Explained with ayahs 45–48
اللہ کے سامنے اظہار بےبسی۔
اللہ کے ان دونوں رسولوں نے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہوئے اپنی کمزوری کی شکایت رب کے سامنے کی کہ ہمیں خوف ہے کہ فرعون کہیں ہم پر کوئی ظلم نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے۔ ہماری آواز کو دبانے کے لئے جلدی سے ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے۔ اور ہمارے ساتھ ناانصافی سے پیش نہ آئے۔ رب العالم کی طرف سے ان کی تشفی کردی گئی۔ ارشاد ہوا کہ اس کا کچھ خوف نہ کھاؤ میں خود تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری اور اس کی بات چیت سنتا رہوں گا اور تمہارا حال دیکھتا رہوں گا کوئی بات مجھ پر مخفی نہیں رہ سکتی اس کی چوٹی میرے ہاتھ میں ہے وہ بغیر میری اجازت کے سانس بھی تو نہیں لے سکتا۔ میرے قبضے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
سورة طٰهٰ 19
اس واقعے کو بائیبل اور تلمود میں جس طرح بیان کیا گیا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیجیے تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن مجید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کس شان سے کرتا ہے اور بنی اسرائیل کی روایات میں ان کی کیسی تصویر پیش کی گئی ہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ جب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ " اب میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے " تو حضرت موسیٰ نے جواب میں کہا " میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں "۔ پھر خدا نے حضرت موسیٰ کو بہت کچھ سمجھایا، ان کی ڈھارس بندھائی، معجزے عطا کیے، مگر حضرت موسیٰ نے پھر کہا تو یہی کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سب کچھ سنتا اور دیکھتا رہوں گا۔ معیت سے مراد نصرت و امداد ہے جس کی پوری حقیقت و کیفیت کا ادراک انسان کو نہیں ہو سکتا۔
موسیٰ ؑ نے فرعون کو دعوت ایمان کے ساتھ اپنی قوم کو معاشی مصیبت سے بھی چھڑانے کی دعوت دی
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) جیسے خلق خدا کو ہدایت ایمان دینے کا منصب رکھتے ہیں اسی طرح اپنی امت کو دنیوی اور معاشی مصائب سے آزاد کرنا بھی ان کے منصب میں شامل ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت فرعون میں دونوں چیزیں شامل ہیں اول اللہ پر ایمان، دوسرے بنی اسرائیل کی آزادی خصوصاً…
Read the full tafseer →آیت 48
یہ اوپر والی آیت کے مضمر مضمون کو نہایت نرم انداز میں کھول دیا کہ ہم پر یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے
1۔ ملاحظہ ہو تدبر قران ج 2، ص 718-716
آیت 48 کے چند لطیف پہلو
اور اعراض کرے گا اس کے اوپر عذاب آئے گا۔
اس آیت پر تدبر کیجیے تو کئی لطیف باتیں سامنے آئیں گی۔
ایک تو یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے عام لیڈروں کی طرح فرعون پر اپنی طرف سے عذاب کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو صرف اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی خبر دی جو ان پر آی تھی کہ تکذیب اور اعراض کرنے والوں پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ طریقہ انہوں نے اسی لئے اختیار فرمایا کہ اپنی طرف سے فرعون کے لئے کوئی وجہ اشتعال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
50۔ 1 مثلاً جو شکل صورت انسان کے مناسب حال تھی، وہ اسے، جو جانوروں کے مطابق تھی وہ جانوروں کو عطا فرمائی ' راہ سجھائی ' کا مطلب ہر مخلوق کو اس کی طبعی ضروریات کے مطابق رہن سہن، کھانے پینے اور بود و باش کا طریقہ سمجھا دیا، اس کے مطابق ہر مخلوق کا سامان زندگی فراہم کرتی اور حیات مستعار کے دن گزارتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہیے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “
اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔
انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب…
Read the full tafseer →13 یعنی جو ہماری بات مان کر سیدھی راہ چلے گا اس کے لیے دونوں جہان میں سلامتی ہے۔ اور جو تکذیب یا اعراض کرے گا اس کے لیے عذاب یقینی ہے۔ خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی۔ اب تم اپنا انجام سوچ کر جو راستہ چاہو اختیار کرلو۔
Read the full tafseer →آیت 48 اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ”
چنانچہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پوری تفصیل کے ساتھ اس تک پہنچا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
31 فرعون کو دعوت دینے پانچ کلمات :۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا۔ ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنے کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دو نکات آگئے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصا ً تمہارا بھی پروردگار ہے، دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔ گویا اس ایک حملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انھیں ہمارے…
Read the full tafseer →49۔ (حق سے) توریت میں یہ واقعات تو خیرتھوڑے بہت درج ہیں، لیکن قرآن مجید بیچ بیچ میں اخلاق و عقائد سے متعلق جو تعلیمات دینا چاہتا ہے ان سے توریت کے صفحات یکسر خالی ہیں ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ جو حکم ” قول لین “۔ (نرم بولی) کاملا تھا یہ اسی کی تعمیل ہورہی ہے کہ آپ نے براہ راست یہ نہ فرمادیا کہ عذاب تیرے اوپر ہوگا، بلکہ اسے ایک کلیہ اور قانون کی صورت میں پیش کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–54
