Taa-Haa 20:75

Taa-Haa · from ayah 75

20:75

وَمَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ۟ۙوَمَنۡ يَّاۡتِهٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰىۙ‏

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But whoever comes to Him as a believer having done righteous deeds - for those will be the highest degrees [in position]:

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:75

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لئے بلند وباﻻ درجے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا جس نے نیک عمل بھی کیے ہوں گے، تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں تو انہیں کے درجے اونچے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص اس کے حضور مومن بن کر آئے گا (مزید یہ کہ) اس نے نیک عمل کئے ہوں گے تو ان ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا کہ اس نے اچھے اعمال کیے ہونگے تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب سے بلند درجے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو مومن بن کر آئے اور اس نے اعمال بھی نیک کئے ہوں تو ایسے ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اس کے پاس باایمان ہو کر جائیں گے، انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے، تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے اونچے درجے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی اس کے حضور ایمان کی حالت میں آئے گا، جب کہ اس نے کام بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسوں کے لئے بڑے بلند درجے ہوں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی اس کے پاس مومن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کئے ہوں سوایسوں کے لئے بڑے اونچے درجے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی آئے گا اس کے پاس مؤمن کی حیثیت سے (اور اس حالت میں کہ) اس نے نیک اعمال بھی کیے ہوں تو یہ لوگ ہیں جن کے لیے اعلیٰ درجات ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اس کے سامنے مسلم ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کیے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لیے اونچے اونچے درجے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But he who comes to Him with faith and righteous works shall be exalted to high ranks,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And whoever will come to Him as believer, having done righteous deeds, for such people there are the highest ranks,

— Muhammad Taqi Usmani

And whoever will come to Him as believer, having done righteous deeds, for such people there are the highest ranks,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But whoever comes to Him as a believer, and has done righteous good deeds, for such are the high ranks,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But whoso cometh unto Him a believer, having done good works, for such are the high stations;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But whoever comes to Him as a believer having done righteous deeds - for those will be the highest degrees [in position]:

— Saheeh International

One who comes into the presence of his Lord with faith and righteous deeds

— Muhammad Sarwar

And whoever comes to Him a believer (and) he has done good deeds indeed, these it is who shall have the high ranks,

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever cometh unto Him as a believer, and he hath done righteous works---then these! for them are ranks high.

— Abdul Majid Daryabadi

But such as come to Him as Believers who have worked righteous deeds,- for them are ranks exalted,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–76

ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذاب کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی مشقت والی موت سے بدتر ہوگی۔ جسے فرمان ہے (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35۔ فاطر :36)۔ یعنی نہ موت آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور آیتوں میں ہے (وَيَتَجَنَّبُهَا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سورة طٰهٰ 52 بیچ میں ان حالات کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو اس کے بعد مصر کے طویل زمانہ قیام میں پیش آئے۔ ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 15۔ 16، سورة یونس رکوع 9، سورة مومن رکوع 3 تا 5، اور سورة زخرف رکوع 5۔ سورة طٰهٰ 53 اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کار ایک رات مقرر فرما دی جس میں تمام اسرائیلی اور غیر اسرائیلی مسلمانوں کو (جن کے لیے " میرے بندوں ‘’ کا جامع لفظ استعمال کیا گیا ہے) مصر کے ہر حصے سے ہجرت کے لیے نکل پڑنا تھا۔ یہ سب لوگ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو کر ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے۔ اس زمانے میں نہر سویز موجود نہ تھی۔ بحر احمر سے بحر روم (میڈیٹرینین)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–76

