Explained with ayahs 74–76
ایمان یافتہ جادوگروں پر فرعون کا عتاب۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جادوگروں نے ایمان قبول فرما کر فرعون کو جو نصیحتیں کیں انہیں میں یہ آیتیں بھی ہیں۔ اسے اللہ کے عذاب کے عذابوں سے ڈرا رہے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا لالچ دلا رہے ہیں کہ گنہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں موت تو کبھی آنے ہی کی نہیں لیکن زندگی بھی بڑی مشقت والی موت سے بدتر ہوگی۔ جسے فرمان ہے (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36ۚ) 35۔ فاطر :36)۔ یعنی نہ موت آئے گی نہ عذاب ہلکے ہوں گے کافروں کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور آیتوں میں ہے (وَيَتَجَنَّبُهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة طٰهٰ 50
یہ جادوگروں کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے۔ انداز کلام خود بتارہا ہے کہ یہ عبارت جادوگروں کے قول کا حصہ نہیں ہے۔
سورة طٰهٰ 51
یعنی موت اور زندگی کے درمیان لٹکتا رہے گا۔ نہ موت آئے گی کہ اس کی تکلیف اور مصیبت کا خاتمہ کر دے۔ اور نہ جینے کا ہی کوئی لطف اسے حاصل ہوگا کہ زندگی کو موت پر ترجیح دے سکے۔ زندگی سے بیزار ہوگا، مگر موت نصیب نہ ہوگی۔ مرنا چاہے گا مگر مر نہ سکے گا۔ قرآن مجید میں دوزخ کے عذابوں کی جتنی تفصیلات دی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک صورت عذاب یہی ہے جسکے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
فرعونی جادوگروں میں عجیب انقلاب
اِنَّهٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا الی وَذٰلِكَ جَزٰۗؤ ُ ا مَنْ تَزَكّٰى، یہ کلمات جن کا تعلق خالص اسلامی عقائد اور عالم آخرت سے ہے ان جادوگروں کی زبان سے ادا ہو رہے ہیں جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں اور اسلامی عقائد و اعمال کی کوئی تعلیم ان کو ملی نہیں، یہ سب حضرت موسیٰ ؑ کی صحبت کی برکت اور ان کے اخلاص کا اثر تھا کہ حق تعالیٰ نے ان پر دین کے تمام حقائق آن کی آن میں ایسے کھول دیئے کہ ان کے مقابلے میں نہ اپنی جان کی پروا رہی نہ کسی بڑی سے بڑی سزا اور تکلیف کا خوف رہا، گویا ایمان کے ساتھ ساتھ ہی ان کو ولایت کا بھی وہ مقام حاصل ہوگیا جو دوسروں کو عمر بھر کے…
Read the full tafseer →ایک تضمین
یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں میرے نزدیک بطور تضمین ہیں۔ جس طرح اوپر آیات 56-53 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی تقریر کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطابق حال کردیا ہے اسی طرح ان لوگوں کے جواب کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطاب حال کردیا ہے۔ ان آیات کو تضمین ماننے کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ان میں جزا و سزا اور آخرت کا حال جن الفاظ میں بیان ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے شایان شان ہیں اور ان کا انذار اوپر کی آیات کے انذار سے بالکل مختلف ہے۔ فرمایا کہ جو اپنے رب کے حضور مجرم کی حثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے دوزخ ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیے گا۔ مجرم کی حیثیت سے…
Read the full tafseer →74۔ 1 یعنی عذاب سے تنگ آ کر موت کی آرزو کریں گے، تو موت نہیں آئے گی اور رات دن عذاب میں مبتلا رہنا، کھانے پینے کو زقوم جیسا تلخ درخت اور جہنمیوں کے جسموں سے نچڑا ہوا خون
اور پیپ ملنا، یہ کوئی زندگی ہوگی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
27: مرے گا تو اس لیے نہیں کہ وہاں کسی کو موت نہیں آئے گی۔ اور جینے کی جو نفی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جینا چونکہ موت سے بھی بدتر ہوگا۔ اس لیے وہ جینے میں شمار کرنے کے لائق نہیں ہوگا۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
انہ من یات ……تزکی (67)
اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ
فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔
وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء…
Read the full tafseer →3 یعنی انسان کو چاہیے کہ اول آخرت کی فکر کرے۔ لوگوں کا مطیع بن کر خدا کا مجرم نہ بنے۔ اس کے مجرم کا ٹھکانہ بہت برا ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ دنیا کی تکلیفیں کتنی ہی شاق ہوں موت آکر سب کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن کافر کو دوزخ میں موت بھی نہیں آئے گی جو تکالیف کا خاتمہ کر دے، اور جینا بھی جینے کی طرح کا نہ ہوگا، زندگی ایسی ہوگی کہ موت کو ہزار درجہ اس پر ترجیح دے گا، العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73 اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰنَا وَمَآ اَکْرَہْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ ط ”
تیرے مجبور کرنے پر ہم نے اپنے جادو کے بل پر اللہ کے پیغمبر کا مقابلہ کرنے کی جو جسارت کی ہے ہم اپنے رب سے اس جرم کی معافی مانگتے ہیں۔ ان جادوگروں سے تو یہی کہا گیا ہوگا کہ تمہیں ایک بہت بڑے جادوگر کا مقابلہ کرنا ہے ‘ لیکن جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے تو آپ علیہ السلام کی با رعب شخصیت سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور مقابلہ کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوگئے۔ قبل ازیں آیت 62 میں ان کی اس کیفیت کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ اب جادوگروں کے اس اقراری بیان سے مزید واضح ہوگیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
52 ایمان لانے والے جادوگروں کا بیان ختم ہو کر اب یہ آیت اور اس سے اگلی دو آیات اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جن میں ساتھ ہی ساتھ تذکیر و نصائح اور اشارات کا سلسلہ بھی حسب دستور چل رہا ہے۔
ـ53 دنیا کی تکلیفیں خواہ کس قدر زیادہ اور سخت ہوں۔ موت ان سب کا خاتمہ کردیتی ہے اور دوزخ میں کافروں کو سب سے بڑی جو سزا ملے گی وہ یہ ہوگی کہ انھیں موت نہیں آئے گی۔ وہ موت کو ایسی مصیبت کی زندگی پر ترجیح دے گا اور اس کا مطالبہ یہی کرے گا مگر اسے موت نصیب نہ ہوگی۔ اور زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی۔
Read the full tafseer →81۔ نہ جیے گا، یعنی شدت عذاب وفرط آلام سے اس دوزخ کی زندگی پر زندگی کا بھی اطلاق نہیں ہوسکتا۔ (آیت) ” مجرما “۔ مجرم یہاں مومن کے مقابلہ میں آیا ہے۔ یعنی جرم بغاوت کا مجرم یا کافر۔ مجرما اے کافرا (مدارک) اے کافرا (جلالین) اے مشرکا (معالم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح…
Read the full tafseer →انہ من یات ربہ مجرما فان لہ جہنم لا یموت فیہا ولا یحیی۔ جو شخص (بغاوت کا) مجرم
اپنے رب کے سامنے جائے گا اس کے لئے جہنم مقرر ہے اس میں نہ وہ مرے گا نہ جئے گا۔
مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا یعنی کفر اور نافرمانی پر مرے گا۔ لاَ یَمُوْتُجہنم کے اندر اس کو موت نہیں آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے لاَ یَحْیٰینہ خوش گوار زندگی ملے گی کہ آرام پائے 1 ۔
Read the full tafseer →(74) اور جو شخص قیامت کے دن کفر کی حالت میں آئے گا اس کے لیے جہنم مقرر ہے کہ اس میں نہ مرے ہی گا کہ چھٹکارا مل جائے اور نہ زندہ ہی رہے گا یعنی نہ ایسی زندگی حاصل ہوگی کہ اس کو اس سے کچھ آرام ملے ،
Read the full tafseer →لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَمَّا أَہْلُ النَّارِ الَّذِیْنَ ہُمْ أَہْلُہَا، فَإِنَّہُمْ لاَ یَمُوْتُوْنَ فِیْہَا وَلاَ یَحْیَوْنَ ، وَلٰکِنْ نَاسٌ مِنْکُمْ أَصَابَتْہُمُ النَّارُ بِذُنُوْبِہِمْ فَأَمَاتَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِمَاتَۃً ، حَتّٰی إِذَا کَانُوْا فَحْمًا أُذِنَ بالشَّفَاعَۃِ ، فَجِيْءَ بِہِمْ ضَبَاءِرَ ضَبَاءِرَ ، فَبُثُّوْا عَلَی أَنْہَارِ الْجَنَّۃِ ، ثُمَّ قِیْلَ ! یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! أَفِیْضُوْا عَلَیْہِمْ ، فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحِبَّۃِ تَکُوْنُ فِيْ حَمِیْلِ السَّیْلِ) [ مسلم، الإیمان، باب إثبات الشفاعۃ و إخراج الموحدین من النار :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
