Taa-Haa 20:77

Taa-Haa · from ayah 77

20:77

وَلَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی ۙ۬— اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا ۙ— لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰی ۟وَلَقَدۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِىۡ فَاضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيۡقًا فِى الۡبَحۡرِ يَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخۡشٰى

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had inspired to Moses, "Travel by night with My servants and strike for them a dry path through the sea; you will not fear being overtaken [by Pharaoh] nor be afraid [of drowning]."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:77

ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنا لے، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ : تم میرے بندوں کو لے کر راتوں رات روانہ ہوجاؤ پھر ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ اس طرح نکال لینا کہ نہ تمہیں (دشمن کے) آپکڑنے کا اندیشہ رہے، اور نہ کوئی اور خوف ہو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے موسٰی ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، سو ان کے لئے دریا میں (اپنا عصا مار کر) خشک راستہ بنا لو، نہ (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف کرو اور نہ (غرق ہونے کا) اندیشہ رکھو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا، پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا، نہ تو پکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ ڈرے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ۔ پھر ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بناؤ۔ تمہیں نہ تو تعاقب کا خوف ہو اور نہ (ڈوب جانے کا) ڈر ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو شب میں لے کر نکل جائو۔ ان کے لئے دریا میں ایک خشک راہ کھول لو، نہ تمہیں تعاقب سے کوئی خطرہ ہوگا نہ ڈوبنے کا کوئی اندیشہ ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (جب فرعون اس سب کے باوجود راہ حق پر نہ آیا تو) ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم راتوں رات چل نکلو میرے بندوں کو لے کر، پھر (آگے چل کر اپنے عصا کے ذریعے) سمندر میں ان کے لئے خشک راستہ بنادینا، نہ پکڑے جانے کا کوئی اندیشہ رکھنا اور نہ (غرق وغیرہ کا) کوئی ڈر،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جاؤ۔ پھر ان کے لئے سمندر میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنالینا تم کو نہ پالئے جانے کا اندیشہ ہوگا اور نہ تم کو (اور کوئی) خوف ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ غرق ہونے کا ڈر۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Most certainly We revealed to Moses: "Proceed with My servants in the night and strike for them a dry path in the sea. Have no fear of being overtaken, nor be afraid of treading through the sea."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We revealed to Musa saying, :Set out with my servants at night, then make for them a dry path across the sea (with the strike of your staff), neither fearing to be caught up, nor having any fear (of drowning).

— Muhammad Taqi Usmani

And We revealed to Musa saying, :Set out with my servants at night, then make for them a dry path across the sea (with the strike of your staff), neither fearing to be caught up, nor having any fear (of drowning).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We revealed to Musa: "Travel by night with My servants and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We inspired Moses, saying: Take away My slaves by night and strike for them a dry path in the sea, fearing not to be overtaken, neither being afraid (of the sea).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had inspired to Moses, "Travel by night with My servants and strike for them a dry path through the sea; you will not fear being overtaken [by Pharaoh] nor be afraid [of drowning]."

— Saheeh International

We sent revelations to Moses telling him, "Travel with My servants during the night and strike a dry road across the sea (for them). Have no fear of being overtaken (by the Pharaoh) nor of anything else".

— Muhammad Sarwar

And certainly We revealed to Musa, saying: Travel by night with My servants, then make for them a dry path in the sea, not fearing to be overtaken, nor being afraid.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We revealed unto Musa, saying: depart in night with my bondmen, and make for them in the sea a parth dry: thou Shalt fear neither overtaking, nor shalt thou be afraid.

