Explained with ayahs 83–89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔
حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 64
" اچھا وعدہ نہیں کیا تھا " بھی ترجمہ ہوسکتا ہے۔ متن میں جو ترجمہ ہم نے اختیار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جتنی بھلائیوں کا وعدہ بھی کیا ہے وہ سب تمہیں حاصل ہوتی رہی ہیں۔ تمہیں مصر سے بخیریت نکالا، غلامی سے نجات دی، تمہارے دشمن کو تہس نہس کیا، تمہارے لیے ان صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں سائے اور خوراک کا بندوبست کیا۔ کیا یہ سارے اچھے وعدے پورے نہیں ہوئے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں شریعت اور ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، کیا تمہارے نزدیک وہ کسی خیر اور بھلائی کا وعدہ نہ تھا ؟
سورة طٰهٰ 65
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَـنًا، حضرت موسیٰ ؑ نے رنج و غم کے عالم میں واپس آ کر قوم سے خطاب کیا اور پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد دلایا جس کے لئے وہ سب قوم کو لے کر طور کی جانب ایمن کی طرف چلے تھے کہ یہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ہدایت عطا فرمائیں گے اور جس کے ذریعہ دین و دنیا کے تمام مقاصد تمہارے پورے ہوں گے۔
اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ ، یعنی اللہ کے اس وعدہ پر کوئی بڑی مدت بھی تو نہیں گزری جس میں تمہارے بھول جانے کا احتمال ہو کہ وعدہ کا انتظار زمانہ دراز تک کرنے کے بعد مایوس ہوگئے اس لئے دوسرا طریقہ اختیار کرلیا۔
اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خبر دی کہ تم تو ہماری رضا جوئی کے شوق میں قوم کو چھوڑ کر وقت سے پہلے چلے آئے اور تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے اس کو گمراہی میں مبتلا کردیا۔
فتنا قومک میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیت فتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ افراد ہوں یا اقوام نیک ہوں یا بد، سب کی آزمائش ہر وقت ہوتی رہتی ہے اور اسی آزمائش کے ذرعیہ سے اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو ممیز کرتا ہے یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو آزمئاش میں ڈالا اور وہ اس امحتان میں فیل ہوگئی۔ سامری نے اس کو گمراہ کر ڈالا۔
سامری کا فتنہ
سامری کا کوئی…
Read the full tafseer →86۔ 1 اس سے مراد جنت کا یا فتح و ظفر کا وعدہ ہے اگر وہ دین پر قائم رہے یا تورات عطا کرنے کا وعدہ ہے، جس کے لئے طور پر انھیں بلایا گیا تھا۔
86۔ 2 کیا اس عہد کو مدت دراز گزر گئی تھی کہ تم بھول گئے، اور بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔
86۔ 3 قوم نے موسیٰ ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی طور سے واپسی تک وہ اللہ کی اطاعت و عبادت پر قائم رہیں گے، یا یہ وعدہ تھا کہ ہم بھی طور پر آپ کے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں لیکن راستے میں ہی رک کر انہوں نے گو سالہ پرستی شروع کردی۔
Read the full tafseer →33: اچھے وعدے سے مراد کوہ طور پر تورات دینے کا وعدہ ہے
34: یعنی مجھے کوہ طور پر گئے ہوئے کوئی ایسی لمبی مدت تو نہیں گذری تھی کہ تم میرا انتظار کیے بغیر اس بچھڑے کو معبود بنا بیٹھو
Read the full tafseer →ہارون (موسیٰ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ” لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو ، تمہارا رب تو رحمٰن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ “ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ” ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔ “
یہ ہے وہ فتنہ جس کے ذریعہ بنی اسرائیل گمراہ ہوئے لیکن قرآن اس کا تذکرہ اس وقت کرتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے آ کر تحقیق کرتے ہیں۔ اس سے قبل اللہ کے ساتھ مناجات کے موقعہ پر قرآن نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ ان تفصیلات کو خفیہ رکھا تاکہ ان کو اس وقت ظاہر کیا جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) خود تحقیقات کرلیں۔
حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →6 یعنی میری اتباع میں تم کو دینی و دنیاوی ہر طرح کی بھلائی پہنچے گی۔ چناچہ بہت سی عظیم الشان بھلائیاں ابھی ابھی تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو اور جو باقی ہیں وہ بھی عنقریب ملنے والی ہیں۔ کیا اس وعدہ کو بہت زیادہ مدت گزر گئی تھی کہ تم پچھلے احسانات کو بھول گئے اور اگلے انعامات کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے ہو ؟ یا جان بوجھ کر تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟ اور دین توحید پر قائم نہ رہ کر خدا کا غضب مول لیا (کذا فسرہ ابن کثیر (رح) ) یا یہ مطلب لیا جائے کہ تم سے حق تعالیٰ نے تیس چالیس روز کا وعدہ کیا تھا کہ اتنی مدت موسیٰ (علیہ السلام) " طور " پر معتکف رہیں گے، تب تورات شریف ملے گی۔ تو کیا بہت زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا ط ”
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تم لوگوں کو اپنی کتاب کی صورت میں جامع ہدایت عطا فرمائے گا۔ میں تو اللہ کے اس وعدے کے مطابق طور پر گیا تھا کہ تمہارے لیے اس کی کتاب اور ہدایت لے کر آؤں :
اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ ”
گویا تمہاری یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
60 موسیٰ (علیہ السلام) کتاب تورات لے کر جب واپس آئے تو سخت غضب ناک تھے۔ آپ نے آتے ہی اپنی قوم سے پے در پے تین سوال کئے۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔ تو یہ گمراہی کی راہ تم نے از خود کیوں اختیار کی ؟ کیا تمہیں اللہ کی ہدایت پسند نہیں تھی ؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اللہ نے جتنی مدت بعد کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا، کیا اسمیں کچھ تاخیر ہوگئی تھی، یا اس وعدہ کو طویل مدت گزر چکی تھی اور تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے تھے اور پھر یہ تجھے کہ پتہ نہیں کہ اللہ سے کب ہدایت آتی ہے یا آتی بھی ہے یا نہیں اس بنا پر تم نے خود ہی اپنے لئے ایک راہ تجویز کرلی اور اگر یہ دونوں…
Read the full tafseer →98۔ (جیسا کہ غیرت دینی سے ہونا ہی چاہیے تھا) توریت میں ہے :۔” اور یوں ہوا کہ جب وہ لشکر گاہ کے پاس آیا اور بچھڑا اور ناچ رنگ دیکھا تب موسیٰ کا غضب بھڑکا “۔ (خروج۔ 32: 19)
99۔ ( جو یقیناً پورا ہونے والا تھا) وہ وعدہ نزول شریعت کا تھا، جس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر طلب ہوئے تھے۔
100۔ وہ وعدہ بھی دین توحید پر قائم رہنے کا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ناگواری اور حیرانی کے لہجہ میں اپنی قوم سے خطاب کر رہے ہیں کہ آخریہ حرکت کیا تھی ؟ تمہیں سوجھی کیا ؟ کیا مجھے گئے ہوئے اتنا زمانہ گزر گیا تھا کہ تم میری واپسی سے بالکل مایوس ہوگئے تھے ؟ یا یوں ہی بلاکسی وجہ کے تم پر خود ہی شامت سوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
آیت نمبر 86 تا 89
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نھے کہا اسے میری قوم کیا تم سے میرے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ یعنی سچا وعدہ، یہ کہ وہ تم کو تورات عطا کرے گا، کیا تم پر میری جدائی کا زمانہ زیادہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واجب ہوجائے، تمہارے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے کہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی کہ تم نے میرے پیچھے پیچھے آنے کو ترک کردیا تو انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی مَلْکِنَا کے میم میں تینوں حرکتیں درست ہیں، یعنی اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے (خلاف ورزی نہیں کی) لیکن قوم کے زیورات کا کا بوجھ جو ہم پر لاد…
Read the full tafseer →فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا غرض موسیٰ غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس
آئے۔ یعنی چلہ پورا کر کے توریت لینے کے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) انتہائی غمگینی اور رنج و فکر کی حالت میں قوم کی طرف لوٹے۔
قال یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً افطال علیکم العہد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم فاخلفتم موعدی۔ کہنے لگے اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا
تھا کیا تم پر (میعاد مقررہ سے زائد) کچھ زمانہ گزر گیا تھا یا تم کو یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
قَالَ یٰقَوْمِ واپس آکر موسیٰ نے جب قوم کو بچھڑے کی…
Read the full tafseer →(86) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ مدت مکمل ہونے کے بعد غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور فتنہ کا شور وشغب سنا تو فرمانے لگے اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا اور سچا وعدہ نہیں کیا تھا کیا میں تم سے زمانہ دراز کے لیے جدا ہوگیا تھا یا یہ کہ تمہیں یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اور عذاب نازل ہو، اس لیے تم نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
