Explained with ayahs 83–89
بنی اسرائیل کا دریا پار جانا۔
حضرت موسیٰ ؑ جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہوگئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 61
یہاں سے سلسلہ بیان اس واقعہ کے ساتھ جڑتا ہے جو ابھی اوپر بیان ہوا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تم طور کے دائیں جانب ٹھہرو، اور چالیس دن کی مدت گزرنے پر تمہیں ہدایت نامہ عطا کیا جائے گا۔
سورة طٰهٰ 62
اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو راستے ہی میں چھوڑ کر حضرت موسیٰ اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے چلے گئے تھے۔ طور کی جانب ایمن میں، جہاں کا وعدہ بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا، ابھی قافلہ پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ حضرت موسیٰ اکیلے روانہ ہوگئے اور حاضری دے دی۔ اس موقع پر جو معاملات خدا اور بندے کے درمیان ہوئے ان کی تفصیلات سورة اعراف رکوع 17 میں درج ہیں۔ حضرت موسیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
خلاصہ تفسیر
اور (جب اللہ تعالیٰ کو توراة دینا منظور ہوا تو موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر آنے کا حکم فرمایا اور قوم کو بھی یعنی بعضوں کو ساتھ آنے کا حکم ہوا (کذا فی فتح المنان عن الباب التاسع عشر من سفر الخروج) موسیٰ ؑ شوق میں سب سے آگے تنہا جا پہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے طور کا ارادہ ہی نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا کہ) اے موسیٰ آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا، انہوں نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ یہی تو ہیں میرے پیچھے پیچھے (آ رہے ہیں) اور میں (سب سے پہلے) آپ کے پاس (یعنی اس جگہ جہاں مکالمت و مخاطبت کا آپ نے وعدہ فرمایا) جلدی سے اس لئے چلا آیا کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت 84-83
عربیت کا ایک اسلوب
اعجلک کے بعد من اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو چھوڑ کر آنے کے مفہوم میں ہو۔ اس لئے کہ عن اعجلک کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور ہم عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جب فعل اور اس کے صلہ میں مناسبت ظاہری نہ ہو تو وہاں وہ فعل کسی ایسے فعل پر متضمن ہوتا ہے جو اس صلہ سے مناسبت رکھتا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ موسیٰ تمہیں اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی چلے آنے پر کس چیز نے ابھارا ؟
تورات کے حصول کے لئے حضرت موسیٰ کی عجلت
یہ اس موقع کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو طور کے اسی مقام پر جہاں ان کو نبوت عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
84۔ 1 سمندر پار کرنے کے بعد موسیٰ ؑ اسرائیل کے سربرآوردہ لوگوں کو ساتھ لے کر کوہ طور کی طرف چلے، لیکن رب کے شوق ملاقات میں تیز رفتاری سے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر اکیلے ہی طور پر پہنچ گئے، سوال کرنے پر جواب دیا، مجھے تو تیری رضا کی طلب اور اس کی جلدی تھی۔ وہ لوگ میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے پیچھے آ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ میرے پیچھے کوہ طور کے قریب ہی ہیں اور وہاں میری واپسی کے منتظر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
31: صحرائے سینا میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر بلایا تھا، تاکہ وہ وہاں چالیس دن تک اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی۔ شروع میں بنی اسرائیل کے کچھ منتخب لوگوں کے بارے میں بھی یہ طے ہوا تھا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔ لیکن حضرت موسیٰ ؑ جلدی روانہ ہوگئے، اور ان کا خیال تھا کہ باقی ساتھی بھی پیچھے آرہے ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ نہیں آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔
لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
4 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حسب وعدہ نہایت اشتیاق کے ساتھ کوہ طور پر پہنچے۔ شاید قوم کے بعض نقباء کو بھی ہمراہ لے جانے کا حکم ہوگا وہ ذرا پیچھے رہ گئے۔ حضرت موسیٰ شوق میں آگے بڑھے چلے گئے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ قوم کو پیچھے چھوڑ آئے۔ عرض کیا کہ اے پروردگار ! تیری خوشنودی کے لیے جلد حاضر ہوگیا۔ اور قوم بھی کچھ زیادہ دور نہیں یہ میرے پیچھے چلی آرہی ہے۔ کذا فی التفاسیر و یحتمل غیر ذلک واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 83 وَمَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی ”
