Taa-Haa 20:64

Taa-Haa · from ayah 64

20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا ۚ— وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی ۟فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَكُمۡ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا‌ ۚ وَقَدۡ اَفۡلَحَ الۡيَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰى

تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So resolve upon your plan and then come [forward] in line. And he has succeeded today who overcomes."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:64

اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور اَیکا کر کے میدان میں آؤبس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا اپنی ساری تدبیریں پختہ کرلو، پھر صف باندھ کر آؤ، اور یقین رکھو کہ آج جو غالب آجائے گا، فلاح اسی کو حاصل ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنا داؤ (فریب) پکا کرلو پھر پرا باندھ (صف باندھ) کر آ ؤ آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(انہوں نے باہم فیصلہ کیا) پس تم (جادو کی) اپنی ساری تدابیر جمع کر لو پھر قطار باندھ کر (اکٹھے ہی) میدان میں آجاؤ، اور آج کے دن وہی کامیاب رہے گا جو غالب آجائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو تم اپنی تدبیر پختہ کرو، پھر صف باندھ کر آجاؤ اور یقینا آج وہ کامیاب ہوگا جس نے غلبہ حاصل کرلیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا اپنی سب تدبیریں اکٹھی کرو اور متحد ہو کر مقابلہ میں آؤ اور سمجھ لو کہ جو آج غالب رہا وہ جیت گیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کرلو، پھر ان کے مقابل میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم پکا کرلو اپنی تدبیر کو پھر اتر آؤ تم (میدان میں) صف باندھ کر، اور یقین رکھو کہ جیت اسی کی ہے جو آج غالب رہا،

— مولانا اسحاق مدنی

سو اب سب مل کر اپنے فن کا انتظام کرو۔ اور صف بہ صف آجاؤ کہ آج فلاح اسی کی ہے جو غالب آئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

چناچہ تم مجتمع کرو اپنی ساری تدبیریں (اور اپنے وسائل و ذرائع) پھر آؤ (مقابلہ میں) صف باندھ کر اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم جادو کا سامان اکٹھا کرلو، اور پھر قطار باندھ کر آئو۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So muster all your stratagem and come forth in a row. Whoever prevails today shall triumph."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, make your plot firm and come forth in one row. Successful today is the one who prevails.

— Muhammad Taqi Usmani

So, make your plot firm and come forth in one row. Successful today is the one who prevails.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"So devise your plot, and then assemble in line. And whoever overcomes this day will be indeed successful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So arrange your plan, and come in battle line. Whoso is uppermost this day will be indeed successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So resolve upon your plan and then come [forward] in line. And he has succeeded today who overcomes."

— Saheeh International

Bring together your devices and come forward in ranks; the winner will, certainly, have great happiness".

— Muhammad Sarwar

Therefore settle your plan, then come standing in ranks and he will prosper indeed this day who overcomes.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore devise your stratagem, and then come in a row; and prospered to-day is he who overcometh.

— Abdul Majid Daryabadi

"Therefore concert your plan, and then assemble in (serried) ranks: He wins (all along) today who gains the upper hand."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–64

مقابلہ اور نتیجہ۔ جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 38 یعنی ان کے مقابلے میں متحدہ محاذ پیش کرو۔ اگر اس وقت تمہارے درمیان آپس ہی میں پھوٹ پڑگئی اور عین مقابلے کے وقت مجمع عام کے سامنے یہ ہچکچاہٹ اور سرگوشیاں ہونے لگیں تو ابھی ہوا اکھڑ جائے گی اور لوگ سمجھ لیں گے کہ تم خود اپنے حق پر ہونے کا یقین نہیں رکھتے، بلکہ دلوں میں چور لیے ہوئے مقابلے پر آئے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–65

(فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا) صف بستہ ہونے کو مقابل پر رعب ڈالنے کا ایک خاص اثر ہوتا ہے اس لئے جادوگروں نے اپنی صف بندی کر کے مقابلہ کیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 64 یہ وہ مشورہ ہے جو غور و فکر کے بعد ساحروں کو دیا گیا کہ چونکہ مرحلہ بہت نازک اور مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اس وجہ سے سب ساحر مل کر پانی مجمتعہ طاقت سے ایک محتدہ محاذ بنا کر مقابلہ کریں۔ اس مشورے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی ہوگی کہ جس طرح سیاسی پارٹیوں میں باہم رقابتیں ہوتی ہیں، ہر ایک کی خواہش اور کوشش صرف اپنے مفاد کے لئے ہوتی ہے، اسی طرح پیشہ ور جماعتوں میں بھی آپس میں چشمک ہوتی ہے اور ہر ایک صرف اپنی برتری چاہتی ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ساحروں میں اس طرح کا انتشار رہا تو شکست ہوجائے گی اس وجہ سے انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ الگ الگ اپنے فن کا مظاہرہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 64–66

66۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں پہلے اپنا کرتب دکھانے کے لئے کہا، تاکہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ وہ جادو گروں کی اتنی بڑی تعداد سے، جو فرعون جمع کر کے لے آیا ہے، اسی طرح ان کے ساحرانہ کمال اور کرتبوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ دوسرے، ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیاں، جب معجزہ الٰہی سے چشم زدن میں ہوا ہوجائیں گی، تو اس کا بہت اچھا اثر پڑے گا اور جادوگر یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ یہ جادو نہیں ہے، واقعی اسے اللہ کی تائید حاصل ہے کہ آن واحد میں اس کی ایک لاٹھی ہمارے سارے کرتبوں کو نگل گئی۔ 66۔ 2 قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسیاں اور لاٹھیاں حقیقتاً سانپ نہیں بنی تھیں، بلکہ جادو کے زور سے ایسا محسوس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–66

23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–64

فتنازعوا امرھم ……استعلی (46) جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی موقع کی اہمیت کو سمجھو، وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دو ، پوری ہمت وقوت سے سب مل کر ان کے گرانے کی تدبیر کرو۔ اور دفعتاً ایسا متفقہ حملہ کردو کہ پہلے ہی وار میں ان کے قدم اکھڑ جائیں کہ آج کا معرکہ فیصلہ کن معرکہ ہے، آج کی کامیابی دائمی کامیابی ہے۔ جو فریق آج غالب رہے گا وہ ہمیشہ کے لیے منصور و مفلح سمجھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 64–65

آیت 64 فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ اءْتُوْا صَفًّا ج ” تم لوگ اپنے تمام دستیاب مادی و فنی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 فرعونیوں کے خفیہ مشورے اور مقابلہ کے متحد دینے کی تلقین :۔ اس علیحدہ مجلس میں ان لوگوں نے، جو جادوگروں کو اکٹھا کرنے میں پیش پیش تھے، اس بات پر زور دیا کہ اب اختلاف کرنے کا موقع نہیں رہا۔ اب تو سب کو اس مقابلہ کے انعقاد پر متفق ہونا ہی بہتر ہے۔ مقابلہ نہ کرنا یا اسے ملتوی کرنا دونوں باتیں ہمارے لئے نقصان دہ اور ہماری شکست کے مترادف ہیں۔ کچھ دوسروں نے کہا کہ اگر تم نے مقابلہ نہ کیا یا تم ہار گئے تو سمجھ لو کہ تمہاری شامت آجائے گی۔ حکومت تم سے چھن جائے گی۔ بنی اسرائیل کے تم غلام بن جاؤ گے۔ پھر جو سلوک وہ چاہیں تم سے کریں تمہیں اس ملک میں رہنے بھی دیں یا نکال باہر کریں۔ تم انھیں کے رحم و کرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (اور کوئی بات اٹھا نہ رکھو) یعنی لاتدعوا شیئا الاجئتم بہ (کبیر) (آیت) ” اجمعوا “۔ سے ایک مراد تو وہی ہے جو اردو میں جمع ہوکر، مل کر سب کے اکھٹے ہونے سے ہوتی ہے، اور یہی معنی زجاج لغوی نے لئے ہیں۔ لیکن عزمکم کلکم کالید مجمعا علیہ لاتختلفوا (کبیر۔ عن الزجاج) اور دوسرے معنی یہ کہ خوب مضبوط ہو کر نکلو، اور یہ معنی فراء لغوی سے منقول ہیں الاجماع الاحکام والعزیمۃ علی الشیء (کبیر۔ عن الفراء) 67۔ (آج ہی تو ہماری قوم اور ہمارے دین وتہذیب کی موت وزیست کا مسئلہ طے ہونا ہے) صف بہ صف، یعنی سب مل کر۔ آپس میں ایک دوسرے کو غیرت دلائی کہ آج تو ہمارے فن پر حملہ ہے، فن کی عزت کا سوال ہے، اس کا تحفظ ہم سب پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 55–70

