Explained with ayahs 83–89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔
حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
سورة طٰهٰ 69
بائیبل اس کے برعکس حضرت ہارون پر الزام رکھتی ہے کہ بچھڑا بنانے اور اسے معبود قرار دینے کا گناہ عظیم ان ہی سے سرزد ہوا تھا
" اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لیے دیوتا بنا دے جو ہمارے آ گے چلے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو، جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا، کیا ہوگیا۔ ہارون نے ان سے کہا تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کر میرے پاس لے آؤ۔ چناچہ سب لوگ ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اتار اتار کر ہارون کے پاس لے آئے۔ اور اس نے ان کو ان کے…
Read the full tafseer →اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا ڏ وَّلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا میں ان کی حماقت اور گمراہی کو بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ فی الواقع ایک بچھڑا زندہ ہی ہوگیا اور گائے کی طرح بولنے بھی لگا تو عقل کے دشمنو یہ تو سمجھو کہ خدائی کا اس سے کیا واسطہ ہے جبکہ نہ وہ تمہاری کسی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے تو اس کو خدا ماننے کی حماقت کا کیا جواز ہے۔
Read the full tafseer →یہ ان سادہ لوحوں کی سادہ لوحی پر اظہار تعجب ہے کہ ان احمقوں نے ذرا نہ سوچا کہ یہ بےجان دھڑ جو نہ ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا آخر کس مرض کی دوا ہے کہ یہ اس کو معبود بنا بیٹھے ! معبود کوئی کھلونا نہیں بلکہ وہ زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ آخر اس سے کون سی ضرورت پوری ہونے والی ہے کہ انہوں نے اس کی عبادت شرع کردی !
Read the full tafseer →89۔ 1 اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت و نادنی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی نہیں پتہ چلا کہ یہ بچھڑا کوئی جواب دے سکتا ہے۔ نہ نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہے۔ جب کہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو ہر ایک کی فریاد سننے پر، نفع و نقصان پہنچانے پر اور حاجت برآوری پر قادر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
35: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون کے لشکر کا چھوڑا ہوا مال غنیمت تھا، اس دور میں مال غنیمت کو استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔ اس کے بجائے اسے ایک میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، اور آسمان سے ایک آگ آکر اسے جلا دیتی تھی، شاید ان زیورات کو پھینکنے کا یہی مقصد ہو کہ آسمانی آگ انہیں آ کر جلا دے۔ اس کے برخلاف عام طور پر تفسیروں میں یہ روایت مذکور ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تھے تو نکلنے سے پہلے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے بہت سے زیورات عید کے موقع پر پہننے کے لیے مستعار لیے تھے وہ سارے زیورات مصر سے نکلتے ہوئے ان کے ساتھ تھے۔ چونکہ یہ زیورات دوسروں کی امانت تھی۔ اس لیے بنی اسرائیل کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔
ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی…
Read the full tafseer →1 یعنی اندھوں کو اتنی موٹی بات بھی نہیں سوجھتی کہ جو مورتی نہ کسی سے بات کرسکے نہ کسی کو ادنیٰ ترین نفع نقصان پہنچانے کا اختیار رکھے، وہ معبود یا خدا کس طرح بن سکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 89 اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْہِمْ قَوْلاً لا ”
کیا انہیں نظر نہیں آتا تھا کہ وہ بچھڑا ان کی کسی بات کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اس میں سے تو ایک بےمعنی بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی اور بس !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
62 یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یعنی ان بدبختوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ اگر اس بچھڑے کی سی آواز نکلتی بھی ہے تو وہ کیا ان کے سوال کا جواب دے سکتا ہے ؟ بلکہ وہ تو سنتا بھی نہیں پھر جواب کیا دے گا ؟ اور جو چیز نہ سن سکے نہ جواب دے سکے وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے یا سنوار سکتی ہے ؟ نیز وہ الہٰ کیسے ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →104۔ اس گوسالہ پر حاشیے سورة بقرہ پارۂ اول میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
آیت نمبر 86 تا 89
