Explained with ayahs 53–56
اللہ رب العزت کا تعارف۔
موسیٰ ؑ فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش بنایا ہے۔ مھدا کی دوسری قرأت مھادا ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنادیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لئے راہیں بنادی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں باغات میوے قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھالو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 29
یعنی آفاق و اَنفُس کے دلائل کی نشانیاں بھی، اور وہ معجزات بھی جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر حضرت موسیٰ کی وہ تقریریں بھی موجود ہیں جو انہوں نے فرعون کو سمجھانے کے لیے کیں۔ اور وہ معجزات بھی مذکور ہیں جو اس کے پے در پے دکھائے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ہر انسان کے خمیر میں نطفہ کے ساتھ اس جگہ کی مٹی بھی شامل ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہوگا
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ مِنْهَا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم ؑ کے کہ ان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم ؑ ہیں ان کے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کردینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق درحقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
آیت 56-53
ایک تضمین
قرینہ دلیل ہے کہ یہ چار آیتیں حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بطور تضمین، براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام صرف ماضی کی ایک حکایت نہیں رہتا بلکہ وہ حال پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعوکن کو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی بات ملا کر قریش کے فراعنہ کو بھی سنا دی کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ تمہاری بھی حکایت ہے۔ تم بھی سن لو کہ کون تمہارا رب ہے اور کون تمہاری عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار ہے۔
”الذی جعل لکم الارض مھداً وسلک لکم فیھا سبلاً و انزل من السمآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
57۔ 1 جب فرعون کو دلائل واضح کے ساتھ وہ معجزات بھی دکھلائے گئے، جو عصا اور ید بیضا کی صورت میں حضرت موسیٰ ؑ کو عطا کئے گئے تھے، تو فرعون نے اسے جادو کا کرتب سمجھا اور کہنے لگا اچھا تو ہمیں اس جادو کے زور سے ہماری زمین سے نکالنا چاہتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے :
منھا خلقنکم ……وابی (65)
اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔
انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ…
Read the full tafseer →7 یعنی جو آیات اس کو دکھلانا منظور تھیں، سب دکھلادیں مثلاً القائے عصاء اور یدبیضا وغیرہ مع اپنے متعلقات و تفاصیل کے۔ اس پر بھی بدبخت نہ مانا اور حجود و تکذیب پر اڑا رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”
میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Read the full tafseer →38 فرعون سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ملاقات کے بعدیہاں درمیان کے کئی مراحل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی دوران موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی رسالت کی دلیل میں کئی نشانیاں بھی دکھلاویں۔ جن کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے جب ملک پر کوئی آفت نازل ہوتی تو وہ سیدنا موسیٰ سے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ اگر یہ آفت دور ہوگئی تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدنا موسیٰ کی دعا سے وہ آفت دور ہوجاتی۔ تو وہ وعدہ خلافی کرتا اور پھر سے اکڑ جاتا تھا اور ایسا معاملہ کئی بار پیش آتا رہا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ فرعون کو سیدنا موسیٰ کی رسالت کا یقین تو ہوچکا تھا مگر وہ اپنے اقتدار سے کسی قیمت…
Read the full tafseer →58۔ (جو حضرت موسیٰ کو عطا ہوئی تھیں) (آیت) ” ایت “۔ کے مفہوم میں معجزات و دلائل دونوں شامل ہیں، توریت کتاب خروج میں ان معجزات کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →ولقد ارینہ ایتنا کلہا فکذب وابی۔ اور ہم نے اس کو اپنی (وہ) ساری نشانیاں دکھائیں لیکن اس نے
(سب کو) جھٹلایا اور (ماننے سے) انکار کردیا۔