اس سے پہلے سورة مریم کی آیت 64 اور آیت 84 میں عجلت سے منع کیا جا چکا ہے۔ آیت 64 میں حضور ﷺ کو بالواسطہ انداز میں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ وحی کے جلد آنے کے بارے میں خواہش نہ کیا کریں ‘ کیونکہ یہ تو اللہ کی مشیت کے مطابق ہی نازل ہوگی۔ چناچہ فرشتے کی زبان سے آپ ﷺ کو مخاطب کر کے کہلوایا گیا : وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج کہ ہم تو آپ ﷺ کے رب کے حکم سے ہی نازل ہوتے ہیں۔ جبکہ آیت 84 میں آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط ”تو آپ ﷺ ان پر عذاب کے بارے میں جلدی نہ کریں“۔ اب آیت زیر نظر میں جلدی کرنے پر حضرت موسیٰ علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
57 یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلا ً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الہٰ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنادو۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے ! موسیٰ ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوسکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب…
Read the full tafseer →93۔ اس مکالمہ کا وقت وہ ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مع منتخب سرداران اسرائیلی طور پر حاضری کا حکم ملا ہے۔ آپ خود تو فرط اشتیاق سے پہلے پہنچ گئے ہیں، اور وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، قوم سے یہاں مراد وہی ستر نقباء قوم ہیں۔ المراد بالقوم النقباء (کشاف) توریت میں ان ستر منتخب سرداروں کا قصہ موجود ہے (خروج۔ 24: 9، 13، 14) اہل اشارات نے کہا ہے کہ اس میں اشارہ ہے حضرت کلیم اللہ (علیہ السلام) کے وفور شوق و اضطراب کی جانب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–85
آیت نمبر 77 تا 85
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…
Read the full tafseer →وما اعجلک عن قومک یموسی ط اور اے موسیٰ تمہارے لئے اپنی قوم سے جلدی آنے کا کیا سبب
ہوا ‘ یعنی کیا وجہ تھی کہ تم قوم کو پیچھے چھوڑ کر ان سے پہلے ہی آگئے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ نے طور پر لے جانے کے لئے بنی اسرائیل میں سے ستّر آدمیوں کا انتخاب کیا تاکہ طور پر پہنچ کر حسب وعدہ اللہ کی کتاب حاصل کرلیں پھر ان کو پیچھے چھوڑ کر دیدارِ الٰہی کے شوق میں خود پہلے آگئے اور ان سے کہہ دیا تم لوگ پیچھے آجانا اللہ نے حضرت موسیٰ سے یہی سوال کیا ہے کہ تم قوم سے پہلے کیسے چلے آئے۔ میں کہتا ہوں یہ سوال (طلب علم کے لئے نہیں ہے نہ انکاری ہے بلکہ) تقریری ہے جس طرح محبوب اپنے عاشق کے والہانہ شوق اور شیفتگی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(83۔ 84) چناچہ جب موسیٰ ؑ کوہ طور کی طرف اپنی قوم کے ستر آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو شوق میں سب سے آگے تنہا جاپہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں سب سے پہلے جلدی سے آپ کے پاس اس لیے آیا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوں گے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور موسیٰ ؑ سے طور کے دائیں جانب میں آنا اور موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کرنا طے فرمایا۔ موسیٰ ؑ نے خود قوم کے ساتھ آنے کے بجائے ہارون ؑ کو اپنا جانشین مقرر کرکے انھیں طور کی طرف سفر جاری رکھنے کا حکم دیا اور خود اپنے رب سے کلام اور ملاقات کے شوق میں نہایت تیزی کے ساتھ وعدے کے مقام پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مناجات اور تورات عطا کرنے کے بعد پوچھا کہ موسیٰ ! تجھے کیا چیز تیری قوم سے جلدی لے آئی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(تفسیر 82-89) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اعجلک عن قومک یموسیٰ ۔ تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تم اپنی قوم سے پہلے آگئے ؟ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد تمام بنی اسرائیل ہیں اس وجہ سے بعض علماء نے فرمایا : حضرت ہارون کو بنی اسرائیل پر خلیفہ بنایا تھا اور خود ستر آدمیوں کے ہمراہ چل رہے تھے اور آپکی طرف متوجہ تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ میرے قریب میری واپسی کے منتظر ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون علیہ السللام کو اپنے پیچھے بنی اسرائیل کو لانے کا حکم دیا اور ان سے ملنے کا حکم دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد وہ ستر افراد ہیں جن کو حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[وَمَآ : اور کس چیز نے ] [اَعْجَلَكَ : جلدی میں ڈالا آپ (علیہ السلام) کو ] [عَنْ قَوْمِكَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم سے ] [يٰمُــوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
55:۔ حسب میقات خداوندی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر نقباء اور سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو وفور اشتیاق کی وجہ سے راستہ میں تیزی سے آگے نکل گئے۔ اور نقباء سے پہلے میقات پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ آئے عرض کیا میرے پروردگار تیری رضا و خوشنودی کی خاطر جلد حاضر ہوا ہوں اور وہ بھی کوئی دور نہیں یہ میرے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ یا قوم سی ساری قوم مراد ہے یعنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اتنی جلدی کیوں آگئے۔ جواب دیا وہ بھی قریب ہی ہیں اور میری واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى 83