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نھے کہا اسے میری قوم کیا تم سے میرے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی سچا وعدہ، یہ کہ وہ تم کو تورات عطا کرے گا، کیا تم پر میری جدائی کا زمانہ زیادہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے، تمہارے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے کہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ تم نے میرے پیچھے پیچھے آنے کو ترک کردیا تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی مَلْکِنَا کے میم میں تینوں حرکتیں درست ہیں، یعنی اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے (خلاف ورزی نہیں کی) لیکن قوم کے زیورات کا کا بوجھ جو ہم پر لاد…
Read the full tafseer →افلا یرون الا یرجع الیہم قولا ولا یملک لہم ضرا ولا نفعا۔ کیا وہ لوگ اتنا نہیں دیکھتے
تھے کہ وہ نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ ان کو کسی طرح کا نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت رکھتا تھا۔
استفہام انکاری اور دیکھنے سے مراد ہے جاننا یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے (بےسمجھے) اس کو معبود بنا لیا اتنا بھی نہ جانا کہ وہ کچھ بھی قدرت نہیں رکھتا۔ اَلاَّیَرْجِعُمیں اَنْ مخففہ ہے یعنی اَنْ تھا جس کو ان کرلیا اور اس کا اسم ضمیر شان ہے جو محذوف ہے اصل میں انہ تھا (یعنی ان ناصبہ مصدریہ نہیں ہے اسی لئے یرجع پڑھا گیا یرجع نہیں پڑھا گیا) قَوْلاً یعنی وہ کوئی بات نہیں کرسکتا تھا نہ کوئی جواب دے سکتا تھا۔…
Read the full tafseer →(89) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی سمجھ کا نقص بیان فرماتے ہیں کہ کیا سامری اور اس کے ساتھی اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا نہ تو انکی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ اس سے کسی نقصان کے دور کرنے اور ان کو کسی قسم کے نفع پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا۔۔ : یہ وہی دلیل ہے جو ابراہیم ؑ نے اپنے والد اور قوم کے سامنے پیش کی تھی : (يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَـيْــــــًٔــا) [ مریم : 42 ] ”اے میرے باپ ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے۔“ موسیٰ ؑ کے پیش کردہ اکثر دلائل وہی ہیں جو ان کے جد امجد ابراہیم ؑ نے پیش کیے تھے، دیکھیے سورة شعراء۔ بنی اسرائیل کی عجائب پرستی دیکھیے کہ دھات کے بنے ہوئے بچھڑے کے بےجان مجسمے کو صرف آواز کی وجہ سے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا مان بیٹھے۔ مجسمہ بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[اَفَلَا يَرَوْنَ : تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ] [اَلَّا يَرْجِعُ : کہ وہ نہیں لوٹاتا (یعنی جواب نہیں دیتا)] [اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [قَوْلًا : کوئی بات ] [وَّلَا يَمْلِكُ : اور وہ اختیار نہیں رکھتا ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [ضَرًّا : کسی نقصان کا ] [وَّلَا نَفْعًا : اور نہ کسی نفع کا ]
ترکیب : (آیت۔ 89) اَلَّا یَرْجِعُ میں اَلَّا کو اَنْ لَا ماننا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مضارع حالت نصب میں یَرْجِعَ آتا۔ لیکن یہ حالت رفع میں یَرْجِعُ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اَنْ مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے یعنی یہ دراصل اَنَّہٗ لَا یَرْجِعُ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →61:۔ یہ چوتھی آیت توحید ہے۔ اور اس سے گوسالہ پرستوں کی حماقت کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ گوسالہ ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کا نفع و نقصان ہی اس کے اختیار میں ہے اور معبود صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب اور متصرف و مکتار اور کارساز ہو۔ ثم بین اللہ تعالیٰ فساد اعتقادھم بان الالوھیۃ لا تصلح لمن سلبت عنہ ھذہ الصفات (بحر ج 6 ص 219) ای ھو عاجز عن الخطاب والجر والنفع فکیف تتخذونہ الھا (مدارک ج 2 ص 49) ۔ لہذا بےبس اور عاجز کو معبود بنالینا سراسر حماقت اور قضیہ عقل کے صریح خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کرنے کا واقعہ بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاددلائیں۔ ان میں روحانی نعمت اللہ کی کتاب تورات بھی جو بنی اسرائیل کی اپنی خواہش کے مطابق انہیں عطا کی گئی اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے چند منتخب آدمیوں کے ہمراہ کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف کیا تو اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ اسی دوران میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کی قوم سامری کی تحریک پر بچھڑے کی پوجا جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔
سامری کون تھا :
سامری کی شخصیت کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں بیان کی ہیں۔ بعض کہتے…