اَرَیْنٰہُکا ترجمہ ہے ہم نے اس کو چشم دید کرا دیں یا ان کی صحت اس کو بتادی۔ اٰیٰتِنَاسے مراد ہیں وہ نو معجزات جو حضرت موسیٰ کو دیئے گئے تھے آپ نے وہ سارے معجزات دکھائے۔ فَکَذَّبَپس فرعون نے موسیٰ کو محض عناد کی وجہ سے جھٹلایا اور آپ کو جادوگر کہا۔ وابی اور ایمان و اطاعت سے انکار کیا۔
Read the full tafseer →(56) اور ہم نے اس فرعون کو اپنی نشانیاں یعنی یدبیضاء عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، قحط، سالی اور پھلوں کی کمی دکھلائیں مگر اس نے ان تمام نشانیوں کو جھٹلایا اور کہنے لگا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور اسلام لانے سے انکار کیا اور ان نشانیوں کو تسلیم نہیں کیا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا۔۔ : یہ آیت موسیٰ ؑ اور فرعون کی باہمی گفتگو ذکر کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کے قصہ کو دوبارہ آگے بیان کرنے سے پہلے جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یعنی فرعون کفر میں اتنا پکا تھا کہ ہماری تمام نشانیاں دیکھنے اور موسیٰ ؑ کو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود ایمان نہیں لایا، حتیٰ کہ اس نے آخری نشانی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ سمندر پھٹ گیا اور اس کے پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل ان راستوں سے بخیریت گزر گئے (شعراء : 63 تا 66) ، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لایا، بلکہ اپنے رب ہونے کے جھوٹے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لیے پوری فوج کو لے کر…
Read the full tafseer →(تفسیر 56-61) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد ارینہ ایتنا کلھا، یعنی وہ معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر دلالت کرتے تھے۔ بعض نے فرمایا : وہ آیات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی تھیں۔ فکذب وابی۔ یعنی ایمان نہ لایا۔ یہ دلیل ہے کہ اس نے عناد اور ہٹ دھرمی کی ببنا پر کفر کیا کیونکہ اس نے آیات (معجزات) اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے تھے سنے سنائے نہ تھے۔ اس کی مثال یہ آیت ہے، وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا (النمل :14)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ چلتا ہے اور اس جگہ سے مٹی لیتا ہے جہاں انسان کو دفن ہونا ہوتا ہے وہ اس کو بکھیرتا ہے نطفہ پر پس انسان اس مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی بارے میں قول ہے (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔
میت پر مٹی ڈالتے ہوئے کیا پڑھا جائے :
2:۔ احمد اور حاکم نے ابوامامہ (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی جب قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “
3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اَرَيْنٰهُ : اور بیشک ہم دکھا چکے تھے اس (فرعون) کو ] [اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیاں ] [كُلَّهَا : ان کی سب ] [فَكَذَّبَ : تو اس نے جھٹلایا ] [وَاَبٰى: اور انکار کیا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ) (اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری بار نکالیں گے) زمین سے انسان کو جو اصل تعلق ہے اس آیت میں اس کو بیان فرما دیا انسان کی تخلیق بھی مٹی سے ہے اور موت کے بعد بھی ہر شخص اسی میں چلا جاتا ہے سورة المرسلات میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا) (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو ہر شخص اسی میں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–76
ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو…
Read the full tafseer →34:۔ رجوع بسوئے اصل موضوع۔ آیات سے معجزات مراد ہیں یا دلائل توحید یہ فرعون کی سرکشی اور اس کے عناد و تمرد کا ذکر ہے کہ ہم نے اسے تمام معجزات دکھا ڈالے اور توحید کے دلائل واضح طور پر پیش کیے مگر وہ ایمان نہ لایا اور انکار پر ڈٹا رہا۔ یعنی اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کیا۔ ای المعجزات الدالۃ علی نبوۃ موسیٰ وقیل حجج اللہ الدالۃ علی توحیدہ فکذب وابی۔ ای لم یومن وھذا یدل علی انہ کفر عنادا لانہ رای الایات عیانا لا خبرا (قرطبی ج 11 ص 211) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مسلمان بڑی تکالیف برداشت کر رہے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر نبی کو ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہیں منصب نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر اپنی نشانیاں اور پیغام دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ دو بنیادی نشانیوں یا معجزات تو عصا اور یدبیضا ہیں جو الل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرتے وقت دیں۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے دست مبارک پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرَيْنٰہُ اٰيٰتِنَا كُلَّہَا فَكَذَّبَ وَاَبٰى 56
