Explained with ayahs 60–64
مقابلہ اور نتیجہ۔
جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 32
فرعون اور اس کے درباریوں کی نگاہ میں اس مقابلے کی اہمیت یہ تھی کہ وہ اسی کے فیصلے پر اپنی قسمت کا فیصلہ معلق سمجھ رہے تھے۔ تمام ملک میں آدمی دوڑا دیے گئے کہ جہاں جہاں کوئی ماہر جادوگر موجود ہو اسے لے آئیں۔ اسی طرح عوام کو بھی جمع کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہوں اور اپنی آنکھوں سے جادو کے کمالات دیکھ کر عصائے موسیٰ کے رعب سے محفوظ ہوجائیں۔ کھلم کھلا کہا جانے لگا کہ ہمارے دین کا انحصار اب جادوگروں کے کرتب پر ہے۔ وہ جیتیں تو ہمارا دین بچے گا، ورنہ موسیٰ کا دین چھا کر رہے گا (ملاحظہ ہو سورة ہو سورة شعراء رکوع 3)۔
اس مقام پر یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
غرض (یہ سن کر) فرعون (دربار سے اپنی جگہ) لوٹ گیا پھر اپنا مکر کا (یعنی جادو کا) سامان جمع کرنا شروع کیا پھر (سب کو لے کر اس میدان میں جہاں وعدہ ٹھہرا تھا، آیا (اس وقت) موسیٰ ؑ نے ان (جادوگر) لوگوں سے فرمایا کہ ارے کمبختی مارو ! اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا مت کرو (کہ اس کے وجود یا توحید کا انکار کرنے لگو یا اس کے ظاہر کئے ہوئے معجزات کو سحر بتلانے لگو) کبھی خدا تعالیٰ تم کو کسی قسم کی سزا سے بالکل نیست و نابود ہی کر دے اور جو جھوٹ باندھتا ہے وہ (آخر کو) ناکام رہتا ہے پس جادوگر (یہ بات سن کر ان دونوں حضرات کے بارہ میں) باہم اپنی رائے میں اختلاف کرنے لگے اور خفیہ گفتگو کرتے رہے (بالاخر…
Read the full tafseer →آیت 60
فرعون کی تیاریاں
فتولی یعنی حضرت موسیٰ سے مذکورہ بالا قول وقرار کر کے فرعون دہان سے ہٹا اور اپنی تدبیریں اکٹھی کرنے میں لگ گیا اور پھر پورے سرو سامان کے ساتھ میدان مقابلہ میں آیا۔ یہاں بات مختصر کردی گئی ہے اس وجہ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نے کیا تدبیریں کیں لیکن قرآن کے دور سے مقامات میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ ان کا مقابلہ معمولی جادوگروں سے کرانے میں شکست کا اندیشہ ہے اس وجہ سے مصلحت یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ہر کارے بھیج کر تمام ماہر جادوگر بلائے جائیں اور ان سے مقابلہ کرایا جائے۔ چناچہ اسی تجویز پر عمل کیا گیا۔ مملکت…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی مختلف شہروں سے ماہر جادو گروں کو جمع کر کے اجتماع گاہ میں آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
22: یہ کوئی تہوار تھا جس میں فرعون کی قوم جشن منایا کرتی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس دن کا انتخاب اس لیے فرمایا تاکہ ایک بڑا مجمع موجود ہو اور اس کے سامنے حق کی فتح کا مظاہرہ ہوسکے
Read the full tafseer →فتول فرعون فجمع کیدہ ، ثم اتی (06)
قرآن مجید نے فرعون کی ہدایات فرعون کے سرداروں کے مشورے اور پھر اس کے اور جادوگروں کے درمیان جو مکالمہ ہوا ، ان سب امور کو مجمل چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے باہم جو مشورے ہوئے ، جو تیاریاں کی گئیں ، جادگروں سے جو وعدہ ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یہ سب امور ترک کردیئے گئے ہیں۔ صرف ایک مختصر جملہ کہا کہ ” فرون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر لئے اور مقابلے میں آگیا “ ۔ یہ مختصر اور چھٹوی سی آیت مسلسل تین اقدامات اور حرکات کو ظاہر کرتی ہے ، فرعون گیا ، تمام تدابیر اختیار کیں اور مقابلے پر آگیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچا کہ مقابلے میں آنے…
Read the full tafseer →11 یعنی یہ طے کر کے فرعون مجلس سے اٹھ گیا اور ساحروں کو جمع کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کی تدبیریں اور داؤ گھات کرنے لگا۔ اور آخرکار مکمل تیاری کے بعد پوری طاقت کے ساتھ وقت معین پر میدان مقابلہ میں حاضر ہوگیا۔ ساحروں کی بڑی فوج اس کے ہمراہ تھی، انعام و اکرام کے وعدے ہو رہے تھے اور ہر طرح موسیٰ کو شکست دینے اور حق کو مغلوب کرلینے کی فکر تھی۔
