Taa-Haa 20:49

Taa-Haa · from ayah 49

20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰی ۟قَالَ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰى‏

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Pharaoh] said, "So who is the Lord of you two, O Moses?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:49

فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(یہ ساری باتیں سن کر) فرعون نے کہا : موسیٰ تم دونوں کا رب کون ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(فرعون نے) کہا: تو اے موسٰی! تم دونوں کا رب کون ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ! ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون نے جواب دیا : موسیٰ ! تمہارا پروردگار ہے کون ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے سوال کیا اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(چنانچہ ان دونوں نے حسب ہدایت جا کر فرعون سے یہ سب کچھ کہہ دیا تو) اس نے کہا کہ اچھا تو کون ہے رب تم دونوں کا اے موسیٰ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون نے) کہا تو پھر اسے موسیٰ ؑ تم دونوں کا پروردگار ہے کون ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب ہے کون

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا کہ ”موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh said:" Moses! Who is the Lord of the two of you?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Pharaoh) said, :Who then is the Lord of you two, O Musa?

— Muhammad Taqi Usmani

He (Pharaoh) said, :Who then is the Lord of you two, O Musa?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Fir`awn said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Pharaoh) said: Who then is the Lord of you twain, O Moses?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Pharaoh] said, "So who is the Lord of you two, O Moses?"

— Saheeh International

The Pharaoh asked them, "Who is your Lord?"

— Muhammad Sarwar

(Firon) said: And who is your Lord, O Musa?

— Muhammad Habib Shakir

He said: who is the Lord of you twain, O Musa!

— Abdul Majid Daryabadi

(When this message was delivered), (Pharaoh) said: "Who, then, O Moses, is the Lord of you two?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

مکالمات موسیٰ ؑ اور فرعون۔ چونکہ یہ ناہنجار یعنی فرعون مصر وجود باری تعالیٰ کا منکر تھا۔ پیغام الٰہی کلیم اللہ کی زبانی سن کر وجود خالق کے انکار کے طور پر سوال کرنے لگا کہ تمہارا بھیجنے والا اور تمہارا رب کون ہے میں تو اسے نہیں جانتا نہ اسے مانتا ہوں۔ بلکہ میری دانست میں تو تم سب کا رب میرے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شخص کو اس کا جوڑا عطا فرمایا ہے انسان کو بصورت انسان، گدھے کو اس کی صورت پر، بکری کو ایک علیحدہ صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کی مخصوص صورت میں بنایا ہے۔ ہر ایک کی پیدائش نرالی شان سے درست کردی ہے۔ انسانی پیدائش کا طریقہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 20 یہاں قصے کی ان تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کس طرح فرعون کے پاس پہنچے اور کس طرح اپنی دعوت اس کے سامنے پیش کی۔ یہ تفصیلات سورة اعراف رکوع 13 میں گزر چکی ہیں اور آگے سورة شعراء رکوع 2۔ 3، سورة قصص رکوع 4، اور سورة نازعات رکوع 1 میں آنے والی ہیں۔ فرعون کے متعلق ضروری معلومات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 86۔ سورة طٰهٰ 21 دونوں بھائیوں میں سے اصل صاحب دعوت چونکہ موسیٰ ؑ تھے اس لیے فرعون نے انہی کو مخاطب کیا۔ اور ہوسکتا ہے کہ خطاب کا رخ ان کی طرف رکھنے سے اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ وہ حضرت ہارون کی فصاحت و بلاغت کو میدان میں آنے کا موقع نہ دینا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–49

اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔ موسیٰ ؑ نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کو دعوت اور اس کا معارضہ قل فمن ربکما یموسیٰ 49 قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بربنائے وضاحت یہ بات حذف کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جو پغیام دے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا وہ پیغام وہ لے کر گئے اور ٹھیک ٹھیک ہدایت الٰہی کے مطابق اس کو فرعون تک انہوں نے پہنچا بھی دیا۔ یہ سن کر فرعون بولا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ یعنی تم جو رب کے رسول بن کر آئے ہو تو آخر وہ رب کون ہے ؟ رب تو میں ہوں تو آخر تم میرے دربار میں اور کس رب کے رسول بن کر آئے ہو ؟ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ فرعون کی حیثیت مصر میں (God King) اوتار بادشاہ کی سمجھی جاتی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–50

50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–49

19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–50

اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی : قال ……ھدی (05) یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی تم اپنے کو جس رب کا بھیجا ہوا بتلاتے ہو وہ رب کون ہے اور کیسا ہے (اس سوال سے مترشح ہوتا ہے کہ فرعون دہری عقیدہ کی طرف مائل ہوگا یا محض دق کرنے کے لیے ایسا سوال کیا ہو)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یٰمُوْسٰی ” ہم تو کسی ایسے رب سے واقف نہیں ہیں جس کے بارے میں تم دونوں بات کر رہے ہو۔ تمہارا ربّ ہے کون ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–49

