Explained with ayahs 60–64
مقابلہ اور نتیجہ۔
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 36
اور یہ کہنے والے لازماً فرعونی پارٹی کے وہ سر پھرے لوگ ہوں گے جو حضرت موسیٰ کی مخالفت میں ہر بازی کھیل جانے پر تیار تھے۔ جہاندیدہ اور معاملہ فہم لوگ قدم آگے بڑھاتے ہوئے جھجک رہے ہوں گے۔ اور یہ سر پھرے جوشیلے لوگ کہتے ہوں گے کہ خواہ مخواہ کی دور اندیشیاں چھوڑ دو اور جی کڑا کر کے مقابلہ کر ڈالو۔
سورة طٰهٰ 37
یعنی ان لوگوں کا دار و مدار دو باتوں پر تھا۔ ایک یہ کہ اگر جادوگر بھی موسیٰ کی طرح لاٹھیوں سے سانپ بنا کر دکھا دیں گے تو موسیٰ کا جادوگر ہونا مجمع عام میں ثابت ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ تعصبات کی آگ بھڑکا کر حکمران طبقے کو اندھا جوش دلانا چاہتے تھے اور یہ خوف انہیں دلا رہے تھے…
Read the full tafseer →اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى یعنی یہ دونوں جادوگر ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعہ تم کو یعنی فرعن اور آل فرعن کو تمہاری زمین مصر سے نکال دیں، مطلب یہ ہے کہ جادو کے ذریعہ تمہارے ملک پر اپنا قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ تمہارا طریقہ جو سب سے افضل و بہتر ہے اس کو مٹا دیں۔ مثلی، امثل کا صیغہ مونث ہے جس کے معنے افضل و اعلیٰ کے ہیں، مطلب یہ تھا کہ تمہارا مذہب و طریقہ کہ فرعون کو اپنا خدا اور صاحب اختیار و اقتدار مانتے ہو یہی سب سے افضل و بہتر طریقہ ہے یہ لوگ اس کو مٹا کر اپنا دین و مذہب…
Read the full tafseer →آیت 63
یہ ان مخففہ ان کے معنی میں ہے اور اس کے بعد جو ’ ل ‘ ہے یہ اس کا قرینہ ہے۔ مثلیٰ ، امثل، کی مئونث ہے۔ اس کے معنی اعلیٰ عمدہ اور برتر کے ہیں۔
یہ وہ بات نقل ہوئی ہے جو خفیہ مجلس میں فرعون اور اس کے اعیان نے جادوگروں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی۔
پہلی بات تو انہوں نے جادوگروں کے اندر پیشہ ورانہ رقابت کا جذبہ بھڑکانے کے لئے یہی کہی کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں۔ مقصد یہ کہ یہ اسی ہتھیار کے ساتھ میدان میں ائٓے ہیں جو تمہارے پاس بھی ہے تو اگر تم نے ان کے مقابلہ میں کمزوری دکھائی تو سب سے زیادہ ہوا خیزی تمہاری ہی ہوگی۔
دوسری بات یہ سمجھائی کہ یہ اپنے جادو کے زور سے ہم…
Read the full tafseer →63۔ 1 مثلیٰ ، طریقۃ کی صفت ہے یہ امثل کی تانیث ہے افضل کے معنی میں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دونوں بھائی اپنے ' جادو ' کے زور سے غالب آگئے، تو سادات و اشراف اس کی طرف مائل ہوجائیں گے، جس سے ہمارا اقتدار خطرے میں اور ان کے اقتدار کا امکان بڑھ جائے گا۔ علاوہ ازیں ہمارا بہترین طریقہ یا مذہب، اسے بھی یہ ختم کردیں گے۔ یعنی اپنے مشرکانہ مذہب کو بھی انہوں نے " بہترین " قرار دیا جیسا کہ آج بھی ہر باطل مذہب اور فرقے کے پیروکار اسی زعم فاسد میں مبتلا ہیں سچ فرمایا اللہ نے (کل حزب بما لدیھم فرحون) ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر ریچھ رہا ہے۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فتنازعوا امرھم ……استعلی (46)
جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب…
Read the full tafseer →1 یعنی تمہارا جو دین اور رسوم پہلے سے چلی آتی ہیں ان کو مٹا کر اپنا دین اور طور و طریق رائج کردیں اور جادو کے فن کو بھی جس سے ملک میں تمہاری عزت اور کمائی ہے، چاہتے ہیں کہ دونوں بھائی تم سے لے اڑیں اور تن تنہا خود اس پر قابض ہوجائیں۔
Read the full tafseer →آیت 63 قَالُوْٓا اِنْ ہٰذٰٹنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہِمَا وَیَذْہَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی ”
