Explained with ayahs 57–59
فرعون کے ساحر اور موسیٰ ؑ۔
حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہوجانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہوجا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہوجائے اور مقابلہ ہوجائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آجائیں اور تو بھی ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لئے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آجائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کرلیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
سورة طٰهٰ 31
فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک دفعہ جادوگروں سے لاٹھیوں اور رسیوں کا سانپ بنوا کر دکھا دوں تو موسیٰ ؑ کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہوجائے گا۔ یہ حضرت موسیٰ کی منہ مانگی مراد تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ الگ کوئی دن اور جگہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ جشن کا دن قریب ہے، جس میں تمام ملک کے لوگ دار السلطنت میں کھنچ کر آجاتے ہیں۔ وہیں میلے کے میدان میں مقابلہ ہوجائے تاکہ ساری قوم دیکھ لے۔ اور وقت بھی دن کی پوری روشنی کا ہونا چاہیے تاکہ شک و شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُـحًي، یعنی یہ مقابلہ یوم الزینتہ میں ہونا چاہئے۔ مراد عید یا کسی میلے وغیرہ کے اجتماع کا دن ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ کونسا دن تھا ؟ بعض نے کہا کہ آل فرعون کی کوئی عید مقرر تھی جس میں وہ زینت کے کپڑے پہن کر شہر سے باہر نکلنے کے عادی تھے، بعض نے کہا کہ وہ نیروز کان تھا کسی نے کہا کہ یوم السبت یعنی ہفتہ کا دن تھا جس کی یہ لوگ تعظیم کرتے تھے، بعض نے کہا کہ وہ عاشورا، یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔
فائدہ
حضرت موسیٰ ؑ نے دن اور وقت کی تعیین میں بڑی حکمت سے کام لیا کہ دن ان کی عید کا تجویز کیا جس میں سب چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں کا اجتماع…
Read the full tafseer →آیت 59
فرعون کے چیلنج کا جواب
حضرت موسیٰ کو چونکہ اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے بےدھڑک فرعون کا چیلنج مظنور کر لای۔ مصریوں کے ہاں سال میں دو تین بڑے میلے ہوتے تھے۔ انہی میں سے کسی میلے کی تاریخ سامنے تھی۔ انہوں نے اسی میلے کے دن کو نامزد رک دیا اور وقت بھی مقرر کردیا کہ لوگ چاشت کے وقت جمع ہوں۔ میلہ کا دن لوگوں کو فرصت و فراغت کا دن ہوتا ہے اور کسی پبلک اجتماع کے لئے چاشت کا وقت سب سے زیادہ موزوں خیال کیا جاتا یہ۔ گویا حضرت موسیٰ نے بھی یہ چاہا کہ اسی مقابلے میں فرعون کے سحر و شعبدہ کا سارا طلسم باطل کردیں۔
Read the full tafseer →59۔ 1 اس سے مراد نو روز یا کوئی اور سالانہ میلے یا جشن کا دن ہے جسے وہ عید کے طور پر مناتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
22: یہ کوئی تہوار تھا جس میں فرعون کی قوم جشن منایا کرتی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس دن کا انتخاب اس لیے فرمایا تاکہ ایک بڑا مجمع موجود ہو اور اس کے سامنے حق کی فتح کا مظاہرہ ہوسکے
Read the full tafseer →قال موعدکم یوم الزینۃ (02 : 95) موسیٰ نے کہا جشن کا دن طے ہوا۔ “ اور یہ بھی کہا کہ سورج نکلتے ہیں لوگ جمع ہوں تاکہ جگہ کھلی ہو ، وقت لوگوں کے اجتماع کا ہو ، صبح کا وقت اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ آسکیں ، نہ گرمی ہو ، نہ رات کا اندھیرا ہو۔ بہت سویرے بھی نہ ہو کہ لوگ گھروں سے نکلنے کے لیء ابھی فارغ ہی نہ ہوئے ہوں۔ دوپہر بھی نہ ہو کہ بہت گرمی ہوتی ہے ، شام بھی نہ ہو کہ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ لوگ جمع بھی نہیں ہوتے اور پھر روشنی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ الصحیٰ یعنی دن چڑھنے کا وقت سب سے موزوں ہے۔
اب یہ منظر موسیٰ و ہارون اور فرعون کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کا منظر یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ایک مومن داعی…
