Taa-Haa 20:68

Taa-Haa · from ayah 68

20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰی ۟قُلۡنَا لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى‏

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah said, "Fear not. Indeed, it is you who are superior.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:68

ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے کہا : ڈرو نہیں، یقین رکھو تم ہی تم سربلند رہو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم نے (موسٰی علیہ السلام سے) فرمایا: خوف مت کرو بیشک تم ہی غالب رہوگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے کہا خوف نہ کر، یقینا تو ہی غالب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے (وحی کے ذریعہ) اسے کہا : ڈرو مت، غالب تم ہی رہو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے کہا ڈرو مت کہ غلبہ تو یقینی طور پر تمہارا ہی ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے کہا ڈرو نہیں غالب تو یقیناً تم ہی رہوگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے کہا خوف نہ کر بلا شبہ تم ہی غالب ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We said to him: "Have no fear; for it is you who will prevail.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We said, :Do not be scared. Certainly, you are to be the upper most.

— Muhammad Taqi Usmani

We said, :Do not be scared. Certainly, you are to be the upper most.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We (Allah) said: "Fear not! Surely, you will have the upper hand."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We said: Fear not! Lo! thou art the higher.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah said, "Fear not. Indeed, it is you who are superior.

— Saheeh International

We told him, "Do not be afraid for you will be the winner.

— Muhammad Sarwar

We said: Fear not, surely you shall be the uppermost,

— Muhammad Habib Shakir

We said: fear not! verily thou! thou shalt be the superior.

— Abdul Majid Daryabadi

We said: "Fear not! for thou hast indeed the upper hand:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–70

مقابلہ شروع ہوا۔ جادوگروں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 68–69

سورة طٰهٰ 42 ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا وہ ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے ان سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس جادو کے اثر کو باطل کردیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ سورة اعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا یَاْفِکُوْنَ ، " جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا "۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا، " وہ نگل جائے گا اس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے " اب یہ ظاہر ہے کہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–68

فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، یعنی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ صورتحال دیکھ کر خوف طاری ہوا جس کو انہوں نے اپنے نفس میں چھپائے رکھا دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ یہ خوف اگر موسیٰ ؑ کو اپنی جان کے لئے ہوا تو مقضائے بشریت سے ایسا ہونا نبوت کے خلاف نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ خوف اپنی جان کا نہیں تھا بلکہ اس کا تھا کہ اس مجمع کے سامنے ساحروں کا غلبہ محسوس کیا گیا تو جو مقصد دعوت نبوت کا تھا وہ پورا نہ ہو سکے گا اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے جو ارشاد ہوا اس میں یہ اطمینان دلایا گیا کہ جادوگر غالب نہ آسکیں گے آپ ہی کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگا۔ اگلی آیت میں لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی اطمینان دبائو حضرت موسیٰ کا ہر اس دور کرنے کے لئے فوراً یہ بشارت نازل ہوئی کہ تم ذرہ برابر بھی اندیشہ نہ کرو۔ انہوں نے کتنا ہی بڑا جادو دکھایا ہو لیکن غالب اور سربلند تمہی رہو گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

68۔ 1 اس دہشت ناک منظر کو دیکھ کر اگر حضرت موسیٰ ؑ نے خوف محسوس کیا، تو یہ ایک طبعی چیز تھی، جو کمال نبوت کے منافی ہے نہ عصمت کے۔ کیونکہ نبی بھی بشر ہی ہوتا ہے اور بشریت کے طبعی تقاضوں سے نہ وہ بالا ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے، بہرحال موسیٰ ؑ کے اندیشے اور خوف کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ (علیہ السلا م) کسی بھی لحاظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو ہی غالب رہے گا، اس جملے سے طبعی خوف اور دیگر اندیشوں، سب کا ہی ازالہ فرما دیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 67–69

24: یہ طبعی خوف تھا، اور اس لیے تھا کہ جو شعبدہ ان جادوگروں نے دکھایا، وہ بظاہر اس معجزے سے ملتا جلتا تھا۔ جو حضرت موسیٰ ؑ دکھا چکے تھے۔ لہذا خوف یہ تھا کہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو بھی کہیں جادو ہی نہ سمجھ بیٹھیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

