Taa-Haa 20:50

Taa-Haa · from ayah 50

20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰی كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰی ۟قَالَ رَبُّنَا الَّذِىۡۤ اَعۡطٰـى كُلَّ شَىۡءٍ خَلۡقَهٗ ثُمَّ هَدٰى

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Our Lord is He who gave each thing its form and then guided [it]."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:50

موسیٰؑ نے جواب دیا "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو وہ بناوٹ عطا کی جو اس کے مناسب تھی، پھر (اس کی) رہنمائی بھی فرمائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو (اس کے لائق) وجود بخشا پھر (اس کے حسبِ حال) اس کی رہنمائی کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : ہمارا پروردگار ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت خاص عطا کی پر اس کی رہنمائی کی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے جواب دیا، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے جواب میں کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی پھر اسے راہ دکھائی،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی بناوٹ عطا کی پھر (اس کی) رہنمائی کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا کی پھر ہدایت دی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل صورت بخشی پھر راہ دکھائی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Our Lord is He Who gave everything its form and then guided it."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :Our Lord is the One who gave everything its due shape, then guided it.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :Our Lord is the One who gave everything its due shape, then guided it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Musa] said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Our Lord is He Who gave unto everything its nature, then guided it aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Our Lord is He who gave each thing its form and then guided [it]."

— Saheeh International

They replied, "Our Lord is the One Who has created all things and has given guidance".

— Muhammad Sarwar

He said: Our Lord is He Who gave to everything its creation, then guided it (to its goal).

— Muhammad Habib Shakir

Musa said: our Lord is He who vouchsafed unto everything its creation, then guided it.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Our Lord is He Who gave to each (created) thing its form and nature, and further, gave (it) guidance."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

مکالمات موسیٰ ؑ اور فرعون۔ چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا۔ پیغام الٰہی کلیم اللہ کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کردی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 22 یعنی ہم ہر معنی میں صرف اس کو رب مانتے ہیں۔ پروردگار، آقا، مالک، حاکم، سب کچھ ہمارے نزدیک وہی ہے۔ کسی معنی میں بھی اس کے سوا کوئی دوسرا رب ہمیں تسلیم نہیں ہے۔ سورة طٰهٰ 23 یعنی دنیا کی ہر شے جیسی کچھ بھی بنی ہوئی ہے، اسی کے بنانے سے بنی ہے۔ ہر چیز کو جو بناوٹ، جو شکل و صورت، جو قوت و صلاحیت، اور جو صفت و خاصیت حاصل ہے، اسی کے عطیے اور بخشش کی بدولت حاصل ہے۔ ہاتھ کو دنیا میں اپنا کام کرنے کے لیے جس ساخت کی ضرورت تھی وہ اس کو دی، اور پاؤں کو جو مناسب ترین ساخت درکار تھی وہ اس کو بخشی۔ انسان، حیوان، نباتات، جمادات، ہوا، پانی، روشنی، ہر ایک چیز کو اس نے وہ صورت خاص عطا کی ہے جو اسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى میں پہلی ہی قسم کی ہدایت مذکور ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو سب سے پہلے رب العالمین کا وہ کام بتلایا جو ساری مخلوق پر حاوی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام ہم نے یا کسی دوسرے انسان نے کیا ہے۔ فرعون اس کا تو کوئی جواب نہ دے سکا اب ادھر ادھر کی باتوں میں ٹلایا اور ایک سوال موسیٰ ؑ سے کیا کہ جس کا حقیقی جواب عوام سنیں تو موسیٰ ؑ سے بدگمان ہوجائیں وہ یہ کہ پچھلے دور کی تمام امتیں اور اقوام عالم جو بتوں کی پرستش کرتے رہے آپ کے نزدیک ان کا کیا حکم ہے وہ کیسے ہیں ان کا انجام کیا ہوا ؟ مقصد یہ تھا کہ اس کے جواب میں موسیٰ ؑ فرمائیں گے کہ یہ سب وہ کیسے ہیں ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مختصر لیکن دندان شکن جواب حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا فرمائی، پھر اس کے خلقت کے اعتبار سے اس کی رہنمائی فرمائی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہر شے اپنے مقصد وجود کے اعتبار سے ایک خاص قالب و ہئیت رکھتی ہے اور پھر اس مقصد وجود کی تحصیل و تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک جبلی رہنمائی بھی رکھتی ہے۔ شہد کی مکھی کو جن مقصد کے لئے خالق نے پیدا کیا ہے اس کی تکمیل کے لئے اس کے ننھے سے وجود کے اندر اس نے وہ تمام قوتیں اور صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں جو اس کے لئے ضروری ہیں اور پھر اس کی جبلت کو یہ الہام بھی فرما دیا کہ وہ کس طرح اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیر اور پانے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–50