فرعون کے جادوگروں کی تعداد :
1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگرنوسو تھے انہوں نے فرعون سے کہا اگر یہ دونوں جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آئیں گے کیونکہ ہم سے زیادہ کوئی جادوگر نہیں ہے اور اگر ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے معجزات ہیں (تو ہم غالب نہ ہوں گے) جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سامنے اپنے جادو اور فریب کاری کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو فورا سجدہ میں گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ان کے سجدوں میں ان کے گھر (جنت میں) دکھادیئے کہ جن کی طرف ان کو لوٹ کرجانا تھا اس وقت انہوں نے کہا (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ (سے لے…
Read the full tafseer →[انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [مَنْ : جو ] [يَاْتِ : آئے گا ] [رَبَّهٗ : اپنے رب کے پاس ] [مُجْرِمًا : جرم کرنے والا ہوتے ہوئے ] [فَان : تو بیشک ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [جَهَنَّمَ : جہنم ہے ] [لَا يَمُوْتُ : نہ وہ مرے گا ] [فِيْهَا : اس میں ] [وَلَا يَحْيٰي : اور نہ جیئے گا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
جادو گروں کو فرعون کا دھمکی دینا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کی ٹہنیوں پر لٹکادوں گا، جادو گروں کا جواب دینا کہ تو جو چاہے کرلے ہم تو ایمان لے آئے
جب جادو گروں نے ہار مان لی اور موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاکر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون کو بڑی خفت ہوئی اور بھرے مجمع میں اسے ذلت اٹھانی پڑی کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور تو کچھ نہ بن سکا جادو گروں پر غصہ اتارا، گر جاچمکا اور کہنے لگا کہ تم کو ان پر ایمان لانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا لازم تھا میری اجازت کے بغیر ہی تم ان پر ایمان لے آئے بس سمجھ میں آگیا کہ یہ تمہارا سردار ہے اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے تم سب نے ملکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
49:۔ یہاں سے تا ” ذٰلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکّٰی “ جادوگروں کے قول کی حکایت ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” مُجْرِمًا “ سے مراد مشرک ہے۔ و دل قولہ ” مَنْ یَّاتِهٖ مُوْمِنًا “ علی ان المراد بالمجرم المشرک (قرطبی ج 11 ص 227) ۔ ” تَزَکّٰی “ یعنی شرک سے پاک ہوا۔ تطھر من الشرک یقول لا الہ الا اللہ قیل ھذہ الایات الثلث حکایۃ قولھم وقیل خبر من اللہ تعالیٰ لا علی وجہ الحکایۃ وھو اظھر (مدارک ج 2 ص 47) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →اِنَّہٗ مَنْ يَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ 0ۭ لَا يَمُوْتُ فِيْہَا وَلَا يَحْيٰي 74
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
جرم
أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة :
ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم،
قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
2 ؎ یعنی اس کی بخشش اور عطا تیرے انعام سے کہیں بہتر ہے اور اس کا عذاب ہی حیات جادوانی کے لحاظ سے بڑا دیرپا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
اِنَّـہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَـہٗ جَھَنَّمَ ط لاَ یَمُوْتُ فِیْھَا وَلاَ یَحْیٰی۔ وَمَنْ یَّـاْ تِہٖ مُؤْمِنًا قَدْعَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزَ ائُ مَن تَزَکّٰی۔
(طٰـہٰ : 74، 75، 76)
(حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں۔ سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح ذات کبریا نے باقی رہنا ہے اسی طرح ہی اس کے فیصلے باقی رہیں گے۔
