Explained with ayahs 74–76
ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذاب کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی مشقت والی موت سے بدتر ہوگی۔ جسے فرمان ہے (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36ۚ) 35۔ فاطر :36)۔ یعنی نہ موت آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور آیتوں میں ہے (وَيَتَجَنَّبُهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سورة طٰهٰ 52
بیچ میں ان حالات کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو اس کے بعد مصر کے طویل زمانہ قیام میں پیش آئے۔ ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 15۔ 16، سورة یونس رکوع 9، سورة مومن رکوع 3 تا 5، اور سورة زخرف رکوع 5۔
سورة طٰهٰ 53
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کار ایک رات مقرر فرما دی جس میں تمام اسرائیلی اور غیر اسرائیلی مسلمانوں کو (جن کے لیے " میرے بندوں ‘’ کا جامع لفظ استعمال کیا گیا ہے) مصر کے ہر حصے سے ہجرت کے لیے نکل پڑنا تھا۔ یہ سب لوگ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو کر ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے۔ اس زمانے میں نہر سویز موجود نہ تھی۔ بحر احمر سے بحر روم (میڈیٹرینین)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
فرعونی جادوگروں میں عجیب انقلاب
اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا الی وَذٰلِكَ جَزٰۗؤ ُ ا مَنْ تَزَكّٰى، یہ کلمات جن کا تعلق خالص اسلامی عقائد اور عالم آخرت سے ہے ان جادوگروں کی زبان سے ادا ہو رہے ہیں جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں اور اسلامی عقائد و اعمال کی کوئی تعلیم ان کو ملی نہیں، یہ سب حضرت موسیٰ ؑ کی صحبت کی برکت اور ان کے اخلاص کا اثر تھا کہ حق تعالیٰ نے ان پر دین کے تمام حقائق آن کی آن میں ایسے کھول دیئے کہ ان کے مقابلے میں نہ اپنی جان کی پروا رہی نہ کسی بڑی سے بڑی سزا اور تکلیف کا خوف رہا، گویا ایمان کے ساتھ ساتھ ہی ان کو ولایت کا بھی وہ مقام حاصل ہوگیا جو دوسروں کو عمر بھر کے…
Read the full tafseer →جنت ایک سستی چیز نہیں
یہ وضاحت ہے ان مراتب عالیہ کی یعنی ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ و ذلک عجزوآء من تزکی یہ صلہ ہے ان لوگوں کا جو اپنے ظاہر و باطن اور اپنے عقیدو عمل کو پاکیزہ بنائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹی تمنائوں سے ملنے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے حق داد وہی ٹھہریں گے جو اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ہر قسم کی آلائشوں سے، خواہ وہ فکری ونظری ہوں یا عملی و اخلاقی، پاک کرنے کی جدوجہ دکریں گے۔ اس راہ میں آدمی کو جو ٹھوکریں لگتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تدارک کی تدبیریں بھی اپنی اس کتاب میں بتا دی ہیں اور انسان اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
76۔ 1 جہنمیوں کے مقابلے میں اہل ایمان کو جو جنت کی پر آسائش زندگی ملے گی، اس کا ذکر فرمایا اور واضح کردیا کہ اس کے مستحق وہ لوگ ہونگے جو ایمان لانے کے بعد اس کے تقاضے پورے کریں گے۔ یعنی اعمال صالح اختیار اور اپنے نفس کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کریں گے۔ اس لئے کہ ایمان زبان سے صرف چند کلمات ادا کردینے کا نام نہیں ہے بلکہ عقیدہ و عمل کے مجموعے کا نام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
27: مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور جینے کی جو نفی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جینا چونکہ موت سے بھی بدتر ہوگا۔ اس لیے وہ جینے میں شمار کرنے کے لائق نہیں ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
انہ من یات ……تزکی (67)
اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ
فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
4 مجرمین کے بالمقابل یہ مطیعین کا انجام بیان فرمادیا۔
5 یعنی پاک ہوا، گندے خیالات، فاسد عقائد، رذیل اخلاق، اور برے اعمال سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
آیت 75 وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ”
یعنی ایسے لوگ جن کے پاس ایمان حقیقی کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی پونجی بھی ہوگی ان کے لیے بلند درجے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
