لدنک کی تصریح لانے سے مراد یہی ہے کہ بلاواسطہ اسباب عادی محض اپنی قدرت سے عطا کر۔ اعطنی من محض فضلک الواسع وقدرتک الباھرۃ بطریق الاختراع (روح) مرشد تھانوی (رح) نے یہاں سے دو نکتہ اخذ کیے ہیں، ایک یہ کہ اولاد صالح کی طلب رکھنا زہد کے منافی نہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی ایسی چیز کا طلب کرنا جو اسباب بعید ہی سے پیدا ہوسکے ادب دعا کے منافی نہیں۔
Ayah 19:7

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ہم تم کو بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی اس کا نام یحییٰ ہوگا،7۔ ہم نے اس کے قبل کسی کو (اس کا) ہم نام نہیں بنایا،8۔

7۔ (اپنی نظر میں) یعنی وہ لڑکا علوم کا حامل بھی ہو اور ان پر عامل بھی۔ اے مرضیاعندک قولا وفعلا (روح) بعض عارفوں نے یہاں سے یہ نکتے پیدا کیے ہیں کہ طلب اولاد مستحب ہے اور اولاد کے حق میں دعائے خیروصلاح سنت انبیاء ہے۔ 8۔ (تمہاری ذات برادری میں) یہ جواب ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے حضرت زکریا کو فرشتوں کے واسطہ سے ملا، انجیل میں حضرت یحی (علیہ السلام) کی ولادت اور نام رکھے جانے کا ذکر ذرا تفصیل سے ہے :۔” اور ایشیع کے جننے کا وقت آپہنچا اور وہ بیٹا جنی اور اس کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے یہ سن کر خدواند نے اس پر بڑی رحمت کی، اس کے ساتھ خوشی منائی اور آٹھویں دن ایسا ہوا کہ وہ لڑکے کا ختنہ کرنے آئے۔ اور اس کا نام اس کے باپ کے نام پر زکریا رکھنے لگے۔ مگر اس کی ماں نے کہاں کہ نہیں بلکہ اس کا نام یوحنا رکھا جائے، انہوں نے اس سے کہا کہ تیرے کنبہ میں کسی کا یہ نام نہیں اور انہوں نے اس کے باپ کو اشارہ کیا کہ تو اس کا کیا نام رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے تختی منگا کے یہ لکھا کہ اس کا نام یوحنا ہے “ (لوقا۔ 1: 57۔ 62) (آیت) ” بغلم “۔ غلام کے معنی لڑکے کے علاوہ فرزند کے بھی ہیں اور یہی یہاں مراد ہیں۔ الغلام الولد الذکر (روح) بغلام اے بولد (ابن عباس ؓ (آیت) ” سمیا “۔ سمی کے ایک معنی تو یہی ’ ہم نام ‘ کے ہیں۔ چناچہ ائمہ تفسیر نے یہاں بھی یہی مراد لی ہے۔ لم یسم احد بیحیی قبلہ (کشاف، بیضاوی) وقال ابن عباس ؓ وقتادۃ والسدی وابن اسلم لم تسم قبلہ احدا بیحیی (بحر) وھو قول ابن عباس ؓ والحسن و سعید بن جبیر وعکرمۃ وقتادۃ (کبیر) اے شریکا لہ فی الاسم (روح) اور انجیل کی روایت بھی اسی کے موافق ہے۔ لیکن لغت ہی میں ایک دوسرے سمی، ” ہم صفت “ یا مثل، شبیہ ونظیر کا بھی پتہ چلتا ہے اور بعض اکابر لغت و اکابر تفسیر کے نزدیک وہی معنی یہاں ثابت ہیں۔ قال مجاھد وغیرہ سمیا اے مثلا ونظیرا (بحر) المراد بالسمی النظیر کمافی قولہ ھل تعلم لہ سمیا (کبیر) عن مجاھد ان سمیا بمعنی شبیھا وروی عن عطار وابن جبیر مثلہ اے لم نجعل لہ شبیھا (روح)
Ayah 19:8

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

(زکریا) بولے اے میرے پروردگار میرے لڑکا کیسے ہوگا درآنحالیکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کہ انتہا کو پہنچا ہوا ہوں،9۔

9۔ حضرت زکریا کا یہ سوال بہ طور اعتراض نہیں، محض تفصیلی استفسار حال کے لیے ہے۔ یعنی اسباب عادی جب سرتاسر ناموافق ہیں، تو اب صورت حال ہوگی کیا ؟ (آیت) ” انی “۔ کے لفظی معنی متعدد ہیں۔ لیکن یہاں بالاتفاق کیف کے مرادف ہے۔ (آیت) ” عتیا “۔ عتی کے معنی ہیں بہت ہی بوڑھا۔ بوڑھا پھوس۔ والعتی المبالغۃ فی الکبر (بحر)
Ayah 19:9

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا (نہیں بلکہ) اسی طرح،10۔ (اے زکریا) تمہارے پروردگار کا قول ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے اور میں نے ہی تو تم کو پیدا کیا درآنحالیکہ تم کچھ نہ تھے،11۔

10۔ جواب ملا کہ نہیں۔ کوئی سی بھی اور نئی بات نہ ہوگی، موجودہ حالات بدستور رہیں گے پھر اولاد ہوگی، اے علی ھذہ الحال (ابن جریر) ھذا کماقلت لک (ابن عباس ؓ 11۔ یعنی خود اپنی پیدائش پر غور کرو، تم خود آخر کیا تھے ؟ معدودم محض تھے۔ عدم محض کو موجود کردینا کب اسباب عادی کے تحت، اور کس مشاہدہ و تجربہ کے موافق ہے ؟ محض ہماری قدرت وکارسازی کا کرشمہ ہے۔ یہ تخلیق توتمامتر بلاواسطہ اسباب ہوتی رہتی ہے۔ تو بڑھاپے میں اولاد دینا، یعنی باوجود سبب ضعیف کے نتیجہ برآمد کردینا تو اس سے کہیں کم مستبعد اور اس سے کہیں آسان تر ہے۔ یہ سب ارشاد آپ کی امید کو اور قوی کردینے کے لیے تھا نہ کہ کسی رفع شبہ کے لیے۔ اس لیے کہ زکریا (علیہ السلام) کو کوئی شبہ تھا ہی نہیں۔ (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہ عمل تخلیق خواہ بااسباب ہو یا بلااسباب۔ زجاج لغوی کا اس سیاق میں قول ایۃ کی تفسیر میں نقل ہوا ہے۔ اے علامۃ اعلم بھا وقوع ما بشرت بہ (لسان)
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا میرے پروردگار میرے لئے کوئی نشان مقرر کردیجیے،12۔ (اللہ نے) فرمایا تمہارے لئے نشان یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین راتیں نہ بول سکوگے درآنحالیکہ تم تندرست ہوگے،13۔

