Explained with ayahs 83–89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔
حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 67
یہ ان لوگوں کا عذر تھا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم نے زیورات پھینک دیے تھے۔ نہ ہماری کوئی نیت بچھڑا بنانے کی تھی، نہ ہمیں معلوم تھا کہ کیا بننے والا ہے۔ اس کے بعد جو معاملہ پیش آیا وہ تھا ہی کچھ ایسا کہ اسے دیکھ کر ہم نے اختیار شرک میں مبتلا ہوگئے۔
" لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے "، اس کا سیدھا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کی رسموں کے مطابق جو بھاری زیورات پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے۔ اور ہم پریشان تھے کہ اس بوجھ کو کہاں تک لادے پھریں۔ لیکن بائیبل کا بیان ہے کہ یہ زیورات مصر سے چلتے وقت ہر…
Read the full tafseer →قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا، لفظ ملک بفتح میم و بضم میم دونوں کے معنے تقریباً ایک ہیں اور مراد اس جگہ اس سے اپنا اختیار ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ ہم نے گو سالہ کی پرستش پر اقدام اپنے اختیار سے نہیں کیا بلکہ سامری کے عمل کو دیکھ کر ہم مجبور ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ دعویٰ غلط اور بےبنیاد ہے۔ سامری یا اس کے عمل نے ان کو مجبور تو نہیں کردیا تھا خود ہی غور و فکر سے کام نہ لیا تو مبتلا ہوگئے آگے سامری کا وہ واقعہ بیان کیا۔
وَلٰكِنَّا حُمِّلْنَآ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ ، لفظ اوزار وزر کی جمع ہے جس کے معنے ثقل اور بوجھ کے ہیں انسان کے گناہ بھی چونکہ قیامت کے روز اس…
Read the full tafseer →اس آیت کے ایجاز کے سبب سے اس کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے ہم اپنے لفظوں میں اس کا مطلب بیان کریں گے اس کے بعد اس کے الفاظ کی وضاحت کریں گے۔
قوم کے بزرگوں کی معذرت
حضرت موسیٰ نے جیسا کہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، سب سے پہل یقوم کے ان بزرگوں کو سرزنش کی جن پر انہوں نے اپنی غیر حاضری میں لوگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ڈالی تھی۔ ان لوگوں نے اپنی مجبوری و بےبسی بیان کی کہ یہ جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ارادے اور ہماری مرضی کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے زیورات کی امانت کا جو بوجھ ہمارے اوپر تھا اوپر تھا وہ لوگوں کے مطالبے پر ہم نے اپنے سر سے اتار دیا اور اس طرح سامری نے ان…
Read the full tafseer →87۔ 1 یعنی ہم نے اپنے اختیار سے یہ کام نہیں کیا بلکہ غلطی ہم سے اضطراری طور پر ہوگئی، آگے اس کی وجہ بیان کی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
35: بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون کے لشکر کا چھوڑا ہوا مال غنیمت تھا، اس دور میں مال غنیمت کو استعمال کرنا جائز نہیں تھا۔ اس کے بجائے اسے ایک میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، اور آسمان سے ایک آگ آکر اسے جلا دیتی تھی، شاید ان زیورات کو پھینکنے کا یہی مقصد ہو کہ آسمانی آگ انہیں آ کر جلا دے۔ اس کے برخلاف عام طور پر تفسیروں میں یہ روایت مذکور ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تھے تو نکلنے سے پہلے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے بہت سے زیورات عید کے موقع پر پہننے کے لیے مستعار لیے تھے وہ سارے زیورات مصر سے نکلتے ہوئے ان کے ساتھ تھے۔ چونکہ یہ زیورات دوسروں کی امانت تھی۔ اس لیے بنی اسرائیل کے لیے…
Read the full tafseer →ما اخلقنا موعدک بملکنا (02 : 88) ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اتخیار سے نہیں کی۔ “ بات اتنی بڑی تھی کہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ہم اس سے باز رہتے۔
ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنھا (02 : 88) ” معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا۔ “ ان کے پاس مصری عورتوں کے زیورات تھے جو وہ ساتھ لے آئے تھے۔ اس بوجھ کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔ ہم نے ان زیورات کو بوجھ اتارنے کے لئے پھینک دیا تھا کیونکہ یہ ہمارے پاس تھے اور تھے حرام۔ سامری نے ان کو چن لیا اور ان سے یہ بچھڑا بنا دیا۔ سامری مصر کا باشندہ تھا جو ان کا ساتھی بن گیا تھا۔ یا یہ بنی اسرائیل ہی میں…