قلنا تاتخف ……اثی (96) موسیٰ تم نہ ڈرو۔ تم ہی یقیناً غالب رہو گے۔ تمہارے ساتھ سچائی ہے ان کے پاس باطل ہے ۔ تمہارے پاس ایک نظریہ ، ایک عقیدہ ہے اور ان کے پاس اس کے مقابلے کی فیس ہے اور کچھ دوسری سہولیات ہیں جو اس دنیا سے متعلق ہیں ، تمہارا رابطہ اس کائنات کی عظیم قوت اور سچائی کے ساتھ ہے اور وہ ایک حقیر بشر اور انسان کے خدمات گار ہیں۔ یہ بشر جس قدر قہار و جبار بھی ہو ، مگر فانی ہے۔ نہ ڈرو والق ما فی یمینک (02 : 96) ” پھینک جو تریے ہاتھ میں ہے۔ “ جو تیرے ہاتھ میں ہے ، عصا کا نام نہ لینے میں اس کی عظمت کا اظہار (تفخر کے لئے) تلقف ما صنعوا (02 : 96) ” ابھی ان کی ساری بناونی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ “…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ڈر کو دل سے نکال دو ۔ اس قسم کے وسوسے مت لاؤ۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب اور سربلند رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 67–68

آیت 67 فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ ” حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خوف لاحق ہوا کہ جو معجزہ میرے پاس ہے اسی نوعیت کی چیز تو جادوگروں نے بھی دکھا دی ہے۔ چناچہ اب یہ سارے تماشائی تالیاں پیٹیں گے کہ موسیٰ کو شکست ہوگئی اور وہ جو عظیم الشان مشن اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اس کا کیا بنے گا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

47 بذریعہ وحی کامیابی کی بشارت :۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے کہ جادوگروں نے بہ تبڑا جادو پیش کیا تھ۔ ہزاروں کی تعداد میں ان جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں لوگوں کے سامنے سانپوں کی طرح حرکت کر رہی تھیں اور ایسے سانپوں سے میدان مقابلہ بھر گیا تھا۔ ان سانپوں نے لوگوں کو دہشت زدہ کردیا تھا اور فرعون اور اس کے خاص درباری ان جادوگروں کے کارنامے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے اور ان کی داد دے رہے تھے۔ یہ صورت حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی دل میں ڈرنے لگے تھے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ اسلام کو وحی کی کہ ڈرنے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ معا تسکین غیب سے دی گئی کہ نہیں، تم کچھ پروانہ کرو، فتح تمہاری اور حق ہی کی ہوگی، اور تسکین بھی کس تاکید اور قطعیت کے ساتھ، ایک تو حرف (آیت) ” ان “۔ تاکید کا، پھر ضمیر مخاطب کی تکرار، پھر اعلی پر لام معرفہ کا۔ اور پھر خود لفظ اعلی کہ ’ علو ‘ غلبہ نمایاں ہی کو ظاہر کرنے والا ہے ، (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 55–70

آیت نمبر 55 تا 70 ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قلنا لا تخف انک انت الاعلی۔ ہم نے (موسیٰ سے) کہا تم کچھ خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی سب پر غالب رہو گے۔ اِنَّکَ انْتَ الْاَعْلٰی سے خوف نہ کرنے کی وجہ بیان فرما دی اور غالب رہنے کو چند تاکیدی الفاظ سے بیان فرما دیا ‘ جملہ از سر نو شروع کیا (حرف عطف ذکر نہیں کیا) اِنَّحرف تحقیق ذکر کیا ضمیر فصل بھی ذکر کی اور خبر پر الف لام بھی داخل کیا اور اَلْاَعْلٰی فرمایا ‘ تم ہی غالب رہو گے۔ پھر اسم تفضیل کا صیغہ بھی استعمال کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 68–69

(68۔ 69) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ تم ڈرو نہیں تم ہی ان پر غالب رہو گے بایں طور کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے تم زمین پر ڈال دو ، اور یہ عصا ان لوگوں نے جو کچھ لکڑیوں اور رسیوں کا سوانگ رچایا ہے سب کو نگل جائے گا، انہوں نے یہ جو کچھ بنایا ہے یہ جادوگروں کا سوانگ ہے اور جادوگر کہیں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوتا اور اللہ کے عذاب سے کبھی مامون اور محفوظ نہیں رہتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 66–70

فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ۔۔ : ”اچانک“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ ان کے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکنے کے بعد ان کے دوڑنے اور حرکت کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صف در صف کھڑے ہوئے جادوگروں کی بیک وقت پھینکی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں سے میدان دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جادو کو سحر عظیم قرار دیا ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت (76) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف کی آیت (115) سے (126) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں چند مختصر سے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 67–68

