Explained with ayahs 65–70
مقابلہ شروع ہوا۔
جادوگروں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اب بتاؤ تم اپنا وار پہلے کرتے ہو یا ہم پہل کریں ؟ اس کے جواب میں اللہ کے پیغمبر نے فرمایا تم ہی پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکال لو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ تم نے کیا کیا اور پھر اللہ نے تمہارے کئے کو کس طرح مٹا دیا ؟ اسی وقت انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں کچھ ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا وہ سانپ بن کر چل پھر رہی ہیں اور میدان میں دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ کہنے لگے فرعون کے اقبال سے غالب ہم ہی رہیں گے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر کے انہیں خوفزدہ کردیا اور جادو کے زبردست کرتب دکھا دیئے۔ یہ لوگ بہت زیادہ تھے۔ ان کی پھینکی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں سے اب…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 39
بیچ کی یہ تفصیل چھوڑ دی گئی کہ اس پر فرعون کی صفوں میں اعتماد بحال ہوگیا اور مقابلہ شروع کرنے کا فیصلہ کر کے جادوگروں کو احکام دے دیے گئے کہ میدان میں اتر آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا) صف بستہ ہونے کو مقابل پر رعب ڈالنے کا ایک خاص اثر ہوتا ہے اس لئے جادوگروں نے اپنی صف بندی کر کے مقابلہ کیا۔
Read the full tafseer →آیت 65
حق اور باطل میدان مقابلہ میں
اس مشورت کے بعد جو اوپر مذکور ہوئی ساحر اور حضرت موسیٰ اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ میدان مقابلہ میں اترے۔ ساحروں نے آمنے سامنے ہوتے ہی اپنے پیشہ ورانہ اخلاق کے مطابق حضرت موسیٰ سے کہا کہ یا تو پہلے تم اپنا پانسہ پھینکو یا پھر ہمیں اپنا ہنر دکھاتے ہیں۔ انکے اس قول سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اگرچہ انہوں نے موقع پہل کرنے کا حضرت موسیٰ کو بظاہر دیا لیکن دبی زبان سے اپنی خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ وہ پہل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ اس طرح کے مقابلوں میں تقدیم و تاخیر کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر فریق کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے پہلے ہی کرتب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
66۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے انھیں پہلے اپنا کرتب دکھانے کے لئے کہا، تاکہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ وہ جادو گروں کی اتنی بڑی تعداد سے، جو فرعون جمع کر کے لے آیا ہے، اسی طرح ان کے ساحرانہ کمال اور کرتبوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ دوسرے، ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیاں، جب معجزہ الٰہی سے چشم زدن میں ہوا ہوجائیں گی، تو اس کا بہت اچھا اثر پڑے گا اور جادوگر یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ یہ جادو نہیں ہے، واقعی اسے اللہ کی تائید حاصل ہے کہ آن واحد میں اس کی ایک لاٹھی ہمارے سارے کرتبوں کو نگل گئی۔
66۔ 2 قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسیاں اور لاٹھیاں حقیقتاً سانپ نہیں بنی تھیں، بلکہ جادو کے زور سے ایسا محسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے
Read the full tafseer →اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر بہت پر اعتماد ہیں اور چینجل اور اصول کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
3 موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت بےپروائی سے جواب دیا کہ نہیں، تم پہلے اپنے حوصلے نکال لو اور اپنے کرتب دکھا لو۔ تاکہ باطل کی زور آزمائی کے بعد حق کا غلبہ پوری طرح نمایاں ہو۔ یہ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
4 یعنی ساحرین کی نظر بندی سے موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں خیال ہونے لگا گویا رسیاں اور لاٹھیاں سانپوں کی طرح دوڑ رہی ہیں، اور واقعہ میں ایسا نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آیت 64 فَاَجْمِعُوْا کَیْدَکُمْ ثُمَّ اءْتُوْا صَفًّا ج ”
تم لوگ اپنے تمام دستیاب مادی و فنی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
46 مقابلہ میں جادوگروں کی پہل :۔ اس اتحاد کے بعد جادو گر میدان مقابلہ میں آگئے اور موسیٰ سے کہنے لگے : پہلے تو اپنا شعبدہ دکھاؤ گے یا ہم پہل کریں ؟ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استفسار از راہ تکریم کیا تھا جیسا کہ مقابلہ میں اکثر یہ دستور چلتا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ نے یہ دیا کہ پہلے تم ہی اپنے شعبدے دکھلاؤ۔ ان کا یہ جواب از راہ تکریم نہیں تھا۔ کیونکہ جادوگر کوئی قابل عزت شے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس لئے تھا کہ حق نتھر کر سامنے آجائے۔ باطل اپنا جتنا زور لگا سکتا ہے۔ لگا لے پھر اگر اس کے بعد حق اس پر غالب آگیا تو سب لوگ حقیقت کو جان لیں گے۔
