Taa-Haa 20:54

Taa-Haa · from ayah 54

20:54

كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰی ۟۠كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الـنُّهٰى

کہ (خود بھی) کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی چراؤ۔ بےشک ان (باتوں) میں عقل والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Eat [therefrom] and pasture your livestock. Indeed, in that are signs for those of intelligence.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:54

کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چَراؤ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ (خود بھی) کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی چراؤ۔ بےشک ان (باتوں) میں عقل والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم خود کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراؤ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

خود بھی کھاؤ، اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ، یقینا ان سب باتوں میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چَراؤ بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے نشانیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو چراؤ، بیشک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ اس (طریق کار) میں اہل عقل کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو۔ اس کے اندر اہل عقل کے لئے نشانیاں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور پیداواریں) (اور تمہیں اجازت و آزادی بخشی کہ قانون اور ضابطے کے اندر رہتے ہوئے ان سے) تم خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ، یقینا اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

کھاؤ اور اپنے مویشوں کو چراؤ بیشک اس (سارے نظام) میں دلیلیں موجود ہیں اہل عقل کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کھاؤ تم خود بھی اور چراؤ اپنے مویشیوں کو بھی۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ خود بھی کھائو اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو، بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So eat yourself and pasture your cattle. Surely there are many Signs in this for people of understanding.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Eat, and graze your cattle. Surely, in that there are signs for the people of understanding.

— Muhammad Taqi Usmani

Eat, and graze your cattle. Surely, in that there are signs for the people of understanding.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Eat and pasture your cattle; verily, in this are Ayat for men of understanding.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): Eat ye and feed your cattle. Lo! herein verily are portents for men of thought.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Eat [therefrom] and pasture your livestock. Indeed, in that are signs for those of intelligence.

— Saheeh International

Consume them as food or for grazing your cattle. In this there is evidence (of the existence of God) for the people of reason".

— Muhammad Sarwar

Eat and pasture your cattle; most surely there are signs in this for those endowed with understanding.

— Muhammad Habib Shakir

Eat and pasture your cattle: verily therein are signs for men of sagacity.

— Abdul Majid Daryabadi

Eat (for yourselves) and pasture your cattle: verily, in this are Signs for men endued with understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–56

اللہ رب العزت کا تعارف۔ موسیٰ ؑ فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش بنایا ہے۔ مھدا کی دوسری قرأت مھادا ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنادیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لئے راہیں بنادی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں باغات میوے قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھالو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 27 یعنی جو لوگ عقل سلیم سے کام لے کر جستجوئے حق کرنا چاہتے ہوں وہ ان نشانات کی مدد سے منزل حقیقت تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرسکتے ہیں۔ یہ نشانات ان کو بتادیں گے کہ اس کائنات کا ایک رب ہے اور ربوبیت ساری کی ساری اسی کی ہے۔ کسی دوسرے رب کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اسی لئے اس کے آخر میں فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى، یعنی اس میں بہت سی نشانیاں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ہیں عقل والوں کے لئے۔ نہٰی نُہیَتٌہ کی جمع ہے نہیتہ عقل کو اس لئے کہا جاتا کہ وہ انسان کو برے اور مضر کاموں سے روکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 53–56

آیت 56-53 ایک تضمین قرینہ دلیل ہے کہ یہ چار آیتیں حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بطور تضمین، براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام صرف ماضی کی ایک حکایت نہیں رہتا بلکہ وہ حال پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعوکن کو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی بات ملا کر قریش کے فراعنہ کو بھی سنا دی کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ تمہاری بھی حکایت ہے۔ تم بھی سن لو کہ کون تمہارا رب ہے اور کون تمہاری عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار ہے۔ ”الذی جعل لکم الارض مھداً وسلک لکم فیھا سبلاً و انزل من السمآء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 53–54