12۔ (جس سے میں سمجھ جاؤں کے اب ظہور وعدہ کا وقت قریب آپہنچا اور میں بالکل مطمئن ہوجاؤں کہ تیرے فرشتہ نے مجھے جو بشارت پہنچائی ہے۔ وہ تیری ہی طرف سے ہے) گویا آپ یہ عرض کررہے ہیں کہ نفس بشارت تو مل چکی لیکن یہ بھی مجھے کسی غیبی اشارہ سے معلوم ہوجاتا تو اچھا تھا کہ اب حمل قرار پاچکا اور بشارت کا تحقق ایک درجہ میں ہوچکا۔ رب اجعل لی علما ودلیلا علی ما بشرتنی بہ ملائکتک من ھذا الغلام عن امرک ورسالتک لیطمئن الی ذلک قلبی (ابن جریر) اے علامۃ تدلنی علی تحقق المسؤل ووقوع الخیر (روح) علامۃ اذا حملت امراتی (ابن عباس ؓ لتستقر نفسی ویطمئن قلبی بما وعدتنی کما قال ابراھیم (علیہ السلام) رب ارنی کیف الخ (ابن کثیر) یہ مفہوم بھی لیاجانا ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی اپنے مزید اطمینان قلب کے لیے کوئی خاص غیبی نشان طلب کررہے ہیں۔ چناچہ ایک قول اسی مضمون کا حضرت ابن عباس ؓ کی جانب منسوب ملتا بھی ہے۔ لیکن محققین متاخرین نے اس روایت کی صحت ہی کو تسلیم نہیں کیا ہے اور صراحت کردی ہے کہ سوال کا تعلق صرف تعیین وقت وزمانہ سے ہے۔ (روح) 13۔ (آیت) ” سویا “۔ کے معنی ہیں سالم، صحیح، غیرناقص کے۔ یعنی آپ جو تین دن ان لوگوں سے گفتگو پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ آپ کے حسب درخواست محض علامت غیبی ہوگی۔ ظہور فرزند کی، اور گویا بالواسطہ آپ (علیہ السلام) کی مقبولیت کی شہادت۔ نہ یہ کہ کوئی مرض یا عذاب ہوگا۔ (آیت) ” رجل سوی “۔ کہتے ہیں اس مرد کو جو اپنی خلقت میں ہر عیب، نقص، افراط، تفریط سے پاک ہو۔ رجل سوی استوت اخلاقہ وخلقتہ عن الافراط والتفریط (راغب) اور آیت میں یہی معنی اہل لغت اور ائمہ تفسیر دونوں نے لیے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے۔ اے تمنع الکلام وانت سوی لااخرس فتعلم بذلک ان اللہ قدوھب لک الولد (لسان) اور ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ قال اعتقل لسانہ من غیرمرض (ابن جریر) اور دوسرا قول بھی انہی صحابی سے منقول ہے۔ صحیحا بلاخرس ولا مرض (ابن عباس ؓ یقول من غیرخرس (ابن جریر) اور مجاہد تابعی کا قول ہے۔ قال صحیحا لایمنعک من الکلام مرض (ابن جریر) اور ایسے ہی اقوال عکرمہ اور قتادہ اور ابن زید اور وہب بن منبہ اور سدی سے بھی منقول ہیں۔ اور خود مفسر اعظم ابن جریر لکھتے ہیں یقول جل ثناءہ علامتک لذلک ودلیلک علیہ ان لا تکلم الناس ثلاث لیال وانت سوی صحیح لاعلۃ بک من خرس ولا یمنعک من الکلام۔ اور یہی مسلک جمہور کا ہے۔ ھذا ماعلیہ الجمھور (روح) اس لفظ کے اضافہ سے قرآن مجید کا مقصود انجیل کی اس غلط بیانی کا ازالہ ہے کہ (نعوذ باللہ) آپ بطور عتاب عارضی طور پر گونگے کردیئے گئے تھے، ملاحظہ ہو پارہ 3 سورة آل عمران۔ لیکن آیت کی ایک دوسری ترکیب بھی صحیح ہوسکتی ہے۔ اور بعض بزرگ اسی طرف گئے ہیں، یعنی (آیت) ” سویا “۔ کو بجائے ضمیر مخاطب سے متعلق کرنے کے تین راتوں کی صفت قرار دیا جائے اور اس صورت میں (آیت) ” سویا “۔ مرادف ہوگا متتابعات کے۔ یعنی ” تم لوگوں سے بول نہ سکوگے تین راتیں متواتر (یا برابر) ” چناچہ ابن جریر ہی میں ایک قول حضرت ابن عباس ؓ سے اس معنی میں بھی منقول ہے۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ اپنی قوم کے روبرو حجرہ میں سے برآمد ہوئے،14۔ اور ان سے اشارہ کیا کہ (اللہ کی) پاکی صبح وشام بیان کیا کرو،15۔

14۔ (جہاں وہ عبادت کرتے رہتے تھے) محراب پر حاشیہ سورة آل عمران آیت 36 کے تحت میں گزر چکا۔ مراد حجرہ عبادت ہے۔ وہ محرابہ موضع مصلاہ (بحر) قیل ان المحراب الغرفۃ (جصاص) 15۔ صبح وشام سے مراد یا تو دوام عبادت ہے کہ دن رات برابر عبادت میں لگے رہو۔ کسی وقت غافل نہ ہو۔ اور یا ان کی شریعت میں یہی وہ خاص وقت نما ز کے ہوں گے ان کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ (آیت) ” اوحی “۔ وحی کے عام لغوی معنی تو اشارہ کے ہیں۔ لیکن بعض نے یہاں اسے امر کے مرادف قرار دیا ہے۔ اور (آیت) ” اوحی الیھم “ کی تفسیر امرھم سے کی ہے۔ چناچہ ابن زید سے یہی منقول ہے۔ اور ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ آپ نے انہیں یہ لکھ کر دے دیا اور یہ معنی مجاہد، سدی کی جانب منسوب ہیں۔ وحی کے ایک تحریر کے بھی آتے ہیں۔ والوحی فی کلام العرب الکتابۃ (بحر)
Ayah 19:12

