Explained with ayahs 80–82
احسانات کی یاد دہانی۔
اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے (واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون)۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تو ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
سورة طٰهٰ 60
یعنی مغفرت کے لیے چار شرطیں ہیں۔ اول توبہ، یعنی سرکشی و نافرمانی یا شرک و کفر سے باز آجانا۔ دوسرے، ایمان، یعنی اللہ اور رسول اور کتاب اور آخرت کو صدق دل سے مان لینا۔ تیسرے عمل صالح، یعنی اللہ اور رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا۔ چوتھے اہتداء، یعنی راہ راست پر ثابت قدم رہنا اور پھر غلط راستے پر نہ جا پڑنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ، فرعون سے نجات اور دریا سے پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے اور ان کے واسطے سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور کی داہنی جانب چلے آئیں تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی ان کے شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کے بعد آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا ان کو حکم ملا۔ انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اس وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کردیئے گئے۔ یہاں سے چالیس سال تک باہر نہ نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت 80-82
بنی اسرائیل کو تنبیہ
دریا پار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے عظیم احسانات یاد دلا کر ان کو و ہعظیم ذمہ داری یاد دلائی جو ان احسانات کے حق کے طور پر ان پر عائد ہوتی تھی اور ساتھ ہی اس انجام سے بھی آگاہ فرما دیا جو ان لوگوں کے لئے مقتدر ہے جو ان نعمتوں کی ناقدری کریں گے اور شکر کے بجائے کفر اور طغیان کی راہ اختیار کریں گے۔ بعینیہ اسی سیاق وسباق میں، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر اکتفا کریں گے۔ تفصیل کے طالب بقرہ کی تفسیر میں آیات 57-46 کے تحت جو…
Read the full tafseer →81۔ 1 یعنی حلال اور جائز چیزوں کو چھوڑ کر حرام اور ناجائز چیزوں کی طرف تجاوز مت کرو، یا اللہ کی نعمتوں کا انکار کر کے یا کفر ان نعمت کا ارتکاب کر کے اور نافرمانی کر کے حد سے تجاوز نہ کرو، ان تمام مفہومات پر طغیان کا لفظ صادق آتا ہے اور بعض نے کہا کہ طغیان کا مفہوم ہے، ضرورت و حاجت سے زیادہ پرندے پکڑنا یعنی حاجت کے مطابق پرندے پکڑو اور اس سے تجاوز مت کرو۔
81۔ 2 دوسرے معنی یہ بیان کئے گئے ہیں کہ وہ ہاویہ یعنی جہنم میں گرا۔ ہاویہ جہنم کا نچلا حصہ ہے، یعنی جہنم کی گہرائی والے حصے کا مستحق ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (02 : 18) ” سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ “ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔
یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
1 یہ حق تعالیٰ بنی اسرائیل کو نصیحت فرماتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تم پر کیسے کیسے احسان و انعام کیے، چاہیے کہ ان کا حق ادا کرو۔ کیا یہ تھوڑی بات ہے کہ ایسے سخت جابر و قاہر دشمن کے ہاتھوں سے تم کو نجات دی اور اس کو کیسے عبرتناک طریقہ سے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا۔ پھر بتوسط حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے وعدہ ٹھہرا کہ مصر سے شام کو جاتے ہوئے کوہ " طور " کا جو مبارک و میمون حصہ داہنے ہاتھ پڑتا ہے وہاں آؤ تم کو " تورات " عطا کی جائے گی۔ " تِیہ " کے لق ودق میدان میں تمہارے کھانے کے لیے من وسلویٰ اتارا گیا (جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے) ان احسانات کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 81 کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ ”
