Explained with ayahs 80–82
احسانات کی یاد دہانی۔
اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے (واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون)۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تو ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
سورة طٰهٰ 60
یعنی مغفرت کے لیے چار شرطیں ہیں۔ اول توبہ، یعنی سرکشی و نافرمانی یا شرک و کفر سے باز آجانا۔ دوسرے، ایمان، یعنی اللہ اور رسول اور کتاب اور آخرت کو صدق دل سے مان لینا۔ تیسرے عمل صالح، یعنی اللہ اور رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا۔ چوتھے اہتداء، یعنی راہ راست پر ثابت قدم رہنا اور پھر غلط راستے پر نہ جا پڑنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ، فرعون سے نجات اور دریا سے پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے اور ان کے واسطے سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور کی داہنی جانب چلے آئیں تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی ان کے شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کے بعد آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا ان کو حکم ملا۔ انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اس وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کردیئے گئے۔ یہاں سے چالیس سال تک باہر نہ نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت 80-82
بنی اسرائیل کو تنبیہ
دریا پار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے عظیم احسانات یاد دلا کر ان کو و ہعظیم ذمہ داری یاد دلائی جو ان احسانات کے حق کے طور پر ان پر عائد ہوتی تھی اور ساتھ ہی اس انجام سے بھی آگاہ فرما دیا جو ان لوگوں کے لئے مقتدر ہے جو ان نعمتوں کی ناقدری کریں گے اور شکر کے بجائے کفر اور طغیان کی راہ اختیار کریں گے۔ بعینیہ اسی سیاق وسباق میں، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر اکتفا کریں گے۔ تفصیل کے طالب بقرہ کی تفسیر میں آیات 57-46 کے تحت جو…
Read the full tafseer →82۔ 1 یعنی مغفرت الٰہی کا مستحق بننے کے لئے چار چیزیں ضروری ہیں۔ کفر و شرک اور معاصی سے توبہ، ایمان، عمل صالح اور راہ راست پر چلتے رہنا یعنی استقلال حتٰی کہ ایمان ہی پر اسے موت آئے، ورنہ ظاہر بات ہے کہ توبہ و ایمان کے بعد اگر اس نے پھر شرک کا راستہ اختیار کرلیا، حتٰی کہ موت بھی اسے کفر و شرک پر ہی آئے تو مغفرت الٰہی کے بجائے عذاب کا مستحق ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثم اھتدی (02 : 28) ” البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلے ، اس کے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ “ یہ یاد رہے کہ توبہ صرف لفظ کا نام نہیں ہے کہ کوئی اسے گائے بلکہ یہ تو قلبی عزم کا نام ہے۔ اس کے مفہوم کا تعین ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ ہی ہوتا ہے اور اس کا ظہور عالم واقعہ میں انسانی طرز عمل سے ہوتا ہے۔ اگر توبہ کرلی ، ایمان درست رہا اور عمل نے اس کی تصدیق کی تو تب انسان کو ہدایت یافتہ انسان کہا جاسکتا ہے ، انسان ہدایت اور عمل صالح کی ضمانت غرض جب توبہ کے بعد ہدایت نہ ہو یعنی عملی تبدیلی نہ ہو تو توبہ کا کوئی مفہوم نہیں…
Read the full tafseer →3 مغضوبین کے بالمقابل یہ مغفورین کا بیان ہوا۔ یعنی کتنا ہی بڑا مجرم ہو اگر سچے دل سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے اور اسی پر موت تک مستقیم رہے تو اللہ کے یہاں بخشش اور رحمت کی کمی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 81 کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ ”
لیکن منع کرنے کے باوجود بنی اسرائیل نے اس معاملے میں زیادتی کی۔ زیادتی کی ایک صورت تو یہ تھی کہ وہ اسے سینت سینت کر رکھتے تھے ‘ اس خدشے سے کہ شاید کل یہ نازل نہ ہو اور یوں توکل علی اللہ کی نفی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس میں اس طرح بھی زیادتی کی کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں دوسری چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
57 یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلا ً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الہٰ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنادو۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے ! موسیٰ ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوسکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب…
