Explained with ayahs 60–64
مقابلہ اور نتیجہ۔
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 33
یہ خطاب عوام سے نہ تھا جنہیں ابھی حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ معجزہ دکھاتے ہیں یا جادو، بلکہ خطاب فرعون اور اس کے درباریوں سے تھا جو انہیں جادوگر قرار دے رہے تھے۔
سورة طٰهٰ 34
یعنی اس کے معجزے کو جادو اور اس کے پیغمبر کو ساحر کذاب نہ قرار دو۔
Read the full tafseer →موسیٰ ؑ کا جادوگروں کو پیغمبرانہ خطاب
جادو کا مقابلہ معجزات سے کرنے سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں کو ہمدردانہ نصیحت آمیز چند کلمات کہہ کر اللہ کے عذاب سے ڈرایا وہ الفاظ یہ تھے وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى یعنی تمہاری ہلاکت سامنے آ چکی ہے، اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان نہ لگاؤ کہ اس کے ساتھ خدائی میں فرعون یا کوئی اور شریک ہے، اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تم کو عذاب میں پیس ڈالے گا اور تمہاری جڑی بنیاد اکھاڑ دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتا ہے وہ انجام کار ناکام اور محروم ہوتا ہے۔
ظاہر ہے کہ فرعون کی طاغوتی…
Read the full tafseer →آیت 61
سعت کے اصل معنی ہڈی پر سے گوشت نوچین کے ہیں۔ اسی سے اسحات ہے جس کے معنی کسی چیز کا استیصال کردینے اور اس کی جڑ اکھاڑ دینے کے ہیں۔
میدان مقابلہ میں حضرت موسیٰ کی تقریر
یہ حضرت موسیٰ کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے میدان مقابل ہمیں سب سے پہلے مجمع کے سامنے کی ہے۔ انہوں نے فرعون اور اس کے تمام ہم قوموں اور جادوگروں کو مخاطب کر کے بانداز تنبیہ فرمایا کہ تمہارا ناس ہوا تو ایک باطل کی حمایت میں حق کا مقابلہ کرنے آئے ہو۔ خدا پر جھوٹ تہمت نہ باندھو کہ خدا تمہارا قلع قمع کر دے۔ یاد رکھو کہ جو خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ نامراد ہو کر رہتے ہیں۔
افتراء علی اللہ سے مراد، جیسا کہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ…
Read the full tafseer →61۔ 1 جب فرعون اجتماع گاہ میں جادو گروں کو مقابلہ کی ترغیب دے رہا تھا اور ان کو انعامات اور قرب خصوصی سے نواز نے کا اظہار کر رہا تھا تو حضرت موسیٰ ؑ نے بھی مقابلے سے پہلے انھیں وعظ کیا اور ان کے موجودہ رویے پر انھیں عذاب الٰہی سے ڈرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
23: یعنی کفر کی راہ اختیار نہ کرو۔ کیونکہ کفر کا ہر باطل عقیدہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے
Read the full tafseer →قال لھم ……من افتری (16)
دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا اثر بعض جادوگروں پر ہوا تھا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہایت ہی اخلاص اور دلسوزی سے ادا کئے تھے۔ اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس قدر پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے میں اصرار کر رہے تھے اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے پر اصرار کر رہے تھے انہوں نے دوسروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا لیکن سرگوشی کی شکل میں تاکہ موسیٰ نہ سن سکے۔
Read the full tafseer →12 معلوم ہوتا ہے کہ اس مجمع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر شخص کو اس کے حسب حال نصیحت فرمائی۔ چونکہ جادوگر حق کا مقابلہ جادو سے کرنے والے تھے، ان کو تنبیہ کردی کہ دیکھو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ خدا کے نشانوں اور انبیاء کے معجزات کو سحر بتلانا اور بےحقیقت کی چیزوں کو ثابت شدہ حقائق کے مقابلہ میں پیش کرنا گویا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ جھوٹ باندھنے والوں کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کوئی آسمانی آفت آپڑے۔ جو ان کی بیخ و بنیاد تک نہ چھوڑے۔