ایمان لانے والے حضرات فرعون کے سامنے یہ کہہ کر ڈٹ گئے کہ تیری سزائیں صرف دنیا تک ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور اجر عطا فرمانے میں سب سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ایمانداروں کی اس گفتگو کو قرآن مجید حسب دستور نصیحت کے طور پر یوں بیان کرتا ہے۔ جو شخص اپنے رب کی بارگاہ میں مجرم بن کر پیش ہوا۔ اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہوگی اور نہ ہی زندگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں رہے گا۔ جو خوش نصیب سچے ایمان اور پاکیزہ کردار کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوا اس کے لیے اعلیٰ درجات اور ہمیشہ ہمیش رہنے…
Read the full tafseer →74: اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا (جو شخص بغاوت کا مجرم بن کر اپنے ربّ کے سامنے جائے گا) یعنی کفر کی حالت میں فَاِنَّ لَہٗ (پس بیشک اس کے لئے) یعنی مجرم کیلئے جَھَنَّمَ لَایَمُوْتُ فِیْھَا (جہنم ہے کہ اس میں وہ نہ مرے گا) کہ اس کو موت سے استراحت میسر ہو وَلَا یَحْیٰی (نہ جیئے گا) ڈھب والی زندگی نہ ہوگی کہ آرام میسر ہو۔
Read the full tafseer →74۔ انہ من یات ربہ مجرما۔۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ابتداء ہے بعض نے کہا کہ جادگروں کا آخری کلام ہے یعنی جو حالت شرک پر مرے گا۔ فان لہ جھنم لایموت فیھا، اس کو جہنم میں راحت حاصل نہیں ہوگی۔ ولایحییٰ اور نہ ہی ایسی زندگی جس سے انکونفع حاصل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–82
74۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہوگی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہوگی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جئے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جئے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
70 سدا بقاء اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بندگان صدق وصفا نے فرعون کی دھمکی کے جواب میں مزید کہا کہ اور اللہ ہی ہے سب سے اچھا اور سدا باقی رہنے والا۔ فرعون نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں ابھی معلوم ہوا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ۔ { اَیُّنَا اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰی } ۔ سو اس کے جواب میں انہوں نے فرعون سے یہ بات کہی کہ اللہ ہی سب سے بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے۔ پس اسی کا اجر وثواب سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے نہ کہ تو اور تیری طرف سے ملنے والا بدلہ۔ جیسا کہ تو گھمنڈ رکھتا ہے اے فرعون۔ اس لیے ہم اللہ کے نام پر اور اس کی رضا کیلئے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ف 5 یعنی زندگی اور موت کے درمیان لٹکتا رہے گا حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک مرتبی نبی ﷺ خطب دیتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ نے فرمایا :” جو لوگ دوزخ والے (کافر) ہیں وہ تو نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے اور جو دوزخ والے نہیں (یعنی گنہگار مسلمان) تو آگ انہیں یکبارگی مار دے گی، پھر شفاعت کرنے والے پیغمبر کھڑے ہو کر ان کی شفاعت کریں گے پھر انہیں گھٹھڑیوں کی صورت میں ایک دریا پر جس کا نام ” الحیاۃ “ یا ” الحیوان “ ہوگا لایا جائے گا پھر (اس میں نہا کر) وہ اس طرح بڑھیں گے جس طرح گھاس پھوس سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں بڑھتا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ مسلم و ابن ابی حاتم)
Read the full tafseer →(20:74) انہ ضمیر شان (یہ ضمیر غائب بغیر مرجع کے واقع ہوئی ہے) تحقیق شان یہ ہے من یات۔۔ الخ) ۔
