Explained with ayahs 65–70
مقابلہ شروع ہوا۔
جادوگروں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
سورة طٰهٰ 42
ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا وہ ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے ان سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس جادو کے اثر کو باطل کردیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ سورة اعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا یَاْفِکُوْنَ ، " جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا "۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا، " وہ نگل جائے گا اس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے " اب یہ ظاہر ہے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ ، موسیٰ ؑ کو بذریعہ وحی خطاب ہوا کہ آپ کے ہاتھ میں جو چیز ہے اس کو ڈال دو ، مراد اس سے موسیٰ ؑ کی عصا تھی مگر یہاں عصا کا ذکر نہیں فرمایا۔ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ان کے جادو کی کوئی حقیقت نہیں، اس کی پروا نہ کرو اور جو کچھ بھی تمہارے ہاتھ میں ہے ڈال دو وہ ان کے سب سانپوں کو نگل جائے گا چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی عصا ڈال دی وہ ایک بڑا اژدھا بن کر ان سب جادو کے سانپوں کو نگل گیا۔
فرعونی جادوگروں کا مسلمان ہو کر سجدہ میں پڑجانا
حضرت موسیٰ ؑ کی عصا نے اژدھا بن کر جب ان کے خیالی سانپوں کو نگل لیا تو چونکہ یہ لوگ جادو کے ماہرین تھے ان کو یقین ہوگیا کہ یہ…
Read the full tafseer →معجزہ اور سحر کا ذوق
ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ یہ تمہارے ہاتھ میں جو لٹھیا ہے اس کو تم بھی ڈال دو۔ یہ ان کی اس ساری شعبدہ گری کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے یہ محض ایک ساحر کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کے مقابل میں کبھی نہیں ٹکتا لیکن بات ایک کلیہ کے رنگ میں کہی گئی ہے کہ ساحر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا اس لئے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ سحر کا تعلق تمام تر فریب نظر اور دیکھنے والے کی قوت متخیلہ سے ہے، اصل حقیقت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
71۔ 1 مِنْ خِلَافِ (الٹے سیدھے) کا مطلب ہے سیدھا ہاتھ تو بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ تو سیدھا پاؤں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
24: یہ طبعی خوف تھا، اور اس لیے تھا کہ جو شعبدہ ان جادوگروں نے دکھایا، وہ بظاہر اس معجزے سے ملتا جلتا تھا۔ جو حضرت موسیٰ ؑ دکھا چکے تھے۔ لہذا خوف یہ تھا کہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو بھی کہیں جادو ہی نہ سمجھ بیٹھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
قلنا تاتخف ……اثی (96)
موسیٰ تم نہ ڈرو۔ تم ہی یقیناً غالب رہو گے۔ تمہارے ساتھ سچائی ہے ان کے پاس باطل ہے ۔ تمہارے پاس ایک نظریہ ، ایک عقیدہ ہے اور ان کے پاس اس کے مقابلے کی فیس ہے اور کچھ دوسری سہولیات ہیں جو اس دنیا سے متعلق ہیں ، تمہارا رابطہ اس کائنات کی عظیم قوت اور سچائی کے ساتھ ہے اور وہ ایک حقیر بشر اور انسان کے خدمات گار ہیں۔ یہ بشر جس قدر قہار و جبار بھی ہو ، مگر فانی ہے۔
نہ ڈرو والق ما فی یمینک (02 : 96) ” پھینک جو تریے ہاتھ میں ہے۔ “ جو تیرے ہاتھ میں ہے ، عصا کا نام نہ لینے میں اس کی عظمت کا اظہار (تفخر کے لئے)
تلقف ما صنعوا (02 : 96) ” ابھی ان کی ساری بناونی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ “…
Read the full tafseer →7 یعنی اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دو جو ان کے بنائے ہوئے سوانگ کا ایک دم لقمہ کر جائے گی۔
8 یعنی جادوگر کے ڈھکوسلے چاہے کہیں ہوں اور کسی حد تک پہنچ جائیں، حق کے مقابل کامیاب نہیں ہوسکتے نہ جادوگر کبھی فلاح پاسکتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ساحر کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 69 وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاط اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُ سٰحِرٍ ط ”