54۔ 1 یعنی بیشمار اقسام کی پیداوار میں کچھ چیزیں تمہاری خوراک اور لذت اور راحت کا سامان ہیں اور کچھ تمہارے چوپاؤں اور جانوروں کے لئے ہیں۔ 54۔ 2 اُولُو النُّھَیٰ عقل والے۔ عقل کو نُھْبَۃ اور عقلمند کو ذُوْ نُھْیَۃٍ ، اس لئے کہا جاتا ہے کہ بالآخر انہی کی رائے پر معاملہ انتہا پذیر ہوتا ہے، یا اس لئے کہ یہ نفس کو گناہوں سے روکتے ہیں (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–58

21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 53–54

الذی ……النھی (35) تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی عمدہ غذائیں تم کھاتے ہو، جو تمہارے کام کی نہیں وہ اپنے مویشیوں کو کھلاتے ہو جن کی محنت سے ساری پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ 5 یہ فرمایا ہے دہریوں کی آنکھ کھولنے کو یعنی اس کی تدبیریں اور قدرتیں دیکھو۔ اگر عقل ہے تو سمجھ لو گے کہ یہ مضبوط و محکم انتظامات یوں ہی بخت و اتفاق سے قائم نہیں ہوسکتے۔ گویا ان آیات میں وجود باری اور توحید کی طرف توجہ دلائی۔ آگے معاد کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 52–57

آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ” میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 تمام مخلوق کی روزی کا بندوبست :۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام جاندار مخلوق کی روزی کا خواہ وہ انسان ہوں یا حیوانات ہوں ایسا مستقل اور مستحکم نظام پیدا کردیا ہے جس سے تمام مخلوق کو روزی مہیا ہوتی رہتی ہے۔ اگر بارش کا دیوتا کوئی اور ہوتا اور نباتات کا کوئی دوسرا تو ان میں ہمیشہ کی مطابقت محال تھی۔ اور کچھ عرصہ بعد تمام مخلوق بھوک سے ہی مرجاتی۔ اللہ کا یہ نظام پیداوار اور اس پیداوار کے عوامل، یعنی سورج کی حرارت، ہواؤں کا چلنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، موزوں موسم میں بارش کا نزول پھر اس سے زمین کا لہلہا اٹھنا ان سب باتوں میں ایسی ہم آہنگی ہے جس سے ہر صاحب بصیرت اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ (اس کے کمال ربوبیت کی) مصریوں میں چوپانی، گلہ بانی کا خاصررواج تھا، اور مصری تمدن میں مویشیوں کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی، اس لئے ان سے مخاطبت کرنے میں انعام کا نام لینا عین مقتضائے مقام ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا (آیت) ” اخرجنا “۔ میں اشارہ ہے اس جانب کہ مؤثر حقیقی حق تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن (آیت) ” بہ “۔ سے اثبات توسط اسباب کا بھی ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–54

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلوا وارعوا انعامکم اور تم کو اجازت دی کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔ اَزْوَاجًا قسم قسم کی ‘ طرح طرح کی اصناف۔ مَآءًسے مراد بارش۔ شَتّٰیکا واحد شَتِیْتٌ ہے جیسے مرضی مریض کی جمع ہے۔ شتی یعنی مختلف اور متفرق صورتوں اور خواص و احوال والی جن کے منافع بھی مختلف ہیں کوئی انسان کے لئے مناسب ہے کوئی چوپایوں اور چرندوں کے لئے اَرْعَوْا رَعٰیسے بنا ہے رعی لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی (چرو اور چراؤ) عرب بولتے ہیں رَعَیتُ الْقَوْمَمیں نے قوم کی حفاظت اور نگہداشت کی۔ فَرَاعَتْ پس وہ محفوظ ہوگئی۔ اس جگہ جانوروں کو چرانے کا مفہوم ہے اور امر کا صیغہ اباحت کے لئے ہے یعنی کھانا اور جانوروں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) جن کو اللہ کی اجازت سے تم خود بھی کھاتے ہو اور اپنے مویشی بھی چراتے ہو ان مذکورہ چیزوں میں عقل مندوں کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 53–54