Read the full tafseer →فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔۔ : ”غَضْبَانَ“ مبالغہ کے وزن پر ہے، اس لیے ”غصے سے بھرا ہوا“ ترجمہ کیا ہے۔ ”اَسِفًا“ ”أَسِفَ یَأْسَفُ“ (ع) سے صفت کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت غم و افسوس کرنے والا بھی ہے اور غصے والا بھی۔ (قاموس) یہاں ”غَضْبَانَ“ کے بعد افسوس زیادہ مناسب ہے۔ حرف ”فاء“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے مکالمہ اور کتاب دینے کے آخر میں انھیں قوم کے گمراہ ہونے کی اطلاع دی۔ ”فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ“ تو یہ خبر سنتے ہی موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔
قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَـنًا : اس وعدے سے مراد توبہ، ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[فَرَجَعَ : تو لوٹے ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) ] [اِلٰى قَوْمِهٖ : اپنی قوم کی طرف ] [غَضْبَان : غضبناک ہوتے ہوئے ] [اَسِفًا : غمگین ہوتے ہوئے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اَلَمْ يَعِدْكُمْ : کیا وعدہ نہیں کیا تھا تم سے ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [وَعْدًا حَسَـنًا : جیسے خوبصورت وعدے کا حق ہے ] [اَفَطَالَ : تو کیا طویل ہوا ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْعَهْدُ : معاہدہ ] [اَمْ : یا ] [اَرَدْتم : تم لوگوں نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [يَّحِلَّ : اتر جائے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [غَضَبٌ: کوئی غضب ] [مِّنْ رَّبِكُمْ : تمہارے رب سے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →57:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی میعاد گذرنے اور تورات لینے کے بعد جب قوم میں واپس آئے تو سخت غضبناک اور متاسف ہوئے۔ یہ غیظ و غضب اللہ کی توحید پر غیرت کی بنا پر تھا۔ ” وَعْدًا حَسَنًا “ سے تورات دینے کا وعدہ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کو تورات دے گا جو سراپا نور ہدایت ہوگی۔ وعدھم ان یعطیھم التوراۃ التی فیھا ھدی ونور ولا وعدا حسن من ذلک واجمل (بحر ج 6 س 268) ۔
58:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے کطاب کر کے فرمایا۔ میری قوم ! کیا اللہ نے تم سے ایک بہت ہی اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ تمہیں تورات دے گا اور پھر میں اس وعدہ کے مطابق تورات لینے کے لیے کوہ طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کرنے کا واقعہ بیان کیا۔ پھر بنی اسرائیل کو اپنی عطا کردہ نعمتیں یاددلائیں۔ ان میں روحانی نعمت اللہ کی کتاب تورات بھی جو بنی اسرائیل کی اپنی خواہش کے مطابق انہیں عطا کی گئی اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے چند منتخب آدمیوں کے ہمراہ کوہ طور پر چالیس دن اعتکاف کیا تو اللہ نے یہ نعمت عطا کی۔ اسی دوران میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ اطلاع بھی دی کہ ان کی قوم سامری کی تحریک پر بچھڑے کی پوجا جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہوچکی ہے۔
سامری کون تھا :
سامری کی شخصیت کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں بیان کی ہیں۔ بعض کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَاَضَلَّـہُمُ السَّامِرِيُّ 85
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَرَجَعَ مُـوْسٰٓی اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا 5 ج قَالَ یٰـقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا 5 ط اَفَطَالَ عَلَیْکُمُ الْعَھْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّـوْعِدِیْ ۔
(طٰـہٰ : 86)
(پس موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غضبناک اور افسردہ خاطر لوٹے اور فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے نہایت اچھا وعدہ نہیں کیا تھا۔ تو کیا طویل مدت گزر گئی اس وعدے پر (اور تم اس کے ایفا سے مایوس ہوگئے) یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو۔ اس لیے تم نے میری ٹھہرائی ہوئی میعاد کی خلاف ورزی کر ڈالی۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع پا کر کہ قوم گمراہ ہوچکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فوری طور پر اپنی قوم کی طرف پلٹنا۔
