Explained with ayahs 71–73
نتیجہ موسیٰ ؑ کی صداقت کا گواہ بنا۔
اللہ کی شان دیکھئے چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آجاتا۔ جن کو اس مقابلے کہ لئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انھوں نے اپنی ہار مان لی اپنے کرتوت کو جادو اور حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کرلیا۔ خود ایمان لے آئے جو مقابلے کے لئے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بےجھجک انھوں نے دین حق قبول کرلیا۔ لیکن یہ اپنی شیطانیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلاحق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں ؟ پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 45
سورة اعراف میں الفاظ یہ ہیں اِنَّ ھٰذَا الَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْھَا اَھْلَھَا، " یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے دار السلطنت میں ملی بھگت کر کے کی ہے تاکہ سلطنت سے اس کے مالکوں کو بےدخل کردو "۔ یہاں اس قول کی مزید تفصیل یہ دی گئی ہے کہ تمہارے درمیان صرف ملی بھگت ہی نہیں ہے، بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ موسیٰ تمہارا سردار اور گرو ہے، تم نے معجزے سے شکست نہیں کھائی ہے بلکہ اپنے استاد سے جادو میں شکست کھائی ہے، اور تم آپس میں یہ طے کر کے آئے ہو کہ اپنے استاد کا غلبہ ثابت کر کے اور اسے اس کی پیغمبری کا ثبوت بنا کر یہاں سیاسی انقلاب بر پا کردو۔
سورة…
Read the full tafseer →قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ، فرعون کی رسوائی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان مجمع کے سامنے واضح کردی تو بوکھلا کر اول تو ساحروں کو یہ کہنے لگا کہ بغیر میری اجازت کے تم کیسے ان پر ایمان لائے۔ گویا لوگوں کو یہ بتلانا تھا کہ میری اجازت کے بغیر ان جادوگروں کا کوئی قول فعل معتبر نہیں مگر ظاہر ہے کہ اس کھلے ہوئے معجزہ کے بعد کسی کی اجازت کی ضرورت کسی عاقل انسان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی، اس لئے اب جادوگروں پر اس سازش کا الزام لگایا کہ اب معلوم ہوا کہ تم سب موسیٰ کے شاگرد ہو اسی جادوگر نے تمہیں جادو سکھایا ہے اور تم نے سازش کر کے اس کے سامنے اپنی ہار مان لی…
Read the full tafseer →فرعون کا سیاسی اشغلہ
اس نے ساحروں سے کہا تم نے بدون میری اجازت کے موسیٰ کو سچا مان لیا۔ اب میں سمجھ گیا کہ درحقیقت وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے اور تم نے باہمی سازش سے یہ فتح و شکست کا ڈرامہ دکھایا ہے تاکہ حکومت کی ہوا خیزی ہوا اور تم موسیٰ کے اقتدار کے لئے راہ ہموار کرو۔ یہ حکومت کے خلاف تم نے سازش کی ہے اس وجہ سے میں تمہیں وہ سزا دوں گا جو ملک کے باغیوں کو دی جاتی ہے۔ میں پہلے تمہارے ہاتھ پائوں بےترتیب کٹوائوں گا اور پھر عبرت عام کے لئے تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی کے لئے لٹکائوں گا۔ اس وقت تمہیں اندازہ ہوگا کہ میری سزا زیادہ سخت اور زیادہ پائیدار ہوتی ہے یا تمہارے گرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
71۔ 1 مِنْ خِلَافِ (الٹے سیدھے) کا مطلب ہے سیدھا ہاتھ تو بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ تو سیدھا پاؤں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
25: یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو اس نے ایک اژدہا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے جعلی سانپوں کو ایک ایک کر کے نگل لیا۔ اس پر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ چنانچہ وہ سجدے میں گرپڑے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے سجدے میں گرگئے کے بجائے سجدے میں گرا دئیے گئے۔ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا وہ اس درجہ مؤثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →’ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم (02 : 18) ” تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں جازت دیتا۔ “ یہ ایک سرکش حکمران کی سوچ ہے۔ وہ اس قدر بھی نہیں جانتا کہ یہ بیچارے خود بھی اب اپنے نفوس و قلوب کے مالک نہیں رہے۔ ان کے دلوں پر ایمان چھا گیا ہے۔ یہ خود بھی ایمان کو اب دل سے نکال نہیں سکتے۔ دل تو رحمٰن کی دو انگلیوں میں ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔
