Explained with ayahs 90–91
بنی اسرائیل اور ہارون ؑ۔
حضرت موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے حضرت ہارون ؑ نے انہیں ہرچند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہر چیز کا خالق مالک ہے سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے وہی عرش مجید کا مالک ہے وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو جو میں کہوں وہ بجا لاؤ جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ ؑ کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چناچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
سورة طٰهٰ 69
بائیبل اس کے برعکس حضرت ہارون پر الزام رکھتی ہے کہ بچھڑا بنانے اور اسے معبود قرار دینے کا گناہ عظیم ان ہی سے سرزد ہوا تھا
" اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لیے دیوتا بنا دے جو ہمارے آ گے چلے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو، جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا، کیا ہوگیا۔ ہارون نے ان سے کہا تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کر میرے پاس لے آؤ۔ چناچہ سب لوگ ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اتار اتار کر ہارون کے پاس لے آئے۔ اور اس نے ان کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں سے ہارون ؑ نے (حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے) پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس (گو سالہ) کے سبب گمراہی میں پھنس گئے ہو (یعنی اس کی پرستش کسی طرح درست نہیں ہو سکتی یہ کھلی گمراہی ہے) اور تمہارا رب (حقیقی) رحمان ہے (نہ کہ یہ گو سالہ) سو تم (دین کے بارے میں) میری راہ پر چلو اور (اس بات میں) میرا کہنا مانو (یعنی میرے قول و فعل کی اقتدا کرو) انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو جب تک موسیٰ ؑ واپس (ہوکر) آئیں اسی (کی عبادت) پر برابر جمے بیٹھے رہیں گے (غرض ہارون ؑ کا کہنا نہیں مانا تھا یہاں تک کہ موسیٰ ؑ بھی آگئے اور قوم سے اول خطاب کیا جو اوپر آ چکا بعد اس کے ہارون ؑ کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →حضرت ہارون کی فتنہ سے بریت
یہ حضرت ہارون کی اس فتنہ سے بریت کا اظہار ہے۔ تورات میں تو جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، اس سارے نتنہ کی ذمہ داری حضرت ہارون پر ڈلا دی گی ہے لیکن قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں ان کو اس سے بالکل بری قرار دیا ہے۔ من قبل کے لفظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے جوں ہی اس فتنہ کے ابھرنے کے آثار دیکھے اسی وقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا کہ لوگو، یہ مفسدین تم کو فتنہ میں مبتلا کر رہے ہیں تمہارا معبود خدائے رحمان ہے نہ کہ تمہایر اپنے ہی ہاتھوں کا ڈھالا ہوا کوئی بچھڑا تو میری بات مانو اور ان مفسدین کے پچھے نہ لگو۔
Read the full tafseer →90۔ 1 حضرت ہارون ؑ نے یہ اس وقت کہا جب یہ قوم سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی عبادت میں لگ گئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
37: قرآن کریم کی اس آیت نے بائبل کی اس روایت کی واضح طور پر تردید فرما دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون ؑ خود بھی (معاذ اللہ) بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہوگئے تھے (دیکھئے خروج 1 تا 6) یہ روایت اس لیے بھی قطعی طور پر لغو ہے کہ حضرت ہارون ؑ نبی تھے، اور کسی نبی کے شرک میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔
ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی…
Read the full tafseer →2 یعنی حضرت ہارون نرمی سے زبانی فہمائش کرچکے تھے کہ جس بچھڑے پر تم مفتون ہو رہے ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ تمہارا پروردگار اکیلا رحمان ہے۔ جس نے اب تک خیال کرو کس قدر رحمتوں کی بارش تم پر کی ہے۔ اسے چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو۔ میں موسیٰ کا جانشین ہوں اور خود نبی ہوں اگر اپنا بھلا چاہتے ہو تو لازم ہے کہ میری راہ چلو اور میری بات مانو۔ سامری کے اغواء میں مت آؤ۔
Read the full tafseer →آیت 90 وَلَقَدْ قَالَ لَہُمْ ہٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ ”