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ،
( ر ء ی ) رای
الرؤیتہ
کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرَیْـنٰـہُ اٰیٰـتِنَا کُلَّھَا فَکَذَّبَ وَاَبٰی۔ (طٰـہٰ : 56)
(اور ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور انکار کردیا۔ )
فرعون کا تمرد
یوں تو انسان کی ہدایت کے لیے اس کے گردوپیش میں نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں اور خود اس کا وجود سمجھنے کے لیے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ لیکن فرعون اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے اپنی تمام نشانیاں دکھائیں۔ ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں اور معجزات ہیں جس کا ظہور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مختلف وقتوں میں ہوا۔ لیکن فرعون نے ہر بات کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم سے روگردانی کی۔ ویسے تو ہر آدمی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : جس زمین کو فرش بنایا گیا ہے اسی سے نباتات اگتی ہیں اور اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ اسی میں انسان نے جانا ہے اور اسی سے دوسری مرتبہ اسے نکالا جائے گا۔
اے لوگو ! یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ جو زمین تمہارے لیے فرش بنائی گئی اور جس کو تم اپنے پاؤں تلے روندتے ہو۔ اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی کو تین مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس سے بڑے سے بڑے باغی اور فرعون کو بھی مفرّحاصل نہیں تھا۔ زمین سے نباتات اگانے کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح زمین میں پڑا بیج اپنے وقت پر اللہ کے…
Read the full tafseer →نشانات :
56: وَلَقَدْ اَرَیْنٰـہٗ اٰیٰتِنَا کُلَّھَا (ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں) اَرَیْنَا کی ضمیر فرعون کی طرف جاری ہے۔ آیات سے یہ نو آیات مراد ہیں نمبر 1۔ عصا نمبر 2۔ ید بیضاء نمبر 3۔ سمندر کا پھٹنا۔ نمبر 4۔ پتھر کا پھٹنا۔ نمبر 5۔ مکڑی یعنی ٹڈی دل۔ نمبر 6۔ جوئیں۔ نمبر 7۔ مینڈک نمبر 8۔ خون۔ نمبر 9۔ پہاڑ کا اکھڑ کر لٹکنا۔ فَکَذَّبَ (پس اس نے جھٹلایا) ان آیات کو وَاَبٰی (اور حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا) یعنی ایمان و اطاعت سے انکار کردیا۔
Read the full tafseer →56۔ ولقد اریناہ ، ، فرعون کو ساری نشانیاں دکھائیں۔ آیاتنا، کلھا، نونشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو دی تھیں، فکذب ، اس نے ان نشانیوں کو جھٹلایا کہ وہ جادو ہے۔ وابی، کہ وہ اسلام لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56:۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ کا ذکر کیا تھا اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مینہ سے طرح طرح کا اناج انسان کے کھانے کے لیے اور طرح طرح کا چارہ انسان کے چوپایوں کے لیے ہر سال پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا اے بنی آدم اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود کھاؤ اور چارا اپنے چوپاؤں کو چراؤ اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح اب ایک مینہ کے اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–72
آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرو نہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔ پس اس نے موسیٰ سے کہا۔ (اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک) ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو ہمارے زمین سے نکال دے۔ “ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ نے جو معجزات دکھائے ہیں، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
