Explained with ayahs 65–70
مقابلہ شروع ہوا۔
جادوگروں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 41
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جونہی حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے " پھینکو " کا لفظ نکلا، جادوگروں نے یکبارگی اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ان کی طرف پھینک دیں اور اچانک ان کو یہ نظر آیا کہ سینکڑوں سانپ دوڑتے ہوئے ان کی طرف چلے آ رہے ہیں۔ اس منظر سے فوری طور پر اگر حضرت موسیٰ نے ایک دہشت اپنے اندر محسوس کی ہو تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ انسان بہرحال انسان ہی ہوتا ہے۔ خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، انسانیت کے تقاضے اس سے منفک نہیں ہو سکتے۔ علاوہ بریں یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت حضرت موسیٰ کو یہ خوف لاحق ہوا ہو کہ معجزے سے اس قدر مشابہ منظر دیکھ کر عوام ضرور فتنے میں پڑجائیں گے۔
اس مقام پر یہ بات لائق ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، یعنی حضرت موسیٰ ؑ پر یہ صورتحال دیکھ کر خوف طاری ہوا جس کو انہوں نے اپنے نفس میں چھپائے رکھا دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ یہ خوف اگر موسیٰ ؑ کو اپنی جان کے لئے ہوا تو مقضائے بشریت سے ایسا ہونا نبوت کے خلاف نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ خوف اپنی جان کا نہیں تھا بلکہ اس کا تھا کہ اس مجمع کے سامنے ساحروں کا غلبہ محسوس کیا گیا تو جو مقصد دعوت نبوت کا تھا وہ پورا نہ ہو سکے گا اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ کی طرف سے جو ارشاد ہوا اس میں یہ اطمینان دلایا گیا کہ جادوگر غالب نہ آسکیں گے آپ ہی کو فتح اور غلبہ حاصل ہوگا۔ اگلی آیت میں لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ…
Read the full tafseer →فائوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ
یہ منظر دیکھ کر فطری طور پر حضرت موسیٰ کے دل میں ذرا اندیشہ پیدا ہوا اس لئے کہ اب تک ان کے سامنے اپنی لٹھیا کا اصلی کمال ظاہر نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ مقابلہ بہرحال سخت ہے۔ ہرچند اللہ تعالیٰ کے وعدے کی بنا پر انکو یہ اطمینان تھا کہ فتح انہی کی ہوگی لیکن جب صورتحال توقع سے زیادہ پیچیدہ سامنے آجائے تو دل میں وقتی طور پر کچھ نہ کچھ ہر اس پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح کا ایک وقتی ہراس حضرت موسیٰ کے دل میں بھی پیدا ہوا۔ لفظ حیفۃ کی تنکیر سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ خوف محض معمولی اور وقتی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
68۔ 1 اس دہشت ناک منظر کو دیکھ کر اگر حضرت موسیٰ ؑ نے خوف محسوس کیا، تو یہ ایک طبعی چیز تھی، جو کمال نبوت کے منافی ہے نہ عصمت کے۔ کیونکہ نبی بھی بشر ہی ہوتا ہے اور بشریت کے طبعی تقاضوں سے نہ وہ بالا ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے، بہرحال موسیٰ ؑ کے اندیشے اور خوف کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ (علیہ السلا م) کسی بھی لحاظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو ہی غالب رہے گا، اس جملے سے طبعی خوف اور دیگر اندیشوں، سب کا ہی ازالہ فرما دیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
24: یہ طبعی خوف تھا، اور اس لیے تھا کہ جو شعبدہ ان جادوگروں نے دکھایا، وہ بظاہر اس معجزے سے ملتا جلتا تھا۔ جو حضرت موسیٰ ؑ دکھا چکے تھے۔ لہذا خوف یہ تھا کہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو بھی کہیں جادو ہی نہ سمجھ بیٹھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
‘ موسیٰ (علیہ السلام) نے چیلنج قبول کرتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ پہلے پھینکیں اور اپنے لئے آخری و ار پسند کیا۔ لیکن بظاہر وہ ایک خوفناک اور عظیم جادو لے کر آئے ہیں۔ اچانک جب انہوں نے جادو شروع کیا تو میدان یوں لگتا تھا کہ سانپوں کی موجیں حرکت میں آگئی ہوں ، خود حضرت موسیٰ فرزدہ ہوگئے۔
فاذا حبالھم ……موسیٰ (76)
قرآن کریم کا انداز تعبیر بتاتا ہے کہ یہ جادو اس قدر عظیم تھا کہ حضرت موسیٰ بھی دل میں ڈر گئے جبکہ اس کے ساتھ اس کے رب بھی کھڑے تھے اور سب کچھ سن رہے تھے اور جان رہے تھے۔ موسیٰ تب ہی دل میں خائف ہو سکتے تھے کہ یہ سحر اس قدر خوفناک تھا کہ ایک لمحے کے لئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ زیادہ قوی…
Read the full tafseer →5 کہ جادو گروں کا یہ سوانگ دیکھ کر کہیں بیوقوف لوگ دھوکہ میں نہ پڑجائیں اور سحر و معجزہ میں فرق نہ کرسکیں۔ ایسی صورت میں حق کا غلبہ واضح نہ ہوگا۔ خوف کا یہ مطلب آگے جواب سے ظاہر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت 67 فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی۔ ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ خوف لاحق ہوا کہ جو معجزہ میرے پاس ہے اسی نوعیت کی چیز تو جادوگروں نے بھی دکھا دی ہے۔ چناچہ اب یہ سارے تماشائی تالیاں پیٹیں گے کہ موسیٰ کو شکست ہوگئی اور وہ جو عظیم الشان مشن اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اس کا کیا بنے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
