Explained with ayahs 77–79
بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب۔ چونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کردے اس لئے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کریہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے چناچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیل نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکرجمع ہوجائیں اور دانت پیس پیس…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 54
سورة شعراء میں بیان ہوا ہے کہ مہاجرین کے گزرتے ہی فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر کے اس درمیانی راستے میں اتر آیا (آیات 64۔ 66) یہاں بیان کیا گیا ہے کہ سمندر نے اس کو اور اس کے لشکر کو دبوچ لیا۔ سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے کہ بنی اسرائیل سمندر کے دوسرے کنارے پر سے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ (آیت 50) اور سورة یونس میں بتایا گیا ہے کہ ڈوبتے وقت فرعون پکار اٹھا اٰمَنْتُ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہ بَنُوآ اِسْرَ آئِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، " میں مان گیا کہ کوئی خدا نہیں ہے اس خدا کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اور میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
خلاصہ تفسیر
اور (جب فرعون اس پر بھی ایمان نہ لایا اور ایک عرصہ تک مختلف معاملات و واقعات ہوتے رہے اس وقت) ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ (اور دور چلے جاؤ تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو) پھر (راہ میں جو دریا ملے گا تو) ان کے لئے دریا میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنادینا (یعنی عصا مارنا کہ اس سے خشک راستہ بن جاوے گا) نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا (کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں) اور نہ اور کسی قسم کا (مثلاً غرق وغیرہ کا) خوف ہوگا (بلکہ امن و اطمینان سے پار ہوجاؤ گے۔ چناچہ موسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →فرعون اور اس کی فوجوں کی غرقابی
فغشیھم من الیم ماغشیھم عربی میں یہ اسولب بیان کسی چیز کی ایسی ہولناکی یا عظمت کے اظہار کے لئے آتا ہے جس کو الفاظ تعبیر کرنے سے قاصر ہوں۔
تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے معجزات کے معجزات سے تنگ آ کر اگرچہ فرعون نے ان کو جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن ان کی روانگی کے بعد اس کی رائے بدل گئی اور اس نے فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور بالآخر اپنی فوج سمیت سمندر کی بےپناہ موجوں کی لپیٹ میں آگیا اس کی تفصیل تورات میں یوں آتی ہے۔
”جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چلی دیے تو فرعون اور ان کے خادموں کا دل ان لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہم نے…
Read the full tafseer →78۔ 1 یعنی اس خشک راستے پر جب فرعون اور اس کا لشکر چلنے لگا، تو اللہ نے سمندر کو حکم دیا کہ حسب سابق رواں دواں ہوجا، چناچہ وہ خشک راستہ چشم زدن پانی کی موجوں میں تبدیل ہوگیا اور فرعون سمیت سارا لشکر غرق ہوگیا۔ غشیھم، کے معنی ہیں علاھم وأصابھم سمندر کا پانی ان پر غالب آگیا۔ ماغشیھم یہ تکرار تعثیم وتہویل یعنی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے یا اس کے معنی ہیں جو کہ مشہور و معروف ہے۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
30: عربی محاورے کے مطابق ”وہ چیز“ کہہ کر اس کے ناقابل بیان حد تک خوفناک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97)
یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
6 جب فرعونیوں نے میدان مقابلہ میں شکست کھائی، ساحرین مشرف بایمان ہوگئے۔ بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے سالہا سال تک اللہ تعالیٰ کی آیات باہرہ دکھلا کر ہر طرح حجت تمام کردی۔ اس پر بھی فرعون حق کو قبول کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ تب حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ سب بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات کے وقت مصر سے ہجرت کر جاؤ تاکہ اس طرح بنی اسرائیل کی مظلومیت اور غلامی کا خاتمہ ہو۔ راستہ میں سمندر (بحر قلزم) حائل ہوگا لیکن تم جیسے اولوالعزم پیغمبر کے راستہ میں سمندر کی موجیں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ ان ہی کے اندر سے اپنے لیے خشک راستہ نکال لو۔ جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
آیت 78 فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَہُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَہُمْ ”
اس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر موجود ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے سمندر پر عصا مارا۔ اس سے سمندر پھٹ گیا ‘ دونوں طرف کا پانی بڑی بڑی چٹانوں کی طرح ] کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ الشعراء [ کھڑا ہوگیا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس راستے سے اپنی قوم کو لے کر نکل گئے۔ لیکن جب فرعون اپنے لشکروں سمیت اس میں داخل ہوا تو دونوں طرف کا پانی مل گیا اور اس طرح سے وہ سب کے سب غرق ہوگئے۔