50 انسان کے مبدأ و آغاز کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا ہے جو کہ تمہارے پاؤں کے نیچے ہے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد آدم کو اسی سے پیدا کیا۔ نیز اس طرح کہ جس مادہ تولید سے تمہاری تخلیق ہوتی اور تمہاری ہستی وجود میں آتی ہے وہ حاصل ہوتا ہے مختلف قسم کی غذاؤں سے۔ اور وہ سب غذائیں اسی زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ سو اس طرح بھی بالواسطہ طور پر تم سب اسی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو۔ تو پھر ذرا سوچو اور غور کرو اپنے خالق ومالک کی اس قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت پر جو خود تمہاری اپنی تخلیق میں کار فرما ہے کہ اس قادر مطلق نے اس بےجان مٹی سے کس پر حکمت طریقے سے پیدا فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 7 سب نشانیوں سے مراد نونشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ کو دی گئیں جن کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(20:56) ارینہ۔ ہم نے اس کو دکھلائیں ہٗ ضمیر کا مرجع فرعون ہے۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ اباء مصدر (باب فتح ضرب) ابی یابی۔ وتابی قلوبہم (9:8) اور ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آخر کو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت فرعون کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب نشانیاں دکھائی اور سمجھائی گئیں۔ لیکن اس نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی کو بھی نہ مانا۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں بڑی ذلت سے وہ ڈوب کر مر گیا، اور آخرت میں سخت عذاب بھگتے گا۔ فرعون کی مثال سے قریش کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے، ان کا انجام بھی یہی ہوگا جو فرعون کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
[18] یعنی تمہارے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اجزائے ارضی سے ہی ہوئی تھی۔ یوں بھی انسان نطفے سے بنتا ہے اور نطفہ غذا سے اور غذا اجزائے زمین سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-56 اور یقینا ہم نے فرعون کو اپنی تمام نشانیاں دکھلا دیں سو وہ پھر بھی جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔ زمین سے پیدا ہونا زمین میں مل جانا اور قیامت کے دن زمین سے نکل آنا یہ دین حق اور ملت اسلامیہ کا ایسا مسئلہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ تک ہر پیغمبر نے اس کا ذکر کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر قسم کے معجزات فرعونیوں کو دکھائے لیکن فرعون نہیں مانا اور طرح طرح کی بہانے بازیاں کرتا رہا اور اعجاز موسوی کو جادو بتاتا رہا اور جادوگروں کو جمع کر کے موسیٰ کے مقابلہ کی فکر میں لگا رہا چناچہ تکذیب و انکار کے بعد اس کی حرکات ناشائستہ کا بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔
Read the full tafseer →فرعون کو ہم نے ساری نشانیاں دکھائیں لیکن وہ انکار ہی کرتا رہا :
56۔ گویا یہ سب ایک ہی ملاقات میں نہیں ہوگیا بلکہ پیغام اولی کے بعد جب وہ نہ مانا تو ایک بات شروع ہوگئی جو بیسیوں سال چلتی رہی موسیٰ (علیہ السلام) کتنی بار فرعون کے سامنے دعوت الہی پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے لیکن فرعون نے ہر بار جھٹلایا ، بلاشبہ فرعون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے روشن اور پر از صداقت دلائل سن سن کر اگرچہ پیچ وتاب کھاتا مگر لاجواب ہوجانے کی وجہ سے کوئی صورت نہیں بنتی تھی کہ ان سے راستگاری حاصل کرے وہ خوب جانتا تھا کہ میری ربوبیت اور الہیت کی بنیاد اس قدر کمزور ہے کہ دلائل موسیٰ کی صداقت کے سامنے تار عنکبوت کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
The composition of every human being contains, together with the seed, the earth of the place when he will be buried
The words مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (From this We created you) in verse 55 means that Allah created you from the earth. This verse is addressed to all mankind although it is known that man is created from seed and not from earth, except Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) who was created directly from earth. One possible explanation for this is that since Sayyidna 'Adam علیہ السلامٍ is the father of all mankind and was himself created from earth, therefore all his descendants have been…
Read the full tafseer →29.“Signs”comprised those arguments which were based on natural phenomena and human life and those miracles which were given to Prophet Moses (peace be upon him). These arguments are contained in the speeches of Prophet Moses (peace be upon him) which he delivered before Pharaoh, and the miracles which he showed and are mentioned at several places in the Quran.
Read the full tafseer →