Taa-Haa 20:70

Taa-Haa · from ayah 70

20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَمُوْسٰی ۟فَاُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوۡنَ وَمُوۡسٰى

(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So the magicians fell down in prostration. They said, "We have believed in the Lord of Aaron and Moses."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:70

آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے اور پکار اٹھے "مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے رب کو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ (یہی ہوا اور) سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے۔ کہنے لگے کہ : ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو سب جادوگر سجدے میں گرالیے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(پھر ایسا ہی ہوا) پس سارے جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہنے لگے: ہم ہارون اور موسٰی (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لے آئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جادو گر گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے، انھوں نے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ (یہ منظر دیکھ کر) جادوگر بےساختہ سجدہ میں گرپڑے۔ کہنے لگے : ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لے آئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس (موسیٰ کا یہ معجزہ دیکھنا تھا کہ) سب جادوگر بےساختہ سجدے میں گرپڑے، اور پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے موسیٰ اور ہارون کے رب پر،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر تو جادوگر سجدہ میں گرگئے۔ (اور) بول اٹھے ہم تو ایمان لے آئے ہارون اور موسیٰ ؑ کے پروردگار پر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رب پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادو گر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Eventually the magicians were impelled to fall down prostrate and said: "We believe in the Lord of Moses and Aaron."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the magicians were led (by the truth) to fall in prostration. They said, :We have (now) believed in the Lord of Harun and Musa.

— Muhammad Taqi Usmani

So, the magicians were led (by the truth) to fall in prostration. They said, :We have (now) believed in the Lord of Harun and Musa.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So the magicians fell down prostrate. They said: "We believe in the Lord of Harun and Musa."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then the wizards were (all) flung down prostrate, crying: We believe in the Lord of Aaron and Moses.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So the magicians fell down in prostration. They said, "We have believed in the Lord of Aaron and Moses."

— Saheeh International

The magicians bowed down in prostration saying, "We believe in the Lord of Moses and Aaron".

— Muhammad Sarwar

And the magicians were cast down making obeisance; they said: We believe in the Lord of Haroun and Musa.

— Muhammad Habib Shakir

Then the magicians were cast down prostrate; they said: we believe in the Lord of Musa and Harun.

— Abdul Majid Daryabadi

So the magicians were thrown down to prostration: they said, "We believe in the Lord of Aaron and Moses".

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

مقابلہ شروع ہوا۔ جادوگروں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 43 یعنی جب انہوں نے عصائے موسیٰ کا کارنامہ دیکھا تو انہیں فوراً یقین آگیا کہ یہ یقیناً معجزہ ہے، ان کے فن کی چیز ہرگز نہیں ہے، اس لیے وہ اس طرح یکبارگی اور بےساختہ سجدے میں گرے جیسے کسی نے اٹھا اٹھا کر ان کو گرا دیا ہو۔ سورة طٰهٰ 44 اس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں سب کو معلوم تھا کہ یہ مقابلہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے۔ پورے مجمع میں کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ تھا کہ مقابلہ موسیٰ اور جادوگروں کے کرتب کا ہو رہا ہے اور فیصلہ اس بات کا ہونا ہے کہ کس کا کرتب زبردست ہے۔ سب یہ جانتے تھے کہ ایک طرف موسیٰ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ ، خالق زمین و آسمان کے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں، اور اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ ، موسیٰ ؑ کو بذریعہ وحی خطاب ہوا کہ آپ کے ہاتھ میں جو چیز ہے اس کو ڈال دو ، مراد اس سے موسیٰ ؑ کی عصا تھی مگر یہاں عصا کا ذکر نہیں فرمایا۔ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ان کے جادو کی کوئی حقیقت نہیں، اس کی پروا نہ کرو اور جو کچھ بھی تمہارے ہاتھ میں ہے ڈال دو وہ ان کے سب سانپوں کو نگل جائے گا چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی عصا ڈال دی وہ ایک بڑا اژدھا بن کر ان سب جادو کے سانپوں کو نگل گیا۔ فرعونی جادوگروں کا مسلمان ہو کر سجدہ میں پڑجانا حضرت موسیٰ ؑ کی عصا نے اژدھا بن کر جب ان کے خیالی سانپوں کو نگل لیا تو چونکہ یہ لوگ جادو کے ماہرین تھے ان کو یقین ہوگیا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 70 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ نے اپنی لٹھیا زمین پر ڈلا دی اور اس نے ایک اژدھے کی طرح جادوگروں کے تمام سانپوں سنپولیوں کو نگلنا شروع کردیا۔ جادوگروں نے یہ منظر جو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گیں۔ جادوگر میں اگر کوئی رمق اعتراف حق کی ہو تو وہ اپنے شعبدہ اور نبی کے معجزہ میں سب سے زیادہ امتیاز کرنے والا ہوسکتا ہے۔ ان ساحروں کے اندر حق شناسی کی رمق تھی۔ آگے آیت 73 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر یہ احساس پہلے سے رکھتے تھے کہ حضرت موسیٰ جو چیز پیش کر رہے ہیں جادو نہیں ہے چناچہ وہ ان کے مقابل میں آنے سے کتراتے بھی تھے لیکن انہیں حکومت کے کارندوں نے سیاسی خطرات کا ہوا کھڑا کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–71

