Taa-Haa 20:80

Taa-Haa · from ayah 80

20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ۟يٰبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ قَدۡ اَنۡجَيۡنٰكُمۡ مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوٰعَدۡنٰكُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰى

اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:80

اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی، اور تم سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ ٹھہرایا، اور تم پر من وسلوی نازل کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے بنی اسرائیل! (دیکھو) بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (کوہِ) طور کی داہنی جانب (آنے کا) وعدہ کیا اور (وہاں) ہم نے تم پر من و سلوٰی اتارا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے بنی اسرائیل ! بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں پہاڑ کی دائیں جانب کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کی دائیں جانب تمہیں (کتاب دینے کا) وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے بنی اسرئیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور تم سے طور کے مبارک جانب کو ایک میعاد ٹھہرائی اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے یعقوب ؑ کی اولاد (ذرا ہماری ان نعمتوں کو تو یاد کرو کہ کس طرح) ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن (اور اس کے مظالم) سے، اور تمہارے لئے ایک وقت مقرر کیا حاضری کا طور کی دائیں جانب، اور ہم نے تم پر من وسلوی اتارا (تمہاری خوراک کے لئے)

— مولانا اسحاق مدنی

اے بنی اسرائیل (دیکھو) ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے وعدہ کیا طور کی داہنی جانب سے متعلق اور تمہارے اوپر من وسلوی اتارا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم لوگوں کو نجات دی تمہارے دشمن سے پھر ہم نے تم لوگوں کو بلایا کوہ طور کی داہنی جانب اور (صحرا میں تمہاری غذا کے لیے) تم پر من وسلویٰ نازل کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لیے تم سے کوہ طور کی دا ہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Children of Israel! We saved you from your enemy and made a covenant with you on the right side of the Mount and sent down on you manna and quails,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O children of Isra‘il , We delivered you from your enemy and appointed for you the right side of the mount Tur (Sinai), and sent down for you the Mann and Salwa :

— Muhammad Taqi Usmani

O children of Isra‘il , We delivered you from your enemy and appointed for you the right side of the mount Tur (Sinai), and sent down for you the Mann and Salwa :

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Children of Israel! We delivered you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of the Mount, and We sent down to you manna and quail,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Children of Israel! We delivered you from your enemy, and we made a covenant with you on the holy mountain's side, and sent down on you the manna and the quails,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,

— Saheeh International

Children of Israel, We saved you from your enemy and promised to settle you on the right side of the peaceful Mount Tur (Sinai)

— Muhammad Sarwar

O children of Israel! indeed We delivered you from your enemy, and We made a covenant with you on the blessed side of the mountain, and We sent to you the manna and the quails.

— Muhammad Habib Shakir

O Children of Israel; We delivered you from your enemy, and treated with you on the right side of the mount and sent down upon you the manna and the quails.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye Children of Israel! We delivered you from your enemy, and We made a Covenant with you on the right side of Mount (Sinai), and We sent down to you Manna and quails:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–82

احسانات کی یاد دہانی۔ اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے (واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون)۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تو ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 56 سمندر کو عبور کرنے سے لے کر کوہ سینا کے دامن میں پہنچنے تک کی داستان بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے۔ اس کی تفصیلات سورة اعراف رکوع 16۔ 17 میں گزر چکی ہیں۔ اور وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ مصر سے نکلتے ہی بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا کے ایک مندر کو دیکھ کر اپنے لیے ایک بناوٹی خدا مانگ بیٹھے تھے (تفہیم القرآن۔ جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 98) سورة طٰهٰ 57 یعنی طور کے مشرقی دامن میں۔ سورة طٰهٰ 58 سورة بقرہ رکوع 6، اور سورة اعراف رکوع 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شریعت کا ہدایت نامہ عطا کرنے کے لیے چالیس دن کی میعاد مقرر کی تھی جس کے بعد حضرت موسیٰ کو پتھر کی تختیوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–82

وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ ، فرعون سے نجات اور دریا سے پار ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے اور ان کے واسطے سے تمام بنی اسرائیل سے یہ وعدہ فرمایا کہ وہ کوہ طور کی داہنی جانب چلے آئیں تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا کی جائے اور بنی اسرائیل خود بھی ان کے شرف ہم کلامی کا مشاہدہ کرلیں۔ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل عبور دریا کے بعد آگے بڑھے اور ایک مقدس شہر میں داخل ہونے کا ان کو حکم ملا۔ انہوں نے خلاف ورزی کی اس کی یہ سزا دی گئی کہ اس وادی میں جس کو وادی تیہ کہتے ہیں قید کردیئے گئے۔ یہاں سے چالیس سال تک باہر نہ نکل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 80–82

آیت 80-82 بنی اسرائیل کو تنبیہ دریا پار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے عظیم احسانات یاد دلا کر ان کو و ہعظیم ذمہ داری یاد دلائی جو ان احسانات کے حق کے طور پر ان پر عائد ہوتی تھی اور ساتھ ہی اس انجام سے بھی آگاہ فرما دیا جو ان لوگوں کے لئے مقتدر ہے جو ان نعمتوں کی ناقدری کریں گے اور شکر کے بجائے کفر اور طغیان کی راہ اختیار کریں گے۔ بعینیہ اسی سیاق وسباق میں، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر اکتفا کریں گے۔ تفصیل کے طالب بقرہ کی تفسیر میں آیات 57-46 کے تحت جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کوہ طور پر تمہیں یعنی تمہارے نمائندے بھی ساتھ لے کر آئیں تاکہ تمہارے سامنے ہی ہم موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوں، یا ضمیر جمع اس لئے لائی گئی کہ کوہ طور پر موسیٰ ؑ کو بلانا، بنی اسرائیل ہی کی خاطر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے تھا۔ 80۔ 2 من وسلویٰ کے نزول کا واقعہ، سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ من کوئی میٹھی چیز تھی جو آسمان سے نازل ہوئی تھی اور سلویٰ سے مراد بٹیر پرندے ہیں جو کثرت سے ان کے پاس آتے اور وہ حسب ضرورت انھیں پکڑ کر پکاتے اور کھالیتے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–82

30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینئای کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔ یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے ، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 80–81

1 یہ حق تعالیٰ بنی اسرائیل کو نصیحت فرماتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تم پر کیسے کیسے احسان و انعام کیے، چاہیے کہ ان کا حق ادا کرو۔ کیا یہ تھوڑی بات ہے کہ ایسے سخت جابر و قاہر دشمن کے ہاتھوں سے تم کو نجات دی اور اس کو کیسے عبرتناک طریقہ سے تمہاری آنکھوں کے سامنے ہلاک کیا۔ پھر بتوسط حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے وعدہ ٹھہرا کہ مصر سے شام کو جاتے ہوئے کوہ " طور " کا جو مبارک و میمون حصہ داہنے ہاتھ پڑتا ہے وہاں آؤ تم کو " تورات " عطا کی جائے گی۔ " تِیہ " کے لق ودق میدان میں تمہارے کھانے کے لیے من وسلویٰ اتارا گیا (جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے) ان احسانات کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حلال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ” یہ اسی مقام کا ذکر ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 79–80

56 اپنی قوم کے سامنے فرعون کا دعویٰ توبہ تھا کہ میں تمہیں سیدھی راہ دکھاتا ہوں۔ مگر وہ سیدھی نہ تھی بلکہ گمراہی کی تھی اور ظاہری طور پر بھی وہ قوم کے آگے چلا تو انھیں سمندر میں لا ڈبویا اور قیامت کو بھی اپنی قوم کے آتے آگے چلے گا تو انھیں جہنم میں جا داخل کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

89۔ (دشت تیہ میں) من وسلوی پر حاشیے سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 میں گزر چکے، اور طور پر سورة بقرہ کے رکوع 8 میں اور (آیت) ” اطور الایمن “۔ پر سورة مریم کا حاشیہ نمبر 79۔ (آیت) ” وعدنا “۔ وعدہ یہ ہے کہ تمہارے پیغمبر اور تمہارے اکابر یہاں آئیں، اور تمہارے لئے احکام ہدایات یہاں سے لے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 77–85