— Abdul Majid Daryabadi

We sent an inspiration to Moses: "Travel by night with My servants, and strike a dry path for them through the sea, without fear of being overtaken (by Pharaoh) and without (any other) fear."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–79

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب۔ چونکہ حضرت موسیٰ ؑ کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کردے اس لئے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بیخبر ی میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کریہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے چناچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیل نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکرجمع ہوجائیں اور دانت پیس پیس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سورة طٰهٰ 52 بیچ میں ان حالات کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو اس کے بعد مصر کے طویل زمانہ قیام میں پیش آئے۔ ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 15۔ 16، سورة یونس رکوع 9، سورة مومن رکوع 3 تا 5، اور سورة زخرف رکوع 5۔ سورة طٰهٰ 53 اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کار ایک رات مقرر فرما دی جس میں تمام اسرائیلی اور غیر اسرائیلی مسلمانوں کو (جن کے لیے " میرے بندوں ‘’ کا جامع لفظ استعمال کیا گیا ہے) مصر کے ہر حصے سے ہجرت کے لیے نکل پڑنا تھا۔ یہ سب لوگ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو کر ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے۔ اس زمانے میں نہر سویز موجود نہ تھی۔ بحر احمر سے بحر روم (میڈیٹرینین)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–79

خلاصہ تفسیر اور (جب فرعون اس پر بھی ایمان نہ لایا اور ایک عرصہ تک مختلف معاملات و واقعات ہوتے رہے اس وقت) ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے (ان) بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ (اور دور چلے جاؤ تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو) پھر (راہ میں جو دریا ملے گا تو) ان کے لئے دریا میں (عصا مار کر) خشک راستہ بنادینا (یعنی عصا مارنا کہ اس سے خشک راستہ بن جاوے گا) نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا (کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں) اور نہ اور کسی قسم کا (مثلاً غرق وغیرہ کا) خوف ہوگا (بلکہ امن و اطمینان سے پار ہوجاؤ گے۔ چناچہ موسیٰ ؑ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فاضرب لھم طریقاً ضرب طریق کے معنی عربی محاورہ کے لحاظ سے تو جیسا کہ صاحب کشاف نے تصریح کی ہے، راستہ بنا لینے کے ہیں لیکن یہاں اس لفظ کے استعمال کے استعمال میں ایک لطیف کنایہ حضرت موسیٰ کے عصا کی طرف بھی ہے اس لئے کہ اس راستہ کے بنانے میں حضرت موسیٰ کے عصا کو بھی دخل تھا اور عصا کی مناسب لفظ ضرب کے ساتھ واضح ہے۔ حذف کی ایک مثال لاتخاف درکا ولا تغشی میں تغشی کا مفعول تقابل کے اصول پر میرے نزدیک مخذوف ہے۔ اس مخدوف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی۔ لاتخاف درکا ولاتخشی غرقاً یعنی نہ تم کو فرعون کی طرف سے پا لئے جانے کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ سمندر میں ڈوبنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ اس قسم کے حذف کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77۔ 1 جب فرعون ایمان بھی نہیں لایا اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو یہ حکم دیا۔ 77۔ 2 اس کی تفصیل سورة الشعرا میں آئے گی کہ موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے سمندر میں لاٹھی ماری، جس سے سمندر میں گزرنے کے لئے خشک راستہ بن گیا۔ 77۔ 3 خطرہ فرعون اور اس کے لشکر کا اور ڈر پانی میں ڈوبنے کا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

28: جادوگروں سے مقابلے میں فتح پانے کے بعد بھی حضرت موسیٰ ؑ کافی عرصے مصر میں رہے۔ اور اس دوران فرعون کو ان کی تبلیغ بھی جاری رہی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعدد نشانیاں بھی دکھائی جاتی رہیں، جن کا ذکر سورة اعراف میں گذرا ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ٰیہ حکم دیا کہ تمام بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں 29: یعنی تمہارے راستے میں سمندر آئے گا، تم اپنا عصا اس پر مارو گے تو اس میں تمہاری قوم کے گذرنے کے لیے خشک راستہ بن جائے گا۔ اس کی تفصیل سورة یونس : 89 تا 92 میں بھی گذری ہے، اور سورة شعراء : 60 تا 66 میں بھی آئے گی۔ چونکہ یہ راستہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لیے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 77–79

ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97) یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 77–78