مُثْلیٰ مؤنث ہے اَمْثَل کا ‘ جس کے معنی ہیں سب سے زیادہ مثالی۔ حق کے مقابلے میں باطل ذہنیت کا باہمی اتفاق ملاحظہ ہو کہ جو دلیل اس وقت فرعون اور اس کے درباریوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سوجھی تھی آج بھی شیطانی قوتیں مسلمانوں کے خلاف اسی دلیل کے تحت پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ ابلیسی سوچ کے نقیبوں نے آج بھی پوری دنیا میں شور برپا کر رکھا ہے کہ Muslim Fundamentalism ہماری مثالی تہذیب و ثقافت کے لیے خطرہ ہے۔ ہم نے بڑی محنت سے مختلف اداروں کو فروغ دیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
44 اکابرین فرعون میں اختلاف :۔ اکابرین قوم فرعون پر آپ کی نصیحت کا خاصا اثر ہوا اور وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ایک فریق کہتا تھا کہ ان پیغمروں کا مقابلہ کرنا اپنی شکست کو دعوت دینا ہے۔ دوسرا کہتا تھا کہ ابھی اس مقابلہ کو ملتوی کردیا جائے جبکہ مقابلہ کے دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہوچکے تھے۔ اس حال میں یہ اکابرین علیحدہ چلے گئے اور سر جوڑ بیٹھے تاکہ کسی ایک فیصلہ پر اتفاق رائے ہوجائے۔ اس مشورہ میں ماہر جادوگروں کو بھی شریک کیا گیا ان میں سے بعض کہنے لگے کہ ایسے نورانی چہرے جادوگر نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →65۔ یعنی آپس میں سرگوشی اور مشورت کے بعد یہ ٹھہری کہ یہ دونوں کہیں باہر سے یہ فن سیکھ ساکھ کر آئے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ہم پر غالب آکرہماری اس وطنی فن بلکہ ہماری ساری قومی تہذیب و تمدن ہی کو مٹا بھی ڈالیں، اور خود ایک نظام نو کی بنیاد ڈالیں۔ (آیت) ” مثلی “۔ صیغہ مؤنث ہے امثل کا اور امثل کے معنی ہیں خوب روشن وخوب واضح کے۔ الامثل الاظھر والاوضح (کبیر) یعنی ہمارا یہ نظام جس سے ہم خوب روشناس ہیں۔ غرض حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں جو سرکاری تشخیص، فرعون اور اس کی گورنمنٹ کی جانب سے پہلے ہی ہوچکی تھی، ساحروں نے بھی اسی سے اتفاق کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →قالوا ان ہذن لسحرن یریدن ان یخرجکم من ارضکم بسحرہما ویذہبا بطریقتکم المثلی۔ (آخرکار سب متفق ہو کر) کہنے لگے کہ بیشک یہ دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو کے
زور سے تم کو تمہاری سرزمین سے نکال کر باہر کردیں اور تمہارے اعلیٰ (مذہبی) طریقے کو ختم کردیں۔
قَالُوْا یعنی اختلاف رائے کے بعد آخر متفق ہو کر کہنے لگے یہ قول فرعون کا تھا (دوسرے لوگوں کو اس نے اس قول پر متفق بنا لیا تھا اس لئے سب کا قول ہوگیا۔ مترجم) غرض چاروناچار طوعاً و کرہاً سب کا اس قول پر اتفاق ہوگیا فرعون اور اس کی قوم کا باہم اختلاف رائے اللہ نے سورة المؤمن میں ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے وَقَالَ رَجُلُ مُّؤْمِنٌ مِّنْ…
Read the full tafseer →(63) بالآخر سب متحد ہو کر اعلانیہ کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ دونوں جادوگر ہیں یا یہ کہ فرعون نے ان جادوگروں سے کہا کہ موسیٰ ؑ وہارون ؑ دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں سرزمین مصر سے اپنے جادو کے زور سے نکال باہر کریں اور تمہارے عمدہ مذہبی طریقہ کا اور تم میں سے بہترین اور عقل مند لوگوں کا دفتر ہی ختم کردیں۔
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ۔۔ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ حرف تاکید ہے، جس کی علامت خبر ”لَسٰحِرٰنِ“ پر لام تاکید ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”إِنَّ“ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، اس لیے ”ھٰذٰىنِ“ کے بجائے ”ھٰذَیْنِ“ ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ”إِنَّ“ کے نون کو جزم دینے کے بعد اس کا عمل ختم کردیا گیا اور ”ھٰذٰىنِ“ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، دوسرا یہ کہ ”اِنْ“ (نون ساکن کے ساتھ) ”إِنَّہُ“ یعنی ”إِنَّ“ اور ضمیر شان کی جگہ آیا ہے، چناچہ ”اِنْ“ کا اسم ضمیر شان تھی اور ”ھٰذیٰن“ اگلے جملے کا مبتدا ہے اور وہ جملہ ”اِنپ“ کی خبر بن رہا ہے۔ (ابن جزی) مزید جواب لمبی تفسیروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذین لسحرن ابو عمرو نے ان ھذین لساحران پڑھا ہے۔ حضرت عثمان، حضرت عائشہ وغیرہما ؓ صحابہ سے یہ مروی ہے۔ اسی طرح حسن، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی وغیرہم نے بھی پڑھا ہے۔ قراء میں سے عیسیٰ بن عمر، عاصم حجدری نے اسی طرح پڑھا ہے جیسا کہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ یہ قرأت اعراب کے موافق ہے اور مصحف کے مخالف ہے۔ زہری، خلیل بن احمد، مفضل، اببان، ابن محیصن، ابن کثیر اور عاصم نے ایک روایت میں پڑھا ہے : حفص نے بھی ان ھذان ان کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر ھذان کی نون کو شد سے پڑھتے تھے۔ یہ قرأت مصحف کی مخالفت سے سلامت ہے اور اعراب کے فساد سے سلامت ہے۔ اس کا معنی ہے ما ھذان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[قَالُوْٓا : (پھر) انھوں نے کہا ] [ان : بیشک ] [ھٰذٰىنِ : یہ دونوں ] [لَسٰحِرٰنِ : یقینا جادوگر ہیں ] [يُرِيْدٰنِ : چاہتے ہیں ] [ان : کہ ] [يُّخْرِجٰكُمْ : وہ دونوں نکال دیں تم لوگوں کو ] [مِّنْ اَرْضِكُمْ : تمہاری زمین سے ] [بِسِحْرِهِمَا : اپنے جادو سے ] [وَيَذْهَبَا : اور وہ دونوں لے جائیں ] [بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى: تمہارے افضل طریقے (یعنی تہذیب) کو ]
ترکیب : (آیت۔ 63) اس آیت میں اِنْ کو نافیہ ماننے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اِنْ نافیہ کے بعد عموماً اِلَّا آتا ہے جو کہ یہاں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لَسٰحِرٰنِ پر لام تاکید لگا ہوا ہے جو کہ عموماً اِنَّ کی خبر پر آتا ہے۔ اس لئے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
38:۔ بعض جادوگروں نے کہا یہ (موسی و ہارون علیہما السلام) دونوں جادوگر ہیں تم ڈرو مت وہ جادو کے زور سے تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور تمہارا پرانا دین جو نہایت اچھا ہے اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم سب متفق ہو کر اور پختہ عزم کر کے اپنا جادو چلاؤ اور جادو کا کوئی کرتب ایسا نہ ہو جسے آج تم استعمال نہ کرو اور صفیں باندھ کر میدان میں نکل آؤ۔ کیونکہ آج وہی شخص کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِہِمَا وَيَذْہَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى 63
سحر
والسِّحْرُ يقال علی معان :
الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی:
سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116]
والثاني :
استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ،
والثالث :
ما يذهب إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
وھذین اسم ان حارث بن کعب کے محاورہ میں وہ مثنی کا اعراب تقدیری مانتے ہیں اور ممکن ہے کہ اسم ان ضمیر شان ہو وھذانِ لَسٰحِرٰان خبر اور بعض کہتے ہیں ان بمعنی نعم ومابعد اس کا مبتداو خبر ہے اور ابوعمرو نے ہذین پڑھا ہے تب کچھ دقت نہیں اور ابوحفص اور کثیر نے ان مخففہ پڑھا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِھِمَا وَیَذْھَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی۔ (طٰـہٰ : 63)
(انھوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں۔ اور تمہارے اعلیٰ طرز زندگی کو درہم برہم کردیں۔ )
اِنْ ھٰذٰنِ …یہ ” اِنْ “ مخففہ ” اِنَّ “ کے معنی میں ہے۔” لَسٰحِرٰنِ “ پر الف اس کا قرینہ ہے۔ یہاں ایک نحوی الجھن ہے، وہ یہ کہ اِنَّ تو ہمیشہ اسم کو نصب دیتا ہے۔ اس لیے آیت یوں ہونی چاہیے تھی اِنْ ھٰذَیْنِ لَسٰحِرٰنِ لیکن یہاں ھٰـذٰنِمرفوع ہے جو نحوی قاعدہ کے خلاف ہے۔ علماء کرام نے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا اثر۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس قدر مؤثر انداز میں خطاب فرمایا کہ وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے کہ فی الواقع ہم باطل پر ہیں۔ قریب تھا کہ وہ دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے لیکن بالآخر فرعون اور اس کے حواری جادوگر غالب رہے انھوں نے یہ کہہ کر عام وخاص کو مطمئن کیا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں ملک سے نکلنے پر مجبور کردیں اور تمہاری تہذیب، شاندار ترقی اور ملک کے نظام کو بدل ڈالیں۔ اس لیے لازم ہوگیا ہے کہ تم آخری معرکہ سمجھ کر پوری طرح صلاحیتوں اور اسباب کو مجتمع کرتے ہوئے منظم طریقے…