Read the full tafseer →اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِـــعُ اِلَيْہِمْ قَوْلًا 0ۥۙ وَّلَا يَمْلِكُ لَہُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا 89ۧ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اَفَـلاَ یَرَوْنَ اَلاَّیَرْجِعُ اِلَیْھِمْ قَوْلاً 5 لا وَّلاَ یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّاوَّ لاَ نَفْعًا۔ (طٰـہٰ : 89)
(کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ یہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ وہ اختیار رکھتا ہے ان کے لیے کسی ضرر کا اور نہ نفع کا۔ )
لوگوں کی سادگی پر تعجب
یہ ان لوگوں کی سادہ لوحی پر تعجب کا اظہار بھی ہے اور دکھ کا اظہار بھی، کہ ان احمقوں نے اسے بھاں بھاں کرتے دیکھ کر خدا سمجھ لیا لیکن وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ اس میں یہ طاقت ہے کہ کسی کا کچھ نقصان کرسکے، کسی کو تکلیف دے سکے یا کسی کو فائدہ پہنچا سکے۔ اللہ تعالیٰ تو کائنات…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے بےہودہ بہانے کا جواب۔
بنی اسرائیل کی خدا فراموشی اور جہالت کا اندازہ لگائیں کہ انہیں کے زیورات سے ایک شخص بچھڑا بنا کر کہتا ہے کہ یہ ہے وہ الٰہ جس کی تلاش کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر گئے ہیں۔ جاہل قوم نے یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ یہ تو سامری کے کرتب کا کرشمہ ہے اور اس نے ہمارے زیورات سے اسے بنایا ہے۔ انھوں نے آنکھیں بند کرکے اس کی پوجا شروع کردی۔ درحقیقت گمراہ اقوام کا ابتدا ہی سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سوچا ہی نہیں کرتے کہ ہمارے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت اور ہم نے جن بزرگوں کو غسل دے کر اپنے ہاتھوں قبر میں اتارا ہے۔ دفن ہونے کے بعد اب کس…
Read the full tafseer →89: اَفَـلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعَ (کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ جواب نہیں دے سکتا) ای انہ لا یرجع
نحو : انؔ مخففہ من المثقلہ ہے اور ضمیر شان محذوف ہے۔ یہ اَنْ ناصبہ مصدر یہ نہیں اِلَیْہِمْ قَوْلًا (ان کی کسی بات کا) ان کو جواب نہیں دیتا۔
وَّلَا یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا (اور نہ ہی ان کو کسی نفع و نقصان کی قدرت رکھتا تھا) یعنی وہ خطاب، نقصان، نفع سے عاجز ہے۔ پس انہوں نے اس کو معبود کا درجہ کیسے دے لیا۔
ایک قول یہ ہے کہ اس نے ڈھکارا بھی صرف ایک ہی مرتبہ۔
Read the full tafseer →89۔ افلایرون الایرجع الیھم قولا، انہوں نے ایسا بچھڑا انہیں دیکھا جو بولتا تھا بھی ہو اور جواب بھی دیتا ہو جب اس کو پکارا جائے۔
” ولایملک لھم ضرا ولانفعا، ، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ سامری بچھڑا بنارہا تھا، کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ادھر سے گزرے اور پوچھا کہ کیا کررہا ہے سامری نے کہا میں ایسی چیز بنارہا ہوں جو مفید ہوگی ضرر رساں نہیں ہوگی ۔ آپ میرے لیے کامیابی کی دعا کریں حضرت ہارون نے دعا کی کہ اے اللہ یہ جو کچھ تجھ سے مانگ رہے ہیں اس کو اس کی دلی مراد کے مطابق عطافرمادے۔ آپ کی دعا قبول ہوئی اور سامری نے جب بچھڑے کے منہ میں خاک ڈال دی تو وہ بولاچیختا ہوابچھڑا بن گیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 89:۔ اگرچہ اور مفسروں کا قول ہے کہ اس گائے کے بچہ کا گوشت پوست سب کچھ ہوگیا تھا اور وہ چلتا پھرتا تھا لیکن امام المفسیرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ وہ گائے کے بچہ کی صورت کا محض ایک پتلا تھا ہوا کے پھرنے سے اس میں سے ایک آواز نکلتی تھی اور کچھ بھی نہیں تھا 1 ؎۔ اوپر بیہقی اور ابو نعیم کی روایت سے بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے باب میں تفسیر قرآن آجانے کے لیے خاص طور پر دعا کی ہے 2 ؎۔ اس واسطے تفسیر قرآن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول زیادہ اعتماد کے قابل ہے اگرچہ بعضے متاخر مفسر بعضی جگہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول لینے میں یہ عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
90 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا "۔ تو پھر یہ معبود کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کیا ایسی واضح اور کھلی حقیقت پر بھی ان لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ جو نہ کسی کی بات کا جواب تک دے سکے اور نہ وہ ان کیلئے کسی نفع کا اختیار رکھتا ہو نہ نقصان کا وہ آخر ان کا معبود کس طرح بن سکتا ہے ؟ اور ایسی کسی بےحقیقت چیز کو اپنا معبود قرار دے کر اس کی پوجا پاٹ کرنا کس قدر حماقت اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ مگر جب کفر و شرک کی نحوست سے کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے اور وہ اتنا اوندھا اور اندھا ہو کر رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →ف 4 پھر یہ خدا کیونکر ہوسکتا تھا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