50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

20: یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت ہے کہ جس مخلوق کے لیے جو بناوٹ مقرر کردی۔ اس کو اسی کے مطابق کائنات میں اپنی ڈیوٹی بجا لانے کا طریقہ بھی سکھا دیا۔ مثلاً سورج کو کائنات میں روشنی اور حرارت پیدا کرنے کے لیے ایک خاص بناوٹ عطا فرمائی تو اسے یہ طریقہ بھی سکھا دیا کہ وہ کس طرح اپنے نظام شمسی کے ساتھ گردش کرے، اسی طرح ہر جان دار کو یہ سکھا دیا کہ وہ کس طرح چلے، اور کس طرح اپنی غذا حاصل کرے۔ مچھلی کا بچہ پانی میں پیدا ہوتا ہے، اور کسی کے سکھائے بغیر تیرنا شروع کردیتا ہے۔ پرندے ہوا میں اڑنا خود بخود سیکھ لیتے ہیں غرض ہر مخلوق کو اس کی ساخت کے مناسب زندہ رہنے کا طریقہ اللہ تعالیٰ ہی سکھاتے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی : قال ……ھدی (05) یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی ہر چیز کو اس کی استعداد کے موافق شکل صورت، قویٰ ، خواص وغیرہ عنایت فرمائے۔ اور کمال حکمت سے جیسا بنانا چاہیے تھا بنایا۔ پھر مخلوقات میں سے ہر چیز کے وجود وبقاء کے لیے جن سامانوں کی ضرورت تھی، مہیا کیے اور ہر چیز کو اپنی مادی ساخت اور روحانی قوتوں اور خارجی سامانوں سے کام لینے کی راہ سجھائی۔ پھر ایسا محکم نظام دکھلا کر ہم کو بھی ہدایت کردی کہ مصنوعات کے وجود سے صانع کے وجود پر کسی طرح استدلال کرنا چاہیے فللہ الحمد والمنہ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی کھانے پینے کو ہوش دیا۔ بچہ کو دودھ پینا وہ نہ سکھائے تو کوئی نہ سکھا سکے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ” یعنی اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو ایک خاص شکل اور ہیئت کے مطابق تخلیق کیا ہے اور پھر ہر مخلوق کی خلقت کے عین مطابق اسے جبلی ہدایت بھی عطا کی ہے۔ مثلاً اس نے بکری کو جبلی ہدایت دی ہے کہ اس کی غذا گوشت نہیں ہے ‘ گھاس وغیرہ ہے اور شیر کو جبلی ہدایت دی ہے کہ اس کی غذا گھاس نہیں ‘ گوشت ہے ‘ اسی طرح ہرچیز کو جبلی طور پر اس نے مخصوص عادات واطوار اور خصوصیات کا پابند کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 فرعون کا سیدنا موسیٰ سے پہلا سوال کہ تمہارا پروردگار کون ہے :۔ جب وہ فرعون کے پاس پہنچے کر ان دونوں بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ پر اس کی دعوت پیش کی تو فرعون نے جو پہلا سوال یا اعتراض کیا وہ اس کی اپنی دکھتی رگ تھی۔ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا اور لوگوں کو اس نے یہی یقنی دلایا ہوا تھا کہ وہی ان کا پروردگار ہے۔ فرعون بلاشبہ اس بات کا قائل تھا کہ زمین و آسمان اور موجودات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سیاسی و قانونی حاکمیت کا وہ منکر تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ میرے اوپر کوئی ایسی بالاتر ہستی نہیں جس کا حکم مجھ پر چلتا ہو اور مجھے اس کا حکم ماننا ضروری ہو۔ لہذا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ (ان کی اسی خلقت کی جانب) حضرت موسیٰ اپنے رب کا تعارف کرا رہے ہیں۔ ارے تو اس کو نہیں جانتا۔ وہ تو وہ ذات ہے جس نے ساری مخلوقات کو شرف وجود سے مشرف کیا ہے، پھر جیسی جس کی فطرت وساخت رکھی، اور جو کام اس سے لینا چاہا، اس کے مطابق اس کے آلات وقوی، ہئیت و ترکیب بھی رکھی گویا تخلیق اور ترتیب دونوں کا مبداء وہ ہی تو ہے۔ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “۔ سے مراد ہے کہ ہر ہستی کی ساخت وخلقت موزون ومناسب رکھی، اور (آیت) ” ھدی “۔ سے مراد ہے کہ جس مقصد وغرض کے لئے اس ہستی کو مخلوق کیا، اسی طرف اسے لگا بھی دیا، خیال رہے کہ گفتگو مسئلہ ربوبیت پر چل رہی ہے نہ کہ الوہیت پر۔ مرشد تھانوی (رح) نے حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–54