Read the full tafseer →آیت 61 قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍج ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آخری حجت کے طور پر انہیں خبردار کیا کہ دیکھو تم لوگ اللہ پر افترا بازی نہ کرو ‘ میں جو کچھ پیش کر رہا ہوں یہ جادو نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا عطا کردہ معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →43 مقابلہ سے پہلے فرعون کو موسیٰ کی تنبیہ :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اکابرین قوم فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار پھر تنبیہ کی اور فرمایا : شامت کے مارو ! اب بھی سمجھ جاؤ اور معجزہ کو جادو نہ بتلاؤ۔ جب تم حقیقت کو پوری طرح سمجھ چکے ہو تو دوسروں کی آنکھوں میں دھول نہ ڈالو۔ اور جو شخص حق کو سمجھ لینے کے بعد اس کا انکار کرے گا اللہ اسے اپنے عذاب سے دوچار کردے گا۔ تمہارا جھوٹا پروپیگنڈا جھوٹ ہی ثابت ہوگا اور جھوٹ کبھی تادیر چل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →63۔ (انجام کار میں) توریت میں بھی اس معرکہ کا ذکر ہے لیکن بالکل مختصر اور پھیکا۔ جس سے نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہے اور نہ پوری تفصیل ہی واقعہ کی معلوم ہوتی ہے۔ (آیت) ” قال لھم “۔ ضمیر جمع غائب اب ساحروں کی طرف ہے۔ اب سب حسب قرارداد میدان میں اکٹھے ہوگئے ہیں، اور موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر آخری بار بطور اتمام حجت کے ساحروں سے تبلیغی گفتگو کررہے ہیں۔ (آیت) ” ویلکم لا تفتروا “ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس لب و لہجہ میں کلام فرعون سے نہ فرمایا گیا۔ اس میں تعلیم ہے حفظ مراتب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →قال لہم موسیٰ ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب وقد خاب من افتری
موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا ارے کم بخت مارو اللہ پر جھوٹ نہ تراشو کبھی وہ تم کو کسی قسم کی سزا سے بالکل نیست و نابود ہی کر دے اور جو دروغ تراشی کرتا ہے (آخر کو) ناکام رہتا ہے۔
لَہُمْ یعنی فرعون اور اس کے ساتھی جادوگروں سے موسیٰ نے کہا۔ بغوی نے لکھا ہے صرف جادوگروں کی طرف ضمیر راجع ہے جن کو فرعون نے (اطراف ملک سے) جمع کیا تھا یہ بہتر تھے اور ہر ایک کے پاس ایک لاٹھی اور ایک رسی تھی۔ کعب نے ان کی تعداد چار سو بتائی ہے بعض نے بارہ ہزار بلکہ اس سے زائد بھی کہا ہے۔
وَیْلَکُمْویل ہلاکت ‘ یعنی اللہ نے ہلاکت تم پر لازم کردی…
Read the full tafseer →(61) موسیٰ ؑ نے ان جادوگروں سے فرمایا ارے لعنتیو اللہ تعالیٰ پر بہتان مت لگاؤ کہیں اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے عذاب سے ہلاک ہی نہ کر دے۔
اور جو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہے وہ ناکام رہتا ہے۔
Read the full tafseer →وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : ”وَيْلَكُمْ“ ”تمہاری بربادی ہو“ نصیحت کرتے ہوئے سختی کا لفظ بھی استعمال ہوسکتا ہے اور محبت اور بےتکلفی کا بھی، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبصیر ؓ کو فرمایا تھا : (وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرَ حَرْبٍ) [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجھاد۔۔ : 2731، 2732]”اس کی ماں مرے ! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے۔“ موسیٰ ؑ نے پہلے فرعون کو نصیحت کی تھی، اب اس کے امراء اور جادوگروں کو بھی نصیحت کرنا ضروری تھا، چناچہ انھیں سمجھایا بھی اور ڈرایا بھی۔
فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ : ”أَسْحَتَ یُسْحِتُ“ أَیْ ”اِسْتَأْصَلَ“ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔ ”عذابٍ“ کی تنوین تنکیر کے لیے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتولی فرعون فجمع کیدہ، کید سے مراد حیلہ اور جادو ہے مراد جادوگروں کو جمع کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بہتر جادوگر تھے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ رسیاں اور لاٹھیاں تھیں۔ بعض نے کہا : وہ چار سو تھے۔ بعض نے کہا : وہ بار ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ چودہ ہزار تھے۔ ابن المنکدر نے کہا : وہ اسی ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ ایک رئیس کے ماتحت تھے جس کو شمعون کہا جاتا تھا۔ بعض نے کہا : اس کا نام یوحنا تھا اس کے ساتھ بارہ نقیب تھے ہر نقیب کے ساتھ بیس عریف (رہبر) تھے اور ہر عریف کے ساتھ ہزار جادوگر تھے۔ بعض نے کہا : وہ تین لاکھ جادو گر فیوم تھے تین لاکھ صعید سے تھے اور تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–71