54 یعنی فاسد عقائد سے، اخلاق رذیلہ سے، گندے خیالات سے اور برے اعمال سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ ایمان لانے کے بعد اچھے عمل کرتے رہے، انھیں نعمتوں والی جنت بلند درجات عطا کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →83۔ (چنانچہ ہم نے بھی اسی قانون الہی کے ماتحت کفر کو چھوڑ کر ایمان اختیار کیا) (آیت) ” تزکی “۔ یعنی کفر ومعصیت سے پاک ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح…
Read the full tafseer →جنت عدن تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا یعنی ہمیشہ رہنے کے لئے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
یعنی جو شخص ایمان کی حالت میں مرے گا اور اس نے دنیا میں اعمال صالحہ کئے ہوں گے اس کو رہنے کے لئے باغ ملیں گے عدن بمعنی قیام و سکونت یہ جنات بڑے اونچے درجات ہوں گے۔
وذلک جزآو من تزکی۔ کفر و معاصی کے میل کچیل سے پاک ہونے والے کی یہی جزا ہے۔ کلبی نے
کہا تَزَکّٰیکا یہ معنی ہے کہ جس نے اپنے نفس کی زکوٰۃ دے دی اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور ابن حبان نے صحیح سند سے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اونچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(75۔ 76) اور جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس حال میں کہ اس نے نیک کام بھی کیے ہوں گے تو ایسے حضرات کے لیے جنتوں میں بڑے اونچے درجات ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں کہ وہ دار الرحمن سے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے تمام جنتوں کے درمیان میں بنایا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں بہریں بہتی ہوں گی، وہ ان باغات اور جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ حضرات وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہ باغات اور وہاں ہمیشہ کا قیام اس شخص کا انعام جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اعمال صالحہ کرے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي۔۔ : ”الْعُلٰي“ ”عُلْیَا“ کی جمع ہے، جو اسم تفضیل ”أَعْلٰی“ کی مؤنث ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فِي الْجَنَّۃِ ماءَۃُ دَرَجَۃٍ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلاَھَا دَرَجَۃً وَمِنْھَا تُفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ الْأَرْبَعَۃُ وَمِنْ فَوْقِھَا یَکُوْنُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ : 2531، عن عبادۃ بن الصامت ؓ ] ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
فرعون کے جادوگروں کی تعداد :
1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگرنوسو تھے انہوں نے فرعون سے کہا اگر یہ دونوں جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آئیں گے کیونکہ ہم سے زیادہ کوئی جادوگر نہیں ہے اور اگر ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے معجزات ہیں (تو ہم غالب نہ ہوں گے) جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سامنے اپنے جادو اور فریب کاری کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو فورا سجدہ میں گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ان کے سجدوں میں ان کے گھر (جنت میں) دکھادیئے کہ جن کی طرف ان کو لوٹ کرجانا تھا اس وقت انہوں نے کہا (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ (سے لے…
Read the full tafseer →[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [الْانهٰرُ : نہریں ] [خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [وَذٰلِكَ : اور یہ ] [جَزٰۗؤُا مَنْ : اس کی جزا ہے جس نے ] [تَزَكّٰى: پاکیزگی حاصل کی ]
نوٹ۔ 1: ایک رائے یہ ہے کہ جادوگروں نے فرعون کو جو جواب دیا تھا وہ آیت۔ 73 پر ختم ہوگیا۔ اس کے آگے آیات 74 تا 76 ۔ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے جادوگروں کی بات کی تکمیل کے لئے ارشاد فرمائی ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ آیات بھی جادوگروں کی بات ہیں اور فرعون کو ان کا جواب آیت۔ 76 ۔ پر ختم ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی) اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا یہ اعلان عام ہے کفر و شرک سے پاک ہونا اور معاصی سے پاک ہونا نفس کے رذائل سے پاک ہونا سب اس میں داخل ہے۔ فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پاک ہونے کی دعوت دی تھی اور ھل لک الی ان تزکی فرمایا تھا اس نے کفر نہ چھوڑا پاکیزہ نہ بنا جادوگر ایمان لے آئے پاکیزہ بن گئے مستحق جنت ہوگئے جو لوگ مومن ہوتے ہوئے گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ کفر اور شرک سے پاک ہیں لیکن گناہوں سے پاک نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا گناہوں کو معاف فرما کر اور جس کو چاہے گا جہنم میں داخل فرما کر پاک وصاف کر کے جنت میں بھیج دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