Read the full tafseer →10 پیغمبروں کے کام میں کوئی تلبیس و تلمیع نہیں ہوتی، ان کا معاملہ کھلم کھلا صاف صاف ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہتر ہے جو بڑا میلہ اور جشن تمہارے یہاں ہوتا ہے اسی روز جب دن چڑھ جائے اس وقت میدان مقابلہ قائم ہو۔ یعنی میلہ میں جہاں زیادہ سے زیادہ مخلوق جمع ہوگی اور دن کے اجالے میں یہ کام کیا جائے، تاکہ دیکھنے والے بکثرت ہوں اور روز روشن میں کسی کو اشتباہ والتباس نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کی غرض تھی۔ وہ چاہے کہ ان کو ہرا دے سب کے روبرو، یہ چاہیں کہ وہ ہارے۔ جشن کا دن سارے مصر کے شہروں میں مقرر تھا فرعون کی سالگرہ کا۔ "
Read the full tafseer →آیت 59 قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ ”
ان کے ہاں یہ کوئی تہوار تھا جس کے سلسلے میں وہ لوگ بڑی تعداد میں کسی میدان میں جمع ہو کر جشن مناتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکمت سے کام لیتے ہوئے اسی تہوار کے اجتماع کو مقابلے کے لیے مخصوص کرلیا۔
وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی ”
یہ ضحی کا وقت وہی ہے جس وقت ہم عیدین کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ یعنی جب دھوپ ذرا سی اٹھ جائے اس وقت لوگوں کو جمع کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →41 جادوگرو کا مقابلہ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دو شرطیں فرعون کا یہ چیلنج دراصل موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی آواز تھی۔ مگر ایسا کھلے میدان میں مقابلہ کرانا ان کے وسائل سے خارج تھا۔ فرعون نے چیلنج کیا تو آپ نے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے فورا ً قبول کر یا۔ اور ساتھ دو باتیں یا شرائط اور بھی کہہ ڈالیں۔ ایک تو یہ مقابلہ صرف کھلے میدان میں ہی نہیں بلکہ جشن سالانہ کے دن ہونا چاہئے۔ جبکہ لوگ ہر طرف سے کھیچنے کر دارالسلطنت میں میلہ دیکھنے آتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مقابلہ کو دیکھ سکیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ مقابلہ دن کی صاف روشنی میں چاشت کے وقت ہونا چائیے تاکہ لوگوں کو اس منظر مقابلہ کے دیکھنے اور…
Read the full tafseer →61۔ مصر میں قومی تہوار یا جشن سال میں دو بار بڑے پیمانہ پر منائے جاتے تھے۔ ایک بار ماہ مارچ میں، دوسری بارماہ اگست میں۔ اور تیسرا جشن ان دونوں سے بھی بڑھ چڑھ کر ہوتا تھا۔ انہیں میں سے کوئی جشن یہاں مراد ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →قال موعدکم یوم الزینۃ وان یحشر الناس ضحی۔ موسیٰ نے کہا تمہارے مقابلہ کے وعدے
کا وقت وہ دن ہے جس میں (تمہارا) میلہ ہوتا ہے (یعنی تمہارے تیوہار کا دن) اور جس دن چڑھے لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔
مَوْعِد (ظرف مکان) وعدے کی جگہ یعنی تمہارے مقابلہ کے وعدہ کی جگہ تیوہارے والے دن کا مقام ہے۔ میلہ کا دن سب لوگ جانتے تھے جس میں لوگ جمع ہوتے تھے۔ مجاہد قتادہ مقاتل اور سدی نے کہا مصر والوں کا ایک تیوہار سالانہ ہوتا تھا جس میں لوگ آراستہ پیراستہ ہو کر میلہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں مصریوں کے تیوہار کا دن نوروز کا ہوتا تھا ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر نے فرمایا محرم کی دس تاریخ کو وہ تیوہار…
Read the full tafseer →(59) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا تمہارے مقابلہ کے مقابلہ کے وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں تمہارا بازار لگتا ہے یا یہ کہ تمہارے میلے اور خوشی کا دن یا یہ کہ نیروز اور جس میں تمام شہروں سے دن چڑھے لوگ جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ۔۔ : ”ضُـحًي“ وہ وقت جب سورج نکلنے کے بعد اس کی حرارت کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیٰ ؑ تو خود چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں، تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچے اور وہ معجزات الٰہی کو اور حق کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چناچہ ”يَوْمُ الزِّيْنَةِ“ اور دوپہر کا وقت مقرر کردیا گیا، تاکہ لوگ چھٹی کی وجہ سے فارغ ہوں اور دوپہر تک تمام علاقوں سے ہر شخص آسانی سے پہنچ جائے، دن کی روشنی زیادہ سے زیادہ ہو اور اگر مقابلہ طول پکڑ جائے تو مغرب تک لمبا وقت مل جائے۔ ”يَوْمُ الزِّيْنَةِ“ مصریوں کے ہاں معروف دن تھا، یہ اس دن منایا جاتا جب نیل کی طغیانی اپنی انتہا کو پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ ۔ وہ آیات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے اور اس نے انہیں دیکھا تو کہنے لگا : یہ جادو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو وہم میں ڈالے تو ایسی نشانی لے آیا جو تیری اتبباع اور تجھ پر ایمان لانے کا موجب ہے تاکہ تو ہماری زمین پر اور ہم پر غالب آجائے۔ فلنا تینک بسحر مثلہ ہم اس کی مثل کے ساتھ تیرا مقابلہ کریں گے جو تو لے کر آیا تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ جو تو لے کر آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعداا، موعدا مصدر ہے یعنی وعداً ۔ بعض نے فرمایا : الموعد وعدہ کی جگہ کا اسم ہے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” موعدکم یوم الزینۃ “ وعدہ کے دن سے مراد ہے عاشورا کا دن۔
2:۔ ابن منذر نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا تو اس نے اس سال کے فوت ہونے والے روزے کو پالیا اور جس نے عاشوراء کے دن صدقہ کیا اس نے اس سال میں اپنے فوت شدہ صدقہ کو پالیا۔
3:۔ عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔
4:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال موعدکم یوم الزینۃ “ سے ان کی عید کا دن مراد ہے۔
5:۔…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [مَوْعِدُكُمْ؛تم لوگوں کے وعدے کا وقت ] [يَوْمُ الزِّيْنَةِ : زینت (یعنی جشن) کا دن ہے ] [وَان : اور یہ کہ ] [يُّحْشَرَ : اکٹھا کئے جائیں ] [النَاسُ : لوگ ] [ضُـحًي : چاشت کے وقت ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
35:۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے کے بجائے محض ضد سے جادوگر قرار دیا اور کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تو جادو کے زور سے میرے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں تیرے جادو سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ میرے ملک میں بھی بڑے بڑے جادو گر موجود ہیں میں تیرے مقابلے کے لیے ان کو بلاؤں گا۔ اس لیے کوئی ایسی جگہ مقرر کردے جس کا فاسلہ ہمارے تمہارے لیے برابر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ بہتر یہی ہے کہ یوم الزینہ یعنی تمہاری عید کے دن ہی مقابلہ ہوجائے۔ کیونکہ اس میں خواہ مخواہ لوگ دور دراز سے آئیں گے۔ یوم الزینہ سے ان کا نوروز مراد ہے۔ اس دن میں وہ باقاعدہ میلہ لگاتے، بازاروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَۃِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًي 59
يوم
اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ،
( ی و م ) الیوم
( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فَلَنَاْ تِیَنَّـکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِـہٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لاَّ نُخْلِفُـہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی۔ قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَاَنْ یُّحْشَرَالنَّاسُ ضُحًی۔ (طٰـہٰ : 58، 59)
(ہم بھی تمہارے مقابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے، پس ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقابلے کا دن مقرر کرلو، نہ ہم اس کی مخالفت کریں اور نہ تم کرو، جمع ہونے کی جگہ ہموار اور کھلی ہو۔ حضرت موسیٰ نے کہا تمہارا مقابلے کا دن جشن کا دن ہے اور یہ خیال رہے کہ تمام لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں۔ )
ہم اپنے ملک کے چیدہ چیدہ جادوگروں کو بلائیں گے جو تمہارے اس جادو کا توڑ کریں گے۔ اس کے بعد لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان کشمکش کا دوسرا مرحلہ۔
فرعون نے اقتدار کے نشہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کیے ہوئے تمام دلائل اور بڑے بڑے معجزات ٹھکرا دئیے۔ اقتدار بچانے، عوام اور لیڈروں کو ساتھ رکھنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ یہ رسول ہونے کی بجائے جادوگر ہیں اور جادو کے زور پر ہمارے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ ہمیں ملک سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کی طرح بنی اسرائیل کو مصر میں برسراقتدار لائیں۔ فرعون جانتا تھا کہ جادو میں اس طرح کی طاقت نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے زور پر…
Read the full tafseer →یوم زینت سے مراد :
59: قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ (کہا تمہارے مقابلہ کے وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں تمہارے تہوار کا دن ہے)
