Explained with ayahs 57–59
فرعون کے ساحر اور موسیٰ ؑ۔
حضرت موسیٰ ؑ کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہوجانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہوجا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہوجائے اور مقابلہ ہوجائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آجائیں اور تو بھی ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لئے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آجائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کرلیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 30
جادو سے مراد عصا اور ید بیضا کا معجزہ ہے جو سورة اعراف اور سورة شعراء کی تفصیلات کے موجب حضرت موسیٰ نے پہلی ہی ملاقات کے وقت بھرے دربار میں پیش کیا تھا۔ اس معجزے کو دیکھ کر فرعون پر جو بد حواسی طاری ہوئی اس کا اندازہ اس کے اسی فقرے سے کیا جاسکتا ہے کہ ’ تو اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے "۔ دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی یہ واقعہ پیش آیا تھا اور نہ بعد میں کبھی پیش آیا کہ کسی جادوگر نے اپنے جادو کے زور سے کوئی ملک فتح کرلیا ہو۔ فرعون کے اپنے ملک میں سینکڑوں ہزاروں جادوگر موجود تھے جو تماشے دکھا دکھا کر انعام کے لیے ہاتھ پھیلاتے پھرتے تھے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ہر انسان کے خمیر میں نطفہ کے ساتھ اس جگہ کی مٹی بھی شامل ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہوگا
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ مِنْهَا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم ؑ کے کہ ان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم ؑ ہیں ان کے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کردینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق درحقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی…
Read the full tafseer →آیت 57
فرعون کی ایک سیاسی چال
سورة اعراف کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس دور میں فرعون اور اس کے ارکان حکومت کو بنی اسرائیل سے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ ان کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ طاقتور ہو کہ بیرونی دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں اور ایک دن فرعون اور اس کی قوم کو ملک سے بےدخل کردیں۔ اسی خطرے کو پیش نظر رکھ کر اسرائیلی بچوں کے قتل کی مہم چلائی گئی لیکن یہ مہم ناکام رہی۔ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی ہی گئی البتہ بنی اسرائیل کے اندر اس وقت تک کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو ان کو منظم کرسکے۔ حضرت موسیٰ سے فرعون کو جیسا کہ ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں، ان کے مدین جانے سے پہلے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
57۔ 1 جب فرعون کو دلائل واضح کے ساتھ وہ معجزات بھی دکھلائے گئے، جو عصا اور ید بیضا کی صورت میں حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کئے گئے تھے، تو فرعون نے اسے جادو کا کرتب سمجھا اور کہنے لگا اچھا تو ہمیں اس جادو کے زور سے ہماری زمین سے نکالنا چاہتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →قال اجئتنا ……ضحی (95)
فرعون نے کوئی مناظرہنہ کیا ، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دیا ، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل قوی تھے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کا تعلق اس کائنات کی نشانیوں سے بھی تھا۔ ان دونوں خارق العادات معجزات سے بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے اس نے بس ہارے ہوئے آدمی کی طرح جھوٹے الزام کا سہارا لیا کہ موسیٰ نے عصا کو سانپ بنا کر پیش کیا ہے ، یہ ان کی کھلی جادوگری ہے۔ نیز وہ ہاتھ کو جادوگری سے سفید کردیتا ہے۔ اس وقت چونکہ مصر میں جادوگری عروج پر تھی اس لئے فرعون نے بھی یہی الزام لگایا۔ یہ دونوں معجزات بھی ایسے تھے کہ سحر شکن تھے حالانکہ سحر تو ایک نظر بندی…
Read the full tafseer →8 فرعون نے یہ بات اپنی قوم " قبط " کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے نفرت اور اشتعال دلانے کے لیے کہی۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ جادو کے زور سے ہم کو نکال باہر کرے اور ساحرانہ ڈھونگ بنا کر عوام کی جمعیت اپنے ساتھ کرلے اور اس طرح قبطیوں کے تمام املاک و اموال پر قابض ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”
میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Read the full tafseer →39 فرعون کے اس قول سے اس کی بدحواسی پورے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ملک میں سینکڑوں جادوگر موجود تھے۔ جو لوگوں کو اور اسے بھی اپنی شعبدہ بازیاں دکھلاتے اور انعام و اکرام حاصل کرکے چلے جاتے تھے۔ ان میں سے کسی کے متعلق کبھی فرعون کو ایسا خیال نہ آیا تھا کہ یہ قحط بھی لاسکتے ہیں اور فرعون کو ملک بدر بھی کرسکتے ہیں۔ اور جو موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہنے کا ڈھونگ رچا رکھا تھا تو اس کی وجہ محض یہ تھی کہ اس کی رعایا ان سے متاثر ہو کر ان پر ایمان نہ لے آئے۔