31 فرعون کو دعوت دینے پانچ کلمات :۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنے کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آگئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصا ً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ یہ دونوں حضرات فرعون کے دربار تک پہنچ چکے ہیں اور یہ گفتگو وہیں ہو رہیں ہے۔ مصر میں فرعون سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا، اور عملاتمام اختیارات خدائی کا مظہر۔ اب تک وہ اپنے ہی کو سب سے بڑے یعنی سورج دیوتا کے مظہر یا اوتار سنتے رہنے یا سمجھتے رہنے کا عادی رہا تھا۔ اب جو یہ نئی اور نامانوس آواز اس کے کان میں پڑی تو حیرت سے پوچھتا ہے کہ اچھا یہ بتاؤ تو سہی آخر تمہار اترا شا ہورب کون سا ہے ؟ توریت میں اسی مقام پر ہے :۔” فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کو بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–54

آیت نمبر 43 تا 54 ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فمن ربکما یموسی۔ فرعون نے کہا موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے۔ جس نے تم دونوں کو بھیجا ہے۔ چونکہ اصل مخاطب موسیٰ ہی تھے اس لئے لفظ نداء (یا) صرف موسیٰ پر داخل کیا لیکن پیغامبر ہونے کا دعویٰ دونوں کا تھا اس لئے تثنیہ مخاطب کی ضمیر ذکر کی۔ موسیٰ کے وزیر ہارون ( علیہ السلام) تھے۔ پھر تعلق قدیم تربیت کا بھی موسیٰ سے ہی تھا ‘ یا فرعون گفتگو سے سمجھ گیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کا بھائی تو بیان کے ساتھ ہے مرکز گفتگو موسیٰ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) یہ سن کر فرعون کہنے لگا کہ تم دونوں کا رب کون ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مطابق جوڑا عطا فرمایا، یعنی انسان اور اونٹ کو اونٹنی اور بکری کو بکرا کہ ہر ایک کا جوڑا بنادیا، پھر ان کو کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی رہنمائی کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى : یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر رب بنا رکھا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا (نازعات : 24) اور اپنے ”الٰہ“ یعنی معبود ہونے کا بھی۔ (قصص : 38)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 47–50

(تفسیر 47-50) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتیہ فقولا انا رسولا ربک اس کلام میں حذف ہے یعنی یہ ہے کہ وہ فرعون کے پاس آئے اور اسے یہ کہا : فارسل معنا بنی اسرآء یل یعنی ان کو چھوڑ دے۔ ولا تعذبھم محنت و مشقت اور کام میں تھکانے کے ساتھ۔ بنو اسرائیل فرعون کے پاس سخت عذاب میں تھے وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا اور مٹی اور اینٹیں بنانے اور شہر تعمیر کرنے کی تکلیف مالا یطاف دیتا تھا۔ قد جئنک بایتہ من ربک حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت سے مراد عصا اور ہاتھ میں ہے۔ بعض نے فرمایا : فرعون نے پوچھا وہ نشانی کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی قمیض کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–52

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔ 2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (فرعون نے) کہا ] [فَمَنْ : تو کون ] [رَّبُّكُمَا : تم دونوں کا رب ہے ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی (علیہ السلام) ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–50

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے مکالمہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے ہدایت دی اور خالق کائنات جل مجدہ پر ایمان لانے کے لیے فرمایا تو اس نے بےتکی باتیں شروع کردیں اور طرح طرح کے سوال کرتا رہا ان میں سے بعض سوال یہاں سورة طہ اور بعض سورة شعراء کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں فرعون تو اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور اس نے (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی) کا اعلان کیا تھا اب جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت دیتا ہوں تجھے اس کی رغبت ہے تو قبول کرلے اس پر فرعون کو ناگواری ہونی ہی تھی بھرے مجمع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بتادیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–55