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ کتاب کو مظبوط پکڑو،16۔

16۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد اس زمانہ کی کتاب شریعت الہی ہے۔ یہ ارشاد حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے اس وقت ہوا جب آپ سن تمیز کو پہنچ چکے تھے۔
Ayahs 19:13–14

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو لڑکپن ہی میں سمجھ دے دی تھی۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور خاص اپنے پاس سے رقت قلب اور پاکیزگی،17۔ اور وہ بڑے پرہیزگار تھے اور نیکی کرنے والے تھے اپنے والدین کے ساتھ اور سرکش ونافرمان نہ تھے،18۔

17۔ ملاحظہ ہوں حواشی سورة آل عمران۔ زیر آیت 38۔ حکم کے معنی نبوت بھی ہوسکتے ہیں اور حکمت، شریعت، عقل وفہم بھی۔ الحکم النبوۃ او حکم الکتاب اوالحکمۃ اواللت وھو العقل (بحر) اعلم ان فی الحکم اقوالا الاول انہ الحکمۃ والثانی انہ عقل والثالث انہ النبوۃ (کبیر) الحکم الفھم والعلم (ابن عباس ؓ الحکمۃ وھو فھم التورۃ والفقہ فی الدین (مدارک) بہرحال حکم کے تحت میں علمی وذہنی کمالات آگئے اور (آیت) ” حنانا وزکوۃ “ کے تحت میں عملی واخلاقی۔ گویا آپ کی ذات جامع تھی علمی وعملی، ذہنی واخلاقی کمالات واوصاف کی۔ (آیت) ” زکوٰۃ “۔ سے مراد اصطلاح فقہ والی زکوٰۃ مال نہیں بلکہ عام حسن عمل و پاکیزگی ہے۔ اے عملا صالحا زکیا (کبیر۔ عن ابن عباس وقتادۃ والضحاک وابن جریر) الحکم۔ فقیہ جلیل ابن العربی مالکی نے لکھا ہے کہ حکم کے یہاں تین معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک وحی، دوسرے نبوت، تیسرے اس کی معرفت اور اس پر عمل اور یہ تینوں معنی درست ہوسکتے ہیں، صغر سنی میں نزول وحی اور مکاشفہ ملائکہ جائز ہیں (احکام القرآن) (آیت) ” واتینہ الحکم صبیئا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ اصل اور دلیل ہے اس قول کی جو اکثر لوگوں کی زبان پر جاری رہتا ہے کہ فلاں شخص مادر زاد ولی ہے۔ 18۔ (جیسا کہ ہیرود کے زمانہ میں یہود نے آپ پر تہمت لگائی، اور انہیں باغی و سرکش اور شورش پسند مشہور کرنا چاہا تھا) (آیت) ” تقیا “۔ میں اشارہ اس طرف ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ادا کرنے والے تھے اور (آیت) ” برا بوالدیہ “۔ میں یہ کہ وہ حقوق العباد کے پورے ادا کرنے والے تھے۔ (آیت) ” جبارا “۔ کا تعلق خلق سے ہے۔ یعنی وہ مخلوقات کے ساتھ سختی اور سرکشی سے پیش آنے والے نہ تھے۔ اور (آیت) ” عصیا “ کا تعلق حق تعالیٰ سے ہے۔ یعنی وہ اللہ کے قانون کو توڑنا چاہتے ہی نہ تھے۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور انہیں سلام (پہنچے) جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کہ وہ وفات پائیں گے اور جس دن کہ وہ زندہ اٹھائے جائیں گے،19۔

19۔ (آیت) ” سلم “۔ یہاں اپنے وسیع معنی میں امن وحفظ کے مرادف ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے ان پر سلامتی ان کی پیدائش کے وقت بھی رہی، اور ان کی موت اور بعث کے وقت بھی رہے گی۔
Ayah 19:16

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور (اس) کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک شرقی مکان میں گئیں،20۔

20۔ (غسل کے لیے یا بعض روایات کے بموجب نماز کے لیے) حضرت مریم (علیہا السلام) پر حاشیہ پارۂ سوم سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ واذکر فی الکتب مریم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دونوں قصوں کے مجموعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال وطلب سے بھی دیتا ہے جیسے زکریا (علیہ السلام) کو دیا۔ اور بلاسوال وطلب بھی دیتا ہے جیسے مریم (علیہا السلام) کو دیا اور اس سے یہ بات نکلی کہ اللہ کا ہر معاملہ ہر شخص کے ساتھ جداجدا ہے۔
Ayah 19:17

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کے سامنے سے انہوں نے پردہ کرلیا،21۔ پھر ہم نے ان کے پاس اپنے فرشتہ خاص کو بھیجا وہ ان کے سامنے بھلا چنگا انسان بن کر ظاہر ہوا،22۔

21۔ (کہ ان کی نگاہوں سے آڑ میں ہوجائیں) (آیت) ” دونھم “۔ ھم ضمیر جمع ہے مراد آپ کے گھروالے ہیں جن کا ذکر اھلھا میں موجود ہے۔ 22۔ یعنی ایک فرشتہ خاص کو اس خلوت میں ان کے پاس انسان کی شکل میں بھیجا۔ (آیت) ” روحنا “۔ قرآن مجید نے ملائکہ مقربین و خواص کو روح ہی سے تعبیر کیا ہے۔ وسمی اشراف الملئکۃ ارواحا (راغب) اور فراء لغوی نے کہا ہے کہ یہاں روح کی اضافت اللہ کی طرف ایسی ہی ہے جیسی اللہ کی زمین اور اللہ کا آسمان بولا جاتا ہے۔ اضاف الروح المرسل الی مریم الی نفسہ کما تقول ارض اللہ وسماۂ (لسان) بہرحال یہاں مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں قال الاکثرون انہ جبرئیل (علیہ السلام) (کبیر) انجیل میں بھی انہیں کے نام کی تصریح ہے۔ ” چھٹے مہینے جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا، ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا۔ اور اس کنواری کا نام مریم تھا “۔ (لوقا۔ 1: 26) (آیت) ” سویا “۔ یعنی بھلا چنگا، پوراپورا، صحیح وسالم۔ (آیت) ” تمثل “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ تمثل سے حقیقت ملکیہ کا معدوم ہوجانا لازم نہیں آتا۔ یہ اشباح اس حقیقت کے اعتبار سے ایسے ہی ہیں جیسے ہمارے اعتبار سے مختلف لباس ،
Ayah 19:18

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

وہ بولیں میں تجھ سے (خدائے) رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو خدا ترس ہے،23۔