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ربنا الذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ہدی۔ موسیٰ نے کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب بناوٹ عطا فرمائی پھر اس کو راستہ دکھایا۔ حسن اور قتادہ نے کہا اللہ نے ہر چیز کو اس کی بھلائی اور بہتری کا سامان عطا فرمایا پھر اس کو اس چیز کے حصول کا جس میں اس کی بھلائی ہے راستہ بتادیا۔ مجاہد نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا اللہ نے ہر چیز کو اس کے مناسب صورت عطا فرمائی آدمی کی شکل جانوروں جیسی اور جانوروں کی شکل انسان جیسی نہیں بنائی پھر کھانے پینے اور قربت صنفی کرنے کی طرف اس کی راہنمائی کی۔ سعید بن جبیر نے کہا خلق سے مراد ہے ہر چیز کو اس کا ہم جنس جوڑا دیا مرد کو عورت اونٹ کو اونٹنی ‘ گدھے کو گدھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) یہ سن کر فرعون کہنے لگا کہ تم دونوں کا رب کون ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مطابق جوڑا عطا فرمایا، یعنی انسان اور اونٹ کو اونٹنی اور بکری کو بکرا کہ ہر ایک کا جوڑا بنادیا، پھر ان کو کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی رہنمائی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ : یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرتے ہوئے اسے اس کی حسب ضرورت اور حسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ چلنے والے، اڑنے والے اور تیرنے والے ہر جاندار کو، ہر درخت، پہاڑ اور دریا کو اور زمین و آسمان غرض ہر مخلوق کو ایسی شکل و صورت عطا فرمائی کہ کوئی دوسرا نہ اسے بنا سکتا ہے، نہ کوئی نقص یا عیب نکال سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر شکل پیش کرسکتا ہے۔ دیکھیے سورة سجدہ (7) اور سورة ملک (3)۔ ثُمَّ هَدٰى : یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–50

(تفسیر 47-50) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتیہ فقولا انا رسولا ربک اس کلام میں حذف ہے یعنی یہ ہے کہ وہ فرعون کے پاس آئے اور اسے یہ کہا : فارسل معنا بنی اسرآء یل یعنی ان کو چھوڑ دے۔ ولا تعذبھم محنت و مشقت اور کام میں تھکانے کے ساتھ۔ بنو اسرائیل فرعون کے پاس سخت عذاب میں تھے وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا اور مٹی اور اینٹیں بنانے اور شہر تعمیر کرنے کی تکلیف مالا یطاف دیتا تھا۔ قد جئنک بایتہ من ربک حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت سے مراد عصا اور ہاتھ میں ہے۔ بعض نے فرمایا : فرعون نے پوچھا وہ نشانی کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی قمیض کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–52

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔ 2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبُّنَا : ہمارا رب ] [الَّذِيٓ: وہ ہے جس نے ] [اَعْطٰي : عطا کی ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز کو ] [خَلْقَهٗ : اس کی پیدائش ] [ثُمَّ : پھر ] [هَدٰى: اس نے ہدایت دی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–50

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے مکالمہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے ہدایت دی اور خالق کائنات جل مجدہ پر ایمان لانے کے لیے فرمایا تو اس نے بےتکی باتیں شروع کردیں اور طرح طرح کے سوال کرتا رہا ان میں سے بعض سوال یہاں سورة طہ اور بعض سورة شعراء کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور اس نے (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) کا اعلان کیا تھا اب جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت دیتا ہوں تجھے اس کی رغبت ہے تو قبول کرلے اس پر فرعون کو ناگواری ہونی ہی تھی بھرے مجمع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بتادیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ پھر ہر مخلوق کو جو کچھ عطا فرمایا اس سے نفع حاصل کرنے کی اسے راہ بتائی اور اسے اپنی بقا اور حد کمال کو پہنچنے کی تدبیر سجھائی ثم ھدی الی طریق الانتفاع والارتفاق بما اعطاہ و عرفہ کیف یتوصل الی بقائہ وکمالہ الخ (روح ج 16 ص 202) بحوالہ ابو السعود) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–55