فرعونی جادوگروں میں عجیب انقلاب اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا الی وَذٰلِكَ جَزٰۗؤ ُ ا مَنْ تَزَكّٰى، یہ کلمات جن کا تعلق خالص اسلامی عقائد اور عالم آخرت سے ہے ان جادوگروں کی زبان سے ادا ہو رہے ہیں جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں اور اسلامی عقائد و اعمال کی کوئی تعلیم ان کو ملی نہیں، یہ سب حضرت موسیٰ ؑ کی صحبت کی برکت اور ان کے اخلاص کا اثر تھا کہ حق تعالیٰ نے ان پر دین کے تمام حقائق آن کی آن میں ایسے کھول دیئے کہ ان کے مقابلے میں نہ اپنی جان کی پروا رہی نہ کسی بڑی سے بڑی سزا اور تکلیف کا خوف رہا، گویا ایمان کے ساتھ ساتھ ہی ان کو ولایت کا بھی وہ مقام حاصل ہوگیا جو دوسروں کو عمر بھر کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان کے مقابل میں فائز المرام گروہ کا بیان ہوا کہ البتہ جو لوگ ایمان کے ساتھ خدا کے پاس حاضر ہوں گے اور اس کے ساتھ انہوں نے نیک اعمال بھی کیسے ہوں گے ان کے لئے مراتب عالیہ ہیں۔ ایمان کی مقبولیت کے لئے اعمال صالحہ شرط ہیں مومنا قد عمل الصلحت کے اسلوب بیان پر غور کیجیے تو یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جاتا ہے۔ جو ایمان عمل صالح سے خالی ہو اس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ایسا ایمان ایک ٹونٹھ درخت کے مانند ہے جو برگ و بار سے بالکل خالی ہے۔ جس درخت نے دنیا میں اپنے برگ و بار پیدا نہیں کئے آخر وہ آخرت میں کس طرح ثمر بار ہوجائے گا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 75–76

76۔ 1 جہنمیوں کے مقابلے میں اہل ایمان کو جو جنت کی پر آسائش زندگی ملے گی، اس کا ذکر فرمایا اور واضح کردیا کہ اس کے مستحق وہ لوگ ہونگے جو ایمان لانے کے بعد اس کے تقاضے پورے کریں گے۔ یعنی اعمال صالح اختیار اور اپنے نفس کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کریں گے۔ اس لئے کہ ایمان زبان سے صرف چند کلمات ادا کردینے کا نام نہیں ہے بلکہ عقیدہ و عمل کے مجموعے کا نام ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–76

27: مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور جینے کی جو نفی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جینا چونکہ موت سے بھی بدتر ہوگا۔ اس لیے وہ جینے میں شمار کرنے کے لائق نہیں ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 74–76

انہ من یات ……تزکی (67) اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–76

4 مجرمین کے بالمقابل یہ مطیعین کا انجام بیان فرمادیا۔ 5 یعنی پاک ہوا، گندے خیالات، فاسد عقائد، رذیل اخلاق، اور برے اعمال سے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

آیت 75 وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ” یعنی ایسے لوگ جن کے پاس ایمان حقیقی کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی پونجی بھی ہوگی ان کے لیے بلند درجے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–75

52 ایمان لانے والے جادوگروں کا بیان ختم ہو کر اب یہ آیت اور اس سے اگلی دو آیات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جن میں ساتھ ہی ساتھ تذکیر و نصائح اور اشارات کا سلسلہ بھی حسب دستور چل رہا ہے۔ ـ53 دنیا کی تکلیفیں خواہ کس قدر زیادہ اور سخت ہوں۔ موت ان سب کا خاتمہ کردیتی ہے اور دوزخ میں کافروں کو سب سے بڑی جو سزا ملے گی وہ یہ ہوگی کہ انھیں موت نہیں آئے گی۔ وہ موت کو ایسی مصیبت کی زندگی پر ترجیح دے گا اور اس کا مطالبہ یہی کرے گا مگر اسے موت نصیب نہ ہوگی۔ اور زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ یہ درجات عالیہ (الدرجت العلی) تو انہیں لوگوں کے لیے ہیں جو مومن کامل اور اعمال صالحہ میں راسخ ہیں۔ باقی ان درجات عالیہ سے اتر کر جو مرتبہ محض نجات وعفو کا ہے، وہ ان کلمہ گویوں کو حاصل ہوگا جو اتنے اونچے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ بلکہ صاحب کبائر ہیں :۔ وفی الایۃ تنبیۃ علی حصول العفو لاصحب الکبائر لانہ تعالیٰ جعل الدرجات العلی من الجنۃ لمن اتی ربہ بالایمان والاعمال الصالحۃ فسائر الدرجات التیھی غیرعالیۃ لابدوان تکون لغیرھم وما ھم الا الصاۃ من اھل الایمان (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–76