لیکن منع کرنے کے باوجود بنی اسرائیل نے اس معاملے میں زیادتی کی۔ زیادتی کی ایک صورت تو یہ تھی کہ وہ اسے سینت سینت کر رکھتے تھے ‘ اس خدشے سے کہ شاید کل یہ نازل نہ ہو اور یوں توکل علی اللہ کی نفی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس میں اس طرح بھی زیادتی کی کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں دوسری چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
57 یہاں پھر کئی تفصیلات کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے، جو دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مثلا ً اسی سفر میں بنی اسرائیل نے ایک مندر میں بعض لوگوں کو بت پوجتے دیکھا تو کہنے لگے۔ موسیٰ ! ہمیں بھی اس طرح کا ایک الہٰ یعنی محسوس خدا کا مجسمہ بنادو۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں پھر ہجرت کا مقصد بتلایا کہ تمہیں اپنے آبائی وطن کو غیروں کے قبضہ سے آزاد کرانا اور خود وہاں آباد ہونا ہے تو کہنے لگے ! موسیٰ ! وہاں تو بڑے طاقتور اور جنگجو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہم ان سے جنگ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوسکتے ہیں یا پھر تم اور تمہارا رب…
Read the full tafseer →90۔ حد سے مراد حد شرعی ہے۔ اور اس سے گزرنے کی ایک صورت تو یہی ہے کہ حرام چیزیں استعمال میں لائی جائیں، دوسری یہ کہ اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر اس کی معصیت کی جائے، (آیت) ” الطیبت “ سے مراد وہ کل چیزیں ہیں جو شرعا حلال ہیں اور طبعا لذیذ ہیں۔ (آیت) ” کلوا “۔ یہاں بطور حکم نہیں، بطور اجازت ہے۔ لیس امر ایجاب بل امر اباحۃ (کبیر)
91۔ یعنی بالکل گیا گزرا ہوا۔ (آیت) ” ھو ی “۔ کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ پہاڑ سے گرا اور ہلاک ہوگیا۔ اصلہ ان یسقط من جبل فیھلک (کشاف) یہاں مراد ہلاک وبرباد ہوجانے سے ہے۔ اے تردی وھلک (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–85
آیت نمبر 77 تا 85
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…
Read the full tafseer →کلوا من طیبت ما رزقنکم نازل کیا اور (اجازت دی کہ) ہم نے جو نفیس چیزیں تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔
مِنْ طَیِّبٰتِمیں مِن بیانیہ ہے یا تبعیضیہ ‘ یعنی وہ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں یا ہماری عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کچھ چیزیں تم کھاؤ۔ طیبات سے مراد ہیں لذیذ یا حلال چیزیں (من وسلویٰ لذیذ چیزیں بھی تھیں اور حلال بھی۔ )
ہر نعمت خداداد ہی ہے لیکن اس جگہ رَزَقْنَا میں اپنی طرف دینے کی نسبت صراحۃً کرنے سے مراد ہے نعمتوں کا اظہار۔
ولا تطغوا فیہ اور اس (کھانے) میں حد (شرعی) سے مت گزرو۔ یعنی ہماری دی ہوئی نعمت میں حد سے تجاوز نہ
کرو ‘ حد سے تجاوز کرنا کئی صورتوں سے ہوتا ہے شکر نہ کرنا فضول…
Read the full tafseer →(81) اور اجازت دی کہ ہم نے تمہیں جو پاکیزہ چیزیں یعنی من وسلوی دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس نعمت کی ناشکری مت کرو، یہ کہ اگلے دن کے لیے بچا کر نہ رکھو کہ کہیں تم پر میرا غضب اور عذاب واقع ہوجائے اور جس شخص پر میری ناراضگی اور غصہ و عذاب واقع ہوتا ہے وہ بالکل ہی گیا گزرا ہوا۔
Read the full tafseer →وَلَا تَطْغَوْا فِيْهِ : طغیانی کا معنی حد سے بڑھنا ہے۔ رزق میں حد سے تجاوز یہ ہے کہ دوسرے کا حق کھاجائے، ناشکری یا فضول خرچی کرنے لگے، نعمت پر اترانے لگے، رزق میں واجب حقوق ادا نہ کرے، اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنے لگے، یا جس جگہ یا جس وقت اسے جوڑ کر رکھنے سے منع کیا گیا ہے وہاں جوڑنے کے پیچھے پڑجائے۔ غرض حکم یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ کی حدود سے تجاوز اور نافرمانی کا ذریعہ مت بناؤ۔
فَقَدْ هَوٰى : ”ھَوٰی یَھْوِيْ“ (ض) اونچی جگہ سے گرنا۔ چونکہ ایسا گرنا جس کے بعد اٹھنا نہ ہو، ہلاک ہونے کی صورت ہی میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں ”هَوٰى“ کا معنی ”ہلاک ہوگیا“ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
