Taa-Haa 20:79

Taa-Haa · from ayah 79

20:79

وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَمَا هَدٰی ۟وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ وَمَا هَدٰى‏

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Pharaoh led his people astray and did not guide [them].

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:79

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے پر لگایا، اور انہیں صحیح راستہ نہ دکھایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور انہیں سیدھے راستہ پر نہ لگایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا، سیدھی راہ نہ دکھائی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا، اس کو صحیح راہ نہ دکھائی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر ہی لگایا صحیح راہ اس نے ان کو نہ دکھائی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرعون نے تو اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا اور سیدھی راہ پر نہ لایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ دی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh led his people astray; he did not guide them aright.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Pharaoh held his people astray, and did not show them the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Pharaoh held his people astray, and did not show them the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Fir`awn led his people astray, and he did not guide them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Pharaoh led his folk astray, he did not guide them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Pharaoh led his people astray and did not guide [them].

— Saheeh International

The Pharaoh and his people had gone away from guidance.

— Muhammad Sarwar

And Firon led astray his people and he did not guide (them) aright.

— Muhammad Habib Shakir

And Fir'awn led his nation astray, and guided them not.

— Abdul Majid Daryabadi

Pharaoh led his people astray instead of leading them aright.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–79

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب۔ چونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کردے اس لئے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کریہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے چناچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیل نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکرجمع ہوجائیں اور دانت پیس پیس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 55 بڑے لطیف انداز میں کفار انداز میں کفار مکہ کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے سردار اور لیڈر بھی تم کو اسی راستے پر لیے جا رہے ہیں جس پر فرعون اپنی قوم کو لے جا رہا تھا۔ اب تم خود دیکھ لو کہ یہ کوئی صحیح رہنمائی نہ تھی۔ اس قصے کے خاتمے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بائیبل بیانات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ ان لوگوں کے جھوٹ کی حقیقت کھل جائے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے گئے ہیں۔ بائیبل کی کتاب خروج (exodus) میں اس قصے کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں، ان کے حسب ذیل اجزاء قابل توجہ ہیں 1)۔ باب 4، آیت 2۔ 5 میں بتایا گیا ہے کہ عصا کا معجزہ حضرت موسیٰ کو دیا گیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–79

خلاصہ تفسیر اور (جب فرعون اس پر بھی ایمان نہ لایا اور ایک عرصہ تک مختلف معاملات و واقعات ہوتے رہے اس وقت) ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ (اور دور چلے جاؤ تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو) پھر (راہ میں جو دریا ملے گا تو) ان کے لئے دریا میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنادینا (یعنی عصا مارنا کہ اس سے خشک راستہ بن جاوے گا) نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا (کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں) اور نہ اور کسی قسم کا (مثلاً غرق وغیرہ کا) خوف ہوگا (بلکہ امن و اطمینان سے پار ہوجاؤ گے۔ چناچہ موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قائد کی اصل ذمہ داری یہ فرعوکن اور اس کی تباہ کن قیادت پر اظہار افسوس ہے کہ اس نے اپنی گمراہ کن روش کے سبب سے اپنی قوم کو ہلاکت کے سمندر میں غرق کیا، ان کی صحیح رہنمائی نہ کی وما ھدی میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر قائد اور حکمران کی اصل ذمہ داری اپنی قوم کی صحیح رہنمائی ہے۔ اس کی حیثیت درحقیقت ایک راعی کی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی خلق کے کسی گلہ کی چرواہی اور اس کی حفاظت پر مامور فرماتا ہے۔ بدبخت ہے وہ چرواہا جو اپنی انانیت پر پورے گلے کو بھینٹ چڑھا دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–82

30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 77–79

ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97) یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دعوے تو زبان سے بہت کیا کرتا تھا۔ ( وَمَآ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ ) 40 ۔ غافر :29) لیکن اس نے اپنی قوم کو کیسا اچھا راستہ بتلایا۔ وہ ہی مثال سچی کردی کہ " ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ " جو حال دنیا میں ہوا تھا وہ ہی آخرت میں ہوگا۔ یہاں سب کو لے کر سمندر میں ڈوبا تھا وہاں سب کو ساتھ لے کر جہنم میں گرے گا۔ (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) 11 ۔ ہود :98)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 78–79

آیت 78 فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَہُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ ” اس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر موجود ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر پر عصا مارا۔ اس سے سمندر پھٹ گیا ‘ دونوں طرف کا پانی بڑی بڑی چٹانوں کی طرح ] کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ الشعراء [ کھڑا ہوگیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس راستے سے اپنی قوم کو لے کر نکل گئے۔ لیکن جب فرعون اپنے لشکروں سمیت اس میں داخل ہوا تو دونوں طرف کا پانی مل گیا اور اس طرح سے وہ سب کے سب غرق ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 79–80

