Taa-Haa 20:84

Taa-Haa · from ayah 84

20:84

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤی اَثَرِیْ وَعَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰی ۟قَالَ هُمۡ اُولَاۤءِ عَلٰٓى اَثَرِىۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضٰى

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:84

اُس نے عرض کیا " وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : وہ میرے پیچھے پیچھے آیا ہی چاہتے ہیں، اور پروردگار ! میں آپ کے پاس اس لیے جلدی آگیا تاکہ آپ خوش ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے (غلبۂ شوق و محبت میں) تیرے حضور پہنچنے میں جلدی کی ہے اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا وہ یہ میرے نشان قدم پر ہیں اور میں تیری طرف جلدی آگیا اے میرے رب ! تاکہ تو خوش ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے عرض کیا : وہ لوگ بھی میرے پیچھے آہی رہے ہیں اور میں نے تیرے حضور آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے خوش ہوجاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، وہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی ہیں، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لئے جلدی چلا آیا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو عرض کیا وہ تو یہ میرے پیچھے ہی آرہے ہیں، اور میں نے آپ کے حضور پہنچنے میں اے میرے پروردگار، جلدی اس لئے کی کہ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) عرض کیا کہ وہ لوگ تو یہ کیا میرے پیچھے (پیچھے آرہے) ہیں۔ اور میں تو تیرے پاس اے میرے پروردگار اس لیے جلدی چلاآیا کہ تو خوش ہوجائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا کہ بس وہ میرے پیچھے پیچھے ہی (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا وہ میرے پیچھے آرہے ہیں اور اے میرے رب میں نے تیرے پاس آنے میں اس لیے جلدی کی کہ تو خوش ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "They are close behind me, and I hastened to You, Lord, that You may be pleased with me."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Here they are just behind me, and I hurried towards You, my Lord, so that You be pleased.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Here they are just behind me, and I hurried towards You, my Lord, so that You be pleased.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "They are close on my footsteps, and I hastened to You, O my Lord, that You might be pleased."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: They are close upon my track. I hastened unto Thee, my Lord, that Thou mightest be well pleased.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased."

— Saheeh International

Moses replied, "They are just behind me. I came earlier to seek Your pleasure".

— Muhammad Sarwar

He said: They are here on my track and I hastened on to Thee, my Lord, that Thou mightest be pleased.

— Muhammad Habib Shakir

He said: those! they are close on my footstep, and hastened to Thee, O my Lord; that Thou mightest be wellpleased.

— Abdul Majid Daryabadi

He replied: "Behold, they are close on my footsteps: I hastened to thee, O my Lord, to please thee."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:84

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–89

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔ حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–85

سورة طٰهٰ 63 یہ اس شخص کا نام نہیں ہے، بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے، خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف۔ پھر قرآن جس طرح " السامری " کہہ کر اس کا ذکر کر رہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے۔ لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں، اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–84

خلاصہ تفسیر اور (جب اللہ تعالیٰ کو توراة دینا منظور ہوا تو موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر آنے کا حکم فرمایا اور قوم کو بھی یعنی بعضوں کو ساتھ آنے کا حکم ہوا (کذا فی فتح المنان عن الباب التاسع عشر من سفر الخروج) موسیٰ ؑ شوق میں سب سے آگے تنہا جا پہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے طور کا ارادہ ہی نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا کہ) اے موسیٰ آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا، انہوں نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ یہی تو ہیں میرے پیچھے پیچھے (آ رہے ہیں) اور میں (سب سے پہلے) آپ کے پاس (یعنی اس جگہ جہاں مکالمت و مخاطبت کا آپ نے وعدہ فرمایا) جلدی سے اس لئے چلا آیا کہ آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 83–84

آیت 84-83 عربیت کا ایک اسلوب اعجلک کے بعد من اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو چھوڑ کر آنے کے مفہوم میں ہو۔ اس لئے کہ عن اعجلک کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور ہم عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جب فعل اور اس کے صلہ میں مناسبت ظاہری نہ ہو تو وہاں وہ فعل کسی ایسے فعل پر متضمن ہوتا ہے جو اس صلہ سے مناسبت رکھتا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ موسیٰ تمہیں اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی چلے آنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ تورات کے حصول کے لئے حضرت موسیٰ کی عجلت یہ اس موقع کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو طور کے اسی مقام پر جہاں ان کو نبوت عطا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 83–84