حضرت ہارون علیہ السلام ان لوگوں کو پہلے ہی ان الفاظ میں سمجھانے کی پوری کوشش کرچکے تھے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
62 یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یعنی ان بدبختوں کو اتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ اگر اس بچھڑے کی سی آواز نکلتی بھی ہے تو وہ کیا ان کے سوال کا جواب دے سکتا ہے ؟ بلکہ وہ تو سنتا بھی نہیں پھر جواب کیا دے گا ؟ اور جو چیز نہ سن سکے نہ جواب دے سکے وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے یا سنوار سکتی ہے ؟ نیز وہ الہٰ کیسے ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →105۔ توریت موجودہ کے اتہامات کے مقابلہ میں قرآن مجید کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے ایسی کھلی ہوئی تبری اور صفائی پیش کیا جائے۔ (آیت) ” ان ربکم الرحمن “۔ تمہارا پروردگار تو وہ خدائے رحمن ہے نہ کہ یہ گوسالہ۔ تمہیں اس خرافات پرستی سے کیا واسطہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →ولقد قال لہم ہرون من قبل یقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمن فاتبعونی واطیعوا امری۔ اور ہارون ان لوگوں سے (موسیٰ ( علیہ السلام) کی واپسی سے) پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ میری قوم والو اس کے سوا اور کچھ نہیں
کہ تم اس بچھڑے کی وجہ سے مصیبت میں پھنس گئے اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب رحمن ہی ہے پس میری راہ پر چلو اور میرا کہا مانو۔
فُتِنْتُمْ بِہٖیعنی بچھڑے کے سبب تمہاری جانچ کی گئی ہے کہ تم توحید و ایمان پر قائم رہتے ہو یا بہک جاتے ہو۔ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُیعنی تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارا وجود اور لوازم وجود اسی کی رحمت کا نتیجہ ہے یہ بچھڑا تم کو کیا دے سکتا ہے۔ فَاتَّبِعُوْنِیْیعنی میری راہ پر…
Read the full tafseer →(90) اور ان لوگوں سے حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس بچھڑے کی آواز اور اس کی پرستش کی وجہ سے گمراہی میں پھنس گئے ہو یا یہ کہ تم نے اس پچھڑے کی پوجا کی ہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ۔۔ : موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے ہارون ؑ نے نہایت اچھے طریقے سے نصیحت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہارون ؑ کے خطاب کا ذکر ”انما“ (بلاشبہ یقینا) کے ساتھ شروع فرمایا، اس میں بائبل کا رد ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ بچھڑا ہارون ؑ نے بنایا تھا۔ فرمایا، یقینی بات یہ ہے کہ ہارون ؑ نے تو اپنی قوم کو اس کی عبادت سے منع فرمایا تھا۔ ہارون ؑ کے خطاب کا حسن دیکھیے کہ سب سے پہلے یہ کہہ کر انھیں اپنا اور ان کا باہمی تعلق بتایا کہ ”يٰقَوْمِ“ (اے میری قوم !) یعنی اپنے ایک فرد کی بات سنو، جو تمہارا ایک فرد ہے اور تم سب کی اس سے رشتہ داری ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم سے فرمایا : (لَّآ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
(تفسیر 90-92) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد قال لھم ھرون من قبل یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے حضرت ہارون نے انہیں کہا : یقوم انما فتنتم بہ اس کے ذریعے تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور تم اسی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہو۔ بہٖ کی ضمیر کا مرجع بچڑھا ہے۔ وان ربکم الرحمن بیشک تمہارا ربب رحمن ہے، بچھڑا نہیں۔ فاتبعونی اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو۔ واطیعوا امری۔ اور میرے حکم کی اطاعت کرو نہ کہ سامری کے حکم کی۔ کیا یہ مطلب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف چلنے میں میری اتباع کرو اور بچھڑے کو چھوڑو، لیکن انہوں نے نافرمانی کی۔ قالوا لن تبرح علیہ عکفین یعنی ہم بچھڑے کی عبادت پر جمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ قَالَ : اور بیشک کہہ چکے تھے ] [لَهُمْ : ان لوگوں سے ] [هٰرُوْنُ : ہارون ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [فُتِنْتم : تم لوگ بہکا دیئے گئے ] [بِهٖ : اس (بچھڑے) سے ] [وَان : اور یقینا ] [ رَبَّكُمُ : تم لوگوں کا رب ] [الرَّحْمٰنُ : رحمن ہے ] [فَاتَّبِعُوْنِيْ : پس تم لوگ پیروی کرو میری ] [وَاَطِيْعُوْٓا : اور اطاعت کرو ] [اَمْرِيْ : میرے حکم کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →62:۔ پرستاران گوسالہ کی گمراہی ان کے فعل کی شناعت اور اس کا خلاف عقل ہونا بیان کرنے کے بعد یہاں ان کی خباثت اور اللہ کے پیغمبر حضرت ہارون (علیہ السلام) کے حکم سے ان کی سرکشی اور بغاوت کا ذکر کیا گیا۔ جب حضرت ہارون (علیہ السلام) نے دیکھا کہ قوم کے ہزاروں افراد سامری کی چال میں آخر شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں تو انہوں نے اپنا فریضہ تبلیغ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نیابت کا حق ادا کرنے کی غرض سے اور شفقت علی الخلق کے جذبہ کے پیش نظر قوم کو ہر طریقہ سے سمجھایا۔ اور ان کو شرک سے روکنے کی کوشش کی۔ ان ھرون (علیہ السلام) انما قال ذلک شفقۃ منہ علی نفسہ وعلی الخلق اما الشفقۃ علی نفسہ فلانہ کان مامورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
ربط آیات :
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے اور تورات لانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی غیرحاضری میں سامری نے سونے کا بچھڑا بناڈالا اور قوم کو شرک میں مبتلا کردیا۔ اللہ نے ان کی بےعقلی کا ذکر کیا کہ بچھڑے کے مجسمے سے کر شماتی آواز سن کر اسی پر لٹو ہوگئے اور اسے معبود تسلیم کرلیا حالانکہ وہ نہ تو کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ کسی نفع ونقصان کا مالک تھا۔ آب آج کی آیات میں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کو تبلیغ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش کا بیان ہے اس کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کے عذر کا ذکر بھی ہے جو انہوں نے اپنی براء ۃ میں موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ قَالَ لَہُمْ ہٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ 0ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ وَاَطِيْعُوْٓا اَمْرِيْ 90
هرن
هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب .
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
تفسیر : اور موسیٰ سب سے آگے تنہا خدا کے پاس آئے جس پر خدا نے پوچھا وما اعجلک عن قومک یا موسیٰ اور خدا تعالیٰ کے پاس کوہ طور پر موسیٰ چالیس دن رات رہے ( سفر خروج 24۔ باب) اتنی دیر لگنے سے بنی اسرائیل نے غل مچا دیا کہ موسیٰ کہاں گئے۔ کسی نے کہا مرگئے۔ کسی نے کچھ کہا، اس میں ایک شخص نے کہ جس کا نام سامری تھا لوگوں سے کہا کہ آؤ میں تمہارا معبود دکھائوں کہ جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔ تم میرے پاس سونے کا زیور لاؤ چناچہ وہ اس کے پاس لائے اس نے اس کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنا دیا اور اس میں ایک ایسا رستہ ہوا کے آنے جانے کا رکھا کہ جس سے گائے بیل کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی تھی۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
وَلَقَدْ قَالَ لَھُمْ ھٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰـقَوْمِ اِنَّمَا فُـتـِنْـتُم بِہٖ ج وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَا تَّبِعُوْنِیْ وَاَطِیْعُوْٓا اَمْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 90)
(اور ہارون ان سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ اے لوگو ! تم اس کے ذریعہ سے فتنے میں ڈال دیئے گئے ہو، تمہارا رب تو رحمن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ )
حضرت ہارون (علیہ السلام) کی فتنہ سے بریت
اس آیت کریمہ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی غلط فہمی کا ازالہ کرنا مقصود ہو جسے علمی زبان میں دفع دخل مقدر کہتے ہیں۔ بائبل کو دیکھ کر اس عقدہ کا راز کھلتا ہے۔ وہ اس طرح کہ قرآن کریم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جھوٹے معبود کی حقیقت بتلانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تلخی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم اور ان کے نمائندوں کو انتباہ کرنے کے بعد فارغ ہوئے تو انھوں نے توحید کی غیرت میں آکر اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا اے ہارون ! جب یہ لوگ آپ کے سامنے شرک کر رہے تھے تو آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ ان کو شرک کرنے سے نہ روکے اور تجھے کون سی رکاوٹ پیش آئی کہ نیابت کرنے کی بجائے میری نافرمانی کرے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے مادر زاد بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال…