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ اوجس بمعنی اضمر ہے دل میں محسوس کیا۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی پانا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا معنی محسوس کرنا ہے، یعنی سانپوں سے کچھ خوف محسوس کیا یہ وہی ہے جو طبع بشری کو خوف لاحق ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے بعض نے کہا : آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے عصا پھینکنے سے پہلے جدا ہوجائیں گے اور فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ بعض اہل الحقائق نے کہا : اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جادوگروں سے ملے اور آپ نے انہیں فرمایا : (کمبختو ! نہ بہتان باندھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹے ورنہ وہ تمہارا نام و نشان مٹا دے گا کسی عذاب سے) حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–71

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لَا تَخَفْ : آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] [انكَ : بیشک آپ (علیہ السلام) ] [انتَ الْاَعْلٰى: ہی غالب ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–70

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–76

ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–69

41:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ادھر ادھر دوڑتے دیکھا تو دل میں خطرہ اور اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں لوگ ان کے جادو سے متاثر ہو کر معجزہ عصا سے شک میں نہ پڑجائیں۔ ” قُلْنَا لا تخف “ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہ اندیشہ مت کرو۔ تمہارا معجزہ غالب رہے گا۔ اور فتح تمہاری ہوگی۔ ” وَ اَلْقِ مَافِیْ یَمِیْنِکَ “ اب اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو جو سانپ بن کر ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جادو کے زور سے کیا ہے اور معجزہ کے مقابلہ میں جادوگر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزات پیغمبروں کے قبضے میں نہیں ہوتے جب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–76

ربط آیات : جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 68–69

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى۝ 68 وَاَلْقِ مَا فِيْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا۝ 0ۭ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سٰحِرٍ۝ 0ۭ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى۝ 69 لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–68

وھذین اسم ان حارث بن کعب کے محاورہ میں وہ مثنی کا اعراب تقدیری مانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسم ان ضمیر شان ہو وھذانِ لَسٰحِرٰان خبر اور بعض کہتے ہیں ان بمعنی نعم ومابعد اس کا مبتداو خبر ہے اور ابوعمرو نے ہذین پڑھا ہے تب کچھ دقت نہیں اور ابوحفص اور کثیر نے ان مخففہ پڑھا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْنَا لاَ تَخَفْ اِنَّـکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ (طٰـہٰ : 68) (ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بن جانے سے جو خدشہ سا پیدا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لیے فوراً بشارت نازل فرمائی کہ ڈرو مت، ان جادوگروں کا جادو کتنا بھی عظیم ہو، معجزے پر غالب نہیں آسکتا۔ اس لیے غالب اور سربلند تمہیں رہو گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–68

فہم القرآن ربط کلام : معرکہ آرائی کا آخری مرحلہ۔ ملک بھر کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف صف آراء ہوئے تو انھوں نے بڑے غرور میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم لاٹھی پھینکتے ہو یا ہم اپنی چیزیں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اعتماد اور پُر وقار لہجے میں فرمایا کہ تمہیں ہی پہل کرنا چاہیے۔ جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں لگا کہ جیسے رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے بڑے سانپ بن کر ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکتے ہی جادوگروں نے چلا چلا کر فرعون زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی (ہم نے کہا تم کچھ خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی سب پر غالب رہو گے) غالب و زبردست ہوگے۔ تاکیدات : میں مبالغہ واضحہ ہے نمبر 1۔ ان نمبر 2۔ انت۔ نمبر 3۔ حرف تعریف نمبر 4۔ لفظ اعلیٰ اور وہ غلبہ ظاہر ہے۔ ان کے سوا نگ کو نگل جائے گا :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

68۔ قلنا، ، ہم نے موسیٰ سے کہا کہ، لاتخف ، انک انت الاعلی، ، آپ غالب رہیں گے غلبہ آپ کے لیے ہے اور کامیابی آپ ہی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–69

62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–72

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 68–69

65 حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی : سو ارشاد فرمایا گیا " ہم نے موسیٰ سے کہا کہ ڈرو نہیں کہ غلبہ یقینا تمہارا ہی ہوگا " کہ غلبہ تو حق ہی کا ہوتا ہے۔ اور حق پر یقینی اور قطعی طور پر آپ ہی ہیں۔ اور جس حق پر آپ ہیں اس کے سامنے ان لوگوں کے جادو اور اس شعبدہ بازی کا کچھ بھی زور نہیں چل سکتا۔ سو اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے اور انجام کار کامیابی اہل حق اور اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للمتقین } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للتقوی } ۔ اور دوسری بات یہ کہ اللہ والوں کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی تائید و عنایت ہوتی ہے جو ہر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–76