84۔ 1 سمندر پار کرنے کے بعد موسیٰ ؑ اسرائیل کے سربرآوردہ لوگوں کو ساتھ لے کر کوہ طور کی طرف چلے، لیکن رب کے شوق ملاقات میں تیز رفتاری سے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر اکیلے ہی طور پر پہنچ گئے، سوال کرنے پر جواب دیا، مجھے تو تیری رضا کی طلب اور اس کی جلدی تھی۔ وہ لوگ میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے پیچھے آ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ میرے پیچھے کوہ طور کے قریب ہی ہیں اور وہاں میری واپسی کے منتظر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 83–84

31: صحرائے سینا میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر بلایا تھا، تاکہ وہ وہاں چالیس دن تک اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی۔ شروع میں بنی اسرائیل کے کچھ منتخب لوگوں کے بارے میں بھی یہ طے ہوا تھا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ جلدی روانہ ہوگئے، اور ان کا خیال تھا کہ باقی ساتھی بھی پیچھے آرہے ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ نہیں آئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 83–84

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔ لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 83–84

4 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ نہایت اشتیاق کے ساتھ کوہ طور پر پہنچے۔ شاید قوم کے بعض نقباء کو بھی ہمراہ لے جانے کا حکم ہوگا وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ حضرت موسیٰ شوق میں آگے بڑھے چلے گئے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آئے۔ عرض کیا کہ اے پروردگار ! تیری خوشنودی کے لیے جلد حاضر ہوگیا۔ اور قوم بھی کچھ زیادہ دور نہیں یہ میرے پیچھے چلی آرہی ہے۔ کذا فی التفاسیر و یحتمل غیر ذلک واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 84 قَالَ ہُمْ اُولَآءِ عَلآی اَثَرِیْ ” آپ علیہ السلام کی قوم کا قافلہ تو معمول کی رفتار سے آ رہا ہوگا اور آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور مکالمے کے شوق میں تیز رفتاری سے سفر طے کرتے ہوئے وقت مقررہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے اس کی وجہ بھی یہی بتائی : وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی ” گویا اللہ تعالیٰ کے حضور آپ علیہ السلام فرط جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ اقبالؔ کے مصرع میں ذرا تصرف کے ساتھ ”تو میرا شوق دیکھ مرا اشتیاق دیکھ !“ والی کیفیت تھی۔ آپ علیہ السلام کا خیال تھا اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوں گے اور شاباش ملے گی ‘ مگر یہاں تو لینے کے دینے پڑگئے ‘ الٹی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ کوہ طور کے دامن میں پہنچ کر چالیس راتیں وہاں بسر کرنا تو تمہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کتاب تورات عطا کی جائے گی۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمی اپنے ہمراہ لئے اور طور کی جانب روانہ ہوگئے۔ لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور ہم کلامی کا کچھ اتنا زیادہ اشتیاق تھا کہ آپ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سب سے پہلے منزل مقصود جاپہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ تمہیں اتنی کیا جلدی تھی کہ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلے ہی یہاں آپہنچے ؟ عرض کیا وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے یہاں پہنچ ہی رہے ہیں اور مجھے تیری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94۔ (اور کچھ دور نہیں ہیں) یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رفیقوں کی گویا سفارش میں اور ان کا جرم ہلکا کرنے کو کہا۔ 95۔ (اور زیادہ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اجتہاد سے یہ خیال کیا کہ وعدہ گاہ پر حاضری میں پیش قدمی کرنا اور زیادہ خوشنودی کا سبب ہوگا۔ اللہ اللہ ! اہل اللہ رضائے الہی کی دولت کے سمیٹنے اور جمع کرنے میں کتنے حریص ہوتے ہیں ! (آیت) ” الیک “۔ (تیرے پاس) سے مراد ہے تجھ سے مکالمت ومخاطبت کے وعدہ کی جگہ، فقہاء نے آیت میں جو از اجتہاد کا استنباط کیا ہے۔ وھذا دلیل علی جواز الاجتھاد (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 77–85

