Explained with ayahs 83–89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔
حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
سورة طٰهٰ 63
یہ اس شخص کا نام نہیں ہے، بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے، خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف۔ پھر قرآن جس طرح " السامری " کہہ کر اس کا ذکر کر رہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے۔ لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں، اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیر کی…
Read the full tafseer →سامری کون تھا
بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آل فرعن کا قبطی آدمی تھا جو موسیٰ ؑ کے پڑوس میں رہتا تھا موسیٰ ؑ پر ایمان لے آیا اور جب بنی اسرائیل کو لے کر موسیٰ ؑ مصر سے نکلے تو یہ بھی ساتھ ہو لیا۔ بعض نے کہا کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے ایک قبیلہ سامرہ کا رئیس تھا اور قبیلہ سامرہ ملک شام میں معروف ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ فارسی شخص کرمان کا رہنے والا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی قوم کا آدمی تھا جو گائے کی پرستش کرنے والی تھی یہ کسی طرح مصر پہنچ گیا اور بظاہر دین بنی اسرائیل میں داخل ہوگیا مگر اس کے دل میں نفاق تھا (قرطبی) حاشیہ قرطبی میں ہے کہ یہ شخص ہندوستان کا ہندو تھا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خبر دی کہ تم تو ہماری رضا جوئی کے شوق میں قوم کو چھوڑ کر وقت سے پہلے چلے آئے اور تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے اس کو گمراہی میں مبتلا کردیا۔
فتنا قومک میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیت فتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ افراد ہوں یا اقوام نیک ہوں یا بد، سب کی آزمائش ہر وقت ہوتی رہتی ہے اور اسی آزمائش کے ذرعیہ سے اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو ممیز کرتا ہے یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو آزمئاش میں ڈالا اور وہ اس امحتان میں فیل ہوگئی۔ سامری نے اس کو گمراہ کر ڈالا۔
سامری کا فتنہ
سامری کا کوئی…
Read the full tafseer →85۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے بعد سامری نامی شخص نے بنی اسرائیل کو بچھڑا پوجنے پر لگا دیا، جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ ؑ کو دی کہ سامری نے تیری قوم کو گمراہ کردیا ہے، فتنے میں ڈالنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف باحیثیت خالق کے کی ہے، ورنہ اس گمراہی کا سبب تو سامری ہی تھا۔ جیسا کہ اضلھم السامری سے واضح ہے۔
Read the full tafseer →32: سامری ایک جادوگر تھا جو بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا تھا۔ اور اسی لیے ان کے ساتھ لگ گیا تھا، مگر حقیقت میں وہ منافق تھا۔
Read the full tafseer →قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (02 : 58) ” فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔
یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان…
Read the full tafseer →5 یعنی تم تو ادھر آئے اور ہم نے تیری قوم کو ایک سخت آزمائش میں ڈال دیا، جس کا سبب عالم اسباب میں سامری بنا ہے کیونکہ اس کے اغواء واضلال سے بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی غیبت میں بچھڑا پوجنا شروع کردیا تھا۔ جس کا قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (تنبیہ) سامری کا نام بھی بعض کہتے ہیں موسیٰ تھا۔ بعض کے نزدیک یہ اسرائیلی تھا بعض کے نزدیک قبطی۔ بہرحال جمہور کی رائے یہ ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد کا منافق تھا اور منافقین کی طرح فریب اور چالبازی سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی فکر میں رہتا تھا۔ ابن کثیر کی روایت کے موافق کتب اسرائیلیہ میں اس کا نام ہارون ہے۔
Read the full tafseer →آیت 85 قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْم بَعْدِکَ ”
اگرچہ یہاں صراحت کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے مگر انداز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی اس عجلت پسندی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا۔
وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ”
اس انداز تخاطب میں یہ تفصیل بھی مضمر ہے کہ اگر آپ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ساتھ رہتے ‘ ان کا تزکیہ کرتے رہتے ‘ وہ لوگ آپ علیہ السلام کی تعلیم و تربیت سے مسلسل بہرہ مند ہوتے رہتے تو یقیناً ان کی عقل و فہم مزید پختہ ہوتی اور اس طرح اس فتنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن جب آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر آگئے تو اس کے نتیجے…
