Explained with ayahs 53–56
اللہ رب العزت کا تعارف۔
موسیٰ ؑ فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش بنایا ہے۔ مھدا کی دوسری قرأت مھادا ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنادیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لئے راہیں بنادی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں باغات میوے قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھالو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 26
انداز کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا جواب " نہ بھولتا ہے " پر ختم ہوگیا، اور یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور شرح و تذکیر ارشاد ہوئی ہے۔ قرآن میں اس طرح کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ کسی گزرے ہوئے یا آئندہ پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتے ہوئے جب کسی شخص کا کوئی قول نقل کیا جاتا ہے، تو اس کے بعد متصلاً چند فقرے وعظ و بند، یا شرح و تفسیر، یا تفصیل و توضیح کے طور پر مزید ارشاد فرمائے جاتے ہیں اور صرف انداز کلام سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ اس شخص کا قول نہیں ہے جس کا پہلے ذکر ہو رہا تھا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے۔
واضح رہے کہ اس عبارت…
Read the full tafseer →اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى، ازواج بمعنے انواع و اصناف ہے اور شتی شتیت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں متفرق۔ مراد یہ ہے کہ نباتات کی اتنی بیشمار قسمیں پیدا فرمائیں کہ ان کی قسموں کا احاطہ بھی انسان نہیں کرسکتا۔ پھر ہر نبات جڑی، بوٹی، پھول، پھل، درخت کی چھال میں اللہ تعالیٰ نے ایسی ایسی خاصیتیں رکھی ہیں کہ علم طب اور ڈاکٹری کے ماہرین حیران ہیں اور ہزاروں سال سے اس کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے متعلق جو کچھ لکھ دیا گیا ہے وہ حرف آخر ہے اور یہ ساری نباتات کی مختلف قسمیں انسان اور اس کے پالتو جانوروں اور جنگلی جانوروں کی غذا یا دوا ہوتی ہیں، ان کی لکڑی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
آیت 56-53
ایک تضمین
قرینہ دلیل ہے کہ یہ چار آیتیں حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بطور تضمین، براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام صرف ماضی کی ایک حکایت نہیں رہتا بلکہ وہ حال پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعوکن کو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی بات ملا کر قریش کے فراعنہ کو بھی سنا دی کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ تمہاری بھی حکایت ہے۔ تم بھی سن لو کہ کون تمہارا رب ہے اور کون تمہاری عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار ہے۔
”الذی جعل لکم الارض مھداً وسلک لکم فیھا سبلاً و انزل من السمآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
54۔ 1 یعنی بیشمار اقسام کی پیداوار میں کچھ چیزیں تمہاری خوراک اور لذت اور راحت کا سامان ہیں اور کچھ تمہارے چوپاؤں اور جانوروں کے لئے ہیں۔
54۔ 2 اُولُو النُّھَیٰ عقل والے۔ عقل کو نُھْبَۃ اور عقلمند کو ذُوْ نُھْیَۃٍ ، اس لئے کہا جاتا ہے کہ بالآخر انہی کی رائے پر معاملہ انتہا پذیر ہوتا ہے، یا اس لئے کہ یہ نفس کو گناہوں سے روکتے ہیں (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
الذی ……النھی (35)
تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں…
Read the full tafseer →2 یعنی وادیوں دریاؤں اور پہاڑوں کے بیچ میں سے زمین پر راہیں نکال دیں جن پر چل کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ سکتے ہو۔
3 یعنی پانی کے ذریعہ سے طرح طرح کی سبزیاں، غلے اور پھل پھول پیدا کردیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”
میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
34 اگر فرعون کے اس سوال کا جواب موسیٰ (علیہ السلام) یوں دیتے کہ وہ سب کے سب گمراہ تھے اور انھیں دوزخ کا عذاب ہوگا۔ تو اگرچہ یہ جواب صحیح تھا مگر فرعون کے سارے درباری غصہ سے بھڑک اٹھتے اور فورا ً ان دونوں کے خلاف متحد ہوجاتے اور فرعون اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب ایسا حکیمانہ دیا جو مبنی درحقیقت بھی تھا اور کسی کے تعصبانہ جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچی تھی۔ آپ نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے حالات جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں وہ جانیں اور ان کا پروردگار جانے۔ ہمیں صرف اپنی فکر کرنا چاہئے۔ کہ ہم کون سا طرز زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہمارا انجام کیسا…
