Explained with ayahs 71–73
نتیجہ موسیٰ ؑ کی صداقت کا گواہ بنا۔
اللہ کی شان دیکھئے چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اب راہ راست پر آجاتا۔ جن کو اس مقابلے کہ لئے بلوایا تھا وہ عام مجمع میں ہارے۔ انھوں نے اپنی ہار مان لی اپنے کرتوت کو جادو اور حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کردہ معجزہ تسلیم کرلیا۔ خود ایمان لے آئے جو مقابلے کے لئے بلوائے گئے تھے۔ مجمع عام میں سب کے سامنے بےجھجک انھوں نے دین حق قبول کرلیا۔ لیکن یہ اپنی شیطانیت میں اور بڑھ گیا اور اپنی قوت وطاقت دکھانے لگا لیکن بھلاحق والے مادی طاقتوں کو سمجھتے ہی کیا ہیں ؟ پہلے تو جادوگروں کے اس مسلم گروہ سے کہنے لگا کہ میری اجازت کے بغیر تم اس پر ایمان کیوں…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 49
دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے " یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم ان روشن نشانیوں کے مقابلے میں جو ہمارے سامنے آ چکی ہیں، اور اس ذات کے مقابلے میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، تجھے ترجیح دیں "۔
Read the full tafseer →قَالُوْا لَنْ نُّؤ ْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِيْ فَطَرَنَا، جادوگروں نے فرعون کی یہ سخت دھمکی اور سخت سزا دینے کا اعلان سن کر اپنے ایمان پر بڑی پختگی کا ثبوت دیا کہنے لگے کہ ہم تجھے یا تیرے کسی قول کو ان بینات و معجزات پر ترجیح نہیں دے سکتے جو حضرت موسیٰ ؑ کے ذریعے ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ جادوگر جب سجدہ میں گرے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کے ان مقامات عالیہ اور نعمتوں کا مشاہدہ کرا دیا جو ان کو ملنے والے تھے اس کو ان لوگوں نے کہا کہ ان بینات کے ہوتے ہوئے ہم تیری بات نہیں مان سکتے (قرطبی) نیز خالق کائنات رب سموات کو چھوڑ کر تجھے اپنا رب نہیں…
Read the full tafseer →ایمان کا کرشمہ
فرعوکن نے دھمکی تو بڑی سخت سنائی اور اسے توقع رہی ہوگی کہ وہ اس دھمکی سے ساحروں کو مرعوب کو لے گا لیکن اب اس کا سابقہ پیشہ ور جادوگروں سے نہیں بلکہ راسخ الایمان مومنوں سے تھا۔ انہوں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر صاف سنا دیا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کہ گزرو اب ہم ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے مشاہدے میں آچکی ہیں اور اپنے اس خالق پر جس نے ہمیں وجود بخشا ہے تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں۔ تم اگر کچھ کرسکتے ہو تو اسی دنیا کی زندگی کا کرسکتے ہو اور ہمیں اس دنیا کی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے … دیکھا آپ نے ایمان کا کرشمہ ! یہی وہی جادوگر ہیں جن کا حال قرآن میں دوسری…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب والذی فطرنا کا عطف ما جاءنا پر ہو اور یہ بھی صحیح ہے تاہم بعض مفسرین نے اسے قسم قرار دیا ہے۔ یعنی قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہم تجھے ان دلیلوں پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے سامنے آچکیں۔
72۔ 2 یعنی تیرے بس میں جو کچھ ہے وہ کرلے ہمیں معلوم ہے کہ تیرا بس صرف اس دنیا میں ہی چل سکتا ہے جب کہ ہم جس پروردگار پر ایمان لائے ہیں اس کی حکمرانی تو دنیا وآخرت دونوں جگہوں پر ہے مرنے کے بعد ہم تیری حکمرانی اور تیرے ظلم وستم سے تو بچ جائیں گے کیونکہ جسموں سے روح کے نکل جانے کے بعد تیرا اختیار ختم ہوجائے گا لیکن اگر ہم اپنے رب کے نافرمان رہے تو ہم مرنے کے بعد بھی رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
25: یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو اس نے ایک اژدہا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے جعلی سانپوں کو ایک ایک کر کے نگل لیا۔ اس پر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ چنانچہ وہ سجدے میں گرپڑے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے سجدے میں گرگئے کے بجائے سجدے میں گرا دئیے گئے۔ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا وہ اس درجہ مؤثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →قالوا لن ……وابقیٰ (37)
’ یہ ہے ایمان کا احساس ، ان دلوں کے اندر جو چند لمحات قبل فرعون کی پوجا کرتے تھے اور فرعون کے قریب کے لئے وہ ایک دور سے سے آگے بڑھتے تھے۔ لیکن اچانک ان کے دلوں میں قوت کا ایک نیا سرچشمہ پھوٹ پڑا۔ اب وہ فرعون کی مملکت ، اس کی قوت ، اس کے مرتبے اور اس کے اقتدار کو چیلنج کر رہے ہیں۔
