Taa-Haa 20:51

Taa-Haa · from ayah 51

20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی ۟قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى‏

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Pharaoh] said, "Then what is the case of the former generations?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:51

فرعون بولا "اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون بولا : اچھا پھر ان قوموں کا کیا معاملہ ہوا جو پہلے گزر چکی ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(فرعون نے) کہا: تو (ان) پہلی قوموں کا کیا حال ہوا (جو تمہارے رب کو نہیں مانتی تھیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون نے کہا : تو پھر جو نسلیں گزر چکی ہیں وہ کس حال میں ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے پوچھا، تو پھر اگلی قوموں کا کیا حال ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہا (اچھا تو) پھر کیا بنے گا ان نسلوں کا جو گزر چکی ہیں اس سے پہلے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون نے) کہا اچھا تو پہلی نسلوں کا کیا حال ہوا ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون نے کہا : تو پھر پہلی نسلوں کا کیا حال ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh asked: "Then, what is the state of the former generations?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Then, what is the status of the earlier generations?

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Then, what is the status of the earlier generations?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Fir`awn] said: "What about the generations of old"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: What then is the state of the generations of old?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Pharaoh] said, "Then what is the case of the former generations?"

— Saheeh International

He then asked, "What do you know about the past generations?"

— Muhammad Sarwar

He said: Then what is the state of the former generations?

— Muhammad Habib Shakir

He said: then what happened to the former generations?

— Abdul Majid Daryabadi

(Pharaoh) said: "What then is the condition of previous generations?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

مکالمات موسیٰ ؑ اور فرعون۔ چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا۔ پیغام الٰہی کلیم اللہ کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کردی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 24 یعنی اگر بات یہی ہے کہ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی اور زندگی میں کام کرنے کا راستہ بتایا اس کے سوا کوئی دوسرا رب نہیں ہے، تو یہ ہم سب کے باپ دادا جو صدہا برس سے نسل در نسل دوسرے ارباب کی بندگی کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کی تمہارے نزدیک کیا پوزیشن ہے ؟ کیا وہ سب گمراہ تھے ؟ کیا وہ سب عذاب کے مستحق تھے ؟ کیا ان سب کی عقلیں ماری گئی تھیں ؟ یہ تھا فرعون کے پاس حضرت موسیٰ کی اس دلیل کا جواب۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جواب اس نے بر بنائے جہالت دیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ بربنائے شرارت۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں دونوں باتیں شامل ہوں، یعنی وہ خود بھی اس بات پر جھلا گیا ہو کہ اس مذہب سے ہمارے تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر فرعون نے (اس پر شبہ کیا (آیت) ان العذاب علی من کذب و تولی اور) کہا کہ اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا (جو انبیاء کی تکذیب کرتے تھے ان پر کون سا عذاب نازل ہوا) موسیٰ ؑ نے فرمایا (کہ میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ عذاب موعود دنیا ہی میں آنا ضرور ہے بلکہ کبھی دنیا میں بھی آجاتا ہے اور آخرت میں ضرور ہی ہوگا چنانچہ) ان لوگوں (کی بد اعمالیوں) کا علم میرے پروردگار کے اس دفتر (اعمال) میں (محفوظ) ہے (گو ان کو دفتر کی حاجت نہیں مگر بعض حکمتوں سے ایسا ہی کیا گیا ہے غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال معلوم ہیں اور) میرا رب (ایسا جاننے والا ہے کہ) نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے (پس ان کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کا استہزاء فرعون نے حضرت موسیٰ کی اس تذکیر پر سنجیدہ طریقہ سے غور کرنے کے بجائے بانداز طنز و تحقیر یہ سوال کیا کہ اچھا اگر رب کے پاس سے آئے ہو تو ذرا پچھلی قوموں کا حال سنائو کہ ان کا کیا بنا اور وہ کس حال میں ہیں ! مطلب یہ کہ جب وہاں سے آ رہے ہو تو وہاں کے سارے احوال سے تم تو واقف ہی ہو گے ذرا ہمیں بھی تو وہاں کا احوال سنائو ! یہ محلوظ رہے کہ برخود غلط اور متکبر لوگ اسی قسم کے غیر متعلق سوال چھیڑ کر سنجیدہ باتوں کو بےاثر بنانے اور پانے اندھے بہرے متعقدین میں اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 فرعون نے بات کا رخ دوسری طرف پھیرنے کے لئے یہ سوال کیا، یعنی پہلے لوگ جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے، ان کا حال کیا ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–58

