Taa-Haa 20:88

Taa-Haa · from ayah 88

20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰی ۬ فَنَسِیَ ۟ؕفَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰى فَنَسِىَ

تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, "This is your god and the god of Moses, but he forgot."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:88

اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لوگوں کے سامنے ایک بچھڑا بنا کر نکال لایا، ایک جسم تھا جس میں سے آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ : یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، مگر موسیٰ بھول گئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس (سامری) نے ان کے لئے (ان گلے ہوئے زیورات سے) ایک بچھڑے کا قالب (تیار کرکے) نکال لیا اس میں (سے) گائے کی سی آواز (نکلتی) تھی تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا معبود ہے اور موسٰی ؑ کا (بھی یہی) معبود ہے بس وہ (سامری یہاں پر) بھول گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ اس (ڈھلے ہوئے سونے سے) ایک بچھڑے کا جسم بنا لایا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی وہ لوگ کہنے لگے تمہارا اور موسیٰ کا الٰہ تو یہی ہے، موسیٰ تو بھول گیا (جو طور پر چلا گیا)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا برآمد کردیا۔ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی پس انہوں نے کہا یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ ؑ کا بھی معبود ہے لیکن وہ بھول گیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ ان کے لئے ایک بچھڑا سا نکال لایا، یعنی ایک بےجان دھڑ تھا جس میں گائے کی سی ایک آواز تھی، جس پر وہ پکار اٹھے کہ یہی ہے خدا تمہارا، اور خدا موسیٰ کا، پر وہ بھول گیا،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر (سامری نے) ان لوگوں کے لئے ایک گوسالہ ظاہر کردیا کہ وہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی سو وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے کہ یہی تو ہے تمہارا (بھی) دیوتا اور موسیٰ کا (بھی) سو وہ تو (اسے) بھول گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی گائے کا بت بنا دیا) جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی (ہوا کے گزرنے سے) تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور یہی موسیٰ کا معبود ہے، مگر وہ بھول گئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and brought out of there (from the molten gold) the effigy of a calf that lowed." The people cried out: "This is your deity and the deity of Moses, whom Moses has forgotten."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then he brought forth for them a calf, which was (merely) a body with a lowing sound. Then they said, :This is your god and the god of Musa, and he (Musa) erred.

— Muhammad Taqi Usmani

Then he brought forth for them a calf, which was (merely) a body with a lowing sound. Then they said, :This is your god and the god of Musa, and he (Musa) erred.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he took out for them a calf which was mooing. They said: "This is your god, and the god of Musa," but he had forgotten.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he produced for them a calf, of saffron hue, which gave forth a lowing sound. And they cried: This is your god and the god of Moses, but he hath forgotten.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, "This is your god and the god of Moses, but he forgot."

— Saheeh International

Then the Samiri forged the body of a motionless calf which gave out a hollow sound." The people said, "This is your Lord and the Lord of Moses whom he (Moses) forgot to mention".

— Muhammad Sarwar

So he brought forth for them a calf, a (mere) body, which had a mooing sound, so they said: This is your god and the god of Musa, but he forgot.

— Muhammad Habib Shakir

And he produced for them a calf: a body with a low. Then they Said: this is your god and the god of Musa, and that he forgat.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then he brought out (of the fire) before the (people) the image of a calf: It seemed to low: so they said: This is your god, and the god of Moses, but (Moses) has forgotten!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–89