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–76

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–69

ف 9 یعنی چاہے وہ کیسی ہی آن بان اور شان و شوکت سے آئے اسے کبھی غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 67–68

(20:67) اوجس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ الوجس کے معنی صورت خفی کے ہیں وجس وہ حالت جو کسی خطرہ کے بعد دل میں پیدا ہوتی ہے لہٰذا اوجسکے معنی ہوئے اس نے دل میں خوف محسوس کیا۔ ایح اس (افعال) مصدر۔ خیفۃ۔ خوف۔ ڈر۔ خاف یخاف کا مصدر ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–76

لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76 حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 76 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–70

جادوگروں کا ایمان لانا ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 67–69

[23] اندیشہ اس وجہ سے کہ جب جادوگروں نے بھی سانپ بنا لئے اور میرا عصا بھی بہرحال سانپ بنے گا تو دیکھنے والے مقابلہ برابر کا سمجھیں گے۔ حق کا غلبہ کیسے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–69

معجزہ اور جادو کا مقابلہ : (ف 1) میدان مقابلہ میں دونوں قومیں جمع ہوگئیں ، اور انتظار کیا جانے لگا کہ دیکھیں کون غالب رہتا ہے ، جادوگروں نے ابتداء کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ، یا تو آپ کچھ ڈالئے ، یا ہماری کرشمہ سازیاں دیکھئے موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا کہا ، پہلے جو کچھ تمہارے پاس ہے ، اس کا اظہار ہوجائے ، اس کے بعد میں بھی اپنی طرف سے کچھ پیش کروں گا دونوں حریف اپنی اپنی جگہ پر مطمئن تھے ، اس لئے اس تقدم وتاخر کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ، اور مقابلہ کا آغاز ہوگیا ، جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسے پھینکے ، تو وہ ایسے دکھائی دینے لگے کہ سانپ لہرا رہے ہیں ، حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-68 ہم نے موسیٰ سے کہا تو ڈر نہیں یقینا تو ہی غالب رہے گا۔ اہل حق کے ساتھ حضرت حق کا ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے اس وسوسہ کو جو اتفاقیہ طور پر گرد و پیش کے حالات سے پیدا ہوا تھا اور جس میں بشریت کو بھی دخل تھا ۔ لاتخف کہہ کر دفع فرما دیا اور ارشاد ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–68

ف 2۔ یعنی خوف ہوا کہ جب دیکھنے میں یہ رسیاں اور لاٹھیاں بھی سانپ معلوم ہوتی ہیں، اور میرا عصا بھی بہت سے بہت سانپ بن جاوے گا تو دیکھنے والے تو دونوں چیزوں کو ایک ہی سا سمجھیں گے، تو حق و باطل میں امتیاز کس طرح کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اندیشہ نہ کرو میدان تمہارے ہی ہاتھ میں رہے گا : 68۔ یہ وہ القاء ہے جو ایک نبی ورسول کے حصہ کی بات ہے آپ اور میں بلکہ دنیا کے سارے انسان اس سے میتثن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فورا موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا کہ اے موسیٰ بےفکر اور بےخطر رہو میدان آپ ہی کے ہاتھ میں رہے گا اور ہمارا کیا گیا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا اور میدان کے ہر فرد کی حالت ہم اچھی طرح جانتے ہیں ہمارے علم میں ہے کہ کس پر کیا اثر ہو رہا ہے جن ساحروں کے سحر نے لوگوں کو متاثر کرنا وہ تو ایک منٹ میں تیرے قدموں میں ہیں ۔ ہمارے علم میں ہے کہ کیا کرشمہ سازی ہونے والی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–68

فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ (So Musa concealed some fear in his heart - 20:67.). The sight of so many snakes crawling around evoked a sense of fear in Sayyidna Musa (علیہ السلام) which he did not reveal to anyone. Even if this fear was for his own personal safety then it can be regarded as a natural human reaction to a dangerous situation and does not conflict with the mission of prophethood. It is clear, however, that the fear which he felt was not for his own life. His apprehension was that if the immense crowd, which had assembled to see the contest, sensed that the Egyptian…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–69

42. This is capable of two interpretations: (1) The staff, which was turned into a dragon by a miracle, actually swallowed up all the staffs and cords which had been made to appear as serpents. (2) The dragon of the staff did not actually swallow up the serpents of the magicians but wiped out the effect of their magic from these things and they again became ordinary cords and staffs. We prefer the second interpretation because the wording of (Surahs Al-Aaraf, Ayat 117) and (Ash-Shuara, Ayat 45) is this: It swallowed up their false magic. And here the wording is: It will swallow up what they…

Read the full tafseer →