6 جب فرعونیوں نے میدان مقابلہ میں شکست کھائی، ساحرین مشرف بایمان ہوگئے۔ بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہونے لگا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے سالہا سال تک اللہ تعالیٰ کی آیات باہرہ دکھلا کر ہر طرح حجت تمام کردی۔ اس پر بھی فرعون حق کو قبول کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ تب حق تعالیٰ نے حکم دیا کہ سب بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات کے وقت مصر سے ہجرت کر جاؤ تاکہ اس طرح بنی اسرائیل کی مظلومیت اور غلامی کا خاتمہ ہو۔ راستہ میں سمندر (بحر قلزم) حائل ہوگا لیکن تم جیسے اولوالعزم پیغمبر کے راستہ میں سمندر کی موجیں حائل نہیں ہونی چاہئیں۔ ان ہی کے اندر سے اپنے لیے خشک راستہ نکال لو۔ جس سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 77 وَلَقَدْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓیلا اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ ” ان کے مصر سے نکلنے کے لیے ایک رات کا مخصوص وقت طے کردیا گیا تھا کہ اس رات جب قبطی لوگ اپنے اپنے گھروں میں نیند کے مزے لے رہے ہوں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام اسرائیلیوں کو لے کر چپکے سے صحرائے سینا کی طرف نکل کھڑے ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 76–77

54 یعنی فاسد عقائد سے، اخلاق رذیلہ سے، گندے خیالات سے اور برے اعمال سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ ایمان لانے کے بعد اچھے عمل کرتے رہے، انھیں نعمتوں والی جنت بلند درجات عطا کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84۔ (مصر سے باہر شام وملسطین کیلئے) اب یہ اس وقت کا ذکر ہے جب گزشتہ واقعات، ساحروں کے مقابلہ وغیرہ کو ایک عرصہ ہوچکا ہے، اور فرعون اور حکومت فرعون پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کی ساری تبلیغی کوششیں بےاثر رہ چکی ہیں۔ (آیت) ” بعبادی “۔ میرے بندوں، سے سیاق عبارت میں مراد ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل ہیں۔ 85۔ یعنی پانی پر عصا مارنا، بہ طور اعجاز اس میں خشک راستہ تمہاری قوم کے عبور کے قابل بن جائے گا۔ (آیت) ” البحر “۔ سمندر سے مراد بحراحمر کا شمالی خلیج ہے۔ مفصل حواشی اس پر سورة بقرہ پ 1 رکوع 6 کے تحت میں گزرچکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 77–85