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔ حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 68 یہاں سے پیراگراف کے آخر تک کی عبارت پو غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ قوم کا جواب " پھینک دیا تھا " پر ختم ہوگیا ہے اور بعد کی یہ تفصیل اللہ تعالیٰ خود بتارہا ہے۔ اس سے صورت واقعہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ لوگ پیش آنے والے فتنے سے بیخبر ، اپنے اپنے زیور لا لا کر ڈھیر کرتے چلے گئے، اور سامری صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ بعد میں زیور گلانے کی خدمت سامری صاحب نے اپنے ذمے لے لی، اور کچھ ایسی چال چلی کہ سونے کی اینٹیں یا سلاخیں بنانے کے بجائے ایک بچھڑے کی مورت بھٹی سے برآمد ہوئی جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ اس طرح سامری نے قوم کو دھوکا دیا کہ میں تو صرف سونا گلانے کا قصور وار ہوں، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ یعنی نکال لیا سامری نے ان زیوات سے ایک بچھڑے کا جسم جس میں گائے کی آواز (خوار) تھی۔ لفظ جسدا سے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ محض ایک جسد اور جسم تھا زندگی اس میں نہیں تھی اور آواز بھی ایک خاص صفت کے سبب اس سے نکلتی تھی، عامہ مفسرین کا قول وہی ہے جو اوپر لکھا گیا کہ اس میں آثار زندگی کے تھے۔ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـــهُكُمْ وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ فَنَسِيَ ، یعنی سامری اور اس کے ساتھی یہ بچھڑا بولنے والا دیکھ کر دوسرے بنی اسرائیل سے کہنے لگے کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا خدا ہے موسیٰ ؑ بھول بھٹک کر کہیں اور چلے گئے۔ یہاں تک بنی اسرائیل کے عذر لنگ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس طرح سامری نے ڈھال کر ایک بچھڑا برآمد کیا۔ جسداک خوار خوار بچھڑے کے ڈکر نے کی آواز کو کہتے ہیں۔ یعنی اس نے ایک بچھڑے کا دھڑ بنایا جس میں سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سامری مصر کے فن بت گری کا ماہر تھا۔ اس زمانہ میں یہ فن مصر میں عروج پر تھا۔ اعراف کی تفسیر میں ہم اس دور کے بعض نوادر کا ذکر کرچکے ہیں۔ ایک ماہر آدمی کے لئے بچھرے کا ایک ایسا دھڑ بنا لینا کچھ مشکل کام نہیں ہے جس میں سے ہوا گزرے تو بچھڑے کی سی آواز نکلے۔ سامری نے اس آواز کو اپنی کرامت کا نتیجہ قرار دیا اور عوام کو بوتقوف بنانے کے لئے ان کو یہ باور کرایا کہ اس نے اس کے اندر حضرت جبرئیل کے گھوڑے کی سم کی خاک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

88۔ 1 زینۃ سے زیورات اور القوم سے قوم فرعون مراد ہے۔ کہتے ہیں یہ زیورات انہوں نے فرعونیوں سے عاریتًا لئے تھے، اسی لئے انھیں بوجھ کہا گیا کیونکہ یہ ان کے لئے جائز نہیں تھے، چناچہ انھیں جمع کر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا، سامری نے بھی (جو مسلمانوں کے بعض گمراہ فرقوں کی طرح) گمراہ تھا اس نے تمام زیورات کو تپا کر ایک طرح بچھڑا بنادیا کہ جس میں ہوا کے اندر باہر آنے جانے سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی۔ اس آواز سے اس نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا کہ موسیٰ ؑ تو گمراہ ہوگئے ہیں کہ وہ اللہ سے ملنے کے لئے طور پر گئے ہیں، جبکہ تمہارا اور موسیٰ ؑ کا معبود تو یہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 87–89