(تفسیر 80-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بینی اسرآء یل قد انجینکم من عدوکم جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تو یہ فرمایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ ووعدنکم جانب الطور الایمن، جانب پر نصب، واعدنا کے مفعول ثانی کی ببنا پر ہے اور اسے ظرف کی بنا پر نصب دینا بہتر نہیں کیونکہ یہ ظرف مکاں محض غیر مبہم ہے اور افعال اور مصادر ظروف مکاں کی طرف بغیر حروف جر کے متعدی ہوتے ہیں جبکہ وہ ظروف مبہم ہوں۔ مکی نے کہا : یہ اصل ہے اس میں اختلاف نہیں ہے۔ آیت کی تقدیر یہ ہے : وواعدنا کم اتیان جانب الطور، پھر مضاف کو حذف کیا گیا۔ نحاس نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[كُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [مِنْ طَيِّبٰتِ مَا : ان چیزوں کے پاکیزہ سے جو ] [رَزَقْنٰكُمْ : ہم نے عطا کیں تم کو ] [وَلَا تَطْغَوْا : اور تم لوگ زیادتی مت کرنا ] [فِيْهِ : اس میں ] [فَيَحِلَّ : ورنہ اتر جائے گا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [غَضَبِيْ : میرا غضب ] [وَمَنْ : اور وہ ] [يَّحْلِلْ : اترا ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [غَضَبِيْ : میرا غضب ] [فَقَدْ هَوٰى : تو وہ پستی میں گرپڑا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی
قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
54:۔ جو حلال روزی میں نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت کو بےجا اور برے کاموں میں خرچ نہ کرو۔ ” وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ الخ “ نافرمانوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ الخ “ فرمانبرداروں کے لیے بشارت اخروی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…
Read the full tafseer →كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيْہِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِيْ 0ۚ وَمَنْ يَّحْلِلْ عَلَيْہِ غَضَبِيْ فَقَدْ ہَوٰى 81
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
طيب
يقال : طَابَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل لے جانے کا حکم۔
بھی مانگ کر دور کے میدان میں نکلے۔ وہاں موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم پہنچا کہ اب ان کو شباشب ملک شام کی طرف لے نکل چناچہ وہ سب چلے۔ ادھر فرعون کو خبر ملی تو وہ بڑا لشکر لے کر پیچھے سے تعاقب کرتا ہوا آیا۔ دریائِ قلزم پر آلیا۔ بنی اسرائیل گھبرائے، خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا پر عصا مار، مارا تو پانی کی دونوں طرف دیواریں سی کھڑی ہوگئیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل صاف نکل گئے ان کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر جو اسی رستہ سے آیا ان پر دریا مل گیا پانی نے ڈھانک لیا وہ سب غرق ہوگئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ قَدْاَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰـکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِالْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَلاَ تَطْغَوْا فِیْہِ فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْج وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَـقَدْ ھَوٰی۔ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 80، 81، 82)
(اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا۔ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اسے کھا کر سرکشی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات دی اور اور پر اپنی طرف سے من اور سلویٰ نازل کرنے کے بعد تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں حلال طیب عطا فرمایا ہے۔ اسے کھاؤ اور حد سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کروگے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا۔ جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ پہلی آیت میں نہایت اختصار کے ساتھ تین واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