انہ لکبیرکم ……السحر (02 : 18) ” معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی۔ “ اس شخص کی نظروں میں شکست تسلیم کرنے کی اصل وجہ یہ ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان اس راستے سے داخل ہوگیا جس کا وہ سوچ بھی نہ…
Read the full tafseer →10 یعنی ہم سے بےپوچھے ہی ایمان لے آئے۔ ہمارے فیصلہ کا بھی انتظار نہ کیا۔ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہاری اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے، جنگ زرگری کر کے عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہو جیسا کہ سورة اعراف میں گزرا۔
11 یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤں، یا بایاں ہاتھ داہنا پاؤں۔
12 تاکہ تمہارا حال دیکھ کر سب عبرت حاصل کریں۔
13 یعنی تم ایمان لا کر سمجھے ہو کہ ہم ہی ناجی ہیں اور دوسرے لوگ (یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) سب ابدی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ سو ابھی تم کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 71 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ط ”
فرعون نے مخصوص شہنشاہانہ انداز میں جادوگروں کو ڈانٹ پلائی کہ تمہاری یہ جرأت ! تم لوگوں نے مابدولت کی اجازت کے بغیر موسیٰ کے رب پر ایمان لانے کا اعلان بھی کردیا ! حالانکہ میری اجازت کے بغیر تو اس کے بارے میں تمہیں زبان بھی نہیں کھولنا چاہیے تھی۔
اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”
اب فرعون کو ایک اور چال سوجھی۔ جس طرح عزیز مصر کی بیوی نے اپنے خاوند کو سامنے دروازے پر دیکھ کر یکدم پینترا بدلا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ یوسف اس کی آبرو کے درپے ہوا تھا ‘ اسی طرح فرعون نے جادوگروں کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم لوگوں نے…
Read the full tafseer →50 فرعون نے ایمان لانے والے جاوگروں کو اتنی سخت دھمکی کیوں دی ؟ ایک تو فرعون اور اس کے حواری میدان میں مقابلہ میں مات کھاچکے تھے جسے لوگوں کی ایک کثیر تعداد بچشم خود دیکھ لیا تھا۔ دوسرے یہ ستم ہوا کہ جن جادوگروں کے بل بوتے یہ مقابلہ رچایا گیا تھا وہ کوئی عذر معذرت کرنے کے بجائے خود ایمان لے آئے۔ تو اس دوہری شکست نے فرعون کو سیخ پا کردیا۔ اور لوگوں کو مزید کچھ عرصہ کے لئے الو بنائے رکھنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے بچائے رکھنے کے لئے یہ تدبیر سوچی کہ ان جادوگروں کو ہی غدار اور جاسوس قرار دیا جائے اور اعلان کردیا کہ فی الواقعہ یہ جادوگر موسیٰ کے شاگرد معلوم ہوتے ہیں اور ان دونوں کا مشن…
Read the full tafseer →75۔ یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں۔ حاشیہ سورة اعراف (پ 9) میں گزر چکا۔ (آیت) ” قبل “ سے یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اجازت مانگنے کے بعد وہ اجازت ایمان لانے کی دے دیتا۔ معنی صرف ” بدون “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔ جیسے سورة کہف کی آیت قبل (آیت) ” قبل ان تنفد کلمت ربی “۔ الخ کا یہ مفہوم نہیں کہ کلمات رب کبھی ختم بھی ہوچکیں گے، بلکہ وہاں بھی ” قبل “ کے معنی بدون یا بغیر ہی کے ہیں۔
76۔ (تاکہ دوسرے بھی عبرت حاصل کریں) سولی کی سزا دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے۔ اور یہ ہاتھ پیرالٹے طرف سے کاٹنے کی سزا گوآج ” وحشیانہ “ معلوم ہو، لیکن قدیم قوموں کا معمول عام رہی ہے۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف، پ 9 کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح…
Read the full tafseer →قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر فرعون نے (جادوگروں سے)
کہا کہ میری اجازت کے بغیر تم موسیٰ پر ایمان لے آئے واقعی وہ (سحر میں) تم سے بڑا ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے۔
لَکُمْ (ایمان کے بعد بِ آنا چاہئے لیکن) اس جگہ لام آیا ہے کیونکہ اَمَنْتُمْکے اندر اتباع کا مفہوم پوشیدہ ہے (اور اتباع کے بعد اگر آتا ہے تو لام آتا ہے ب نہیں آتا یعنی تم نے موسیٰ کی بات کو مان لیا اور اس کے پیرو ہوگئے)
اِنَّۂ لَکَبِیْرُکُمْ یعنی جادو میں تمہارا بڑا ہے تم سے زیادہ جادو مکرر جانتا ہے اسی لئے تم پر غالب آگیا اس کا نبوت کا دعویٰ غلط ہے یا کبیر سے مراد ہے استاد یعنی یہ تمہارا استاد ہے۔
الَّذِیْ…