Read the full tafseer →آیت 60 فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ ”
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ طے ہوگیا تو فرعون نے اپنی پوری توجہ اس کے لیے تیاری کرنے پر مرکوز کردی۔
فَجَمَعَ کَیْدَہٗ ثُمَّ اَتٰی ”
اس نے اپنی پوری مملکت سے ماہر جادو گروں کو اکٹھا کیا اور یوں پوری تیاری کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے میدان میں اترا تاکہ ثابت کرسکے کہ آپ علیہ السلام کا دعویٰ باطل ہے۔
Read the full tafseer →42 یہ مقابلہ صرف جادوگروں کی ہار جیت کا مسئلہ نہ تھا بلکہ دراصل یہ مسئلہ فرعون کے برسراقتدار رہنے یا نہ رہنے کا تھا۔ لہذا ملک بھر کے ہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کے لئے اس نے اپنے مقدور بھر جتن کر لئے اور وعدہ کے دن فرعون ان جادوگروں اور اپنے لاؤ لشکر سمیت میدان مقابلہ میں بروقت پہنچ گیا۔ اسی طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلم اور ان کا بھائی بھی بروقت پہنچ گئے۔
Read the full tafseer →62۔ (یوم ووقت مقررہ پر میدان جشن میں) ” واپس ہوگیا “ سے مراد ہے کہ دربار سے اپنے محل کو واپس گیا۔ مکرکے سامان، سے مراد ساحر اور ان کے آلات سحر ہیں۔ قرآن حسب معمول درمیان کی ساری غیرضروری تفصیلات کو چھوڑ کر توجہ قصہ کے صرف ضروری اجزاء پر رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →فتولی فرعون فجمع کیدہ ثم اتی۔ غرض اس گفتگو کے بعد فرعون (دربار سے) لوٹ گیا پھر اپنا مکر
(کا سامان) جمع کرنا شروع کیا (یعنی جادو کا سامان) پھر وعدہ پر آگیا۔
کَیْدَ (مکر ‘ تدبیر) سے مراد ہیں جادوگر اور ان کے آلات و سامان۔
اَتٰی یعنی مقررہ وعدہ پر مقام مقررہ پر پہنچ گیا۔
Read the full tafseer →(60) غرض کہ یہ سن کر فرعون دربار سے اپنی جگہ چلا گیا پھر اپنا مکر یعنی جادو کا سامان اور جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اور جن جادوگروں کو فرعون نے جمع کیا وہ بہتر (72) تھے۔
Read the full tafseer →فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ۔۔ : یعنی فرعون نے مجلس برخاست کردی اور پھر اپنے سرداروں سے مشورے اور سب کے اتفاق کے بعد پوری کوشش سے ایک طرف تو سلطنت کے ہر علاقے سے ماہر جادوگر جمع کرلیے اور انھیں انعام و اکرام اور قرب شاہی کا وعدہ کر کے مقابلے کے لیے تیار کیا اور دوسری طرف عام لوگوں کو دیکھنے کی ترغیب دی کہ مقابلہ دیکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ پھر فرعون سب کچھ ساتھ لے کر میدان مقابلہ میں آگیا۔ دیکھیے سورة اعراف (109، 110) ، شعراء (34، 35) اور نازعات (22، 23)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتولی فرعون فجمع کیدہ، کید سے مراد حیلہ اور جادو ہے مراد جادوگروں کو جمع کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بہتر جادوگر تھے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ رسیاں اور لاٹھیاں تھیں۔ بعض نے کہا : وہ چار سو تھے۔ بعض نے کہا : وہ بار ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ چودہ ہزار تھے۔ ابن المنکدر نے کہا : وہ اسی ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ ایک رئیس کے ماتحت تھے جس کو شمعون کہا جاتا تھا۔ بعض نے کہا : اس کا نام یوحنا تھا اس کے ساتھ بارہ نقیب تھے ہر نقیب کے ساتھ بیس عریف (رہبر) تھے اور ہر عریف کے ساتھ ہزار جادوگر تھے۔ بعض نے کہا : وہ تین لاکھ جادو گر فیوم تھے تین لاکھ صعید سے تھے اور تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” موعدکم یوم الزینۃ “ وعدہ کے دن سے مراد ہے عاشورا کا دن۔