Read the full tafseer →7 یعنی ہم نے اپنے اختیار سے از خود ایسا نہیں کیا، یہ حرکت ہم سے سامری نے کرائی۔ صورت یہ ہوئی کہ قوم فرعون کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اسے کیا کریں۔ وہ ہم نے باہمی مشورہ کے بعد اپنے سے اتار پھینکا۔ اس کو آگ میں پگھلا کر سامری نے ڈھال لیا اور بچھڑے کی صورت بنا کر کھڑی کردی۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے وہاں اس کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ (تنبیہ) قوم فرعون کے یہ زیورات کس طرح بنی اسرائیل کے ہاتھ آئے تھے ؟ یا ان سے مستعار لیے تھے۔ یا مال غنیمت کے طور پر ملے یا اور کوئی صورت ہوئی۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ کوئی صورت بھی ہو، بنی اسرائیل ان کا استعمال اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا ط ”
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تم لوگوں کو اپنی کتاب کی صورت میں جامع ہدایت عطا فرمائے گا۔ میں تو اللہ کے اس وعدے کے مطابق طور پر گیا تھا کہ تمہارے لیے اس کی کتاب اور ہدایت لے کر آؤں :
اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ ”
گویا تمہاری یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
60 موسیٰ (علیہ السلام) کتاب تورات لے کر جب واپس آئے تو سخت غضب ناک تھے۔ آپ نے آتے ہی اپنی قوم سے پے در پے تین سوال کئے۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔ تو یہ گمراہی کی راہ تم نے از خود کیوں اختیار کی ؟ کیا تمہیں اللہ کی ہدایت پسند نہیں تھی ؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اللہ نے جتنی مدت بعد کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا اسمیں کچھ تاخیر ہوگئی تھی، یا اس وعدہ کو طویل مدت گزر چکی تھی اور تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے تھے اور پھر یہ تجھے کہ پتہ نہیں کہ اللہ سے کب ہدایت آتی ہے یا آتی بھی ہے یا نہیں اس بنا پر تم نے خود ہی اپنے لئے ایک راہ تجویز کرلی اور اگر یہ دونوں…
Read the full tafseer →101۔ (آگ میں۔ سامری کے کہنے کے مطابق) یہ زیور وہی تھے جو بنی اسرائیل مصر سے نکلتے وقت اہل مصر سے مانگ کر لائے تھے، توریت میں ہے :۔” اور انہوں نے مصریوں سے روپے کے برتن اور سونے کے برتن اور گھڑے عاریت لیے اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ انہوں نے انہیں عاریت دی “۔ (خروج۔ 23: 35)
102۔ (اپنے پاس کا زیور) فرعون اور فرعونیوں کی غرقابی کے بعد شریعت اسرائیلی کی رو سے یقیناً بنی اسرائیلی ان زیوروں کے مالک ہوگئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
آیت نمبر 86 تا 89
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نھے کہا اسے میری قوم کیا تم سے میرے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی سچا وعدہ، یہ کہ وہ تم کو تورات عطا کرے گا، کیا تم پر میری جدائی کا زمانہ زیادہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے، تمہارے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے کہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ تم نے میرے پیچھے پیچھے آنے کو ترک کردیا تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی مَلْکِنَا کے میم میں تینوں حرکتیں درست ہیں، یعنی اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے (خلاف ورزی نہیں کی) لیکن قوم کے زیورات کا کا بوجھ جو ہم پر لاد…
Read the full tafseer →قالوا ما اخلفنا موعدک بملکنا کہنے لگے (ایمان پر قائم رہنے کا جو وعدہ ہم نے آپ سے کیا تھا)
اپنے اس وعدے کی خلاف ورزی از خود نہیں کی۔ مَلک ملک ملک تینوں ہم معنی ہیں (کذا فی القاموس) یعنی ہم نے اختیار سے ایسا نہیں کیا۔ اگر آدمی خدا کی طرف سے آزمائش اور مصیبت میں پڑجاتا ہے تو (ظاہر ہے کہ) اس کا اپنے نفس پر قابو نہیں رہتا (اور باوجود بااختیار ہونے کے بےاختیار ہوجاتا ہے)
ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنہا فکذلک القی السامری۔ لیکن قوم (قبط)
کے زیور کا (جو) بار ہم پر لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر سامری نے بھی اسی طرح ڈال دیا۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نکل کر جانے…
Read the full tafseer →(87) قوم کہنے لگی موسیٰ ؑ ہم نے جو تم سے وعدہ کیا تھا، اس کی اپنے اختیار سے خلاف ورزی نہیں کی لیکن آل فرعون کے زیورات کا ہم پر بوجھ لاد رہا تھا اس لیے اس نے اس بچھڑے کی پوجا پر مجبور کیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ ہم نے ان زیورات کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی اپنے ساتھ کا زیور آگ میں ڈال دیا۔
Read the full tafseer →قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا : انھوں نے وعدہ خلافی کا نہایت ہی بودا عذر پیش کیا کہ اس وعدہ خلافی میں ہمارا کوئی اختیار ہی نہ تھا۔ سامری نے ہمیں پھسلایا ہی اس طرح کہ ہم میں نیک و بد کی پہچان ہی نہ رہ گئی۔ کوئی پوچھے کہ سامری نے تم پر کوئی فوج کشی کی تھی یا تلوار تان رکھی تھی کہ تمہارا اختیار ختم ہوگیا تھا ؟ قیامت کے دن ہر مجرم اپنے آپ کو بےقصور اور بےاختیار ٹھہرائے گا اور اپنے تمام جرائم کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرائے گا مگر وہ صاف کہہ دے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج کشی نہیں کی تھی، صرف دعوت دی تھی، تم نہ مانتے تو میں تمہارا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ دیکھیے سورة ابراہیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [مَآ اَخْلَفْنَا : ہم نے خلاف نہیں کیا ] [مَوْعِدَكَ : آپ (علیہ السلام) کے وعدے کے ] [بِمَلْكِنَا : اپنے اختیار سے ] [وَلٰكِنَا : اور لیکن ] [حُمِّلْنَآ : اٹھوائے گئے ہم سے ] [اَوْزَارًا : کچھ بوجھ ] [مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ : قوم کی زینت (زیورات) میں سے ] [فَقَذَفْنٰهَا : تو ہم نے پھینک دیا ان کو ] [فَكَذٰلِكَ : پھر اسی طرح ] [اَلْقَي : ڈالا ] [السَّامِرِيُّ : سامری نے ]
نوٹ۔ 1: آیت 87 ۔ میں قوم کی زینت یعنی زیورات کے بوجھ کا ذکر ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ زیورات بنی اسرائیل ہی کے لوگوں کے تھے یا مصر کے قبطیوں کے تھے۔ اس سلسلہ میں تورات کی روایات متضاد ہیں۔ کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
59:۔ قوم نے معذرت کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا بیشک ہم نے آپ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہم سے جو عہد شکنی ہوئی ہے یہ ہم نے جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے نہیں کی۔ بلکہ سامری نے چالاکی سے ایسی صورت پیدا کردی جس کے پیش نظر ہم بےاختیار اور مجبور ہوگئے۔ ای من قدرتنا واختیارنا (ابن کثیر ج 3 ص 162) ابن زید لم نملک انفسنا ای کنا مضطرین (قرطبی) یعنی ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ ہم سے سامری نے کرایا ہے۔
60:۔ اس میں انہوں نے بیچارگی اور اضطرار کی تصویر پیش کی کہ ہوا یوں کہ قبطیوں (قوم فرعون) سے جو زیورات ہم نے بطور استعارہ لیے تھے۔ اب ان کی ہلاکت کے بعد ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کرنے کا واقعہ بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاددلائیں۔ ان میں روحانی نعمت اللہ کی کتاب تورات بھی جو بنی اسرائیل کی اپنی خواہش کے مطابق انہیں عطا کی گئی اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے چند منتخب آدمیوں کے ہمراہ کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف کیا تو اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ اسی دوران میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کی قوم سامری کی تحریک پر بچھڑے کی پوجا جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔
سامری کون تھا :
سامری کی شخصیت کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں بیان کی ہیں۔ بعض کہتے…