آیت نمبر 55 تا 70 ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاجمعوا کیدکم ثم ائتوا صفا سو اب تم مل کر اپنی تدبیر کا انتظام کرو پھر صفیں آراستہ کر کے مقابلہ میں آؤ۔ اَجْمِعُوْا (مصدر اجماع باب افعال) کو بعض لوگوں نے ثلاثی مجرد۔ یعنی اِجْمَعُوْاکا ہم معنی قرار دیا ہے یعنی اپنی تدبیریں ساری جمع کرلو۔ عرب کہتے ہیں اَجْمَعْتُ الشءَی اور جَمَعْتُ الشئیدونوں کو ہم معنی کہتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اجماع کا معنی ہے متفق الرائے ہوجانا کسی رائے پر اتفاق کرلینا ‘ مطلب یہ ہے کہ اپنی تدبیر پر متفق ہوجاؤ۔ پختہ ارادہ کرلو ‘ باہم اختلاف نہ کرو۔ ورنہ کام بگڑ جائے گا۔ صَفٌّایک قطار بنا لینا آدمیوں کی ہو یا درختوں کی یا کسی اور چیز کی یہ مصدر ہے لیکن بمعنی اسم فاعل یعنی سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) لہذا اب تم مل کر اپنی تدبیر اور اپنے جادو اور اپنے علم کا انتظام کرو اور سب صفیں آراستہ کرکے مقابلہ کے لیے آؤ، آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ۔۔ : ”جَمَعَ یَجْمَعُ“ (ف) جمع کرنا اور ”أَجْمَعَ“ (افعال) پختہ کرنا، پختہ ارادہ کرنا، اتفاق کرنا۔ لہٰذا ”فَاَجْمِعُوْا“ (افعال) کا ترجمہ ”جمع کرو یا اکٹھا کرو“ درست نہیں۔ یعنی یہ تذبذب اور اختلاف چھوڑو کہ موسیٰ (ؑ) کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، تم اپنا ارادہ اور اپنی خفیہ تدبیر پختہ اور مستحکم کرو اور پھر صف کی صورت میں اکٹھے ہو کر میدان میں آؤ، تاکہ سب پر تمہارا رعب پڑے اور دفعتاً ایسا حملہ کرو کہ حریف کے قدم اکھڑ جائیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جادوگر بہت بڑی تعداد میں تھے اور انھوں نے ایک بےہنگم ہجوم کی صورت میں سامنے آنے کے بجائے باقاعدہ فوجی ترتیب سے آگے پیچھے صفیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–64

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذین لسحرن ابو عمرو نے ان ھذین لساحران پڑھا ہے۔ حضرت عثمان، حضرت عائشہ وغیرہما ؓ صحابہ سے یہ مروی ہے۔ اسی طرح حسن، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی وغیرہم نے بھی پڑھا ہے۔ قراء میں سے عیسیٰ بن عمر، عاصم حجدری نے اسی طرح پڑھا ہے جیسا کہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ یہ قرأت اعراب کے موافق ہے اور مصحف کے مخالف ہے۔ زہری، خلیل بن احمد، مفضل، اببان، ابن محیصن، ابن کثیر اور عاصم نے ایک روایت میں پڑھا ہے : حفص نے بھی ان ھذان ان کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر ھذان کی نون کو شد سے پڑھتے تھے۔ یہ قرأت مصحف کی مخالفت سے سلامت ہے اور اعراب کے فساد سے سلامت ہے۔ اس کا معنی ہے ما ھذان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–71

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَجْمِعُوْا : پس تم لوگ جمع کرو ] [كَيْدَكُمْ : اپنے دائوں پیچ ] [ثُمَّ : پھر ] [ائْتُوْا : تم سب آئو ] [صَفًّا : صف بنائے ہوئے ] [وَقَدْ اَفْلَحَ : اور مراد پا لی ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [مَنِ : اس نے جو ] [اسْتَعْلٰى: غالب ہوا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–64

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–76

ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–64

38:۔ بعض جادوگروں نے کہا یہ (موسی و ہارون علیہما السلام) دونوں جادوگر ہیں تم ڈرو مت وہ جادو کے زور سے تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور تمہارا پرانا دین جو نہایت اچھا ہے اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم سب متفق ہو کر اور پختہ عزم کر کے اپنا جادو چلاؤ اور جادو کا کوئی کرتب ایسا نہ ہو جسے آج تم استعمال نہ کرو اور صفیں باندھ کر میدان میں نکل آؤ۔ کیونکہ آج وہی شخص کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–64

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا۝ 0ۚ وَقَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى۝ 64 جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–68