Read the full tafseer →59 جب کوہ طور پر عبادت میں مصروف تھے اور اس انتظار میں تھے کہ چالیس دن پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کتاب ہدایت عطا فرمائیں تو اسی دوران آپ کی قوم نے آپ کے بعد پھر سے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑا تیار کیا اور یہ لوگ اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔
اس واقعہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وہیں کوہ طور پردے دی۔ آپ کو اس طلاع سے اپنی قوم پر غصہ تو بہت آیا مگر وہاں کا قیام بھی انتہائی ضروری تھا۔ لہذا آپ نے اپنے نفس پر جہر کرکے معینہ مدت تک وہیں رکے رہے۔
لفظ السامری سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اس شخص کا اصلی نام نہیں تھا۔ بلکہ کوئی خاص سامری شخص تھا۔…
Read the full tafseer →96۔ (بہ طور مسبب الاسباب کے، بطور فاعل تکوینی کے) اس آزمائش میں ڈالنے کو مرضی حق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بالکل اسی طرح اور اسی معنی میں صحیح ہے جس طرح اور جس معنی میں اللہ ہر بیماری، ہر دکھ، ہر زہر کا بھی خالق ہے۔ یعنی محض اسباب تکوینی کا محرک اول ہے، توریت میں ہے :۔” تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ اتر جا، کیونکہ تیرے لوگ جنہیں تو مصر کے ملک سے چھڑا لایا خراب ہوگئے ہیں وہ اس راہ سے جو میں نے فرمائی جلد پھرگئے ہیں انہوں نے اپنا ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لیے قربانی ذبح کرکے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے چھڑا لایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–85
آیت نمبر 77 تا 85
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…
Read the full tafseer →قال فانا قد فتنا قومک اللہ نے فرمایا ہم نے تمہاری قوم کو ایک بلا میں مبتلا کردیا ہے۔ فتن سے مراد ہے آزمائش کرنی جانچنا یا گمراہ کردینا یعنی (سامری نے گوسالہ بنایا اس میں) ہماری طرف سے جانچ تھی کہ کون اس کی پوجا کرتا ہے اور کون نہیں کرتا یا یہ مطلب ہے کہ بچھڑے کی پوجا کی وجہ سے ہم نے تمہاری قوم کو گمراہ کردیا۔
ایک شبہ فَاِنَّا : میں فَ سببیت کے لئے ہے یعنی اس سے پہلے کا کلام بعد کو آنے والے کلام کا سبب ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے جلدی چلے آنے سے تمہاری قوم گمراہ ہوگئی تمہاری عجلت آمد قوم کی گمراہی کا سبب بن گئی۔ لیکن بظاہر تو موسیٰ ( علیہ السلام) کے پہلے چلے آنے سے قوم گمراہ نہیں…
Read the full tafseer →(85) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ کو ارشاد ہوا ہم نے تمہارے کوہ طور پر چلے جانے کے بعد تمہاری قوم کو گوسالہ کی پرستش میں مبتلا کردیا ہے اور اس گمراہی کے اختیار کرنے کا ان کو سامری نے حکم دیا ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ۔۔ : یہ فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی تمہارا قوم کو چھوڑ کر چلے آنا اور مفسدوں کے لیے موقع فراہم کردینا اس کا باعث بنا کہ تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ یہاں ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ انھیں بچھڑا بنا کر سامری نے گمراہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت بھی فرما دی کہ انھیں سامری نے گمراہ کردیا، مگر تمام اسباب کا خالق چونکہ اللہ تعالیٰ ہے اور تمام دل اس کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے آزمائش میں ڈالنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔
مِنْۢ بَعْدِكَ : موسیٰ ؑ اپنی قوم کو تیس دنوں کے اعتکاف کا بتا کر گئے تھے، جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [فَانا : تو بیشک ] [قَدْ فَتَنَا : ہم نے آزمائش میں ڈالا ہے ] [قَوْمَكَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم کو ] [مِنْۢ بَعْدِكَ : آپ (علیہ السلام) کے بعد سے ] [وَاَضَلَّـهُمُ : اور گمراہ کیا ان کو ] [السَّامِرِيُّ : سامری نے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →56:۔ یعنی تم تو ادھر آگئے۔ اور تمہارے پیچھے ہم نے تمہاری قوم کو ایک آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ہے ای اختبرنا ھم بما فعل السامری (روح ج 16 ص 243) ۔ سامری چونکہ منافق تھا اور قوم کو گمراہ کرنے اور ان میں شرک پھیلانے کے موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں عدم موجودگی کو غنیمت سمجھ کر لوگوں سے زیورات لے کر ان کو ڈھال کر گوسالے کی شکل کا بت تیار کیا۔ جو گو سالے کی طرح آواز نکالتا تھا اور لوگوں سے کہا کہ تمہارا رب تو یہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) (عیاذا باللہ) بھول میں ہیں۔ جو کوہ طور پر رب سے ہم کلام ہونے چلے گئے مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَاَضَلَّـہُمُ السَّامِرِيُّ 85
