Explained with ayahs 57–59
فرعون کے ساحر اور موسیٰ ؑ۔
حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہوجانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہوجا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہوجائے اور مقابلہ ہوجائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آجائیں اور تو بھی ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لئے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آجائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کرلیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
سورة طٰهٰ 31
فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک دفعہ جادوگروں سے لاٹھیوں اور رسیوں کا سانپ بنوا کر دکھا دوں تو موسیٰ ؑ کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہوجائے گا۔ یہ حضرت موسیٰ کی منہ مانگی مراد تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ الگ کوئی دن اور جگہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ جشن کا دن قریب ہے، جس میں تمام ملک کے لوگ دار السلطنت میں کھنچ کر آجاتے ہیں۔ وہیں میلے کے میدان میں مقابلہ ہوجائے تاکہ ساری قوم دیکھ لے۔ اور وقت بھی دن کی پوری روشنی کا ہونا چاہیے تاکہ شک و شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →مَكَانًا سُوًى، فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ اور جادوگروں کے مقابلہ کے لئے یہ خود تجویز کیا کہ ایسے مقام پر ہونا چاہئے جو آل فرعون اور حضرت موسیٰ و بنی اسرائیل کے لئے مسافت کے اعتبار سے برابر ہو تاکہ کسی فریق پر زیادہ دور جانے کی مشقت نہ پڑے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو قبول کر کے دن اور وقت کی تعیین اس طرح فرما دی
Read the full tafseer →آیت 58
’ موعد ظرف زمان اور ظرف مکان یعنی وقت موعود اور مقام موعود دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اس آیت میں یہ دونوں معنوں کو محتمل ہے اور بعد والی آیت میں ظرف زمان کے معنی میں ہے۔ اس قسم کے ظرف کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔
سوی کے معنی وسط کے ہیں۔ مکانہ سوی یعنی ایسی جگہ ہو جو ہمارے اور تمہارے دونوں کے لئے یکساں ہے جہاں ہمارے آدمی بھی آسانی سے جمع ہو سکیں اور تمہارے آدمی بھی۔
فرعون نے حضرت موسیٰ کو جواب دیا کہ اگر تم جادو کے بل پر ہمیں ہمارے ملک سے بےدخل کرنے اٹھے ہو تو ہمارے پاس جادو کی کمی نہیں ہے، ہم بھی ایسا ہی جادو دکھا سکتے ہیں تو تم ہمارے اور اپنے درمیان مقابلہ کے لئے کوئی ایسی جگہ…
Read the full tafseer →58۔ 1 موعد مصدر ہے یا اگر ظرف ہے تو زمان اور مکان دونوں مراد ہوسکتے ہیں کوئی جگہ اور دن مقرر کرلے۔
58۔ 2 مکان سوی۔ صاف ہموار جگہ، جہاں ہونے والے مقابلے کو ہر شخص آسانی سے دیکھ سکے یا ایسی برابر کی جگہ، جہاں فریقین سہولت سے پہنچ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →فلناتینک بسحر مثلہ (02 : 85) ” ہم تمہارے پاس ایسا ہی جادو لے آئیں گے۔ “ ہمیشہ سرکشوں اور بےدین لیڈروں نے یہی سمجھا ہے کہ دعوت حق دینے والے دراصل ملک کے اندر اقتدار اعلیٰ کے طالب ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت دراصل ایک پردہ ہے جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرت یہیں۔ اس کے بعد جب وہ دیکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ یکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیے معجزات یا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو جاد کی طرح دال میں اتر جاتے ہیں چناچہ سرزکش ڈکٹیٹر حکمرن اپنے لئے ایسے ہی دلائل فراہم کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →9 یعنی تو اس ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہمارے یہاں بھی بڑے بڑے ماہر جادوگر موجود ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ان سے مقابلہ ہوجائے۔ پس جس دن اور جس جگہ مقابلہ کرنا چاہے تجھے اس کی تعیین کا اختیار دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ جو وقت معین ہوجائے اس سے کوئی فریق گریز نہ کرے اور جگہ ایسی ہو جہاں فریقین کو آنے اور بیٹھنے میں یکساں سہولت حاصل ہو۔ نشست وغیرہ میں راعی و رعایا یا حاکم و محکوم اور بڑے چھوٹے کا کوئی سوال نہ ہو، ہر ایک فریق آزادی سے اپنی قوت کا مظاہرہ کرسکے اور میدان بھی کھلا، ہموار اور صاف ہو کہ تماشا دیکھنے والے سب بےتکلف مشاہدہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی ”