35: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون کے لشکر کا چھوڑا ہوا مال غنیمت تھا، اس دور میں مال غنیمت کو استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔ اس کے بجائے اسے ایک میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، اور آسمان سے ایک آگ آکر اسے جلا دیتی تھی، شاید ان زیورات کو پھینکنے کا یہی مقصد ہو کہ آسمانی آگ انہیں آ کر جلا دے۔ اس کے برخلاف عام طور پر تفسیروں میں یہ روایت مذکور ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تھے تو نکلنے سے پہلے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے بہت سے زیورات عید کے موقع پر پہننے کے لیے مستعار لیے تھے وہ سارے زیورات مصر سے نکلتے ہوئے ان کے ساتھ تھے۔ چونکہ یہ زیورات دوسروں کی امانت تھی۔ اس لیے بنی اسرائیل کے لیے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھذا الھکم والہ موسیٰ (02 : 88) ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ “ موسیٰ اسے پہاڑ پر ڈھونڈ رہا ہے اور وہ یہ ہے ہمارے پاس ، اور موسیٰ نے رب کا راستہ ہی بھلا دیا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ان کی بےشعوری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس قدر آسانی سے اپنے اس نبی پر تہمت لگا رہے ہیں جس کے زیر قیادت ابھی ابھی اللہ کی زیر نگرانی اور زیر نظر انہوں نے نجات پائی اور عین اللہ کی ہدایات کے مطابق ان کو یہ آزادی حاصل ہوئی ۔ ایسے حالات میں ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے رب سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ، انہوں نے راستہ ہی خطا کردیا اور وہ رب تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی موسیٰ سے بھول ہوئی کہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے طور پر گئے۔ خدا تو یہاں موجود ہے۔ یعنی یہ ہی بچھڑا العیاذ باللہ۔ شاید یہ قول ان میں سے سخت غالیوں کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 88 فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ” اس سلسلے میں جو مختلف روایات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر میں اگرچہ اسرائیلی قوم کی حیثیت غلامانہ تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق کی وجہ سے ان کی دیانت داری مسلمّ تھی۔ چناچہ قبطی قوم کے لوگ اپنے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اکثر ان کے پاس امانت رکھوایا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مصر سے نکلے تو قبطی قوم کے بہت سے زیورات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے جو ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس بطور امانت پڑے تھے۔ البتہ اس کا ان کے ذہن پر ایک بوجھ تھا کہ یہ ہمارے لیے جائز بھی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے سامری نے بھی انہیں قائل کرلیا کہ اس بوجھ سے نجات…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے سوالوں کا یہ جواب دیا کہ ہم نے عمدا ً کچھ ایسا قصد نہیں کیا تھا بلکہ ہوا یہ تھا کہ اس طویل سفر میں زیورات کا بوجھ ہمارے لئے ناقابل برداشت بن گیا تھا لہذا ہم چاہتے تھے کہ اس کے کہ ہمارے سب افراد یہ بوجھ اٹھائے رکھیں انھیں کیوں نہ اکٹھا کرکے پگھلا کر اس کی اینٹیں بنا لی جائیں تاکہ اس کی نقل و حرکت میں آسانی ہوجائے اور دوسرے سامان کے ساتھ گدھوں اور بیلوں پر لادا جاسکے۔ اور اس میں ہر ایک کے زیور کی مقدار الگ الگ لکھ لی جائے اور جب کہیں مقیم ہوں گے تو اپنے اپنے حصہ کا سونا پھر سے بانٹ کر زیور بنوائے جاسکتے ہیں۔ اس خیال سے ہم نے لوگوں نے بھی اپنے اپنے زیور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103۔ (کہ اسے چھوڑ چھاڑ کر طور پر خواہ مخواہ توریت لینے چلے گئے) اہل زیغ اپنی گمراہی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے سرچپیکنے سے نہیں چوکتے۔ اور کہتے ہیں کہ غلط فہمی کچھ انہیں کو ہوگئی، رونہ ہمارا دین اور طریقہ تو یہی ہے ! والمعنی ان الھکم الہ موسیٰ فنسی موسیٰ ان ھذا ھوالالہ فذھب یطلبہ فی موضع وھو اکثرین (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 86–89