Read the full tafseer →68۔ ساحر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کررہے ہیں (جیسا کہ آج بھی کھلاڑی مقابلہ کے وقت دریافت کرتے ہیں) کہ کہیے پہلی بازی کس کی رہے گی ؟ یا دوسری اصطلاح میں پہلا وار کس کا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ ساحر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے القاء سحر کی اجازت نہیں طلب کررہے ہیں، اجازت دینے کے قابل وہ انہیں سمجھتے ہی کیا تھے۔ القاء سحر پر تو وہ کمر بستہ تھے ہی، دریافت صرف اتنا کررہے ہیں کہ پہلی بازی کس کی ہوگی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →قالوا یموسی اما ان تلقی واما ان نکون اوّل من القی۔ انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ (اپنا عصا) پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(65۔ 66) غرض کہ ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ اپنا عصا زمین پر پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں، حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا نہیں تم ہی پہلے ڈالو، چناچہ انہوں نے زمین پر 72 لکڑیاں اور 72 رسیاں ڈالیں، ان کی نظر بندی سے حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے سانپ کی مانند چلتی ہوں۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ۔۔ : فرعون نے موسیٰ ؑ کے عصا کو سانپ بنتے ہوئے دیکھا تو لوگوں کی نگاہ میں اسے بےوقعت بنانے کے لیے اسے جادو قرار دے کر کہا کہ ہم بھی مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے، چناچہ اس کے مطابق جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بننے کے شعبدے کی تیاری کی اور میدان میں آ کر یہ پیش کش کی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اس پیش کش کے الفاظ سے اپنے جادو پر ان کے اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے اور اس بات کا بھی کہ اگر تم پہل پر تیار نہیں ہو تو ہم اس کے لیے بالکل تیار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے جس خیال سے بھی یہ پیش کش کی ہو اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(تفسیر 65-71) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قالوا یموسیٰ اس سے مراد جادوگر ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی۔ اما ان تلقی یعنی تم اپنا عصا پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ واما ان نکون اول من القی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جادوگروں نے ادب کا مظاہرہ کیا یہی ان کا ادب و احترام ان کے ایمان کا سبب بنا۔ قال بل القوا فاذا حبالھم کلام میں حذف ہے یعنی فالقوا (انہوں نے ڈالا) حذف ہے اس پر معنی دلالت کر رہا ہے۔ حسن نے عصیھم کو عین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون قاری نے کہا : بنی تمیم کی لغت عصیھم ہے۔ حسن اس کے مطابق پڑھتے تھے۔ باقی قراء نے صاد کے کسرہ کی اتباع کی وجہ سے عین کے کسرہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : (جادو گروں نے) کہا ] [يٰمُوْسٰٓى: اے موسٰی (علیہ السلام) ] [اِمَآ : یا یہ ] [ان : کہ ] [تُلْقِيَ : آپ (علیہ السلام) ڈالیں ] [وَاِمَآ : اور یا یہ ] [ان : کہ ] [نَّكُوْنَ : ہم ہوں ] [اَوَّلَ مَنْ : اس کے پہلے جو ] [اَلْقٰي : ڈالے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادو گروں کا آنا، پھر ہار مان کر ایمان قبول کرلینا اور سجدہ میں گرپڑنا
فرعون نے اپنی حدود مملکت سے جادو گروں کو جمع کیا۔ دنیادار کے سامنے دنیاہی ہوتی ہے اسی کے لئے سو چتا ہے اسی کے لیے جیتا ہے اسی کے لیے مرتا ہے۔ جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ ہم غالب ہوگئے تو کیا ہمیں اس پر کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا بڑا صلہ بھی ملے گا اور تم میرے مقرب لوگوں میں سے ہوجاؤ گے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور طور طریق کو سمجھا تو ان کی سچائی دل میں بیٹھ گئی اور چاہتے تھے کہ مقابلہ نہ کریں۔ لیکن فرعون نے زبردستی ان کو میدان میں اتارا اور مقابلہ کرایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →39:۔ جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو پہلے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالیں۔ یا ان کو اجازت دیں کہ پہلے وہ اپنا فن دکھائیں۔ جادوگروں نے ایسا اس لیے کیا۔ کیونکہ ان کو اپنے فن پر پورا پورا اعتماد تھا۔ یا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا کیا۔ جو بعد میں ان کے اسلام کا باعث بنا۔ یا اس لیے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت معلوم کرچکے تھے اور ادب و احترام کے لیے ان کو اختیار دیا۔ خیروہ (علیہ السلام) و قدموہ علی انفسہم اظھار اللثقۃ بامرھم وقیل مراعاۃ للادب معہ (علیہ السلام) (روح ج 16 ص 226) تادبوا مع موسیٰ فکان ذلک سبب ایمانہم (قرطبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