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یاتہ مؤمنا قد عمل الصلحت فاولئک لہم الدرجت العلی۔ اور جو شخص اپنے رب کے پاس مؤمن ہو کر حاضر ہوگا جس نے نیک کام بھی کئے ہوں سو ایسوں کے لئے بڑے اونچے درجے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) اور جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس حال میں کہ اس نے نیک کام بھی کیے ہوں گے تو ایسے حضرات کے لیے جنتوں میں بڑے اونچے درجات ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں کہ وہ دار الرحمن سے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے تمام جنتوں کے درمیان میں بنایا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں بہریں بہتی ہوں گی، وہ ان باغات اور جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ حضرات وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہ باغات اور وہاں ہمیشہ کا قیام اس شخص کا انعام جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اعمال صالحہ کرے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي۔۔ : ”الْعُلٰي“ ”عُلْیَا“ کی جمع ہے، جو اسم تفضیل ”أَعْلٰی“ کی مؤنث ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فِي الْجَنَّۃِ ماءَۃُ دَرَجَۃٍ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلاَھَا دَرَجَۃً وَمِنْھَا تُفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ الْأَرْبَعَۃُ وَمِنْ فَوْقِھَا یَکُوْنُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ : 2531، عن عبادۃ بن الصامت ؓ ] ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ان میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 70–76

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–76

فرعون کے جادوگروں کی تعداد : 1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگرنوسو تھے انہوں نے فرعون سے کہا اگر یہ دونوں جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آئیں گے کیونکہ ہم سے زیادہ کوئی جادوگر نہیں ہے اور اگر ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے معجزات ہیں (تو ہم غالب نہ ہوں گے) جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سامنے اپنے جادو اور فریب کاری کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو فورا سجدہ میں گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ان کے سجدوں میں ان کے گھر (جنت میں) دکھادیئے کہ جن کی طرف ان کو لوٹ کرجانا تھا اس وقت انہوں نے کہا (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ (سے لے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَنْ : اور جو ] [يَاْتِهٖ : آئے گا اس کے پاس ] [مُؤْمِنًا : ایمان لانے والا ہوتے ہوئے ] [قَدْ عَمِلَ : اس نے عمل کئے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو یہ لوگ ہیں ] [لَهُمُ : جن کے لئے ] [الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي : بلند درجے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–75

جادو گروں کو فرعون کا دھمکی دینا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کی ٹہنیوں پر لٹکادوں گا، جادو گروں کا جواب دینا کہ تو جو چاہے کرلے ہم تو ایمان لے آئے جب جادو گروں نے ہار مان لی اور موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاکر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون کو بڑی خفت ہوئی اور بھرے مجمع میں اسے ذلت اٹھانی پڑی کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور تو کچھ نہ بن سکا جادو گروں پر غصہ اتارا، گر جاچمکا اور کہنے لگا کہ تم کو ان پر ایمان لانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا لازم تھا میری اجازت کے بغیر ہی تم ان پر ایمان لے آئے بس سمجھ میں آگیا کہ یہ تمہارا سردار ہے اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے تم سب نے ملکر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–76

ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–76

49:۔ یہاں سے تا ” ذٰلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکّٰی “ جادوگروں کے قول کی حکایت ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” مُجْرِمًا “ سے مراد مشرک ہے۔ و دل قولہ ” مَنْ یَّاتِهٖ مُوْمِنًا “ علی ان المراد بالمجرم المشرک (قرطبی ج 11 ص 227) ۔ ” تَزَکّٰی “ یعنی شرک سے پاک ہوا۔ تطھر من الشرک یقول لا الہ الا اللہ قیل ھذہ الایات الثلث حکایۃ قولھم وقیل خبر من اللہ تعالیٰ لا علی وجہ الحکایۃ وھو اظھر (مدارک ج 2 ص 47) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–76

ربط آیات : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي۝ 75ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–75

2 ؎ یعنی اس کی بخشش اور عطا تیرے انعام سے کہیں بہتر ہے اور اس کا عذاب ہی حیات جادوانی کے لحاظ سے بڑا دیرپا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 74–76

اِنَّـہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَـہٗ جَھَنَّمَ ط لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ وَمَنْ یَّـاْ تِہٖ مُؤْمِنًا قَدْعَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزَ ائُ مَن تَزَکّٰی۔ (طٰـہٰ : 74، 75، 76) (حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں۔ سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–76

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح ذات کبریا نے باقی رہنا ہے اسی طرح ہی اس کے فیصلے باقی رہیں گے۔ ایمان لانے والے حضرات فرعون کے سامنے یہ کہہ کر ڈٹ گئے کہ تیری سزائیں صرف دنیا تک ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور اجر عطا فرمانے میں سب سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ایمانداروں کی اس گفتگو کو قرآن مجید حسب دستور نصیحت کے طور پر یوں بیان کرتا ہے۔ جو شخص اپنے رب کی بارگاہ میں مجرم بن کر پیش ہوا۔ اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہوگی اور نہ ہی زندگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں رہے گا۔ جو خوش نصیب سچے ایمان اور پاکیزہ کردار کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوا اس کے لیے اعلیٰ درجات اور ہمیشہ ہمیش رہنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

75: وَمنْ یَّاْ تِہٖ مُؤْمِنًا (اور جو شخص اپنے رب کے ہاں مومن ہو کر حاضر ہوگا) یعنی ایمان پر اس کی موت آئے گی۔ قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ (جس نے نیک کام بھی کئے ہوں) ایمان لانے کے بعد فَاُولٰٓپکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی (پس ان لوگوں کیلئے بڑے بڑے بلند درجات ہیں) ۔ فائدہ : العُلٰی یہ العلیا کی جمع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

75۔ ومن یاتہ، ابوعمرو نے ھاء کے سکون کے ساتھ اس کو ذکر کیا ہے۔ دوسرے قراء کے نزدیک اشباع کے ساتھ ہے ۔ مومنا، جو شخص حالت ایمان پر فوت ہوا۔ قد عمل الصالحات فاولئک لھم الدرجات العلی، ان ک لیے بلند مرتبہ ہے۔ العلی، جمع ہے ، علیا، کی تانیث ہے اعلی کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 74–82

74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–78

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71 کامیابی کی اساس و بنیاد ایمان اور عمل صالح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنے رب کے حضور ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا جبکہ اس نے کام بھی نیک کیے ہوں وہی ہے کامیاب ہے "۔ پس ایمان کی شرط بنیادی شرط ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اور ایمان کا بھی محض زبانی کلامی دعویٰ کافی نہیں بلکہ اس کے ثبوت کیلئے عمل صالح کا سرمایہ بھی ضروری ہے۔ اور یہی ثبوت ہے اس کے دعوائے ایمان کی صداقت کا۔ کیونکہ نور ایمان کا مرکز اور محل تو انسان کا قلب ہی ہے جو نظر آنے کی چیز نہیں۔ اس کا ظاہری ثبوت عمل صالح ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جاتا ہو۔ اور جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–76

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–76

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جنت کے سو درجے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان (مسند احمد) صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” اعلی علیین والے اپنے سے اوپر والوں کو یوں دیکھیں گے جیسے تم افق میں غروب ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:75) اس آیت میں جن لوگوں کو الدرجت العلی عطا ہوں گے ان کی دو صفتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مومن ہوں گے یعنی موت کے وقت ایمان کی دولت سے سرفراز ہوں گے اور دوسرے ایمان کے ساتھ انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے سو ایسوں کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–76

