Explained with ayahs 53–56
اللہ رب العزت کا تعارف۔
موسیٰ ؑ فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش بنایا ہے۔ مھدا کی دوسری قرأت مھادا ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنادیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لئے راہیں بنادی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں باغات میوے قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھالو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 28
یعنی ہر انسان کو لازماً تین مرحلوں سے گزرنا ہے۔ ایک مرحلہ موجودہ دنیا میں پیدائش سے لے کر موت کا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک کا۔ اور تیسرا قیامت کے روز دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کا مرحلہ۔ یہ تینوں مرحلے اس آیت کی رو سے اسی زمین پر گزرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ہر انسان کے خمیر میں نطفہ کے ساتھ اس جگہ کی مٹی بھی شامل ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہوگا
مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ مِنْهَا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم ؑ کے کہ ان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم ؑ ہیں ان کے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کردینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق درحقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
آیت 56-53
ایک تضمین
قرینہ دلیل ہے کہ یہ چار آیتیں حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بطور تضمین، براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام صرف ماضی کی ایک حکایت نہیں رہتا بلکہ وہ حال پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعوکن کو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی بات ملا کر قریش کے فراعنہ کو بھی سنا دی کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ تمہاری بھی حکایت ہے۔ تم بھی سن لو کہ کون تمہارا رب ہے اور کون تمہاری عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار ہے۔
”الذی جعل لکم الارض مھداً وسلک لکم فیھا سبلاً و انزل من السمآء…
Read the full tafseer →55۔ 1 بعض روایات میں دفنانے کے بعد تین مٹھیاں (یا بکے) مٹی ڈالتے وقت اس آیت کا پڑھنا نبی ﷺ سے منقول ہے، لیکن سنداً یہ روایات ضعیف ہیں۔ تاہم آیت کے بغیر تین لپیں ڈالنے والی روایت، جو ابن ماجہ میں ہے، صحیح ہے، اس لئے دفنانے کے بعد دونوں ہاتھوں سے تین تین مرتبہ مٹی ڈالنے کو علماء نے مستحب قرارا دیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب الجنائر صفحہ 152۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے :
منھا خلقنکم ……وابی (65)
اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔
انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ…
Read the full tafseer →6 سب کے باپ آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے۔ پھر جن غذاؤں سے آدمی کا بدن پرورش پاتا ہے وہ بھی مٹی سے نکلتی ہیں، مرنے کے بعد بھی عام آدمیوں کو جلد یا بدیر مٹی میں مل جانا ہے۔ اسی طرح حشر کے وقت بھی ان اجزاء کو جو مٹی میں مل گئے تھے دوبارہ جمع کر کے از سر نو پیدا کردیا جائے گا اور جو قبروں میں مدفون تھے وہ ان سے باہر نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”
میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Read the full tafseer →37 انسان کا ذہن سے تعلق :۔ اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی تین کیفیتات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان تینوں کا تعلق زمین سے ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین یا مٹی سے پیدا کیا اور اس کی تمام تر ضروریات اسی سے متعلق کردیں۔ پیدائش سے لے کر موت تک یہ ایک مرحلہ ہوا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک ہے۔ اس مرحلے میں انسان اسی زمین میں دفن ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کی میت مٹی بن کر مٹی ہی میں رل مل جاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی سب لوگوں کو مٹی کھاجاتی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے جسم کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور بعض دوسرے لوگ بھی ایسے ہوسکتے ہیں جن…
Read the full tafseer →57۔ (بعد موت) انسان کی آفرنیش اجزائے ارضی ہی سے ہوگئی ہے، اور موت کے بعد بہرصورت وہ اجزائے ارضی ہی میں ملایا جانا ہے، اور قیامت کے دن اس کی آفرنیش ثانی بھی انہیں اجزاء رضیہ ہی سے ہوگی۔ بائبل میں ایک آیت اسی سے ملتی جلتی موجود ہے۔” تو خاک ہے اور پھر خاک بن جائے گا۔ “ (پیدائش۔ 3: 19) لیکن حشر وبعثت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ حدیث رسول کی تعمیل میں مسلمان اپنی میت کو قبر میں اتارتے ہوئے اس آیت کو پڑھتے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–70