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

29:۔ جب حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) فرعون کے پاس جا کر اس کو پیغام حق سنا چکے تو فرعون نے ان سے سوال کیا۔ وہ تمہارا رب کون ہے، جس کے تم رسول ہو، جس کی توحید کی دعوت دیتے ہو۔ اور جس کے عذاب سے ڈرا رہے ہو۔ کیا میرے سوا کوئی اور بھی رب ہے ؟ ” قَالَ رَبُّنَا الخ “ یہ تیسری آیت توحید ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس کا کوئی اسم علم ہے نہیں کہ میں کہہ دوں وہ فلاں ہے اس کی صفات بیشمار ہیں۔ اور وہ صفات ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ ہمارا رب وہ ہستی ہے جس نے سارے عالم کو پیدا کیا۔ ہر مخلوق کو ایک مخصوص ہیئت اور صورت عطا فرمائی۔ ای انہ یعرف بصفاتہ ولیس لہ اسم علم حتی یقال فلان بل ھو خالق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–55

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور پھر حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اسے نرمی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ ہماری نشانیاں بھی ہمراہ لے جائو تاکہ اگر اسے کوئی تردد ہو تو اسے دکھا سکو۔ یہ نشانیاں تمہاری صداقت کی دلیل ثابت ہونگی۔ فرعون سے گفتگو کا آغاز اس طرح کرو کہ ہم تیرے پروردگار کی طرف سے فرستادہ ہیں ۔ ہم اللہ کے رسول ہیں ، اس لئے ہماری بات مانوں اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کردو تاکہ ہم انہیں اپنے اصلی وطن شام و فلسطین لے جاسکیں۔ اور فرعون کو یہ بھی بتلادینا کہ سلامتی اس پر ہوگی جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اور سزا اس کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى۝ 49 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–49

تفسیر : باہمی گفتگو کے بعد فرعون نے جبکہ دربار میں موسیٰ کے معجزے دیکھے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے۔ جادو کے زور سے لوگوں کو یہاں سے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سو ہم بھی اس کے مقابلہ میں ایسا ہی سحر لا ویں گے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کی ٹھہری اور وقت مقرر کرایا۔ موسیٰ نے کہا یوم الزینۃ جشن کا دن۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا تھا جس طرح ہندوئوں کے میلے ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کے لیے یہ اس لیے کہ اسی روز مجمع عام ہوگا سب لوگوں کو امر حق معلوم ہوجائے گا۔ فرعون نے جابجا بڑے بڑے جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے اور ان کو انعام کا وعدہ دیا اس عہد میں طلسم ونیر نجات کا ازحد چرچا تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 49–50

قَالَ فَمَنْ رَّبُّـکُمَا یٰـمُوْسٰی۔ قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیْ ئٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی۔ (طٰـہٰ : 49، 50) (فرعون نے سوال کیا، اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ حضرت موسیٰ نے جواب دیا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی۔ ) حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون کا مکالمہ گزشتہ دو آیتوں میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اگرچہ یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ آپ دونوں حضرات فرعون کے پاس گئے یا نہیں۔ لیکن پیش نظر آیات میں فرعون اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔ فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی گفتگو کا آغاز : 49: قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یٰـمُوْسٰی (فرعون نے کہا اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ ) اس نے دونوں کو اولاً مخاطب کیا پھر ایک کا نام لے کر آواز دی کیونکہ موسیٰ نبوت میں اصل تھے اور ہارون (علیہ السلام) ان کے تابع تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 49۔ قال فمن ربکما یاموسی، ، تم دونوں کا رب کون ہے کس نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 تحقیق وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ بیشک عذاب ہے اس شخص پر جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا، یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں۔ (1) فرعون کو اسلام کی دعوت دیں۔ (2) شرف کے حامل قبیلہ، بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ ان پر اللہ تعالیٰ کیش ریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں۔ (قد جئنک بایۃ) ” ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔ “ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر اسنپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–50

42 فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے فرمایا گیا کہ " تم جا کر فرعون سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ پس تو ۔ اے فرعون ۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑ دے اور ان کو عذاب نہ دے "۔ جیسا کہ تو اب تک کرتا آیا ہے۔ اور ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تو نے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سو یہ دوسرا بڑا فریضہ تھا جو حضرت موسیٰ پر دعوت حق اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کے بعد عائد ہوتا تھا اور جس کیلئے آنجناب کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی کی جکڑ بندیوں سے رہائی دلانا پہلی اور اصل ذمہ داری تو آپکی بہرحال تبلیغِ حق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–59

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مکالمہ تشریح : ان آیات میں فرعون اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے اللہ کے حق ہونے اور شیطان کے باطل ہونے کا اظہار اس طرح ہوتا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر بڑے ہی دانشمدانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ان نکات کو بیان کردیا جن کی تصدیق بیسویں صدی کے سائنسدانوں نے اس طرح کی ہے۔ ” ہر ایک ایٹم کی فطرت میں یہ اصول یا پروگرام فٹ کردیا گیا ہے کہ وہ خالق حقیقی کو پہچانتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ یہی پہچان ہی زندگی کی روح ہے، لہٰذا اس کائنات میں کوئی چیز بھی مردہ نہیں۔ ہر چیز کا مادی وجود کمپیوٹر کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–54