56 اپنی قوم کے سامنے فرعون کا دعویٰ توبہ تھا کہ میں تمہیں سیدھی راہ دکھاتا ہوں۔ مگر وہ سیدھی نہ تھی بلکہ گمراہی کی تھی اور ظاہری طور پر بھی وہ قوم کے آگے چلا تو انھیں سمندر میں لا ڈبویا اور قیامت کو بھی اپنی قوم کے آتے آگے چلے گا تو انھیں جہنم میں جا داخل کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

88۔ (سو ایسے باغی طاغی کا ڈوب مرنا ہی خوب ہوا) فرعون کی رہنمائی دینی حیثیت سے جس قدر غلط تھی وہ تو تھی ہی، دنیوی حیثیت سے بھی اس کا انجام سب نے دیکھ لیا کہ آخر ہلاکت ہی پر ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 77–85

آیت نمبر 77 تا 85 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واضل فرعون قومہ وما ہدی۔ اور فرعون اپنی قوم کو بری راہ پر لایا اور نیک راہ نہ بتائی۔ بِجُنُوْدِہٖمیں ب بمعنی مع کے ہے یعنی فرعون کو جب اطلاع ملی کہ موسیٰ بنی اسرائیل کو لے کر رات کو ہی مصر سے نکل گیا تو اس نے خود اپنے لشکر کے ساتھ موسیٰ کا پیچھا کیا۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اتباع (باب افعال) بمعنی اتباع (باب افتعال) کے ہے (یعنی لازم ہے) ب کے ذریعہ سے اس کو متعدی بنایا گیا ہے ‘ یعنی فرعون اپنے لشکر کو لے کر پیچھے چلا۔ یا فرعون نے اپنے لشکر کو بنی اسرائیل کے پیچھے چلایا ‘ مِنَ الْیَمِّیعنی دریا کا کچھ پانی۔ یم دریا ‘ من تبعیضیہ ہے (کچھ پانی) یا بیانیہ ہے۔ مَا غَشِیَہُمْمیں ما کا ابہام موجوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 78–79

(78۔ 79) چناچہ فرعون مع اپنے لشکر کے ان سے جا ملا، اس وقت دریا کا پانی چاروں طرف سے سمٹ کر ان پر آملا، غرض کہ فرعون نے اپنی قوم کر بھی لا کر ہلاک کیا اور ان کو غرق ہونے سے نہ بچا سکا، یا یہ مطلب ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو دین خداوندی سے بےراہ کیا اور ان کو نیک راہ نہ بتلائی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَمَا هَدٰى : یہاں ایک سوال ہے کہ ”اَضَلَّ“ (گمراہ کیا) اور ”مَا هَدٰى“ (سیدھے راستے پر نہ ڈالا) دونوں کا مطلب ایک ہی ہے تو تکرار کا کیا فائدہ ؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں، ایک تو یہ کہ یہ تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ) [ النحل : 21 ] ”مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“ دوسرا یہ کہ ”فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا“ میں امکان تھا کہ اگر بعض چیزوں میں اس نے اپنی قوم کو غلط راستے پر ڈالا تو بعض میں درست سمت پر بھی چلایا ہو، چلو دنیا ہی کا کچھ فائدہ پہنچایا ہو۔ فرمایا، نہیں ! کسی چیز میں بھی درست راستے پر نہیں ڈالا، بلکہ انھیں اتنا بیوقوف اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 78–79

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتبعھم فرعون بجنودہ فرعون نے ان کا پیچھا کیا جبکہ اس کا لشکر اس کے ساتھ تھا، فاتبعھم شد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، پس بجودہٖ میں بافعل کو مفعول ثانی کی طرف متعدی کرنے کے لیے ہوگی ؛ کیونکہ اتبع ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے یعنی تبعھم لیلحقھم بجنودہ ای مع جنودہ یعنی ان کا پیچھا کیا تاکہ اپنے لشکر کے ساتھ انہیں ملے جیسے کہا جاتا ہے : رکب الامیر بسیفہٖ یعنی مع سیفہٖ اور جس نے باب افعل سے اتبع پڑھا ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اس صورت میں باء کا زائدہ ہونا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ مفعول پر اکتفاء کیا گیا ہو۔ کہا جاتا ہے : تبعہ وأتبعہ، لحقہ اور الحقۃ کا ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَضَلَّ : اور گمراہ کیا ] [فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [قَوْمَهٗ : اپنی قوم کو ] [وَمَا هَدٰى: اور ہدایت نہیں دی ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 79 ۔ میں جو جملہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی، یہ دراصل کفار مکہ کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے سردار اور لیڈر بھی تم کو اسی راستے پر لیے جا رہے ہیں جس پر فرعون اپنی قوم کو لے جا رہا تھا۔ اب تم خود دیکھ لو کہ یہ کوئی صحیح رہنمائی نہیں تھی۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–79

اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمانا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاؤ، سمندر پر پہنچ کر ان کے لیے خشک راستہ بنا دینا، پکڑے جانے کا خوف نہ کرنا، فرعون کا ان کے پیچھے سے سمندر میں داخل ہونا اور لشکروں سمیت ڈوب جانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں فرعون نے زک اٹھائی ذلیل ہوا لیکن ابھی مصر میں اس کا ظاہر اقتدار باقی تھا اور وہ مسئلہ در پیش تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے جانے نہیں دیتا تھا، بنی اسرائیل کو اس کی تکلیفوں سے نجات پانے کے لیے ضروری تھا کہ مصر کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکل جاؤ اور یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–82

نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

51:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کی تاریکی میں قوم کو ساتھ لے کر چل دئیے۔ صبح جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو پوری شان و شوکت اور لاؤ لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکل پڑا۔ بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے بطور اعجاز دریا میں خشک راستے بنادئیے جن سے وہ صحیح سلامت پار ہوگئے ان کے پیچھے فرعون نے بھی لشکر سمیت گھورے ان کے راستوں میں اتار دئیے۔ جب سارا لشکر سمندر میں اتر چکا اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی رواں ہوگیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس سرکش قوم کا خاتمہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–79

ربط آیات : جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ اور معجزات بھی دکھائے تو اس نے اسے جادو سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ کہنے لگا ، ہم تمہارے جادو کا مقابلہ اپنے جادوگروں سے کرائیں گے۔ چناچہ ملک بھر کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیا اور انہیں مقابلے کی ترغیب دی۔ کامیابی کی صورت میں انہیں انعام واکرام دینے اور اپنا مقرب بنانے کا لالچ بھی دیا۔ پھر جب مقررہ تاریخ پر جادوگروں نے اپنا کرتب دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے ذریعے اسے باطل کردیا ۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا نبی ہے اور ہم اس کے معجزات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ہَدٰى۝ 79 ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–79

3 ؎ یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے جتلائے مصائب کر رکھا تھا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَمَا ھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 79) (فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی۔ ) قائد اور رعایا کی ذمہ داری آلِ فرعون اور مصر پر جو مصیبت آئی اور وہ جس برے انجام کو پہنچے اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو صحیح رہنمائی دینے کی بجائے گمراہ کیا۔ وہ ایسا برخودغلط تھا کہ وہ اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھتا تھا۔ وہ حکمران کی حیثیت سے صرف حکم دینا جانتا تھا وہ یہ بات نہیں سمجھتا تھا کہ اس کی حیثیت ایک راعی کی ہے جس طرح ایک چرواہا اپنے گلے کی حفاظت کرتا اور اسے ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح میری بھی ذمہ داری ہے کہ میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–79

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے مظالم کی انتہا اور بنی اسرائیل کا مصر سے ہجرت کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤثر ترین خطاب اور ان کے عظیم معجزہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ایمان لائے۔ جس بناء پر فرعون نے مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کیا جاتا اور ان کی عورتوں کو باقی رہنے دیا جاتا۔ مظالم کا یہ دور اس قدر اذّیت ناک اور سنگین تھا کہ مظلوم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان الفاظ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم پر مظالم کیے گئے اور آپ کے نبی بننے کے بعد بھی ہم پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

79: وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ (فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر لگایا) سیدھی راہ سے ہٹا کر وَمَا ھَدٰی (اور نیک راہ نہ بتائی) حق اور درست راستے کی طرف ان کی راہنمائی نہ کی۔ یہ فرعون کی اس بات کی تردید ہے جو اس نے بطور ادّعاء کہی تھی۔ وما اھدیکم الا سبیل الرشاد ] غافر : 29 [

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

79۔ واضل فرعون قومہ وماھدی، ، فرعون نے اپنی قوم کو بےراہ کردیا تھا اور ان کوسیدھاراستہ نہیں دکھایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ومااھدیکم الاسبیل الرشاد۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–82

74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–81

آیت 79 جب موسیٰ معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آگئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انہوں نے اپنے گھروں کو ماسجد بنا رکھ اتھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا اسمنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

76 بری قیادت کا برا نتیجہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر ڈالا تھا "۔ اور ان کو راہ راست نہ اختیار کرنے دی جس کے نتیجے میں ان کو اس ہولناک اور عبرت انگیز عذاب اور دائمی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو راہ حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بری قیادت کا نتیجہ و انجام بڑا برا اور نہایت ہی ہولناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔ ایسے بدبختوں کو ڈھیل خواہ کتنی ہی ملے لیکن آخرکار انہوں نے اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہنا ہوتا ہے کہ راہ حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کا ہوا ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–89