49:۔ یہاں سے تا ” ذٰلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکّٰی “ جادوگروں کے قول کی حکایت ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” مُجْرِمًا “ سے مراد مشرک ہے۔ و دل قولہ ” مَنْ یَّاتِهٖ مُوْمِنًا “ علی ان المراد بالمجرم المشرک (قرطبی ج 11 ص 227) ۔ ” تَزَکّٰی “ یعنی شرک سے پاک ہوا۔ تطھر من الشرک یقول لا الہ الا اللہ قیل ھذہ الایات الثلث حکایۃ قولھم وقیل خبر من اللہ تعالیٰ لا علی وجہ الحکایۃ وھو اظھر (مدارک ج 2 ص 47) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا مَنْ تَزَكّٰى 76ۧ
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
3 ؎ یعنی بنی اسرائیل کو جن کو فرعون نے جتلائے مصائب کر رکھا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
اِنَّـہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَـہٗ جَھَنَّمَ ط لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ وَمَنْ یَّـاْ تِہٖ مُؤْمِنًا قَدْعَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزَ ائُ مَن تَزَکّٰی۔
(طٰـہٰ : 74، 75، 76)
(حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں۔ سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح ذات کبریا نے باقی رہنا ہے اسی طرح ہی اس کے فیصلے باقی رہیں گے۔
ایمان لانے والے حضرات فرعون کے سامنے یہ کہہ کر ڈٹ گئے کہ تیری سزائیں صرف دنیا تک ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور اجر عطا فرمانے میں سب سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ایمانداروں کی اس گفتگو کو قرآن مجید حسب دستور نصیحت کے طور پر یوں بیان کرتا ہے۔ جو شخص اپنے رب کی بارگاہ میں مجرم بن کر پیش ہوا۔ اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہوگی اور نہ ہی زندگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں رہے گا۔ جو خوش نصیب سچے ایمان اور پاکیزہ کردار کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوا اس کے لیے اعلیٰ درجات اور ہمیشہ ہمیش رہنے…
Read the full tafseer →76: جَنّٰتُ عَدْنٍ (ہمیشہ رہنے کے باغات )
نحو : یہ درجات سے بدل ہے۔
تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) خالدین کا معنی ہمیشہ ہے۔ وَذٰلِکَ جَزٰٓ ؤُا مَنْ تَزَکّٰی (یہ اس کا بدلہ ہے جس نے اپنے کو پاک کرلیا) شرک سے اپنے آپ کو لا الہ الا اللّٰہ کے ذریعہ پاک کرلیا۔
ایک قول یہ تینوں آیات ان کے قول کی حکایت ہے۔ قول آخر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے۔ حکایت نہیں اور یہ قول سب سے زیادہ بہتر ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
76۔ جنات عدن تجری من تحتھا۔۔۔۔ تمہیں گناہوں سے پاک کرلیں گے کلبی کا بیان ہے کہ اپنے نفس کی زکوۃ ادا کرو لاالہ الاللہ کے قول کے ساتھ۔ حضرت ابوسعیدخدری ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اونچے درجات والوں کو نیچے والے اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم چمکتے ستاروں کو آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو اور حضرت ابوبکر وعمر انہی میں سے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →72 جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تزکیہ و پاکیزگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ جزا ہے ہر اس شخص کی جس نے پاکیزگی اختیار کی "۔ برے عقائد، گندے اعمال اور غلط اخلاق و کردار سے ۔ اللہ ایسا ہی تقویٰ و طہارت نصیب فرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ سو ایمان وتقویٰ بالفاظ دیگر تزکیہ نفوس انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی اور سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی دولت نصیب ہوتی ہے اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں جنت کی نعیم مقیم اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے ظاہر فرما دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 7 یعنی جیسا کہ گھیرنے کا حق تھا، ویسا گھیر لیا۔ ان میں سے کوئی بھی نہ زندہ نہ بچا۔ (واقعہ کی تفصیل کیلئے سورة شعراء رکوع 4، یونس آی 93:9)