قالوا لن نوثرک علی ماجآء نا من البینت والذی فطرنا (02 : 28) ” جادوگروں نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی تجیھ ترجیح دیں۔ “ یہ بات ہمارے لئے بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اللہ جل شانہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے۔
فاقض ما انت قاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
1 یعنی ہم ایسے صاف دلائل کو تیری خاطر سے نہیں چھوڑ سکتے اور اپنے خالق حقیقی کی خوشنودی کے مقابلہ میں تیری کچھ پروا نہیں کرسکتے۔ اب جو تو کرسکتا ہے کر گزر۔ تیرا بڑا زور یہ ہی چل سکتا ہے کہ ہماری اس فانی زندگی کو ختم کر دے۔ سو کچھ مضائقہ نہیں، ہم پہلے ہی دارالفناء کے مقابلہ میں دارالقرار کو اختیار کرچکے ہیں۔ ہم کو اب یہاں کے رنج و راحت کی فکر نہیں۔ تمنا صرف یہ ہے کہ ہمارا مالک ہم سے راضی ہوجائے اور ہمارے عام گناہوں کو خصوصاً اس گناہ کو جو تیری حکومت کے خوف سے زبردستی کرنا پڑا (یعنی حق کا مقابلہ جادو سے) معاف فرما دے۔ کہتے ہیں کہ جادوگر حضرت موسیٰ کے نشان دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ جادو نہیں۔…
Read the full tafseer →آیت 72 قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَا جَآءَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا ”
اب ہمارے رب کی طرف سے ہم پر حق واضح کردیا گیا ہے ‘ حقیقت ہم پر منکشف ہوچکی ہے ‘ ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں ‘ اب ہمارے لیے تیری مرضی و منشا کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔
فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ط ”
اب تو ہمیں جو سزا دینا چاہے دے لے ‘ خواہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ‘ مگر ہم جس حق پر ایمان لائے ہیں اب اس سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
اِنَّمَا تَقْضِیْ ہٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ”
تو ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کر بھی کیا سکتا ہے ؟ صرف ہماری اس دنیوی زندگی ہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتا ہے نا ! جو آج نہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
51 جادوگروں کی جرأت ایمانی اس سزا کے اعلان پر جادو گر فرعون سے بڑی جرأت سے کہنے لگے : تم جو چاہے سمجھو ہم نے تو وہی بات کہی ہے جس کی ہمارے ضمیر نے شہادت دی ہے۔ ہم سب کچھ سمجھ سوچ کر ایمان لائے ہیں۔ لہذا اب تم جو سزا دینا چاہو دے لو۔ زیادہ سے زیادہ تم یہی کچھ کرسکتے ہو کہ ہمیں جان سے مار ڈالو گے، اور اس بات کی اب ہمیں پروا نہیں رہی۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری سابقہ خطائیں معاف فرما دے اور بالخصوص اس گناہ کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور ہم ان پیغمبروں کے مقابلہ پر اتر آئے۔ کہتے ہیں کہ جب جادوگروں نے سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون کی شکل و صورت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ جادوگر نہیں…
Read the full tafseer →78۔ (جو بہرحال آنی وفانی ہے) ساحر اتنے ہی دیر میں ایمان کی برکتوں سے پوری طرح مشرف اور عزم و ارادہ کے پختہ ہوچکے ہیں، ایمان کی حلاوت ان کے رگ وپے میں نفوذوسرایت کرچکی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ استعداد کا کامل ہونا مبتدی کو منتہی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ چناچہ یہ جواب ساحروں کے منتہی ہونے پر دال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : فرعون نے کہا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے ءَاٰمَنْتُمْ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کو الف سے بدل کر بلاشبہ وہ تمہارا بڑا گرو ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے میں تم سب کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کٹواتا ہوں خلاف حال ہے معنی میں مختلفۃ کے ہے یعنی داہنے ہاتھوں کو اور بائیں پیروں کو اور تم سب کو کھجوروں کے تنوں پر لٹکوا دوں گا فی جُذُوعِ النخل ای عَلَیھَا اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں یعنی مجھ میں اور موسیٰ کے رب میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے، یعنی کس کی مخالفت شدید ہے اور دیرپا ہے ان لوگوں نے صاف جواب دیدیا کہ ہم تجھ کو کبھی ترجیح…