ربط آیات :
جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس کو معجزات بھی دکھائے تو اس نے انکار کیا اور تکذیب کی۔ کہنے لگا کہ یہ تو جادو کا کارنامہ ہے۔ اس نے عام لوگوں کو یہ کہہ کر مشتعل کرنے کی کوشش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) سحر کے زور سے تمہاری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور تمہاری بہترین تہذیب کو مٹانا چاہتا ہے۔ لوگوں کو اکسایا کہ تم اپنی تمام تدبیر اور قوت اکٹھی کرو اور پورے منظم طریقے سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو چناچہ حواریوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ جشن کا دن ملک کے تمام سرکردہ جادوگروں کو جمع کیا جائے اور ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا جائے۔ جادوگر…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰي 65
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
وھذین اسم ان حارث بن کعب کے محاورہ میں وہ مثنی کا اعراب تقدیری مانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسم ان ضمیر شان ہو وھذانِ لَسٰحِرٰان خبر اور بعض کہتے ہیں ان بمعنی نعم ومابعد اس کا مبتداو خبر ہے اور ابوعمرو نے ہذین پڑھا ہے تب کچھ دقت نہیں اور ابوحفص اور کثیر نے ان مخففہ پڑھا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰـمُوْسٰٓی اِمَّـآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّـآ اَنْ نَّـکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی۔ (طٰـہٰ : 65)
(جادوگروں نے کہا، اے موسیٰ ! تم پیش کرو یا ہم پیش کرنے والے بنتے ہیں۔ )
دونوں فریق آمنے سامنے
باہمی قرارداد اور پھر مختلف قسم کی تیاریوں کے بعد دونوں فریق مقابلے پر اترے۔ ایک طرف جادوگروں کی ایک بڑی تعداد تھی اور دوسری طرف حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ بھی موجود ہوں۔ جادوگروں نے پیشہ ورانہ اخلاق کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اپنا پانسہ پھینکو گے یا ہم اپنا ہنر دکھائیں۔ انھوں نے کہنے کی حد تک تو حضرت موسیٰ کو پہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
فہم القرآن
ربط کلام : معرکہ آرائی کا آخری مرحلہ۔
ملک بھر کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف صف آراء ہوئے تو انھوں نے بڑے غرور میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم لاٹھی پھینکتے ہو یا ہم اپنی چیزیں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اعتماد اور پُر وقار لہجے میں فرمایا کہ تمہیں ہی پہل کرنا چاہیے۔ جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں لگا کہ جیسے رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے بڑے سانپ بن کر ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکتے ہی جادوگروں نے چلا چلا کر فرعون زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ آج ہم ہی…
Read the full tafseer →65: قَالُوْا انہوں نے کہا یعنی جادوگروں نے یٰمُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ (اے موسیٰ یا تو تم اپنا عصا پہلے ڈالو) وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی (یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں) جو کچھ ہمارے پاس ہے۔
نحو : انؔ اپنے مابعد سمیت دونوں مقام پر فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مبتدا محذوف کی خبرہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اس کا معنی اس طرح ہوگا اخترا حد الامرین دو میں سے ایک بات کا چنائو کرو۔ نمبر 3۔ الا مر اِلْقَائُ کَ اَوْ الْقَاؤُنَا۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یہ اختیار چنائو ان کی طرف سے آپ کے ساتھ حسن ادب کو ظاہر کررہا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ان کے دل میں ڈالی۔ اور آپ کی ان تک…
Read the full tafseer →65۔ قالو، ، جادوگروں نے کہا، یاموسی اماان تلقی، ، اپنی لاٹھیاں ڈالیں، واما ان نکون اول من القی، جو کچھ ہمارے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–69
62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
60 جادوگروں کا حضرت موسیٰ سے مقابلے کا فیصلہ : سو آخر کار انہوں نے باہم مشورہ کرنے کے بعد کہا کہ " تم اترو ۔ میدان میں ۔ صف باندھ کر "۔ اور یکبارگی ڈال دو وہ سب کچھ جو کہ تمہیں ڈالنا ہے۔ تاکہ تمہاری ہیبت چھا جائے اور تمہارا دبدبہ قائم ہوجائے۔ اور جو کچھ مکر و کید تم سے ممکن ہوسکے وہ سب لاکر ڈال دو تاکہ آج کے اس معرکے میں تم کامیاب ہوسکو۔ یعنی انہوں نے باہم مشورے کے بعد کہا کہ چونکہ مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اور معاملہ ملک و قوم اور اپنی تہذیب و ثقافت کی بقاء کا ہے۔ اس لیے تم اپنی سب قوت مجتمع کر کے میدان میں اترو اور اپنی بھرپور طاقت سے ان کا مقابلہ کرو۔