نحو : موعدکم مبتدا یوم الزِّیَنَۃ خبر ہے۔ یہ ان کے ہاں خوشی کا دن تھا۔ نمبر 2۔ نیروز کا دن نمبر 3۔ یوم عاشور۔ زمان کے ساتھ جواب اس صورت میں درست ہوتا ہے ( اگرچہ مکان کے متعلق سوال تاویل اول کی صورت میں ہے) کیونکہ انکا اجتماع زینت کے دن آخر کسی مکان میں وقوع پذیر ہوگا۔ پس زمان کو بطور علم مکان کے ذکر دیا۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق تقدیر عبارت یہ ہوگی وعدکم و عد یوم الزینۃ تمہارا وعدہ یوم الزینت کا وعدہ ہے۔
وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ (اور جس میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں)…
Read the full tafseer →59۔ قال موعدکم یوم الزینہ، ، مجاہد، قتادہ اور مقاتل اور سدی کا بیان ہے کہ مصر والوں کا ایک تہوار سالانہ ہوتا تھا جس میں لوگ آراستہ ہوکر میلہ کی شکل میں جمع ہوتے تھے ۔ بعض نے کہا کہ نیروز کا دن تھا، ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ کے نزدیک اس سے یوم عاشور مراد ہے ۔ وان یحشر الناس ضحی، چاشت کے وقت دن چڑھے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور کسی کو شک نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57۔ 60:۔ اوپر ذکر تھا کہ فرعون نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں کر اور کیا باتیں کہہ کر جھٹلایا موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے ملک مصر کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا ذکر اگرچہ فرعون نے بہتان کے طور پر اس خیال سے کیا تھا کہ جلاوطنی کا حال سن کر ساری قبطی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمن ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیب کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ سے نکلوائی چناچہ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون کے اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہوجانے کے بعد تمام ملک مصر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے قبضہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
55 مقابلے کے لیے جشن کے دن کا تقرر : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں فورا اور بےدھڑک فرمایا کہ " وعدے کا وقت جشن کا دن ہے "۔ جس کو وہ لوگ جشن نوروز کے نام و عنوان سے سال کے شروع میں منایا کرتے تھے۔ (مراغی وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ مقابلہ اسی دن رکھا جائے کہ اس روز لوگ خودبخود اور بڑی تعداد میں جمع ہوں گے اور نتیجہ سب کے سامنے آجائے گا۔ اور حقیقت حال سب کے سامنے پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجائے گی۔ سو حضرت موسیٰ کو اپنی کامیابی کا چونکہ پورا یقین تھا کہ آپ بہرحال حق پر تھے۔ اس لیے آپ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں بےدھڑک ارشاد فرمایا کہ مقابلے کا دن میلے کا دن ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 9 حضرت موسیٰ نے عید کا دن اس لئے تجویز فرمایا کہ اس روز ملک کے تمام عالقوں کے لوگ کھچ کر دارالسلطنت میں جمع ہوتے ہیں اور نیز تجویز کیا کہ ضحی کے وقت مقابلہ شروع ہوتا کہ اگر مقابلہ لمبا ہوجائے تو تمام دن قائم رہ سکے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(20:59) یوم الزینۃ۔ جشن کا دن ۔ عید کا دن۔ یحشر۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) اکٹھے کئے جاویں ۔ جمع کئے جاویں۔ ضحی۔ وقت چاشت دن چڑھے۔ وہ وقت جبکہ دھوپ چڑھ جائے۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں۔ نیز اس وقت کو بھی ضحی کہتے ہیں یعنی سارے لوگ اکٹھے کئے جاویں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
جادوگروں سے مقابلہ
تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا، اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو ! تم جادو کی جھٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو دکھاتے ہو، تو اس میں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلاً اللہ کی پیدا کی ہوئی رسی اور لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو، تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں۔ اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں کسی آفت میں ہلاک کر دے گا۔ اس لئے جھوٹا شخص کبھی فلاح نہیں پاتا، نہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے، اور نہ…