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
1 ؎ اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) سبقت کر کے کوہ طور پر چڑھ آئے تو ہم نے کہا وما اعجلک کہ تم کس لئے جلدی کر آئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
وَمَــآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ ھُمْ اُوْلَآئِ عَلٰٓی اَثَرِیْ وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی۔ (طٰـہٰ : 83، 84)
(اور کیوں جلدی کی تم نے اپنی قوم سے اے موسیٰ ۔ عرض کی، وہ یہ ہیں میرے پیچھے، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لیے جلدی چلا آیا۔ )
آیت کا پس منظر
جب بنی اسرائیل بحر احمر کو عبور کرکے سینا کے بیابان میں پہنچے تو وہاں ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا۔ ان کی عبادت و پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا کہ جس طرح انھوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لیے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور کی طرف جانا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی قوم کا گمراہ ہونا۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوہ طور کی دائیں جانب فلاں مقام پر فلاں وقت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کی نیابت کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کی دائیں جانب پہنچ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر کوہ طور کے دامن میں معتکف ہوئے تو پیچھے سے ان کی قوم…
Read the full tafseer →ستّر افراد کے ساتھ طور :
83: وَمَآ اَعْجَلَکَ (اور کیا سبب ہے اے موسیٰ تمہارے جلدی آنے کا) کونسی چیز تمہیں جلدی لے آئی۔
عَنْ قَوْمِکَ یٰـمُوْسٰی (اپنی قوم کو چھوڑ کر) ان ستر افراد کو جنہیں منتخب کیا گیا تھا اور اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ وعدہ مقررہ پر موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ساتھ لے کر کوہ طور کی طرف تشریف لارہے تھے۔ پھر کلام باری تعالیٰ کے شوق میں آپ ان سے آگے بڑھ کر پہلے طور پر پہنچ گئے۔ اور انہیں پیچھے چلے آنے کا حکم دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وما اعجلک یعنی کس چیز نے جلد آنے کو تم پر لازم کردیا۔
نحو : یہ استفہام انکاری ہے اور ما مبتدا اور اعجلک اس کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →83۔ ومااعجلک، ، قوم کے جلدی آنے کا سبب کیا ہے۔ عن قومک، ، حضرت موسیٰ نے طور پر لے جانے کے لیے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا تاکہ طور پر پہنچ کر حسب وعدہ اللہ کی کتاب حاصل کرلیں۔ پھر ان کو پیچھے چھوڑ کر دیدار الٰہی کے شوق میں خود پہلے آگئے اور ان سے کہہ دیا کہ تم لوگ پیچھے آجانا۔ اللہ نے حضڑت موسیٰ سے یہی سوال کیا ہے کہ تم قوم سے پہلے چلے آئے اس پر اللہ نے فرمایا ، ومااعجلک عن قومک یاموسی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
83۔ 84:۔ مدین سے مصر واپس آتے وقت جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں اس وقت اسرائیل میں کا کوئی شخص حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں تھا اس واسطے اس کی تصدیق کے لیے کہ حضرت موسیٰ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اور ان سے باتیں ہوتی ہیں جس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور جب کوہ طور قریب آیا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پوچھا کہ قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے جگہ اور وقت مقرر کردیا تاکہ ان پر تیس دن میں تو رات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما اعجلک عن قومک یموسی) یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا ؟ تُو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے غرض کیا : (ھمہ اولاء علیٰ اثری) وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
77 بنی اسرائیل کے لیے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن سے اے بنی اسرائیل "۔ یعنی فرعون اور اس کے طرح طرح کے ہولناک مظالم سے۔ پس نجات دینے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں نہ کہ اور کوئی ہستی۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ سو تم ہمارے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور اس کے نتیجے میں شکر کے طور پر ہمارے آگے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم حقِّ شکر بھی ادا کرو اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہوسکو کہ شکر نعمت سے نعمت کی قدردانی ہوتی ہے اور اس سے نعمت میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو شکر نعمت سے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جب حضرت موسیٰ قوم پر اپنے بھائی ہارون کو نگران مقرر کر کے توراۃ لینے طور پر آئے تو ہم نے کہا :” اے موسیٰ !……مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے جو ستر آدمی ساتھ لے کر جا رہے تھے ان کو پیچھے راستہ میں چھوڑ کر اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے بڑھ گئے اور ان سے پہلے طور پر پہنچ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سوال کیا۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(20:83) اعجلک اعجل اس نے جلد کرائی۔ اعجال (افعال) مصدر۔ عجلت جلدی۔