آیت نمبر 77 تا 85 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات کے جاؤ اَسْرِ ہمزہ قطعی کے ساتھ ہے اَسْریٰ سے ماخوذ ہے، یا ہمزہ وصل اور نون کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سَرَیٰ سے ماخوذ ہے یہ دو لغت ہیں، مطلب یہ کہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت مصر سے لیکر نکل جا، پھر ان کے لئے عصا مار کر دریا میں خشک راستہ بنادینا یَبْسًا بمعنی یابسًا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امتشال امر کیا اور اللہ تعالیٰ نے زمین کو خشک کردیا لہٰذا سب لوگ وہاں سے نکل گئے، نہ تو تم کو تعاقب کا اندیشہ ہوگا کہ فرعون تم کو پکڑ لے اور نہ تم کو غرق ہونے کا خوف ہوگا چناچہ فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا لا تخف درکا ولا تخشی۔ اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو (مصر سے) راتوں رات (باہر) لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنا دینا نہ تو تم کو کسی کے تعاقب کا اندیشہ ہوگا اور نہ (کسی اور قسم کا) خوف ہوگا۔ یعنی جب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کا ستیاناس کردینا چاہا اور بنی اسرائیل کو ان کے ظلم سے نجات دے دینے کا اس نے ارادہ کیا تو حضرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ ان لوگوں کو لے کر راتوں رات مصر سے باہر نکل جاؤ۔ فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا یعنی ان کے لئے راستہ مقرر کر دو اس ترجمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(77) (فرعون جب کسی کسی صورت میں ایمان نہیں لایا) تو ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے باہر لے جاؤ، پھر عصا مار کر ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دیا کہ اس میں نہ فرعون کے تعاقب کا خدشہ ہوگا اور نہ غرق ہونے کا خوف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓى ڏ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى۔۔ : فرعون کے جادوگروں کے مقابلے میں ناکام ہونے اور ان کے ایمان قبول کرلینے کے بعد ایک لمبی مدت گزری، جس میں بنی اسرائیل پر ظلم کے کئی پہاڑ ٹوٹتے رہے، ساتھ ہی فرعون اور اس کی قوم پر قحط، طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں اور خون کی صورت میں معجزے کے طور پر کئی عذاب آئے، جن میں سے ہر عذاب آنے پر وہ لوگ اپنے ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کرتے مگر عذاب ٹل جانے پر صاف مکر جاتے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو راتوں رات بنی اسرائیل کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 77-79) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی اس پر تفصیلی گفتگو گزر چکی ہے۔ فاضرب لھم طریقا فی البحر یبسا ایسا خشک راستہ جس میں نہ کیچڑ ہو اور نہ پانی ہو۔ سورة بقرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سمندر پر عصا مارنا اور فرعون کا اغراق وغیرہ گزر چکا ہے، پس اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لا تخف در کافر عون اور اس کے لشکر کے لاحق ہونے ا خوف مت کیجئے۔ ولا تخشی۔ ، ابن جریج نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : یہ فرعون آگیا ہے اس نے ہمیں ابھی پکڑ لیا اور یہ سمندر ہم پر چھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : لا تخف درکا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآ : اور بیشک ہم نے وحی کی تھی ] [اِلٰى مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) کی طرف ] [ان : کہ ] [اَسْرِ : آپ (علیہ السلام) لے کر نکلیں ] [بِعِبَادِيْ : میرے بندوں کو ] [فَاضْرِبْ : پھر آپ (علیہ السلام) بنائیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [طَرِيْقًا : ایک راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [يَبَسًا : سوکھا ہوتے ہوئے ] [لَّا تَخٰفُ : آپ (علیہ السلام) کو خوف نہیں ہوگا ] [دَرَكًا : پکڑے جانے کا ] [وَّلَا تَخْشٰى: اور نہ آپ (علیہ السلام) کو ڈر ہوگا (ڈوبنے کا)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–79

اللہ تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمانا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاؤ، سمندر پر پہنچ کر ان کے لیے خشک راستہ بنا دینا، پکڑے جانے کا خوف نہ کرنا، فرعون کا ان کے پیچھے سے سمندر میں داخل ہونا اور لشکروں سمیت ڈوب جانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں فرعون نے زک اٹھائی ذلیل ہوا لیکن ابھی مصر میں اس کا ظاہر اقتدار باقی تھا اور وہ مسئلہ در پیش تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے جانے نہیں دیتا تھا، بنی اسرائیل کو اس کی تکلیفوں سے نجات پانے کے لیے ضروری تھا کہ مصر کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکل جاؤ اور یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–82

نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے معجزات اور ان کی تبلیغ و ارشاد سے فرعون اور اس کی قوم پر اپنی حجت تمام کردی اور وہ ایمان نہ لائے تو اب ان کی تباہی اور بنی اسرائیل کی نجات کا وقت آپہنچا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات شہر سے نکل جائیں۔ راستہ میں بحر قلزم آئے گا۔ لیکن وہ تمہارے سفر میں حائل نہیں ہوگا۔ آپ اپنی لاٹھی اس پر ماریں فورًا اس کا پانی سمٹ کر اس میں بارہ خشک اور چلنے کے قابل راستے بن جائیں گے۔ بےخوف و خطر جائیے۔ نہ فرعون کے پیچھے سے جا پہنچنے سے ڈرئیے نہ سمندر میں غرق ہونے کا خطرہ دل میں لائیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 77–79