Read the full tafseer →90: وَلَقَدْ قَالَ لَھُمْ (اور ان سے کہہ چکے تھے) بچھڑے کے پوجاریوں سیھٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ (ہارون (علیہ السلام) اس سے پہلے) موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے۔ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ (اے میری قوم کے لوگو ! تم اس بچھڑے کی وجہ سے فتنے میں ڈالے گئے ہو) بچھڑے کی وجہ سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے پس اس کی عبادت مت کرو۔ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ (بیشک تمہارا رب رحمان ہی ہے) نہ کہ یہ بچھڑا فَاتَّبِعُوْنِیْ (پس تم میری راہ پر چلو) تم میرے اس دین کو اختیار کرو جو کہ برحق ہے۔ وَاَطِیْعُوْا اَمْرِیْ (اور میرا کہا مانو) بچھڑے کی پوجا ترک کردو۔
Read the full tafseer →90۔ ولقد قال لھم ہارون من قبل، ، حضرت موسیٰ کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی کہہ چکے تھے ۔ یا قوم انما فتنتم بہ، کہ تم کس میں مبتلا ہوگئے ہو۔ وان ربکم الرحمن فاتبعونی، میرے دین پر چلو میری اتباع کرو۔ واطیعوامری ، اور بچھڑے کی پوجا کو چھوڑ کر میرے حکم کی اطاعت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
90۔ 91:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر سے واپس آجانے سے پہلے ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو جو نصیحت کی تھی اور بنی اسرائیل نے جو جواب اس کا دیا تھا یہ اس کا ذکر ہے ہارون (علیہ السلام) کی نصیحت کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل یہ بچھڑا تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جانج ہے اب تک جو کچھ تم نے کیا اگر تم میرا کہنا مان کر اس سے توبہ کرو گے تو اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ تمہاری توبہ ضرور قبول کرے گا۔ ہارون (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا بنی اسرائیل نے یہ جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے تک ہم اس بچھڑے کی پوجا کبھی کہ چھوڑیں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
90 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا "۔ تو پھر یہ معبود کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کیا ایسی واضح اور کھلی حقیقت پر بھی ان لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ جو نہ کسی کی بات کا جواب تک دے سکے اور نہ وہ ان کیلئے کسی نفع کا اختیار رکھتا ہو نہ نقصان کا وہ آخر ان کا معبود کس طرح بن سکتا ہے ؟ اور ایسی کسی بےحقیقت چیز کو اپنا معبود قرار دے کر اس کی پوجا پاٹ کرنا کس قدر حماقت اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ مگر جب کفر و شرک کی نحوست سے کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے اور وہ اتنا اوندھا اور اندھا ہو کر رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
ف 5 یعنی آ کر اس امر کا تصفیہ کرے کہ آیا ہمارا بچھڑے کی پوجا کرنا درست ہے یا غلط ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
(20:89) فتنتم بہ۔ فتنتم۔ ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اس (بچھڑے) سے۔ یعنی اس بچھڑے کے ذریعہ تمہاری آزمائش ہو رہی ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے کہ جس وقت سامری نے قوم موسیٰ کو گمراہ کیا، اس وقت حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا، اور کہا کہ اے قوم کے لوگو ! یہ تمہاری آزمائش کے لئے بچھڑا تیار ہوا ہے، تم سامری کے بہکانے میں نہ آؤ۔ اور امتحان الہی میں پورے اترو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا رب رحمٰن ہے۔ وہ ذات پاک جس نے اپنی رحمت سے تمہاری خاطر دنیا میں ہزاروں راحت کے سامان پیدا کئے، اور آخرت میں تمہارے لئے جنت تیار کی۔ پس تم میری پیروی کرو سامری کی نہ کرو، اور اللہ کے امتحان میں پورے اترو۔ میں تمہارا دوست اور خیر خواہ ہوں “ ہارون (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا بنی اسرائیل نے یہ جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–92