آیت نمبر 55 تا 70
ترجمہ : اور ہم نے اس سے (یعنی) زمین سے تم کو پیدا کیا تمہارے باپ آدم کو اس سے پیدا کرکے اور اسی میں تم کو مرنے کے بعد لوٹا دیں گے حال یہ کہ تم دفن کئے جاؤ گے اور اسی (زمین) سے تم کو بعث کے وقت دوسری مرتبہ نکالیں گے جیسا کہ ہم نے تم کو تمہاری ابتداء تخلیق کے وقت نکالا تھا اور ہم نے اس کو یعنی فرعون کو اپنی پوری نو نشانیاں دکھلائیں سو وہ ان کو جھٹلاتا ہی رہا اور اس بات پر مصر رہا کہ یہ جادو ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کرتا رہا اور کہنے لگا اے موسیٰ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے ملک مصر سے جادو کے زور سے ہم کو نکال دو اور اس میں تمہاری ملکیت (حکومت) ہوجائے ؟…
Read the full tafseer →منہا خلقکم ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا۔
وفیہا نعیدکم اور (مرنے کے بعد) اسی میں ہم تم کو (لوٹا کر) لے جائیں گے۔
ومنہا نخرجکم تارۃ اخری۔ اور (قیامت کے دن) پھر اسی سے دوبارہ تم کو نکالیں گے۔
یعنی تمہارے باپ آدم کو اور تمہارے جسمانی مادہ کو ہم نے زمین کی مٹی سے بنایا نطفہ غذا سے پیدا ہوتا ہے۔ پس ہر آدمی کے مادۂ تخلیق کی پیدائش زمین سے ہی ہوتی ہے۔ بغوی نے عطاء خراسانی کا قول نقل کیا ہے کہ جس جگہ آدمی دفن ہونے والا ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی فرشتہ لے کر نطفہ پر چھڑکتا ہے پھر اس نطفہ اور مٹی سے آدمی کا جسم بنتا ہے عطاء کے قول کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →(55) اور اسی طرح اسی زمین سے ہم نے تمہیں کو پیدا کیا یعنی تم سب کو حضرت آدم ؑ کے ذریعے پیدا کرلیا اور حضرت آدم ؑ کو مٹی سے اور وہ مٹی اسی زمین کی تھی اور اسی زمین میں تم دفن کیے جاؤ گے۔
اور مرنے کے بعد پھر قبروں سے قیامت کے دن ہم تمہیں کو دوبارہ نکالیں گے۔
Read the full tafseer →مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔ : یعنی تم سب کے باپ آدم ؑ کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمہاری غذائیں اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو موت تک چلتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ موت کے بعد دوبارہ مٹی میں جاؤ گے، پھر کوئی انسان قبر میں دفن ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے اجزا مٹی میں جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں قیامت کے دن انھی اجزا کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا، فرمایا : (قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ) [ الأعراف : 25 ] ”فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔“ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
1:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک فرشتہ چلتا ہے اور اس جگہ سے مٹی لیتا ہے جہاں انسان کو دفن ہونا ہوتا ہے وہ اس کو بکھیرتا ہے نطفہ پر پس انسان اس مٹی اور نطفہ سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی بارے میں قول ہے (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم “۔
میت پر مٹی ڈالتے ہوئے کیا پڑھا جائے :
2:۔ احمد اور حاکم نے ابوامامہ (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی جب قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت) ” منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری “ بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ “
3:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →[مِنْهَا : اس سے ] [خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے پیدا کیا تم لوگوں کو ] [وَفِيْهَا : اور اس میں ] [نُعِيْدُكُمْ : ہم لوٹائیں گے تم لوگوں کو ] [وَمِنْهَا : اس سے ] [نُخْرِجُكُمْ : ہم نکالیں گے تم لوگوں کو ] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ) (اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری بار نکالیں گے) زمین سے انسان کو جو اصل تعلق ہے اس آیت میں اس کو بیان فرما دیا انسان کی تخلیق بھی مٹی سے ہے اور موت کے بعد بھی ہر شخص اسی میں چلا جاتا ہے سورة المرسلات میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا) (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو ہر شخص اسی میں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →33:۔ جس زمین سے تمہاری روزی پیدا ہوتی ہے۔ تمہیں بھی اس سے پیدا کیا گیا اور مرنے کے بعد دوبارہ تم اسی میں لوٹا دئیے جاؤ گے اور پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…
Read the full tafseer →مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى 55
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
عود
الْعَوْدُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Read the full tafseer →مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔ (طٰـہٰ : 55)
(اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ )
نظامِ ربوبیت سے قیامت پر استدلال
اسی زمین پر جو پروردگار کا نظام ربوبیت پھیلا ہوا ہے اس سے قیامت پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے تمہیں اسی زمین سے پیدا کیا۔ یعنی ان تمام عناصر کا تعلق زمین سے ہے جو انسانی جسم کی بناوٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا کیا کہنا کہ جس طرح اس نے زمین کو ہمارے لیے گہوارہ بنایا ہے اسی طرح اسے ہمارے مادہ تخلیق کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ اسی سے بننے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : جس زمین کو فرش بنایا گیا ہے اسی سے نباتات اگتی ہیں اور اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ اسی میں انسان نے جانا ہے اور اسی سے دوسری مرتبہ اسے نکالا جائے گا۔
اے لوگو ! یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ جو زمین تمہارے لیے فرش بنائی گئی اور جس کو تم اپنے پاؤں تلے روندتے ہو۔ اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی کو تین مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس سے بڑے سے بڑے باغی اور فرعون کو بھی مفرّحاصل نہیں تھا۔ زمین سے نباتات اگانے کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح زمین میں پڑا بیج اپنے وقت پر اللہ کے…
Read the full tafseer →سہولیات انسانی اور زمین :
55: مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ (اور ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا) یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو دوسرا قول ہر نطفہ کو دفن والی جگہ کی تھوڑی سی مٹی میں گوندھا جاتا ہے پھر مٹی اور نطفے کو ملا کر اس کے جسم کی تخلیق کی جاتی ہے۔ تیسرا قول نطفہ غذائوں کا نچوڑ ہے اور وہ غذائیں زمین ہی سے نکلی ہیں۔ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ (اور اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے) جبکہ تم مر کر دفن ہوگے وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ (اور اسی سے تم کو نکالیں گے) بعث کے وقت تَارَۃً اُخْرٰی (دوسری مرتبہ) نکالنے سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کے متفرق اجزاء جو مٹی میں مل چکے تھے ان کو ازسر نو جمع کر کے جوڑ دیا جائے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
55۔ منھا، ، اسی زمین سے ، خلقناکم، پیدا کیا تم کو اور تمہارے باپ آدم کو بھی۔ عطاء خراسانی نے بیان کیا ہے کہ جس جگہ آدمی دفن ہونے والا ہوتا ہے اسی جگہ کی مٹی فرشتہ لے کرنفطہ پر چھڑکتا ہے۔ پھر اس نطفہ اور مٹی سے آدمی کا جسم بنتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، منھاخلقناکم، وفیھا نعیدکم، ، اور موت کے بعد اور دفن کے وقت اسی میں واپس لوٹا دیاجائے گا۔ ومنھا نخرجکم تارۃ اخری، ، قیامت کے دن واپس تمہیں اٹھایاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56:۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ کا ذکر کیا تھا اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مینہ سے طرح طرح کا اناج انسان کے کھانے کے لیے اور طرح طرح کا چارہ انسان کے چوپایوں کے لیے ہر سال پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا اے بنی آدم اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود کھاؤ اور چارا اپنے چوپاؤں کو چراؤ اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح اب ایک مینہ کے اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
آیت 50
یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔
(ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
50 انسان کے مبدأ و آغاز کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا ہے جو کہ تمہارے پاؤں کے نیچے ہے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد آدم کو اسی سے پیدا کیا۔ نیز اس طرح کہ جس مادہ تولید سے تمہاری تخلیق ہوتی اور تمہاری ہستی وجود میں آتی ہے وہ حاصل ہوتا ہے مختلف قسم کی غذاؤں سے۔ اور وہ سب غذائیں اسی زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ سو اس طرح بھی بالواسطہ طور پر تم سب اسی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو۔ تو پھر ذرا سوچو اور غور کرو اپنے خالق ومالک کی اس قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت پر جو خود تمہاری اپنی تخلیق میں کار فرما ہے کہ اس قادر مطلق نے اس بےجان مٹی سے کس پر حکمت طریقے سے پیدا فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–76
