Explained with ayahs 49–52
مکالمات موسیٰ ؑ اور فرعون۔
چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا۔ پیغام الٰہی کلیم اللہ کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کردی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 25
یہ ایک نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے جو حضرت موسیٰ نے اس وقت دیا اور اس سے حکمت تبلیغ کا ایک بہترین سبق حاصل ہوتا ہے۔ فرعون کا مقصد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، سامعین کے، اور ان کے توسط سے پوری قوم کے دلوں میں تعصب کی آگ بھڑکانا تھا۔ اگر حضرت موسیٰ کہتے کہ ہاں وہ سب جاہل اور گمراہ تھے اور سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو چاہے یہ حق گوئی کا بڑا زبردست نمونہ ہوتا، مگر یہ جواب حضرت موسیٰ کے بجائے فرعون کے مقصد کی زیادہ خدمت انجام دیتا۔ اس لیے آنجناب نے کمال دانائی کے ساتھ ایسا جواب دیا جو بجائے خود حق بھی تھا، اور ساتھ ساتھ اس نے فرعون کے زہریلے دانت بھی توڑ دیے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى، فرعون نے پچھلی امتوں کے انجام کا سوال کیا تھا اگر اس کے جواب میں موسیٰ ؑ ان کے گمراہ اور جہنمی ہونے کا صاف طور سے اظہار کرتے تو فرعون کو موقع اس طعن کا مل جاتا کہ یہ تو صرف ہمیں ہی نہیں ساری دنیا کو گمراہ جہنمی سمجھتے ہیں اور عوام اس سے شبہ میں پڑجاتے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ایسا حکیمانہ جواب دیا کہ بات بھی پوری آگئی اور فرعون کو بہکانے کا موقع نہ ملا۔ فرمایا کہ ان کا علم میرے رب کے پاس ہے کہ ان کا کیا انجام ہوگا، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔ غلطی کرنے سے مراد یہ ہے کہ کرنا کچھ چاہے ہوجائے کچھ اور…
Read the full tafseer →پروقار جواب اور تذکیر
فرعون کا سوال اگرچہ غیر متعلق بھی تھا اور تحقیر آمیز بھی لیکن حضرت موسیٰ نے نہ صرف جاب پروقار و سنجیدہ دیا بلکہ تذکیر و تنبیہ کا ایک اور نہایت پر حکمت درس بھی اس کو سنا دیا۔ فرمایا کہ ان قوموں کا سارا ریکارڈ میرے رب کے پاس ایک عظیم دفتر میں محفوظ ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ کتاب کی تنکیر یہاں تضخیم شان پر دلیل ہے یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ کوئی ایسی دیسی کتاب ہے بلکہ اس میں ایک ایک جزئیہ قلمبند ہے۔ جب یہ کھلے گی تو سب پکار اٹھیں گے کہ مالھذا الکتب لایفادر صغیرۃ ولاکبیوۃ الا احصھا (عیبل ہے یہ کتاب کہ کوئی چھوٹی یا بڑی بات ایسین ہیں رہ گئی ہے جس کو اس نے محفوظ نہ کرلیا…
Read the full tafseer →52۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں فرمایا، ان کا علم نہ تجھے ہے نہ مجھے۔ البتہ ان کا علم میرے رب کو ہے، جو اس کے پاس کتاب میں موجود ہے وہ اس کے مطابق جزا و سزا دے گا، پھر اس کا علم اس طرح ہر چیز کو محیط ہے کہ اس کی نظر سے کوئی چھوٹی بڑی چیز اوجھل نہیں ہوسکتی، نہ اسے بھول ہی لا حق ہوسکتی ہے۔ جب کہ مخلوق کے علم میں دونوں نقص موجود ہیں۔ ایک تو ان کا علم محیط کل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ دوسرے، علم کے بعد وہ بھول بھی سکتے ہیں، میرا رب ان دونوں نقصوں سے پاک ہے۔ آگے، رب کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…
Read the full tafseer →قال علمھا ……ینسی (25)
فرعون کے اس دوسرے سوال کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اس کا تعلق زمانہ ماقبل سے تھا۔ جو اب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کبھی بھولتا بھی نہیں۔ وہی ہے جو تمام زمانوں کی بات جانتا ہے ، ماضی ہو یا مستقبل ہو ، غیب بھی اللہ جانتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں احکام بھی اللہ صادر کرے گا۔
ان سوالات کے جوابات کے بعد حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا مزید تعارف کراتے ہیں کہ وہ اس کائنات کا مدبر ہے ، تمام انسانوں پر اس کی نعمتیں کیا کیا ہیں ، چناچہ کائنات اور مصری ماحول کے بعض اہم شواہد پیش کئے جاتے ہیں ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
1 یعنی اگر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسی روشن دلیلیں قائم ہوچکی ہیں اور جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو، وہ حق ہے تو گذشتہ اقوام کے تفصیلی حالات تم کو ضرور معلوم ہونے چائیں یہ سب لایعنی اور دور ازکار قصے فرعون نے اس لیے چھیڑے کہ حضرت موسیٰ کے مضامین ہدایت کو ان فضول باتوں میں رلا دے۔ حضرت موسیٰ نے فرما دیا کہ پیغمبر کو تمام چیزوں کا تفصیلی علم ہونا ضروری نہیں، ہر قوم کے حالات کا تفصیلی علم حق تعالیٰ کو ہے جو بعض مخفی مصالح کی بناء پر کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت بھی کردیا گیا۔ اللہ کے علم سے نہ کوئی چیز ابتداء غائب ہوسکتی ہے اور نہ علم میں آئی ہوئی چیز کو ایک سیکنڈ کے لیے بھول سکتا ہے۔ جو اعمال کسی قوم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”
میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
34 اگر فرعون کے اس سوال کا جواب موسیٰ (علیہ السلام) یوں دیتے کہ وہ سب کے سب گمراہ تھے اور انھیں دوزخ کا عذاب ہوگا۔ تو اگرچہ یہ جواب صحیح تھا مگر فرعون کے سارے درباری غصہ سے بھڑک اٹھتے اور فورا ً ان دونوں کے خلاف متحد ہوجاتے اور فرعون اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب ایسا حکیمانہ دیا جو مبنی درحقیقت بھی تھا اور کسی کے تعصبانہ جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچی تھی۔ آپ نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے حالات جاننے کی ہمیں ضرورت نہیں وہ جانیں اور ان کا پروردگار جانے۔ ہمیں صرف اپنی فکر کرنا چاہئے۔ کہ ہم کون سا طرز زندگی اختیار کرتے ہیں اور ہمارا انجام کیسا…
Read the full tafseer →53۔ (بہ خلاف تمہارے معبودوں کے جن کے لئے غلطیاں کر جانا، سہو ونسیان کا شکار ہوجانا سب ہی کچھ ممکن ہے) حضرت کا جواب بہت بلیغ ہے۔ آپ نے فرمایا، مجھے پچھلوں کے حشر کی کیا خبر ؟ البتہ اتنا یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ بہرحال ان کے ساتھ انصاف ہی ہوا ہوگا، اور میرے علیم وخبیر، ہمہ بین وہمہ دان خدا نے ان کے ساتھ معاملہ وہی کیا ہوگا جس کے مستحق وہ اپنے عمل اور نامہ اعمال کے لحاظ سے ہوں گے۔ وہاں غلطی یا بھول چوک کا کیا امکان !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →قال علمہا عند ربی فی کتب لا یضل ربی ولا ینسی۔ موسیٰ نے کہا ان کا علم میرے رب کے
پاس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے ان کا علم یعنی ان کے اعمال و احوال کا علم۔ کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ۔ ضلال کسی چیز کی جگہ کا فراموش ہوجانا کہ اس کی جگہ نہ مل سکے۔ نسیان نفس چیز کو بالکل بھول جانا کہ اس کا تصور بھی دل میں نہ آئے۔ اللہ کے لئے دونوں ناممکن ہیں اللہ کسی چیز یا اس کی جگہ سے غافل نہیں ہے (اس کو معلوم ہے کہ فلاں فلاں چیز فلاں فلاں جگہ ہے) ۔
بعض علماء نے کہا لا یضل کا معنی یہ ہے کہ نہ کوئی چیز رب سے غائب ہے نہ رب کسی چیز سے غیر حاضر اور لا ینسی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51۔ 52) فرعون نے اس پر حضرت موسیٰ ؑ سے یہ شبہ ظاہر کیا کہ اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا اور کیسے ہلاک کیے گئے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کی ہلاکت کا علم میرے رب کے پاس لوح محفوظ میں ہے میرا رب ایسا ہے کہ نہ غلطی کرتا ہے اور نہ ان کا معاملہ اس سے چوک سکتا ہے اور نہ وہ ان کے معاملہ کو بھول سکتا ہے اور نہ ان کو سزا دینے سے چوک سکتا ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ : یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں۔ وہ اپنے اس رب کے پاس پہنچ گئے جس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے، جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ہونے سے بچا سکتے ہیں ؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے، جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔
فِيْ كِتٰبٍ ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى : چونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر فرمائے، جو ہر ایک کی کتاب تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔
2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [عِلْمُهَا : اس کا علم ] [عِنْدَ رَبِيْ : میرے رب کے پاس ] [فِيْ كِتٰبٍ : ایک کتاب میں ہے ] [لَا يَضِلُّ : نہیں بھٹکتا ] [رَبِيْ : میرا رب ] [وَلَا يَنْسَى: اور نہ وہ بھولتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
اس کے بعد فرعون نے کہا (فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی) اچھا یہ بتاؤ کہ قرون اولیٰ یعنی پرانی امتیں اور گزری ہوئی جماعتیں جو دنیا سے جا چکی ہیں ان کا کیا حال ہے ؟ یعنی ہلاکت اور موت کے بعد ان کا کیا ہوا وہ کس حال میں ہیں ؟ (قَالَ عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍ ) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کتاب میں یعنی لوح محفوظ میں سب کے حالات محفوظ ہیں (لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسٰی) میرا رب نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ سب کے احوال اور اعمال کا اسے علم ہے وہ اپنے علم کے مطابق سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
31:۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مسکت جواب سنا اور لاجواب ہوگیا تو ایک نیا سوال کرڈالا کہ اچھا پہلے لوگوں کا حال بتاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو عالم الغیب ہے میں عالم الغیب نہیں ہوں گذشتہ قرنوں کا علم لوح محفوظ میں ثابت ہے۔ ای مکتوب عند ربی فی اللوح المحفوظ (بحر ج 6 ص 249) اور لوح محفوظ علم الٰہی سے کنایہ ہے۔ یا کتاب سے دفتر مراد ہے اور یہ چیز کے علم الٰہی میں ہونے کی تمثیل ہے وجوز ان یکون المراد بالکت الدفتر کما ھو المعروف فی اللغۃ ویکون ذلک تمثیلا لتمکنہ وتقررہ فی علمہ عز و جل (روح ج 16 ص 185) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…
Read the full tafseer →قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ 0ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى 52ۡ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Read the full tafseer →قَالَ عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِـتٰبٍ ج لاَ یَضِلُّ رَبِّیْ وَلاَ یَنْسَی۔ (طٰـہٰ : 25)
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ پہلی قوموں کا حال میرے رب کے پاس، ایک رجسٹر میں (محفوظ) ہے، نہ میرا رب بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے طنز اور طنزآمیز رویہ پر کوئی ردعمل دکھانے کی بجائے نہایت باوقار انداز میں فرمایا کہ جو لوگ گزر چکے ہیں ان کی زندگیوں کے بارے میں ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کے پاس ایک عظیم دفتر میں محفوظ ہے۔ اور یہ دفتر ایسا ہے جس میں کوئی چھوٹی بڑی بات چھوٹنے نہیں پائی لیکن یہ محض حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔
فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس…
Read the full tafseer →52: قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا۔ ) عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِی کِتَابٍ (انکاعلم میرے رب کے پاس دفتر میں محفوظ ہے) کتابؔ سے لوح محفوظ مراد ہے۔
نحو : عِلْمُھَا مبتدا اور عند ربی خبر ہے اور فی کتاب دوسری خبر ہے۔ آپ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ یہ غیب کے متعلق سوال ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ میں تو اس کا ایک بندہ ہوں۔ مجھے تو اتنا ہی علم ہے جتنا علام الغیوب نے اطلاع دی ہے اور اہل زمانہ سابقہ کے حالات کا علم لوح محفوظ میں درج ہے۔ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ (میرا رب نہ غلطی کرتا ہے) کوئی چیز اسے فراموش نہیں ہوسکتی۔ کہا جاتا ہے ضللت الشیٔ جبکہ اس کی جگہ بھول جائے اور اس جگہ کی طرف راہ…
Read the full tafseer →52۔ قال، ، حضرت موسیٰ نے جواب دیا، علمھاعندربی، ، ان کے اعمال اللہ کے ہاں محفوظ ہیں وہی ان کو بدلہ دے گا، بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے اس کی نسبت اللہ کی طرف اس لیے کی وہ اس کے متعلق نہیں جانتے تھے کیونکہ تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد نازل ہوئی۔
” فی کتاب، ، لوح محفوظ میں، لایضل ربی، ، وہ غلطی کرنے والا نہیں اور بعض نے کہا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ولاینسی، ، وہ ان کے اعمال کو بخوبی جانتا ہے یہاں تک کہ ان کو بدلہ دے گا، اور بعض نے کہا کہ وہ انتقام ضرور لے گا، وہ انتقام لینے سے نہیں بھولا، اور مومن کو اچھا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–55
آیت 50
یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔
(ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →45 ایک نہایت معقول اور پر وقار جواب : سو فرعون کو اس کے لایعنی سوال پر حضرت موسیٰ نے ایک نہایت معقول اور پر وقار جواب دیا۔ سو فرعون نے جو کہا کہ پھر کیا حال ہے اور کیا بنے گا ان قوموں کا جو ـگزر چکی ہیں اس سے پہلے ؟ تو اس کے اس لایعنی اور غیر متعلق سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ " گزشتہ قوموں کے حالات کا علم تو میرے رب کے پاس ایک عظیم الشان کتاب میں موجود ہے "۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ اور لوح محفوظ میں ثبت و مندرج ان علوم کا تعلق غیب سے ہے جس کو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جاسکتا۔ نہ میں نے اس کے جاننے کا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی اس تک کسی کی رسائی ہوسکتی ہے۔ (روح، قرطبی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–59
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ
تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں ہے وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ اس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کیونکر اپنے آپ کو مستحق عذاب ہونے سے بچا سکتے ہیں ؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون اپنے مقصد میں بھی کامیاب نہ ہوسکا۔
Read the full tafseer →(20:52) فی کتب۔ ای فی اللوح۔ یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[15] موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب نہایت بلیغ اور حکیمانہ ہے۔ فرعون کے سوال کا مقصد سامعین اور ان کے توسط سے پوری قوم میں نفرت و تعصب کی آگ بھڑکانا تھا۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) جواب میں کہتے کہ وہ سب گمراہ تھے اور قیامت میں دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو چاہے یہ جواب حق گوئی کا زبردست نمونہ ہوتا مگر اس جواب سے فرعون کو اپنے مقصد میں کامیابی ضرور حاصل ہوجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–58
(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ،
چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…
Read the full tafseer →-52 موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ان سب کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس دفتر میں موجود ہے میرا پروردگار نہ غلطی کرتا ہے اور نہ وہ بھولتا ہے۔ یعنی ان کا تفصیلی علم پیغمبر کو جاننا ضروری نہیں ان سب کے اعمال اور ان اعمال کے انجام کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں یا ان لوگوں کے دفتر حساب میں محفوظ ہے جن کو دنیا میں عذاب کیا گیا اور جن کو عذاب نہیں کیا گیا وہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے والے ہیں اور ان کو ان کے اعمال کے موافق سزا ملنے والی ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں فرعون شاید دہری مزاج تھا آدمیوں کی پیدائش سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ تو اول کسی نے پیدا کیا آپ ہی پیدا ہوگیا نہ آخر باقی رہا…
Read the full tafseer →ف 1۔ پس ان کے اعمال کا صحیح صحیح علم اس کو حاصل ہے، مگر عذاب کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے، جب وہ وقت آوے گا وہ عذاب ان پر جاری کردیا جاوے گا، پس دنیا میں عذاب نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفر و تکذیب علت عذاب کی نہ ہو۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کو فوری جواب پہنچا :
52۔ فرعون ! تو نے کیسا سوال کیا تاہم جواب سن لے کہ ان کا علم میرے اللہ کے پاس محفوظ ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور ہمیں اس کی فکر ہی کیوں ہو ؟ ہمارے جاننے میں تو صرف اتنی بات کافی ہے کہ (آیت) ” لا یضل ربی ولا ینسی “ خدا انسانوں کی طرح نہیں ہے کہ غلطی میں کھویا جائے یا کوئی بات بھول جائے ، اس کا قانون یہ ہے کہ ہر انسان کا جیسا اعتقاد وعمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اسے نتائج بھی ملیں گے پس پچھلوں کا جیسا حال رہا ہوگا ویسا ہی نتیجہ بھی بھگتیں گے ، ہم کو اپنا حال دیکھنا ہے اور اپنے ہی سامنے کی باتوں کا ہم علم رکھتے ہیں ہم اس کاوش میں کیوں پڑیں کہ…
Read the full tafseer →Commentary
Verse 51 tells us that the Pharaoh had asked the question regarding the end of earlier people. If Sayyidna Musa (علیہ السلام) had given a straightforward answer that they were misled and will go to Jahannam, then the Pharaoh would have got a chance to scorn that it was not just him whom Sayyidna Musa (علیہ السلام) was blaming but all their ancestors as well. Naturally such a situation would have created doubts in the minds of people. Therefore Sayyidna Musa (علیہ السلام) gave such an answer which was full of wisdom and did not give any chance to the Pharaoh for misleading the…
Read the full tafseer →25. This answer is full of wisdom. If Prophet Moses (peace be upon him) had said: Yes, they all lacked common sense and had gone astray and would become the fuel of Hell, this answer, though true, would have served the very purpose Pharaoh had in mind in putting the question. But the answer given by the Prophet was true and it frustrated the trick of Pharaoh as well. His answer was to this effect: Well, those people have now gone before their Lord, and I have no means of judging their deeds and intentions. However, their whole record is safe and secure with Allah, and nothing can escape Him.…
Read the full tafseer →