23۔ یعنی اگر تو کچھ بھی خوف خدا رکھتا ہے تو میں تجھے خدا ہی کا واسطہ دے کہتی ہوں کہ تیرا یہاں کیا کام۔ یہ آپ نے اس طرح گھبرا کر فرمایا، جیسے ہر شریف خاتون کسی اجنبی مرد کو اپنے خلوت میں آتے ہوئے دیکھ کر قدرۃ کہے گی ،
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

(فرشتہ نے) کہا میں تو بس تمہارے پروردگار کا ایک ایلچی ہوں،24۔ تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں،25۔

24۔ یعنی مجھ سے ڈرئیے اور گھبرائیے نہیں، میں تو انسان نہیں ہوں، اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ 25۔ (اللہ کی طرف سے واسطہ بن کر) یعنی تم پر دم کردوں اور اس سے باذن حق تعالیٰ تمہارے حمل رہ جائے۔ اے لاکون سببا فی ھبتہ بالنفخ فی الدرع (روح) اس معنی میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن ایک دوسری تشریح یہ بھی کی گئی ہے۔ کہ یہ قول بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ہو اور یہاں حکایۃ نقل ہوا ہو۔ تقدیر کلام اس صورت میں یوں ہوگی۔ ربک الذی قال ارسلت ھذہ الملک لاھب لک (روح) اور ایک قرأۃ میں بجائے (آیت) ” لاھب “۔ کے لیھب آیا بھی ہے۔ چناچہ خیرالامت ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسی قرأۃ کو اختیار کیا ہے اور تفسیر میں تقدیر کلام یہ رکھی ہے۔ لکی یھب اللہ لک۔ اس سے بات اور زیادہ صاف و واضح ہوگئی۔
Ayah 19:20

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

وہ بولیں میرے لڑکا کیسے ہوجائے گا درآنحالیکہ نہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں بدچلن ہی ہوں،26۔

26۔ غرض یہ کہ مرد کی مقاربت سے جو حمل کے لیے شرط عادی ہے، میں جائزوناجائز ہر طرح سے دور ہوں۔ (آیت) ” لم یمسسنی بشر “۔ یعنی بطریق نکاح حاشیہ پارہ 3 سورة آل عمران میں گزر چکا۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ ان کا مخاطب انسان نہیں، فرشتہ ہے تو اب ان کا یہ قول بہ طور انکار نہیں بلکہ محض اظہار تعجب کے لئے ہے۔ (آیت) ” لم اک بغیا “۔ اس فقرہ سے تردید بھی مقصود ہے یہود مردود کی۔ جو آپ (علیہ السلام) کو متہمم کررہے تھے۔
Ayah 19:21

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتہ نے) کہا (یہ) یوں ہی ہوگا،27۔ تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے،28۔ اور (یہ اس لئے بھی) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیں،29۔ اور اپنی طرف سے سبب رحمت،30۔ اور یہ ایک بات طے شدہ ہے،31۔

27۔ (بلامس بشر) انجیل میں یہ قصہ یوں درج ہے :۔ ” اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔ پس اس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا اور اسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا، چپکے سے اس کے چھوڑدینے کا ارادہ کیا۔ وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے اسے خواب میں دکھائی دے کر کہا اے یوسف ابن داؤد، اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر، کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے، وہ بیٹا جنے گی اور تو اس کا نام یسوع رکھنا “ (متی۔ 1: 18۔ 21) قرآن مجید کی توحید خالص اور انجیل کے شرک آمیز انداز بیان کا فرق اسی سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں اس واقعہ کو ہر جگہ قدرت پروردگار ہی کا کرشمہ قرار دیا ہے بہ خلاف اس کے انجیل میں ایک نہیں دو دو جگہ اسے ” روح القدس کی قدرت “ کی جانب منسوب کیا ہے۔ 28۔ خدائے تعالیٰ تو کہتے ہی اس ہستی کو ہیں جو سارے اسباب سے بالاتر اور مسبب الاسباب ہے۔ سلسلہ اسباب کا خالق وفاطر، اسباب اس کے پابند و محکوم، وہ اسباب کا پابند و محکوم نہیں، اور اگر کسی برتر ہستی کو محکوم وپابند ہی تسلیم کرنا ہے تو وہ اور جو کچھ بھی ہو بہرحال خدا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کسی خدا پرست کی زبان کا کسی خدائی فعل سے متعلق اس بنا پر انکار پر کھلتا کہ وہ خارق عادت ہے دلیل عقل کی نہیں، بےعقلی وحمق کی ہے ... اب رہا خدا کا منکر تو اس سے گفتگو ولا نفس وجود باری پر کی جائے گی یہ کہ ان جزئیات پر۔ (آیت) ” ھو “۔ یعنی یہ تخلیق بلااسباب عادیہ۔ 29۔ (اپنی قوت وقدرت کا، اور یہ دکھا دیں کہ ہم تخلیق کائنات پر ہر طرح قادر ہیں، بہ توسط اسباب عادیہ بھی اور بلاتوسط اسباب عادیہ بھی) اے علامۃ لبنی اسرائیل ولد بلااب (ابن عباس ؓ 30۔ ان کے حق میں جو ہمارے اس نشان قدرت پر ایمان لائیں، اور اس سے ہدایت حاصل کریں) 31۔ (جو پوری ہو کر رہے گی) یہ سارا زور اور ساری تاکیدی کس امر کی دلیل ہیں ؟ اس امر کی کہ کوئی بات، معمول عام کے خلاف واقع ہونے کو جارہی تھی، اور وہ یہی ولادت بلاواسطہ والد تھی، ورنہ اگر محض عام و طبعی ولادت کا ذکر مقصود تھا تو اس شدومد اور اتنے اہتمام کی کیا ضرورت تھی ؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید مسیح (علیہ السلام) کی بن باپ کی ولادت کا قائل نہیں وہ ذرا قرآن کے بین السطور پر بھی غور فرمالیں۔
Ayah 19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر ان کے حمل قرار پا گیا پھر وہ اسے لئے ہوئے کہیں ایک دور جگہ چلی گئیں،32۔