آیت نمبر 86 تا 89 ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نھے کہا اسے میری قوم کیا تم سے میرے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی سچا وعدہ، یہ کہ وہ تم کو تورات عطا کرے گا، کیا تم پر میری جدائی کا زمانہ زیادہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے، تمہارے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے کہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ تم نے میرے پیچھے پیچھے آنے کو ترک کردیا تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی مَلْکِنَا کے میم میں تینوں حرکتیں درست ہیں، یعنی اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے (خلاف ورزی نہیں کی) لیکن قوم کے زیورات کا کا بوجھ جو ہم پر لاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاخرج لہم عجلا جسدا لہ خوار فقالوا ہذا الہکم والہ موسیٰ فنسی۔ پھر اس (سامری) نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) ظاہر کیا کہ وہ ایک قالب تھا جس میں ایک بےمعنی آواز تھی سو وہ (احمق لوگ) ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہ ہے موسیٰ تو بھول گئے (اور معبود کی تلاش میں کوہ طور پر چلے گئے) یا نَسِیَ کا یہ مطلب ہے کہ سامری بھول گیا (یعنی) اس نے ایمان کو ترک کردیا اور اللہ کا منکر ہوگیا (گویا بھولنے سے مراد ہے بالکل ترک کردینا) خَوَارٌ سے گائے بیل کی آواز مراد ہے (جو بےمعنی ہوتی ہے) فقالوا ‘ یعنی سامری اور اس کے ساتھیوں نے سب سے پہلے بچھڑے کو دیکھا تو کہنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(88) پھر ان زیورات کا جو کہ آگ میں ڈالے گئے تھے سامری نے ان لوگوں کے لیے اس کا ایک بچھڑا بنا کر ظاہر کیا جو کہ ایک قالب خالی از کمالات تھا اور اس میں صرف ایک بےمعنی آواز تھی، قوم نے اس کے بارے میں سامری سے پوچھا کہ یہ کیا ہے، سامری نے ان سے کہا کہ تمہارا اور موسیٰ کا بھی معبود تو یہ ہے اور موسیٰ ؑ تو بھول گئے اور غلطی سے کوہ طور پر چلے گئے یا یہ کہ سامری نے حکم خداوندی اور اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا۔۔ : مصری لوگ ہندوؤں کی طرح گائے کی پرستش کرتے تھے اور اس کی تقدیس کے قائل تھے۔ بنی اسرائیل میں بھی مسلمان ہونے کے باوجود قبطی مشرکوں کی غلامی اور ان سے میل جول کی وجہ سے یہ عقیدہ سرایت کر گیا تھا، جس کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا تھا، جیسا کہ اس وقت ہوا جب موسیٰ ؑ نے انھیں کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (67) اب موسیٰ ؑ کی عدم موجودگی میں سامری نے بنی اسرائیل کے زیوروں سے گائے کا بچھڑا بنایا جو بےجان تھا، مگر ایسی کاری گری سے بنایا گیا تھا کہ اس میں رکھے گئے سوراخوں کی وجہ سے خود بخود گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ وہ لوگ جنھوں نے سمندر سے پار ہوتے ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–89

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَخْرَجَ : پھر اس نے نکالا ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [عِجْــلًا : ایک بچھڑا ] [جسدًا : جو ایک ڈھانچا تھا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [خُوَارٌ: گائے کی ایک آواز تھی ] [فَقَالُوْا : تو وہ لوگ بولے ] [ھٰذَآ : یہ ] [اِلٰـــهُكُمْ : تم لوگوں کا خدا ہے ] [وَاِلٰهُ مُوْسٰى ۥ: اور موسٰی (علیہ السلام) کا خدا ہے ] [فَنَسِيَ : پھر وہ (یعنی موسٰی (علیہ السلام) ) بھول گئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–94

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–98

موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔ القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 87–88