21: اس سوال سے فرعون کا مقصد یہ تھا کہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گذر چکی ہیں جو توحید کی قائل نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ زندہ رہیں، اور ان پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اگر توحید کے انکار سے انسان عذاب الٰہی کا مستحق ہوجاتا ہے تو ان قوموں پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سوال کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ہر شخص کا اور اس کے کیے ہوئے کاموں کا پورا پورا حال معلوم ہے۔ وہ اپنی حکمت ہی سے فیصلہ فرماتا ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں میں سے کس کو اسی دنیا میں سزا دینی ہے، اور کس کی سزا آخرت تک موخر کرنی ہے۔ اگر کسی کافر قوم کو دنیا میں کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوا۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب فرعن نے ایک نیا سوال پیش کیا۔ قال فما بال القرون الاولی (15) “ یعنی جو لوگ تمہاری دعوت سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ وہ کدھر گئے ۔ ان کا رب کون تھا ؟ اور وہ تو اس الہ کے تصور کے بغیر چلے گئے جس کے بارے میں تم بات کرتے ہو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 51–52

1 یعنی اگر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسی روشن دلیلیں قائم ہوچکی ہیں اور جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو، وہ حق ہے تو گذشتہ اقوام کے تفصیلی حالات تم کو ضرور معلوم ہونے چائیں یہ سب لایعنی اور دور ازکار قصے فرعون نے اس لیے چھیڑے کہ حضرت موسیٰ کے مضامین ہدایت کو ان فضول باتوں میں رلا دے۔ حضرت موسیٰ نے فرما دیا کہ پیغمبر کو تمام چیزوں کا تفصیلی علم ہونا ضروری نہیں، ہر قوم کے حالات کا تفصیلی علم حق تعالیٰ کو ہے جو بعض مخفی مصالح کی بناء پر کتاب (لوح محفوظ) میں ثبت بھی کردیا گیا۔ اللہ کے علم سے نہ کوئی چیز ابتداء غائب ہوسکتی ہے اور نہ علم میں آئی ہوئی چیز کو ایک سیکنڈ کے لیے بھول سکتا ہے۔ جو اعمال کسی قوم نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی ” یعنی اگر ہم تمہارا یہ دعویٰ تسلیم کرلیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور تمہاری پیروی میں ہی ہدایت ہے تو پھر ہمارے آباء و اَجداد جو اس سے پہلے فوت ہوچکے ہیں ‘ ہماری کئی نسلیں جو اس دنیا سے جا چکی ہیں ‘ ان کے پاس تو کوئی رسول نہیں آیا تھا ‘ ان تک ایسی کوئی دعوت نہیں پہنچی تھی اور وہ اسی طریقے پر فوت ہوئے جسے تم گمراہی قرار دے رہے ہو۔ تو ان سب لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا فتویٰ ہے ؟ ان سب کا کیا بنے گا ؟ یہ ایک ٹیڑھا سوال تھا جس کا جواب بڑے حکیمانہ انداز میں دینے کی ضرورت تھی۔ ہمارے جیسا کوئی داعی ہوتا تو کہہ دیتا کہ وہ سب جہنمی ہیں ! ایسے جواب کے ردِّ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 فرعون کا دوسرا سوال کہ پہلی امتیں کس حال میں ہیں :۔ اس پہلو سے لاجواب ہو کر فرعون نے دوسرا سوال جو کیا وہ اس کی انتہائی شرارت پر مبنی تھا۔ جس سے وہ اپنی تمام مرعیت کو ان رسولوں کے خلاف بھڑکانا اور ان میں مذہبی تعصب پیدا کرنا چاہتا تھا۔ اس کا سوال یہ تھا کہ اگر صورت حال یہی ہے کہ جو توحید و رسالت کی دعوت تم لے کر آئے ہو اس کو ماننے والوں کے لئے امن و سلامت ہے اور جو اس دعوت پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کو دردناک سزا ملے گا تو بتلاؤ جو ہمارے باپ دادا فوت ہوچکے ہیں وہ کس حال میں ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