71۔ 1 مِنْ خِلَافِ (الٹے سیدھے) کا مطلب ہے سیدھا ہاتھ تو بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ تو سیدھا پاؤں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 70–72

25: یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو اس نے ایک اژدہا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے جعلی سانپوں کو ایک ایک کر کے نگل لیا۔ اس پر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں، بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ چنانچہ وہ سجدے میں گرپڑے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے سجدے میں گرگئے کے بجائے سجدے میں گرا دئیے گئے۔ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا وہ اس درجہ مؤثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فالقی السحرۃ ……موسیٰ (07) حساس اعصاب والے افراد پر بعض اوقات بجلی جیسا اثر ہوتا ہے ، بٹن دبایا اور روشنی چمک اٹھی ، اندھیرا ختم ہوا۔ ان کے دل کا سوئچ آن ہوگیا اور ایک لحظ میں ان کی دنیا بدل گئی۔ دل کافر ، اب دل مومن تھا۔ لیکن اقتدار کے نشے میں بدمست لوگوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ مرد نادان پر کالم نرم و نازک بےاثر ہوتا ہے۔ ان کو کیا پتہ کہ اللہ مقلب القلوب ہے ، دلوں میں انقلاب کی طرح آتا ہے۔ اقتدار کے نشے میں بدمست ڈکٹیٹر چونکہ طویل عرصے تک سرکشی اور نافرمانی کی حالت میں رہتے ہیں اس لئے وہ نہیں سمجھتے ، پھر ان کے اقتدار کی وجہ سے دنیا ان کے اشاروں پر چلتی ہے اس لئے وہ حق کو بھی مطیع فرمان دیکھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 ساحرین فن کے جاننے والے تھے۔ اصول فن کے اعتبار سے فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں ہوسکتا یقینا سحر سے اوپر کوئی اور حقیقت ہے، دل میں ایمان آیا اور سجدہ میں گرپڑے۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا ” اس نکتے کی وضاحت سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران کی جا چکی ہے کہ آخر کیا وجہ تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح کے بعد جادو گر تو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگئے ‘ لیکن دوسری طرف نہ فرعون پر اس کا کچھ اثر ہوا اور نہ ہی اس کے درباریوں سمیت دوسرے لوگوں پر۔ دراصل فرعون اور اس کے درباریوں نے تو یہی سمجھا کہ یہ جادوگروں کا آپس میں مقابلہ تھا جس میں بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو مات دے دی۔ جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل جادو گر جو اپنے فن کے ماہر تھے وہ اپنے کمال فن کی انتہا سے بھی آگاہ تھے اور اس کی حدود limits سے بھی خوب واقف تھے۔ جیسے آج ایک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 جادوگروں کا ایمان لانا :۔ جادوگروں نے غالبا پہلے سیدنا موسیٰ کے عصا کو اژدھا بنتے کبھی نہ دیکھا تھا۔ انھیں بس اتنا ہی بتلایا گیا تھا کہ ایک شخص جادو کے زور سے اپنی لاٹھی کو سانپ بنا دیتا ہے اور تمہیں اس کا مقابلہ کرنا ہے اور جادوگروں نے جب بچشم خود یہ دیکھ لیا کہ عصا سے بنا ہوا اژدھا ان کے بنے ہوئے سانپوں کو نگل بھی گیا ہے تو انھیں معلوم ہوگیا کہ یہ بات جادو کے علم کی بساط سے باہر ہے۔ اور موسیٰ و ہارون جادوگر نہیں بلکہ فی الواقعہ اللہ کے رسول ہیں اور جب ان پیغمبروں نے فتح کی خوشی میں اللہ کے سامنے سجدہ شکر ادا کیا تو جادوگر بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے اور بھری مجلس میں ان رسولوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ (جب انہوں نے دیکھ لیا کہ ان کا سارا سوانگ اکارت ہی گیا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدہا ان کے سارے سانپوں کو نگل گیا، اور سمجھ گئے کہ یہ کرامت واعجاز مافوق السحر ہے) مرشد تھانوی (رح) نے ان الفاظ سے یہ نکالا کہ عمل اختیاری موقوف ہے توفیق الہی پر۔ اور اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حق تعالیٰ کے الطاف جس بندہ کو چاہیں غایت کفر وعناد سے نہایت ایمان تک پہنچا دیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 55–70