59:۔ قوم نے معذرت کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا بیشک ہم نے آپ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہم سے جو عہد شکنی ہوئی ہے یہ ہم نے جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے نہیں کی۔ بلکہ سامری نے چالاکی سے ایسی صورت پیدا کردی جس کے پیش نظر ہم بےاختیار اور مجبور ہوگئے۔ ای من قدرتنا واختیارنا (ابن کثیر ج 3 ص 162) ابن زید لم نملک انفسنا ای کنا مضطرین (قرطبی) یعنی ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ ہم سے سامری نے کرایا ہے۔ 60:۔ اس میں انہوں نے بیچارگی اور اضطرار کی تصویر پیش کی کہ ہوا یوں کہ قبطیوں (قوم فرعون) سے جو زیورات ہم نے بطور استعارہ لیے تھے۔ اب ان کی ہلاکت کے بعد ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–89

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کرنے کا واقعہ بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاددلائیں۔ ان میں روحانی نعمت اللہ کی کتاب تورات بھی جو بنی اسرائیل کی اپنی خواہش کے مطابق انہیں عطا کی گئی اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے چند منتخب آدمیوں کے ہمراہ کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف کیا تو اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ اسی دوران میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کی قوم سامری کی تحریک پر بچھڑے کی پوجا جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔ سامری کون تھا : سامری کی شخصیت کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں بیان کی ہیں۔ بعض کہتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـــہُكُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰى ۥ فَنَسِيَ۝ 88ۭ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–89

1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَخْرَجَ لَھُمْ عِجْلاً جَسَدًا لَّـہٗ خُوَارٌ فَـقَالُوْا ھٰذَآ اِلٰـھُکُمْ وَاِلٰـہُ مُـوْسٰی 5 فَـنَسِیَ ۔ (طٰـہٰ : 88) (پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑے کا ڈھانچہ برآمد کردیا جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ پس انھوں نے کہا یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، لیکن موسیٰ بھول گئے۔ ) سامری کی شعبدہ بازی جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ سامری نے ان سادہ لوگوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اگر تم اپنے سارے زیورات اس بھٹی میں ڈال دو اور انھیں گلا کر انھیں کوئی دوسری شکل دے دو تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئیں گے۔ تو وہ اپنی سادگی سے اپنے اپنے زیور لا کر اس میں پھینکتے رہے حتیٰ کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–88

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہودہ جواب۔ چاہیے تو یہ تھا بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معذرت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے لیکن انھوں نے حسب عادت بہانہ سازی سے کام لیتے ہوئے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ اے موسیٰ دراصل ہم اپنی مرضی سے اس سنگین جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اے موسیٰ ہوا یوں کہ ہمارے پاس لوگوں کے زیورات تھے وہ ہمارے لیے بوجھ بن چکے تھے۔ ہم نے سوچا ان سے جان چھڑائی جائے ہم نے انھیں پھینک دیا۔ ہمارے ساتھ سامری نے بھی اپنا زیور پھینک دیا۔ پھر سامری نے انھیں آگ میں ڈال کر ایک ایسا بچھڑا بنایا۔ جس کے منہ سے عجب آوازیں آنے لگیں۔ سامری نے ہمیں کہا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

88: فَاَخْرَجَ لَھُمْ (پھر اس نے ظاہر کیا) سامری نے اس حفرہ نار میں سے عِجْلًا (بچھڑا) ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس پگھلے ہوئے زیور سے ان کی آزمائش کیلئے پیدا کردیا تھا۔ جَسَدًا (ایک قالب) لَّہٗ خُوَارٌ (جس میں ڈھکارنے کی آواز تھی۔ ) وہ بچھڑوں کی طرح ڈھکارتا تھا۔ فَقَالُوْا (سامری اور اس کے پیرو کہنے لگے۔ ) ھٰذَا اِلٰـھُکُمْ وَاِلٰـہُ مُوْسٰی (یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے۔ ) عام لوگوں نے اس کی بات مان لی مگر بارہ ہزار ْصرف صحیح بات پر قائم رہے۔ فَنَسِیَ (پس وہ بھول گیا یعنی موسیٰ اپنے رب کو یہاں بھول کر چھوڑ گیا۔ ) اور اس کی طلب میں طور پر چلا گیا۔ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ابتدائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