Read the full tafseer →(71) فرعون نے یہ دیکھ کر ان کو دھمکایا کہ میری اجازت کے بغیر تم حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئے موسیٰ ؑ تو جادو میں تمہارے استاد ہیں، میں ابھی تم سب کا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر کٹواتا ہوں اور تم سب کو کھجور کے درختوں پر ٹنگواتا ہوں اور یہ بھی تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ موسیٰ ؑ وہارون ؑ کے رب کا عذاب سخت اور دیرپا ہے یا میرا۔
Read the full tafseer →اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۚ : یعنی یہ تمہارا ”گرو“ ہے اور تم اس کے چیلے ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم آپس میں طے کرکے آئے ہو کہ پہلے چیلے ایک شعبدہ دکھائیں گے، پھر وہ سب کے سامنے ”گرو“ سے شکست کھا لیں گے، تاکہ دیکھنے والے ان کے ”گرو“ کا کہنا مان لیں اور اس کے معتقد بن جائیں۔ فرعون نے یہ شبہ اسی وقت پیدا کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی ان کے متبع ہوجائیں۔
فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ۔۔ : شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی، تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہوجائیں۔
فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ : ”النَّخْلِ“ ”جِذْعٌ“ (جیم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [اٰمَنْتم لَهٗ : تم لوگوں نے بات مان لی اس کی ] [قَبْلَ ان : اس سے پہلے کہ ] [اٰذَنَ : میں اجازت دیتا ] [لَكُمْ : تم لوگوں کو ] [انهٗ : بیشک یہ ] [لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِي : یقینا تم لوگوں کا وہ بڑا ہے جس نے ] [عَلَّمَكُمُ : سکھایا تم لوگوں کو ] [السِّحْرَ : جادو ] [فَلَاُقَطِّعَنَّ : تو میں لازماً کاٹوں گا ] [اَيْدِيَكُمْ : تمہارے ہاتھ ] [وَاَرْجُلَكُمْ : اور تمہارے پائوں ] [مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف) سے ] [وَّلَاُوصَلِبَنَّكُمْ : اور میں لازماً پھانسی دوں گا تم لوگوں کو ] [فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ : کھجور کے تنوں میں ] [وَلَتَعْلَمُنَّ : اور تم لوگ لازماً جان لو گے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
جادو گروں کو فرعون کا دھمکی دینا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کی ٹہنیوں پر لٹکادوں گا، جادو گروں کا جواب دینا کہ تو جو چاہے کرلے ہم تو ایمان لے آئے
جب جادو گروں نے ہار مان لی اور موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاکر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون کو بڑی خفت ہوئی اور بھرے مجمع میں اسے ذلت اٹھانی پڑی کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور تو کچھ نہ بن سکا جادو گروں پر غصہ اتارا، گر جاچمکا اور کہنے لگا کہ تم کو ان پر ایمان لانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا لازم تھا میری اجازت کے بغیر ہی تم ان پر ایمان لے آئے بس سمجھ میں آگیا کہ یہ تمہارا سردار ہے اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے تم سب نے ملکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →43:۔ جب فرعون نے یہ ماجرا دیکھا تو سٹ پٹایا اور جھنجھلا کر بولا کیا میرے اجازت کے بغیر ہی تم اس پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ تمام جاوگر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں۔ اس سے اسے ساری قوم کے متاثر ہوجانے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے قوم کے دلوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی کہ جادوگروں کا ایمان لے آنا کوئی معتد بہ چیز نہیں۔ کیونکہ وہ میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہیں۔ اس کے بعد شاید فرعون نے یہ محسوس کیا کہ جادوگر یا قوم کے سمجھدار لوگ یہ کہیں کہ جادوگروں کو ایمان لانے کے لیے تیری اجازت کی کیا ضرورت تھی جب کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سچائی کا مشاہدہ کرلیا۔ اس لیے اس نے مزید کہا ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ 0ۭ اِنَّہٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ 0ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ 0ۡوَلَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰي 71
وأَذِنَ :
استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] .