Read the full tafseer →قالوا لن نوثرک علی ما جآء نا من البینت والذی فطرنا فاقض ما انت قاض
. جادوگروں نے کہا ہم تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے بمقابلہ ان دلائل کے جو ہم کو مل گئی ہیں اور بمقابلہ اس ذات کے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے پس تجھ کو جو کچھ فیصلہ کرنا ہے کر ڈال۔ یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ تجھ کو جو کچھ کرنا ہے کر ڈال مؤخر الذکر ترجمہ پر مَا انْتَ قَاضٍ ‘ اِقْضٍ کا مفعول ہوگا اور اگر قضا کا معنی فیصلہ اور حکم کہا جائے تو مَا اَنْتَاس کا مفعول نہ ہوگا کیونکہ باب قضا کے مفعول پر ب آنا ضروری ہے اس صورت میں مَا اَنْتَ قَاضٍمفعول مطلق ہوگا یعنی جو حکم تجھے دینا ہے دے ڈال۔
انما تقضی ہذہ الحیوۃ الدنیا۔ تو بجز اس کے کہ اس…
Read the full tafseer →(72) ان جادوگروں نے فرعون کو صاف جواب دے دیا کہ ہم تیری اطاعت اور عبادت کو کبھی ترجیح نہیں دیں گے ان دلائل اور اوامرو نواہی اور کتاب اور رسول کے مقابلے میں جو ہمیں ملے ہیں اور اس ذات کی عبادت کرنے پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے تمہیں جو کچھ کرنا کرو اور جو کچھ ہمارے خلاف فیصلہ کرنا چاہو، دل کھول کر کرلو تو اس دنیاوی زندگی میں تو ہمارے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے، آخرت میں تو تیرا ہم پر کوئی زور نہیں چلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا۔۔ : مگر جادوگروں کا ایمان تو ایک لمحہ میں اس قدر پختہ ہوگیا تھا کہ نہ ان کے دل میں مال و دولت اور دنیوی جاہ و منصب کی کچھ قدر باقی رہ گئی، جس کے لیے انھوں نے یہ مقابلہ کیا تھا اور نہ اب فرعون کی دھمکیوں کا ان پر کچھ اثر ہوا۔ چناچہ انھوں نے کہا کہ تو اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کہ ہماری چند روزہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دے ؟ سو ہمیں اس کی پروا نہیں۔ مگر آج ایک شخص ساٹھ سال قرآن پڑھ کر بھی حقیر دنیا کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
فرعون کے جادوگروں کی تعداد :
1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگرنوسو تھے انہوں نے فرعون سے کہا اگر یہ دونوں جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آئیں گے کیونکہ ہم سے زیادہ کوئی جادوگر نہیں ہے اور اگر ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے معجزات ہیں (تو ہم غالب نہ ہوں گے) جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کے سامنے اپنے جادو اور فریب کاری کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا تو فورا سجدہ میں گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ان کے سجدوں میں ان کے گھر (جنت میں) دکھادیئے کہ جن کی طرف ان کو لوٹ کرجانا تھا اس وقت انہوں نے کہا (آیت) ” لن نوثرک علی ما جآ ءنا من البینت “ (سے لے…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : (جادوگروں نے) کہا ] [لَنْ نُّؤْثِرَكَ : ہم ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تجھ کو ] [عَلٰي مَا : ان پر جو ] [جَاۗءَنَا : آئیں ہمارے پاس ] [مِنَ الْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں) میں سے ] [وَالَّذِي : اور اس پر جس نے ] [فَطَرَنَا : وجود بخشا ہم کو ] [فَاقْضِ : پس تو فیصلہ کر ] [مَآ : وہ جو ] [انتَ : تو ] [قَاضٍ : فیصلہ کرنے والا ہے ] [انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [تَقْضِيْ : تو فیصلہ کرتا ہے ] [هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : اس دنیوی زندگی میں ]
ترکیب : (آیت۔ 72) ۔ وَالَّذِیْ کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو عَلٰی مَا پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ” اور اس پر جس نے “ دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
جادو گروں کو فرعون کا دھمکی دینا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کی ٹہنیوں پر لٹکادوں گا، جادو گروں کا جواب دینا کہ تو جو چاہے کرلے ہم تو ایمان لے آئے