آیت نمبر 55 تا 70 ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالقی السحرۃ سجدا (یہ دیکھتے ہی) جادوگر فوراً سجدہ میں گرگئے کلام میں کچھ اختصار کردیا گیا ہے (رفتار کلام محذوفات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے) اصل کلام اس طرح تھا پس موسیٰ نے فوراً اپنے ہاتھ سے لاٹھی زمین پر ڈال دی وہ فوراً اژدھا بن گئی اور جو کچھ جادوگروں نے کارستانی کی تھی سب کو نگلنے لگی اس وقت جادوگر پہچان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ خدا داد معجزہ ہے اتنا پہچاننے کے بعد فوراً توبہ کی اور سجدے میں گرگئے یا معجزے کی عظمت کا اعتراف کرنے کے لئے سجدے میں گرگئے اور خود نہ گرے بلکہ عرفانِ حق (اور تعظیم معجزہ) نے بےاختیار کر کے ان کو سجدہ میں گرا دیا گویا وہ گرا دیئے گئے۔ قالوا امنا برب ہرون وموسی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(70) غرض کہ انہوں نے عصا ڈالا اور وہ واقعی سب کو نگل گیا، جادوگر سب سجدہ میں گرگئے، یعنی اس پھرتی سے سروں کو جھکایا گویا کہ گر پڑے ہوں اور باآواز بلند کہنے لگے کہ ہم تو حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لے آئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 66–70

فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ۔۔ : ”اچانک“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ ان کے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکنے کے بعد ان کے دوڑنے اور حرکت کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صف در صف کھڑے ہوئے جادوگروں کی بیک وقت پھینکی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں سے میدان دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جادو کو سحر عظیم قرار دیا ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت (76) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف کی آیت (115) سے (126) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں چند مختصر سے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 70–76

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–71

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاُلْقِيَ : تو ڈال دیئے گئے ] [السَّحَرَةُ : جادوگر لوگ ] [سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [اٰمَنَا : ہم ایمان لائے ] [بِرَبِ هٰرُوْنَ وَمُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–76

ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ فاء فصیحہ ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا عصا زمین پر ڈالا تو وہ فورًا ایک ہیبتناک اژدھا کی شکل میں منتقل ہو کر جادوگروں کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا تو وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ اور اس کے حجم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہ ہوا۔ جب جادوگروں نے یہ سب کچھ دیکھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی کا ان کو عین الیقین حاصل ہوگیا اور فوراً بول اٹھے۔ ” اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُوْسٰی “ کہ ہم موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لے آئے اور بےاختیار سجدے میں گر پڑے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–76

ربط آیات : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاُلْقِيَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ ہٰرُوْنَ وَمُوْسٰى۝ 70 سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–71

تفسیر : اس زمانہ کے موافق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس قسم کے معجزات دیے گئے تھے) تو سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ موسیٰ اور ہارون کے رب پر ہم ایمان لائے۔ رب ہارون و موسیٰ اس لیے کہا کہ وہ معبود حقیقی کو جھوٹے معبودوں سے امتیاز کردیں کیونکہ ان کے عقائد میں بہت سے رب ٹھہرے ہوئے تھے۔ فرعون بھی مصریوں کا رب کہلاتا تھا۔ اس بات پر فرعون سخت ناخوش ہوا کہ میری اجازت کے بغیر تم کیوں ایمان لائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری اور موسیٰ کی باہم سازش ہے ‘ وہ بڑا جادوگر تمہارا استاد معلوم ہوتا ہے۔ اول تو تمہارے ہاتھ پائوں کٹوائوں گا من خلاف کہ دایاں ہاتھ اور بایاں پائوں یا برعکس تاکہ دونوں طرف نکمی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ ھٰرُوْنَ وَ مُـوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 70) (تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم نے مان لیا ہارون اور موسیٰ کے رب کو۔ ) جادوگروں کا اعترافِ حق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر جادوگروں کی تمام طلسم آرائی کو نگل گیا۔ جادوگر چونکہ جادو کی حدود کو جانتے اور اس کے اثرات کو پہچانتے تھے، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ عصائے موسیٰ نے جس طرح ہمارے کیے ہوئے سحر کے اثرات کو لقمہ دہن بنایا ہے یہ کسی جادو کا عمل نہیں کیونکہ جادو دوسرے جادو کے اثر کو ختم تو کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے ایک وقت درکار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–73