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰى۝ 50 عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 50–57

1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

قَالَ فَمَنْ رَّبُّـکُمَا یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْ ئٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 49، 50) (فرعون نے سوال کیا، اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ حضرت موسیٰ نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی۔ ) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون کا مکالمہ گزشتہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اگرچہ یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ آپ دونوں حضرات فرعون کے پاس گئے یا نہیں۔ لیکن پیش نظر آیات میں فرعون اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔ فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلائلِ توحید : 50: قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ اَعْطٰی کُلَّ شَیْ ئٍ خَلْقَہٗ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئی کو اس کے مناسب بناوٹ عنایت فرمائی۔ ) خلقہ یہ اعطی کے دو میں سے پہلا مفعول ہے یعنی اعطٰی خلیقتہ کل شیٔ یحتاجون الیہ ویرتفقون بہٖ اس نے بناوٹ دی ہر چیز کو ایسی جس کے وہ ضرورت مند اور جس سے وہ فائدہ اٹھانے والے ہیں نمبر 2۔ دو میں سے دوسرا مفعول ہے۔ ہر شیٔ کو اس کی وہ شکل و صورت دی جو اس کے منفعت و مقصد کے مطابق ہے جیسا کہ آنکھ کو وہ ہیئت دی جو بصارت کے مطابق ہے اور کان کو وہ شکل دی جو سننے کے مناسب تھی اور اسی طرح ناک ‘ پائوں ‘ ہاتھ ہر ایک ان میں سے مقررہ منفعت کے عین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔ قال ربناالذی اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی، ، حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ اس نے ہمیں ہرچیز عطا کی ہے جس میں ہماری بھلائی اور بہتری کا سامان تھا پھر اس کو اس چیز کے حصول کا جس میں اس کی بھلائی ہے راستہ بتادیا۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اللہ نے ہرچیز کو اس کے مناسب صورت عطا فرمائی ، آدمی کی شکل جانوروں جیسی اور جانوروں کی شکل انسان جیسی نہیں بنائی پھر کھانے پینے اور قربت صنفی کرنے کی طرف اس کی راہنمائی کی۔ ضحاک کا بیان ہے کہ اس نے ہرچیز پیدا کی وہ ہمیں عطا کی۔ اس سے مراد ہاتھ ، چھونے کے لیے پاؤں چلنے کے لیے ہے، زبان بولنے کے لیے ، آنکھ دیکھنے کے لیے اور کان سننے کے لیے بنائے۔ سعید بن جبیر ؓ کا بیان ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–55

آیت 50 یعنی فرعون نے موسیٰ سے انکار کے طور پر کہا : (فمن ربکما یموسی) ” تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟ “ موسیٰ نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا : (ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔ (ثم ھدی) ” پھر اس نے رہنمائی کی۔ “ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–50

42 فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے فرمایا گیا کہ " تم جا کر فرعون سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ پس تو ۔ اے فرعون ۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑ دے اور ان کو عذاب نہ دے "۔ جیسا کہ تو اب تک کرتا آیا ہے۔ اور ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تو نے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سو یہ دوسرا بڑا فریضہ تھا جو حضرت موسیٰ پر دعوت حق اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کے بعد عائد ہوتا تھا اور جس کیلئے آنجناب کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی کی جکڑ بندیوں سے رہائی دلانا پہلی اور اصل ذمہ داری تو آپکی بہرحال تبلیغِ حق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–59