52۔ (جن کا دین تمہارے دین توحید سے یقیناً مختلف تھا) یعنی اب وہ کس حال کس عالم میں ہیں ؟ مصریوں کے اس بارے میں عجیب عجیب نظریات تھے۔ ہندی مشرکوں کے عقائد سے ملتے ہوئے۔ ایک خیال یہ تھا کہ ہر روح جزئی قید ہستی سے چھوٹنے کے بعد، روح کلی سے جاملتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–54

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فما بال القرون الاولی۔ اس نے کہا پھر اقوام سابقہ کا کیا حال ہوا یعنی قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری اقوام پارینہ کا کیا ہوگا جو بت پرست اور منکر قیامت تھیں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا (کیا ان کے عقائد افکار اقوال و اعمال ان کے ساتھ نہیں مرگئے اب وہ کہاں اور ان کے عقائد و اعمال کہاں ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 51–52

(51۔ 52) فرعون نے اس پر حضرت موسیٰ ؑ سے یہ شبہ ظاہر کیا کہ اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا اور کیسے ہلاک کیے گئے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کی ہلاکت کا علم میرے رب کے پاس لوح محفوظ میں ہے میرا رب ایسا ہے کہ نہ غلطی کرتا ہے اور نہ ان کا معاملہ اس سے چوک سکتا ہے اور نہ وہ ان کے معاملہ کو بھول سکتا ہے اور نہ ان کو سزا دینے سے چوک سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى : یہ سوال پوچھنے کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں اور موسیٰ ؑ کے جواب میں سب کا حل موجود ہے۔ پہلی وجہ شاہ عبد القادر ؓ کے الفاظ میں یہ ہے : ”فرعون شاید دہریہ مزاج تھا۔ آدمیوں کی پیدائش کو سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ، نہ اول کسی نے پیدا کیا، آپ ہی پیدا ہوگیا، نہ آخر باقی رہا، گل کر مٹی ہوگیا۔ جب سنا کہ سب کے سر پر ایک رب ہے تب یہ پوچھا کہ اگلی خلق کہاں گئی ؟ بتایا ان کا حساب لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک ایک آدمی پھر حاضر ہوگا۔“ (موضح) دوسری وجہ اس کے یہ پوچھنے کی کہ پھر پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، یہ ہوسکتی ہے کہ وہ یہ کہلوانا چاہتا تھا کہ جو لوگ سیکڑوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–55

(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–52

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔ 2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [فَمَا : تو کیا ہے ] [بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى: پہلی امتوں کی حالت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–52

اس کے بعد فرعون نے کہا (فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی) اچھا یہ بتاؤ کہ قرون اولیٰ یعنی پرانی امتیں اور گزری ہوئی جماعتیں جو دنیا سے جا چکی ہیں ان کا کیا حال ہے ؟ یعنی ہلاکت اور موت کے بعد ان کا کیا ہوا وہ کس حال میں ہیں ؟ (قَالَ عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍ ) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ان کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کتاب میں یعنی لوح محفوظ میں سب کے حالات محفوظ ہیں (لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسٰی) میرا رب نہ خطا کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ سب کے احوال اور اعمال کا اسے علم ہے وہ اپنے علم کے مطابق سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

31:۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مسکت جواب سنا اور لاجواب ہوگیا تو ایک نیا سوال کرڈالا کہ اچھا پہلے لوگوں کا حال بتاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو عالم الغیب ہے میں عالم الغیب نہیں ہوں گذشتہ قرنوں کا علم لوح محفوظ میں ثابت ہے۔ ای مکتوب عند ربی فی اللوح المحفوظ (بحر ج 6 ص 249) اور لوح محفوظ علم الٰہی سے کنایہ ہے۔ یا کتاب سے دفتر مراد ہے اور یہ چیز کے علم الٰہی میں ہونے کی تمثیل ہے وجوز ان یکون المراد بالکت الدفتر کما ھو المعروف فی اللغۃ ویکون ذلک تمثیلا لتمکنہ وتقررہ فی علمہ عز و جل (روح ج 16 ص 185) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–55