Read the full tafseer →قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلٰكِنَّا حُمِّلْنَآ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَۃِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰہَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَي السَّامِرِيُّ 87ۙ
ملك
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور، وذلک يختصّ بسیاسة الناطقین، ولهذا يقال : مَلِكُ الناسِ ، ولا يقال : مَلِك الأشياءِ ، وقوله : مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] فتقدیره : الملک في يوم الدین،
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے یہی وجہ ہے کہ ملک امن اس تو کہا جاتا ہے لیکن ملک الاشیاء کہنا صحیح نہیں ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مَلِكِ يومِ الدّين [ الفاتحة/ 3] انصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا مَـآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا وَلٰـکِنَّا حُمِّلْنَـآ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْـقَوْمِ فَـقَذَفْـنٰـھَا فَکَذٰلِکَ اَلْقَی السَّامِرِیُّ ۔ (طٰـہٰ : 87)
(انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ ( علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد کی خلاف ورزی اپنی مرضی سے نہیں کی بلکہ قوم کے زیورات کا بوجھ جو ہمارے حوالے کیا گیا تھا ہم نے اس کو پھینک دیا، پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا۔ )
قوم کے بزرگوں کی معذرت
بنی اسرائیل کے سربرآوردہ لوگوں سے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب طلبی کی کہ میں نے تم سے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اطاعت پر قائم رہنے کا عہد لیا تھا تم نے اسے کیوں توڑا اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہودہ جواب۔
چاہیے تو یہ تھا بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معذرت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے لیکن انھوں نے حسب عادت بہانہ سازی سے کام لیتے ہوئے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ اے موسیٰ دراصل ہم اپنی مرضی سے اس سنگین جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اے موسیٰ ہوا یوں کہ ہمارے پاس لوگوں کے زیورات تھے وہ ہمارے لیے بوجھ بن چکے تھے۔ ہم نے سوچا ان سے جان چھڑائی جائے ہم نے انھیں پھینک دیا۔ ہمارے ساتھ سامری نے بھی اپنا زیور پھینک دیا۔ پھر سامری نے انھیں آگ میں ڈال کر ایک ایسا بچھڑا بنایا۔ جس کے منہ سے عجب آوازیں آنے لگیں۔ سامری نے ہمیں کہا…
Read the full tafseer →87: قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا (انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی ) ۔
قراءت : بِمَلکنا ؔ میم کے فتحہ سے مدنی اور عاصم نے پڑھا جبکہ حمزہ، علی نے ضمہ سے بملکنا اور باقی قراء نے کسرہ سے پڑھا یعنی ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اس طرح نہیں کی کہ ہمیں اپنے معاملے میں اختیار حاصل تھا۔ یعنی اگر ہم اپنے معاملے کے مالک ہوتے۔ اور آزاد ہوتے اور سوجھ رکھتے تو ہم خلاف ورزی نہ کرتے۔ لیکن ہم سامری کی جانب سے مغلوب ہوگئے اور اس کے مکروفریب سے مسحور ہوگئے (اور اپنے نفس پر قابو نہ رہا اور باوجود بااختیار ہونے کے بےاختیار ہوگئے مترجم)
وَلٰکِنَّا حُمِّلْنَآ (ہم…
Read the full tafseer →تفسیر۔
87۔ قالوامااخلفنا موعدک بملکنا، نافع ابوجعفر اور عاصم کے نزدیک ، بملکنا ، میم کے فتحہ کے ساتھ حمزہ اور کسائی نے ان دونوں کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور کہ ہم آپ کے حکم کے مالک ہیں۔ بعض نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے ایسا نہیں اور بعض قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں اس کو معنی یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ آپ کی قدرت اور اختیار سے کیا۔ بعض نے کہا کہ جب کسی شخص پر کوئی مصیبت یا مشکل افتادہ آپڑے تو پھر اس کو اپنے نفس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ ولکنا حملنا، ابوعمرو، حمزہ کسائی، ابوبکر ، یعقوب نے حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ میم کی تخفیف کے ساتھ، دوسرے قراء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