Read the full tafseer →92۔ توبہ اور ایمان اور عمل صالح تو اس کے متعلق ہوسکتے ہیں جو پہلے ہدایت پا چکا اس لیے (آیت) ’ ثم اھتدی “۔ سے مراد ہدایت پانا نہیں، بلکہ ہدایت پر قائم رہنا ہے اور اھتداء کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔ الا ھتداء ھو الاستقامۃ والثبات علی الھدی (کشاف) اے یعنی مستعینا باللہ فی ادامۃ ذلک من غیر تقصیر (کبیر۔ عن ابن عباس ؓ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ تحریر فرمایا ہے کہ جس طرح بندہ کے لیے اس کی کثرت ذنوب کی بناء پر تین درجے ہوسکتے ہیں، ایک ظالم، دوسرے ظلوم، تیسرے ظلام، حق تعالیٰ نے بھی اس کے مقابل اپنے تین نام رکھے ہیں۔ ایک غافر، دوسرے غفور، تیسرے غفار “۔ ھھنا نکتۃ ھی ان العبد لہ اسماء ثلثۃ الظالم والظلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–85
آیت نمبر 77 تا 85
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…
Read the full tafseer →وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحاً ثم اہتدی۔ اور (اس کے ساتھ یہ بھی کہ) میں ایسے
لوگوں کو بڑا بخشنے والا ہوں جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں پھر اسی راہ پر قائم بھی رہیں۔ تاب یعنی شرک سے توبہ کی۔ امن سے مراد ہے اللہ پر اور ان تمام احکام پر ایمان لایا جو اللہ کی طرف سے اس کے پیغمبر لے کر آئے تھے۔ عَمِلَ صَالِحًا یعنی اللہ کے حکم کے مطابق عمل کیا۔ اِہْتَدٰیسے کیا مراد ہے علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں عطاء کی راویت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے پھر اس نے ہدایت پائی یعنی جان لیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے مجھے ملا ہے۔ قتادہ اور سفیان ثوری نے ترجمہ کیا اسلام پر مرتے دم…
Read the full tafseer →(82) اور میں ایسے لوگوں کی بڑی مغفرت کرنے والا بھی ہوں جو کفر وشرک سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اچھے کام کریں اور اچھے اعمال پر ثواب ملنے کو حق سمجھیں یا یہ کہ اہل سنت والجماعت کے طریقہ پر قائم رہیں اور اسی پر انتقال کریں۔
Read the full tafseer →وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ۔۔ : نافرمانی اور طغیانی کی وعید کے بعد توبہ کی ترغیب دی۔ معلوم ہوا مغفرت کے لیے چار چیزیں شرط ہیں، ایک توبہ یعنی کفر و شرک اور نافرمانی سے باز آجانا، دوسری ایمان یعنی اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ﷺ ، یوم آخرت اور دوسری ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسری عمل صالح یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھی آخر دم تک سیدھے راستے پر قائم رہنا۔ ”اهْتَدٰى“ سے یہی مراد ہے اور یہی چیز سب سے مشکل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ ”ثُمَّ“ (پھر) کے بعد ذکر فرمایا، جیسا کہ : (ۭثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(تفسیر 80-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بینی اسرآء یل قد انجینکم من عدوکم جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تو یہ فرمایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ ووعدنکم جانب الطور الایمن، جانب پر نصب، واعدنا کے مفعول ثانی کی ببنا پر ہے اور اسے ظرف کی بنا پر نصب دینا بہتر نہیں کیونکہ یہ ظرف مکاں محض غیر مبہم ہے اور افعال اور مصادر ظروف مکاں کی طرف بغیر حروف جر کے متعدی ہوتے ہیں جبکہ وہ ظروف مبہم ہوں۔ مکی نے کہا : یہ اصل ہے اس میں اختلاف نہیں ہے۔ آیت کی تقدیر یہ ہے : وواعدنا کم اتیان جانب الطور، پھر مضاف کو حذف کیا گیا۔ نحاس نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[وَانى: اور بیشک میں ] [لَغَفَّارٌ: یقینا بہت بخشنے والا ہوں ] [لِمَنْ : اس کے لئے جو ] [تَابَ : توبہ کرے ] [وَاٰمَنَ : اور ایمان لائے ] [وَعَمِلَ : اور عمل کرے ] [صَالِحًا : نیک ] [ثُمَّ : پھر ] [اهْتَدٰى: ہدایت (بھی) حاصل کرے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی
قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
54:۔ جو حلال روزی میں نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو بےجا اور برے کاموں میں خرچ نہ کرو۔ ” وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ الخ “ نافرمانوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ الخ “ فرمانبرداروں کے لیے بشارت اخروی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…
Read the full tafseer →وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰى 82