Read the full tafseer →54۔ (جس پر تم آرام واستراحت کرتے ہو) خطاب اب موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کے مکالمہ سے الگ۔ براہ راست رب العالمین کانوع انسان سے ہے، اور یہ طرز بلاغت قرآنی کے خصوصیات میں سے ہے۔
55۔ (جن پر تم چلو پھرو) یعنی زمین پر تمہیں پیدا ہی نہیں کیا بلکہ تمہارے لئے ہر قسم کے سامان آسائش بھی مہیا کردیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →الذی جعل لکم الارض مہدا و سلک لکم فیہا سبلا وہ رب ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لئے
زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا اور اس (زمین) میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے۔
سلوک راستہ میں چلنا۔ لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلاً فِجَاجًا۔ قاموس میں ہے سَلَکَ الْمَکَانَ سُلُوْکًاوہ اس جگہ چلا۔ سَلَکَہٗ غَیْرُہٗکسی دوسرے نے اس کو چلایا ‘ اوّل مثال لازم کی ہے اور دوسری متعدی کی۔ آیت میں متعدی استعمال کیا گیا ہے سُبُلاً گو ظرف ہے لیکن مفعول بہ کے طور پر مجازاً اسعمال کیا گیا ہے جس طرح مجازاً بہنے کی نسبت نہر (شگاف ‘ گڑھا ‘ خندق) کی طرف کردی جاتی ہے مثلاً کہتے ہیں نہر…
Read the full tafseer →(53) اور وہ ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہاری آمد و رفت کے لیے راستے بنائے کہ تم ان پر سے آتے جاتے رہتے ہو اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے سے مختلف شکلوں کے نباتات پیدا کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا۔۔ : یہ دونوں آیات موسیٰ ؑ کا کلام بھی ہوسکتی ہیں، جسے نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے زمین سے مختلف نباتات نکالنے کا ذکر آنے پر اپنے لیے غائب کے صیغوں کے بعد جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرما دیا، یعنی ”فَاَخْرَجْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا“ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ ؑ کا کلام ”وَلَایَنْسیٰ“ پر ختم ہوگیا ہو اور ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مقام کی مناسبت سے اپنی مزید نعمتیں بیان فرمائی ہوں۔ اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا اور ”فَاَخْرَجْنَا“ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا۔
ان دو آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1:۔ ابن مندر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاخرجنا بہ ازواجا “ کے بارے میں فرمایا کہ ازواجا سے مراد ہے اصتافا “ زمین کی نباتات میں سے ہر قسم مختلف ہے کھجور ایک قسم ہے اور انگور ایک قسم ہے اور ہر وہ چیز جس کو زمین اگاتی ہے ہو مختلف قسمیں ہیں۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من نبات شتی “ سے مراد ہے مختلف (اقسام کی سرسبزی) (آیت) ” لاولی النھی “ یعنی تقوی والوں کے لئے۔
3:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے دانش مند اور عقل والے۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاولی النھی “ سے مراد ہے…
Read the full tafseer →[الَّذِي : وہ، وہ ہے جس نے ] [جَعَلَ : بنایا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [مَهْدًا : ایک بچھونا ] [وَّسَلَكَ : اور اس نے ڈالے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [فِيْهَا : اس میں ] [سُبُلًا : کچھ راستے ] [وَّ انزَلَ : اور اس نے اتارا ] [مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَاَخْرَجْنَا (رح) : پھر ہم نے نکالے ] [بِهٖٓ: اس سے ] [اَزْوَاجًا : کچھ جوڑے ] [مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى: متفرق سبزوں میں سے ]
ش ت ت
[شَتًّا : (ض) ] پراگندہ ہونا۔ متفرق ہونا۔
شَتٌّ ج اَشْتَاتٌ۔ پراگندہ۔ الگ الگ۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا (تم لوگوں پر کوئی گرفت…
Read the full tafseer →(فَاَخْرَجْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰی) موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان ختم ہوا ان کی بات وہیں تک تھی کہ میرے رب نے آسمان سے پانی اتارا پھر اللہ تعالیٰ نے مزید اپنا انعام بیان فرمایا کہ اس پانی کے ذریعہ ہم نے مختلف قسم کے نباتات پیدا کردیئے جن کے رنگ اور مزے اور منافع مختلف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