جیسا کہ اوپر آیت نمبر 80 میں گذر چکا ہے کہ وعدنکم جانب الطور الایمن اور یہ وہ وعدہ تھا کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے اکابر آئیں اور اپنے لئے احکام و ہدایت لے جائیں اس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر سر برآورہ آدمی ہمراہ لئے اور کوہ طور کی طرف چل پڑے اور جاتی دفعہ اپنی قوم کو تاکید فرمائی کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کوئی ناشائستہ حرکت نہ کریں۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر ان کے پاس چھوڑ گئے۔
جب وہ اپنے ستر آدمیوں کو لے کر کوہ طور کے نزدیک پہنچے تو شوق ملاقات الٰہی سے بیتاب ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا توریت لینے جانا
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کر کے اپنے ساتھ لے گئے، اور جب کوہ طور قریب آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے، اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ قوم کے لوگوں کو چھوڑ کر جلدی کر کے کیوں چلے آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ لوگ بھی پیچھے آتے ہیں، یا اللہ میں جلدی کرکے اس واسطے چلا آیا کہ کوہ طور پر حاضر ہونے سے تیرے حکم کی تعمیل کروں، تاکہ تو مجھ سے…
Read the full tafseer →[32] جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو ہارون (علیہ السلام) کی نگرانی میں چھوڑ کر کوہ طور پر حاضری کے لئے گئے (جیسا کہ سورة اعراف کے رکوع 17 میں مذکور ہے) تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ کس بات نے تمہیں اپنی قوم کی طرف سے اس درجہ مطمئن کردیا کہ فوراً انھیں چھوڑ کر چلے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–84
تائید غیبی کے سامان :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔
فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…
Read the full tafseer →-83 ارشاد ہوا اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی قوم سے جلدی اگٓے آنے کا کیا سبب ہوا ۔ یعنی جو قوم کے نمائنے اور نقبا تیرے ساتھ آ رہے تھے تو ان سے آگے کیسے چلا آیا اور اس کا سبب کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ف 9۔ یعنی ایمان و عمل صالح پر مداومت کریں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کو اتنی جلدی کیا تھی ؟
83۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد اور بنی اسرائیل کے بیابان میں آباد ہونے کے ایک مدت کے حالات اس جگہ پر چھوڑ دیئے گئے اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ نہیں بیان کی جا رہی بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی احسانات کا ذکر اور ساتھ ساتھ ان کی احسان فراموشی کا بیان ہے ۔ اس آیت میں اشارہ اس وقت کی طرف کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے بہت سے سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف تشریف لے گئے تاکہ ان سب لوگوں کو جو بنی اسرائیل کے سردار تھے تجلیات الہی کا نظارہ کرائیں اور یہ ان لوگوں کے مطالبہ پر پروگرام بنایا گیا تھا ۔ موسیٰ علہر السلام ان قومی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
Commentary
Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the Bani Isra'il, having escaped the Pharaoh's wrath and having crossed the river in safety, proceeded on their journey. Soon they came upon a people who worshipped idols. They said to Sayyidna Musa "These people have adopted the idols as their gods who are visible as well as tangible. Do give us also a god whom we can see and touch.", Sayyidna Musa علیہ السلام replied,إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿138﴾ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿139﴾ ("You are really an ignorant people. at these people are in, is…
Read the full tafseer →61. From here the same account is resumed that was interrupted by the parenthesis (Ayats 81-82). The Israelites were told to stay on the right side of Mount Toor, and they would be given the commandments after forty days.
62. This shows that in his eagerness to see his Lord as soon as possible, Prophet Moses (peace be upon him) had left them in the way and reached the meeting place alone. For the details of that meeting the reader should see (Surah Al- Aaraf, Ayats 143-145). Here only that portion has been mentioned which is connected with the calf-worship by the Israelites. This has been…
Read the full tafseer →