وھذین اسم ان حارث بن کعب کے محاورہ میں وہ مثنی کا اعراب تقدیری مانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسم ان ضمیر شان ہو وھذانِ لَسٰحِرٰان خبر اور بعض کہتے ہیں ان بمعنی نعم ومابعد اس کا مبتداو خبر ہے اور ابوعمرو نے ہذین پڑھا ہے تب کچھ دقت نہیں اور ابوحفص اور کثیر نے ان مخففہ پڑھا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا ج وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی۔ (طٰـہٰ : 64) (پس اپنی ساری تدبیریں جمع کرلو، پھر ان کے مقابلے میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا۔ ) ہر طرح کی تیاری کی تاکید وہ جادوگر جو مقابلے کے لیے بلائے گئے تھے مشاورت کرنے والوں نے حالات کا جائزہ لینے اور خدشات کا اظہار کرنے کے بعد انھیں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام تر کامیابی کا دارومدار تمہاری کاوشوں پر ہے۔ وہ دونوں بھائی چونکہ بہت بڑے جادوگر ہیں اس لیے ایسی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جو بےدلی سے کی جائے یا کوشش کرنے والوں میں انتشار پایا جائے۔ اقتدار کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–64

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا اثر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس قدر مؤثر انداز میں خطاب فرمایا کہ وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے کہ فی الواقع ہم باطل پر ہیں۔ قریب تھا کہ وہ دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے لیکن بالآخر فرعون اور اس کے حواری جادوگر غالب رہے انھوں نے یہ کہہ کر عام وخاص کو مطمئن کیا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں ملک سے نکلنے پر مجبور کردیں اور تمہاری تہذیب، شاندار ترقی اور ملک کے نظام کو بدل ڈالیں۔ اس لیے لازم ہوگیا ہے کہ تم آخری معرکہ سمجھ کر پوری طرح صلاحیتوں اور اسباب کو مجتمع کرتے ہوئے منظم طریقے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64: فَاَجْمِعُوْا (پس تم مل ملک کر انتظام کرو) پس تم فیصلہ کرو یعنی اس کو اجتماعی فیصلہ قرار دو باہمی اختلاف نہ کرو۔ قراءت : ابو عمرونے فَاجْمَعُوْا پڑھا ہے اور اس کی تائید فَجَمَع کَیدہ۔ ] طہٰ : 60[ سے ہوتی ہے۔ کَیْدَکُمْ (اپنی تدبیر کو) جو تدبیر کرنی ممکن ہے۔ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا (پھر صف بندی کر کے مقابلہ میں آئو) نحو : صفًا یہ حال ہے کہ مصفین۔ انہوں نے صف بندی اس لئے کی کیونکہ یہ دیکھنے والوں کے دلوں میں زیادہ رعب ڈالنے والی چیز ہے۔ وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی (اور آج جو غالب آئیگا۔ وہی کامیاب ہوگا) جو غالب آیاوہ کامیاب۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

64۔ فاجمعواکیدکم ، ، ابوعمرو نے ، ، اجمعو، ، کے الف کو وصل کے ساتھ پڑھا ہے۔ میم کے فتحہ کے ساتھ جمع سے ہے۔ یعنی تم ان اشیاء کونہ پکارو یا جمع نہ کرو جو تمہارے ساتھ دھوکہ کرے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا معنی عزم اور محکم ہو۔ یعنی تم فیصلہ کرو اس کو اجماعی فیصلہ قرار ددو باہمی اختلاف نہ کرو۔ ثم ائتو صفا، ، سب کے سب۔ مقاتل اور کلبی نے یہی بیان کیا ہے کہ اور بعض قوم نے کہا کہ تم سب جمع ہوکر ایک قطار میں ہوکرآؤ تاکہ دیکھنے والوں کے دلوں میں ہیبت پیدا ہو۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ صف کا معنی ہے جمع ہونے کی جگہ، جائے نماز کو صف اسی مناسبت سے کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جو مقرر ہے اس جگہ پہنچ جاؤ۔ وقد افلح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–69