32۔ حضرت مریم (علیہا السلام) قصبہ ناصرہ (علاقہ گلیل ملک شام) میں رہا کرتی تھیں، مگر زمانہ حمل میں آپ اپنے منگیتر سمیت اب مقام بیت لحم کو آگئیں، جو ناصرہ سے 71 میل کے فاصلہ پر ہے۔ انجیل میں ہے :۔” ان دنوں میں ایسا ہوا کہ قیصر اوکستس کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ ساری دنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں، یہ پہلی اسم نویسی سوریا کے حاکم کو رتیس کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔ پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرہ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہودیہ میں ہے۔ اس لئے کہ وہ داؤد کے گھرانے اور اولاد سے تھا، تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حاملہ تھی نام لکھوائے، جب وہ وہاں تھے تو ایسا ہوا کہ اس کے جننے کا وقت آپہنچا۔ “ (لوقا۔ 2: 1۔ 6) بعض مسیحی علماء نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مولد ایک دوسرے بیت لحم کو تسلیم کیا ہے جو ناصرہ سے شمال ومغرب میں واقع ہے۔
Ayah 19:23

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

سو انہیں دردزہ ایک کھجور کے درخت کی طرف لے گیا،33۔ (اور) وہ بولیں کاش میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی۔ اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی،34۔

33۔ (کہ اسی کے سہارے اٹھیں بیٹھیں) طلبا لسھولۃ الولادۃ للتثبت بھا (کبیر) کھجور شام و فلسطین میں اب بھی پیدا ہوتا ہے لیکن قدیم زمانہ میں تو بڑی کثرت سے ہوتا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، بعض نے کہا ہے کہ یہ درخت اسی وقت بطور خارق عادت اگا دیا گیا تھا، لیکن اس قول پر کوئی دلیل نہیں۔ اور غالب احتمال یہی ہے کہ پہلے سے موجود ہوگا۔ والظاھر ان النخلۃ کانت موجودۃ قبل مجیء مریم الیھا (بحر) دوسرے احتمالات بھی ممکن ہیں۔ یحتمل للتقویۃ والا ستناد الیھا (کبیر) ویحتمل للتستربھا (کبیر) 34۔ یعنی کسی کو میری یہ بدنامی یاد بھی نہ رہ گئی ہوتی کہ فلاں بےشوہری عورت کے اولاد ہوئی تھی۔ یہ کلمات آپ کی زبان پر فرط غیرت سے اور بدنامی کے خوف سے بےساختہ آگئے تھے۔ محققین نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ موت کی تمنا کسی دینی محرک وداعیہ کے باعث جائز ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ تمنائے موت اگر غم دنیا سے تھی، جب تو غلبہ حال کو اس کا عذر قرار دیا جائے گا جس میں انسان من کل الوجوہ مکلف نہیں رہتا اور اگر غم دین سے تھا کہ لوگ بدنام کریں گے اور میں شائد صبر نہ کرسکوں اور بےصبری کی معصیت میں مبتلا ہوجاؤں، موت آجاتی تو اس معصیت سے حفاظت رہتی تو ایسی تمنا ممنوع نہیں ہے۔
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پھر (فرشتہ نے) انہیں ان کے پائیں سے پکارا کہ رنج مت کرو،35۔ تمہارے پروردگار نے تو تمہارے پائیں ہی میں ایک نہر پیدا کردی ہے

35۔ (اپنی بدنامی یا اپنی بےسروسامانی کے خیال سے) یہ پکار کر کہنے والے جبرئیل (علیہ السلام) ہی تھے۔ قال ابن عباس وقتادۃ والضحاک والسدی جبریل (علیہ السلام) (جصاص) (آیت) ” من تحتھا “۔ یعنی جہاں وہ تھیں اسی مقام کے پائیں سے۔ من اسفل الوادی (ابن کثیر)
Ayah 19:25

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور اس کھجور کے تنہ کو اپنی طرف ہلاؤ اس سے تم پر تروتازہ خرمے گریں گے،36۔

36۔ یہ تروتازہ خرموں کا گرنا اگر بہ طریق اعجاز خرق عادت نہ تھا تو ظاہر ہے کہ مریم (علیہ السلام) کا وضع حمل ایسے ہی موسم میں ہوا ہوگا جو ملک شام میں کھجوروں کے تیار ہونے کا زمانہ ہوتا ہے ...... ولادت مسیح (علیہ السلام) کا زمانہ تقریبی وتخمینی طور پر تو اس سے بآسانی متعین ہوسکتا ہے۔ یونانی اطبا نے تازہ خرموں کو زچہ خانہ کے لئے بہترین غذا تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” سر یا “۔ بہتی ہوئی نہر۔ اے نھرا یسری (راغب) اتفق المفسرون الاالحسن وعبد الرحمن ابن زید ان السری ھو النھر (کبیر) عن ابن عباس السری النھر وبہ قال عمروبن میمون نھر تشرب منہ (ابن کثیر) وقال السدی ھو النھر واختار ھذا القول ابن جریر وقد وردفی ذلک حدیث مرفوع (ابن کثیر) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں اشارہ اس طرف ہے کہ تحصیل رزق میں بھی فی الجملہ سعی کرنا مطلوب ہے اور توکل کے منافی نہیں۔
Ayah 19:26

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

اور کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو،37۔ اور اگر کسی بشر کو دیکھنا تو کہہ دینا،38۔ کہ میں نے تو خدائے رحمن کے لئے روزہ کی نذر مان رکھی ہے سو میں تو آج کسی انسان سے بولوں گی نہیں،39۔

37۔ یعنی یہ مفید وپر تغذیہ طبی پھل جو ملا ہے، اسے کھاؤ اور اس چشمہ کا پانی پیو اور بچہ کو دیکھ کر قلب کی راحت حاصل کرو۔” اکل وشرب کا حکم بہ ظاہر اباحت کے لئے معلوم ہوتا ہے۔ “ (تھانوی (رح ) 38۔ (اشارہ سے) آنے والا جو آئے گا وہ اغلب احوال میں بچہ کی پیدائش کو حیرت واعتراض ہی کی نظر سے دیکھے گا۔ اس موقع کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) کو ہدایت ہوتی ہے کہ تم سوال و جواب میں نہ پڑنا، بلکہ یہ کہہ کر کہ میں تو آج صوم سکوت نذر مانے ہوئے ہوں چپ ہوجانا۔ (آیت) ” فقولی “۔ کے تحت میں بعض مفسرین نے بڑھایا کہ یہ بات بھی اشارہ سے کہنا ورنہ صوم سکوت سے تناقص لازم آتا ہے۔ لیکن اتنا تکلف غیر ضروری ہے۔ بہ آسانی ممکن ہے کہ یہ اطلاعی فقرہ کہہ کر وہ چپ ہوگئی ہوں۔ وقالت فرقۃ معنی فقولی اے بالاشارۃ لا بالکلام والافکان تناقض منافی قولھا انتھی ولا تناقض لان المعنی فلن اکلم الیوم انسیا بعد قولی ھذا (بحر) 39۔ گویا حکم یہ ملا کہ تم روزہ کی نذر مان لو۔ اور جب کوئی تم پر اعتراض کرنے لگے تو تم اس پر بھی ظاہر کردینا، اور خود سوال و جواب میں نہ پڑنا۔ (آیت) ” فلن اکلم الیوم انسیا “۔ روزہ بہت سی اگلی شریعتوں میں سکوت کے ساتھ ہوتا تھا۔ شریعت اسلامی میں صوم سکوت جائز نہیں۔ ایک شریف خاتون کے لئے جب خود اسی کی عصمت زیر بحث آنے لگے، اپنی بریت وصفائی میں بھی تقریر کرنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ ہر صاحب فہم اور ہر صاحب تجربہ رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی نزاکت جذبات کا لحاظ فرما کر کتنا اچھا نسخہ انہیں بتا دیا کہ تم اس سوال و جواب ہی میں نہ پڑنا، بلکہ جواب اپنے اس بچہ ہی سے دلوانا (جیسا آگے آرہا ہے) ہم اسے بطور خارق عادت تمہاری صفائی میں گویا کردیں گے۔
Ayah 19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ انہیں (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم والوں کے پاس آئیں،40۔ وہ لوگ بولے اے مریم (علیہ السلام) تو نے تو بڑے غضب کی حرکت کی،41۔