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل لے جانے کا حکم۔
بھی مانگ کر دور کے میدان میں نکلے۔ وہاں موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم پہنچا کہ اب ان کو شباشب ملک شام کی طرف لے نکل چناچہ وہ سب چلے۔ ادھر فرعون کو خبر ملی تو وہ بڑا لشکر لے کر پیچھے سے تعاقب کرتا ہوا آیا۔ دریائِ قلزم پر آلیا۔ بنی اسرائیل گھبرائے، خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا پر عصا مار، مارا تو پانی کی دونوں طرف دیواریں سی کھڑی ہوگئیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل صاف نکل گئے ان کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر جو اسی رستہ سے آیا ان پر دریا مل گیا پانی نے ڈھانک لیا وہ سب غرق ہوگئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ قَدْاَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰـکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِالْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَلاَ تَطْغَوْا فِیْہِ فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْج وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَـقَدْ ھَوٰی۔ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 80، 81، 82)
(اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا۔ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اسے کھا کر سرکشی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات دی اور اور پر اپنی طرف سے من اور سلویٰ نازل کرنے کے بعد تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں حلال طیب عطا فرمایا ہے۔ اسے کھاؤ اور حد سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کروگے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا۔ جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ پہلی آیت میں نہایت اختصار کے ساتھ تین واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
1۔ بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نجات دلانا۔…
Read the full tafseer →82: وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ (اور میں ایسے لوگوں کو بڑا بخشنے والا ہوں جو توبہ کرلیں) توبہ سے مراد شرک سے توبہ کرنا ہے۔ وَ اٰمَنَ (اور ایمان لے آئیں) اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانا اور جو اتارا گیا اس میں اس کی تصدیق کی وَعَمِلَ صَالِحًا (اور نیک عمل کریں) فرائض کو ادا کیا ثُمَّ اھْتَدٰی (پھر اسی راہ پر قائم رہیں) پھر استقامت اختیار کی اور مذکورہ ہدایت پر ثابت قدمی دکھائی اور اس کا حاصل تین چیزیں ہیں توبہ، ایمان، عمل صالح۔
Read the full tafseer →تفسیر۔ 82۔ وانی لغفار لمن تاب، ، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے شرک سے توبہ کرنا۔ وامن ، ووحد اللہ، اللہ کی وحدانیت اور اس کی تصدیق کرنا۔ وعمل صالحا، فرائض کو ادا کرنا، ثم اھتدی، ابن عباس کا قول ہے کہ اس نے ہدایت پائی یعنی جان لیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی توفیق سے ملا ہے ۔ قتادہ اور سفیان ثوری کا قول ہے کہ اسلام پر مرتے دم تک قائم رہا۔ شعبی، مقاتل، کلبی، کا بیان ہے کہ یعنی یہ جان لیا کہ اللہ کی طرف سے اس کا ثواب مجھے ملے گا۔ زید بن اسلم کا قول ہے کہ اس نے علم حاصل کیا تاکہ اس کے مطابق عمل کرے ۔ ضحاک کا قول ہے ہدایت پر قائم رہنا۔ سعید بن جبیرؓ کا قول ہے سنت اور جماعت کے مسلک پر قائم رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…
Read the full tafseer →آیات (82)
اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر حکام اور عالیشان خبریں ہیں۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بےآب و گیان بیابان میں ان پر من وسلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انہیں بلا مشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا : (کلو امن طیبت ما رزقنکم) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمہیں عطا کی ہیں، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ (ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