2:۔ ابن منذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا تو اس نے اس سال کے فوت ہونے والے روزے کو پالیا اور جس نے عاشوراء کے دن صدقہ کیا اس نے اس سال میں اپنے فوت شدہ صدقہ کو پالیا۔
3:۔ عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔
4:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔
5:۔…
Read the full tafseer →[فَتَوَلّٰى: تو پلٹا (یعنی واپس ہوا)] [فِرْعَوْنُ : فرعون ] [فَـجَمَعَ : پھر اس نے جمع کی ] [كَيْدَهٗ : اپنی خفیہ تدبیر (یعنی مکمل تیاری کی)] [ثُمَّ اَتٰى: پھر وہ پہنچا (وعدے کی جگہ پر)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
36:۔ فرعون نے مجلس برخاست کی اور جادوگروں کو جمع کرنے کا حکم دے دیا یہاں تک کہ ملک کے مشہور اور ماہر جادوگروں کو بلایا۔ ادھر مقررہ دن بھی آپہنچا۔ ” قَالَ لَھُمْ مُّوْسیٰ الخ “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور جادوگروں سے خطاب کر کے فرمایا۔ ہلاکت ہو تمہارے لیے تم اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور میرے معجزات کو جادو کہہ کر اللہ تعالیٰ پر افترا نہ کرو۔ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بیخ و بن سے اکھیڑ کر رکھ دیگا اور تمہیں بالکلیہ تہس نہس کردے گا۔ ای لا تختلقوا علیہ الکذب ولا تشرکوا بہ ولا تقولوا للمعجزات انھا سحر (قرطبی ج 11 ص 214) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَـجَمَعَ كَيْدَہٗ ثُمَّ اَتٰى 60
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَـتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ ثُمَّ اَتٰی۔ (طٰـہٰ : 60)
(پس فرعون وہاں سے پلٹا پھر اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کیں پھر مقابلہ پر آیا۔ )
فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان جب مقابلہ کی بات مکمل ہوگئی اور باہمی قول وقرار ہوگیا تو پھر فرعون وہاں سے اپنے عمائدین کی طرف آیا۔ دربار کے امراء کو اکٹھا کیا اور آئندہ مقابلے کے لیے تمام ضروری امور پر مشاورت کی۔ ایک ایک پہلو پر غور کیا۔ شکست یا فتح کے نتائج پر گفتگو ہوئی اور ہر پہلو سے مکمل تیاری کے احکام صادر کردیئے گئے۔ جب تمام انتظامات مکمل ہوگئے تو تب فرعون مقابلے کے میدان میں اترا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاہدہ طے پانے کے بعد فرعون نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی حکومت کے تمام وسائل جھونک دیے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ مصر کے قومی دن کے موقع پر پہلے ہی ملک کے دارالحکومت میں بہت بڑا اجتماع ہوتا تھا۔ جس میں مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے جاتے اور پورے ملک میں جشن کا عالم ہوتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ حکومت نے بہت بڑے اجتماع کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا اور ایسا اجتماع منعقد کیا جس کی مثال مصر کی تاریخ میں پہلے سے موجود نہ تھی جب کثیر تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ فرعون پورے شان و شکوہ اور دبدبہ کے ساتھ انتظامیہ اور پورے ملک کے…
Read the full tafseer →60: فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ (پس فرعون دربار سے لوٹ گیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اعراض کرتے ہوئے پشت پھیری۔ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ (پھر اپنا مکر جمع کرنا شروع کیا) اپنی تدابیر اور جادوگر ان کی تعداد 72 تھی۔ نمبر 2۔ چار صد تھی نمبر 3۔ ستر ہزار تھی۔
ثُمَّ اَتٰی (پھر پہنچ گیا) مقررہ وعدہ مقام پر۔