( اذ ن) الاذن
اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
تفسیر : اس زمانہ کے موافق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قسم کے معجزات دیے گئے تھے) تو سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ موسیٰ اور ہارون کے رب پر ہم ایمان لائے۔ رب ہارون و موسیٰ اس لیے کہا کہ وہ معبود حقیقی کو جھوٹے معبودوں سے امتیاز کردیں کیونکہ ان کے عقائد میں بہت سے رب ٹھہرے ہوئے تھے۔ فرعون بھی مصریوں کا رب کہلاتا تھا۔ اس بات پر فرعون سخت ناخوش ہوا کہ میری اجازت کے بغیر تم کیوں ایمان لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری اور موسیٰ کی باہم سازش ہے ‘ وہ بڑا جادوگر تمہارا استاد معلوم ہوتا ہے۔ اول تو تمہارے ہاتھ پائوں کٹوائوں گا من خلاف کہ دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں یا برعکس تاکہ دونوں طرف نکمی…
Read the full tafseer →قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ط اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج فَـلَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلاَ فٍ وَّلَاُ وَصَلِّبَنَّـکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ ز وَلَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَـآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 71)
(فرعون نے کہا کہ تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا، بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی ہے، اب میں تمہارے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا، پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی میدان میں پھینکنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان اور کامیابی کا یقین دلانے کے بعد حکم فرمایا آپ کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے اسے فی الفور میدان میں پھینک دیں۔ جونہی آپ اسے میدان میں پھینکیں گے تو آپ کی لاٹھی ان کے کیے دھرے کو نگل جائے گی۔ یقین رکھو جادوگرجہاں کہیں ہوں اور جس قدر جادو کا مظاہرہ کریں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر میدان میں کودنے والے سانپوں کو نگل گیا۔ یہ منظر اس قدر ہیبت ناک اور…
Read the full tafseer →ساحروں کے ایمان پر فرعونی تقریر :
71: قَالَ اٰمَنْتُمْ (فرعون نے کہا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے)
قراءت : امنتم حفص نے بلا حد پڑھا ہے۔ اور بصری اور شامی، حجازی قراء نے ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پڑھا۔ دیگر قراء نے دو ہمزہ کے ساتھ۔ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ (اس پر اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا) ہٗ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ محاورہ میں امن بہ اور امن لہ دونوں استعمال ہوتے ہیں۔
اِنَّہٗ لَکَبِیْرُ کُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ (واقعہ وہ تم سے بڑا ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے) کبیر کا معنی بڑا ہونے یا تمہارا استاذ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اہل مکہ معلم کو کبیر کہتے ہیں اَمَرَنِیْ…
Read the full tafseer →71۔ قال آمنتم لہ قبل ان آذان لکم انہ لکبیرکم،۔ کہ یہ تمہارا سردار اور تمہارا استاد سکھانے والا ہے۔ الذی علکم السحر فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف والاصلبنکم فی جذوع النخل۔ درخت کھجور کے تنوں میں لمبا ہوتا ہے دور سے نظر آتا ہے۔ ولتعلمن اینااشد عذابا ، ، یعنی میں تم کو اب موسیٰ پر ایمان لانے کی زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یاموسی کا رب تم کو زیادہ سخت عذاب دے سکتا ہے۔ اگر تم اس پر ایمان نہ لاتے ، وابقی، اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