77 بنی اسرائیل کے لیے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن سے اے بنی اسرائیل "۔ یعنی فرعون اور اس کے طرح طرح کے ہولناک مظالم سے۔ پس نجات دینے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں نہ کہ اور کوئی ہستی۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ سو تم ہمارے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور اس کے نتیجے میں شکر کے طور پر ہمارے آگے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم حقِّ شکر بھی ادا کرو اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہوسکو کہ شکر نعمت سے نعمت کی قدردانی ہوتی ہے اور اس سے نعمت میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو شکر نعمت سے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 4 معلوم ہوا کہ بخشش کے لئے چار چیزیں شرط ہیں، ایک تو بہ یعنی شرک و کفر اور نافرمانی سے باز آجانا، دوسرے ایمان یعنی اللہ، رسول یوم آخرت اور دوسرے ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسرے عمل صالح یعنی اللہ و رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھے راست روی یعنی مرتے دم تک ایمان اور نیک اعمال پر قائم رہنا اور یہی چیز سب سے زیادہ مشکل ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(20:82) اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر وہ راہ راست پر آیا ۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →اس آیت میں قریش کو شرک سے باز آنے کی رغبت دلائی، اور فرمایا :” جو شخص شرک سے توبہ کرکے اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کی صداقت پر قائم رہے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سب گناہ معاف کردے گا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
[30] داہنی طرف کے وعدے سے مراد ہے طور کی داہنی جانب حاضری کا وعدہ۔ نیز ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41
[31] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–84
تائید غیبی کے سامان :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔
فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…
Read the full tafseer →-82 اور بلاشبہ ایسے شخص اور ایسے لوگوں کے لئے بڑی بخشش اور مہربانی کرنے والا ہوں جس نے کفر و عصیان سے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کرتا رہا پھر صحیح اور سیدھی راہ پر قائم بھی رہا۔ یعنی جو لوگ غل راہ روی سے توبہ کریں اور باز آجائیں اور ایمان کی راہ اختیار کریں۔ اعمال صالحہ کے پابند رہیں اور ایمان کی راہ پر قائم رہیں تو میں ایسے لوگوں کے ساتھ بڑی بخشش کا برتائو کرنے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
ف 9۔ یعنی ایمان و عمل صالح پر مداومت کریں۔
Read the full tafseer →غلطی ہوجائے تو اس کا ازالہ توبہ و استغفار ہے اکڑنا اور اترانا نہیں :
82۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو مشفقانہ درس دیا جا رہا ہے کہ نسیان اور انسان لازم وملزوم ہیں ۔ انسانوں میں سب سے افضل واعلی انبیاء ورسل ہیں اور نسیان سے وہ بھی پاک نہیں ہاں ! گناہوں سے وہ بلاشبہ معصوم ہیں لیکن نسیان گناہ کب ہے ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ بہتر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ جب گناہ اور غلطی سرزد ہو تو فورا اس کے بعد توبہ و استغفار کرکے اس کو مٹوا دیا جائے ، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ جب کوئی گناہگار اور خطا کار سچے دل کے ساتھ اس سے بخشش طلب کرے تو صرف یہی نہیں کہ وہ معاف فرما دیتا ہے نہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ (And appointed for you the right side of the mount Tur. (20:80) ) After their deliverance from the threat of the Pharaoh, and when they were safe across the river, Allah made a promise to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and through him to the Bani Isra'il that they should move to the right side of the mount of Tur so that Sayyidna Musa (علیہ السلام) might be given the Torah and so that they might witness him speak with Allah.
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ (And sent down for you the Mann and Sa1w. - 20:80) This incident occurred…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
60. According to this (verse 82), there are four conditions for forgiveness:
(1) Repentance: to refrain from rebellion, disobedience, shirk or disbelief.
(2) Faith: sincere belief in Allah and the Messenger and the Book and the Hereafter.
(3) Righteous works: to do good deeds according to the instructions of Allah and His Messenger.
(4) Guidance: to follow the right way steadfastly and to refrain from straying into any wrong path.
Read the full tafseer →