Read the full tafseer →59۔ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد، آخر میں فرعون بولا تو یہ بولا ! کیا خوب زور کی اس نے ساحری کی ! انسان اپنے ہی پر دوسرے کا بھی قیاس کرتا ہے۔ بیچارہ خود سحر وکہانت میں مبتلا، ان اعمال سفلیہ کا ماہر، اس بدبخت کی سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کوئی درجہ علوم عالیہ کا، مراتب روحانیہ کا، ان سفلیات سے بلند تر بھی ہے ...... یہ تشخیص بھی کس قدر مشابہ ہے اس رائے کے جو آج بڑے بڑے فرنگی ” حکماء “ وفرنگیت زدہ ” محققین “ سیرت نبوی پڑھ کر، کمالات و کرامات محمدی سے بہ قدر اپنے ظرف کے واقف ہو کر آخر میں گردن کی جنبش کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ” بیشک محمد ﷺ بڑے خوش تدبیر، بڑے خوش فکر، بڑے خوش انتظام، مصلح ومدبر گزرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسی۔ کہنے لگا موسیٰ کیا تو اس لئے ہمارے پاس
آیا ہے کہ ہم کو ہماری سرزمین (مصر) سے اپنے جادو (کے زور) سے نکال کر باہر کر دے۔ یعنی کیا تو یہ چاہتا ہے کہ ہم کو نکال کر ہمارے ملک پر تو قبضہ کرلے اور یہاں تیری حکومت ہوجائے۔
Read the full tafseer →(57) مزید کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ اپنے جادو سے ہمیں مصر سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ اَجِئْتَنَا۔۔ : فرعون نے یہ بات تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد نہیں کہی، کیونکہ اگر ایسا ہو تو جادوگروں سے ہونے والا یہ مقابلہ طوفان، جراد، قمل وغیرہ حتیٰ کہ سمندر پھٹنے کے واقعہ کے بعد ماننا پڑے گا، کیونکہ ”اٰیٰتِنَا کُلَّھَا“ میں یہ سب شامل ہیں۔ اس لیے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی صراحت کے مطابق فرعون نے موسیٰ ؑ کا عصا اور ید بیضا والا معجزہ دیکھ کر یہ بات کہی۔ دیکھیے سورة اعراف (106 تا 126) اور شعراء (30 تا 51)۔ (ابن عاشور)
لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا : ہر باطل پرست اور جابر و ظالم حکمران جب داعی حق کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہے تو اس کی دعوت ٹھکرانے کے لیے یہی ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ ۔ وہ آیات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے اور اس نے انہیں دیکھا تو کہنے لگا : یہ جادو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو وہم میں ڈالے تو ایسی نشانی لے آیا جو تیری اتبباع اور تجھ پر ایمان لانے کا موجب ہے تاکہ تو ہماری زمین پر اور ہم پر غالب آجائے۔ فلنا تینک بسحر مثلہ ہم اس کی مثل کے ساتھ تیرا مقابلہ کریں گے جو تو لے کر آیا تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ جو تو لے کر آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعداا، موعدا مصدر ہے یعنی وعداً ۔ بعض نے فرمایا : الموعد وعدہ کی جگہ کا اسم ہے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ چلتا ہے اور اس جگہ سے مٹی لیتا ہے جہاں انسان کو دفن ہونا ہوتا ہے وہ اس کو بکھیرتا ہے نطفہ پر پس انسان اس مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی بارے میں قول ہے (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔
میت پر مٹی ڈالتے ہوئے کیا پڑھا جائے :
2:۔ احمد اور حاکم نے ابوامامہ (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی جب قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “
3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالَ : اس نے کہا ] [اَ : کیا ] [جِئْتَنَا : آپ (علیہ السلام) آئے ہمارے پاس ] [لِتُخْرِجَنَا : کہ آپ (علیہ السلام) نکالیں ہم کو ] [مِنْ اَرْضِنَا : ہماری زمین سے ] [بِسِحْرِكَ : اپنے جادو سے ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ) (اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری بار نکالیں گے) زمین سے انسان کو جو اصل تعلق ہے اس آیت میں اس کو بیان فرما دیا انسان کی تخلیق بھی مٹی سے ہے اور موت کے بعد بھی ہر شخص اسی میں چلا جاتا ہے سورة المرسلات میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا) (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو ہر شخص اسی میں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
35:۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے کے بجائے محض ضد سے جادوگر قرار دیا اور کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تو جادو کے زور سے میرے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں تیرے جادو سے مرعوب ہونے والا نہیں۔ میرے ملک میں بھی بڑے بڑے جادو گر موجود ہیں میں تیرے مقابلے کے لیے ان کو بلاؤں گا۔ اس لیے کوئی ایسی جگہ مقرر کردے جس کا فاسلہ ہمارے تمہارے لیے برابر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ بہتر یہی ہے کہ یوم الزینہ یعنی تمہاری عید کے دن ہی مقابلہ ہوجائے۔ کیونکہ اس میں خواہ مخواہ لوگ دور دراز سے آئیں گے۔ یوم الزینہ سے ان کا نوروز مراد ہے۔ اس دن میں وہ باقاعدہ میلہ لگاتے، بازاروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يٰمُوْسٰى 57
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Read the full tafseer →قَالَ اَجِئْـتَـنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ یٰـمُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 57)
(اس نے کہا اے موسیٰ ! کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہماری سرزمین سے نکال باہر کرو۔ )
ایک خطرناک الزام
فرعون نے کہا کہ تم دونوں نے نبوت کا تو بہروپ دھار رکھا ہے درحقیقت تم سیاسی شعبدہ باز ہو۔ تم نبوت کے دعوے کے ذریعے اپنی قوم کو منظم کرنا چاہتے ہو اور میری قوم کو مجھ سے بدگمان کردینا چاہتے ہو۔ اور اس طرح سے تم ہمیں ہماری مملکت سے بےدخل کردینے کا پروگرام لے کر آئے ہو۔ یہ وہ بات تھی جو بہت عرصے سے فرعون اور اس کی قوم کے دماغوں میں بسی ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی آبادی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان کشمکش کا دوسرا مرحلہ۔
فرعون نے اقتدار کے نشہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے پیش کیے ہوئے تمام دلائل اور بڑے بڑے معجزات ٹھکرا دئیے۔ اقتدار بچانے، عوام اور لیڈروں کو ساتھ رکھنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ یہ رسول ہونے کی بجائے جادوگر ہیں اور جادو کے زور پر ہمارے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ ہمیں ملک سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کی طرح بنی اسرائیل کو مصر میں برسراقتدار لائیں۔ فرعون جانتا تھا کہ جادو میں اس طرح کی طاقت نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے زور پر…
Read the full tafseer →فرعون کا خوف اور جادوگروں کے مقابلہ کی تیاری :
57: قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ یٰـمُوْسٰی (کہنے لگا اے موسیٰ کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے تاکہ تو اپنے سحر سے ہم کو ہماری سرزمین سے نکال دے) قال کا قائل فرعون اور ارضنا سے مراد سر زمین مصر ہے۔
نکتہ : یہ آیت بتلا رہی ہے کہ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت ڈر گیا اور بِسِحْرِکَ کہہ کر بہانہ لگایا ورنہ کون سا ایسا جادوگر ہے جو بادشاہ کو اس کی حکومت سے نکال باہر کرے۔
Read the full tafseer →57۔ قال، فرعون نے کہا، اجتنا لتخرجنا من ارضنا، مصر کی سرزمین ، بسحرک یاموسی، تو اس بات ک ارادہ کرتا ہے کہ تو ہمارے شہر پر قابض ہوکر ہمیں وہاں سے نکال دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57۔ 60:۔ اوپر ذکر تھا کہ فرعون نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں کر اور کیا باتیں کہہ کر جھٹلایا موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے ملک مصر کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا ذکر اگرچہ فرعون نے بہتان کے طور پر اس خیال سے کیا تھا کہ جلاوطنی کا حال سن کر ساری قبطی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمن ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیب کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ سے نکلوائی چناچہ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون کے اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہوجانے کے بعد تمام ملک مصر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے قبضہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →53 فرعون کی ایک شر انگیز سیاسی چال : سو حضرت موسیٰ کی موثر و معقول دعوت حق کا اثر زائل کرنے کے لیے فرعون نے ایک اور شر انگیز چال کے طور پر حضرت موسیٰ سے کہا کہ " کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کردو ؟ "۔ سو یہ بات ایک طرف تو اس لعین کی انتہائی بوکھلاہٹ کی نشانی تھی۔ بھلا ایک جادوگر اپنے جادو کے زور سے ایک بادشاہ اور اس کی پوری قوم کو ان کے ملک سے کیسے نکال باہر کرسکتا ہے ؟ اور دوسری طرف اس طرح دراصل وہ بدبخت اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا چاہتا تھا کہ یہ شخص اصل میں تم لوگوں کو اس ملک سے نکال دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ اپنے ملک سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 8 ہر باطل پرست اور جابر و ظالم حکمران جب داعی حق کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہے تو اس کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے یہی ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ یعنی اسے اقتدار کا بھوکا ہونے کا طعنہ دیتا ہے۔ گویا اقتدار پر قابض رہنا اس کا تو پیدائشی حق ہے اور کسی دوسرے کے لئے اس کے قریب بھٹکنا بھی جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(20:56) ارینہ۔ ہم نے اس کو دکھلائیں ہٗ ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ اباء مصدر (باب فتح ضرب) ابی یابی۔ وتابی قلوبہم (9:8) اور ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 64