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 79–80

ف 1 کیونکہ اس نے جب بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کیلئے اپنی قوم کو ساتھ لیا تھا یہ کہا تھا کہ موسیٰ اور ان کے ساتھی ہم سے بچ کر نہیں جاسکتے اس لئے کہ وہ خشک راستے پر جا رہے ہیں اور ان کے سامنے سمندر ہے۔ مگر ہوا یہ کہ بنی اسرائیل تو بچ کر نکل گئے، اور فرعون اپنی پوری قوم سمیت تباہ ہوگیا۔2 مراد پہاڑ کی وہی جانب ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوئے تھے۔ مصر سے شام جاتے ہوئے کوہ طور داہنی جانب پڑتا ہے۔ سورة بقرہ رکوع 6 اور سورة اعراف رکوع میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورۃ دینے کے لئے چلایس دن کی معیاد مقرر کی تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ طور سے تختیوں پر لکھی ہوئی توراۃ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 78–79

(20:78) فاتبعہم۔ اتبع ینبع اتباع (افعال) سے ، وہ پیچھے لگ گیا وہ پیچھے ہو لیا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ غشی (سمع) ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب اس کا مصدر غشیان وغشاوۃ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو ڈھانک لیا ۔ وہ ان پر چھا گیا ۔ وہ ان کے اوپر آپڑا۔ دونوں جگہ ہم ضمیر فرعون و جنودہ کے لئے ہے غشی کا فاعل ما غشیہم ہے وہ چیز جس نے ان کو ڈھانک لیا۔ ترجمہ ہوگا۔ سمندر کی اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا۔ یعنی سمندر کے پانی نے ان کو ایسے ڈھانپا جیسا کہ ڈھانپنے کا حق تھا۔ یعنی مکمل طور پر۔ سمندر کے پانی یا سمندر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–89

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 78–81

یہاں فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت کے نازل ہونے کے ، اور من وسلویٰ کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ، اور نہ ناشکری نہ کرو، ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کو غضب میں گرفتار ہوا، اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ خرابی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–84

تائید غیبی کے سامان : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔ فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-79 اور فرعون نے اپنی قوم اور اپنے لوگوں کو غلط راہ پر چلایا اور صحیح راہ ان کو نہیں بتائی۔ یعنی کہتا تو یہ تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد اور کیا یہ کہ سیدھی راہ جو ترقی اور نجات کی تھی اس سے بھٹکا دیا اور غلط راستے پر ڈال دیا لہٰذا غلط اور گمراہ لیڈر کی راہنمائی سے جو نقصان پہنچتا ہے وہ پہونچا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون اور اس کے کارناموں پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے : 79۔ زیر نظر آیت میں فرعون اور اس کی ناپاک قیادت پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کتنا بدبخت تھا کہ نہ ہی اس نے اپنا کچھ چھوڑا اور نہ اپنے ماننے والوں کا ، اس کو ایک بار نہیں بار بار سمجھایا گیا لیکن اس کی سمجھ میں بات نہ آئی اور جو ناسمجھوں کا انجام ہوتا ہے اس کو وہ پہنچ گیا ، اس میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ ہر قائد ورہنما کے لئے اصل ذمہ داری اپنی قوم کی صحیح راہنمائی ہوتی ہے تاکہ ان کی اصلاح کرکے ان کو کام کے آدمی بنایا جائے لیکن جن قائدین کو صرف اپنی قیادت کے بحال رکھنے کی فکر ہوتی ہے وہ قوم کی اصلاح کبھی نہیں کرسکتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 77–79

Commentary The decisive defeat which he suffered in the contest between the right and wrong and between miracle and magic broke the power of the Pharaoh, and the Bani Isra'ile stood united under the leadership of Sayyidni Musa (علیہ السلام) . Allah now commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to take his men out of Egypt. But this move was full of danger. First there was the risk of pursuit by the Pharaoh, and second the river, which they had no means of crossing, barred their flight. Allah dispelled both these fears from Sayyidna Musa (علیہ السلام) mind and told him to strike his staff on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. This was a subtle warning to the disbelievers of Makkah, as if to say: Your chiefs and leaders are leading you on the same way on which Pharaoh led his people. Now you can see yourselves that he did not guide them aright. In conclusion, it will be worthwhile to consider the version as given in the Bible, for this will make it plain that it is absolutely false and ridiculous to say that the Quran has copied these stories from the Israelite traditions. We learn from Exodus the following: (1) According to 4: 2-5, the miracle of the staff was given to Prophet Moses, and in 4:17 he was…

Read the full tafseer →