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76 حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 76 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–77

فرعون کے مع اس کے لشکر کے ڈوبنے کا قصہ جب فرعون بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے پر کسی طرح راضی نہ ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائی کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چل کھڑے ہوں۔ اور دریا قلزم پر پہنچ کر دریا کے پانی میں اپنے ہاتھ کی لکڑی ماریں، اللہ کے حکم سے دریا میں سوکھا راستہ پیدا ہوجائے گا۔ اور بغیر خوف فرعون کے حملہ اور دریا کی ظغیانی کے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور بنی اسرائیل تو دریا میں سوکھے راستہ سے ردیا پار ہوجاؤ گے۔ فرعون اپنا لشکر ساتھ لے کر تمہار پیچھا کرے گا، تو وہ مع اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگا۔ کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 71–76

[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 75–76

(ف 2) حصول جنت کے لئے جن طرح ایمان شرط ہے اسی طرح کل صالح ضروری ہے محض اعتقاد جو عمل کے لئے محرب نہ ہو مفید نہیں کیونکہ اسلام تو ایمان وعمل دونوں کا نام ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-75 اور جو شخص اس کے حضور میں مومن اور ایمان دار بن کر حاضر ہوا اور آنحالیکہ وہ نیک اعمال کا بھی پابند تھا اور نیک اعمال کیا کرتا تھا تو ایسے لوگوں کے لئے بڑے اونچے اونچے درجے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–76

ف 6۔ نہ مرنا تو ظاہر ہے، اور نہ جینا یہ کہ جینے کا آرام نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مومن بن کر جانے والوں کے لئے انعام واکرام بھی لازم ہے : 75۔ انہوں نے فرعون کو بڑے پیارے انداز سے تبلیغ کرنے کا حق ادا کردیا اور اس کو ترغیب دی کہ ایمان لا کر وہ اپنی آخرت کی زندگی کو بھی درست کرلے اور دنیا جہان کی عیشیں تو اس نے بہت دیکھی ہیں اب آخرت کی عیشیں بھی حاصل کرلے ۔ انہوں نے کہا کہ ” جو کوئی اس کے حضور مومن ہو کر حاضر ہوگا اور اس کے کام بھی اچھے رہے ہوں گے تو یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑے بڑے درجے ہیں ۔ “ اور اس طرح انہوں نے فرعون کو یہ بھی باور کرا دیا کہ میدان مناظرہ میں کامیاب ہونے کے بعد جو انعامات تو نے ہم کو دینے کا وعدہ کیا تھا وہ انعامات تو اس دنیوی زندگی میں کام آنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–76

Revolutionary change in the lives of the magicians إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَ‌بَّهُ مُجْرِ‌مً---- وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ Surely whoever comes to his Lord as a sinner, for him there is Jahannam .:.. And whoever comes to Him as a believer ... for such people there are the highest ranks.... (20:74-76) These words which refer to the Islamic beliefs and the hereafter have been spoken by the magician who only recently became Muslims and who had not yet been instructed about the principles and the obligations of the new faith. It was the result of their brief association with Sayyidna Musa…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

52. Here the details of the events which happened during the long period of Prophet Moses’(peace be upon him) stay in Egypt have been omitted. For these please see (Surah Al- Aaraf, Ayat 130-147), (Surah Younus, Ayats 83-92); (Surah Al-Momin, Ayats 23-50) and (Surah Az-Zukhuruf 46-56). 53. This happened when God at last appointed a night for the exodus of the Israelites and the other Muslims from Egypt. They were asked to gather at a fixed place and set forth as a caravan. Just at the time when they reached the coast of the Red Sea from where they had to cross to the Sinai Peninsula, Pharaoh…

Read the full tafseer →