مجرما۔ ای کافرا ومشرکا۔ حال ہے۔ لا یحیی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب حیاۃ مصدر (باب سمع) نہ جئے گا۔ حیی یحیی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں مر کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا، وہ ہمیشہ اسی حالت میں دوزخ میں رہے گا کہ نہ تو سختی اس کی موت کا سبب قرار پا سکے گی، نہ زندگی ہی سے کچھ فائدہ پہنچے گا۔ اور جو ایماندار شخص نیک عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا وہ عقبیٰ میں بڑا رتبہ پائے گا کہ ہمیشہ جنت رہے گا۔ کیونکہ شرک سے بچنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے یہی بدلہ مقرر کیا ہے۔ کافر اور مومن کی دوزخ میں حالت
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے۔ کلمہ گو گناہ گار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے ، وہ جل کر مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر میری شفاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔
Read the full tafseer →(ف 1) (آیت) ” لا یموت فیھا ولا یحی “۔ (جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا) سے غرض یہ ہے کہ جہنم کی زندگی نہایت تلخ اور ناگوار ہوگی تو یہ ممکن ہوگا کہ موت کی وجہ سے خلاصی ہوسکے اور نہ یا اختیار میں ہوگا کہ زندگی کے لوازم سے استفادہ کیا جائے ۔
Read the full tafseer →-74 بلاشبہ ! جو اپنے پروردگار کی حضور میں مجرم اور باغی بن کر حاضر ہوا تو اس کے لئے دوزخ اور جہنم مقرر ہے جس میں نہ وہ مرے ہی گا اور نہ جئے ہی گا ۔ یعنی جو شخص کافربن کر اس کے حضور میں حاضر ہوگا اس کو جہنم کا عذاب ہوگا اور جہنم کے عذاب کی یہ حالت ہے کہ وہاں موت تو ہے ہی نہیں اور جس زندگی میں زندگی کا آرام نہ ہو وہ زندگی نہ ہونے کے برابر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
ف 6۔ نہ مرنا تو ظاہر ہے، اور نہ جینا یہ کہ جینے کا آرام نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →مجرموں کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس جہنم تیار ہے وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے :
74۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد آنے والی آیت کو مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام میں بطور تضمین قرار دیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں بلکہ اس سے زیادہ واضح اور صاف بات یہی نظر آتی ہے کہ یہ دونوں آیتوں بھی انہیں مسلموں کی طرف سے بیان ہوئی ہیں اور انہوں نے جو فرعون کے ساتھ مکالمہ شروع کیا تھا یہ اس کا حصہ ہیں اور وہ جب کہ ایمان لانے کے بعد بھی فرعون ان سے مخاطب ہوا ہے تو اس کو ساری بات پہنچا دینا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید زندگی میں پھر کبھی اس سے بات کرنے کا موقعہ ملے گا یا نہیں لہذا آج تو اس نے خود ہمیں مخاطب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
Revolutionary change in the lives of the magicians
إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمً---- وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ
Surely whoever comes to his Lord as a sinner, for him there is Jahannam .:.. And whoever comes to Him as a believer ... for such people there are the highest ranks.... (20:74-76)
These words which refer to the Islamic beliefs and the hereafter have been spoken by the magician who only recently became Muslims and who had not yet been instructed about the principles and the obligations of the new faith.
It was the result of their brief association with Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
50. This is a saying of Allah, which has been added to the foregoing words of the magicians.
51. This is the most terrible of all the punishments that have been mentioned in the Quran. The criminal will prefer death to the horrible life in Hell, but death will not come to him. He will remain in that state of agony without any hope of relief from it.
Read the full tafseer →