آیت نمبر 77 تا 85 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یبنی اسرآئیل قد انجینکم من عدوکم ووعدنکم جانب الطور الایمن اے بنی اسرائیل (دیکھو) ہم نے تم کو تمہارے (ایسے بڑے) دشمن سے نجات دی اور ہم نے تم سے (یعنی تمہارے پیغمبر سے) طور کے دائیں جانب آنے کا وعدہ کیا۔ یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ سے خطاب ان بنی اسرائیل کو ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے اور جو احسانات ان کے آباء و اجداد پر کئے گئے تھے وہ موجودہ بنی اسرائیل کو یاد دلائے گئے ہیں لیکن اس مطلب پر ایک لاینحل اشکال یہ وارد کیا جاسکتا ہے کہ سورة مکی ہے اور مکہ کی زندگی میں خطاب بنی اسرائیل کو نہیں ہوسکتا۔ پوری مکی زندگی میں مخاطب قریش یا کفار مکہ ہوسکتے ہیں اس لئے کہنا پڑتا ہے کہ یہ گزشتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اے بنی اسرائیل دیکھو ہم نے تمہیں فرعون سے نجات دی اور ہم نے تمہارے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا اور وہاں آنے کے بعد کتاب توریت دینے کا وعدہ کیا اور وادی تیہ میں تم پر من وسلوی نازل فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ۔۔ : یہ تین آیتیں موسیٰ ؑ کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے دو آیات (55، 56) گزر چکی ہیں۔ اس آیت میں موسیٰ ؑ کے زمانے کے بنی اسرائیل مخاطب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے یہود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروائی جا رہی ہوں، جیسا کہ : (يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ) [ البقرۃ : 40، 47، 122 ] میں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تین نعمتیں یاد دلائیں۔ سب سے پہلے غلامی سے نجات کی عظیم نعمت، اس کے بعد طور پر بلا کر دینی احکام پر مشتمل کتاب عطا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–82

(تفسیر 80-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بینی اسرآء یل قد انجینکم من عدوکم جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تو یہ فرمایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ ووعدنکم جانب الطور الایمن، جانب پر نصب، واعدنا کے مفعول ثانی کی ببنا پر ہے اور اسے ظرف کی بنا پر نصب دینا بہتر نہیں کیونکہ یہ ظرف مکاں محض غیر مبہم ہے اور افعال اور مصادر ظروف مکاں کی طرف بغیر حروف جر کے متعدی ہوتے ہیں جبکہ وہ ظروف مبہم ہوں۔ مکی نے کہا : یہ اصل ہے اس میں اختلاف نہیں ہے۔ آیت کی تقدیر یہ ہے : وواعدنا کم اتیان جانب الطور، پھر مضاف کو حذف کیا گیا۔ نحاس نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے بنی اسرائیل ] [قَدْ انجَيْنٰكُمْ : ہم نے نجات دی ہے تم لوگوں کو ] [مِّنْ عَدُوِّكُمْ : تمہارے دشمن سے ] [وَوٰعَدْنٰكُمْ : اور معاہدہ کیا تم سے ] [جانب الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ : کوہ طور کی دا ہنی جانب ] [وَنَزَّلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى: من و سلوٰی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–85

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تمہارے لیے من وسلویٰ نازل فرمایا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا اور انہیں اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں اور احکام کی خلاف ورزی پر غضب الٰہی کے نازل ہونے کی وعید سے باخبر فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور پھر فرمایا کہ تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا یعنی تمہارے نبی کو کوہ طور پر بلایا اور اس کی داہنی جانب ان کو تو ریت شریف عطا کی۔ جب ان کو بلایا تھا تو توریت دینے کا وعدہ تھا اور چونکہ یہ توریت تمہارے نفع کے لیے تھی اس لیے یہ وعدہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–82

نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52:۔ قوم فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلا کر ان کا شکر ادا کرنے، ان کو ایمان و اطاعت پر قائم رہنے اور طغیانی و سرکشی سے اجتناب کی ترغیب فرمائی۔ لما انجھم من فرعون قال لھم ھذا لیشکروا (قرطبی ج 11 ص 230) ۔ 53:۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا۔ کہ وہ فرعون کی تباہی کے بعد کوہ طور کی داہنی جانب پر پہنچ جائیں۔ ان کو تورات دی جائے گی۔ جو سراپا نور ہدایت اور بنی اسرائیل کے لیے مشعل راہ ہوگی۔ یہاں اس وعدہ کی طرف اشارہ ہے یہ وعدہ اگرچہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن تھا پوری قوم کی فلاح و بہبود کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–85

