Taa-Haa 20:62

Taa-Haa · from ayah 62

20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی ۟فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ وَاَسَرُّوا النَّجۡوٰى‏

تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they disputed over their affair among themselves and concealed their private conversation.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:62

یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر ان کے درمیان اپنی رائے قائم کرنے میں اختلاف ہوگیا، اور وہ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشاورت کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

چنانچہ وہ (جادوگر) اپنے معاملہ میں باہم جھگڑ پڑے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو وہ اپنے معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑے اور انھوں نے پوشیدہ سرگوشی کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس معاملہ میں وہ (آل فرعون) آپس میں جھگڑنے گئے اور خفیہ مشورہ کرنے لگے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس انہوں نے آپس میں، اپنے معاملہ میں، مشورت اور سرگوشی کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر ان کے درمیان اختلاف پڑگیا، اور وہ باہم چپکے چپکے مشورے کرنے لگے،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ لوگ اپنی رائے میں آپس میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ مشورہ کرنے لگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ باہم جھگڑ پڑے اپنے اس معاملے میں اور پھر لگے چپکے چپکے مشورہ کرنے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو وہ آپس میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon they wrangled among themselves about the matter and conferred in secret.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, they disputed among themselves in their matter, and kept their talk secret.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, they disputed among themselves in their matter, and kept their talk secret.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they debated one with another what they must do, and they kept their talk secret.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then they debated one with another what they must do, and they kept their counsel secret.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they disputed over their affair among themselves and concealed their private conversation.

— Saheeh International

They started arguing and whispering to each other

— Muhammad Sarwar

So they disputed with one another about their affair and kept the discourse secret.

— Muhammad Habib Shakir

Then they wrangled about their affair among themselves, and kept secret their private counsel.

— Abdul Majid Daryabadi

So they disputed, one with another, over their affair, but they kept their talk secret.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–64

مقابلہ اور نتیجہ۔ جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 35 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنی کمزوری کو خود محسوس کر رہے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو نہیں ہے۔ وہ پہلے ہی سے اس مقابلے میں ڈرتے اور ہچکچاتے ہوئے آئے تھے، اور جب عین موقع پر حضرت موسیٰ نے ان کو للکار کر متنبہ کیا تو ان کا عزم یکایک متزلزل ہوگیا۔ ان کا اختلاف رائے اس امر میں ہوا ہوگا کہ آیا اس بڑے تہوار کے موقع پر، جبکہ پورے ملک سے آئے ہوئے آدمی اکٹھے ہیں، کھلے میدان اور دن کی پوری روشنی میں یہ مقابلہ کرنا ٹھیک ہے یا نہیں۔ اگر یہاں ہم شکست کھا گئے اور سب کے سامنے جادو اور معجزے کا فرق کھل گیا تو پھر بات سنبھالے نہ سنبھل سکے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ) کا یہی مطلب ہے، پھر اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے آپس میں سرگوشی اور آہستہ مشورے ہونے لگے (وَاَسَرُّوا النَّجْوٰى) مگر بالاخر مجموعی رائے مقابلہ کرنے ہی پر جم گئی اور کہنے لگے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 62 اعیان فرعون کی خفیہ میٹنگ ’ تنازع فی الحدیث اور تنازع امر کا محاورہ عربی میں آپس میں تبادلہ خیالات و آراء کے لئے آتا ہے۔ یعنی جب تمام اعیان حکومت اور سارے ساحر جمع ہوگئے تو ان کی آپس میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ اگٓے کی آیات سے ملوم ہوتا ہے کہ اس میٹنگ میں نہایت راز دارانہ طور پر فرعون کی طرف سے ساحروں کے دل میں یہ بات اتارنے کی کوشش کی گئی کہ موسیٰ اور ہارون دونوں نہایت ماہر جادوگر ہیں اور ان کی کوشش یہ ہے کہ یہ اپنے جادو کے زور سے بنی اسرائیل کو منظم کر کے ہمیں اس ملک سے بےدخل کریں اور ہماری تمام تہذیب و ترقی کو ہم نے پروان چڑھائی ہے، مٹا کے رکھ دیں تو یہ موقع غفلت کا نہیں ہے بلکہ متحدہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

62۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے وعظ سے ان میں باہم کچھ اختلاف ہوا اور بعض چپکے چپکے کہنے لگے کہ یہ واقعی اللہ کا نبی ہی نہ ہو، اس کی گفتگو تو جادو گروں والی نہیں پیغمبرانہ لگتی ہے۔ بعض نے اس کے برعکس رائے کا اظہار کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–66

23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–64

فتنازعوا امرھم ……استعلی (46) جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر نے ساحروں کی جماعت میں کھلبلی ڈال دی۔ آپس میں جھگڑنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔ غرض باہم بحث و مناظرہ کرتے رہے اور سب سے الگ ہو کر انہوں نے مشورہ کیا۔ آخر اختلاف و نزاع کے بعد فرعون کے اثر سے متاثر ہو کر وہ کہا جو آگے مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے براہ راست جادوگروں سے خطاب کیا تو وہ مرعوب ہوگئے۔ نبوت کا رعب بھی تھا اور آپ علیہ السلام کی شخصیت کی خداداد وجاہت بھی ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد قبل ازیں آیت 39 میں وارد ہوچکا ہے : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ج کہ میں نے اپنی طرف سے تم پر اپنی خاص محبت ڈال دی تھی۔ چناچہ جادوگر یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر سنتے ہی مقابلے کا معاملہ ان میں متنازعہ ہوگیا۔ چناچہ وہ ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے باہم سرگوشیوں میں مصروف ہوگئے۔ اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–63

44 اکابرین فرعون میں اختلاف :۔ اکابرین قوم فرعون پر آپ کی نصیحت کا خاصا اثر ہوا اور وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ایک فریق کہتا تھا کہ ان پیغمروں کا مقابلہ کرنا اپنی شکست کو دعوت دینا ہے۔ دوسرا کہتا تھا کہ ابھی اس مقابلہ کو ملتوی کردیا جائے جبکہ مقابلہ کے دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہوچکے تھے۔ اس حال میں یہ اکابرین علیحدہ چلے گئے اور سر جوڑ بیٹھے تاکہ کسی ایک فیصلہ پر اتفاق رائے ہوجائے۔ اس مشورہ میں ماہر جادوگروں کو بھی شریک کیا گیا ان میں سے بعض کہنے لگے کہ ایسے نورانی چہرے جادوگر نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ جیسا کہ اکثر ایسے موقع پر ہوتا ہے، ساحروں کی جماعت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان سے مقابلہ کے معاملہ میں خود مختلف الرائے ہوگئی۔ ساحروں کی جماعت میں ترودو انتشار بہت ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مؤثر تبلیغی تقریر کا نتیجہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 55–70