Read the full tafseer →63: قَالُوْآ اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ (کہنے لگے بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں) یعنی موسیٰ و ہارون۔
قراءت : ابو عمرو نے اِنَّ ھذین لساحران پڑھا اور ظاہر کا تقاضا یہی ہے۔ مگر یہ مصحف امام کے مخالف ہے اور اسی طرح ابن کثیر، حفص، خلیل نے بھی اس سے اختلاف کر کے ھذان ہی پڑھا ہے۔ اور یہ نحو و لغت کے ائمہ ہیں۔ اِنْؔ مخففہ ہے جیسے کہ اس قول میں ان زید لمنطلق اور لام ان نافیہ اور مخففہ کو آپس میں الگ کر رہی ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ ِانْ مَاؔ کے معنی میں ہے اور لام بمعنی اِلاَّ ہے تقدیر اس طرح ہے ما ھذان اِلاَّساحران اور اس کی دلیل قراءت ابی بن کعب ؓ ہے۔ ان ہذان الاساحران اور دیگر نے اِنّ ھذان لساحران پڑھا…
Read the full tafseer →63۔ قالو، ، بعض لوگ بعض کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے۔ ان ھذان لساحران، ، ان دونوں کے متعلق کہ یہ دونوں جادوگر ہیں۔ ابن کثیر اور حفص نے نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ھذان، ای ماھذان، ، کہ یہ دونوں نہیں مگر جادوگر۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وان نظنک لمن الکاذبین ، یعنی میں ان کو گمان نہیں کرتا مگر جھوٹ۔
ابن کثیر نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ھذان، میں اور ابوعمرو کی قرات کی ، ان ، مشددہ آیا ہے۔ یہ نحو کے عام ضابطہ کے مطابق آیا ہے لیکن ابوعمرو کے علاوہ ھذان ہی جمہور کی قرات ہے۔ بعض حضرات نے ، ھذان ، کے الف کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
اس کی قرات میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ ہشام بن عروہ نے اپنے باپ کے حوالے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–69
62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →59 طریقہ مُثْلیٰ کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : " مُثْلیٰ " تانیث ہے " اَمْثَل " اسم تفضیل کی۔ جس کے معنیٰ ہیں سب سے عمدہ اور بڑھیا۔ یعنی یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہارے دین، تمہاری تہذیب اور تمہارے بہترین طریقہ کو اس ملک سے باہر نکال دے اور اس کی جگہ اپنے دین اور طریقہ کو اس ملک میں رائج کردے۔ اور یہی بات فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کے جواز کے لیے کہی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے (المومن : 26) ۔ سو طریقہ مثلیٰ یعنی عمدہ طریقہ سے مراد ان لوگوں کا اپنا وہ دین اور طریقہ تھا جو ان کے اس ملک میں رائج تھا۔ اور اسی کو وہ سب سے عمدہ طریقہ قرار دے رہے تھے۔ اور ہر باطل والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ف 2 کوئی کہنے لگا کہ موسیٰ جادوگر ہیں اور کوئی کہنے لگا کہ وہ جادو گر معلوم نہیں ہوتے۔ وغیر ذلک (ابن کثیر)
3 عمدہ طریق سے مراد ان کا دین ہے جسے وہ بہتر طریقہ خیال کرتے تھے یا مطلب یہ ہے کہ ملک کے عمائد و اشراف کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(20:63) قالوا۔ آیت 63 سے لے کر من استعلی تک جادوگروں کا باہمی کلام ہے جو وہ خفیہ سرگوشیوں میں کر رہے تھے۔