85۔ 87:۔ بنی اسرائیل کا یہ بچنا بچھڑے کی پوجا کے سبب سے تھا یہ بچھڑے کی پوجا کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جس رات مصر سے چلے اس رات ایک شادی کا بہانہ کرکے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے کچھ زیور مانگ لیا تھا تاکہ فرعون کی قوم کو شادی کا یقین ہوجائے اور بنی اسرائیل سفر کی تیاری میں تمام رات جو جاگتے رہے اس کو فرعون کی قوم کے لوگ شادی میں کا جاگنا سمجھ کر سفر کی تیاری میں کچھ فتور نہ ڈالیں اس رات کی صبح کو فرعون کی قوم کے لوگ تو سب ڈوب کر مرگئے اس لیے وہ زیور بنی اسرائیل کے ہی پاس رہ گیا اور دشمنوں کے ہلاک ہوجانے بعد اگرچہ وہ زیور غنیمت کا مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →87 قوم کی طرف سے حضرت موسیٰ کے حضور معذرت : سو اس پر اس قوم نے حضرت موسیٰ کے حضور معذرت کرتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم نے ایسا اپنے اختیار سے نہیں کیا بلکہ ہم پر اس قوم کے زیورات کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ یعنی قبطیوں کے ان زیورات کا جو کہ ہم نے ان سے شادی وغیرہ کے بہانے سے عاریت پر لئے تھے تاکہ اس طرح ہم سرزمین مصر سے باہر نکل سکیں اور عاریت کے وہ زیورات چونکہ ہمارے لئے جائز نہ تھے اس لئے وہ ہمارے لئے ایک بوجھ بنے ہوئے تھے۔ اور ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ اب کیا کریں۔ تو سامری نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلائی اور کہا کہ یہ سب زیورات تم لوگ لاکر اس میں ڈال دو تاکہ یہ جل جائیں اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →ف 9 عموماً مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ زبور بنی اسرائیل کی عورتوں نے کسی تقریب کے موقع پر قطیبیوں کی عورتوں سے مستعار لئے تھے اور بعد میں واپس نہ کئے تھے بعض کہتے ہیں کہ جب فرعون اور اس کے لشکر والے سمندر میں غرق ہوگئے اور ان کی لاشیں کناروں پر تیرتی ہوئی ائٓیں تو بنی اسرائیل نے ان کے زیور اتار لئے۔ (فتح القدیر)10 تاکہ ان کے گناہ سے نجات پائیں یا سامری کے سپرد کردیئے تاکہ حضرت موسیٰ کے واپس آنے تک اس کے پاس محفوظ رہیں۔ (شوکانی)
1 یعنی اس نے بھی جو زیور اس کے پاس تھے ڈال دیئے۔
Read the full tafseer →(20:87) بملکنا۔ باء حرف جار۔ ملک مجرورو مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ملک بمعنی اختیار ملکیا ای اختیارنا۔ (الحازن) المفردات میں ہے ایک محاورہ ہے مالاحد فی ھذا ملک غیری کہ میرے سوا اس پر کسی کا اختیار یا قبضہ نہیں ہے۔ آیت ہذا ما اخلفنا موعدک بملکنا۔ کا معنی۔ ہم نے اپنے اختیار سے وعدہ خلافی نہیں کی۔
حملنا۔ ماضی مجہول جمع متکلم۔ ہم پر لادا گیا۔ ہم لادے گئے ۔ ہم سے اٹھوایا گیا۔ تحمیل (تفعیل) مصدر۔
اوزارا۔ جمع وزرۃ کی ۔ بمعنی وز ن۔ بوجھ۔ زینۃ۔ زیور۔ سجاوت۔ چمک دمک۔ یہاں زیور مراد ہے۔ ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم۔ (بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ) قوم کے زیورات کا بوجھ ہم پر بھاری ہو رہا تھا۔
یہ زیور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →اس آیت میں قوم کے جواب کو بیان کیا کہ قوم کے لوگوں نے جواب دیا ” اے رسول (علیہ السلام) اللہ کے ! ہم نے جان بوجھ کر تمہارے عہد کو نہیں توڑا ، بلکہ قبطی قوم کا وہ زیور جو ہمارے پاس رہ گیا تھا، ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے پہلے تو ہم نے اور سامری نے سب نے مل کر وہ زیور ایک گڑھے میں دبا دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد پھر سامری نے اس زیور کا بچھڑا بنا کر ہم کو ایسا بہکایا کہ بلکل بےقابو کردیا۔
انسان اور شیطان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” انسان کے تمام جسم میں جس طرح خون پھرتا ہے، اسی طرح بہکانے کے وقت ہر شخص کے تمام جسم میں شیطان چکر لگاتا ہے “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بغیر یاد الہی کے آدمی کو شیطان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–92