آیت نمبر 55 تا 70 ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فتناعوا امرہم بینہم یہ بات سن کر وہ (یعنی جادوگر) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے۔ یا تنازعوا کی جگہ ضمیر فرعون اور اس کے مشیروں کی طرف راجع ہے یعنی فرعون اور اس کے ساتھی (یاجادوگر) اس معاملہ میں مختلف الرائے ہوگئے کہ موسیٰ کا مقابلہ کرنا چاہئے یا نہیں۔ محمد بن اسحاق نے کہا جب حضرت موسیٰ نے ان کو مذکورۂ بالا نصیحت کی تو جادوگروں نے باہم کہا یہ کلام تو جادوگر کا نہیں ہے۔ واسروا النجوی۔ اور خفیہ گفتگو کرتے رہے۔ نجوی اسم ہے یا ناجَیْتُہ ( علیہ السلام) کا مصدر ہے ناجَیْتُکا معنی ہے میں نے اس سے خفیہ بات کی۔ نجوی کا اصل ماخذ نجوۃ ہے نجوۃ کا معنی ہے وہ ابھرا ہوا ٹیلہ جو بلندی کی وجہ سے الگ تھلگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) یہ سن کر ان جادوگروں نے باہم مشورہ کیا کہ اگر اس مقابلہ میں موسیٰ ؑ ہم پر غالب آگئے تو ہم ان پر ایمان لے آئیں گے اور اس خفیہ مشورہ کا فرعون سے ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ۔۔ : نصیحت بعض پر مؤثر ہوئی، بعض پر نہیں۔ چناچہ وہ آپس میں چپکے چپکے جھگڑنے لگے، تاکہ فرعون یا موسیٰ یا عوام میں سے کسی کو ان کے باہمی اختلاف کی خبر نہ ہونے پائے۔ ”النَّجْوٰى“ آپس کی خفیہ بات، سرگوشی۔ ”اَسَرُّوا“ انھوں نے پوشیدہ کیا۔ ”النَّجْوٰى“ (سرگوشی) خود پوشیدہ ہوتی ہے، پھر ”اَسَرُّوا“ سے اس کی مزید پوشیدگی کا اندازہ کریں اور اس سے پہلے ”بَيْنَهُمْ“ (آپس میں) کا لفظ بتاتا ہے کہ اس جھگڑے کی خبر اس محدود گروہ کے درمیان ہی رہی، باہر نہیں نکلی۔ (ابن عاشور) کوئی کہنے لگا، موسیٰ جادوگر ہے اور کوئی کہنے لگا، یہ چہرہ جادوگر کا نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(تفسیر 62-64) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتنازعوا امرھم بینہم یعنی جادوگروں نے آپس میں مشورہ کیا۔ واسروالنجوی۔ چھپ چھپ کر مشورہ کرنے لگے۔ قالوا انہوں نے کہا : اگر وہ جو لے کر آئے ہیں جادو ہوگا تو ہم غالب آجائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام ہوگا تو اس کا امر غالب آجائے گا یہ انہوں نے سرگوشی کی تھی۔ بعض نے کہا : انہوں نے یہ سرگوشی کی تھی اگر وہ ہم پر غالب آگیا تو ہم اس کی اتباع کریں گے، یہ کلبی کا قول ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نیکوکاروں کا معاملہ ہی بالاخر غالب آتا ہے۔ بعض نے کہا : ان کا سرگوشی کرنا یہ تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذباً تو انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–71

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَتَنَازَعُوْٓا : تو (یہ سن کر) انھوں نے اختلاف کیا ] [اَمْرَهُمْ : اپنے معاملہ میں ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [وَاَسَرُّوا : اور انھوں نے پوشیدہ کیا ] [النَّجوٰى: سرگوشی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–64

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–76

ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

37:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سن کر جادوگر فرعون سے خفیہ طور پر آپس میں گفتگو کرنے لگے اور انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ ماھذا بقول ساحر (خازن ج 4 ص 221، بحر ج 6 ص 254) ۔ آخر طے یہ ہوا کہ مقابلے میں اگر وہ غالب آگیا تو وہ یقیناً اللہ کا پیغمبر ہے۔ اس لیے سب اس پر ایمان لے آئیں گے۔ (خازن، روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 56–64

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَيْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰى۝ 62 نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] ( ن زع ) نزع الشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کام ن کو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 58–62

انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰی۔ (طٰـہٰ : 62) (پس وہ جھگڑنے لگے اپنے معاملے میں آپس میں اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ ) آپ ( علیہ السلام) کی نصیحت کا اثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخلصانہ اور خیرخواہانہ تنبیہ کا اثر یہ ہوا کہ جادوگر اور دوسرے شرکائے مجلس آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ موسیٰ اور ہارون دونوں جادوگر ہیں۔ انھوں نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو کے کھیل کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمارے پاس بڑے بڑے ساحروں کی کمی نہیں۔ وہ یقینا اس کا توڑ کرلیں گے۔ لیکن کچھ دوسرے لوگوں کا خیال تھا کہ جو کچھ تم لوگوں نے دیکھا ہے اور جس قسم کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–64