ربط آیات : جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا۔ اور معجزات بھی دکھائے تو اس نے اسے جادو سے تعبیر کرتے ہوئے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ کہنے لگا ، ہم تمہارے جادو کا مقابلہ اپنے جادوگروں سے کرائیں گے۔ چناچہ ملک بھر کے بڑے بڑے جادوگروں کو جمع کیا اور انہیں مقابلے کی ترغیب دی۔ کامیابی کی صورت میں انہیں انعام واکرام دینے اور اپنا مقرب بنانے کا لالچ بھی دیا۔ پھر جب مقررہ تاریخ پر جادوگروں نے اپنا کرتب دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے ذریعے اسے باطل کردیا ۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا نبی ہے اور ہم اس کے معجزات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓى۝ 0ۥۙ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا۝ 0ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى۝ 77 وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–79

3 ؎ یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے جتلائے مصائب کر رکھا تھا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 77–78

وَلَقَدْ اَوْحَیْنَـآ اِلٰی مُـوْسٰٓی 5 لا اَنْ اَسْرِبِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا لا لاَّ تَخٰفُ دَرَکًا وَّلاَ تَخْشٰی۔ فَاَ تْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَاغَشِیَہُمْ ۔ (طٰـہٰ : 77، 78) (ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ اور ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بنا لو، تمہیں کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ تمہیں اندیشہ ہو (ڈوب جانے کا) ۔ پس فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ ) فَاضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقًا …صاحبِ کشاف کے نزدیک ضرب طریق کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–79

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے مظالم کی انتہا اور بنی اسرائیل کا مصر سے ہجرت کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤثر ترین خطاب اور ان کے عظیم معجزہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ایمان لائے۔ جس بناء پر فرعون نے مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کیا جاتا اور ان کی عورتوں کو باقی رہنے دیا جاتا۔ مظالم کا یہ دور اس قدر اذّیت ناک اور سنگین تھا کہ مظلوم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان الفاظ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم پر مظالم کیے گئے اور آپ کے نبی بننے کے بعد بھی ہم پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) کو رات کو نکلنے کا حکم : 77: وَلَقَدْ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں کو راتوں رات لے جائو) جب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ان کو مصر سے راتوں رات نکالو اور ان کو سمندر کے راستہ پر لے جائو۔ فَاضْرِبْ لَھُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ (پھر ان کے لئے سمندر میں راستہ بنادیا) مقرر کر انے کے لئے۔ یہ عرب کے قول ضرب لہ فی مالہ سھمًاسے لیا گیا ہے کہ اس نے اپنے مال میں اس کا حصہ تجویزو مقرر کردیا۔ یَبَسًا خشک ! یہ مصدر ہے جو بطور صفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

77۔ ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی، ، ان کو مصر سے راتوں رات باہر لے جاؤ۔ فاضرب لھم طریقا فی البحر، ، بنالو ان کے راستہ سمندر میں لاٹھی کے مارنے کے ساتھ۔ یسا، وہ ایسا خشک ہوجائے گا کہ نہ اس میں مٹی ہوگی اور نہ ہی پانی اور نہ ہی کیچڑ ۔ اللہ تعالیٰ سمندر کے پانی کو جام کردیں گے۔ لاتخاف درکا، حمزہ نے اسکو ، لاتخف، ، پڑھا ہے ۔ مجزم نہی کی وجہ سے اور باقی قراء نے رفع اور الف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ولاتخشی، بعض نے کہا کہ آپ اس وجہ سے خوف نہ کھائیں کہ آپ کے پیچھے فرعون آگیا اور نہ ہی اس بات سے خوف کھائیں کہ آگے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–82