(20:89) فتنتم بہ۔ فتنتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اس (بچھڑے) سے۔ یعنی اس بچھڑے کے ذریعہ تمہاری آزمائش ہو رہی ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا :” کہ ان لوگوں نے کیا اتنی بات بھی نہیں دیکھی کہ بنی اسرائیل میں سے بارہ ہزار کے قریب آدمیوں نے، جو اس بچھڑے کی پوجا نہیں کی، ان کو اس نے کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ اور جنہوں نے اس کی پوجا کی نہ ان کے کسی مقصد کو سن کر اس نے کچھ جواب دیا، نہ کسی کا کوئی مقصد پورا کیا۔ خدا کی شان یہ نہیں ہے، اس کی شان تو وہ ہے کہ جب اس نے فرعون اور اس کی قوم کو نقصان پہنچانا چاہا تو ایک دم ان سب کو ہلاک کردیا، اور بنی اسرائیل کو جب اس نے فائدہ پہنچانا چاہا تو ان کے اتنے بڑے دشمن کے پھندے سے انہیں چھوڑا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–92
[37] یعنی ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کے رسم و رواج کے مطابق جو بھاری بھاری زیور پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے اس لئے ہم نے انھیں پھینک دیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سامری ان سے ایک عجیب و غریب چیز بنا کر ہمیں گمراہ کر دے گا۔ یہ تھا عذر ان لوگوں کا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔
[38] '' ہم نے ان کو پھینک دیا تھا '' تک لوگوں کا جواب ہے۔ اس کے بعد آیت کا حصہ لوگوں کے جواب کا ٹکڑا نہیں ؟ جیسا کہ عبارت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-89 بھلا کیا یہ گمراہ لوگ اتنی بات بھی نہیں دیکھتے کہ وہ گوسالہ کا آواز دار مجسمہ نہ تو ان کی کسی بات کا جو با دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی نفع یا ضرر پر کوئی اختیار رکھتا ہے۔ یعنی نہ تو نفع اور نقصان کا مالک اور نہ اتنی سمجھ کہ بات کو سمجھ کر کسی بات کا جواب دے ایسے مجسمے کو معبود بنانا کیسی جاہلانہ حرکت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ف 1۔ یہ معنی نہیں کہ بالکل مضطر ہوگئے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کہ ہم ابتداء مخلی بالطبع ہو کر اختیار کرتے سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا، جس سے ہم نے وہ رائے سابق اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا۔
Read the full tafseer →کیا وہ لوگ اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ وہ نہ تو بات کرتا ہے اور نہ نفع ونقصان کا مالک ہے :
89۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ ان کی بیوقوفی کی بھی کوئی حد ہے کہ وہ خالی ایک بھا۔۔۔۔ ں ۔ بھا۔۔۔۔ ں کی آواز پر مفتون ہوگئے ہیں اور اتنی سی بات بھی نہیں سوچی کہ وہ نہ تو کوئی بامعنی کلام کرتا ہے اور نہ نفع ونقصان ہی کا کچھ مالک ہے پھر وہ معبود والہ کس طرح ہوگیا ۔ اگر زیادہ سے زیادہ اس کو کچھ کہہ سکتے ہیں تو ایک شعبدہ بازی ہی کہا جاسکتا ہے اس کے سوا آخر وہ کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے کہ اس نے اس سونے سے ایک گائے کے بچھڑا کی شکل بنائی لیکن قرآن کریم کے اشارہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا (Do they not then see that it does not respond to them with a word, nor does it have power to harm or benefit them? - 20:89) The excuses put forward by the Bani Isra'il before Sayyidna Musa (علیہ السلام) for the evil deeds end with the previous verse. In this verse Allah reminds them of their folly by pointing out to them that even if the calf had life and made bovine noises would that be sufficient reason to adopt it as the object of their worship? They were well aware that it could not answer…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
69. Here the Quran exonerates Prophet Aaron (peace be upon him) from the sin of taking any part in the calfworship, but in contrast to this, the Bible makes him wholly responsible for making the golden calf and setting it up as a god. According to Exodus:
And when the people saw that Moses delayed to come down out of the mount, the people gathered themselves together unto Aaron, and said unto him, Up, make us gods, which shall go before us; for as for this Moses, the man that brought us out of the land of Egypt, we know not what is become of him. And Aaron said unto them, Break off the golden…
Read the full tafseer →