47 بذریعہ وحی کامیابی کی بشارت :۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ہے کہ جادوگروں نے بہ تبڑا جادو پیش کیا تھ۔ ہزاروں کی تعداد میں ان جادوگروں کی لاٹھیاں اور رسیاں لوگوں کے سامنے سانپوں کی طرح حرکت کر رہی تھیں اور ایسے سانپوں سے میدان مقابلہ بھر گیا تھا۔ ان سانپوں نے لوگوں کو دہشت زدہ کردیا تھا اور فرعون اور اس کے خاص درباری ان جادوگروں کے کارنامے پر دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے اور ان کی داد دے رہے تھے۔ یہ صورت حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی دل میں ڈرنے لگے تھے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ اسلام کو وحی کی کہ ڈرنے کی…
Read the full tafseer →71۔ (کہ یہ بات ہی کیا ہوئی۔ جب انہوں نے بھی سانپ بنالئے اور میرا عصا بھی سانپ ہی بہرحال بنے گا، تو دیکھنے والے معاملہ اور مقابلہ برابر سمجھیں گے، حق کا غلبہ کیسے ثابت ہوگا) (آیت) ” خیفۃ “۔ کا نکرہ ہونا دلیل ہے اس کی کہ یہ اندیشہ کچھ بہت زیادہ نہیں، تھوڑا ہی ساپیدا ہوا تھا۔ التنکیر للتقلیل (تھانوی) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں اثبات ہے اس کا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کمال کے مدعی نہ تھے۔ مدعی کمال کو خوف نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ پس موسیٰ نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔
وَجْسٌآہٹ ‘ ہلکی آواز۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے وَجَسٌوہ گھبراہٹ اور خوف جو کسی آواز وغیرہ سے دل میں پیدا ہوجائے یا کانوں سے سنائی دے ‘ مطلب یہ ہے کہ باقتضائے بشریت حضرت موسیٰ کے دل میں فوراً کچھ خفیہ خوف پیدا ہوگیا۔ مقاتل نے کہا (موسیٰ کو اپنا کوئی خوف نہیں ہوا تھا بلکہ) آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ دھوکہ کھا جائیں گے اور میرے معجزے میں ان کو شک پڑجائے گا اور حق واضح نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(67) حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں کچھ خوف ہوا کہ ان پر کامیابی کیسے حاصل ہوگی اس لیے کہ جو ایمان لائے گا اس کو یہ لوگ قتل کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ۔۔ : ”اچانک“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ ان کے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکنے کے بعد ان کے دوڑنے اور حرکت کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صف در صف کھڑے ہوئے جادوگروں کی بیک وقت پھینکی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں سے میدان دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جادو کو سحر عظیم قرار دیا ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت (76) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف کی آیت (115) سے (126) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں چند مختصر سے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ اوجس بمعنی اضمر ہے دل میں محسوس کیا۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی پانا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا معنی محسوس کرنا ہے، یعنی سانپوں سے کچھ خوف محسوس کیا یہ وہی ہے جو طبع بشری کو خوف لاحق ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے بعض نے کہا : آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے عصا پھینکنے سے پہلے جدا ہوجائیں گے اور فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ بعض اہل الحقائق نے کہا : اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جادوگروں سے ملے اور آپ نے انہیں فرمایا : (کمبختو ! نہ بہتان باندھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹے ورنہ وہ تمہارا نام و نشان مٹا دے گا کسی عذاب سے) حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[فَاَوْجس : تو محسوس کیا ] [فِيْ نَفْسِهٖ : اپنے جی میں ] [خِيْفَةً : ایک خوف ] [مُّوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 67 ۔ میں قرآن اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ عام انسانوں کی طرح پیغمبر بھی جادو سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اگرچہ جادوگر اس کی نبوت سلب کرلینے، یا اس کے اوپر نازل ہونے والی وحی میں خلل ڈال دینے یا اس کو گمراہ کردینے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن کچھ دیر کے لئے اس کے قوٰی پر یک گونہ اثر ضرور ڈال سکتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی کھل جاتی ہے جو احادیث میں نبی ﷺ پر جادو کا اثر ہونے کی روایات پڑھ کر نہ صرف ان روایات کی تکذیب کرتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمام حدیثوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا
فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
41:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ادھر ادھر دوڑتے دیکھا تو دل میں خطرہ اور اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں لوگ ان کے جادو سے متاثر ہو کر معجزہ عصا سے شک میں نہ پڑجائیں۔ ” قُلْنَا لا تخف “ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہ اندیشہ مت کرو۔ تمہارا معجزہ غالب رہے گا۔ اور فتح تمہاری ہوگی۔ ” وَ اَلْقِ مَافِیْ یَمِیْنِکَ “ اب اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو جو سانپ بن کر ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے جادو کے زور سے کیا ہے اور معجزہ کے مقابلہ میں جادوگر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزات پیغمبروں کے قبضے میں نہیں ہوتے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِہٖ خِيْفَۃً مُّوْسٰى 67
وجس
الوَجْس : الصّوت الخفيّ ، والتَّوَجُّس : التّسمّع، والإيج اس : وجود ذلک في النّفس . قال تعالی: فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً [ الذاریات/ 28] فالوَجْس قالوا : هو حالة تحصل من النّفس بعد الهاجس، لأنّ الهاجس مبتدأ التّفكير ، ثم يكون الواجس الخاطر .
( و ج س ) الوجس
کے معنی صوت خفی کے ہیں اور توجس ( تفعل ) خفی آواز سننے کی کوشش کرنے کو کہتے ہیں اور ایجاس کے معنی دل میں کوئی بات محسوس کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً [ الذاریات/ 28] اس وقت موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا ۔ لہذا وجس اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی ( خطرہ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
وھذین اسم ان حارث بن کعب کے محاورہ میں وہ مثنی کا اعراب تقدیری مانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسم ان ضمیر شان ہو وھذانِ لَسٰحِرٰان خبر اور بعض کہتے ہیں ان بمعنی نعم ومابعد اس کا مبتداو خبر ہے اور ابوعمرو نے ہذین پڑھا ہے تب کچھ دقت نہیں اور ابوحفص اور کثیر نے ان مخففہ پڑھا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
قَالَ بَلْ اَلْقُوْا ج فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّـھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی۔ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّـوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 66، 67)
(حضرت موسیٰ نے کہا بلکہ تم ہی پیش کرو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے آپ ( علیہ السلام) کو یوں دکھائی دینے لگیں جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) دل میں کچھ ڈرے۔ )
جادو کا اثر
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چونکہ اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد تھا اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے بےتأمل کہا کہ تم ہی اپنا ہنر دکھانے میں پہل کرو۔ آیت کے الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
فہم القرآن
ربط کلام : معرکہ آرائی کا آخری مرحلہ۔
ملک بھر کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف صف آراء ہوئے تو انھوں نے بڑے غرور میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم لاٹھی پھینکتے ہو یا ہم اپنی چیزیں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اعتماد اور پُر وقار لہجے میں فرمایا کہ تمہیں ہی پہل کرنا چاہیے۔ جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں لگا کہ جیسے رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے بڑے سانپ بن کر ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکتے ہی جادوگروں نے چلا چلا کر فرعون زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی…
Read the full tafseer →67: فَاَوْ جَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی (پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ ) دل میں خوف لائے۔ یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ انکا رخ کر رہی ہیں۔ اور نمبر 1۔ فطرت بشر یہ کے کہ تقاضا سے ایسا ہوا۔ نمبر 2۔ ان کو خطرہ ہوا کہ لوگ خلجان میں مبتلا ہو کر شک سے ان کی اتباع نہ کریں گے۔ اور دھوکے میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →67۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی، ، اس کو خوف پایا۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے اپنے دل میں خوف کو چھپایا، خوف کے متعلق بعض نے کہا کہ بشریت کے تقاضے کی بنا پر کچھ خفیہ خوف پیدا ہوا ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ دھوکہ کھاجائیں گے اور میرے معجزے میں ان کو شک پڑجائے گا اور حق واضح نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–69