61 مقابلے کا دن فیصلے اور غلبے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 7 یعنی ان کے جادو کا رعب عوام پر ہی نہیں ہوا تھا بلکہ حضرت موسیٰ بھی اگر حقیقت حال سے واقف نہ ہوتے تو ان کے جادو سے متاثر ہوجاتے یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ بھی متاثر ہوگئے تھے۔ یوں بعض دنیوی امور کے سرانجام دینے میں نبی پر بھی جادو کا اثر ہوسکتا ہیجیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت پر بھی مدینہ میں آ کر کچھ عرصہ کے لئے جادو کا اثر ہوگیا تھا مگر اس قسم کے حق و باطل کے معرکہ میں یہ ممکن نہیں کہ ایک نبی پر اس قسم کا اثر ظاہر ہوجائے۔ ” جادو سے معلوم ہوا “ کا مطلب یہ ہے کہ صرف بظاہر دکھائی دیا حقیقت میں شعبدہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا اور یہی جادو اور معجزہ میں فرق ہے کہ جادو سے ایک چیز کی حقیقت…
Read the full tafseer →(20:65) اما۔ یا ۔ اگر۔ کئی معنوں میں آتا ہے (1) ابہام کے لئے مثلاً واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبہم۔ واما یتوب علیہم (9:106) اور بعضے اور لوگ ہیں کہ ان کا کام اللہ کے حکم پر ڈھیل میں ہے یا ان کو عذاب کرے یا ان کو معاف کرے۔
(2) تخییر۔ (اختیار دینا) کے لئے مثلاً اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا (18:86) خواہ تم انہیں سزادو خواہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
(3) تفصیل کے لئے۔ اما شاکرا و اما کفورا (76:3) ہم نے اس (انسان ) کو راستہ دکھلایا۔ اس کے بعد وہ شکر گذار بندہ بنے یا ناشکرا بن کر جئے۔ یہاں تخییر کے لئے استعمال ہوا ہے (تمہیں اختیار ہے کہ) پہلے آپ پھینکیں یا ہم ہی ہوجائیں پہلے پھینکنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–76
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 76
حبال (حبل) رسیاں۔ عصی (عصا) لاٹھیاں۔ یخیل خیالی شکلیں بناتا ہے۔ تسعی وہ دوڑتی ہیں۔ او جس محسوس کیا۔ تلقف نگل جاتی ہے۔ کھا جاتی ہے۔ حیث اتی وہ جس طرح آئے۔ اذن اجازت دی۔ لاقطعن میں ضرور کاٹ ڈالوں گا۔ لاصلبن میں ضرور پھانسی دوں گا۔ جذوع تنے۔ النخل کھجور۔ اینا ہم میں سے کون۔ ابقی زیادہ باقی رہنے والا۔ لن نوثر ہم ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ اقض تو کر گزر۔ اکرھتنا تو نے زبردستی کیا۔ مجبور کیا۔ تزکی جس نے پاکیزگی حاصل کی۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 76
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لئے ملک بھر کے جادوگر میدان میں پہنچ گئے تو وہ اپنے جادو کی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
جادوگروں کا ایمان لانا
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
[22] یعنی جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سن کر آپس میں بحث کرنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے…
Read the full tafseer →-65 جادوگروں نے مقابلہ کے وقت کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنی لاٹھی پہلے ڈالتا ہے یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہل کون کرے پہل تیری طرف سے ہو یا ہماری طرف سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ف 9۔ ان دونوں حضرات کے بارہ میں۔
Read the full tafseer →میدان میں آتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ پہل کریں گے یا ہم ؟ :
65۔ حکومت مصر کے مدعو کئے گئے ” میدان میں داخل ہوئے اور آتے ہی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ تم پہلے ڈالو گے یا ہم ڈال دیں ؟ گویا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مکمل تیاری کرلی تھی کہ آپ کے پاس ایک لاٹھی تھی جو سانپ بن جاتی تھی تو انہوں نے ایک کی بجائے کئی لاٹھیاں اور رسیاں اپنے ساتھ لائیں اور تعلی سے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کیا ، موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کریم سے یہ خوشخبری پاچکے تھے کہ اے موسیٰ ! اس میدان کی کامیابی ہم نے تیرے مقدر میں رکھی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
فَأَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا (So, make your plot firm and forth in one row - 20:64). Formation of troops in ranks in battle has an unsettling effect on the enemy, so the Egyptian magicians arranged themselves in ranks for the contest.
Read the full tafseer →39. That confidence was subsequently restored among Pharaoh’s party by the speech of the head-strong people, and the magicians were asked to come into the field for the encounter.
Read the full tafseer →