32:۔ یہ ادخال الٰہی ہے اور ماقبل کے لیے تنویر ہے۔ ” کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ “ یہ سارے انعامات اور یہ زمین کی نباتات سب تمہارے استعمال کے لیے ہے۔ خود کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو کھلاؤ۔ ” النُّهی “ نھیۃ کی جمع ہے۔ جس کے معنی عقل کے ہیں۔ یعنی جن لوگوں میں عقل و ہوش کا کچھ مادہ موجود ہے۔ مذکورہ بالا امور میں اللہ کی وحدانیت پر ان کے لیے کھلے دلائل موجود ہیں ان میں غور و فکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا یقین کامل حاصل ہوجاتا ہے۔ ای لایات کثیرۃ جلیلۃ واضحۃ الدلالۃ علی شئون اللہ تعالیٰ فی ذاتہ و صفاتہ (روح ج 16 ص 207) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…
Read the full tafseer →الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّسَلَكَ لَكُمْ فِيْہَا سُـبُلًا وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً 0ۭ فَاَخْرَجْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى 53
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ سَلَکَ لَکُمْ فِیْھَا سُبُلاً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً ط فَاَخْرَجْنَا بِہٖ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبـَاتٍ شَتّٰی۔ کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی النُّھٰی۔ (طٰـہٰ : 53، 54)
(وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے نکالے اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس سے مختلف نباتات کی گوناگوں قسمیں پیدا کردیں۔ کھائو اور اپنے چوپایوں کو چرائو، اس کے اندر اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔ )
پروردگار کی جانب سے چند توضیحی ہدایات
اندازِکلام سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی صفات کا مزید تذکرہ۔
فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو کا ایک حصہ بیان کرنے کے بعد یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بہترین اسلوب بیان اور کلام کے موقع محل کے مطابق اپنی توحید کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو سمجھایا ہے کہ اے انسان اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ پھر اس میں آمد و رفت کے لیے تمہارے لیے راستے بنائے۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور پھر اس بارش کے ساتھ مختلف قسم کے نباتات پیدا کرتا ہے۔ ان کو اگانے کا مقصد یہ ہے کہ خود کھاؤ اور اپنے جانوروں کو کھلاؤ۔ اگر تم عقل سے کام لو تو ان میں تمہارے لیے اپنے رب کو پہچاننے کے بہت سے دلائل…
Read the full tafseer →53: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا ( وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش کی طرح بنایا)
نحو : رَبِّی کی صفت ہونے کی وجہ سے اَلَّذِیْ مرفوع ہے۔ نمبر 2۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔
قراءت : کوفی وغیرہ نے مھدًا کو مِھَادًا پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں۔ بچھو نے اور بچھانے کی چیز کیلئے بولتے ہیں۔ وَّ سَلَکَ (اور اس نے چلائے) یعنی بنائے۔ لَکُمْ فِیْھَا سُبُـلًا (تمہارے لئے راستے) وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور اس نے آسمان سے بارش اتاری) فَاَخْرَجْنَا بِہٖٓ (پس اس پانی سے ہم نے نکالا) ہٗ کی ضمیر پانی کی طرف لوٹتی ہے۔ کلام میں تفنن پیدا کرنے کیلئے غیبت سے…
Read the full tafseer →53۔ الذی جعل الکم الارض مھدا، ، قراء اہل کوفہ نے مھدا نقل کیا ہے اور سو رہ زخرف میں مصدر ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد فرش ہے اور دوسرے قراء نے ، مھادا پڑھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، الم نجعل الارض مھادا، اس کو بچھونا بنایا، یہ اس بچھونے کا نام ہے جیسے باسط اس کا نام ہے جس کو بچھایا جاتا ہے۔
” وسلک لکم فیھا سبلا، ، سلک کہتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز میں داخل کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین میں راستے داخل کردیے تاکہ تم ان پر چلو۔ ابن عباس کا قول ہے کہ تمہارے لیے راستہ ہے اس پر تم چلو، وانزل من السماء مائ، بارش نازل فرمائی ، بعض مفسرین کا بیان ہے کہ ، ماء ، تک حضرت موسیٰ کا کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56:۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ کا ذکر کیا تھا اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مینہ سے طرح طرح کا اناج انسان کے کھانے کے لیے اور طرح طرح کا چارہ انسان کے چوپایوں کے لیے ہر سال پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا اے بنی آدم اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود کھاؤ اور چارا اپنے چوپاؤں کو چراؤ اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح اب ایک مینہ کے اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
آیت 50
یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔
(ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
46 توحید خداوندی کے بعض ارضی اور سماوی دلائل کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو تمہارے لیے ایک عظیم الشان بچھونا بنادیا اور اس میں اس نے تمہارے لیے طرح طرح کے راستے بنائے "۔ مختلف پہاڑی سلسلوں، دروں اور ندیوں نالوں وغیرہ کی ایسی مستحکم حد بندیوں کے ذریعے جو کسی انسان اور حکومت بلکہ تمام انسانوں اور حکومتوں کے بس میں بھی نہیں۔ سو یہ بھی عظیم الشان مظہر ہیں قدرت و عنایت خداوندی کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ وبحمدہ جل و علا ۔ سو اسی سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری ظاہری اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ایسے عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 5 ان نشانیوں پر غور کر کے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کائنات میں جو انتظامات پائے جاتے ہیں وہ کسی ایسی ہی ذات کی تخلیق کا نتیجہ ہوسکتے ہیں جو اپنی ذات اور صفات و اختیارات میں تنہا ہے نہ کہ کسی ات فاقی حادثہ کا بےہنگم نتیجہ۔
Read the full tafseer →(20:53) مھدا۔ فرش۔ بچھونا۔ سلک (باب نصر) سلک و سلوک۔ مصدر۔ ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ۔ یہ لازم ومتعدی ہر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ وہ راستہ پر چلا۔ اس نے راستہ پر چلایا، پہلے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے لتسلکوا منھا سبلا فجاجا (71:20) تا کہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں پر چلوپھرو۔ اور دوسرے معنی میں یعنی متعدی کے متعلق ارشاد الٰہی ہے :۔
ما سلککم فی سقر (74:42) تمہیں کون سی بات دوزخ میں لے آئی۔ آیت ہذا۔ سلک لکم فیھا سبلا۔ ای ادخل فی الارض لاجلکم طرقا۔ اور تمہارے لئے زمین میں راستے جاری کر دئیے۔
فاخرجنا بہ۔ پھر ہم نے اس کے (پانی کے) ذریعے (شکم زمین سے) پیدا کئے ۔ اس میں فاء سببیہ نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[16] یہاں سے آیت 55 تک اللہ تعالیٰ کا خطاب براہ راست بنی نوع انسان سے ہے اور یہ طرز بلاغت قرآنی کی خصوصیات میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-53 وہ پروردگار وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے اور راہیں جاری کیں اور آسمان کی جانب سے پانی نازل فرمایا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعہ مختلف انواع و اقسام کی نباتات اگائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 2۔ کہ اس پر آرام کرتے ہو۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید وضاحت کردی :
53۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب میں مزید وسعت فرمائی اور ربوبیت کے پہلو سے اس کی وضاحت فرما دی کہ ” وہ پروردگار جس نے تمہارے لئے زمین بچھونے کی طرح بچھا دی اور نقل و حرکت کے لئے اس میں راہیں نکال دیں ‘ آسمان سے پانی برسایا ‘ اس کی آب پاشی سے ہر طرح کی نباتات کے جوڑے پیدا کردیئے کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشی بھی چراؤ اس بات میں عقل والوں کے لئے کیسی کھلی نشانیاں ہیں ؟ اس نے اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ‘ اسی میں تم کو لوٹاتا ہے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ تم اٹھائے جاؤ گے ۔ “
اے فرعون ! اے فرعون کے اعوان وانصار ! غور…
Read the full tafseer →The word ازواج (pairs) used in verse 53 is used here in the sense of "Kinds" or "Species", and the word is the plural of the word which means "different" or "diverse". The verse means that Allah has created so many kinds of plants that they are beyond human reckoning and each of them contains special properties which make them invaluable to man for his well-being. It is impossible for man to comprehend completely all the properties and uses of all the plants created by Allah Ta` ala. For centuries scientists have been working to find out all about them and researches have revealed a great…
Read the full tafseer →26. It is quite obvious that (Ayats 53-55)are an addition by Allah to the foregoing answer by Prophet Moses (peace be upon him). There are other instances of this in the Quran that Allah added a few sentences to the speech of someone by way of admonition. Moreover, it is connected not only with the preceding verse but also with the whole reply of Prophet Moses (peace be upon him). (Ayats 50-52).
Read the full tafseer →