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا۔۔ : یہ دونوں آیات موسیٰ ؑ کا کلام بھی ہوسکتی ہیں، جسے نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے زمین سے مختلف نباتات نکالنے کا ذکر آنے پر اپنے لیے غائب کے صیغوں کے بعد جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرما دیا، یعنی ”فَاَخْرَجْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا“ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ ؑ کا کلام ”وَلَایَنْسیٰ“ پر ختم ہوگیا ہو اور ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مقام کی مناسبت سے اپنی مزید نعمتیں بیان فرمائی ہوں۔ اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا اور ”فَاَخْرَجْنَا“ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا۔ ان دو آیات میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–55

(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 53–54

1:۔ ابن مندر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاخرجنا بہ ازواجا “ کے بارے میں فرمایا کہ ازواجا سے مراد ہے اصتافا “ زمین کی نباتات میں سے ہر قسم مختلف ہے کھجور ایک قسم ہے اور انگور ایک قسم ہے اور ہر وہ چیز جس کو زمین اگاتی ہے ہو مختلف قسمیں ہیں۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من نبات شتی “ سے مراد ہے مختلف (اقسام کی سرسبزی) (آیت) ” لاولی النھی “ یعنی تقوی والوں کے لئے۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے دانش مند اور عقل والے۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [وَارْعَوْا : اور چرائو ] [انعامکُمْ : اپنے مویشیوں کو ] [ان : بیشک ] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِاُولِي النُّهٰى: عقل والوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(کُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ) ان نباتات میں سے کھاؤ اور اپنے جانوروں کو چراؤ۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّھٰی) بلاشبہ ان میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔ نھی نھیۃ کی جمع ہے جو عقل کے معنی میں آتا ہے عقل کو نھی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ برائیوں سے روکتی ہے معلوم ہوا کہ جو عقل برائیوں سے نہ روکے وہ عقل نہیں ہے اگرچہ لوگ اسے عقل سمجھتے ہوں۔ خود لفظ عقل بھی اس معنی پر دلالت ہے عقل لغت میں باندھنے کو کہا جاتا ہے اور عقل صاحب عقل کو باندھ کر رکھتی ہے۔ برائیوں سے باز رکھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 53–54

32:۔ یہ ادخال الٰہی ہے اور ماقبل کے لیے تنویر ہے۔ ” کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ “ یہ سارے انعامات اور یہ زمین کی نباتات سب تمہارے استعمال کے لیے ہے۔ خود کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو کھلاؤ۔ ” النُّهی “ نھیۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی عقل کے ہیں۔ یعنی جن لوگوں میں عقل و ہوش کا کچھ مادہ موجود ہے۔ مذکورہ بالا امور میں اللہ کی وحدانیت پر ان کے لیے کھلے دلائل موجود ہیں ان میں غور و فکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا یقین کامل حاصل ہوجاتا ہے۔ ای لایات کثیرۃ جلیلۃ واضحۃ الدلالۃ علی شئون اللہ تعالیٰ فی ذاتہ و صفاتہ (روح ج 16 ص 207) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–55

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ۝ 0ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّہٰى۝ 54ۧ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ رعی الرَّعْيُ في الأصل : حفظ الحیوان، إمّا بغذائه الحافظ لحیاته، وإمّا بذبّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–57