جب جادو گروں نے ہار مان لی اور موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاکر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون کو بڑی خفت ہوئی اور بھرے مجمع میں اسے ذلت اٹھانی پڑی کھسیانی بلی کھمبا نوچے اور تو کچھ نہ بن سکا جادو گروں پر غصہ اتارا، گر جاچمکا اور کہنے لگا کہ تم کو ان پر ایمان لانے کے لیے مجھ سے اجازت لینا لازم تھا میری اجازت کے بغیر ہی تم ان پر ایمان لے آئے بس سمجھ میں آگیا کہ یہ تمہارا سردار ہے اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے تم سب نے ملکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →45:۔ فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں پوری جرات ایمانی کے ساتھ جادوگروں نے کہا کہ حق کے دلائل ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے جن سے ہم اپنے خالق ومالک کو پہچان لیا ہے۔ لہذا اب ان دلائل سے روگردانی کر کے اور اپنے خالق کو چھوڑ کر تجھے کبھی ماننے کے نہیں ہمیں نہ تیرے عذاب کا ڈر ہے نہ تیری داد و دہش کی ہمیں ضرورت ہے۔ ” فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ “ تو ہمارے ساتھ جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کرلے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ ” وَالَّذِيْ فَطَرَنَا “ یہ ” مَا جَاءَنَا “ پر معطوف ہے۔
46:۔ آیت کا یہ حصہ اور اگلی آیت ماقبل کے لیے دلیل و علت ہے مع ما بعدہ تعلیل لعدم المبالاۃ المستفاد مما سبق من الامر بالقضاء (روح ج 16…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِيْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ 0ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ ہٰذِہِ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا 72ۭ
أثر
والإيثار للتفضل ومنه :[ آثرته، وقوله تعالی: وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الحشر/ 9] وقال : تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 91] وبَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ الأعلی/ 16] .
وفي الحدیث : «سيكون بعدي أثرة» «5» أي : يستأثر بعضکم علی بعض .
( ا ث ر )
اور الایثار ( افعال ) کے معنی ہیں ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسندکرنا اس سے آثرتہ ہے یعنی میں نے اسے پسند کیا ۔ قرآن…
Read the full tafseer →1 ؎ بہت کرے گا ہاتھ پاؤں کٹوا ڈالے گا یا مروا ڈالے گا سو یہ چند زہ ہے حیات ابدی کی کوئی سزا بھی تیرے اختیار میں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَاجَـآئَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَـآ اَنْتَ قَاضٍ ط اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَلَنَا خَطٰیٰـنَا وَمَـآ اَکْرَھْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ ط وَاللّٰہُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی۔ (طٰـہٰ : 72، 73)
(انھوں نے کہا کہ ہم ہرگز تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں ان روشن دلائل پر جو ہمارے سامنے آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کر گزرو جو کچھ کرسکتے ہو، تم زیادہ سے زیادہ اسی زندگی کا فیصلہ کرسکتے ہو۔ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائوں کو معاف کردے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی میدان میں پھینکنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان اور کامیابی کا یقین دلانے کے بعد حکم فرمایا آپ کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے اسے فی الفور میدان میں پھینک دیں۔ جونہی آپ اسے میدان میں پھینکیں گے تو آپ کی لاٹھی ان کے کیے دھرے کو نگل جائے گی۔ یقین رکھو جادوگرجہاں کہیں ہوں اور جس قدر جادو کا مظاہرہ کریں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر میدان میں کودنے والے سانپوں کو نگل گیا۔ یہ منظر اس قدر ہیبت ناک اور…
Read the full tafseer →ساحروں کا جواب :
72: قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَ کَ (جادوگروں نے کہا ہم تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے) تمہیں ہرگز پسند نہ کریں گے۔ عَلٰی مَا جَآ ئَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ (ان دلائل کے مقابلہ میں جو ہم کو میسر آچکے) وہ قطعی دلائل جو موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہم کو پیدا کیا۔
نحو : اس کا عطف ما جاء نا پر ہے ای لن تختا رک علی الذی جاء نا ولا علی الذی خلقنا۔ ہم ہرگز تمہارا چنائو نہ کریں گے اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا اور نہ ان دلائل کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آچکے۔ نمبر 2۔ یہ قسم ہے اور اس کا جواب لن نوثرکؔ قسم سے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