62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–72

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 64–65

60 جادوگروں کا حضرت موسیٰ سے مقابلے کا فیصلہ : سو آخر کار انہوں نے باہم مشورہ کرنے کے بعد کہا کہ " تم اترو ۔ میدان میں ۔ صف باندھ کر "۔ اور یکبارگی ڈال دو وہ سب کچھ جو کہ تمہیں ڈالنا ہے۔ تاکہ تمہاری ہیبت چھا جائے اور تمہارا دبدبہ قائم ہوجائے۔ اور جو کچھ مکر و کید تم سے ممکن ہوسکے وہ سب لاکر ڈال دو تاکہ آج کے اس معرکے میں تم کامیاب ہوسکو۔ یعنی انہوں نے باہم مشورے کے بعد کہا کہ چونکہ مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اور معاملہ ملک و قوم اور اپنی تہذیب و ثقافت کی بقاء کا ہے۔ اس لیے تم اپنی سب قوت مجتمع کر کے میدان میں اترو اور اپنی بھرپور طاقت سے ان کا مقابلہ کرو۔ 61 مقابلے کا دن فیصلے اور غلبے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–76

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–76

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی آپس کی اس پھوٹ کو چھوڑو اور پوری طرح متحد ہو کر مقابلہ کرو۔ (شوکانی)5 تاکہ دیکھنے والوں پر رعب طاری ہوجائے۔ پر (صف) یعنی قطار جمہور مفسرین نے صفاً کے یہی معنی بیان کئے ہیں اور بعض نے اس کے معنی عید گاہ بھی کئے ہیں۔ (شوکانی)6 یعنی آج کے مقابلے کی اتنی اہمیت ہے کہ جو اس میں غالب رہا، اس کا سکہ ہمیشہ کے لئے بیٹھ گیا اور جو اس میں رہ گیا پھر کبیھ سر نہ اٹھا سکے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:64) فاجمعوا کیدکم۔ اجمعوا اجماع (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ کیدکم۔ تمہاری دائوں۔ تمہاری چالیں۔ تمہارا سامان فریب۔ سامان فن و فریب۔ پس اب مل کر سب اپنے فن کا سامان اکٹھا کرلو۔ ائتوا صفا۔ تم آجائو صف در صف۔ یرے کے یرے۔ پرے باندھ کر۔ افلح۔ وہ جیت گیا۔ وہ مراد کو پہنچا۔ افلاح افعال سے جس کے معنی کامیابی اور مقصد وری کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ۔ قد افلح الیوم من استعلی۔ آج وہی (گروہ) کامیاب ہوگا جو (اس مقابلہ میں) غالب رہے گا۔ یہاں باب استفعال بمعنی فعل استعمال ہوا ہے۔ علا یعلوا علو۔ بلند ہونا۔ غالب ہونا۔ استعلی۔ اس نے غلبہ چاہا۔ اس نے بلندی چاہی۔ استعلاء استفعال سے ماضی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–64

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64 اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 64 حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–70

جادوگروں کا ایمان لانا ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–66

[22] یعنی جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سن کر آپس میں بحث کرنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–67

(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-64 لہٰذا اب تم بھی سب مل کر اپنی تدبیر کا پختہ انتظام کرلو پھر صفیں باندھ کر مقابلہ میں آئو اور آج وہی شخص کامیاب ہوا جو غالب رہا۔ یعنی جس نے غلبہ پا لیا جیت اسی کی ہے اور وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس خصوصی مجلس کو برخاست کرتے ہوئے انہوں نے آخری ہدایت دی : 64۔ اس خصوصی مجلس کو برخاست کرتے ہوئے آخری ہدایت انہوں نے یہ دی جس مرحلہ پر تم پہنچے ہو وہ بہت ہی نازک ہے اور ایسے نازک موقعوں پر نہایت چوکس اور عقل وفکر کو حاضر رکھ کر بات کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ایک شوشہ بھی ادھر ادھر ہوجائے تو بات کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے تمہارا مقابلہ نہایت ہی ماہر اور استاد ساحروں سے ہے اور ویسے بھی اپنے مقابل کو کمزور سمجھنا حماقت ہے اس وقت تم لوگوں کو اپنی ساری مخفی سے مخفی تدبیریں بروئے کار لانا ہیں اور اپنی صفوں میں بہت چوکس ہو کر بیٹھنا ہے چونکہ مناظرہ بھی ہم نے ہی رکھوایا ہے اور اس کی ابتداء ہم ہی نے کی ہے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–65

فَأَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا (So, make your plot firm and forth in one row - 20:64). Formation of troops in ranks in battle has an unsettling effect on the enemy, so the Egyptian magicians arranged themselves in ranks for the contest.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38. They also urged them to present a united front and not to show their differences on the very occasion of the encounter. For, they argued, any hesitation and secret consultation before the very eyes of the public would show that they did not consider themselves to be in the right.

Read the full tafseer →