یعنی یہ جو کچھ میدان میں سانپوں کی صورت میں نظر آ رہا ہے اس کی حقیقت کچھ نہیں ‘ محض نظر کا دھوکا ہے۔ عرف عام میں اس کیفیت کو ”نظر بندی“ کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →48 شعبدہ بازی کا اطلاق :۔ بس تم اتنا کام کرو کہ اس میدان میں اپنا عصا پھینک دو ۔ یہ عصا ایک بہت بڑا اژدھا بن کر ان سب نقلی اور مصنوعی سانپوں کو ہڑپ کر جائے گا اور اس میدان میں اس اژدھا کے سوا کوئی چیز نہ رہ جائے گی۔ جادوگروں کی شعبدہ بازیاں، ان کی لاٹھیاں اور رسیا کسی چیز کا وجود تک باقی نہ رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ بعض علماء نے تلقف ما ھنعوا کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ عصا سے بنا ہوا اژدھا جس طرف رخ کرتا اور جہاں جہاں پہنچتا وہاں سے شعبدہ کا اثر ختم ہوتا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ آخر میں جادوگروں کی وہ لاٹھیاں اور رسیاں ہی میدان میں رہ گئیں۔ جو جادوگر اپنے ساتھ لائے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ دوسری توجیہ درست…
Read the full tafseer →73۔ (معجزہ کے مقابلہ میں) ارشاد ہوا کہ تمہارے مقابل میں جو کچھ ہے، دھوکے کی ٹٹی ہے، نمائش ہے، گڑھا ہوا سوانگ ہے۔ اس کی بساط ہی کیا حق کی ٹھوس چٹان کے مقابلہ میں یہ کہیں ٹھہر سکتا ہے۔ والمعنی ان الذی معک یا موسیٰ معجزۃ الھیۃ والذی معھم تمویھات باطلۃ فیکف یحصل التعارض (کبیر) (آیت) ” صنعوا “ یہاں بنا کر کھڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ صنعوا اے زوروا (بیضاوی) ساحر اور (آیت) ” الساحر “ دونوں سے آیت میں مراد عدد نہیں، جنس ساحر ہے، اسی لئے لفظ قصدا صیغہ مفرد میں لایا گیا۔ انما وحد ساحر ولم یجمع لان القصد فی ھذالکلام الی معنی الجنسیۃ لاالی معنی العدد فلو جمع لخیل ان المقصود ھو العدد (کشاف۔ مدارک) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا اور جو کچھ تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو (زمین پر) ڈال دو
ان لوگوں نے جو کچھ جھوٹ (فریب دینے کے لئے) بنایا ہے اس کو یہ نگل لے گی۔ مَا فِیْ یَمِیْنِکَمبہم طور پر (جو کچھ) فرمایا ‘ مراد لاٹھی ہے صراحۃً لاٹھی کا ذکر نہیں کیا اس سے ساحروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کی حقارت دکھانا مقصود ہے کہ یہ لاٹھیاں اور رسیاں تو اتنی حقیر ہیں کہ تمہارے ہاتھ میں جو یہ ایک لکڑی کا ٹکڑا ہے اس کو اگر زمین پر پھینک دوں گا تو یہ بھی ان کو نگل لے گا۔
انما صنعوا کید سحر ان لوگوں نے جو کچھ کارستانی کی ہے یہ تو جادوگر کا فریب ہے۔
ولا یفلح الساحر حیث اتی۔ اور جادوگر کہیں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68۔ 69) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ تم ڈرو نہیں تم ہی ان پر غالب رہو گے بایں طور کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے تم زمین پر ڈال دو ، اور یہ عصا ان لوگوں نے جو کچھ لکڑیوں اور رسیوں کا سوانگ رچایا ہے سب کو نگل جائے گا، انہوں نے یہ جو کچھ بنایا ہے یہ جادوگروں کا سوانگ ہے اور جادوگر کہیں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوتا اور اللہ کے عذاب سے کبھی مامون اور محفوظ نہیں رہتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ۔۔ : ”اچانک“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ ان کے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکنے کے بعد ان کے دوڑنے اور حرکت کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صف در صف کھڑے ہوئے جادوگروں کی بیک وقت پھینکی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں سے میدان دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جادو کو سحر عظیم قرار دیا ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت (76) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف کی آیت (115) سے (126) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں چند مختصر سے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا یہ نہیں فرمایا کہ اپنا عصا ڈالو، یہ جائز ہے ان کی رسیوں کی حقارت کے لیے ہو یعنی ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی پروا نہ کرو۔ تم وہ ایک چھوٹی سی لکڑی ڈالو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ ایک ان تمام کو نگل جائے گی، وہ چھوٹی سی لکڑی ان تمام بڑی لکڑیوں کو کھا جائے گی۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ان کی تعظیم کے لیے ہو یعنی ان بڑے بڑے جسموں والی لکڑیوں کی پروانہ کرو کیونکہ جو چیز تمہارے ہاتھ میں ہے وہ ان تمام سے بڑی ہے۔ یہ کثرت کے بباوجود اس کے سامنے کم ہیں۔ پس آپ اسے ڈالیں اللہ کے اذن سے تمام کو نگل جائے گا اور مٹا دے گا۔ تلقف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[وَاَلْقِ : اور آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] [مَا : اس کو جو ] [فِيْ يَمِيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے داہنے ہاتھ میں ہے ] [تَلْقَفْ : تو وہ نگل لے گا ] [مَا : اس کو جو ] [صَنَعُوْا : ان لوگوں نے کاریگری کی ] [انمَا : بیشک وہ جو ] [صَنَعُوْا : انھوں نے کاریگری کی ] [كَيْدُ سٰحِرٍ : جادو کرنے والے کی چالبازی ہے ] [وَلَا يُفْلِحُ : اور مراد نہیں پاتا ] [السَّاحِرُ : جادو کرنے والا ] [حَيْثُ : جہاں کہیں سے ] [اَتٰى: وہ آئے ]
ترکیب : (آیت۔ 69) اِنَّمَا یہاں پر کلمۂ حصر نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر فعل صَنَعُوْا کا مفعول کَیْدَ سٰحِرٍ نصب میں آنا چاہیے تھا لیکن یہاں کَیْدُ سٰحِرٍحالت رفع میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا
فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
41:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ادھر ادھر دوڑتے دیکھا تو دل میں خطرہ اور اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں لوگ ان کے جادو سے متاثر ہو کر معجزہ عصا سے شک میں نہ پڑجائیں۔ ” قُلْنَا لا تخف “ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہ اندیشہ مت کرو۔ تمہارا معجزہ غالب رہے گا۔ اور فتح تمہاری ہوگی۔ ” وَ اَلْقِ مَافِیْ یَمِیْنِکَ “ اب اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو جو سانپ بن کر ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جادو کے زور سے کیا ہے اور معجزہ کے مقابلہ میں جادوگر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزات پیغمبروں کے قبضے میں نہیں ہوتے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى 68 وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا 0ۭ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سٰحِرٍ 0ۭ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى 69
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا…
Read the full tafseer →2 ؎ کید ساحر الرفع علیٰ ان ما موصولہ وبالنصب علی انہا کافہ 12 ابو محمد
Read the full tafseer →وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ط اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُسٰحِرٍ ط وَلاَ یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی۔ (طٰـہٰ : 69)
(جو تمہارے ہاتھ میں ہے اسے زمین پر ڈال دو ، یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انھوں نے رچایا ہے نگل جائے گا، انھوں نے جو کچھ کیا ہے وہ فقط ایک جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی فلاح نہیں پاتا۔ )
معجزہ اور سحر میں فرق
جادوگروں کا کرتب واقعی متأثر کن تھا۔ سینکڑوں سانپ میدان میں رینگتے نظر آرہے تھے اور دیکھنے والے نہایت مرعوبیت کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی وقتی طور پر اس سے متأثر ہوئے لیکن پروردگار نے حکم دیا کہ آپ ( علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی میدان میں پھینکنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطمینان اور کامیابی کا یقین دلانے کے بعد حکم فرمایا آپ کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے اسے فی الفور میدان میں پھینک دیں۔ جونہی آپ اسے میدان میں پھینکیں گے تو آپ کی لاٹھی ان کے کیے دھرے کو نگل جائے گی۔ یقین رکھو جادوگرجہاں کہیں ہوں اور جس قدر جادو کا مظاہرہ کریں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ جونہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر میدان میں کودنے والے سانپوں کو نگل گیا۔ یہ منظر اس قدر ہیبت ناک اور…