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ بیان کیا ہے۔ جس میں انہوں نے فرعون کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا ، مگر اس نے اور اس کے حواریوں نے یہ پیغام قبول نہ کیا بلکہ آخر وت تک کفر وشرک پر اڑے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی ، مگر آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون تعاقب کررہا تھا۔ تو اللہ نے بنی اسرائیل معجزانہ طریقے سے سمندر سے یار اتار دیا۔ جب فرعون بمعہ لشکر موسیٰ (علیہ السلام) کے راستے پر سمندر میں داخل ہوا تو اللہ نے پانی کی رکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى۝ 80 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ عدو العَدُوُّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–82

حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل لے جانے کا حکم۔ بھی مانگ کر دور کے میدان میں نکلے۔ وہاں موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم پہنچا کہ اب ان کو شباشب ملک شام کی طرف لے نکل چناچہ وہ سب چلے۔ ادھر فرعون کو خبر ملی تو وہ بڑا لشکر لے کر پیچھے سے تعاقب کرتا ہوا آیا۔ دریائِ قلزم پر آلیا۔ بنی اسرائیل گھبرائے، خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا پر عصا مار، مارا تو پانی کی دونوں طرف دیواریں سی کھڑی ہوگئیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل صاف نکل گئے ان کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر جو اسی رستہ سے آیا ان پر دریا مل گیا پانی نے ڈھانک لیا وہ سب غرق ہوگئے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 80–82

یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ قَدْاَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰـکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِالْاَیْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَلاَ تَطْغَوْا فِیْہِ فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْج وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَـقَدْ ھَوٰی۔ وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی۔ (طٰـہٰ : 80، 81، 82) (اے بنی اسرائیل ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا۔ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اسے کھا کر سرکشی نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–82

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات دی اور اور پر اپنی طرف سے من اور سلویٰ نازل کرنے کے بعد تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں حلال طیب عطا فرمایا ہے۔ اسے کھاؤ اور حد سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کروگے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا۔ جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ پہلی آیت میں نہایت اختصار کے ساتھ تین واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 1۔ بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نجات دلانا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: سمندر پار ہونے کے بعد بنی اسرائیل پر کئے جانے والے احسانات کا تذکرہ فرمایا۔ اور فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت کے بعد والے انعامات ذکر کئے۔ یٰـبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (اے بنی اسرائیل ! ) یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جائو اور ہم نے کہا اے بنی اسرائیل گویا اس کا تعلق اَسْرِ بِعِبَادِیْ سے ہے۔ ہلاکتِ فرعون کے بعد والے انعامات : قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ (ہم نے تمہارے دشمن سے نجات دی) ۔ عدو سے فرعون مراد ہے۔ وَوٰعَدْنٰکُمْ (اور ہم نے تم سے وعدہ لیا) کتاب دینے کا۔ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَن (طور کے دائیں جانب) اور اس کا قصہ اس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ یابنی اسرائیل قد انجیناکم من عدوکم، اس سے مراد فرعون ہے ۔ وواعدنکم جانب الطور الایمن ونزلنا علیکم المن والسلوی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–82

74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–81

آیت 79 جب موسیٰ معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آگئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انہوں نے اپنے گھروں کو ماسجد بنا رکھ اتھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا اسمنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 80–83

77 بنی اسرائیل کے لیے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن سے اے بنی اسرائیل "۔ یعنی فرعون اور اس کے طرح طرح کے ہولناک مظالم سے۔ پس نجات دینے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں نہ کہ اور کوئی ہستی۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ سو تم ہمارے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور اس کے نتیجے میں شکر کے طور پر ہمارے آگے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم حقِّ شکر بھی ادا کرو اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہوسکو کہ شکر نعمت سے نعمت کی قدردانی ہوتی ہے اور اس سے نعمت میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو شکر نعمت سے خود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–89