74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–78

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

73 حضرت موسیٰ کو مصر سے کوچ کا حکم وارشاد : سو اس سے حضرت موسیٰ کو راتوں رات مصر سے چل نکلنے کا حکم وارشاد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ راتوں رات چل نکلو میرے بندوں کو لے کر یعنی ارض مصر سے "۔ تاکہ ان کو غلامی کی ان زنجیروں سے آزادی مل سکے جن میں یہ جکڑے ہوئے ہیں۔ اور اس گندے ماحول سے یہ الگ ہوجائیں جس میں رہ کر انہوں نے اپنادین و ایمان سب کچھ بگاڑ دیا ہے۔ اور یہ شرک کی طرح طرح کی نجاستوں اور غلاظتوں سے آلودہ ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ میرے ان مظلوم بندوں کو راتوں رات لیکر یہاں سے نکل جاؤ تاکہ یہ آزادی کی نعمت سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 77–89

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف القصہ تمام معجزات اور ساری تعلیمات سننے کے باوجود بھی جب فرعون نے راہ راست قبول نہ کی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ میرے بندوں یعنی اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور فرعون کی حکومت اور ملک سے دوسری جگہ چلے جائیں کہ اس کے ظلم سے نجات حاصل ہو بنی اسرائیل اگرچہ غلطی پر غلطی کرتے رہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) سے نسبت کے سبب یہاں ان کو بھی عبادی کا اعلی لقب عطا ہوا۔ (اہل اللہ سے نسبت کی برکت) گویا اہل اللہ سے نسبت بھی بہت بڑا انعام ہے اور رحمت باری کا سبب نیز ارشاد ہوا کہ سمندر کی طرف جائیے اور جب کنارے پر پہنچیں تو اپنا عصا پانی پر ماریں اس میں خشک راستے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–78

ف 7 یعنی جیسا کہ گھیرنے کا حق تھا، ویسا گھیر لیا۔ ان میں سے کوئی بھی نہ زندہ نہ بچا۔ (واقعہ کی تفصیل کیلئے سورة شعراء رکوع 4، یونس آی 93:9)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:77) اسر۔ اسراء سے فعل امر۔ واحد مذکر حاضر ۔ تو رات کو لے کر چل۔ اسراء رات کو لے کر چلنے یا رات کو سفر کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے سبحن الذی اسری بعبدہ (17:1) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت لے گیا۔ ان مفسرہ ہے اور اوحینا کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم نے کیا وحی کی۔ فاجرب لہم طریقا فی البحر یبسا۔ اضرب فعل امر واحد مذکر حاضر طریقا فی البحر مفعول بہ اضرب کا یبسا صفت ہے طریقا کی۔ عبارت کچھ یوں ہے اضرب البحر (بعصاک لیسیر لہم طریقا یبسا۔ اپنے عصا کو سمندر کے پانی پر مارو کہ ان کے لئے (پانی میں) خشک راستہ بن جائے۔ قرآن کے جملہ کے لفظی معنی ہوں گے پھر ان کے لئے سمندر میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 77–89

لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 89 بس راتوں رات نکل جا۔ طریق راستہ۔ یبس خشک۔ درک پکڑنا۔ لاتخشی خوف نہ کر۔ اضل گمراہ کردیا۔ الایمن داہنے جانب۔ لاتطغوا حد سے نہ بڑھو۔ رجع لوٹ گیا۔ اخلفتم تم نے خلاف کیا۔ اوزار (وزر) بوجھ۔ قذفنا ہم نے پھینک دیا۔ خوار بچھڑے کی آواز ، گائے کی آواز۔ نسی وہ بھول گیا۔ افلا یرون کیا پھر وہ نہیں دیکھتے۔ ضر نقصان۔ تشریح : آیت نمبر 77 تا 89 فرعونی ظلم و ستم اور بنی اسرائیل کے خلاف سازشوں کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب تک مصر میں رہے وہ ان کو نصیحتیں اور تبلیغ دین فرماتے رہے جن سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی اور امنگ پیدا ہوگئی۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعن کو معجزات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–77