1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ سَلَکَ لَکُمْ فِیْھَا سُبُلاً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً ط فَاَخْرَجْنَا بِہٖ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبـَاتٍ شَتّٰی۔ کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی النُّھٰی۔ (طٰـہٰ : 53، 54) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے نکالے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس سے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کردیں۔ کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو، اس کے اندر اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔ ) پروردگار کی جانب سے چند توضیحی ہدایات اندازِکلام سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی صفات کا مزید تذکرہ۔ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو کا ایک حصہ بیان کرنے کے بعد یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بہترین اسلوب بیان اور کلام کے موقع محل کے مطابق اپنی توحید کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو سمجھایا ہے کہ اے انسان اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ پھر اس میں آمد و رفت کے لیے تمہارے لیے راستے بنائے۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور پھر اس بارش کے ساتھ مختلف قسم کے نباتات پیدا کرتا ہے۔ ان کو اگانے کا مقصد یہ ہے کہ خود کھاؤ اور اپنے جانوروں کو کھلاؤ۔ اگر تم عقل سے کام لو تو ان میں تمہارے لیے اپنے رب کو پہچاننے کے بہت سے دلائل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ (تم کھائو اور اپنے چوپایوں کو کھلائو) نحو : یہ اخرجنا کی ضمیر سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے مختلف اقسام کی نبات نکالیں اس حال میں کہ ان سے انتفاع کی اجازت دی۔ بعض کا خود کھانا مباح کیا اور دیگر کا اپنے جانوروں کو کھلانا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جس کا میں نے تذکرہ کیا لَاٰیٰتٍ (البتہ نشانات) ہیں یعنی دلالتیں ہیں۔ لِّاُولِی النُّہٰی (عقل مندوں کیلئے) النھی جمع ہے اور اس کا واحد نُھْیَۃ ہے نمبر 1۔ اس کو اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ ممنوعات سے روکتی ہے نمبر 2۔ معاملات میں اسی کی طرف انتہاء ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔ کلو وارعوا، ، چراؤ اس میں، انعامکم، اپنے چوپایوں کو جیسا کہ عرب کا قول ہے ، رعیت القوم، میں نے قوم کی حفاظت اور نگہداشت کی ، فراعت پس وہ محفوظ ہوگئی۔ یعنی اس میں تم اپنے جانوروں کو چراؤ۔ ” ان فی ذالک ، ، جو ہم نے ذکر کیا، لایات لاولی النھی، اس سے مراد ذوی العقول ہیں اس کی واحد ، نھیہ، ہے ، عقل کو نھیہ اس لیے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ بھی انسان کو بری اور ضرور رساں اور غلط باتوں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو، نھیہ، کہتے ہیں ضحاک کا قول ہے کہ ، اولی النھی، ا کو کہتے ہیں کہ جو اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے روکتے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے تقوی والے لوگ مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–56

53۔ 56:۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ کا ذکر کیا تھا اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مینہ سے طرح طرح کا اناج انسان کے کھانے کے لیے اور طرح طرح کا چارہ انسان کے چوپایوں کے لیے ہر سال پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا اے بنی آدم اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود کھاؤ اور چارا اپنے چوپاؤں کو چراؤ اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح اب ایک مینہ کے اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–55

آیت 50 یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔ (ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–54

46 توحید خداوندی کے بعض ارضی اور سماوی دلائل کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو تمہارے لیے ایک عظیم الشان بچھونا بنادیا اور اس میں اس نے تمہارے لیے طرح طرح کے راستے بنائے "۔ مختلف پہاڑی سلسلوں، دروں اور ندیوں نالوں وغیرہ کی ایسی مستحکم حد بندیوں کے ذریعے جو کسی انسان اور حکومت بلکہ تمام انسانوں اور حکومتوں کے بس میں بھی نہیں۔ سو یہ بھی عظیم الشان مظہر ہیں قدرت و عنایت خداوندی کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ وبحمدہ جل و علا ۔ سو اسی سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری ظاہری اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ایسے عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–59