مدّت پوری ہوتے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فی الفور اپنی قوم کی طرف آئے اور غضب ناک ہو کر پے درپے ان سے تین سوال کیے۔ کیا تمہارے رب نے تمہاری ہدایت اور بھلائی کے لیے مجھے تورات دینے کے لیے طور پہاڑ پر نہیں بلایا تھا اور میں تمہیں بتلا کر نہیں گیا تھا ؟ کیا میرے جانے کی مدت بہت طویل ہوگئی تھی ؟ یا پھر تم نے دانستہ طور پر چاہا کہ تم پر اللہ کا غضب نازل ہو ؟ بہر حال تم نے میرے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ گمراہ ہونے والے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →موسیٰ ( علیہ السلام) کی واپسی اور ان کی فہمائش :
86: فَرَجَعَ مُوْسٰٓی (پس موسیٰ (علیہ السلام) لوٹے) اپنے رب سے مناجات کے بعد اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا (اپنی قوم کی طرف رنج سے بھرے ہوئے) انتہائی غصے میں نمبر 2۔ انتہائی غم زدہ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا (کہا اے میری قوم کیا تمہارے ساتھ تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو تورات دی جائے گی جس میں ہدایت و نور ہے۔ اس میں ایک ہزار سورتیں تھیں۔ ہر سورت میں ایک سو آیات تھیں۔ اس کی کتابوں کو ستر اونٹ اٹھاتے تھے۔ اور اس سے زیادہ بہترین کوئی وعدہ نہیں ( یہ اسرائیلی روایت عجیب…
Read the full tafseer →86۔ فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفا، غمگین ہوکر۔ قال یا قوم الم یعدکم ربک وعداحسنا ، اس سے مراد سچائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات دی۔” افطال علیکم العھد، ، آپ سے جدا ہونے کی مدت کتنی تھی۔ ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم، اگر تم نے ایسا کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر تم اپنے رب کے غضب کو پہنچ گئے۔ فاخلتم موعدی، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
85۔ 87:۔ بنی اسرائیل کا یہ بچنا بچھڑے کی پوجا کے سبب سے تھا یہ بچھڑے کی پوجا کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جس رات مصر سے چلے اس رات ایک شادی کا بہانہ کرکے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے کچھ زیور مانگ لیا تھا تاکہ فرعون کی قوم کو شادی کا یقین ہوجائے اور بنی اسرائیل سفر کی تیاری میں تمام رات جو جاگتے رہے اس کو فرعون کی قوم کے لوگ شادی میں کا جاگنا سمجھ کر سفر کی تیاری میں کچھ فتور نہ ڈالیں اس رات کی صبح کو فرعون کی قوم کے لوگ تو سب ڈوب کر مرگئے اس لیے وہ زیور بنی اسرائیل کے ہی پاس رہ گیا اور دشمنوں کے ہلاک ہوجانے بعد اگرچہ وہ زیور غنیمت کا مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →84 حضرت موسیٰ کا غضبناک حالت میں واپس لوٹنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " موسیٰ غصے سے بپھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے "۔ اس ناہنجار قوم کی اس سنگین گمراہی کی بناء پر۔ یعنی آنجناب چالیس راتیں کوہ طور پر پوری کرنے کے بعد اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے تو قوم کے بارے میں یہ سن کر غصے سے بھر گئے اور خزین و غمناک ہو کر واپس لوٹے کہ جس قوم کو اتنا عرصہ توحید کا درس دیا تھا وہ اس قدر سنگین اور ہولناک شرک میں مبتلا ہوگئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور حضرت موسیٰ کا یہ غم اور اس قدر حزن و ملال ایک طبعی امر تھا ۔ (علیہ السلام) ۔
85 حضرت موسیٰ کا اپنی قوم پر عتاب : سو واپس پہنچنے پر حضرت موسیٰ نے سب سے پہلے اپنی قوم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →ف 7 اور میں اس لئے گیا تھا کہ جا کر توراۃ ل ائوں گو مجھے تیس کے بجائے چالیس دن لگ گئے۔ مگر …8 وعدہ سے مراد ان کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک آپس واپس نہ آئیں گے ہم اپنے طریقہ پر قائم رہیں گے اور ہارون کی اطاعت کرتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →(20:86) غضبان۔ صیغہ مبالغہ۔ سخت غضبناک۔
اسفا۔ خشمناک ہر دو غضبان واسفا منصوب ہیں بوجہ حال ہونے کے رجع موسیٰ سے۔ غضبان غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں منجملہ اسباب منع صرف کے دو سبب (صفت اور الف نون زائدہ) پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا ا اس پر تنوین نہیں آسکتی۔