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عقل والے بزرگی والے اور (بڑی) عمر والے مراد ہیں۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور وکیع نے غرر میں ابوصالح (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تمہاری بزرگی والے اور باعزت والے لوگ مراد ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ویذھبا بطریقتکم المثلی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تمہارے اس دین کو ختم کردیں جس پر تم ہو۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد افلح الیوم من استعلی “ سے مراد ہے کہ جس نے غلبہ پایا (وہی کامیاب…
Read the full tafseer →[قَالَ : کہا ] [لَهُمْ : ان لوگوں سے ] [مُّوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) نے ] [وَيْلَكُمْ : تم لوگوں کی ہلاکت ہے ] [لَا تَفْتَرُوْا : تم لوگ مت گھڑو ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [كَذِبًا : کوئی جھوٹ ] [فَيُسْحِتَكُمْ : ورنہ وہ اکھاڑ پھینکے گا تم کو ] [بِعَذَابٍ : کسی عذاب سے ] [وَ : اور ] [قَدْ خَابَ : نامراد ہوگیا ] [مَنِ : وہ جس نے ] [افْتَرٰى: (جھوٹ) گھڑا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
36:۔ فرعون نے مجلس برخاست کی اور جادوگروں کو جمع کرنے کا حکم دے دیا یہاں تک کہ ملک کے مشہور اور ماہر جادوگروں کو بلایا۔ ادھر مقررہ دن بھی آپہنچا۔ ” قَالَ لَھُمْ مُّوْسیٰ الخ “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور جادوگروں سے خطاب کر کے فرمایا۔ ہلاکت ہو تمہارے لیے تم اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور میرے معجزات کو جادو کہہ کر اللہ تعالیٰ پر افترا نہ کرو۔ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بیخ و بن سے اکھیڑ کر رکھ دیگا اور تمہیں بالکلیہ تہس نہس کردے گا۔ ای لا تختلقوا علیہ الکذب ولا تشرکوا بہ ولا تقولوا للمعجزات انھا سحر (قرطبی ج 11 ص 214) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللہِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ 0ۚ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى 61
ويل
قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر .
ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2]
( و ی ل ) الویل
اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے مونں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰی وَیْلَکُمْ لاَ تَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ج وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی۔ (طٰـہٰ : 61)
(حضرت موسیٰ نے ان سے کہا تمہاری بربادی ہو، اللہ پر جھوٹ نہ باندھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی عذاب سے تمہاری جڑ اکھاڑ دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوا۔ )
فَیُسْحِتَکُمْ…اسحات سے ہے۔ اس کا اصلی معنی تو ہڈی پر سے گوشت نوچنے کے ہیں۔ مراد اس سے کسی چیز کا استحاصل کرنا اور اس کی جڑ اکھاڑ دینا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برسرموقع نصیحت
معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کریمہ اس خطاب کا نچوڑ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے عمائدین اور جادوگروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاہدہ طے پانے کے بعد فرعون نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے تمام وسائل جھونک دیے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ مصر کے قومی دن کے موقع پر پہلے ہی ملک کے دارالحکومت میں بہت بڑا اجتماع ہوتا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے جاتے اور پورے ملک میں جشن کا عالم ہوتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ حکومت نے بہت بڑے اجتماع کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا اور ایسا اجتماع منعقد کیا جس کی مثال مصر کی تاریخ میں پہلے سے موجود نہ تھی جب کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ فرعون پورے شان و شکوہ اور دبدبہ کے ساتھ انتظامیہ اور پورے ملک کے…
Read the full tafseer →61: قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی (ان کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) جادو گروں کو وَیْلَکُمْ لَاتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (تم پر افسوس ! اللہ تعالیٰ پر جھوٹ مت تراشو) اس کی آیات اور اس کے معجزات کو جادو کا نام مت دو ۔ فَیُسْحِتَکُمْ (پس وہ تمہیں نیست و نابود کردیگا)
قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے پڑھا ہے۔ یعنی وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔ دیگرقراء نے فَیُسْحَتکم یاء کے فتحہ اور حاءؔ کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ السحت اور الاسحات۔ ملیامیٹ کرنے کا معنی دیتے ہیں۔
نحو : یہ جواب نہی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ بِعَذَابٍ (بڑے عذاب کے ذریعہ) وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی (اور جو جھوٹ باندھتا ہے وہ ناکام و نامراد…
Read the full tafseer →61۔ قال لھم موسی، ، یہ ضمیر جادوگروں کی طرف راجع ہے جن کو فرعون نے جمع کیا تھا۔ یہ بہتر (72) جادوگر تھے اور ان میں ہر ایک کے پاس ایک ایک لا تھی یارسی تھی، اور بعض نے کہا کہ جادوگروں کی تعداد چار سو تھی، کعب کا بیان ہے ان کی تعداد بارہ سوبتائی جاتی ہے اور بعض نے کہا اس سے زیادہ کہا ہے۔
” ویلکم لاتفترا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب، ، حمزہ کسائی اور حفص ، فیسحتکم بعذاب، حمزہ کسائی اور حفص ، فیسحتکم ، یاء کے ضمہ کے ساتھ ، حاء کے کسرہ کے ساتھ ساتھ اور باقی قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ حا کے فتحہ کے ساتھ دونوں طرح ہیں۔ مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ نہیں ہلاک کرددیں گے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ بیخ وبن…
Read the full tafseer →61:۔ تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو تم جادو کی جھوٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو لوگوں کو دکھاتے ہو اس سے تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلا اللہ کی پیدا کی ہوئی لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ یہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کسی آفت سے ہلاک کردے گا کس لیے کہ جھوٹا شخص کبھی فلاح کو نہیں پہنچتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →57 میدان مقابلہ میں حضرت موسیٰ کا ایک موثر تنبیہی خطاب : سو حضرت موسیٰ کے میدان مقابلہ میں فرعون اس کے حواریوں اور جادوگروں سے کہا کہ اللہ پر جھوٹ مت گھڑو کہ اللہ پر جھوٹے افتراء کا نتیجہ ہولناک عذاب ہوتا ہے۔ پس تم لوگ ایسا مت کرو ورنہ مارے جاؤ گے اور اس طرح تم لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ سو اس طرح حضرت موسیٰ نے پہلے ان سے حقِّ نصیحت ادا فرمایا اور اس کلمہ حق و صدق سے ان کو دعوت غور و فکر دی۔ اور اس کا ان لوگوں کے دل و دماغ پر ایسا اثر پڑا کہ وہ حضرت موسیٰ سے مقابلہ کرنے کے بارے میں آپس میں اختلاف میں مبتلا ہوگئے۔ کچھ نے کہا کہ نہ یہ چہرہ جادوگروں کا چہرہ ہوسکتا ہے اور نہ ایسا شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ف 2 کوئی کہنے لگا کہ موسیٰ جادوگر ہیں اور کوئی کہنے لگا کہ وہ جادو گر معلوم نہیں ہوتے۔ وغیر ذلک (ابن کثیر)
3 عمدہ طریق سے مراد ان کا دین ہے جسے وہ بہتر طریقہ خیال کرتے تھے یا مطلب یہ ہے کہ ملک کے عمائد و اشراف کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(20:61) ویلکم۔ اے کم بختو۔ تمہاری کم بختی۔ لا تفتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم افترا نہ کرو۔ تم جھوٹ مت باندھو۔ افتراء (افتعال) مصدر۔ فری مادہ۔ یسحتکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اسحات مصدر۔ (افعال) سے وہ تم کو ہلاک کردے گا۔ وہ تم کو تباہ کر دے گا۔
السحت اصل میں اس چھلکے کو کہتے ہیں جو اچھی طرح اتار لیا جاوے۔ اور اس لئے ہلاک ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ اکلون للسحت بڑے حرام کھانے والے (کیونکہ حرام بھی دین کو تباہ کرنے والا ہے) ۔ خاب۔ ماضی واحد مذکر غائب خیبۃ مصدر (باب ضرب) وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا اس کا مطلب فوت ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
جادوگروں سے مقابلہ
تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا، اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو ! تم جادو کی جھٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو دکھاتے ہو، تو اس میں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلاً اللہ کی پیدا کی ہوئی رسی اور لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو، تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں۔ اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں کسی آفت میں ہلاک کر دے گا۔ اس لئے جھوٹا شخص کبھی فلاح نہیں پاتا، نہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے، اور نہ…
Read the full tafseer →[21] اللہ پر جھوٹی تہمت لگانے سے مراد اللہ کے معجزات کو جادو اور اس کے پیغمبر کو ساحر و کذاب ٹھہرانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
جادوگروں سے مقابلہ :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معقول اور مسکت بحث سے مجبور ہو آخر فرعون نے اصل سوال کی جانب توجہ منعطف کی ، مگر عجیب تلبیس اور چالاکی سے کہنے لگا اچھا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے شہروں سے نکال باہر کرو ، ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں ، ایک دن مقرر کر دو ، ہم بھی اپنے جادوگر بلاتے ہیں ، اس دن مقابلہ ہوجائے گا ، اور معلوم ہوگا ، کہ کون زیادہ کامیاب اور فتحیاب ہے ۔
موسی (علیہ السلام) نے اس خیال سے کہ اسے معلوم تو ہو کہ جادو کی حقیقت کیا ہے ، اور معجزہ وسحر میں کیا فرق ہے ، اس اعلان مبازرت کو قبول فرما لیا اور کہا یوم الزینہ کو تم آجانا میلہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →-6 1 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ایک عام خطاب فرمایا اور مخالفوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تمہارے لئے خرابی ہو اللہ تعالیٰ کے اوپر جھوٹ افترا اور بہتان نہ لگائو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو کسی عذاب سے نیست و نابود کر دے اور کسی سزا سے تم کو برباد کر دے اور جس نے افتراء پردازی کا شیوہ اختیار کیا وہ برباد ہوا اور اپنے مقصد میں ناکام ہوا۔
یعنی یا تو یہ جادوگروں کو فرمایا یا اعیان سلطنت اور جادوگروں کو سب کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور انبیاء کے معجزات کو جادو کہہ کر ان کا مقابلہ نہ کرو ورنہ مارے جائو گے اور تباہ و برباد کردیئے جائو گے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی اس میدان میں جہاں وعدہ ٹھہرا تھا آیا۔
8۔ کہ اس کے وجود یا توحید کا انکار کرنے لگو، یا اس کے ظاہر کئے ہوئے معجزات کو سحر بتلانے لگو۔
Read the full tafseer →میدان مناظرہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے تمہیدی الفاظ مجمع عام میں :
61۔ میدان مناظرہ میں پہنچ کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط بنی اسرائیل کو نہیں مجمع عام کو مخاطب کیا اور تمہید ہی میں ان پر شرک وکفر کا انجام کھول کر رکھ دیا اور چند ہی الفاظ میں پوری داستان اور داستان کا مال ونتیجہ ان کے سامنے پیش کردیا اور واضح الفاظ میں ان کو کہا کہ حق کا مقابلہ کرکے تم کامیاب کیسے ہو سکتے ہو ؟ تم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس ملک کی حکومت بنی اسرائیل کو کیسے ملی ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ بنی اسرائیل نے اس کا انتظام کیسے چلایا ؟ تم اس سے بھی اچھی طرح واقف ہو کہ اس ملک کی اچھی ساکھ قائم کرنے میں ہمارے…
Read the full tafseer →Sayyidna Miisa's I prophetic address to the magicians
Before the start of the contest Sayyidna Musa (علیہ السلام) addressed some words of friendly advice to the magicians to warn them of divine punishment if they persisted in denying God's miracles and other manifestations of His power. His actual words were:
وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَىٰ
Pity on you, do not fabricate a lie against Allah, lest He uproots you with a punishment. And loser is he who fabricates a lie - 20:61.
It was hardly to be expected that the magicians…
Read the full tafseer →33. The adversaries whom Prophet Moses addressed were Pharaoh and his courtiers who had dubbed him as a sorcerer, and not the common people, who had yet to see the encounter between him and the magicians.
34. The inventing of lie was that they had dubbed Allah’s Messenger as a sorcerer and his miracles as a piece of sorcery.
Read the full tafseer →