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–54

ف 5 ان نشانیوں پر غور کر کے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کائنات میں جو انتظامات پائے جاتے ہیں وہ کسی ایسی ہی ذات کی تخلیق کا نتیجہ ہوسکتے ہیں جو اپنی ذات اور صفات و اختیارات میں تنہا ہے نہ کہ کسی ات فاقی حادثہ کا بےہنگم نتیجہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:54) ارعوا۔ تم چرائو۔ رعی مصدر (باب فتح) سے افعل امر جمع مذکر حاضر۔ کا صیغہ ہے رعی کے اصل معنی ہیں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کرنے کے ہیں خواہ غذا کے ذریعہ سے ہو جو اس کی زندگی کی حفاظت ہے۔ خواہ اس سے دشمن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو۔ رعیتہ میں نے اس کی نگرانی کی اور ارعیتہ میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ رعی چارہ یا گھاس۔ راعی۔ چرانے والا۔ نگہبان۔ ارعوا۔ (اپنے چارپائوں کو) چرائو۔ انعامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنے مویشی ۔ نعم کی جمع۔ جس کے اصل معنی تو اونٹ کے ہیں۔ مگر بھیڑ بکری۔ گائے، بھینس پر بھی بولا جاتا ہے لیکن ان کو انعام اس وقت تک نہیں کہیں گے جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہوں۔ النھی۔ جمع ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–56

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56 ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

پھر فرمایا ” اے بنی آدم ! اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود بھی کھاؤ، اور چوپایوں کو چراؤ، اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لئے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح ایک مینہ اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا۔ اور جس طرح اب خلاف عقل پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ کا بچہ کا پتلا تیار ہو کر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، اسی طرح اس دن ہر مردہ شخص کی مٹی سے جو پتلا تیار ہوگا اس میں روح پھونک دی جاوے گی۔ سورة ق میں آوے گا کہ مرنے کے بعد جنگل دریا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[17] یعنی عقل ہے تو سمجھ لو گے کہ یہ مضبوط اور محکم انتظامات محض اتفاق سے قائم نہیں ہوگئے گویا ان آیات میں وجود باری تعالیٰ اور توحید کی طرف توجہ دلائی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–58

(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-54 اور تم کو اجازت دی کہ اس نباتات میں سے خود بھی کھائو اور اپنے چوپایوں کو بھی چرائو بلاشبہ اہل عقل کے لئے ان امور میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ایسی عام صفات بیان فرمائیں جسے ہر عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے ۔ زمین کو فرش بنایا جس پر رہتے ہو ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کے لئے راستے بنائے آسمان سے پانی برسنے کو بھی ہر شخص دیکھتا ہے اور اس پر پانی کے فوائد بھی واقف ہے۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اس پانی سے ہم نے مختلف قسم کی نباتات پیدا فرمائیں جس کا عام مشاہدہ سب کرتے ہیں پھر اس پیداوار کے متعلق اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو تمہارے مناسب ہو تم کھائو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں مزید وسعت پیدا کرتے ہوئے فرمایا : 54۔ اللہ نے تمہاری خوراک کا بندوبست کیا ‘ تمہارے مویشیوں کی پرورش کا انتظام فرمایا تو کیا اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں موجود نہیں ہیں ‘ اے فرعون ! اور اے فرعون کے اعوان وانصار ! وہ اللہ ہی تو ہے جو ” دانے اور گٹھلی کو شق کرتا ہے ‘ وہ زندہ کو مردہ چیز سے نکالتا ہے اور وہ مردہ کو زندہ اشیاء سے نکالنے والا ہے ، ہاں ! وہی تمہارا خدا ہے پھر تم اس سے روگردانی کرکے کدھر کو بہکے چلے جا رہو ؟ ہاں ! ہاں وہی صبح کی روشنی کو نمودار کرنے والا ہے ، وہی ہے جس نے رات کو راحت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے اور وہی ہے کہ سورج اور چاند…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The next verse (54) says إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُولِي النُّهَىٰ (Surely, in that there are signs for the people of understanding. (20:54). The word النُّهَىٰ is the plural of نُھیَۃ (nuhyah) which is used in the same sense as عققل (aql: Intelligence) because it enables wise and intelligent persons to avoid harmful acts.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27. That is, those who use their common sense in their search for the truth, find a way to the reality by the help of these signs, which clearly show that the universe has One Lord Who alone is sustaining it, and there is no room here for any other lord.

Read the full tafseer →