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی میدان میں پھینکنے کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان اور کامیابی کا یقین دلانے کے بعد حکم فرمایا آپ کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے اسے فی الفور میدان میں پھینک دیں۔ جونہی آپ اسے میدان میں پھینکیں گے تو آپ کی لاٹھی ان کے کیے دھرے کو نگل جائے گی۔ یقین رکھو جادوگرجہاں کہیں ہوں اور جس قدر جادو کا مظاہرہ کریں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر میدان میں کودنے والے سانپوں کو نگل گیا۔ یہ منظر اس قدر ہیبت ناک اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

70: پس موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈال دی۔ اس نے ان کے سارے سو انگ کو نگل لیا۔ اس عظیم نشانی کو دیکھ کر وہ سجدہ میں گرگئے۔ اسی کو اس آیت میں ذکر فرمایا۔ فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا (جادوگر سجدہ میں گرگئے) اخفش کا قول : انہوں نے چونکہ بہت جلد سجدہ کیا اس لئے فرمایا گویا وہ گرا دیے گئے۔ پس انکا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ وہ حمایت کفر و مخالفت میں رسیاں اور لاٹھیاں ڈال رہے تھے۔ پھر ایک گھڑی کے بعد ان کے سر شکریہ کے ساتھ سجدہ میں پڑے ہوئے تھے پس دونوں القائوں میں کتنا فرق ہے ! روایت تفسیریہ میں ہے کہ انہوں نے جنت اور اس کی منازل کو حالت سجدہ میں ملاحظہ کیا پھر سراٹھا کر پکار اٹھے۔ قَالُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 69–70

69۔ والق مافی یمینک، اس عصا کو ڈال دیجئے ۔ تلقف ، وہ سب کو نگل لے گا اور ہڑپ کرلے گا۔ ماصنعوا، ، ابن عامر نے ، تلقف ، فاء کے رفع کے ساتھ اور دوسرے قراء نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ انماصنعوا، جو انہوں نے بنایا وہ سب جادو ہے۔ کید ساحر ، جادوگروں کاحیلہ ہے اسی طرح حمزہ اور کسائی نے سین کے کسرہ کے ساتھ بغیر الف کے ذکر کیا ہے وردوسرے قراء نے ساحر پڑھا ہے کیونکہ کید کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ ولایفلح الساحر حیث اتی، یعنی جادوگر جہاں اور جس زمین میں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ ابن عباس کا قول نقل کیا ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے بعض نے ، ، اتی ، ، کا ترجمہ حیث احتال کیا ہے یعنی جو تدبیر جہاں کرے کامیاب نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–73

70۔ 73:۔ ایک جادوگر دوسرے جادوگر کے جادو کے عمل اور منتر کو اگر بگاڑ دے تو جادو کا اثر مٹ کر اصل چیز نظر آنے لگتی ہے مثلا رسی کا کوئی جادوگر اگر سانپ بنادے اور دوسرا جادوگر اس پہلے جادوگر کے جادو کے منتر کو بگاڑ دے تو اصل رسی نظر آنے لگے گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا جب ان اصلی رسیوں اور لکڑیوں کو بھی نگل گیا جس کو جادوگروں نے سانپ کی صورت بنا کر زمین پر چھوڑا تھا تو جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ تائید غیبی ہے جادو کا اثر نہیں ہے اس لیے فورا وہ سجدے میں گر پڑے اور مسلمان ہوگئے اگرچہ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے مسلمان ہوجانے پر ان کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالنے اور سولی دینے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–72

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 70–71

66 جادوگروں کا برملا اعلان ایمان : سو وہ لوگ موسیٰ کا معجزہ دیکھتے ہی بےساختہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لائے موسیٰ اور ہارون کے رب پر کہ یہ جادو نہیں ہوسکتا بلکہ خدائی قوت کا مظہر ہے۔ پس حق وہی ہے جسکی دعوت موسیٰ اور ہارون دے رہے ہیں۔ پس ہمیں یقین آگیا ہے کہ موسیٰ اور ہارون ہی سچے ہیں اور رب حقیقی وہی ہے جس کو موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ اس لیے ہم صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے اور اپنے سابقہ کفر اور کفریات سے تائب ہوگئے۔ سو انسان کے اندر اگر اعتراف حق کی کوئی رمق موجود ہو تو ساحر کے شعبدے اور نبی کی معجزے کے درمیان فرق کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–76