الاسف حزن اور غضب کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ کبھی اسف کا لفظ حزن اور غضب میں سے ہر ایک پر انفرادً بھی بولا جاتا ہے۔ اصل میں اس کے معنی جذبہ انتقام سے خون قلب کے جوش مارنے کے ہیں اگر یہ کیفیت اپنے سے کمزور آدمی پر پیش آئے تو پھیل کر غضب کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اگر اپنے سے طاقت ور آدمی پر پیش آئے تو منقبض ہو کر حزن بن جاتی ہے۔ غضب کے معنی میں قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غصہ اور رنج میں الٹے پھرے، اور قوم کے لوگوں کو کہا :” اے میری قوم کے لوگو ! میری معرفت کیا تمہاری دین ودنیا کی ببہود کے لئے کتاب وآسمانی توراۃ کے نازل فرمانے کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ جس کتاب کے لینے کے لئے میں تم سے دین پر قائم رہنے کا عہد لے کر کوہ طور پر گیا تھا۔ پھر اس کتاب کے نازل ہونے سے پہلے تم نے سامری کا کہنا کیوں مانا، اور بلاسند بچھڑے کو اپنا معبود کیوں ٹھہرایا۔ مجھ کو کوہ طور پر برسوں کا عرصہ گذر گیا تھا جو تم میرا انتظار نہ کرسکے، اور جب تم نے میرے عہد کو توڑا تو کیا تم نے اللہ کے غضب میں گرفتار ہونے کا ارادہ بھی دل میں ٹھان لیا تھا۔…
Read the full tafseer →[35] کہ وہ تمہیں شریعت عطا فرمائے گا۔
[36] یعنی تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ تم اللہ واحد کی پرستش کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-86 غرض ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی میعاد پوری کرنے کے بغد غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور آ کر قوم سے فرمایا اے میری قوم ! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے ایک اچھا اور خوش آئند وعدہ نہیں کیا تھا کیا تم پر مقررہ میعاد سے زیادہ زمانہ اور طویل مدت گزر گئی تھی یا تم نے یہ ارادہ کرلیا کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب اور غصہ واقع ہو اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
تفصیل تو نویں پارے میں گزر چکی ہے یہاں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) افسوس کی حالت میں توریت لے کر واپس آئے تو قوم کو خطاب کر کے فرمایا مجھ سے کچھ ایسی تاخیر تو نہیں ہوگئی تھی کہ تم بالکل ناامید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ف 9۔ یعنی ایمان و عمل صالح پر مداومت کریں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے واپس آئے تو اس افسوسناک خبر سے غضبناک تھے :
86۔ اللہ تعالیٰ کا یہ سوال کہ اے موسیٰ آپ اپنی قوم کو چھوڑ کر کیوں آئے ؟ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے آنے کی غرض تو بلاشبہ ان کی ہدایت کے لئے ایک قانون لے جانا ہے جس سے ان کی دنیا بھی سنورے اور آخر بھی بنے لیکن یہ تو تیری حرص ہے ان کی گمراہی بڑی عجیب ہے کہ انہوں نے تیرا انتظار کئے بغیر ایک گوسالہ کو اپنا معبود بنا لیا اور اس طرح سامری نے ایک چال چل کر اس قوم کو گمراہ کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات سنی تو غصہ وندامت کے ساھت بھر گئے اور اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو واپسی کا حکم دیا ۔ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا (Did your Lord not promise you a good promise? - 20:86) Sayyidna Musa (علیہ السلام) returned to his people full of sorrow and anger. First of all he reminded them of the promise which Allah had made to them that He would give them a Book for their guidance by adhering to which they could achieve all their worldly and religious objectives. He said that it was for the purpose of receiving the Book that he had started out with them for the mount of Tur.
أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ (Did then the time become too long for you? - 20:86) Not much time…
Read the full tafseer →64. That is, did not Allah fulfill the promises He made with you of showing His favors to you? For instance, He safely brought you out of Egypt and not only freed you from the slavery of your enemy but also destroyed him totally. He provided you with provisions in the desert and in the mountainous regions. It may also be translated like this: Did not Allah make a good promise with you? In that case, it will mean: He made a promise that he will give you the law and guidance. Was this not a good promise for your well being and betterment?
65. That is, had a long time passed since those great…
Read the full tafseer →