،40۔ اب وہ وقت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوچکی ہے اور آپ انہیں گود میں لئے ہوئے شہر کو آئی ہیں۔ 41۔ یعنی (نعوذباللہ) یہ بدکاری کا ثمر لے کر آئیں۔ یہ اس لئے کہا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ یہود بجز معصیت شدید کی بدگمانی کے اور کوئی دوسرا قیاس قائم نہ کرسکے۔ ” حمل وتولد بلاتوسط مرد کے خارق عادت ہے۔ اور خوارق میں کتنا ہی استبعاد ہومضائقہ نہیں، لیکن اس میں اس وجہ سے زیادہ استبعاد بھی نہیں کہ حسب تصریح کتب طب، عورت کی منی میں قوت منعقدہ کے ساتھ قوت عاقدہ بھی ہے۔ اسی لئے مرض رجا میں کچھ ناتمام صورت بھی بن جاتی ہے۔ کما صرح فی القانون۔ بس اگر یہی قوت عاقدہ اور زیادہ بڑھ جائے تو زیادہ مستبعد نہیں ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” جئت “۔ یہاں یہ معنی فعلت ہے (روح) (آیت) ” فریا “۔ فری کہتے ہیں گری پڑی چیز کو۔ چناچہ افتراء بھی اسی مادہ سے ہے۔ یہاں تفسیر عظیم، اور عجیب، اور مصنوعی چیز سے کی گئی ہے۔ قیل معناہ عظیما وقیل عجیبا وقیل مصنوعا (راغب) شیئا عظیما منکرا (کبیر) قال مجاھد والسدی الفری العظیم الشنیع (بحر)
Ayah 19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن ! نہ تمہارے والد ہی برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں ہی بدکار تھیں،42۔

42۔ (تو یہ بھی تو نہیں کہا جاسکتا کہ والدین کی برائی کا اثر تم میں آگیا۔ ایسے نیک اور خوش چلن، شریف خاندان میں ہو کر اور یہ حرکت ! کتنی شرم کی بات ہے) غیرت دلانے کا اس سے زیادہ مؤثر زور دار طریق اور ہو کیا سکتا تھا۔ (آیت) ” یاخت ھرون “۔ اخت صیغہ مؤنث اخ کا ہے۔ اور جس طرح اخ کا مفہوم نہایت وسیع ہے اور وطنی، دینی، صناعتی ہر قسم کے اشتراک وتشابہ پر حاوی، اسی طرح اخت کا اطلاق بھی نسب پر محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کے اشتراک کے لئے عام ہے۔ یہاں بھی مفہوم اسی مثلیت کا ہے۔ گویا وہ لوگ کہہ یہ رہے ہیں کہ اے ہارون جیسی خاتون، اے تقوی و پاکیزگی میں ہارون کی ہم سطح خاتون، نسبت الیہ بمعنی التشبیہ لابمعنی النسبۃ (کبیر) والمراد بالاخت انھا واحدۃ منھم کما یقال العرب اخا العرب وھو المروی عن السدی (روح) شبھوھا بہ علی معنی (آیت) ’ ’ اناظننا انک “ مثلہ فی الصلاح ولیس المراد منہ الاخوۃ فی النسب (معالم) خود قرآن میں بھی اخت مشابہ کے معنی میں آیا ہے۔ وما نریھم میں ایۃ الاھی اکبر من اختھا (زخرف۔ ع 4) (آیت) ” ھرون “۔ یہ ہارون کون تھے ؟ اغلب تو یہی ہے کہ وہی ہارون (علیہ السلام) نبی مراد ہوں۔ جو اپنے تقوی و پاکیزگی کے لئے اسرائیلیوں میں ضرب المثل تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کوئی اور ہارون مریم (علیہ السلام) کے معاصر ہوں، جن کا تقوی اس عہد کے لوگوں میں معروف ومسلم ہو۔ اور یہ اگر کوئی صالح شخص حضرت مریم (علیہ السلام) کے بھائی ہی ہوں تو اس میں بھی کوئی تاریخی استبعاد نہیں۔ جب کہ والدین مریم (علیہ السلام) کی اولاد کی تفصیل کہیں محفوظ نہیں۔
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

اس پر مریم (علیہ السلام) نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا،43۔ وہ بولے ہم اس سے کیسے بات چیت کریں جو ابھی گہوارہ میں (پڑا ہوا) بچہ ہی ہے،44۔

43۔ (کہ جو کچھ کہنا سننا ہے اسی بچہ سے کہوسنو) 44۔ یہودا اسے حضرت مریم (علیہ السلام) کی زبان سے طنز وتمسخرسمجھ کر اور جھنجھلائے، اور بولے کہ کیا باتیں کرتی ہو ؟ ہم مخاطب اس ناسمجھ، بےزبان بچہ سے ہوں جو ابھی گہوارہ میں پڑا ہوا ہے ! لمااشارت الیہ غضبوا غضبا شدیدا (کبیر۔ عن السدی) (آیت) ” کان “۔ ابوعبیدہ لغوی کا قول ہے کہ یہاں زائدہ ہے (بحر) اور یہ تو بہرحال لازمی نہیں کہ اس کے معنی ماضی کے لئے جائیں، یعنی اس زمانہ کے جو مکالمہ کے وقت منقطع ہوچکا ہے۔ اور خود قرآن مجید میں متعددنظیریں (آیت) ” کان “۔ کے اس استعمال کی ہیں۔ مثلا (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ “۔ کے یہ معنی آج تک کوئی نہیں سمجھا ہے کہ زناکسی زمانہ گذشتہ میں فعل بد تھا۔ چناچہ یہاں بھی محققین نے تصریح کردی ہے کہ کان سے مراد کوئی ایسا زمانہ نہیں جو اس وقت منقطع ہوچکا ہے۔ لایدل ذلک علی الانقطاع (بحر)
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