آیت نمبر 77 تا 85 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ہم اولآء علی اثری وعجلت الیک رب لترضی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا وہ لوگ بھی تو میرے پیچھے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں آپ کے پاس جلدی اس لئے آیا کہ آپ (زیادہ) خوش ہوں گے۔ اِلَیْکَآپ کی طرف یعنی اس مقام کی طرف جہاں عزت قرب عطا فرمانے اور تجلیات نازل کرنے اور کلام کرنے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ لِتَرْضٰی تاکہ آپ زیادہ خوش ہوں بعض لوگوں نے کہا تعمیل حکم میں جلدی اور وعدے کی وفا میں سبقت زیادتی خوشی کا موجب تھی ‘ یہی حضرت موسیٰ کے کہنے کا مطلب تھا میں کہتا ہوں ‘ لتَرْضٰی کا مطلب یہ ہے کہ محبت و شوق کی زیادتی ‘ دیدار کی تمنا اور کلام سننے کی بےپایاں خواہش موجب تھی زیادتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–84

(83۔ 84) چناچہ جب موسیٰ ؑ کوہ طور کی طرف اپنی قوم کے ستر آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو شوق میں سب سے آگے تنہا جاپہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں سب سے پہلے جلدی سے آپ کے پاس اس لیے آیا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ هُمْ اُولَاۗءِ عَلٰٓي اَثَرِيْ : یہاں ایک سوال ہے کہ موسیٰ ؑ نے جواب میں جلدی کی وجہ بتانے کے بجائے کہ پروردگار ! میں تجھے راضی کرنے کے لیے جلدی آگیا، یہ کیوں ضروری سمجھا کہ پہلے یہ عرض کریں کہ قوم کے لوگ میرے پیچھے میرے نشان قدم پر آ رہے ہیں، یعنی نشان مٹنے سے بھی پہلے وہ اس پر چلے آ رہے ہیں، یعنی میں کوئی زیادہ جلدی نہیں آیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بیخبر نہ تھا کہ وہ کیوں جلدی آگئے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عتاب قوم کے ساتھ نہ آنے پر تھا اور یہ سوال اپنے کلیم کی تربیت کے لیے تھا کہ تمہارا پہلے آنا مناسب نہ تھا، بلکہ غلامی سے تازہ تازہ نکلی ہوئی قوم کے ساتھ رہنا ضروری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–84

(تفسیر 82-89) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اعجلک عن قومک یموسیٰ ۔ تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تم اپنی قوم سے پہلے آگئے ؟ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد تمام بنی اسرائیل ہیں اس وجہ سے بعض علماء نے فرمایا : حضرت ہارون کو بنی اسرائیل پر خلیفہ بنایا تھا اور خود ستر آدمیوں کے ہمراہ چل رہے تھے اور آپکی طرف متوجہ تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ میرے قریب میری واپسی کے منتظر ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون علیہ السللام کو اپنے پیچھے بنی اسرائیل کو لانے کا حکم دیا اور ان سے ملنے کا حکم دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد وہ ستر افراد ہیں جن کو حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هُمْ : وہ لوگ ] [اُولَاۗءِ : یہ ہیں ] [عَلٰٓي اَثَرِيْ : میرے نقش قدم پر (میرے پیچھے پیچھے)] [وَعَجِلْتُ : اور میں نے جلدی کی ] [اِلَيْكَ : تیری طرف ] [رَبِ : اے میرے رب ] [لِتَرْضٰى : تاکہ تو راضی ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–85

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–98

موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔ القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 83–84

55:۔ حسب میقات خداوندی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر نقباء اور سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو وفور اشتیاق کی وجہ سے راستہ میں تیزی سے آگے نکل گئے۔ اور نقباء سے پہلے میقات پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ آئے عرض کیا میرے پروردگار تیری رضا و خوشنودی کی خاطر جلد حاضر ہوا ہوں اور وہ بھی کوئی دور نہیں یہ میرے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ یا قوم سی ساری قوم مراد ہے یعنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اتنی جلدی کیوں آگئے۔ جواب دیا وہ بھی قریب ہی ہیں اور میری واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–85