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا اثر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس قدر مؤثر انداز میں خطاب فرمایا کہ وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہوئے کہ فی الواقع ہم باطل پر ہیں۔ قریب تھا کہ وہ دھڑوں میں تقسیم ہوجاتے لیکن بالآخر فرعون اور اس کے حواری جادوگر غالب رہے انھوں نے یہ کہہ کر عام وخاص کو مطمئن کیا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں ملک سے نکلنے پر مجبور کردیں اور تمہاری تہذیب، شاندار ترقی اور ملک کے نظام کو بدل ڈالیں۔ اس لیے لازم ہوگیا ہے کہ تم آخری معرکہ سمجھ کر پوری طرح صلاحیتوں اور اسباب کو مجتمع کرتے ہوئے منظم طریقے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جادوگروں کا اختلاف اور مشورہ : 62: فَتَنَازَعُوْٓا (پس وہ اپنے باہمی رائے میں اختلاف کرنے لگے) ۔ انہوں نے اختلاف کیا بعض جادوگروں نے کہا کہ یہ ہمارے جیساجادوگر ہے۔ دوسروں نے کہا یہ بات جادوگر نہیں کہہ سکتا لا تفتروا علی اللّٰہ کذبًا الآیۃ اَمْرَھُمْ بَیْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی (اپنے معاملے میں اور انہوں نے خفیہ مشورہ کیا) پوشیدہ باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے اگر وہ جادوگر ہے تو ہم عنقریب اس پر غلبہ پالیں گے۔ اور اگر یہ آسمان سے ہے پھر حکم اسی کا ہے۔ النجوٰی۔ یہ مصدر بھی ہوسکتا ہے اور اسم بھی پھر انہوں نے اس بات کو باطل سے مزین کر کے کہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 62۔ فتنازعوا امرھم بینھم، ، کہ وہ آپس میں مناظرہ کرنے لگ گئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ وہ جادوگر موسیٰ کے معاملے میں فرعون سے مشورہ کرنے لگے۔ کلبی نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ انہوں نے اس مشورے کو چھپائے رکھا اگر موسیٰ ہم پر غالب آگئے توہم ان کا اتباع کرلیں گے محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے ان کو مذکورہ بالا نصیحت کی تو جادوگروں نے باہم کہا یہ کلام تو جادوگر نہیں ہے۔ بعض نے بعض کے ساتھ کہا کہ یہ بات نہیں ہے۔ واسروالنجوی، یہ مناجات ہے یہ مصدر ہے ، ناجیہ یعنی اس کا معنی خفیہ بات کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–69

62۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–72

آیت 56 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 فرعونیوں کے خفیہ صلاح مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ لوگ باہم چپکے چپکے مشورے کرنے لگے " کہ ان سے مقابلہ کیا جائے یا نہیں۔ کہ نہ یہ چہرہ جادوگروں کا چہرہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کلمات صدق و صفا جن میں کسی خوف و اندیشہ کا کوئی ترشح ہے اور نہ ہی یہ کسی جادوگر کے کلمات ہوسکتے ہیں۔ اور اپنی یہ باتیں وہ لوگ آپس میں چھپا چھپا کر اور چپکے چپکے کر رہے تھے کہ کہیں فرعون کے لوگوں کو ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے کہ کہیں وہ ان کیلئے مشکلات نہ پیدا کردیں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کے قول حق کی ضرب کاری سے ان جادوگروں کے بواطن ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئے تھے۔ سو حق کی قوت بہت عظیم ہوتی ہے۔ یہ اس ارشاد کا ایک مفہوم ہے جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–76

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 55–76

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 61–63

ف 2 کوئی کہنے لگا کہ موسیٰ جادوگر ہیں اور کوئی کہنے لگا کہ وہ جادو گر معلوم نہیں ہوتے۔ وغیر ذلک (ابن کثیر) 3 عمدہ طریق سے مراد ان کا دین ہے جسے وہ بہتر طریقہ خیال کرتے تھے یا مطلب یہ ہے کہ ملک کے عمائد و اشراف کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:62) تنازعوا۔ تنازع (تفاعل) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ آپس میں نزاع کرنے لگے۔ باہم جھگڑے۔ ایک دوسرے سے اختلاف کیا تنازعوا امرہم بینہم اپنے (اس) کام کے متعلق باہم جھگڑنے لگے ضمیر فاعل فرعون کے جملہ جادوگروں کے لئے ہے اسروا۔ اسرار (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے چھپایا۔ انہوں نے پوشیدہ کیا۔ النجوی۔ سرگوشی مصدر بھی ہے بمعنی سرگوشی کرنا۔ اسروا النجوی خفیہ مشورے کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–64