Read the full tafseer →(20:76) جنت عدن۔ ہمیشہ رہنے والے باغ یہ الدرجت کا بدل ہے۔ تزکی۔ تزکی سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ پاک ہوا۔ سنور گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
فرعون کے مع اس کے لشکر کے ڈوبنے کا قصہ
جب فرعون بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے پر کسی طرح راضی نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائی کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چل کھڑے ہوں۔ اور دریا قلزم پر پہنچ کر دریا کے پانی میں اپنے ہاتھ کی لکڑی ماریں، اللہ کے حکم سے دریا میں سوکھا راستہ پیدا ہوجائے گا۔ اور بغیر خوف فرعون کے حملہ اور دریا کی ظغیانی کے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور بنی اسرائیل تو دریا میں سوکھے راستہ سے ردیا پار ہوجاؤ گے۔ فرعون اپنا لشکر ساتھ لے کر تمہار پیچھا کرے گا، تو وہ مع اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگا۔ کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(ف 2) حصول جنت کے لئے جن طرح ایمان شرط ہے اسی طرح کل صالح ضروری ہے محض اعتقاد جو عمل کے لئے محرب نہ ہو مفید نہیں کیونکہ اسلام تو ایمان وعمل دونوں کا نام ہے ۔
Read the full tafseer →-76 وہ بلند درجے دائمی باغات ہوں گے جن کے یا میں نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ ان دائمی باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی صلہ ہے اس شخص کا جو پاک رہا۔ یعنی کفر و معاصی سے پاک اور صاف رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 6۔ نہ مرنا تو ظاہر ہے، اور نہ جینا یہ کہ جینے کا آرام نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آخرت کے انعامات کی انہوں نے مزید تشریح اس طرح کی :
76۔ ایسے مومنوں اور فرمانبرداروں کے لئے جو انعامات اللہ رب العزت کے ہاں رکھے گئے ہیں وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان باغات میں رہیں گے وہ نہ نکلنا چاہیں گے اور نہ ہی ان کو نکالا جائے گا اور یہ انعامات واکرامات ان کے حصے میں اس لئے آئیں گے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں اس کی رضا جوئی کے لئے دنیا کی ساری تکلیفوں اور مصیبتوں کو گلے کا ہار بنایا اور ان کو جھیلنے کے لئے وہ صبر کا پہاڑ بن گئے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کا راستہ نہ روک سکی اس طرح آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو انعامات رکھے تھے انہوں نے بحمد اللہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
Revolutionary change in the lives of the magicians
إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمً---- وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ
Surely whoever comes to his Lord as a sinner, for him there is Jahannam .:.. And whoever comes to Him as a believer ... for such people there are the highest ranks.... (20:74-76)
These words which refer to the Islamic beliefs and the hereafter have been spoken by the magician who only recently became Muslims and who had not yet been instructed about the principles and the obligations of the new faith.
It was the result of their brief association with Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
52. Here the details of the events which happened during the long period of Prophet Moses’(peace be upon him) stay in Egypt have been omitted. For these please see (Surah Al- Aaraf, Ayat 130-147), (Surah Younus, Ayats 83-92); (Surah Al-Momin, Ayats 23-50) and (Surah Az-Zukhuruf 46-56).
53. This happened when God at last appointed a night for the exodus of the Israelites and the other Muslims from Egypt. They were asked to gather at a fixed place and set forth as a caravan. Just at the time when they reached the coast of the Red Sea from where they had to cross to the Sinai Peninsula, Pharaoh…
Read the full tafseer →