1۔ بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نجات دلانا۔…
Read the full tafseer →81: کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ (تم نفیس چیزیں کھائو) حلال۔ مَارَزَقْنٰکُمْ (جو ہم نے تمہیں دی ہیں)
قراءت : انجیتکم وواعدتکم و رزقتکمکو فی نے عاصم کے علاوہ پڑھا ہے۔
وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ (اور اس میں حد شرعی سے مت گزرو) اس میں اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز مت کرو۔ کہ نعمتوں کی ناشکری کرنے لگو اور نعمتوں کو معاصی میں صرف کرنے لگو۔ نمبر 2۔ تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔
فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ (ورنہ میرا غصہ تم پر اتر پڑے گا) غضب سے میری سزا مراد ہے۔ وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ھَوٰی (اور جس شخص پر میرا غصہ واقع ہوتا ہے وہ بالکل گیا گزرا ہوا) ہلاک ہوگیا نمبر 2۔ ایسا گرا جس کے بعد اٹھ…
Read the full tafseer →81۔ کلو من طیبات مارزقناکم، حمزہ اور کسائی نے ، انجینکم ، وواعدنکم ورزقتکم ، تاء کے ساتھ ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ذکر کیا ہے تعظیم کی بنا پر اور، ، نزلنا، میں اختلاف نہیں کیا، کیونکہ ان کو الف کے ساتھ ہی ذکر کیا ہے۔ ولاتطغوا فیہ، ابن عباس کا قول ہے کہ تم ظلم نہ کرو کلبی کا بیان ہے کہ تم نعمت کی ناشکری نہ کرو وگرنہ سرکش ظالم بن جاؤ گے۔
بعض نے کہا کہ ہماری پاکیزہ اشیاء برائی میں خرچ نہ کرو۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نعمتوں کو معاصی میں تقویت نہ دو ۔ بعض نے کہا کہ تم ہماری نعمتوں کا زخیرہ نہ کرو۔ فیحل، اعمش کسائی نے حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور، ، ومن یحلل، لام کے ضمہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
آیت 79
جب موسیٰ معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آگئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انہوں نے اپنے گھروں کو ماسجد بنا رکھ اتھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا اسمنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
77 بنی اسرائیل کے لیے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن سے اے بنی اسرائیل "۔ یعنی فرعون اور اس کے طرح طرح کے ہولناک مظالم سے۔ پس نجات دینے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں نہ کہ اور کوئی ہستی۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ سو تم ہمارے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور اس کے نتیجے میں شکر کے طور پر ہمارے آگے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم حقِّ شکر بھی ادا کرو اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہوسکو کہ شکر نعمت سے نعمت کی قدردانی ہوتی ہے اور اس سے نعمت میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو شکر نعمت سے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 4 معلوم ہوا کہ بخشش کے لئے چار چیزیں شرط ہیں، ایک تو بہ یعنی شرک و کفر اور نافرمانی سے باز آجانا، دوسرے ایمان یعنی اللہ، رسول یوم آخرت اور دوسرے ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسرے عمل صالح یعنی اللہ و رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھے راست روی یعنی مرتے دم تک ایمان اور نیک اعمال پر قائم رہنا اور یہی چیز سب سے زیادہ مشکل ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(20:81) لا تطغوا فیہ۔ اس میں حد سے تجاوز نہ کرو طغی یطغی (سمع) طغی طغیان ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر جانا۔ باب نصر سے طغی یطغوا۔ فیحل۔ اس میں فاء سببیہ ہے یحل مضارع منصوب (بوجہ جواب نہیں) واحد مذکر غائب ۔ حلولمصدر (باب ضرب) نازل ہوگا۔ اترے گا۔