ایک کھلے میدان میں ہم سب جمع ہوجائیں۔ وہاں تم بھی اپنی یہ نشانیاں پیش کرو ‘ اور ہمارے جادو گر بھی اپنے جادو کے کمالات دکھائیں۔ فرعون کا خیال تھا کہ اس کے بلائے ہوئے جادوگر اس سے بہتر جادو دکھا دیں گے اور اس طرح موسیٰ کا دعویٰ باطل ثابت ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →40 موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی ایسا مقابلہ چاہتے تھے تاکہ عام لوگوں کے ذہنوں پر جو فرعون کے جھوٹے پروپیگنڈا کے اثرات پڑ رہے ہیں تھے وہ زائل ہوسکیں۔ اور لوگ خود حق اور باطل میں امتیاز کرسکیں۔
Read the full tafseer →60۔ یعنی کھلے ہوئے مقام میں، جہاں ساری پبلک جمع ہو کر ہماری تمہاری ساحری کا مقابلہ وتماشا دیکھ سکے،” سوی “۔ کے معنی بھی کئے گئے ہیں کہ وہ میدان، ہم دونوں فریقوں سے نصف نصف مسافت پر واقع ہو۔ اے منصفابیننا وبینک (روح۔ عن مجاھد وقتادۃ) فرعون کے سحر پر ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →فلناتینک بسحر مثلہ فاجعل بیننا وبینک موعدا لا نخلفہ نحن ولا انت مکانا سوی۔
سو اب ہم بھی تیرے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے لہٰذا ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلے جس کے خلاف نہ ہم کریں نہ تو۔ کسی ہموار میدان میں 1 (مقابلہ کریں گے تاکہ سب دیکھ لیں ) ۔
لاَّ نُخْلِفُہٗیعنی ہم اس وعدے کے خلاف نہ کریں موعد بمعنی وعدہ۔ موعد اس جگہ ظرف زمان یا مکان نہیں ہے کیونکہ خلاف ورزی کا تعلق وعدے سے ہوتا ہے زمان و مکان سے نہیں ہوتا۔ سویٰ کا ترجمہ قتادہ اور مجاہد نے کیا برابر۔ یعنی ہمارے تمہارے درمیان مسافت برابر ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے۔ کلبی نے کہا سوی یعنی اس جگہ…
Read the full tafseer →(58) تو جیسا تم جادو لے کر آئے ہو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لے کر آتے ہیں تو موسیٰ ؑ ہمارے اور اپنے درمیان مقابلہ ا ایک وقت مقرر کرلو جس کی ہم میں سے کوئی خلاف ورزی نہ کرے کسی ہموار میدان میں یا یہ کہ منصفانہ برابر طریقہ پر اپنے اور ہمارے درمیان مقرر کرلو۔
Read the full tafseer →فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا۔۔ : ”مَوْعِدًا“ ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے، مکان بھی اور مصدر میمی بھی، یعنی ہمارے ساتھ وہ وقت بھی طے کرلو جس میں مقابلہ ہوگا اور جگہ بھی، البتہ جگہ ایسی ہونی چاہیے جو قبطیوں اور بنی اسرائیل دونوں کے لیے برابر ہو، تاکہ کسی کو آنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”مَكَانًا سُوًى“ کا مطلب برابر اور ہموار زمین ہے، جہاں سب مقابلہ دیکھ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ ۔ وہ آیات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے اور اس نے انہیں دیکھا تو کہنے لگا : یہ جادو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو وہم میں ڈالے تو ایسی نشانی لے آیا جو تیری اتبباع اور تجھ پر ایمان لانے کا موجب ہے تاکہ تو ہماری زمین پر اور ہم پر غالب آجائے۔ فلنا تینک بسحر مثلہ ہم اس کی مثل کے ساتھ تیرا مقابلہ کریں گے جو تو لے کر آیا تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ جو تو لے کر آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعداا، موعدا مصدر ہے یعنی وعداً ۔ بعض نے فرمایا : الموعد وعدہ کی جگہ کا اسم ہے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ چلتا ہے اور اس جگہ سے مٹی لیتا ہے جہاں انسان کو دفن ہونا ہوتا ہے وہ اس کو بکھیرتا ہے نطفہ پر پس انسان اس مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی بارے میں قول ہے (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔
میت پر مٹی ڈالتے ہوئے کیا پڑھا جائے :
2:۔ احمد اور حاکم نے ابوامامہ (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی جب قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “
3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[فَلَنَاتِيَنَّكَ : تو ہم لازماً لائیں گے آپ (علیہ السلام) کے پاس ] [بِسِحْرٍ : ایک جادو ] [مِّثْلِهٖ : اس کے جیسا ] [فَاجْعَلْ : پس آپ (علیہ السلام) بنائیں ] [بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [وَبَيْنَكَ : اور آپ (علیہ السلام) کے درمیان ] [مَوْعِدًا : وعدے کا ایک وقت ] [لَّا نُخْلِفُهٗ : ہم خلاف نہ کریں جس کے ] [نَحْنُ : ہم ] [وَلَآ انتَ : اور نہ ہی آپ (علیہ السلام) ] [مَكَانا سُوًى: ایک برابر جگہ (یعنی کھلے میدان) میں ]
نوٹ۔ 1: موسٰی (علیہ السلام) کو مقابلہ کی دعوت دینے سے فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک مرتبہ جادوگروں سے لاٹھیوں کو سانپ بنوا کر دکھا دیا جائے تو موسٰی (علیہ السلام) کے معجزے کا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–64
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو فرعون کا جادو بتانا اور جادو گروں سے مقابلہ کے لیے وقت اور جگہ مقرر ہونا
فرعون ملعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا تعارف کرادیا اور یہ بتادیا کہ ہمیں ہمارے رب نے تیری طرف بھیجا ہے اور رب جل شانہ کی صفت خالقیت بھی بتادی اور یہ بھی بتادیا کہ اس نے سب کو رہنمائی فرمائی ہے اور وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے اور یہ زمین کا فرش اسی نے بنایا اور آسمان سے وہی پانی اتارتا ہے اور فرعون کو چمکتا ہوا یدبیضاء بھی دکھا دیا نیز اس کے سامنے لاٹھی کو ڈالا۔ اور وہ اژدھا بن گئی تو خالق کائنات جل مجدہ کی خالقیت اور ربوبیت اور الوہیت کا اقرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
35:۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے کے بجائے محض ضد سے جادوگر قرار دیا اور کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تو جادو کے زور سے میرے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں تیرے جادو سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ میرے ملک میں بھی بڑے بڑے جادو گر موجود ہیں میں تیرے مقابلے کے لیے ان کو بلاؤں گا۔ اس لیے کوئی ایسی جگہ مقرر کردے جس کا فاسلہ ہمارے تمہارے لیے برابر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ بہتر یہی ہے کہ یوم الزینہ یعنی تمہاری عید کے دن ہی مقابلہ ہوجائے۔ کیونکہ اس میں خواہ مخواہ لوگ دور دراز سے آئیں گے۔ یوم الزینہ سے ان کا نوروز مراد ہے۔ اس دن میں وہ باقاعدہ میلہ لگاتے، بازاروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →فَلَنَاْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى 58
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فَلَنَاْ تِیَنَّـکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِـہٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا لاَّ نُخْلِفُـہٗ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَکَانًا سُوًی۔ قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَاَنْ یُّحْشَرَالنَّاسُ ضُحًی۔ (طٰـہٰ : 58، 59)
(ہم بھی تمہارے مقابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے، پس ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقابلے کا دن مقرر کرلو، نہ ہم اس کی مخالفت کریں اور نہ تم کرو، جمع ہونے کی جگہ ہموار اور کھلی ہو۔ حضرت موسیٰ نے کہا تمہارا مقابلے کا دن جشن کا دن ہے اور یہ خیال رہے کہ تمام لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں۔ )
ہم اپنے ملک کے چیدہ چیدہ جادوگروں کو بلائیں گے جو تمہارے اس جادو کا توڑ کریں گے۔ اس کے بعد لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان کشمکش کا دوسرا مرحلہ۔
فرعون نے اقتدار کے نشہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کیے ہوئے تمام دلائل اور بڑے بڑے معجزات ٹھکرا دئیے۔ اقتدار بچانے، عوام اور لیڈروں کو ساتھ رکھنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ یہ رسول ہونے کی بجائے جادوگر ہیں اور جادو کے زور پر ہمارے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ ہمیں ملک سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کی طرح بنی اسرائیل کو مصر میں برسراقتدار لائیں۔ فرعون جانتا تھا کہ جادو میں اس طرح کی طاقت نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے زور پر…