62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →64 جادو کے زور سے موسیٰ کے دل میں طبعی خوف کا پیدا ہونا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف سا محسوس کیا "۔ جو کہ ایک طبعی چیز اور فطری تقاضا ہے کہ انسان نقصان دینے والی اور موذی چیز سے خوف محسوس کرتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ اس موقعہ پر نہ اس طرح ڈرتے، نہ خوف کھاتے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے جب یہ منظر دیکھا کہ جادوگروں کے جادو کے زور سے پورا میدان سانپوں سے بھر گیا ہے اور آپ کی لاٹھی کا کمال ابھی تک ظاہر نہیں ہوا تھا ہرچند کہ آنجناب کو اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین تھا کہ فتح اور غلبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 8 حضرت موسیٰ کا یہ سہمنا بتقاضائے بشریت تھا اور ممکن ہے کہ ان کا یہ سہمنا اس بنا پر ہو کہ کہیں لوگ التباس میں نہ پڑجائیں اور میرے عصہ ڈالنے سے پہلے کہیں ان جادوگروں کے معتقد نہ ہوجائیں (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(20:67) اوجس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ الوجس کے معنی صورت خفی کے ہیں وجس وہ حالت جو کسی خطرہ کے بعد دل میں پیدا ہوتی ہے لہٰذا اوجسکے معنی ہوئے اس نے دل میں خوف محسوس کیا۔ ایح اس (افعال) مصدر۔ خیفۃ۔ خوف۔ ڈر۔ خاف یخاف کا مصدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
جادوگروں کا ایمان لانا
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
[23] اندیشہ اس وجہ سے کہ جب جادوگروں نے بھی سانپ بنا لئے اور میرا عصا بھی بہرحال سانپ بنے گا تو دیکھنے والے مقابلہ برابر کا سمجھیں گے۔ حق کا غلبہ کیسے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے…
Read the full tafseer →-67 یہ دیکھ کر موسیٰ نے اپنے دل میں تھوڑا سا ڈر اور خوف محسوس کیا۔ یعنی یہ معمولی سا وسوسہ گزرا کہ اگرچہ یہ ان کی محض دید بندی ہے اور حقیقت کچھ بھی نہیں لیکن مبادا عوام حق و باطل میں کوئی تمیز نہ کرسکیں گے کیونکہ یہ رسیاں بھی سانپ معلوم ہو رہی ہیں اور وہ حقیقی سانپ بھی ان کو سانپ ہی دکھائی دے گا اس لئے شاید امتیاز نہ کرسکیں اس قسم کے وسوسہ سے یقین کو کوئی نقصان نہیں پہونچتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ف 2۔ یعنی خوف ہوا کہ جب دیکھنے میں یہ رسیاں اور لاٹھیاں بھی سانپ معلوم ہوتی ہیں، اور میرا عصا بھی بہت سے بہت سانپ بن جاوے گا تو دیکھنے والے تو دونوں چیزوں کو ایک ہی سا سمجھیں گے، تو حق و باطل میں امتیاز کس طرح کریں گے۔
Read the full tafseer →عوام تو عوام ہی تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک بار گھبراگئے :
67۔ ساحرین فرعون کا کرتب دیکھ کر عوام پر تو اثر ہونا ہی چاہئے تھا اور ان پر یقینا اثر ہوا ہی ہوگا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک بار گھبرائے اور فطری خیال ان کے اندر پیدا ہوا اور خطرہ محسوس کیا کہ لوگ ان کے اس کرتب سے ضرور متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی سحر باے نے بلکہ چرب زبانی سے عوام کی آنکھوں میں خاک جھونکی جا رہی تھی اور فضا دھواں دھار ہو رہی تھی اور ظاہر ہے کہ عوام کا دھارا اندھا دھند ہوتا ہے اور بھگدڑ مچ جائے تو حق وناحق واضح نہیں ہوتا اور فریقین کو ایسے نازک مواقع پر اس طرح کا خطرہ ہو وقت موجود ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ (So Musa concealed some fear in his heart - 20:67.). The sight of so many snakes crawling around evoked a sense of fear in Sayyidna Musa (علیہ السلام) which he did not reveal to anyone. Even if this fear was for his own personal safety then it can be regarded as a natural human reaction to a dangerous situation and does not conflict with the mission of prophethood. It is clear, however, that the fear which he felt was not for his own life. His apprehension was that if the immense crowd, which had assembled to see the contest, sensed that the Egyptian…
Read the full tafseer →41. It appears that no sooner did Prophet Moses (peace be upon him) say: Cast down, the magicians immediately cast their staffs and cords and it seemed as if hundreds of serpents were running towards him, and he instinctively felt a dread of them. And there is nothing strange in this because a Prophet is after all a human being. Besides this, it is also possible that Prophet Moses (peace be upon him) apprehended that the demonstration of the magic might create a misunderstanding among the people about his miracle. This is also a proof that a Prophet too can be influenced by magic to a certain…
Read the full tafseer →