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى۝ 51 بال البَال : الحال التي يکترث بها، ولذلک يقال : قال : كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بالَهُمْ [ محمد/ 2] [ طه/ 51] ، أي : فما حالهم وخبرهم . ويعبّر بالبال عن الحال الذي ينطوي عليه الإنسان، فيقال : خطر کذا ببالي . ( ب ی ل ) البال اصل میں اس حالت کو کہتے ہیں جس کی فکر یا پرواہ کی جائے ۔ قرآن میں ہے ۔ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بالَهُمْ [ محمد/ 2] ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنواردی ۔ فَما بالُ الْقُرُونِ الْأُولی[ طه/ 51] تو پہلی جماعتوں کا کیا حال اور انسان کے دل میں گذرنے والے خیال کو بھی بال کہا جاتا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–57

1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی۔ (طٰـہٰ : 51) (اس نے پوچھا تو پھر اگلی قوموں کا کیا حال ہے ؟ ) فرعون کا ایک شاطرانہ سوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک جملے میں جس طرح ایک پورا مضمون سمیٹ دیا تھا اور نہایت حکیمانہ باتیں فرمائی تھیں۔ فرعون یا تو اسے سمجھ نہیں سکا اور یا اس نے قصداً ان باتوں کا اثر زائل کرنے کے لیے نہایت طنز اور تحقیق کے انداز میں یہ سوال کیا کہ اچھا اگر تم اپنے رب کے پاس سے پیغام لے کے آئے ہو تو پھر تو تمہیں اگلی قوموں کے احوال کی بھی خبر ہوگی، یعنی ہمارے جو آبائواجداد گزر چکے ہیں تم ان کے بارے میں بتاسکتے ہو کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اس نے اپنے تئیں ایک بڑا مضبوط جال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔ فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51: قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی (فرعون نے کہا پھرا قوام سابقہ کا کیا حال ہوا) گزری ہوئی اقوام کا کیا حال ہے ؟ اور اقوام پارینہ کا کیا معاملہ ہے۔ فرعون نے قرون متقدمہ کی حالت پوچھی کہ کون ان میں بدبخت ہے اور کون خوش نصیب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51۔ قال، ، فرعون نے کہا، فلمابال القرون الاولی، ، یہاں بال سے مراد حالت ہے یعنی گزری ہوئی قوموں کا کیا حال ہوا جیسے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، اور دوسری اقوام کا کیا ہوگاجوبت پرستی اور منکر قیامت تھی ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–55

آیت 50 یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔ (ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

44 ہر چیز کے مناسب ہدایت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے ہر چیز کو خاص ہدایت سے نوازا۔ سو اس قادر مطلق نے ہر چیز کو اس کی اس ہدایت سے نوازا جس کی اس کو اپنے مقصد حیات کے لیے اور اپنی زندگی گزارنے کے سلسلے میں ضرورت تھی۔ سو اس نے کمال حکمت وقدرت سے اس فطری ہدایت کو ہر کسی کی فطرت وجبلت میں پیوست کردیا جس میں غورو فکر سے کام لینے پر ایسے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ملتے ہیں کہ انسان دل و جان سے اس قادر مطلق کے حضور جھک جھک جاتا ہے اگر اس کا دل مر نہ گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ہر چیز کو اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کی تکمیل کیلئے جس ہدایت و راہنمائی کی ضرورت تھی وہ کمال حکمت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–59