70۔ 73:۔ ایک جادوگر دوسرے جادوگر کے جادو کے عمل اور منتر کو اگر بگاڑ دے تو جادو کا اثر مٹ کر اصل چیز نظر آنے لگتی ہے مثلا رسی کا کوئی جادوگر اگر سانپ بنادے اور دوسرا جادوگر اس پہلے جادوگر کے جادو کے منتر کو بگاڑ دے تو اصل رسی نظر آنے لگے گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا جب ان اصلی رسیوں اور لکڑیوں کو بھی نگل گیا جس کو جادوگروں نے سانپ کی صورت بنا کر زمین پر چھوڑا تھا تو جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ تائید غیبی ہے جادو کا اثر نہیں ہے اس لیے فورا وہ سجدے میں گر پڑے اور مسلمان ہوگئے اگرچہ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے مسلمان ہوجانے پر ان کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالنے اور سولی دینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
66 جادوگروں کا برملا اعلان ایمان : سو وہ لوگ موسیٰ کا معجزہ دیکھتے ہی بےساختہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لائے موسیٰ اور ہارون کے رب پر کہ یہ جادو نہیں ہوسکتا بلکہ خدائی قوت کا مظہر ہے۔ پس حق وہی ہے جسکی دعوت موسیٰ اور ہارون دے رہے ہیں۔ پس ہمیں یقین آگیا ہے کہ موسیٰ اور ہارون ہی سچے ہیں اور رب حقیقی وہی ہے جس کو موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ اس لیے ہم صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے اور اپنے سابقہ کفر اور کفریات سے تائب ہوگئے۔ سو انسان کے اندر اگر اعتراف حق کی کوئی رمق موجود ہو تو ساحر کے شعبدے اور نبی کی معجزے کے درمیان فرق کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی وہ تمہارا گورو ہے اور تم اس کے چیلے ہو جس سے … معلوم ہوتا ہے کہ تم آپس میں طے کر کے آئے ہو کہ پہلے چیلے ایک شعبدہ دکھائیں گے پھر وہ سب کے سامنے ” گورو “ سے شکستک ھا لیں گے، تاکہ دیکھنے والے ان کے ” گورو “ کا کہنا مان لیں اور اس کے معتقدبن جائیں۔ فرعون نے یہ شبہ اسی وقت پیدا کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی ان کے متبع ہوجائیں۔ (کبیر)2 شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہوجائیں۔ (کبیر)3 یعنی آیا آخرت کا عذاب جس سے موسیٰ ڈراتے ہیں۔ زیادہ سخت اور دیرپا ہے یا میرا عذاب ؟ فرعون حقیقت حال سے واقف تھا مگر…
Read the full tafseer →(20:71) امنتم لہ۔ میں ضمیر کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ تم اس کی صداقت پر ایمان لے آئے کہ وہ مرسل من اللہ ہے۔
قبل ان۔ پیشتر اس کے کہ۔ یہاں قبل سے یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اجازت مانگنے کے بعد وہ ان کو ایمان لانے کی اجازت دے دیتا۔ معنی صرف ” بدون “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔ جیسے سورة الکہف کی آیت قبل ان تنفد کلمات ربی۔ (18:109) کا یہ مفہوم نہیں کہ کلمات ربی کبھی بھی ختم ہو چکیں گے بلکہ وہاں بھی قبل کے معنی ” بدوں “ یا ” بغیر “ کے ہیں۔
انہ۔ میں بھی ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ کے لئے ہے۔ انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر۔ وہ (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام) یقینا تمہارا بڑا (گرو) ہے جس نے تم کو بھی جادو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں مر کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا، وہ ہمیشہ اسی حالت میں دوزخ میں رہے گا کہ نہ تو سختی اس کی موت کا سبب قرار پا سکے گی، نہ زندگی ہی سے کچھ فائدہ پہنچے گا۔ اور جو ایماندار شخص نیک عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا وہ عقبیٰ میں بڑا رتبہ پائے گا کہ ہمیشہ جنت رہے گا۔ کیونکہ شرک سے بچنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے یہی بدلہ مقرر کیا ہے۔ کافر اور مومن کی دوزخ میں حالت