Read the full tafseer →[19] تاکہ روشنی خوب پھیل جائے اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
جادوگروں سے مقابلہ :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معقول اور مسکت بحث سے مجبور ہو آخر فرعون نے اصل سوال کی جانب توجہ منعطف کی ، مگر عجیب تلبیس اور چالاکی سے کہنے لگا اچھا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے شہروں سے نکال باہر کرو ، ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں ، ایک دن مقرر کر دو ، ہم بھی اپنے جادوگر بلاتے ہیں ، اس دن مقابلہ ہوجائے گا ، اور معلوم ہوگا ، کہ کون زیادہ کامیاب اور فتحیاب ہے ۔
موسی (علیہ السلام) نے اس خیال سے کہ اسے معلوم تو ہو کہ جادو کی حقیقت کیا ہے ، اور معجزہ وسحر میں کیا فرق ہے ، اس اعلان مبازرت کو قبول فرما لیا اور کہا یوم الزینہ کو تم آجانا میلہ کی وجہ سے…
Read the full tafseer →-59 حضرت موسیٰ نے فرمایا تمہارے وعدے کا دن وہی ہے جس دن تمہارے جشن کا میلا ہوا کرتا ہے بس وہی دن وعدے کا وقت ہے اور یہ لوگ دن چڑھے اور چاشت کے وقت جمع ہوجائیں یعنی جس دن تمہارے ہاں جشن ہوتا ہے اور جشن کا میلہ بھرتا ہے وہی دن مقرر کرلو اور دن چڑھنے تک لوگوں کو جمع کرلیا جائے اول تو خود ہی لوگ میلے میں آتے ہیں تمہارے طرف سے تاکید ہوجائے گی تو لوگ بکثرت جمع ہوجائیں گے اور سب کے سامنے مقابلہ کا فیصلہ ہوجائے گا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دنگل میں مقابلہ کرنے سے دونوں کو غرض تھی وہ چاہے کہ ان کو ہرا دحے سب کے روبرو دے چاہیں کہ دے ہارے جشن کا دن سارے مصر کے شہر میں مقرر تھا فرعون کی سال گر کا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 6۔ اور خود عوام کو فریفتہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاو۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی بات سنتے ہی فورا اس کو جواب دیا :
59۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی یہ بات سنی تو محسوس کر گئے کہ قدرت الہی کا کرشمہ ہونے ہی والا ہے کیونکہ کہاوت ہے کہ سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستہ پر آکر بیٹھ جاتا ہے گویا فرعون نے ہمت کرکے جو ہمیں دعوت دی ہے تو یقینا اس کی موت کا وقت قریب آچکا ہے کہ سیدھے منہ بات بھی نہ کرنے والا انسان جب برابری کی بات کر رہا ہے تو اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ اب اس کے گلے میں لقمہ پھنس چکا ہے ، اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے بےدھڑک اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے انہی لوگوں کے ایک بہت بڑے تہوار ہی کا دن مقرر کردیا تاکہ مجمع عام ان دلائل کو…
Read the full tafseer →مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ وَأَن يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى (Your appointment is the festival day and that the people are assembled at forenoon - 20:59). يَوْمُ الزِّينَةِ has been explained differently by different authorities. Some say it was a special festival when the Egyptians, attired in beautiful dresses, gathered outside the towns, while others say that it was a Saturday (' یوم السَّبت), and according to some others it was the tenth day of Muharram (عاشُورا).
The great advantage in fixing for the contest
It was a wise move on the part of Sayyidna Musa (علیہ السلام) to fix festival…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
31. The object of Pharaoh was this: Once the sorcerers are able to transform the staffs and ropes into serpents, the entire effect of the miracle performed by Moses (peace be upon him) would disappear from the people’s minds. That was exactly to Moses’(peace be upon him) advantage, who suggested that it was no good fixing an ordinary day or place for the purpose. The Day of the Feast was at hand. People would flock on that occasion from all corners of the empire. Therefore, the encounter should be held in the open so that all might witness it, and in the day time so that everyone should be…
Read the full tafseer →