اجئتنا کیا تو ہمارے پاس آیا۔ اجعل بنا دے۔ انخلفہ ہم اس کے خلاف نہ کریں گے۔ مکانا سوی ہموار میدان۔ یوم الزینۃ جشن کا دن، بناؤ سنگار کا دن۔ یحشر وہ جمع ہوجائیں گے۔ جمع کئے جائیں۔ ضحی دن چڑھے۔ ویلکم تمہارا ستیاناس ہوجائے۔ لاتفتروا تم نہ گھڑو، نہ بناؤ۔ یسحت وہ ہلاک کر دے گا۔ خاب نامراد ہوا۔ لتنازعوا آپس میں جھگڑ پڑے۔ اسروا انہوں نے چھپایا۔ النجوی مشورہ۔ المثلی نمونہ جو سب سے بہتر ہو۔ استعلی وہ غالب ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 57 تا 64
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کی نشانیوں کے ساتھ بلا خوف و خطر فرعون کے دربا میں پہنچ گئے اور اللہ کی شان ربوبیت کو بیان کرتے…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ فرعون نے کہا :” اے موسیٰ ! تم اپنے جادو کے زور سے ہم کو ملک مصر سے نکال دینے اور خود اس ملک پر قبضہ کرلینے کا ارادہ جو رکھتے ہو، تمہارا یہ ارادہ ہرگز پورا نہ ہوگا۔ ہم بھی تمہارے مقابلے کے لئے جادوگر بلواتے ہیں۔ اے موسیٰ ! مقابلے کے لئے ایک وقت مقرر کرلو ، اور اس وقت کے خلاف نہ ہم کریں گے، اور نہ تم کرنا۔ وقت مقررہ پر ہم بھی موجود رہیں گے، اور تم بھی رہنا ، اور مقابلہ ایک صاف میدا میں ہونا چاہئے “۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا ہے، جس طرح ہندوؤں کے ہاں بت پرستی کے لئے میلے ہوتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ منظور ہوا کہ اس روز مجمع عام میں مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
[18] یعنی تمہارے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اجزائے ارضی سے ہی ہوئی تھی۔ یوں بھی انسان نطفے سے بنتا ہے اور نطفہ غذا سے اور غذا اجزائے زمین سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-57 فرعون کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو اپنے جادو سے ہم کو ہمارے ملک سے باہر نکال دے یعنی ہماری حکومت ہم سے چھیننا اور ہمارے ملک سے ہم کو بےدخل کرنا چاہتا ہے اور جادو کے زور سے ہم کو شکست دینے پر آمادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ف 6۔ اور خود عوام کو فریفتہ اور تابع بنا کر رئیس بن جاو۔
Read the full tafseer →فرعون نے ایک بار دوبارہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک چال چلی :
57۔ ” اے موسیٰ ! ‘ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کر دے ۔ “ فرعون کی اس بات پر بار بار غور کرو اور دیکھو کہ اس نے ایک ہی فقرہ میں سانپ اور لاٹھی کے استعارہ کو کیونکر واضح کردیا اور اس استعارہ کی کس طرح وضاحت کردی ، چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ بنی اسرائیل کو یہاں سے لے کر نکل جانے کا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ فرعون اور اس کے اعوان وانصار کا موقف یہ تھا کہ بنی اسرائیل اس مالک کے باشندے نہیں ہیں اس لئے ان کو اس علاقے پر حکومت کا کوئی حق نہیں۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
The composition of every human being contains, together with the seed, the earth of the place when he will be buried
The words مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (From this We created you) in verse 55 means that Allah created you from the earth. This verse is addressed to all mankind although it is known that man is created from seed and not from earth, except Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) who was created directly from earth. One possible explanation for this is that since Sayyidna 'Adam علیہ السلامٍ is the father of all mankind and was himself created from earth, therefore all his descendants have been…
Read the full tafseer →30. Here by sorcery are meant the miracles of the staff and the shining hand, which according to the details given in Surahs Al-Aaraf and Ash-Shuara, were shown to Pharaoh by Prophet Moses (peace be upon him) in his first visit to his court. On seeing these miracles Pharaoh was so upset that he cried out: Have you come to drive us out of our country by the power of your sorcery? Although he knew that it had never happened in history that a magician had conquered a country by the power of sorcery. Moreover, there were hundreds of magicians in his own country, who used to show their feats to…
Read the full tafseer →