72۔ قالوا، جادوگر کہنے لگے ، لن نوثرک، کہ تمہیں اختیار نہیں کریں گے ، علی ماجاء نا من البینات۔ ان دلائل کے مقابلے میں مقاتل کا بیان ہے کہ یہ دلائل سے مراد یدبیضاء اور عصا اور باقی معجزات ہیں اربعض نے کہا کہ اگر یہ جادو ہے توپھرہماری رسیاں اور لاٹھیاں کہاں جائیں گی اور بعض نے کہا کہ ، بینتا ، سے مراد یقین وعلم ہے۔ قاسم بن ابی ابزی سے حکایت کی جاتی ہے کہ جب جادوگرسجدہ میں گرجائیں گے تو اللہ ان کو سجدہ سے اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک کہ ان کو سجدہ میں جنت دوزخ دکھانہ لیں۔ اور جنت کے اہل والون کو ان کے اعمال کا ثواب اور جو کچھ جنت میں ہے وہ دیکھ نہ لیں۔ اس آیت، قالو الن نوثرک علی ماجاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
70۔ 73:۔ ایک جادوگر دوسرے جادوگر کے جادو کے عمل اور منتر کو اگر بگاڑ دے تو جادو کا اثر مٹ کر اصل چیز نظر آنے لگتی ہے مثلا رسی کا کوئی جادوگر اگر سانپ بنادے اور دوسرا جادوگر اس پہلے جادوگر کے جادو کے منتر کو بگاڑ دے تو اصل رسی نظر آنے لگے گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا جب ان اصلی رسیوں اور لکڑیوں کو بھی نگل گیا جس کو جادوگروں نے سانپ کی صورت بنا کر زمین پر چھوڑا تھا تو جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ تائید غیبی ہے جادو کا اثر نہیں ہے اس لیے فورا وہ سجدے میں گر پڑے اور مسلمان ہوگئے اگرچہ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے مسلمان ہوجانے پر ان کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالنے اور سولی دینے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →69 اہل ایمان کا فرعون کو قوت ایمانی سے لبریز جواب : کہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے۔ تو تو اس دنیاوی زندگی ہی میں اپنا حکم چلا سکتا ہے اور بس۔ اس کے آگے تیرا کوئی زور نہیں۔ اور دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی ہے۔ اور یہ اگر راہ حق میں لگ جائے اور دائمی سعادت و کامیابی کا ذریعہ بن جائے تو اس سے بڑھ کر سعادت اور خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ کیا دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت اور کیسی قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت ؟ اور کس قدر عظیم انقلاب برپا کردیتی ہے یہ انسان کے اندر جبکہ اتر جاتی ہے یہ اس کے دل و دماغ میں۔ یہاں پر اس کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو کہ کہاں وہ لوگ جو ابھی کچھ ہی لمحے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 4 مگر جادو گروں کا ایمان تو ایک لمحہ میں اس قدر پختہ ہوگیا کہ اب فرعون کی دھمکیوں کا بھی ان پر کچھ اثر نہ تھا۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ تو اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کہ ہماری چند روزہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دے۔ سو ہمیں اس کی پرواہ نہیں مگر آج ایک شخص ساٹھ سال قرآن پڑھ کر بھی دنیائے دو دن کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کردیتا ہے۔ (کذافی الکبیر)
Read the full tafseer →(20:72) والذی فطرنا۔ فطرنا۔ ماضی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم فطر مصدر ۔ جس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لانا یعنی پیدا کرنا۔ اس نے ہمیں پیدا کیا۔ وہ ہمیں نیست سے ہست میں لایا۔ عدم سے وجود میں لایا۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) وائو عطف کی ہے اور اس کا عطف ماجاء نا من البینت پر ہے یعنی ان روشن دلائل کے سامنے جو ہم کو مل چکے ہیں اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔
(2) وائو قسم کے لئے ہے اس صورت میں دو وجہیں ہوں گی۔
(الف) جواب قسم محذوف سمجھا جائے اور عبارت یوں ہوگی والذی فطرنا لن نؤثرک قسم ہے اس ذات کی جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں مر کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا، وہ ہمیشہ اسی حالت میں دوزخ میں رہے گا کہ نہ تو سختی اس کی موت کا سبب قرار پا سکے گی، نہ زندگی ہی سے کچھ فائدہ پہنچے گا۔ اور جو ایماندار شخص نیک عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگا وہ عقبیٰ میں بڑا رتبہ پائے گا کہ ہمیشہ جنت رہے گا۔ کیونکہ شرک سے بچنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے یہی بدلہ مقرر کیا ہے۔ کافر اور مومن کی دوزخ میں حالت
حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے۔ کلمہ گو گناہ گار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے ، وہ جل کر مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے۔ پھر میری شفاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
[25] یعنی ایک طرف میرا عذاب اور دوسری طرف موسیٰ کے رب کا عذاب۔ فرعون کا خیال تھا کہ جادوگروں کو خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرا لے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت تھی۔ اور وہ مل کر اس کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون نے یہ آخری داؤ لگایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 2) جادوگروں نے اپنی فریب کاریوں کے مقابلہ میں جب حقیقت کی جلوہ گری دیکھی ، تو چونکہ صاحب بصیرت تھے ، فورا اللہ کے سامنے جھک گئے اور بےاختیار پکار اٹھے ، کہ ہم رب موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو جانتے ہیں ، اس کی قدرتیں بےپناہ اور عظیم ہیں ، فرعون نے جب یہ منظر آنکھوں سے دیکھا تو بےتاب ہوگیا ، اور حاکمانہ انداز میں دھمکیاں دینے لگا جادوگروں کے دل میں چونکہ ایمان کی قوت راسخ ہوچکی تھی اس لئے وہ بےخوف ہوگئے ، اور جرات کے ساتھ فرعون سے کہہ دیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو ، ہم ان دھمکیوں سے خائف نہیں جن کا تعلق محض اس دنیا سے ، ہمارے دل حق کی روشنی سے منور ہوچکے ہیں اور ان میں…
Read the full tafseer →-72 ان نو مسلم جادوگروں نے جواب دیا کہ ہم ان صاف اور واضح دلائل کے مقابیل میں جو ہم کو پہنچ چکے ہیں اور اس اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں جس نے ہم کو پیدا کیا ہے تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے اور نہتجھ کو اختیار کریں گے بس تجھ کو جو کچھ کرنا ہے وہ کر گزر اور کر ڈال تو محض اس دنیا کی زندگی ہی میں جو کچھ کرے کرلے اور کر ہی کیا سکتا ہے تو اسی زندگی ہی میں اپنا حکم چلا سکتا ہے۔ نو مسلم جادوگروں نے دلیرانہ جواب دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ جس خدا نے اپنے واضح دلائل ہم تک پہنچائے اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہم اس کے مقابلہ میں تجھ کو ت رجیح نہیں دے سکتے۔ رہی سزا تو ہم ہر قسم کی سزا بھی جھیلنے کو تیار ہیں تیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ف 5۔ فرعون کا یہ کہنا کہ علمکم السحر عوام کو فریب دینے کے لئے تھا، ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی بےتعلقی وہ بھی جانتا تھا۔
Read the full tafseer →ساحرین نے قبول اسلام کے بعد فرعون کے رو دررو جواب دیا :
72۔ فرعون نے دھمکی تو بہت سخت دی تھی لیکن ایمان کا کا نشہ بھی کوئی معمولی نشہ نہیں بلکہ سارے نشوں سے بڑا نشہ ہے کہ اس شراب کو جو ایک بار پی لے ساری زندگی اس کے خمار میں گزرتی ہے اور نشہ ہے کہ فرو ہونے کا کبھی نام ہی نہیں لیتا ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس مالک کے تو سارے ہی رہنے والے مومن مسلمان ہیں لیکن کسی پر ہم یہ نشہ نہیں دیکھ رہے ؟ صحیح ہے کہ کسی پر یہ نشہ نہیں لیکن کیا ایمان ہے ؟ بلاشبہ ہم مسلمان ہیں لیکن من حیث القوم ہمارا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کا مذہب کا غذات میں اسلام لکھا ہے اور یہ بات تو ایمان کے نشہ کی ہو رہی ہے اور وہ اپنی جگہ پر…
Read the full tafseer →قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا (They said, "We will never prefer you over the clear signs that have come to us, and over Him who created us." - 20:72). The magicians, however, stood firm and did not waver in the face of the Pharaoh's threats. They told him plainly that they would not give him, nor anything he said, preference over the clear proofs and the miracles which Allah had shown to them. Sayyidna ` Ikrimah ؓ says that when the magicians prostrated themselves before Allah, He gave them a glimpse of the eminent places and the gifts…
Read the full tafseer →49. It may also be interpreted like this: It cannot be that we should prefer you to these plain signs which have come before us and to that Being Who has created us.
Read the full tafseer →