Read the full tafseer →69: وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفُ (اور تم جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو ڈال دو ۔ ) ان لوگوں نے جو کچھ جھوٹ بنایا۔ اس کو یہ نگل لے گی۔
قراءت : تَلْقفُ لام اور فاءؔ کے سکون اور قافؔ کی تخفیف کے ساتھ حفص نے پڑھا ہے۔ ابن ذکو ان نے تَلقَّفُ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے تَلقَّفْ پڑھا ہے۔
مَا صَنَعُوْا (جو انہوں نے بنایا ہے) جو کچھ جھوٹ بنایا اور کیا۔ مطلب یہ ہے تم اپنی لاٹھی پھینک دو وہ ان کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جائے گی۔ یہاں عصاک نہیں فرمایا کیونکہ وہ عصا باعظمت تھا۔ گویا اس طرح فرمایا گیا کہ تم ان کے سوانگ کی طرف بالکل توجہ نہ دو ۔ اور اس کی پرواہ نہ کرو جو آپ کے سوانگ ہاتھ میں ہے یہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69۔ والق مافی یمینک، اس عصا کو ڈال دیجئے ۔ تلقف ، وہ سب کو نگل لے گا اور ہڑپ کرلے گا۔ ماصنعوا، ، ابن عامر نے ، تلقف ، فاء کے رفع کے ساتھ اور دوسرے قراء نے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ انماصنعوا، جو انہوں نے بنایا وہ سب جادو ہے۔ کید ساحر ، جادوگروں کاحیلہ ہے اسی طرح حمزہ اور کسائی نے سین کے کسرہ کے ساتھ بغیر الف کے ذکر کیا ہے وردوسرے قراء نے ساحر پڑھا ہے کیونکہ کید کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ ولایفلح الساحر حیث اتی، یعنی جادوگر جہاں اور جس زمین میں جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ ابن عباس کا قول نقل کیا ہے اس کا حاصل بھی یہی ہے بعض نے ، ، اتی ، ، کا ترجمہ حیث احتال کیا ہے یعنی جو تدبیر جہاں کرے کامیاب نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–69
62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
65 حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی : سو ارشاد فرمایا گیا " ہم نے موسیٰ سے کہا کہ ڈرو نہیں کہ غلبہ یقینا تمہارا ہی ہوگا " کہ غلبہ تو حق ہی کا ہوتا ہے۔ اور حق پر یقینی اور قطعی طور پر آپ ہی ہیں۔ اور جس حق پر آپ ہیں اس کے سامنے ان لوگوں کے جادو اور اس شعبدہ بازی کا کچھ بھی زور نہیں چل سکتا۔ سو اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے اور انجام کار کامیابی اہل حق اور اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للمتقین } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للتقوی } ۔ اور دوسری بات یہ کہ اللہ والوں کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی تائید و عنایت ہوتی ہے جو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 9 یعنی چاہے وہ کیسی ہی آن بان اور شان و شوکت سے آئے اسے کبھی غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →(20:69) تلقف۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ واحد مؤنث غائب۔ لقف مصدر سے (باب سمع) وہ نگل جاتی ہے۔ یا وہ نگل جائے گی۔ لقف کے معنی کسی چیز کو پھرتی سے لے لینا۔ خواہ ہاتھ سے یا منہ سے۔
ما صنعوا۔ اس کے لفظی معنی ہیں جو انہوں نے بنایا ہے۔ مراد اس سے ان کی وہ شعبدہ بازی اور جادوگری ہے جس سے رسیاں اور لاٹھیاں دوڑتی معلوم دیتی تھیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں بذات خود اللہ تعالیٰ کی صنعت ہیں نہ کہ کسی غیر اللہ کی۔
انما صنعوا کید ساحر۔ ما موصول ہے اور ان کا اسم ہے صنعوا اس کی صفت۔ کید ساحر۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر۔ یعنی جو جادوگری انہوں نے کی ہے محض جادوگری کا قریب۔ ساحر یہاں بطور اسم جنس کے آیا ہے عدد کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
جادوگروں کا ایمان لانا
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
[23] اندیشہ اس وجہ سے کہ جب جادوگروں نے بھی سانپ بنا لئے اور میرا عصا بھی بہرحال سانپ بنے گا تو دیکھنے والے مقابلہ برابر کا سمجھیں گے۔ حق کا غلبہ کیسے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