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–76

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 القی (گرا دیئے گئے) یعنی بےساختہ اور اس سرعت سے سجدہ میں گرپڑے جیسے کسی چیز نے انہیں گرا دیا۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:70) فالقی السحرۃ سجدا۔ لفظی ترجمہ ہوگا۔ پس گرا دئیے گئے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے ۔ یعنی وہ اس معجزہ کی حقیقت کو پاکر بےبس ہوگئے اور سجدہ میں گرگئے۔ نیز ملاحظہ ہو (7:120) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–76

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76 حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 76 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–70

جادوگروں کا ایمان لانا ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[24] جادوگر فن کے جاننے والے تھے۔ اصول فن کے اعتبار سے فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں ہوسکتا، یہ سحر سے بڑھ کر کوئی چیز ہے۔ دل میں ایمان آیا اور بےاختیار سجدے میں گرگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–73

(ف 2) جادوگروں نے اپنی فریب کاریوں کے مقابلہ میں جب حقیقت کی جلوہ گری دیکھی ، تو چونکہ صاحب بصیرت تھے ، فورا اللہ کے سامنے جھک گئے اور بےاختیار پکار اٹھے ، کہ ہم رب موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو جانتے ہیں ، اس کی قدرتیں بےپناہ اور عظیم ہیں ، فرعون نے جب یہ منظر آنکھوں سے دیکھا تو بےتاب ہوگیا ، اور حاکمانہ انداز میں دھمکیاں دینے لگا جادوگروں کے دل میں چونکہ ایمان کی قوت راسخ ہوچکی تھی اس لئے وہ بےخوف ہوگئے ، اور جرات کے ساتھ فرعون سے کہہ دیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو ، ہم ان دھمکیوں سے خائف نہیں جن کا تعلق محض اس دنیا سے ، ہمارے دل حق کی روشنی سے منور ہوچکے ہیں اور ان میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-70 حضرت موسیٰ کے عصا پھینکنے اور جادو کے سوانگ ختم ہونے کے بعد فوراً ہی جادو گر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے ہم ہارون (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لے آئے۔ یعنی اعجاز موسوی کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ موسیٰ اور ہارون اللہ تعالیٰ کے فرستادے ہیں ان کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ۔ چناچہ رب العالمین پر ایمان لانے کا اعلان کردیا اور رب ہارون و موسیٰ کہہ کر اس اشتباہ کو دور کردیا جو فرعون کا دعویٰ تھا یعنی وہ خود کو رب العالمین سمجھتا تھا اس لئے جادوگروں نے رب ہارون و موسیٰ فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارا مومن بہ فرعون نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عصاظاہر ہونا تھا کہ فرعونی ساحر بارگاہ ذوالجلال والا کرام میں سجدہ ریز ہوگئے : 70۔ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف سے حکم ملا تھا کہ اے موسیٰ اپنی لاٹھی گراؤ ‘ لاٹھی کا گرنا تھا کہ ان کا سارا بنا بنایا کھیل ہوا ہوگیا اور ان ساحروں نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ حقیقت کو سمجھ گئے اور ان کے اندر کی ساری میل جاتی رہی اور ان کا باطل ان پر مکمل طور پر واضح ہوگیا اور ان کی آنکھیں کھل گئیں وہ حق کو پہچان گئے جیسا کہ ہم نے قبل ازیں عرض کیا ہے دراصل وہ میدان میں آتے ہی اپنی شکست کا اعتراف کرچکے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کا سکہ ان کے دلوں میں بیٹھ چکا تھا اور رہتی کسران اختلاف نے نکال دی تھی جو اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–70

وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ (And throw what is in your right hand - 20:69). Allah commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) by means of a revelation (وحی) to cast down what he held in his right hand, and when he threw down his staff it turned into a huge snake and ate up all the imaginary snakes which the Egyptian magicians had produced by their magic. Conversion to Islam and bowing in prostration by the Pharaoh's magicians The Egyptian magicians who were masters of their art realized at once that what they had just witnessed was not magic but a miracle brought about by a Supreme Power.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43. When they saw the power of the staff of Moses (peace be upon him), they involuntarily fell prostrate as if someone had made them do so, because they were convinced that it was a miracle and not a feat of magic. 44. This profession of faith by the magicians shows that everyone was aware of the basic object of the encounter. It was not an encounter between the feats of the magicians and those of Prophet Moses (peace be upon him), but it was to decide whether the claim of Prophet Moses (peace be upon him) that he was a Messenger of Allah was true or not. If this staff was actually turned…

Read the full tafseer →