Read the full tafseer →58: فَلَنَاْ تِیَنَّکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ (پس اب ہم بھی تیرے مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے) یعنی تیرا مقابلہ ایسے جادو سے کریں گے جو تیرے جادو جیسا ہوگا۔ فَاجْعَلْ بیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا (پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلے) موعد یہ مصدر ہے جو الوعد کے معنی میں ہے ظرف زمان و مکان نہیں البتہ مضاف مقدر مانا جائے گا۔ ای مکان موعد اور لَّا نُخْلِفُہٗ (جس کے خلاف نہ ہم کریں) اس وعدے کی۔
قراءت : لا تُخْلِفْہٗ کو جزم کے ساتھ یزید نے امر کا جواب ہونے کی وجہ سے پڑھا یا اور دیگر قراء نے موعد کا وصف ہونے کی وجہ سے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نَحْنُ وَلَآاَنْتَ مَکَانًا (ہم اور نہ تم کسی…
Read the full tafseer →58۔ فلناتینک بسحر مثلہ فاجعل بیننا وبینک موعدا، ، یعنی ہمارے اور اپنے درمیان ایک میعاد اور وقت مقرر کرلے۔ لانخلفہ ، ابوجعفر نے ، لانخلفہ پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا کہ تم اس سے تجاوز کرسکو گے۔ نحن ولا انت مکانا سوی، ابن عامر ، عاصم ، حمزہ اور یعقوب نے سین کے ضمہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور دوسرے قراء نے اس کو کسرہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اس کی دونوں لغتیں ہیں ، جیسے عدی وعدی اور طوی وطوی، مقاتل اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس کا معنی برابر ہے۔ یعنی ہمارے تمہارے درمیان مسافت برابر ہو۔ ابن عباس کا قول یہی ہے کہ ابوعبیدہ اور قتیبی نے بیان کیا دونوں فریقوں کے درمیان مجاہد کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے برابر۔ کلبی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57۔ 60:۔ اوپر ذکر تھا کہ فرعون نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں کر اور کیا باتیں کہہ کر جھٹلایا موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے ملک مصر کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا ذکر اگرچہ فرعون نے بہتان کے طور پر اس خیال سے کیا تھا کہ جلاوطنی کا حال سن کر ساری قبطی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمن ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیب کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ سے نکلوائی چناچہ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون کے اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہوجانے کے بعد تمام ملک مصر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے قبضہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →54 فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ کو مقابلے کا چیلنج : سو فرعون نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ ہم اس کے جواب میں ایک ایسا ہی زور دار جادو لا کر رہیں گے۔ سو تم اس کے لیے اپنے اور ہمارے درمیان ایک جگہ اور وقت مقرر کرلو جہاں ہمارا باہم مقابلہ ہو اور وہ ایسا کھلا مقام ہو جہاں سب لوگ اپنی کھلی آنکھوں اس مقابلہ کو اور اس کے نتائج کو دیکھ سکیں۔ تاکہ اس کے بعد ہماری جیت اور فتح کے ترانے گائے جائیں اور ہماری دھاک سب پر اور بھی زیادہ سختی اور پختگی کے ساتھ بیٹھ جائے۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ یہ سب کچھ الٹا اسی کے خلاف جانے والا ہے اور ایسا کہ دھاک بیٹھنے کی بجائے اس کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 9 حضرت موسیٰ نے عید کا دن اس لئے تجویز فرمایا کہ اس روز ملک کے تمام عالقوں کے لوگ کھچ کر دارالسلطنت میں جمع ہوتے ہیں اور نیز تجویز کیا کہ ضحی کے وقت مقابلہ شروع ہوتا کہ اگر مقابلہ لمبا ہوجائے تو تمام دن قائم رہ سکے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(20:58) فلناتینک۔ الفاء ترتیب کے لئے لام موضع جواب قسم محذوف ای اذا کان کذلک فو اللہ لناتینک اگر ایسے ہے تو خدا کی قسم ہم بھی لے آئیں گے ناتین مضارع جمع متکلم بانون ثقیلہ۔