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی تم سب کے باپ حضرت آدم کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمام غذائیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں مرنے کے بعد خواہ کوئی انسان قبر میں دنف ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کے اجزا بھی مٹی ہی میں مل جائیں گے۔ قیامت کے روز انہی اجزا کو دوبارہ جمع کر کے اور ان میں روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا۔ بعض روایات سے جن کی سند گو ضعیف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو قبر میں اتارنے کے بعد مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھ لی جائے اس طرح کہ پہلی مٹھی کے وقت ” منھا خلقنا کم “ دوسری کے وقت وفیھا نعیدکم “ اور تیسری کے وقت ” ومنھا نخرجکم تازہ اخری “ ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت نے اپنے لخت جگر حضرت ام کلثوم کو دفن کرتے…
Read the full tafseer →(20:55) منھا۔ میں ضمیر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض (آیۃ 53 ہے) ۔ نعیدکم۔ نعید مضارع جمع متکلم۔ اعادۃ (افعال) مصدر بمعنی لوٹانا۔ (اور اسی میں) ہم پھر تم کو لوٹا دیں گے۔ تارۃ۔ کرۃ۔ باری۔ مرتبہ۔ دفعہ۔ یہ اصل میں تارۃ تھا۔ ہمزہ کثرت استعمال سے متروک ہوگیا۔ اس کی جمع تارات ہے اور تیر اور تئر بھی۔ ت ا۔ ر مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آخر کو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت فرعون کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب نشانیاں دکھائی اور سمجھائی گئیں۔ لیکن اس نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی کو بھی نہ مانا۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں بڑی ذلت سے وہ ڈوب کر مر گیا، اور آخرت میں سخت عذاب بھگتے گا۔ فرعون کی مثال سے قریش کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے، ان کا انجام بھی یہی ہوگا جو فرعون کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
[18] یعنی تمہارے جد اعلیٰ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اجزائے ارضی سے ہی ہوئی تھی۔ یوں بھی انسان نطفے سے بنتا ہے اور نطفہ غذا سے اور غذا اجزائے زمین سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-55 ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے اور تم کو پھر اسی زمین میں لوٹا دیں گے اور اسی زمین سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ ینی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو مٹی ہی میں مل کر خاک ہو جائو گے پھر اس مٹی سے دوبارہ قیامت میں نکال لے جائو گے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے بنائے گئے، سو ان کے واسطے سے سب کا مادہ بعید خاک ہوئی۔
4۔ چناچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو لیکن آخر کو گو مدتوں کے بعد سہی مگر مٹی میں ضرور ملے گا۔
Read the full tafseer →جواب کے اختتام پر فرمایا کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور وہی تم کو لوٹائے گا :
55۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب کا اختتام کرتے ہوئے فرعون اور فرعون والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” اللہ رب العزت وہ ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور زمین ہی میں تم کو لوٹاتا ہے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ اٹھا کھڑا کرے گا ۔ “ یہ گویا ربوبیت سے قیامت پر استدلال ہے کہ ہم نے اس زمین سے تم کو پیدا کیا ہے اور پھر مرجانے کے بعد اس میں تم کو لوٹاتے ہیں اور پھر اسی سے تمہیں دوبارہ نکال لیں گے ، گویا جو جتنی زیادہ نگرانی اور اہتمام سے بنائی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ قیمتی استعمال اور اہم مقصد بھی رکھتی ہے اور بہتر صناع وہی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
The composition of every human being contains, together with the seed, the earth of the place when he will be buried
The words مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (From this We created you) in verse 55 means that Allah created you from the earth. This verse is addressed to all mankind although it is known that man is created from seed and not from earth, except Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) who was created directly from earth. One possible explanation for this is that since Sayyidna 'Adam علیہ السلامٍ is the father of all mankind and was himself created from earth, therefore all his descendants have been…
Read the full tafseer →28. That is, every man has to pass through three stages: (1) From birth to death. (2) From death to Resurrection, and (3) From the Day of Resurrection to Eternity. According to this verse, all the three stages will take place on this earth.
Read the full tafseer →