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اگر رب وہی ہے جسے تم بیان کر رہے ہو تو تم بتائو کہ جو لوگ سینکڑوں برس سے نسلاً بعد نسل دوسروں کو اپنا رب سمجھتے اور ان کی بندگی کرتے رہے آیا وہ سب گمراہ مستحق عذاب تھے ؟ ممکن ہے فرعون نے یہ سوال از راہ جہالت کیا ہو یا اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ حضرت موسیٰ جب ان کو گمراہ اور مستحق عذاب قرار دیں گے تو ان کے خلاف تمام لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ ان کی دعوت سے متنفر ہوجائیں گے اہل حق کے خلاف اہل باطل جاہلوں کو مشتعل کرنے کا یہ ہتھکنڈا ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسے اپنا کارگر حربہ سمجھتے ہیں۔ (وحیدی مع اضافہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:51) بال۔ حال ۔ خبر ۔ خیال ۔ بول مادہ مابالک کیا بات ہے ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ امر ذوبال۔ اہم معاملہ۔ القرون۔ جمع قرن کی بمعنی قومیں۔ الگ الگ زمانے والی قومیں بال مضاف۔ القرون الاولی موصوف صفت ہو کر مضاف الیہ۔ فما بال القرون الاولی تو پہلی قوموں کی کیا حالت ہے یعنی ان کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اپنے اعتقادات اور نظریات کے نتیجہ میں کس حال میں ہوں گی یا ان کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ سب گمراہ تھیں لہٰذا عذاب کی مستحق۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–56

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56 ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–53

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[14] یعنی اگر اب وہی صرف ایک اللہ ہے جس کا نام تم لے رہے ہو تو پچھلی قوموں نے جن کا دین تمہارے دین توحید سے مختلف تھا ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ سب گمراہ تھیں ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–58

(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-5 1 اس کے بعد فرعون نے ایک اور شبہ کیا اور کہا اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا ۔ یعنی تم جو کہتے ہو کہ جو شخص تکذیب کرتا ہے اور منہ موڑتا ہے تو وہ شخص عذاب کا مستحق ہے تو پچھلی امتوں میں سے جن لوگوں نے دین حق کی تکذیب کی اور پیغمبروں کو جھٹلایا ان کا کیا حشر ہوا ان کے تفصیلی حالات مجھے بتائو اس پر پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–51

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے کہا کہ اچھا پھر ان کا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ہیں : 51۔ فرعون نے دوسرا سوال اٹھایا تو یہ بھی بطریق جدل ہی اٹھایا کہ ” اچھا پھر ان کا کیا حال ہوگا جو پچھلے زمانوں میں گزر چکے ؟ “ یعنی اگر حقیقت حال ایسی ہی ہے جیسی کہ تم کہہ رہے ہو تو جو لوگ پہلے عہدوں میں گزر چکے ان کے لئے کیا ہونا ہے ؟ وہ راہ صواب پر تھے یا گمراہی پر ؟ اٹھیں تو تمہارے اس نئے اعتقاد کی خبر بھی نہ تھی ۔ غور کرو کہ اب پھر وہی صورت پیدا ہوگئی اگر یہ سوال ہمارے مختلف مکاتب فکر کے علامہ حضرات میں سے کسی پر ہوتا تو جوتیوں دال بٹتی مسجدوں پر تالے پڑتے اور لوگ عدالتوں میں دھکے کھاتے اور جیلوں میں بند ہوتے اور بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ (who gave everything its shape then guidance 20:50) refers to the guidance of Takwin (تکوینی ھدایت). Sayyidna Musa (علیہ السلام) reminded the Pharaoh, at the first place, of those acts of Allah Ta` ala which are obviously done by Him alone and about which no one else could claim that he has performed them. The Pharaoh totally unable to refute this argument, and in his confusion asked Sayyidna Musa (علیہ السلام) a question which was designed to entangle him into giving a reply that would greatly offend the Egyptians. The question was: how did the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24. The question posed by Pharaoh was very subtle. He meant to say: If there is no other lord than the One Who has given a distinctive form to everyone, then what will be the position of our forefathers who had been worshiping other deities since centuries? Were all those people in error? Did all of them deserve torment? Did they all lack common sense? Thus Pharaoh perhaps wanted to give vent to his anger against Prophet Moses (peace be upon him) for showing disrespect to his forefathers. At the same time he also wanted to incite his courtiers and the common people of Egypt against the…

Read the full tafseer →