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ ہُمْ اُولَاۗءِ عَلٰٓي اَثَرِيْ وَعَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى۝ 84 أثر والإيثار للتفضل ومنه :[ آثرته، وقوله تعالی: وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الحشر/ 9] وقال : تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 91] وبَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ الأعلی/ 16] . وفي الحدیث : «سيكون بعدي أثرة» «5» أي : يستأثر بعضکم علی بعض . ( ا ث ر ) اور الایثار ( افعال ) کے معنی ہیں ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسندکرنا اس سے آثرتہ ہے یعنی میں نے اسے پسند کیا ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ } [ الحشر : 9] دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–89

1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 83–84

وَمَــآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ ھُمْ اُوْلَآئِ عَلٰٓی اَثَرِیْ وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی۔ (طٰـہٰ : 83، 84) (اور کیوں جلدی کی تم نے اپنی قوم سے اے موسیٰ ۔ عرض کی، وہ یہ ہیں میرے پیچھے، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لیے جلدی چلا آیا۔ ) آیت کا پس منظر جب بنی اسرائیل بحر احمر کو عبور کرکے سینا کے بیابان میں پہنچے تو وہاں ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا۔ ان کی عبادت و پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا کہ جس طرح انھوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لیے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 83–85

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور کی طرف جانا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی قوم کا گمراہ ہونا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوہ طور کی دائیں جانب فلاں مقام پر فلاں وقت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کی نیابت کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کی دائیں جانب پہنچ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر کوہ طور کے دامن میں معتکف ہوئے تو پیچھے سے ان کی قوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آزمائشِ بنی اسرائیل : 84: قَالَ ھُمْ اُولَآئِ عَلٰٓی اَثَرِیْ (موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا وہ لوگ بھی تو میرے پیچھے پیچھے چلے آرہے ہیں) وہ میرے پیچھے ابھی مل رہے ہیں، میرے اور ان کے مابین کوئی زیادہ فاصلہ نہیں۔ پھر آگے جلدی آنے کا سبب ذکر کیا۔ وعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ (اور میں آپ کے پاس جلدی اس لئے آیا) اس مقررہ وعدہ کے مطابق جو آپ نے فرمایا۔ لِتَرْضٰی (تاکہ آپ راضی ہوں) تاکہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوجائیں۔ نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ اجتھاد جائز ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

84۔ قال، ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب العزت کو جواب دے رہے تھے۔ ” ھم اولاء علی اثری، اس مقام کی طرف جہاں عزت وقرب عطا فرمانے اور تجلیات نازل کرنے اور کلام کرنے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔ وعجلت الیک رب لترضی، تاکہ آپ زیادہ خوش ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–84

83۔ 84:۔ مدین سے مصر واپس آتے وقت جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں اس وقت اسرائیل میں کا کوئی شخص حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں تھا اس واسطے اس کی تصدیق کے لیے کہ حضرت موسیٰ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اور ان سے باتیں ہوتی ہیں جس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور جب کوہ طور قریب آیا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پوچھا کہ قوم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82 حضرت موسیٰ کی عجلت سے متعلق سوال کا جواب : سو اس سے حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور عجلت کے بارے میں سوال کا جواب ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اپنی عجلت کے بارے میں عرض کیا کہ وہ تو میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ یعنی وہ سَتَّر نُقباء ۔ سرداران یہود ۔ جن کو حضرت موسیٰ اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے تھے۔ اور آپ لقائے خدا وندی کے شوق میں اور رضائے الہی کے شرف سے مشرف ہونے کے جذبے اور جوش میں جلدی کرکے تھوڑا آگے اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ اسی لئے جب رب کی طرف سے ان سے اس بارے پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں عرض کیا کہ مالک وہ تو میرے پیچھے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ کچھ زیادہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–89