ھوی۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) ھوی مصدر جس کے معنی اوپر سے نیچے گرنے کے ہیں۔ ھوی۔ وہ گرپڑا (یعنی دوزخ میں) صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ اس کے اصل معنی پہاڑ سے نیچے گرنے اور ہلاک ہوجانے کے ہیں۔ یہاں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
یہاں فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت کے نازل ہونے کے ، اور من وسلویٰ کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ، اور نہ ناشکری نہ کرو، ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کو غضب میں گرفتار ہوا، اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
[30] داہنی طرف کے وعدے سے مراد ہے طور کی داہنی جانب حاضری کا وعدہ۔ نیز ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41
[31] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–84
تائید غیبی کے سامان :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔
فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…
Read the full tafseer →-8 1 ہم نے تم کو نفیس اور مرغوب چیزیں اور لذیذ روزی عطا فرمائی ہے اس میں سے کھائو اور اس کھانے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو اور حد سے آگے نہ بڑھو کہیں میرا غصہ اور غضب تم پر نازل ہوجائے اور جس شخص پر میرا غضب واقع ہوا تو وہ ٹپکا گیا اور ہلاک ہوگیا۔ یعنی بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو وقتاً فوقتاً ان پر کی گئی ھیں دشمن کی غلامی سے آزادی توریت عطا کرنے کا وعدہ من اور سلویٰ عطا کرتے وقت تنبیہہ حد سے گزرنے کا مطلب یہ کہ نفیس روزی کھا کر مثلاً عصیاں کا ارتکاب کرنا۔ اگر ایسا کرو گے تو میرا غضب واقع ہوجائے گا اور جس پر میرا غضب واقع ہوتا ہے تو وہ برباد اور گیا گزرا ہوگیا۔
حضرت شاہ صاحب فرمایت…
Read the full tafseer →ف 7۔ شرعا بھی حلال اور طبعا بھی لذیذ۔
8۔ مثلا یہ کہ حرام سے حاصل کیا جاوے یا کھا کر معصیت کی جاوے۔
Read the full tafseer →ہم نے کہا کہ شوق سے کھاؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو ورنہ عذاب تمہیں بھی آلے گا :
81۔ فرعون کو تمہاری آنکھوں کے سامنے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نافرمانیوں میں حد سے بڑھ گیا اور پھر بڑھتا ہی گیا ‘ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کبھی کوشش ہی نہ کی اور اب اگر تم وہی کام کرو گے جو وہ کرتا گیا تو تمہارا حال بھی وہی ہوگا جو اس کا ہوا ‘ ہمارے ہاں دیر اور انتظار ضرور ہے لیکن اندھیر ممکن نہیں۔ ” ہم نے تمہارے لئے پاک غذا مہیا کردی ہے تاکہ تم شوق سے کھاؤ لیکن سرکشی نہ کرو ۔ “ لیکن اب تم نے بھی الٹی چال چلنا شروع کردی اور ہماری سنت تم کو اتنی جلدی بھول گئی کہ ہم چھوڑتے ہیں تو محض اس لئے کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ (And appointed for you the right side of the mount Tur. (20:80) ) After their deliverance from the threat of the Pharaoh, and when they were safe across the river, Allah made a promise to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and through him to the Bani Isra'il that they should move to the right side of the mount of Tur so that Sayyidna Musa (علیہ السلام) might be given the Torah and so that they might witness him speak with Allah.
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ (And sent down for you the Mann and Sa1w. - 20:80) This incident occurred…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
60. According to this (verse 82), there are four conditions for forgiveness:
(1) Repentance: to refrain from rebellion, disobedience, shirk or disbelief.
(2) Faith: sincere belief in Allah and the Messenger and the Book and the Hereafter.
(3) Righteous works: to do good deeds according to the instructions of Allah and His Messenger.
(4) Guidance: to follow the right way steadfastly and to refrain from straying into any wrong path.
Read the full tafseer →