معجزہ اور جادو کا مقابلہ :
(ف 1) میدان مقابلہ میں دونوں قومیں جمع ہوگئیں ، اور انتظار کیا جانے لگا کہ دیکھیں کون غالب رہتا ہے ، جادوگروں نے ابتداء کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ، یا تو آپ کچھ ڈالئے ، یا ہماری کرشمہ سازیاں دیکھئے موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا کہا ، پہلے جو کچھ تمہارے پاس ہے ، اس کا اظہار ہوجائے ، اس کے بعد میں بھی اپنی طرف سے کچھ پیش کروں گا دونوں حریف اپنی اپنی جگہ پر مطمئن تھے ، اس لئے اس تقدم وتاخر کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ، اور مقابلہ کا آغاز ہوگیا ، جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسے پھینکے ، تو وہ ایسے دکھائی دینے لگے کہ سانپ لہرا رہے ہیں ، حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →-69 اور جو چیزتیرے داہنے ہاتھ میں ہے یعنی لاٹھی اس کو میدان میں ڈال دے وہ عصا اس تمام سوانگ کو جو انہوں نے بنایا ہے نگل جائے گا سو ائے اس کے نہیں کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ جادوگروں کا فریب اور کرتب ہے اور جادوگر خواہ کہیں بھی جائے اس کو کامیاب نصیب نہیں ہوتی۔ یعنی اپنا عصا ڈال دے وہ ان جادوگروں کے تمام مکر و فریب کو ختم کر دے گا اور جو ڈھونگ انہوں نے رچایا ہے وہ اس سب کو نگل جائے گا اور انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگروں کے فقط دائوں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ار جادوگر خواہ کہیں بھی آئے جائے حق کے اور معجزے کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوا کرتا اور فلاح نہیں پاتا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تسلی ہوگئی کہ اب امتیاز خوب ہوسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے عصا ڈالا اور وہ واقعی سب کو نگل گیا۔
Read the full tafseer →تیرے داہنے ہاتھ میں جو کچھ ہے گرا کیوں نہیں دیتے کیونکہ ساحروں نے جو کرنا تھا وہ تو ہوگیا :
69۔ آپ اے موسیٰ اپنے ہاتھ کی لاٹھی کو زور دار ہاتھ سے گرا دیجئے اور قدرت الہی کا تماشا دیکھئے یہ چیز تو ہم نے آپ کو پہلے ہی روز عنایت کردی تھی جو آخر تک تیرے ساتھ رہے گی اور اس تیری لاٹھی نے کیا کیا کرتب دکھائے اور ابھی کیا کیا کرتب یہ دکھائے گی ہمارے دیئے گئے کا توڑکون ہے جو کرسکے اور ہماری آیات بینات کو کون ہے جو ٹھکرا سکے ۔ تیرے ہاتھ میں ہم نے دو خوبیاں رکھی ہیں ” عصا “ اور ” یدبیضا “ بس ابھی تو لاٹھی گرا اور دیکھا کہ جو کچھ انہوں نے میدان میں چھوڑا ہے سب بھسم ہو کر رہ جائے گا اور اس کا سارا اثر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ (And throw what is in your right hand - 20:69). Allah commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) by means of a revelation (وحی) to cast down what he held in his right hand, and when he threw down his staff it turned into a huge snake and ate up all the imaginary snakes which the Egyptian magicians had produced by their magic.
Conversion to Islam and bowing in prostration by the Pharaoh's magicians
The Egyptian magicians who were masters of their art realized at once that what they had just witnessed was not magic but a miracle brought about by a Supreme Power.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
42. This is capable of two interpretations:
(1) The staff, which was turned into a dragon by a miracle, actually swallowed up all the staffs and cords which had been made to appear as serpents.
(2) The dragon of the staff did not actually swallow up the serpents of the magicians but wiped out the effect of their magic from these things and they again became ordinary cords and staffs.
We prefer the second interpretation because the wording of (Surahs Al-Aaraf, Ayat 117) and (Ash-Shuara, Ayat 45) is this: It swallowed up their false magic. And here the wording is: It will swallow up what they…
Read the full tafseer →