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 84–85

ف 6 یعنی زبوروں سے بنے ہوئے ایک بچھڑے کی پوجا کرنے پر لگا دیا۔ (دیکھیے اعراف آیت 4) یہ سامری تبیلہ علج کا ایک شخص تھا جو اصل میں کرمانی تھا اور مصر پہنچ گیا تھا وہ دل میں گائے کا پجاری تھا لیکن بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان کا دم بھرتا تھا مگر صحیح یہ ہے کہ سامرہ قبیلہ سے تھا جو بنی اسرائیل کے اشراف تھے۔ (شوکانی کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:84) ہم اولاء علی اثری۔ ہم مبتدا اولاء خبر علی اثری خبر ثانی وہ لوگ (میری قوم) تو یہ رہے (اشارہ) میرے پیچھے پیچھے (چلے آرہے ہیں) علی اثری میرے نشان قدم پر ۔ میرے (فورا) پیچھے مزید ملاحظہ ہو 20:72 رب۔ اے میرے رب۔ لترضی۔ لام تعلیل کی ہے ترضی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تاکہ تو راضی ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–89

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 84–85

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سامری نام کا ایک سنار تھا۔ اس نے بچھڑا بنایا، اور جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی جو سامری نے اٹھا رکھی تھی، وہ اس نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی۔ جس سے ہو بچھڑا گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنے لگا، اور بنی اسرائیل اس بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ کوہ طور پر جب یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلایا، اور اس قصہ کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ اور رنجیدہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمایا :” اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تمہارے پیچھے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کی بلا بھیج کر آزمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[33] موسیٰ (علیہ السلام) جو پیش آنے والے واقعات سے بیخبر تھے بولے کہ میں نے وقت مقررہ پر آنے میں اس لئے جلدی کی کہ تو رضا مند ہو اور قوم تو میرے نقش قدم ہی پر چل رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–84

تائید غیبی کے سامان : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔ فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-84 موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا وہ لوگ یہ میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں اور میں نے تیرے پاس اے میرے پروردگار آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو خوش ہوجائے اور راضی ہو۔ یعنی شاید یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے کی غضر سے طور پر تشریف لے گئے تھے اور ستر نمائندے قوم کے آپ کے ہمراہ تھے آپ حضرت حق سے کلام کرنے اور خطاب کرنے اور امتشال امر کی بجائے آوری کے لئے وعدے کی جگہ جلدی پہونچ گئے اس پر دریافت فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے گئے تو ہارون (علیہ السلام) کو قوم کا نگراں بنا گئے۔ پیچھے قوم سامری کے پیچھے لگ کر گمراہ ہوگئی قوم کی گمراہی اور سامری کے پیچھے ہوجانے کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

الہی ارشاد کا جواب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے یہ دیا گیا : 84۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے بارالہ ! وہ لوگ بس میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے تیری رضا طلبی کے لئے جلدی کی ہے ۔ قوم سے مراد اس جگہ وہی ستر آدمی ہیں لیکن ہمارے مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تورات کی خاطر جو قیام طور پر کیا تھا وہی اس سے مراد لیا ہے لیکن ہمارے خیال میں ان آیات میں تورات کے لئے چالیس راتوں کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو طور پر گئے تھے وہ اس سے پہلے کا ہے لیکن اس جگہ واقعات الترتیب بیان نہیں ہوئے اس لئے کہ جب کوئی بات بطور وعظ ونصیحت کی جائے اس وقت ترتیب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–84

Commentary Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the Bani Isra'il, having escaped the Pharaoh's wrath and having crossed the river in safety, proceeded on their journey. Soon they came upon a people who worshipped idols. They said to Sayyidna Musa "These people have adopted the idols as their gods who are visible as well as tangible. Do give us also a god whom we can see and touch.", Sayyidna Musa علیہ السلام replied,إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿138﴾ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ‌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿139﴾ ("You are really an ignorant people. at these people are in, is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–85

63. It is obvious from the last Arabic letter ‘ya’that Samiri was not the proper name of the person, for this Arabic letter is always added to show a person’s connection with his race or clan or place. Moreover, the prefix al (definite article ‘the’) in the original Arabic text clearly denotes that the Samiri was a particular man from among many other persons of the same race or clan or place, who had propagated the worship of the golden calf. In fact, this does not require any further explanation than this, but this has been necessitated because many Christian missionaries and the Western…

Read the full tafseer →