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

ف 1 کیونکہ اس نے جب بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کیلئے اپنی قوم کو ساتھ لیا تھا یہ کہا تھا کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی ہم سے بچ کر نہیں جاسکتے اس لئے کہ وہ خشک راستے پر جا رہے ہیں اور ان کے سامنے سمندر ہے۔ مگر ہوا یہ کہ بنی اسرائیل تو بچ کر نکل گئے، اور فرعون اپنی پوری قوم سمیت تباہ ہوگیا۔2 مراد پہاڑ کی وہی جانب ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تھے۔ مصر سے شام جاتے ہوئے کوہ طور داہنی جانب پڑتا ہے۔ سورة بقرہ رکوع 6 اور سورة اعراف رکوع میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورۃ دینے کے لئے چلایس دن کی معیاد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ طور سے تختیوں پر لکھی ہوئی توراۃ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:80) انجینکم۔ ہم نے تمہیں نجات دی۔ وعدنکم۔ ہم نے تم سے وعدہ کیا (اس بات کا کہ تمہارے پیغمبر اور تمہارے اکابر یہاں آئیں ۔ جانب الطور الایمن۔ جانب مضاف الطورمضاف الیہ الایمن صف ہے جانب کی۔ یعنی طور کی دائیں جانب۔ اور تمہارے لئے احکام و ہدایات یہاں سے لے جائیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–89

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 78–81

یہاں فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت کے نازل ہونے کے ، اور من وسلویٰ کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ، اور نہ ناشکری نہ کرو، ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کو غضب میں گرفتار ہوا، اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–82

[30] داہنی طرف کے وعدے سے مراد ہے طور کی داہنی جانب حاضری کا وعدہ۔ نیز ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 41 [31] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 44 صفحہ 99۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–84

تائید غیبی کے سامان : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔ فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-80 اب بنی اسرائیل کو خطاب فرمایت ہوئے ارشاد ہوتا ہے اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی داہنی جانب کا وعدہ کیا اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔ یعنی فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد جب تم نے دستور العمل کی خواہش کی تو ہم نے توریت عطا کرنے کا وعدہ کیا اور کوہ طور کی داہنی جانب موسیٰ کو بلا کر توریت عطا فرمائی اور تم کو تیہ کے میدان میں من وسلویٰ کھانے کو دیا من وسلویٰ کی تفسیر پہلے پارے میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ من وسلویٰ دیتے وقت ارشاد فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ جانب طور کو ایمن اس لئے فرمایا کہ وہ جانب اس طرف جانے والے کے داہنے ہاتھ پڑتی ہے، اور بعض نے یمن سے لیا ہے یعنی برکت یعنی جانب مبارک، اس کی توحید ظاہر ہے کیونکہ محل وحی کے مبارک ہونے میں کیا شبہہ ہے۔ چناچہ اس کو مقدس بھی کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کی بداعتدالیوں کے باعث ان کو احسان یاد دلائے جا رہے ہیں : 80۔ بنی اسرائیل کے دریا پار کرلینے اور فرعون کے غرق ہوجانے کے بعد کے بہت سے حالات کو اس جگہ پھر نظر انداز کردیا گیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے بیان کرنے کی اس جگہ ضرورت نہ تھی اور اب بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ اپنے احسانات جتلانے شروع کئے محض اس لئے کہ جب ان کو بداعتدالیاں کرتے دیکھا تو ان کو یاد دلایا کہ کل تک تمہاری حالت کیا تھی اور آج جب کہ تم دشمن سے بےخوف ہوچکے ہو تو پھر تم نے الٹی چالیں چلنا شروع کردی ہیں کیا ابھی تم کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ جو لوگ انعامات الہی کی ناقدری کرتے ہیں ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–82

وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّورِ‌ الْأَيْمَنَ (And appointed for you the right side of the mount Tur. (20:80) ) After their deliverance from the threat of the Pharaoh, and when they were safe across the river, Allah made a promise to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and through him to the Bani Isra'il that they should move to the right side of the mount of Tur so that Sayyidna Musa (علیہ السلام) might be given the Torah and so that they might witness him speak with Allah. وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ (And sent down for you the Mann and Sa1w. - 20:80) This incident occurred…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56. The part of the story relating to their journey from the Red Sea to the foot of Mount Toor has been omitted. This has already been given in (Surah Al-Aaraf, Ayats 138-147). It has also been stated there that the Israelites said to Moses: O Moses, make a god for us like the gods these people have. See (Surah Al-Aaraf, Ayat 138 and its E.N. 98). 57. That is, on the eastern side of Toor. 58. According to (Surah Al-Baqarah, Ayat 51) and (Surah Al-Aaraf, Ayat 142), Prophet Moses (peace be upon him) and the chiefs of the Israelites were summoned to Mount Toor for receiving the divine…

Read the full tafseer →