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف (شرح صدر) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 47–49

ف 1 یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے آپ کو مصر کا رب اعلیٰ بھی سمجھتا تھا۔ (نازعات :24) اور اللہ یعنی معبود بھی چناچہ قصص میں ہے۔ یایھا الملاء ما علمت لکم من الہ غیری کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور اللہ بھی ہو۔ (آیت 38)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 48–49

(20:48) تولی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تولی مصدر (تفعیل) اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ وہ پھر گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–56

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56 ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔ تشریح : آیت نمبر 47 تا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 49–53

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ (بارش) کا ذکر کیا تھا۔ اس ذکر کو پوار کرنے کے لئے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اس مینہ سے طرح طرح کے اناج انسان کے کھانے کے لئے، اور طرح طرح کا چارہ چوپایوں کے لئے پیدا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[12] قصے کی ان تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 13 آیت نمبر 100 تا 108 صفحہ 356، سورة شعراء رکوع 3-2 آیت نمبر 10 تا 51 صفحہ 762 اور سورة قصص رکوع 4 آیت نمبر 29 تا 42 صفحہ 912

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–49

(ف 2) فرمایا فرعون سے جا کر بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرو ، اس سے کہو ، ہم اللہ کے رسول ہیں ، اور اس بات پر مامور ہیں کہ بنی اسرائیل کی غلامی اور رقیت کو آزادی اور حریت سے بدل دیں اب تمہیں زیبا نہیں ، کہ مزید تکلیفات اور عذاب میں ہماری قوم کو مبتلا رکھو ہم تمہارے پاس معجزات اور خوارق لے کر آئے ہیں ، سل امتی اور بہبودی اسی میں ہے کہ ہدایت ورشد کو قبول کرلو ، اور ان مظالم سے باز آجاؤ ۔ حل لغات : طغی : سرکش ہوگیا حدود فطرت سے آگے بڑھ گیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-49 فرعون نے یہ سب سن کر بات کو ٹلانے کی غرض سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) تم دونوں کا پروردگار کون ہے۔ یعنی ذات وصفات کی بحث میں الجھانا چاہا جیسا کہ سورة شعراء میں ہے ۔ وما رب العالمین فرعون یا تو دہری ہوگا۔ صائع عالم کا قائل ہوگا یا خود خدائی کا مدعی ہوگا۔ جیسا کہ سورة قصص میں ہے ماعلمت لکم من الہ غیری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–51

ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ ! بتاؤ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ 49۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتیں سن کر فرعون کوئی جواب نہ دے سکا البتہ ایک سوال پیش کردیا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟ یعنی تم جو رب کے رسول بن کر آئے ہو تو آخر وہ رب ہے کون ؟ مطلب اس کا یہ تھا کہ رب تو میں ہوں اور تم دونوں میرے ہی دربار میں کھڑے ہو پھر تم کس رب کے رسول ہو کر آئے ہو ؟ فرعون کے اس سوال کی نوعیت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے معلوم کرلیا جائے کہ اس وقت مصریوں کے عقائد کیا تھے ؟ مصری مختلف دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے جن میں سے بعض تو خاص خاص قبیلوں اور علاقوں کے تھے جیسے نیفات ‘ فتا اور مات اور بعض عالمگیر قوتوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–49

Allah said,إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَ‌ىٰ "I am surely with you both. I hear and I see." - 20:46) Here the word "with you" is used in the sense of divine help and support which human senses cannot perceive. Sayyidna Musa (علیہ السلام) called upon the Pharaoh to embrace the True Faith and also to deliver the Bani Isra'il from bondage This shows that the prophets have the duty of guiding mankind towards their salvation as well as to liberate their people from worldly and economic bondages. Therefore, in this verse Sayyidna Musa (علیہ السلام) is reminded of both these duties. God…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20. Here the details have been omitted. These have been given in (Surah Al-Aaraf, Ayats: 103-108); (Surah Ash- Shuara, Ayats 10-33); (Surah Al-Qasas, Ayats 28-40); (Surah An-Naziat, Ayats 15-25) . As regards to the necessary information about Pharaoh, see (E.N. 85 of Surah Al-Aaraf). 21. Pharaoh addressed Prophet Moses (peace be upon him) because he was, in regards to Prophethood, the senior of the two. It is also possible that he deliberately addressed him in order to exploit his impediment in speech, and ignored Prophet Aaron (peace be upon him), who was more fluent. As regards to the…

Read the full tafseer →