Read the full tafseer →60۔ فتولی فرعون فجمع کیدہ، ، مکروحیلہ سے مراد جادوگر ہے ۔ ثم اتی، وقت مقررہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57۔ 60:۔ اوپر ذکر تھا کہ فرعون نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں کر اور کیا باتیں کہہ کر جھٹلایا موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے ملک مصر کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا ذکر اگرچہ فرعون نے بہتان کے طور پر اس خیال سے کیا تھا کہ جلاوطنی کا حال سن کر ساری قبطی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمن ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیب کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ سے نکلوائی چناچہ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون کے اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہوجانے کے بعد تمام ملک مصر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے قبضہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
55 مقابلے کے لیے جشن کے دن کا تقرر : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں فورا اور بےدھڑک فرمایا کہ " وعدے کا وقت جشن کا دن ہے "۔ جس کو وہ لوگ جشن نوروز کے نام و عنوان سے سال کے شروع میں منایا کرتے تھے۔ (مراغی وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ مقابلہ اسی دن رکھا جائے کہ اس روز لوگ خودبخود اور بڑی تعداد میں جمع ہوں گے اور نتیجہ سب کے سامنے آجائے گا۔ اور حقیقت حال سب کے سامنے پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجائے گی۔ سو حضرت موسیٰ کو اپنی کامیابی کا چونکہ پورا یقین تھا کہ آپ بہرحال حق پر تھے۔ اس لیے آپ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں بےدھڑک ارشاد فرمایا کہ مقابلے کا دن میلے کا دن ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–76
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی فتح اور جادو گروں کا ایمان لانا
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور عام جادو کا فرق ہر شخص کی اپنے مذہب سے محبت اور پھر اللہ کی محبت اور قدرت کا مظاہرہ کہ کفر کی محبت کس طرح ایمان اور اللہ کی محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جشن کے دن چاشت کا وقت مقابلہ کے لیے مقرر کیا تو اس میں بھی تدبیر یہ تھی کہ جشن کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوں گے جن کے سامنے کفرو ایمان کا مقابلہ اور آپ (علیہ السلام) کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے اور چاشت کا وقت اس لیے کہ یہ سورج نکلے سے تھوڑی دیر بعد کا وقت ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ایک طرف تو سلطنت کے ہر علاقہ سے ماہر جادو گر جمع کر لئے اور انہیں انعام و اکرام کا وعدہ کر کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور دوسری طرف عام لوگوں کو ترغیب دی کہ مقابلہ دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(20:60) فتولی۔ پھر (فرعون) واپس مڑا۔ (یعنی دربار سے محل کو واپس چلا گیا) ۔
کیدہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا مکروہ فریب۔ دائو۔ اپنے دائو فریب کا سامان جیسا کہ آگے (20:64) میں آیا ہے۔ فاجمعوا کیدکم تو تم اپنے سامان فن کو اکٹھا کرلو۔ جمع کیدہ اس نے اپنے جادو (دائوں۔ فریب وغیرہ) کا سامان اکٹھا کیا۔ ثم اتی۔ پھر آیا۔ (یعنی یوم مقررہ پر میدان مقررہ میں حسب وعدہ تیاری کے بعد واپس آیا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
جادوگروں سے مقابلہ
تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا، اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو ! تم جادو کی جھٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو دکھاتے ہو، تو اس میں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلاً اللہ کی پیدا کی ہوئی رسی اور لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو، تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں۔ اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں کسی آفت میں ہلاک کر دے گا۔ اس لئے جھوٹا شخص کبھی فلاح نہیں پاتا، نہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے، اور نہ…