Read the full tafseer →55 اس مقام پر جادوگروں کے مقابلہ کے بعد پھر بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ دریں عرصہ آپ کی تبلیغ سے بہت سے اسرائیلی اور غیر اسرائیلی آپ پر ایمان لاچکے تھے۔ لیکن ان ایمان لانے والوں کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ بالخصوص بنی اسرائیل کے لئے تو وہی سزاشروع ہوچکی تھی جو موجودہ دور کے فرعون کے باپ نے اپنے دور میں بنی اسرائیل کو دی تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کے ہاں جو لڑکے پیدا ہوں فورا ً مار ڈالے جائیں اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔ اگرچہ باپ اور بیٹے دونوں کے مقاصد میں فرق تھا۔ باپ یہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل میں سے میری سلطنت کو زیر و زبر کرنے والا بچہ پیدا ہوتے ہی مار ڈالا جائے اور بیٹے کا مقصد یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →86۔ (اور ساحل بحر پر اس وقت پہنچا، جب بنی اسرائیل حسب وعدۂ الہی پار ہوچکے تھے، اور راستے ہنوز اسی حالت میں تھے) تفصیلات توریت میں درج ہیں۔ (خروج۔ 14: 6، 7، 8، 23)
87۔ یعنی دریا کا رکا ہوا اور بیٹھا ہوا پانی ہر طرف سے سمٹ کر آگیا اور سارے فرعونی غرق ہو کر رہ گئے، تفصیل توریت میں درج ہے۔ (خروج۔ 14: 28) نیز ملاحظہ ہوں سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–85
آیت نمبر 77 تا 85
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…
Read the full tafseer →فاتبعہم فرعون بجنودہ فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ پھر فرعون اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے چلا تو دریا ان پر جیسے ملنے کو تھا آ ملا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(78۔ 79) چناچہ فرعون مع اپنے لشکر کے ان سے جا ملا، اس وقت دریا کا پانی چاروں طرف سے سمٹ کر ان پر آملا، غرض کہ فرعون نے اپنی قوم کر بھی لا کر ہلاک کیا اور ان کو غرق ہونے سے نہ بچا سکا، یا یہ مطلب ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو دین خداوندی سے بےراہ کیا اور ان کو نیک راہ نہ بتلائی۔
Read the full tafseer →فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ : یعنی ان کو سمندر سے ایسی عظیم چیز نے ڈھانپ لیا جو انسانی بیان میں نہیں آسکتی اور اگر اللہ تعالیٰ اسے اس طرح بیان فرمائے جس طرح اسے بیان کرنے کا حق ہے تو انسان کی کوتاہ عقل میں وہ سما نہیں سکتی، اس لیے اس کی تفصیل مت پوچھو۔ مراد ان سب کا سمندر میں غرق ہونا، پانی کی راہ سے آگ کا ایندھن بننا اور مرتے وقت اور بعد میں فرشتوں کی مار بےحساب و بیشمار ہے جو بیان سے باہر ہے۔ دیکھیے سورة مومن (45، 46) اس کی مزید مثالیں یہ ہیں : (ۭاِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) [ النجم : 16 ] اور : (وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى 53ۙفَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى) [ النجم : 53، 54…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتبعھم فرعون بجنودہ فرعون نے ان کا پیچھا کیا جبکہ اس کا لشکر اس کے ساتھ تھا، فاتبعھم شد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، پس بجودہٖ میں بافعل کو مفعول ثانی کی طرف متعدی کرنے کے لیے ہوگی ؛ کیونکہ اتبع ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے یعنی تبعھم لیلحقھم بجنودہ ای مع جنودہ یعنی ان کا پیچھا کیا تاکہ اپنے لشکر کے ساتھ انہیں ملے جیسے کہا جاتا ہے : رکب الامیر بسیفہٖ یعنی مع سیفہٖ اور جس نے باب افعل سے اتبع پڑھا ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اس صورت میں باء کا زائدہ ہونا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ مفعول پر اکتفاء کیا گیا ہو۔ کہا جاتا ہے : تبعہ وأتبعہ، لحقہ اور الحقۃ کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[فَاَتْبَعَهُمْ : تو پیچھے لگا ان کے ] [فِرْعَوْنُ : فرعون ] [بِجُنُوْدِهٖ : اپنے لشکروں کے ساتھ ] [فَغَشِيَهُمْ : پھر ڈھانپ لیا ان کو ] [مِّنَ الْيَمِّ : پانی سے ] [مَا : اس چیز نے جس نے ] [غَشِيَهُمْ : ڈھانپا ان کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمانا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاؤ، سمندر پر پہنچ کر ان کے لیے خشک راستہ بنا دینا، پکڑے جانے کا خوف نہ کرنا، فرعون کا ان کے پیچھے سے سمندر میں داخل ہونا اور لشکروں سمیت ڈوب جانا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں فرعون نے زک اٹھائی ذلیل ہوا لیکن ابھی مصر میں اس کا ظاہر اقتدار باقی تھا اور وہ مسئلہ در پیش تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے جانے نہیں دیتا تھا، بنی اسرائیل کو اس کی تکلیفوں سے نجات پانے کے لیے ضروری تھا کہ مصر کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکل جاؤ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی
قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
51:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کی تاریکی میں قوم کو ساتھ لے کر چل دئیے۔ صبح جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو پوری شان و شوکت اور لاؤ لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکل پڑا۔ بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے بطور اعجاز دریا میں خشک راستے بنادئیے جن سے وہ صحیح سلامت پار ہوگئے ان کے پیچھے فرعون نے بھی لشکر سمیت گھورے ان کے راستوں میں اتار دئیے۔ جب سارا لشکر سمندر میں اتر چکا اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی رواں ہوگیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس سرکش قوم کا خاتمہ کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ اور معجزات بھی دکھائے تو اس نے اسے جادو سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ کہنے لگا ، ہم تمہارے جادو کا مقابلہ اپنے جادوگروں سے کرائیں گے۔ چناچہ ملک بھر کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیا اور انہیں مقابلے کی ترغیب دی۔ کامیابی کی صورت میں انہیں انعام واکرام دینے اور اپنا مقرب بنانے کا لالچ بھی دیا۔ پھر جب مقررہ تاریخ پر جادوگروں نے اپنا کرتب دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے ذریعے اسے باطل کردیا ۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا نبی ہے اور ہم اس کے معجزات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ…
Read the full tafseer →فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِيَہُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَہُمْ 78ۭ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
3 ؎ یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے جتلائے مصائب کر رکھا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
وَلَقَدْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰی مُـوْسٰٓی 5 لا اَنْ اَسْرِبِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا لا لاَّ تَخٰفُ دَرَکًا وَّلاَ تَخْشٰی۔ فَاَ تْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَاغَشِیَہُمْ ۔ (طٰـہٰ : 77، 78)
(ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ اور ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا لو، تمہیں کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ تمہیں اندیشہ ہو (ڈوب جانے کا) ۔ پس فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ )
فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا …صاحبِ کشاف کے نزدیک ضرب طریق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے مظالم کی انتہا اور بنی اسرائیل کا مصر سے ہجرت کرنا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤثر ترین خطاب اور ان کے عظیم معجزہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ایمان لائے۔ جس بناء پر فرعون نے مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کیا جاتا اور ان کی عورتوں کو باقی رہنے دیا جاتا۔ مظالم کا یہ دور اس قدر اذّیت ناک اور سنگین تھا کہ مظلوم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان الفاظ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم پر مظالم کیے گئے اور آپ کے نبی بننے کے بعد بھی ہم پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →غرق فرعون :
78: فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ (فرعون نے انکا پیچھا اپنے لشکروں کے ساتھ کیا۔ )
نحو : یہ حال ہے یعنی وہ ان کے پیچھے نکلا اس حال میں کہ اس کا لشکر ساتھ تھا۔
فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ (پس سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا) ان کو سمندر سے وہ ملا مَاغَشِیَھُمْ (جو ان کو ملنا تھا) یہ کلمات ان جوامع الکلم میں سے ہیں۔ جو کہ الفاظ قلیل ہونے کے باوجود کثیر معانی پر مشتمل ہیں۔ ای غشیہم ما لا یعلم کنھہ الا اللّٰہ عزوجل ان کو سمندر میں اس چیز نے ڈھانپ لیا جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Read the full tafseer →78۔ فاتبعھم، ، فرعون اپنالشکر لے کر ان کے پیچھے چل پڑا۔ فرعون بجنودہ، بعض نے کہا کہ فرعون نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے جائیں۔ بعض نے کہا کہ باء زائدہ ہے اور فرعون ان میں شامل تھا۔ فغشیھم، ان کو پہنچا۔ من الیم ما غشیھم، اور وہ غرق ہوگیا۔ یعنی فرعون کو ایسی موجوں نے ڈھانپ لیاجواوپر سے بھی آئیں جن کی مقدار اور حقیقت سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ ایک تو سمندر کا اندھیرا اور دوسرا موجوں کے جوش مارنے کا اندھیرا۔ اور بعض نے کہا کہ ان کو ای سے اندھیرے نے سمندر میں لپیٹا جیسا کہ موسیٰ کی قوم کو نہیں کیا۔ فرعون کی قوم غرق ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بچ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →75 فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کے بعد حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل گئے اور ان کے تعاقب میں ان کے بعد فرعون بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت نکل پڑا۔ یہاں تک کہ یہ بھی سمندر کے اسی مقام پر پہنچ گیا جہاں سے حضرت موسیٰ معجزانہ طور پر بنی اسرائیل سمیت پار ہو گیے۔ تو سمندر کے پھٹنے سے ان کے لیے بننے والے خشک راستوں میں یہ ملعون گھس گیا تو سمندر کی غضبناک اور خوفناک موجیں ان پر ٹوٹ پڑیں اور ان پر چھا گیا سمندر سے جو کچھ کہ چھانا تھا۔ اور ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا سمندر کی طوفانی موجوں نے۔ اور اسے غرق کردیا مع اس کے لاؤ لشکر کے۔ اور وہ پہنچ کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔
(اہل اللہ سے نسبت کی برکت)
گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 7 یعنی جیسا کہ گھیرنے کا حق تھا، ویسا گھیر لیا۔ ان میں سے کوئی بھی نہ زندہ نہ بچا۔ (واقعہ کی تفصیل کیلئے سورة شعراء رکوع 4، یونس آی 93:9)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(20:78) فاتبعہم۔ اتبع ینبع اتباع (افعال) سے ، وہ پیچھے لگ گیا وہ پیچھے ہو لیا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم فغشیہم من الیم ما غشیہم۔ غشی (سمع) ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب اس کا مصدر غشیان وغشاوۃ ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو ڈھانک لیا ۔ وہ ان پر چھا گیا ۔ وہ ان کے اوپر آپڑا۔
دونوں جگہ ہم ضمیر فرعون و جنودہ کے لئے ہے غشی کا فاعل ما غشیہم ہے وہ چیز جس نے ان کو ڈھانک لیا۔ ترجمہ ہوگا۔ سمندر کی اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا۔ یعنی سمندر کے پانی نے ان کو ایسے ڈھانپا جیسا کہ ڈھانپنے کا حق تھا۔ یعنی مکمل طور پر۔ سمندر کے پانی یا سمندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–89
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89
بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔
تشریح : آیت نمبر 77 تا 89
فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
یہاں فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت کے نازل ہونے کے ، اور من وسلویٰ کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ، اور نہ ناشکری نہ کرو، ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کو غضب میں گرفتار ہوا، اس کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
[29] یعنی پانی ان کے سروں سے اونچا ہوگیا اور وہ غرق ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–84
تائید غیبی کے سامان :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔
فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…
Read the full tafseer →-78 چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رات کو بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر نکل گئے فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر ان کا تعاقب اور پیچھا کیا پھر فرعونیوں کو دریا نے ڈھانک لیا جیسا کہ ڈھانک لیا۔
یعنی جب فرعون کو معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چلے گئے تو وہ بھی اپنا لشکر لے کر پیچھے چلا اور دریا میں راستہ دیکھ کر سب کے سب دریا میں گھس پڑے تو دریا کا پانی مل گیا بنی اسرائیل پار کھڑے ان کا ڈوبنا اور غرق ہونا دیکھتے رہے اور فرعون و آل فرعون ہلاک کردیئے گئے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ بنی اسرائیل موافق وعدہ الہیہ کے دریا سے پار ہوگئے اور ہنوز وہ راستے اسی طرح اپنی حالت پر تھے تو فرعونیوں نے کچھ آگا پیچھا سوچا نہیں ان کے راستہ پر ہولئے۔
4۔ اور سب غرق ہو کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا :
78۔ فرعون نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے نکل جانے کی خبر سنی تو وہ بپھر گیا اور اپنے اعوان وانصار اور لاؤ لشکر کو حکم دیا کہ ان کا پیچھا کریں اور ان سب کو تہ تیغ کردیں اور بذات خود اس لشکر کی ساتھ نکلا تاکہ موسیٰ اور اس نے ساتھ نکلنے والے بنی اسرائیل کو اس نافرمانی کی سزا دے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو الہی ہدایت کے مطابق جہاں سے نکلنے کا مقام بتایا تھا وہیں لے جا کر پار کیا لیکن ابھی پار ہونے ہی والے تھے کہ فرعون بھی مع اپنے لاؤ لشکر کے وہاں پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ بنی اسرائیل پار نکل رہے ہیں تو ان سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
Commentary
The decisive defeat which he suffered in the contest between the right and wrong and between miracle and magic broke the power of the Pharaoh, and the Bani Isra'ile stood united under the leadership of Sayyidni Musa (علیہ السلام) . Allah now commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to take his men out of Egypt. But this move was full of danger. First there was the risk of pursuit by the Pharaoh, and second the river, which they had no means of crossing, barred their flight. Allah dispelled both these fears from Sayyidna Musa (علیہ السلام) mind and told him to strike his staff on the…
Read the full tafseer →54. According to(Surah Ash-Shuara, Ayats 64-66), Pharaoh with his hosts followed the caravan on the dry path and they all were drowned. In Surah Al-Baqarah, Ayat 50, it has been stated that the Israelites had reached the other shore and saw them drowning in the sea. From (Surah Younus, Ayats 90-92), we learn that Pharaoh professed to believe in God while he was drowning but this was rejected by God and he was told that his dead body would he preserved for the coming generations to serve as a lesson for them.
Read the full tafseer →