) وہ بچہ) بول اٹھا میں اللہ کا بندہ ہوں،45۔ اس نے مجھے کتاب دی اور اس نے مجھے نبی بنایا،46۔

45۔ (اور بندہ بھی خاص ومقرب) اس ذرا سے فقرہ میں تردید آگئی آپ (علیہ السلام) کے متعلق ہر قسم کے غلو کی ....... ایک طرف انصاری کی افراط کی بھی اور دوسری طرف یہود کی تفریط کی بھی۔ اور آپ کی صحیح و حقیقی حیثیت واضح و متعین ہوگئی۔ (آیت) ” قال “۔ یہود کی مخاطبت کا انتظار کئے بغیر آپ (علیہ السلام) باذن الہی خود ہی بول اٹھے۔ اس خرق عادت کا ظہور، خود یہود کے مسلمات کے لحاظ سے، آپ کی اعلی مقبولیت کا ثبوت تھا۔ اور فساد نسب اس مقبولیت عظمی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس سن میں آپ کا تکلم یہود کی بدگمانی رفع کے لئے بجائے خود کافی ہوجانا چاہیے تھا۔ امام رازی (رح) نے اس پہلو کی جانب اشارہ کیا ہے۔ 46۔ مستقبل کے واقعات کو، جب کہ ان کا وقوع بالکل یقینی اور غیر مشتبہ ہو، بہ صیغہ ماضی بیان کرنا عادت قرآنی کے عین مطابق ہے۔ المراد بان حکم وقضی بانہ یبعثنی من بعد (کبیر عن ابن عباس ؓ بعض اقوال یہ بھی نقل ہوئے ہیں کہ حضرت کا یہ قول اس وقت کا نہیں، بہت بعد کا ہے۔ پہلا قول (آیت) ’ عبداللہ “۔ پر ختم ہوگیا۔
Ayah 19:31

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور (اسی نے) مجھے بابرکت بنایا، میں جہاں کہیں بھی ہوں،47۔ اور (اسی نے) نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں،48۔

47۔ یعنی خلق کو میرے ذریعہ سے دین کا نفع پہنچے گا۔ مبارک کے معنی معلم خیر کے بھی کیے گئے ہیں۔ قال مجاھد معلما للخیر۔ قال غیرہ جعلنی نفاعا (جصاص) 48۔ یعنی مجھے احکام شریعت دے کر بھیجا گیا ہے میرے اوپر بھی زندگی بھر عبادتیں اور احکام شریعت کی پیروی فرض ہیں۔ انجیل برنابا میں، جو حضرت مسیح کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اور جسے مسیحی اپنے اعراض و عقائد کے مخالف پاکر جعلی قرار دیتے ہیں، اس میں اس مفہوم کی آیت موجود ہے (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی)
Ayah 19:32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور مجھے میری والدہ نے نیکی کرنے والا (بنایا) ،49۔ اور مجھے سرکش وبدبخت نہیں بنایا،50۔

49۔ اس میں تردید ہے انجیل مروجہ کی پیدا کی ہوئی اس غلط فہمی کی کہ آپ کا برتاؤ اپنی والدہ کے ساتھ اچھا نہ تھا۔ اور آپ ان سے بےرخی، بےالتفاتی، بےاعتنائی برت جاتے۔ (ملاحظہ ہو متی 12: 46۔ 50) مرقس 3: 31۔ 35 لوقا 8: 19۔ 21) اس حسن سلوک کے موقع پر بجائے والدین کے صرف والدہ کا نام لانا خود اس امر کا قرینہ ہے کہ آپ کی پیدائش والد کے توسط کے بغیر ہوئی تھی۔ 50۔ (کہ میں خلق یا خالق کسی کے بھی ادائے حقوق میں کمی کروں یا اعمال کے ترک سے بدبختی خریدوں) انجیل میں آپ کی زبان سے ہے :۔ ” میں حلیم ہوں اور دل کا فرد تن “ (متی 11: 29) نیز ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ فقہاء نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ انسان کا اپنی زبان سے اپنے اوصاف کمالی کا ظاہر کرنا بالکل جائز ہے، بشرطیکہ مقصود تعارف ہو، ناز وافتخار نہ ہو، یدل علی انہ یجوز للانسان ان یصف نفسہ بصفات الحمد والخیر اذا ارادتعریفھا الی غیرہ لاعلی جھۃ الافتخار (جصاص)
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور میرے اوپر سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس روز میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا،51۔

51۔ سلام یہاں وسیع معنی میں ہے، یعنی اللہ کے حفظ وامن کے مرادف۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 19۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (یہ ہے وہ) سچی بات جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں،52۔

52۔ یہ ہے ان کی صحیح کیفیت۔ یہ ہے ان کے نبی اور بندہ مقبول ومقرب ہونے کا صحیح اور سچا بیان۔ نہ وہ خدا، نہ فرزند خدا، نہ مظہر خدا، جیسا کہ عیسائیوں نے گڑھ رکھا ہے۔ نہ وہ بندہ نامقبول ومردود، جیسا کہ یہود نے طرح طرح انہیں متہم کر رکھا ہے۔ (آیت) ” الذی فیہ یمترون “۔ ان کے باب میں جھگڑا کرنے والے بھی افراط وتفریط میں مبتلا اور غلو کرنے والے فرقہ ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اوپر کے قول (آیت) ” انی عبداللہ “۔ الخ، کی جانب ہے یعنی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہی ہیں جو ان صفات سے موصوف ہیں۔ الاشارۃ الی ماتقدم وھو قولہ انی عبداللہ اتانی الکتاب اے ذلک الموصوف بھذہ الصفات ھو عیسیٰ بن مریم (کبیر) (آیت) ” قول الحق “۔ یعنی اصل حقیقت یہ ہے، کہ وہ داستانیں جو اہل باطل نے گڑھ گڑھ لی ہیں۔ علی معنی انہ ثابت لا یجوز ان یبطل (کبیر)
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اور اللہ کی یہ شان ہی نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے وہ بالکل پاک ہے،53۔ وہ تو جب کسی امر کا تہیہ کرلیتا ہے تو بس اس سے صرف اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، سو وہ ہوجاتا ہے،54۔