فرعون کے مع اس کے لشکر کے ڈوبنے کا قصہ جب فرعون بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے پر کسی طرح راضی نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائی کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چل کھڑے ہوں۔ اور دریا قلزم پر پہنچ کر دریا کے پانی میں اپنے ہاتھ کی لکڑی ماریں، اللہ کے حکم سے دریا میں سوکھا راستہ پیدا ہوجائے گا۔ اور بغیر خوف فرعون کے حملہ اور دریا کی ظغیانی کے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور بنی اسرائیل تو دریا میں سوکھے راستہ سے ردیا پار ہوجاؤ گے۔ فرعون اپنا لشکر ساتھ لے کر تمہار پیچھا کرے گا، تو وہ مع اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگا۔ کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[26] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب گزشتہ واقعات کو ایک عرصہ ہوچکا ہے اور فرعون پر موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری تبلیغی کوششیں بےاثر ہوچکی ہیں اور فرعون نے بنی اسرائیل کو آزادی دینے سے انکار کردیا ہے۔ [27] یعنی بنی اسرائیل کو۔ [28] اس واقعہ کی تفصیل سورة شعراء صفحہ 862 میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 77–84

تائید غیبی کے سامان : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔ فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-77 اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اور موسیٰ کے پاس حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا پھر ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا دے نہ تجھ کو دشمن کے تعاقب اور گرفت کا اندیشہ اور نہ دریا میں غرق ہونے کا ڈر ہو۔ یعنی فرعون کے مظالم کچھ اور دن جاری رہے اور جب مظالم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ بتایا کہ تورات کو میرے بندوں کو لے کر نکل جا راستہ میں دریائے قلزم پڑے گا اس پر لاٹھی ماریو دریا میں خشک راستہ بن جائے گا اس راستہ سے دریا کو عبور کرلینا اور دشمن کی گرفت کا خطرہ نہ کیجیو اور نہ ڈوبنے اور غرق ہونے سے ڈریو یعنی ان باتوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اور دور چلے جاو تاکہ فرعون کے ظلم و شدائد سے ان کو نجات ہو۔ 2۔ کیونکہ اہل تعاقب کامیاب نہ ہوں گے گو تعاقب کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر نکلنے کا حکم : 77۔ میدان مناظرہ میں کامیاب کون قرار پایا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ہار کس کے حصے میں آئی ؟ فرعون کے حصے میں ۔ فرعون نے تو کہا تھا کہ موسیٰ ہم مصریوں کو ان کے ملک سے نکالنا چاہتا ہے اگر اس کی بات حق ہوتی تو اب مصر سے نکلنے کا حق کس کو تھا ؟ فرعون کو ‘ لیکن یہاں سے نکلنے کا حکم کس کو ملا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں ، اس لئے کہ فرعون نے ہار جانے کے باوجود اپنی ہار کو تسلیم نہیں کیا اور اپنی طاقت اور زور کے بل پر بنی اسرائیل پر مزید ظلم ڈھانے لگا اس نے ان قوانین کو دوبارہ نافذ کردیا جن کے تحت بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 77–79

Commentary The decisive defeat which he suffered in the contest between the right and wrong and between miracle and magic broke the power of the Pharaoh, and the Bani Isra'ile stood united under the leadership of Sayyidni Musa (علیہ السلام) . Allah now commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to take his men out of Egypt. But this move was full of danger. First there was the risk of pursuit by the Pharaoh, and second the river, which they had no means of crossing, barred their flight. Allah dispelled both these fears from Sayyidna Musa (علیہ السلام) mind and told him to strike his staff on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

52. Here the details of the events which happened during the long period of Prophet Moses’(peace be upon him) stay in Egypt have been omitted. For these please see (Surah Al- Aaraf, Ayat 130-147), (Surah Younus, Ayats 83-92); (Surah Al-Momin, Ayats 23-50) and (Surah Az-Zukhuruf 46-56). 53. This happened when God at last appointed a night for the exodus of the Israelites and the other Muslims from Egypt. They were asked to gather at a fixed place and set forth as a caravan. Just at the time when they reached the coast of the Red Sea from where they had to cross to the Sinai Peninsula, Pharaoh…

Read the full tafseer →