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے۔ کلمہ گو گناہ گار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے ، وہ جل کر مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر میری شفاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 2) جادوگروں نے اپنی فریب کاریوں کے مقابلہ میں جب حقیقت کی جلوہ گری دیکھی ، تو چونکہ صاحب بصیرت تھے ، فورا اللہ کے سامنے جھک گئے اور بےاختیار پکار اٹھے ، کہ ہم رب موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو جانتے ہیں ، اس کی قدرتیں بےپناہ اور عظیم ہیں ، فرعون نے جب یہ منظر آنکھوں سے دیکھا تو بےتاب ہوگیا ، اور حاکمانہ انداز میں دھمکیاں دینے لگا جادوگروں کے دل میں چونکہ ایمان کی قوت راسخ ہوچکی تھی اس لئے وہ بےخوف ہوگئے ، اور جرات کے ساتھ فرعون سے کہہ دیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو ، ہم ان دھمکیوں سے خائف نہیں جن کا تعلق محض اس دنیا سے ، ہمارے دل حق کی روشنی سے منور ہوچکے ہیں اور ان میں…
Read the full tafseer →-7 1 فرعون یہ دیکھ کر بہت سٹ پٹایا اور جادوگروں سے کہنے لگا کہ تم میری اجازت اور حکم دینے سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان آئے میں نے تم کو اجازت نہیں دی اور تم اس پر ایمان لے آئے بلاشبہ وہ موسیٰ تم سب کا بڑا اور استاد ہے جس نے تم کو یہ جادو سکھایا اور تعلیم کیا ہے لہٰذا ! اب تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوائوں گا اور تم کو کھجوروں کے ٹھنڈ پر سولی دوں گا اور یقینا تم کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ہم دونوں یعنی میں اور موسیٰ کے پروردگار میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہوتا ہے۔
یعنی اعجاز موسوی کے بعد جادوگروں کے نعرہ حق نے رنگ بدل دیا فرعون نے یہ دیکھ کر جادوگروں کو الزام دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ف 5۔ فرعون کا یہ کہنا کہ علمکم السحر عوام کو فریب دینے کے لئے تھا، ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی بےتعلقی وہ بھی جانتا تھا۔
Read the full tafseer →فرعون نے ایمان لانے والے ساحروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ساز باز کرنے والے قرار دیا :
71۔ فرعون نے جب دیکھا کہ میدان ہاتھ سے نکل گیا تو اس نے وہی کچھ کیا جو کچھ طاقتور شکست کھانے کے بعد کیا کرتا ہے ۔ اس نے اپنے ساحروں کو کہا جس کو وہ جمع کرکے لایا تھا کہ اچھا تم میری اجازت کے بغیر ہی ایمان لے آئے ہو بڑا شوق تھا تم کو موسیٰ کے ساتھ ایمان لانے کا معلوم ہوتا ہے کہ تم سازشی گروہ ہو اور اندرون خانہ تمہاری موسیٰ سے سازباز تھی اور یہ جو کچھ تم نے کیا ہے آپس میں مل کر کیا ہے کیونکہ تم بھی اسی خاندان کے چشم وچراغ ہو اس لئے تم نے مار آستین کا کردار کیا ہے ” ضرور وہی تمہارا بھی سردار ہے جس نے تم…
Read the full tafseer →قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ (He [ the Pharaoh ] said, "You have believed in him before I permit you" - 20:71). The Pharaoh, thus disgraced before a vast multitude, was furious and he stormed at the magicians how they dared accept the religion brought by Sayyidna Musa (علیہ السلام) without his prior permission. He suspected that they all were Sayyidna Musa's (علیہ السلام) pupils who taught them the magic and had accepted defeat in connivance with him.
فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ (I will certainly cut apart your hands and your legs from opposite…
Read the full tafseer →45. In(Surah Al-Aaraf, Ayat, 123), it has been stated: Indeed it was a plot you conspired in the city to deprive the rightful owners of their power. Here the same thing has been further explained, as if to say: It is not merely a plot between you and him but it appears that Moses is your master and leader. You conspired beforehand that you would be defeated by your master in the encounter to prove that he was a Messenger who had shown the miracle of the staff to frustrate your magic and bring about a political revolution in the country.
46. That is, right hand and left foot or vice versa.
47.…
Read the full tafseer →