فتن
أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13]
(ت ن ) الفتن
دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّا قَدْفَـتَـنَّا قَوْمَکَ مِنْ م بَعْدِکَ وَاَضَلَّھُمُ السَّامِرِیُّ ۔ (طٰـہٰ : 85)
(ارشاد ہوا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کر ڈالا۔ )
بنی اسرائیل کی آزمائش
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو فتنہ میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جس طرح گوسالہ پرستی کی لعنت میں مبتلا ہوئے۔ اس لعنت میں مبتلا انھیں خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ افراد اور قوموں کو کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور کی طرف جانا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی قوم کا گمراہ ہونا۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوہ طور کی دائیں جانب فلاں مقام پر فلاں وقت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کی نیابت کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کی دائیں جانب پہنچ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر کوہ طور کے دامن میں معتکف ہوئے تو پیچھے سے ان کی قوم…
Read the full tafseer →85: قَالَ فَاِنَّاقَدْ فَتَنَّاقَوْمَکَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے تمہاری قوم کو ایک آزمائش میں مبتلا کردیا ہے) ہم نے ان کو ابتلاء میں ڈالا ہے۔ مِنْم بَعْدِکَ (تمہارے بعد) تمہارے پہاڑ کی طرف روانہ ہونے اور ان سے نکلنے کے بعد۔ قومؔ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت ہارون کے ساتھ پیچھے تھے۔ وَاَضَلَّھُمُ السَّامِرِیُّ (اور ان کو سامری نے گمراہ کیا) ان کو بچھڑے کی عبادت کی طرف دعوت دیکر اور ان کے اس کو قبول کرلینے کی بنا پر۔
وجہ : السامرۃ بنی اسرائیل کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اسی کی طرف یہ نسبت تھی۔ دوسراقول یہ ہے کہ وہ کرمان کا ایک جاٹ تھا۔ اس نے بچھڑا بنایا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا اور یہ…
Read the full tafseer →85۔ قال فانا قد فتنا قومک من بعدک۔۔ حضرت موسیٰ کے پیچھے حضرت ہارون کی آزمائش میں ڈالا، اور وہ ستر ہزار لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پوجاشروع کردی تھی بعض نے کہا کہ بنی اسرائیل چھ لاکھ تھے بارہ ہزار کے علاوہ باقی سب گمراہ اور گوسالہ پرست ہوگئے۔
” واضلھم السامری۔ اس نے لوگوں کو بچھڑے کی پوجا کرنے کی طرف پھیر دیا۔ سامری کی طرف اضافت اس لیے کی اس کے بسبب سب گمراہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
85۔ 87:۔ بنی اسرائیل کا یہ بچنا بچھڑے کی پوجا کے سبب سے تھا یہ بچھڑے کی پوجا کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جس رات مصر سے چلے اس رات ایک شادی کا بہانہ کرکے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے کچھ زیور مانگ لیا تھا تاکہ فرعون کی قوم کو شادی کا یقین ہوجائے اور بنی اسرائیل سفر کی تیاری میں تمام رات جو جاگتے رہے اس کو فرعون کی قوم کے لوگ شادی میں کا جاگنا سمجھ کر سفر کی تیاری میں کچھ فتور نہ ڈالیں اس رات کی صبح کو فرعون کی قوم کے لوگ تو سب ڈوب کر مرگئے اس لیے وہ زیور بنی اسرائیل کے ہی پاس رہ گیا اور دشمنوں کے ہلاک ہوجانے بعد اگرچہ وہ زیور غنیمت کا مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →83 بنی اسرائیل کا ابتلاء اور گوسالہ پرستی کا شرک : سو حضرت موسیٰ کے جانے کے بعد آپ کی قوم سخت فتنہ میں مبتلا ہوگئی۔ اس بچھڑے کی بناء پر جو کہ سامری نے ان کے لئے ان کے زیورات سے بنایا تھا کہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بن گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے سامری کی باتوں میں آکر اس کو اپنا معبود مان لیا اور اس کے آگے جھک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور { فتنا قومک } کے کلمات کریمہ سے اس سنت الہی کو واضح فرمایا گیا ہے جو اس کے بندوں کی پرکھ و آزمائش کے لیے ہمیشہ جاری رہتی ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز ہو سکے۔ اور یہاں پر اس کے ذکر سے اس امر کو واضح فرمایا گیا ہے کہ قوم موسیٰ کو آزمائش میں ڈالا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 6 یعنی زبوروں سے بنے ہوئے ایک بچھڑے کی پوجا کرنے پر لگا دیا۔ (دیکھیے اعراف آیت 4) یہ سامری تبیلہ علج کا ایک شخص تھا جو اصل میں کرمانی تھا اور مصر پہنچ گیا تھا وہ دل میں گائے کا پجاری تھا لیکن بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان کا دم بھرتا تھا مگر صحیح یہ ہے کہ سامرہ قبیلہ سے تھا جو بنی اسرائیل کے اشراف تھے۔ (شوکانی کبیر)