[37] یعنی ہمارے مردوں اور عورتوں نے مصر کے رسم و رواج کے مطابق جو بھاری بھاری زیور پہن رکھے تھے وہ اس صحرا نوردی میں ہم پر بار ہوگئے تھے اس لئے ہم نے انھیں پھینک دیا تھا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ سامری ان سے ایک عجیب و غریب چیز بنا کر ہمیں گمراہ کر دے گا۔ یہ تھا عذر ان لوگوں کا جو سامری کے فتنے میں مبتلا ہوئے۔
[38] '' ہم نے ان کو پھینک دیا تھا '' تک لوگوں کا جواب ہے۔ اس کے بعد آیت کا حصہ لوگوں کے جواب کا ٹکڑا نہیں ؟ جیسا کہ عبارت پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے بلکہ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-87 قوم کے لوگوں نے جواب دیا ہم نے جو تجھ سے وعدہ کیا تھا اس کا خلاف ہم نے اپنے اختیار سے نہیں کیا لیکن واقعہ یہ ہوا کہ فرعونی قوم کے زیورات کا جو بوجھ ہم پر لدا ہوا تھا اس کو ہم نے سامری کے کہنے سے آگ میں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا۔ یعنی ہوا یہ کہ مصر سے چلتے وقت جو زیور ہم قبطیوں سے عاریتہ مانگ لائے تھے اس کا بوجھ ہم پر تھا اور اس زیور کا حکم ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس زیور کا کیا کریں۔ کیونکہ اصلی مالک غرق ہوچکے تھے ان تمام زیورات کو ہم نے سامری کے کہنے سے آگ میں ڈال دیا۔ مقصد یہ تھا کہ گلا کر ایک جگہ کرلیا جائے۔ سامری نے بھی جو کچھ اس کے پاس تھا اسے گلانے کو ڈال دیا۔ مفسرین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ف 1۔ یہ معنی نہیں کہ بالکل مضطر ہوگئے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کہ ہم ابتداء مخلی بالطبع ہو کر اختیار کرتے سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا، جس سے ہم نے وہ رائے سابق اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا۔
Read the full tafseer →قوم کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے اپنی معذرت پیش کردی :
87۔ بنی اسرائیل نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اور ان کی حالت کو ملاحظہ کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس طرح معذرت کرنے لگے کہ اے موسیٰ ! ہمارا کوئی قصور نہیں مصریوں کے زیورات کا جو بوجھ ہم ساتھ پھر رہے تھے وہ سامری نے ہم سے مانگ کر یہ سوانگ رچایا اور صحیح بات یہ ہے کہ ہم کو گمراہ کردیا ۔ ” شرک “ منصب نبوت کے لئے ایک ناقابل برداشت چیز ہے اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس معذرت سے غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے ہارون (علیہ السلام) سے اس معاملہ میں سخت سوال و جواب اور ہارون (علیہ السلام) کا مکمل جواب پیچھے سورة…
Read the full tafseer →قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا (They said, "We did not back out of our own volition, of the promise made to you". - 20:87) The excuse which the Bani Isra'il offered for adopting the worship of the calf was that they did not do so of their own choice but merely followed Sas example.
وَلَـٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ (But we were burdened with loads from the ornaments of the people. - 20:87) The word أَوْزَارًا (awzar) is the plural of وزر (wizr) which means "burden". On the Day of Judgment everybody will carry his bundle of sins on his shoulders just…
Read the full tafseer →67. This excuse was put forward by those people who were involved in the shirk fabricated by the Samiri. They meant to say: We did not throw down the ornaments with the intention of setting up a calf nor did we know what was going to be made of these, but when the calf was brought before us, we involuntarily got involved in shirk. The Arabic text which we have translated into:“We were laden with burdens of ornaments of the people”, simply means this: The heavy ornaments which our men and women were wearing like the Egyptians proved very burdensome to us in our wanderings in the desert and we…
Read the full tafseer →