88۔ فاخرج لھم عجلا جسدالہ خوار فقالواھذا الھکم والہ موسیٰ فنسی، ، موسیٰ نے اس کو ترک کردیا اور خدا کی تلاش میں چلا گیا۔ (نعوذ باللہ) بعض نے کہا کہ سیدھاراستہ چھوڑ کر بھٹک گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 88–89

88۔ 89:۔ اگرچہ اور مفسروں کا قول ہے کہ اس گائے کے بچہ کا گوشت پوست سب کچھ ہوگیا تھا اور وہ چلتا پھرتا تھا لیکن امام المفسیرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ وہ گائے کے بچہ کی صورت کا محض ایک پتلا تھا ہوا کے پھرنے سے اس میں سے ایک آواز نکلتی تھی اور کچھ بھی نہیں تھا 1 ؎۔ اوپر بیہقی اور ابو نعیم کی روایت سے بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے باب میں تفسیر قرآن آجانے کے لیے خاص طور پر دعا کی ہے 2 ؎۔ اس واسطے تفسیر قرآن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول زیادہ اعتماد کے قابل ہے اگرچہ بعضے متاخر مفسر بعضی جگہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول لینے میں یہ عذر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

88 بےحقیقت بچھڑے کے معبود ہونے کا دعویٰ و اعلان : سو سامری کے ساختہ پرداختہ اس بےحقیقت بچھڑے کو دیکھتے ہی وہ بدبخت پکار اٹھے کہ " یہی ہے تمہارا خدا "۔ یعنی سامری اور اس کے پیروکار پکار اٹھے کہ یہی ہے معبود تمہا را بھی اور موسیٰ کا بھی۔ جس سے " بھیں " کی ایک بےمعنیٰ آواز نکلی ہے۔ سو جب کفر و شرک کی نحوست کی بناء پر کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے کہ وہ ایک بچھڑے کو ۔ اور بچھڑا بھی وہ جو کہ ایک بےحقیقت اور محض ایک بناوٹی بچھڑا تھا ۔ اس کو وہ اپنا معبود تک قرار دے دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کے سامری آج بھی جگہ جگہ موجود اور اپنے اسی طرح کے ابلیسی چکروں میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–89

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 وہ درحقیقت زندہ نہیں تھا بلکہ اس میں کچھ سوراخ رکھے گئے تھے۔ جب ان سوراخوں میں ہوا داخل ہو تو آواز آتی۔ (دیکھیے اعراف آیت 48)3 اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لئے طور پر چلا گیا ہے یا موسیٰ یہ بتانا بھول گیا کہ یہی تمہارا خدا ہے یا سامری اپنا دین و ایمان بھول گیا اور اس نے بچھڑے کو اپنا خدا بنا لیا۔ (شوکانی) موقع و محل کے اعتبار سے یہ تیسرے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ والعلم عنداللہ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:88) عجلا۔ مفعول ہے اور موصوف۔ بچھڑا ۔ گوسالہ۔ گائے کا بچہ۔ جسدا۔ دھڑ۔ بدن۔ جسد کے معنی جسم کے ہیں ۔ مگر یہ اس سے اخص (خاص تر) ہے کیونکہ جسد وہ ہے جس میں رنگ ہو جسم کا استعمال اس کے لئے بھی ہوتا ہے جس کا رنگ ظاہر نہ ہو۔ جسدا صف ہے عجل کی۔ عجلا جسدا (ایک سنہری) جسم والا بچھڑا۔ خوار۔ گائے کی آواز۔ فقالوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع سامری اور اس کے تابعین۔ فنسی۔ نسی ینسی (سمع) نسیان مصدر۔ وہ بھول گیا۔ (کہ اسے چھوڑ کر خواہ مخواہ طور پر تورات لینے چلے گئے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–89