Read the full tafseer →[20] مکر کے سامان سے مراد ساحر اور ان کے آلات سحر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
جادوگروں سے مقابلہ :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معقول اور مسکت بحث سے مجبور ہو آخر فرعون نے اصل سوال کی جانب توجہ منعطف کی ، مگر عجیب تلبیس اور چالاکی سے کہنے لگا اچھا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے شہروں سے نکال باہر کرو ، ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں ، ایک دن مقرر کر دو ، ہم بھی اپنے جادوگر بلاتے ہیں ، اس دن مقابلہ ہوجائے گا ، اور معلوم ہوگا ، کہ کون زیادہ کامیاب اور فتحیاب ہے ۔
موسی (علیہ السلام) نے اس خیال سے کہ اسے معلوم تو ہو کہ جادو کی حقیقت کیا ہے ، اور معجزہ وسحر میں کیا فرق ہے ، اس اعلان مبازرت کو قبول فرما لیا اور کہا یوم الزینہ کو تم آجانا میلہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →-60 دن کی بات طے ہونے کے بعد فرعون ملس سے چلا گیا اور اپنی جگہ لوٹ گیا اور اپنے مکرو فریب کا سامان جمع کرنے لگا اور آخر کار وعدے کے دن سب کو لیکر آموجود ہوا۔ یعنی جب مقابلہ کی تاریخ اور جگہ وغیرہ طے ہوگئی تو فرعون مجلس سے لوٹ گیا اور اپنے مکرو فریب کی غرض سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے لگا اور آخر کار مقررہ وقت پر تمام حمایتیوں کو لیکر آموجود ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 6۔ اور خود عوام کو فریفتہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاو۔
Read the full tafseer →فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے توجہ ہٹا کر اپنی مکاریوں کی فکر کرنے لگا :
60۔ فرعون نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب سنا جس کی اس کو قطعا توقع نہ تھی تو اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ اب اپنی مکاریاں اور اپنے سارے داؤ جمع کرے تاکہ وقت سے پہلے نہیں تو وقت پر تو ان کو ہمراہ لے کر میدان مناظرہ میں نکل آنے میں پہل کرے اور اس طرح اس نے اس جگہ سے جہاں یہ جواب وسوال موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوا ہٹ کر اپنی تیاری میں لگ گیا اور جو کچھ اس سے ہوسکا وہ سب کچھ لے کر وہ میدان مناظرہ میں وقت پر آموجود ہوا ۔ اس نے کیا کیا تدبیریں کیں اور کیا کچھ سازو سامان اور دلائل جمع کئے قرآن کریم نے اس جگہ اس کا نظر…
Read the full tafseer →Commentary
The words فَجَمَعَ كَيْدَهُ (and put his plot together) in verse 60 indicate that the Pharaoh assembled his magicians and their tools. According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ there were seventy two magicians but others have put their number at figures which vary from four hundred to nine hundred thousand. Their leader was a blind man whose name was Sham` un (شمعُون).
Read the full tafseer →32. Pharaoh and his courtiers considered the coming encounter as a decisive one as far as their own future was concerned and, therefore, they attached the utmost importance to it. Courtiers were sent throughout the country to muster round all the magicians wherever available. People were especially encouraged to come in the largest numbers to witness the magic skills so as to keep them immune from the awe inspired by the staff of Moses (peace be upon him). It was openly said that the fate of their religion hinged on the skill of their magicians. Their religion could survive only if they won,…
Read the full tafseer →