ان ھذان۔ میں ان ان سے مخفف ہے بلاشبہ یہ دونوں ۔ الخ۔ بعض کے نزدیک ان نافیہ ہے اور لام بمعنی الا ہے ای ما ہذان الا ساحران۔ یہ دونوں نہیں ہیں مگر جادوگر۔ ان مخففہ کی صورت میں ان ناصب اسم ہے اور اس صورت میں ہذین چاہیے تھا۔ اس عدم عمل کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے بعض قبائل تثنیہ کو رفعی اور نصبی اور جری حالت میں الف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس توجیہہ کو اکثر علماء (قرطبی، ابن حیان ، آلوسی) نے پسند کیا ہے۔
یذھبا بطریقتکم المثلی۔ المثلی اسم تفضیل واحد مؤنث۔ اس کا واحد مذکر الامثل ہے۔ اور ہر دو کی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
جادوگروں کا ایمان لانا
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا، اور اس لکڑی کا اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے ۔ اس لئے وہ سجدہ میں گر پڑے، اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ بلکل جھوٹا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علی السلام کا جو رب ہے، وہی ہمارا بھی رب ہے۔ جادوگروں کی یہ بات سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
[22] یعنی جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سن کر آپس میں بحث کرنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے…
Read the full tafseer →-63 جادوگروں نے کہا بلاشبہ یہ دونوں بھائی جادوگر ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے باہر نکال دیں اور تمہاری تہذیب اور شائستہ چلن کو بالکل اٹھا دیں۔ حکومت کے دبائو سے حکومت کی پالیسی کے مطابق کہنے لگے فرعون کی تہذیب اور اس کے چلن کو اچھا کہا اور یہ خطرہ ظاہر کیا کہ یہ تم کو نکال کر اپنی تہذیب اور اپنا مذہبی چلن یہاں رائج کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ف 9۔ ان دونوں حضرات کے بارہ میں۔
Read the full tafseer →فرعون کے حاشیہ برداروں نے اپنے مناظرین کے گلے میں خاص پروگرام اتارنے کی سعی کی :
63۔ اس خفیہ میٹنگ میں جہاں تبالہ خیال کرتے وقت کسی سے کوئی ڈھیلی بات ہوئی تھی اس کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور فرعون کے حاشیہ برداروں نے ان مناظرین کے سامنے صورت حال رکھتے ہوئے موضوع بحث ان کے گلے سے اتارنے کی مکمل کوشش کی تاکہ اس کو وہ اچھی نگل لیں اور اس موضوع پر اپنی گفتگو کریں کہ یہ دونوں ساحر ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کہ ان کی باتوں سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور ان دونوں کا اصل مقصد اس ملک کے اصل مالکوں کو اس ملک سے نکال دینا ہے حالانکہ یہ ہمارے غلام ہیں اور ان کے باپ دادا کو…
Read the full tafseer →إِنْ هَـٰذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَىٰ
Said they, "Certainly, these two are sorcerers who wish to drive you out from your land and do away with your excellent way of life. (20:63)
The word مُثْلَىٰ is the feminine of which means "most excellent". The meaning is that the Egyptians believed that their religion which regarded the Pharaoh as god was the best and Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Sayyidna Harun (علیہ السلام) wanted to destroy it and supplant their own religion in its place. The word…
Read the full tafseer →36. Those who were of this view must have been a few fanatics of Pharaoh’s party who were prepared to go to any extent to oppose Prophet Moses (peace be upon him). Those people must have been preparing the public for a determined encounter, while the reasonable people among them must have been advising caution and restraint.
37. Probably those people based their argument on two things:
(1) If their magicians would be able to turn their staffs into serpents, it would be a clear proof that Moses (peace be upon him) was a sorcerer.
(2) If, on the other hand, Moses (peace be upon him) won, the…
Read the full tafseer →