[37] یعنی ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کے رسم و رواج کے مطابق جو بھاری بھاری زیور پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے اس لئے ہم نے انھیں پھینک دیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سامری ان سے ایک عجیب و غریب چیز بنا کر ہمیں گمراہ کر دے گا۔ یہ تھا عذر ان لوگوں کا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔
[38] '' ہم نے ان کو پھینک دیا تھا '' تک لوگوں کا جواب ہے۔ اس کے بعد آیت کا حصہ لوگوں کے جواب کا ٹکڑا نہیں ؟ جیسا کہ عبارت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-90 اور بلاشبہ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ کی تشریف آوری سے قبل ہی اپنی قوم سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم تم اس بچھڑے کے سبب آزمائش اور جانچ میں مبتلا ہوگئے ہو اور اس بچھڑے کی وجہ سے گمراہی میں پھنس گئے ہو اور تمہارا حقیقی پروردگار تو رحمان ہی ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا کہنا مانو۔ یعنی حضرت ہارون جن کو حضرت موسیٰ اپنا نائب اور نگراں بنا گئے تھے انہوں بنی اسرائیل کی یہ گمراہی دیکھ کر ان کو بہت سمجھایا کہ دیکھو تم اس بچھڑے کی وجہ سے امتحان میں مبتلا ہوگئے ہو تمہارا حقیقی پروردگار رحمان ہے تم میرے قول و فعل کی اقتدار کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے محفوظ رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
ف 2۔ یعنی اس طریق میں صواب کا احتمال نہیں، یقینا ضلالت ہے۔
3۔ نہ کہ یہ گو سالہ۔
4۔ یعنی میرے قول و فعل کی اقتداء کرو۔
Read the full tafseer →ہارون (علیہ السلام) نے قوم کے سامنے واویلا کیا لیکن قوم نے ان کی ایک نہ مانی :
90۔ سامری کی اس شرارت کے خلاف ہارون (علیہ السلام) اپنے فرض سے سبکدوش نہیں رہے بلکہ انہوں نے اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ اس شرارت کا بنی اسرائیل پر اثر نہ ہو آپ نے فرمایا کہ ” بھائیو ! یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ تمہاری آزمائش کی جارہی ہے “ یہ بچھڑا تمہارا پروردگار نہیں اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) بھول گئے ہیں وہ جس مقصد کے لئے طور پر اعتکاف کی خاطر گئے وہ مقصد تم کو اچھی طرح معلوم ہے اور بتا کے بھی گئے ہیں ” تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے “ اور وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا بلکہ قدرت ہی سے پہچانا جاسکتا ہے دیکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
Commentary
When the Bani Isra'il were smitten with the mischief of calf-worship Sayyidna Harun (علیہ السلام) as the deputy of Sayyidna Musa (علیہ السلام) remonstrated with them but to no avail. They split into three factions. Those who remained loyal to Sayyidna Harun (علیہ السلام) and refused to be misled by Samiri and who numbered, according to Qurtubi, twelve thousand. The second faction adopted calf-worship with the reservation that if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، on his return, forbade them they would give it up. The third faction consisted of zealots who believed that Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
69. Here the Quran exonerates Prophet Aaron (peace be upon him) from the sin of taking any part in the calfworship, but in contrast to this, the Bible makes him wholly responsible for making the golden calf and setting it up as a god. According to Exodus:
And when the people saw that Moses delayed to come down out of the mount, the people gathered themselves together unto Aaron, and said unto him, Up, make us gods, which shall go before us; for as for this Moses, the man that brought us out of the land of Egypt, we know not what is become of him. And Aaron said unto them, Break off the golden…
Read the full tafseer →