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد ایک صورت بھی دی ہے جو اس کے مناسب حال ہے اور اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے۔ چناچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی چگنے لگتا ہے، جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے۔ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم سے کر رہی ہے حضرت موسیٰ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ حضرت موسیٰ نے عموماً ہی دلائل پیش کئے جو حضرت ابراہیم نے پیش کئے تھے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:50) ربنا۔ ای ربی ورب اخی ھرون۔ ہمارا رب یعنی میرا اور میرے بھائی ہارون۔ ہم دونوں کا رب۔ اعطی کل شیء خلقہ۔ کل شیء اور خلقہ دونوں اعطی کے مفعول ہیں۔ خلقہمصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ اور ہُ ضمیر شیء کے لئے ہے۔ (1) اگر کل شیء کو مفعول اول لیا جائے اور خلقہ کو مفعول ثانی۔ تو خلقہ کے معنی ہوں گے ایسی شکل و صورت جو ان فوائد اور منافع کے لئے موزوں اور مناسب ہے جن کے لئے ہر شے کی تخلیق کی گئی۔ مثلاً کان۔ ناک، آنکھ۔ زبان ۔ ہاتھ۔ پائوں وغیرہ کی ساخت اور جسم میں ان کی مناسب وموزوں ترکیب و ترتیب ۔ اس صورت میں جملہ کے معنی ہوں گے : ہر شے کو ایسی شکل و صورت بمعہ جملہ لوازمات بخشی جو اس کے مقصد تخلیق کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–56

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56 ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–53

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی اس نے ہر مخلوق کو خاص طرح کی ساخت دی اور اس کی زندگی و بقا کے لئے جن جن باتوں کی ضرورت تھی ان سب کی راہ بھی اسے دکھا دی، یعنی ایسا وجدان، ایسے حواس اور ایسی معنوی قوتیں دے دیں جو اس کو اپنی مخصوص ساخت سے کام لینے میں اس کی رہنمائی کرتی ہیں۔ کان کو سننا، آنکھ کو دیکھنا، مچھلی کو تیرنا اور پرندے کو اڑنا اسی نے سکھایا ہے۔ بس وہ ہر چیز کا خالق ہی نہیں ہادی اور معلم بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–58

(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-50 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے برجستہ جواب دیا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر شئی کو اس کے مناسب اور اس کی استعداد کے موافق شکل و صورت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی فرمائی اور اس کو راہ بتائی۔ یعنی ہر جاندار کو اس کی استعداد کے موافق ساخت عطا کی پھر ہر قسم کے منافع اور مصالح کے حصول کی سمجھ عطا فرمائی بلکہ زندہ رہین کے اسباب میں اس کی رہنمائی فرمائی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کھانے پینے کا ہوش دیا بچے کو وہ دودھ پینا نہ سکھائے تو کون سکھا سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–51

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے سوال کا جواب : 50۔ آپ کہیں گے کہ اس کے تمام تصورات کا ابطال کیونکرہوا ؟ اس طرح کہ میں تمہارے ان گھڑے ہوئے معبودوں کا قائل نہیں جن میں سے کسی کو تم نے خلقت دینے والا سمجھ رکھا ہے کسی کو روح بخشنے والا کسی کو رزق و تندرستی کا سر چشمہ ، میں تو صرف اس ایک ہستی کا پرستار ہوں جو جسم بھی دیتی ہے اور وہ سب کچھ بھی دیتی ہے جو جسم کے نشو ونما و قیام کے لئے ضروری ہے ، خالق بھی وہی ہے رہنمائے زندگی بھی وہی ہے اس کے سوا کوئی نہیں ۔ چناچہ پھر آگے چل کر انہوں نے اس اعتقاد کی تفصیل بھی کردی ہے ، پھر اس جملہ کی جامعیت ومانعیت دیکھو کائنات ہستی میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ (who gave everything its shape then guidance 20:50) refers to the guidance of Takwin (تکوینی ھدایت). Sayyidna Musa (علیہ السلام) reminded the Pharaoh, at the first place, of those acts of Allah Ta` ala which are obviously done by Him alone and about which no one else could claim that he has performed them. The Pharaoh totally unable to refute this argument, and in his confusion asked Sayyidna Musa (علیہ السلام) a question which was designed to entangle him into giving a reply that would greatly offend the Egyptians. The question was: how did the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22. That is, we acknowledge Him alone as our Lord in every sense. He is our Sustainer, our Maker, our Master, our Sovereign and is Supreme in everything, and there is no other lord in any sense but Him. 23. This concise sentence needs serious attention. It means that it is Allah alone Who has created everything and given it its distinctive structure, form, capabilities, characteristics, etc. (1) For instance, man has been given the hands and feet which are given the most appropriate structure that was needed for their right functioning. (2) A human being, an animal, a plant, mineral and the…

Read the full tafseer →