موعدا۔ اسم ظرف زمان۔ یا اسم ظرف مکان۔ وعدہ کا وقت یا وعدہ کی جگہ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ نہ اسم ظرف زمان ہے۔ بلکہ یہ مصدر میمی ہے اور بمعنی وعدا ہے اور لا نخلفہ سے مراد ہے کہ ہم وعدہ خلافی نہ کریں۔
مکان سوی۔ کھلا اور ہموار میدان جس میں نشیب و فراز نہ ہوتا کہ ہر چیز صاف نظر آئے اگر موعدا کو اسم ظرف مکان لیا جاوے تو مکانا سوی اس کی تعریف ہوگی اور اگر اسم ظرف زمان ہو تو معنی ہوں گے کہ وقت مقرر کرو جس سے ہم میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
جادوگروں سے مقابلہ
تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا، اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو ! تم جادو کی جھٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو دکھاتے ہو، تو اس میں اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلاً اللہ کی پیدا کی ہوئی رسی اور لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو، تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں۔ اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں کسی آفت میں ہلاک کر دے گا۔ اس لئے جھوٹا شخص کبھی فلاح نہیں پاتا، نہ اس کے مال میں برکت ہوتی ہے، اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
[18] یعنی تمہارے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اجزائے ارضی سے ہی ہوئی تھی۔ یوں بھی انسان نطفے سے بنتا ہے اور نطفہ غذا سے اور غذا اجزائے زمین سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-58 لہٰذا ہم بھی اب تیرے مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے تو اپنے اور ہمارے درمیان ایک ایسا وعدہ مقرر کرے جس کا نہ تو ہم خلاف کریں اور نہ تو اس کا خلاف کرے اور یہ مقابلہ کسی ہموار میدان میں ہو۔ یعنی ایک تاریخ مقرر کرلو تاکہ اس دن مقابلہ ہو کر فیصلہ ہوجائے تم بھی اس تاریخ کا خلاف نہ کرو ہم بھی نہ کریں یہ مقابلہ کھلے اور صاف میدان میں ہو تاکہ سب لوگ اچھی طرح سے دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 6۔ اور خود عوام کو فریفتہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاو۔
Read the full tafseer →فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو میدان میں اپنا عصا پیش کرنے کی دعوت دے دی :
58۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ” ہم بھی اس طرح کے جادو کا کرتب تجھے لادکھائیں گے ہمارے اور اپنے درمیان ایک دن مقرر کردے نہ تو ہم اس سے پھریں نہ تو ‘ دونوں کی جگہ برابر ہوئی ، “ مطلب یہ ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم جادو کے بل پر ہمین ملک سے بےدخل کرنے کی ٹھان چکے ہو تو یاد رکھو کہ ہمارے پاس بھی جادو کی کوئی کمی نہیں ہے ہم بھی ایسا ہی جادو دکھا سکتے ہیں ۔ (سحر) جس کے معنی جادو کئے گئے ہیں کے متعلق ہم عرض کرچکے ہیں کہ وہ کیا تھا اور زیر نظر آیت نے بھی اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →By words مَكَانًا سُوًى(at an even place) in verse 58 the Pharaoh proposed that the contest between Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his own magicians should be held at a place which should, as far as possible, be within easy access of the Egyptians, Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the Bani Isra'il. The latter readily accepted this proposal and fixed the day and the time for the contest by suggesting۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
31. The object of Pharaoh was this: Once the sorcerers are able to transform the staffs and ropes into serpents, the entire effect of the miracle performed by Moses (peace be upon him) would disappear from the people’s minds. That was exactly to Moses’(peace be upon him) advantage, who suggested that it was no good fixing an ordinary day or place for the purpose. The Day of the Feast was at hand. People would flock on that occasion from all corners of the empire. Therefore, the encounter should be held in the open so that all might witness it, and in the day time so that everyone should be…
Read the full tafseer →