53۔ اس کی جانب اولاد کا انتساب معمولی اور فرعی غلطی نہیں۔ بنیادی، مرکزی اور اہم ترین ضلالت ہے۔ اتخاذ ولد پر حاشیہ سورة بقرہ۔ (آیت) ” وقالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ سبحنہ “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ (آیت) ” من ولد “۔ من تاکید نفی کے لئے ہے۔ جیء من لتاکید النفی (مدارک) (آیت) ” ماکان للہ “۔ یہ اسی طرح کا فقرہ ہے۔ جیسے دوسری جگہ قرآن میں ہے۔ ماکان للہ ان یظلم۔ اے لایلیق ذلک بحکمتہ و کمال الھیہہ (کبیر) 54۔ (ایسے قوت واقتدار مطلق رکھنے والے کو اولاد کی حاجت کیا، اور ایسے کمال والے کے لئے اولاد کا ثابت کرنا عقلا کمال کا نہیں نقص کا اثبات کرنا ہے) (آیت) ” کن فیکون “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا۔ (آیت) ” لہ “۔ یعنی اسی امر سے، جو اپنے وقوع میں آنے سے پیشتر ہی حکم الہی میں موجود رہتا ہے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو یہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے،55۔

55۔ (آیت) ” ان اللہ “۔ الخ یہ رسول اللہ ﷺ کو حکم مل رہا ہے کہ آپ اپنی طرف سے کہہ دیجئے۔ التقدیر فقل یا محمد ان اللہ ربی وربکم الخ (کبیر) (آیت) ” ھذا “۔ مراد ان امور سے ہے جن کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔ یعنی حق تعالیٰ کی توحید اور شرک سے تبری کا مل۔ اے ما ذکر من التوحید (روح)
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (مختلف) گروہوں نے باہم اختلاف ڈال لیا،56۔ سو کافروں کے حق میں بڑی آفت (آنے والی) ہے (اس) بڑے دن کی آمد پر،57۔

56۔ یہاں اختلاف سے مراد وہ اختلاف نہیں، جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان ہے بلکہ وہ اختلاف مراد ہے جو خود اہل باطل یا غالی مسیحیوں ہی کے مختلف فرقوں کے درمیان ہے جن کے جھگڑوں سے تاریخ کلیسا بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” الاحزاب “۔ مراد وہ فرقے ہیں جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں مسیحیوں کے درمیان بہت بڑی تعداد میں پیدا ہوچکے ہیں۔ اور یہود کے فرقے ان پر مستزاد۔ 57۔ (آیت) ” یوم عظیم “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ روز قیامت ہے، جو بااعتبار امتداد بھی بہت بڑا ہوگا اور بہ اعتبار اشتداد بھی۔ (آیت) ” مشھد “۔ سے مراد نفس شہود بھی ہوسکتا ہے اور مکان شہود بھی اور زمان شہود بھی۔ یحتمل ان یکون المراد من المشھد نفس شھود ھم وھو الحساب والجزاء فی القیامۃ او مکان الشھود فیہ او وقت الشھود (کبیر) (آیت) ” الذین کفروا “۔ کا اطلاق ہر کافر گروہ کے لیے عام ہے، لیکن یہاں اشارۂ خاص انہیں قوموں کی جانب ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق گمراہ ہوئی ہیں۔ یہود ونصاری مع اپنے تمام ذیلی وضمنی فرقوں کے۔ اے تحزبوا فی عیسیٰ (ابن عباس ؓ
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

یہ کیسے کچھ سننے والے اور دیکھنے والے ہوجائیں گے جس روز ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج تو یہ ظالم کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہیں،58۔

58۔ یعنی حشر میں تو انکشاف حقائق ان کافروں کو بھی کامل ہو کر رہے گا، لیکن آج دنیا میں تو یہ سرتاسر ظلمت ظلالت میں غرق ہیں۔ (آیت) ” اسمع بھم وابصر “۔ محاورہ میں کمال تعجب کے موقع پر آتا ہے۔ یعنی آج تو یوں اندھے بہرے ہیں، کل قیامت میں سب کمال حیرت سے دیکھیں گے کہ آنکھیں خوب روشن اور کان خوب تیز ہوگئے ہیں ! الجمھور علی ان لفظہ امر ومعناہ التعجب (مدارک)
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور آپ انہیں اس حسرت کے دن سے ڈرائیے جب کہ اخیر فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ لوگ بےپروائی میں (پڑے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے،59۔

59۔ (اور چونکہ حقائق ایمانی پر پوری توجہ بھی کبھی صرف نہیں کرتے، اس لیے ان کی یہ غفلت یا بےپروائی بھی اختیاری ہی ہے، اور یہ اس میں معذور ذرا بھی نہیں) (آیت) ’ یوم الحسرۃ “۔ حسرتیں تو کافروں کے نصیب ہی میں ہیں یوم حشر میں ان حسرتوں کا شمار وعدد، اور کیفیت وکمیت کے ہر اعتبار سے شدید ترین وقوی ترین ہونا ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” اذ قضی الامر “۔ یعنی جنت و دوزخ دونوں ہی کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور اہل جنت واہل جہنم دونوں کو خلود کو حکم سنا کر موت کو ان کے سامنے ذبح کردیا جائے گا۔ حدیث میں یہی تفسیر آئی ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور اس پر رہنے والوں کے وارث رہ جائیں گے اور ہماری ہی طرف (سب) لوٹائے جائیں گے،60۔

60۔ ذات حق جس طرح سب کا مبدء ہے، سب کا مرجع بھی ہے، یعنی جب زمین کی ساری جاندار مخلوق فنا ہوجائے گی تو بس ہم ہی اس کے وارث یا مالک رہ جائیں گے۔ صدیق صیغہ مبالغہ ہے صدق کا، اصطلاح میں بعد نبی کے سب سے اونچا مرتبہ اسی کا ہے۔ اور لفظی معنی ہیں ” بہت بڑے سچے “۔ اے ملازم الصدق لم یکذب قط (روح) توریت میں دو مرتبہ کذب کو حضرت ابراہیم خلیل سے منسوب کیا ہے۔ (پیدائش 12: 13 اور 20: 2) لفظ صدیق لانے سے ممکن ہے اس کی بھی تردید مدنظر ہو۔