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا حاصل مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے بنی اسرائیل اور سامری سب نے مل کر وہ زیور جو گڑھے میں ڈال کر دبا دیا تھا، سامری نے اس زیور کو گڑھے میں سے نکال کر بچھڑا بنایا۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی، جس سے ہو بچھڑا گائے کی سی آواز بولنے لگا۔ اس بچھڑے کے بولنے سے سامری اور اس کے ساتھی بنی اسرائیل سے کہنے لگے کہ تمہارا معبود یہی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھولے سے کوہ طور پر چلے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–92

[37] یعنی ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کے رسم و رواج کے مطابق جو بھاری بھاری زیور پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے اس لئے ہم نے انھیں پھینک دیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سامری ان سے ایک عجیب و غریب چیز بنا کر ہمیں گمراہ کر دے گا۔ یہ تھا عذر ان لوگوں کا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔ [38] '' ہم نے ان کو پھینک دیا تھا '' تک لوگوں کا جواب ہے۔ اس کے بعد آیت کا حصہ لوگوں کے جواب کا ٹکڑا نہیں ؟ جیسا کہ عبارت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–93

سامری کا بچھڑا : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-88 پھر سامری نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑے کا نقشہ بنا نکالا جو محض ایک مجسمہ تھا اور اس میں آواز بچھڑے کی سی تھی اس شعبدے کو دیکھ کر تو ہم پرست لوگ کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا پروردگار یہی کی مٹی ڈال دی جس سے اس میں سے آواز بچھڑے کی نکلنے لگی لوگ اسی کو معبود کہنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر جانے کو بھول سے تعبیر کرنے لگے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) بھولا کہ اور جگہ چلا گیا 12 بہرحال ! حضرت حق جل مجدہ اس گوسالہ پرستی کا رد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 87–89

ف 1۔ یہ معنی نہیں کہ بالکل مضطر ہوگئے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کہ ہم ابتداء مخلی بالطبع ہو کر اختیار کرتے سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا، جس سے ہم نے وہ رائے سابق اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سامری نے ایک بچھڑے کی شکل کی ایک چیز بنا کر اس کو معبود قرار دیا : 88۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے کے بعد سامری نے بڑی تیزی اور پھرتی سے ان زیورات کو جو بنی اسرائیل کی قوم کے پاس تھے اکٹھا کرلیا اور سب کو ٹھکانے لگا کر چالاکی سے ایک شعبدہ بازی کی وہ یہ کہ اس نے ایک ترتیب سے ایک گائے کے بچہ کے برابر بت گھڑا اور اس میں ایسی کل تیار کر کے لگائی کہ وہ جسم کے لحاظ سے ایک بچھڑا نظر آتا تھا اور اس کے منہ سے ایک آواز بھی نکلتی تھی لیکن اس آواز میں کوئی تلفظ نہ تھا فقط ایک بھا۔۔۔۔۔ ں۔ بھا۔۔۔۔ ں کی آواز تھی ، اور پھر اس نے اور اس کے دوسرے چیلے چانٹوں نے اس کو خوب مشہور کال کہ یہی بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَأَخْرَ‌جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ‌ (So he brought forth for them a calf, a body with a lowing sound. - 20:88) Some Commentators maintain that it was only a body without life and that the sound was produced by a special contrivance. But the majority of commentators believe that the calf in fact possessed signs of life. فَقَالُوا هَـٰذَا إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ (Then they said, "This is your god and the god of Musa, and he erred." - 20:88) Having carved a calf which could also produce a sound, Samiri and his friends said to the Bani Isra'il", "Here is your god…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–91

69. Here the Quran exonerates Prophet Aaron (peace be upon him) from the sin of taking any part in the calfworship, but in contrast to this, the Bible makes him wholly responsible for making the golden calf and setting it up as a god. According to Exodus: And when the people saw that Moses delayed to come down out of the mount, the people gathered themselves together unto Aaron, and said unto him, Up, make us gods, which shall go before us; for as for this Moses, the man that brought us out of the land of Egypt, we know not what is become of him. And Aaron said unto them, Break off the golden…

Read the full tafseer →