Read the full tafseer →(20:85) فانا۔ میں الفاء تعقیب کے لئے ہے ای فتنا ہم بعد ان جئت کہ تیرے آنے کے بعد ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ فتناماضی جمع متکلم فتنۃ مصدر (باب ضرب) فتنااصل میں فتننا تھا نون کو نون میں مدغم کیا گیا ہے۔ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سامری نام کا ایک سنار تھا۔ اس نے بچھڑا بنایا، اور جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی جو سامری نے اٹھا رکھی تھی، وہ اس نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی۔ جس سے ہو بچھڑا گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنے لگا، اور بنی اسرائیل اس بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ کوہ طور پر جب یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلایا، اور اس قصہ کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ اور رنجیدہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمایا :” اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تمہارے پیچھے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کی بلا بھیج کر آزمایا…
Read the full tafseer →[34] سامری شخص کا نام نہیں جیسا کہ '' السامری '' کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ سامری قوم کا فرد تھا، اسرائیلی نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–93
سامری کا بچھڑا :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ…
Read the full tafseer →-85 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے تیری قوم کو تیرے نکل آنے کے بعد ایک فتنے اور بلا میں مبتلا کر دیا اور ایک جانچ میں ڈال دیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا۔ سامری نے ان کو گمراہ کیا اور ہم نے ان کو ایک امتحان میں مبتلا کردیا۔ یہ نسبت انا قد فتنا کی باعتبار تخلیق اپنی جانب فرمائی واقعہ کی تفصیل آگے مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ف 9۔ یعنی ایمان و عمل صالح پر مداومت کریں۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہلی بار طور پر آنے کے بعد سامری کی شرارت کا بیان :
85۔ آیت 83 ، 84 کا مضمون ضمنا اس جگہ بیان ہوا ہے اور اس کے بعد اس واقعہ کا ذکر کیا جارہا ہے جو ترتیب کے لحاظ سے تو گزشتہ آدمیوں کے واقعہ سے پہلے کا ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بطور اطلاع بتایا گیا تھا کہ آپ کے آنے کے بعد ہم نے آپ کی قوم کی آزمائش کی اور اس کی اکثریت فیل ہوگئی اور آپ کے بعد وہ شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس ” سامری “ کی کارستانی کے متعلق کچھ عرض کریں پہلے یہ جان لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ذکر اس جگہ کیوں ضروری سمجھا گیا ،…
Read the full tafseer →Who was Samiri?
Some people have said that Samiri was an Egyptian Copt who lived next door to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and had accepted the True Faith. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) took the Bani Isra'i out of Egypt he also joined the exodus. Others have said that he was the chief of one of the clans of Bani Isra'il called Samira which is still well-known in Syria. According to Sayyidna Said Ibn Jubair ؓ he was a Persian from the Kirman province. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that he belonged to a nation of cow-worshippers who somehow reached Egypt and pretended to join the religion of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
63. It is obvious from the last Arabic letter ‘ya’that Samiri was not the proper name of the person, for this Arabic letter is always added to show a person’s connection with his race or clan or place. Moreover, the prefix al (definite article ‘the’) in the original Arabic text clearly denotes that the Samiri was a particular man from among many other persons of the same race or clan or place, who had propagated the worship of the golden calf. In fact, this does not require any further explanation than this, but this has been necessitated because many Christian missionaries and the Western…
Read the full tafseer →