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64 اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 64 حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جادوگر جب موسیٰ سے مقابلہ کو آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس جادو کا کچھ سامان ہے ، نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ اثر ہے، تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنی کاروائی خفیہ طور پر کی، اور مصریوں سے کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں۔ اور تمہارے عمدہ مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں۔ اب ہم سب کو مل کر ان دونوں سے مقابلہ کرنا چاہئے، ان دونوں کا جادو مصر میں نہ پھیل جائے۔ جس سے ہماری روزی اور عزت میں فرق آئے اور ہم کو مصر چھوڑنا پڑے۔ جادوگروں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب جادو گروں کو ایک دل ہو کر جادو کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–66

[22] یعنی جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سن کر آپس میں بحث کرنے لگے کہ اس شخص کو کیا سمجھا جائے۔ اس کی باتیں ساحروں جیسی معلوم نہیں ہوتیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–67

(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-62 حضرت موسیٰ کے سمجھنانے اور کہنے سے جادو گر اپنے کام میں باہم اختلاف کرنے لگے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر نے ان جادوگروں پر اثر کیا اور وہ باہم مقابلہ کے متعلق کچھ اختلاف کرنے لگے بعض کی رائے مقابلہ کے خلاف تھی بعض مقابلہ کی تائید میں تھے اور چونکہ مجمع میں فرعن اور اس کے امراء بھی موجود تھے اس لئے کچھ چپکے چپکے مشورہ کرتے رہے اور علانیہ اپنی گفتگو کا اظہار نہیں کیا اور آخر کار انہوں ں نے فرعون کی حمایت اور اس کی معاونت کا اعلان کردیا اور وہی کہا جو فرعون اور اس کے امراء عام طور سے کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تمہید کے نتیجہ میں وہ مجلس سے الگ ہو کر سوچنے لگے : 62۔ یہ اجتماعی گفتگو تھی جس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے تعارفی خطاب کیا تھا اور ابھی دونوں فریقوں کا آمنے سامنے سٹیج جمانا اور باقاعدہ اپنے اپنے دلائل پیش کرنا باقی تھا اور اس کی تیاری کے لئے فریقین نے اپنی نشتیں سنبھالنا تھیں کہ فرعون کے اعوان وانصار اور اس کے مدعو کردہ ساحروں میں ایک الگ مجلس قائم ہوئی جس میں اس موضوع پر کچھ تنازع ہوا کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے تعارفی پیغام میں کہا ہے اس میں کتنی صداقت اور اس کا جواب کیا ہو سکتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی صداقت کا لفظ فرعون اور اس کے حاشیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَتَنَازَعُوا أَمْرَ‌هُم بَيْنَهُمْ (then, they disputed among themselves in their matter - 20:62), وَأَسَرُّ‌وا النَّجْوَىٰ (and kept their talk secret - 20:62). Ultimately their unanimous decision was to proceed with the contest because, in their opinion, Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Sayyidna Harun (علیہ السلام) were both magicians who wished to drive away the Pharaoh and his men from Egypt by their magic and to eradicate their ideal way of life. This decision of theirs is mentioned in verse 63 in the following words:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35. This shows that those people felt in their hearts that their position was weak and knew that the miracle shown by Prophet Moses (peace be upon him) was not a piece of magic. Therefore, they had come for the encounter with hesitation and fear. But when the timely, sudden warning of Prophet Moses (peace be upon him) shook them to the core, they began to debate the wisdom of holding the encounter on the Feast Day in an open place in the broad day light. For they thought that if they were defeated in the presence of the common people, all would come to know of the difference between magic and…

Read the full tafseer →