آیت نمبر 43 تا 54
ترجمہ : تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے دعوائے ربوبیت کرکے بڑی سر کسی کی ہے دعوئے ربوبیت سے رجوع کرنے کے بارے میں اسے نرمی سے سمجھاؤ شاید کہ وہ سمجھ جائے یا اللہ سے ڈر جائے اور باز آجائے اور ترجی کا صیغہ حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی کے اعتبار سے ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ وہ باز نہیں آئے گا (پھر ترجی کے صیغہ کے استعمال کا کوئی مطلب نہیں رہتا) تو دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارے اوپر زیادتی کر بیٹھے یعنی سزا میں جلد بازی کر بیٹھے یا ہمارے اوپر شرارت کرنے لگے یعنی تکبر سے پیش آئے، تو ارشاد ہوا اندیشہ نہ کرو کیونکہ میں مدد سے تم…
Read the full tafseer →انا قد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی۔ ہمارے پاس یہ حکم (بذریعۂ وحی) پہنچا
ہے کہ (اللہ کا عذاب) اس شخص پر ہوگا جو (حق کو) جھٹلائے اور (اس سے) روگردانی کرے۔ الْعَذَاب دنیا اور آخرت میں اللہ کا عذاب۔ مَنْ کَذَّبَجس نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ تَوَلّٰیاللہ کو ماننے اور اس کی عبادت کرنے سے پشت پھیری۔ یعنی انکار کیا مترجم) یہ کلام حضرت موسیٰ کے رسول ہونے کی علت ہے یا ذیلی تتمہ ہے ‘ حضرت مفسر نے فرمایا یا اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَسے بدل ہے رفتار آیت سے یہی معلوم ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →(48) اور ہمارے پاس یہ حکم پہنچا ہے کہ دائمی عذاب اس شخص پر ہوگا جو کہ توحید کا منکر ہو اور ایمان سے منہ پھیرلے۔
Read the full tafseer →اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَآ۔۔ : توحید و رسالت اور بنی اسرائیل کو اپنے ظلم و ستم اور غلامی سے آزاد کرنے کی دعوت کے ساتھ ہی خوش خبری بھی سنائی کہ جو ہدایت کی پیروی کرے گا سلامت رہے گا۔ اس آیت میں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیا کہ ہمیں وحی کے ذریعے سے بتایا گیا ہے کہ جو جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ اس ڈرانے میں بھی نرم سے نرم الفاظ، جو ممکن تھے، ملحوظ رکھے، یہ نہیں فرمایا کہ تم پر عذاب نازل ہوگا۔ اس سلامتی اور عذاب دونوں کو عام رکھا، اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی سلامتی اور عذاب شامل ہیں۔ یہ مضمون سورة نازعات (30 تا 39) اور سورة قیامہ (31 تا 35) وغیرہ میں بھی بیان ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(تفسیر 47-50) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتیہ فقولا انا رسولا ربک اس کلام میں حذف ہے یعنی یہ ہے کہ وہ فرعون کے پاس آئے اور اسے یہ کہا : فارسل معنا بنی اسرآء یل یعنی ان کو چھوڑ دے۔ ولا تعذبھم محنت و مشقت اور کام میں تھکانے کے ساتھ۔ بنو اسرائیل فرعون کے پاس سخت عذاب میں تھے وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا اور مٹی اور اینٹیں بنانے اور شہر تعمیر کرنے کی تکلیف مالا یطاف دیتا تھا۔ قد جئنک بایتہ من ربک حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت سے مراد عصا اور ہاتھ میں ہے۔ بعض نے فرمایا : فرعون نے پوچھا وہ نشانی کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی قمیض کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” اناقد اوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ جس نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ کی اطاعت سے اعراض کیا۔
2:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” الذی اعطی کل شیء خلقہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے لئے اس نے اس کی روح کو پیدا فرمایا (آیت) ” ثم ھدی “ یعنی پھر اس کو نکاح کرنے کھانے پینے اور اس کو رہنے کا طریقہ سکھایا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعطی کل شیء خلقہ “ سے مراد ہے کہ انسان کو انسانیت (یعنی انسانی عورت) اور گدھے کو گدھی اور بکری کو اس کا بکرا…
Read the full tafseer →[انا : بیشک ] [قَدْ اُوْحِيَ : وحی کی گئی ہے ] [اِلَيْنَآ : ہماری طرف ] [ان : کہ ] [الْعَذَابَ : عذاب ] [عَلٰي مَنْ : اس پر ہے جس نے ] [كَذَّبَ : جھٹلایا ] [وَتَوَلّٰى: اور منہ موڑا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خطاب کہ فرعون کے پاس جاؤ، میرے ذکر میں سستی نہ کرنا، اور اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اپنے لیے چن لیا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے اس سے پہلے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی) میں یہ بات گزر چکی ہے۔ انتخاب کا تذکرہ فرمانے میں بھی امتنان ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ان میں سے ایک قبیلہ کے ایک ہی شخص کو چن لینا اور نبوت سے سر فراز فرمانا یہ انعام خاص ہے۔
اللہ تعالیٰ کا انتخاب فرما لینا اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–55
تذکیر انعامات و احسانات
قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔
(ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →28:۔ اسی طرح ہمیں وحی کے ذریعہ یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت میں عذاب اس شخص پر آئے گا جس نے اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو قبول کرنے اور ان پر ایمان لانے سے اعراض کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کرکے حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی ہے کہ مشکلات پیش آنے پر دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں۔ سورة ہذا کے نزول کے زمانے میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ بڑی اذیتیں برداشت کر رہے تھے اور بعض حبشہ کی طرف ہجرت بھی کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے جانے والے احسانات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اللہ نے آپ کو اپنا خاص تقرب عطا فرمایا ، آپ سے کلام کیا نیز فرمایا واصطنعتک لنفسی میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے منتخب کیا ہے لہٰذا تم ہمہ وقت میری مرضیات پر چلتے رہو۔
ذکر…
Read the full tafseer →اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰي مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى 48
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی،
( و ح ی ) الوحی
کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
تفسیر : باہمی گفتگو کے بعد فرعون نے جبکہ دربار میں موسیٰ کے معجزے دیکھے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے۔ جادو کے زور سے لوگوں کو یہاں سے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سو ہم بھی اس کے مقابلہ میں ایسا ہی سحر لا ویں گے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کی ٹھہری اور وقت مقرر کرایا۔ موسیٰ نے کہا یوم الزینۃ جشن کا دن۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا تھا جس طرح ہندوئوں کے میلے ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کے لیے یہ اس لیے کہ اسی روز مجمع عام ہوگا سب لوگوں کو امر حق معلوم ہوجائے گا۔ فرعون نے جابجا بڑے بڑے جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے اور ان کو انعام کا وعدہ دیا اس عہد میں طلسم ونیر نجات کا ازحد چرچا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فَاْ تِیٰـہُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلاَ رَبِّکَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ 5 لا وَلاَ تُعَذِّبْھُمْ ط قَدْجِئْنٰـکَ بِاٰیـَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ ط وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔ اِنَّا قَدْ اَوْحِیَ اِلَیْنَا اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی۔ (طٰـہٰ :) 47، 48
(پس اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو دکھ نہ پہنچا، ہم تیرے رب کی طرف سے ایک بڑی نشانی بھی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس شخص پر ہے جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ ہم پر یہ وحی کی گئی ہے کہ ان لوگوں پر عذاب ہے جو جھٹلائیں اور روگردانی کریں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ عظیم معجزات پانے کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجنے سے پہلے بتلا دیا گیا تھا کہ فرعون بغاوت اور نافرمانی میں تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے ہاں پرورش پائی تھی وہ اسے بہت قریب سے جانتے تھے کہ فرعون بڑا ہی ظالم اور سفاک انسان ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر کو اس لیے چھوڑا تھا کہ وہاں ان کے ہاتھوں حکمران پارٹی کا سھوًا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا۔ ان وجوہات کی بنا پر حضرت موسیٰ اور ہارون نے اپنے…
Read the full tafseer →48: اِنَّا قَدْ اُوْ حِیَ اِلَیْنَا اَنَّ الْعَذَابَ (ہمارے پس یہ وحی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب) دنیا اور آخرت میں عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی (اس شخص پر ہوگا جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا) رسولوں کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض اختیار کیا۔
قرآن میں ارجیٰ آیت :
یہ قرآن میں ارجٰی آیت قرار دی گئی کیونکہ جنس سلام کو مومن کیلئے مخصوص کیا اور جنس عذاب کو مکذب کیلئے مخصوص کیا اور جنس کے بعد کونسی چیز رہ جاتی ہے۔ تم دونوں اس کے پاس جائو اور فریضۃ رسالت ادا کرو۔ چناچہ دونوں نے وہ کہا جس کا حکم ملا تھا۔
Read the full tafseer →48۔ اناقداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی، ، بیشک اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا ہے جو اس کی طرف سے دی ہوئی نشانیوں کو جھٹلاتا ہے اور اس سے اعراض کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 48
تحقیق وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ بیشک عذاب ہے اس شخص پر جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا، یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں۔
(1) فرعون کو اسلام کی دعوت دیں۔
(2) شرف کے حامل قبیلہ، بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ ان پر اللہ تعالیٰ کیش ریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں۔
(قد جئنک بایۃ) ” ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔ “ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر اسنپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
42 فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے فرمایا گیا کہ " تم جا کر فرعون سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ پس تو ۔ اے فرعون ۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑ دے اور ان کو عذاب نہ دے "۔ جیسا کہ تو اب تک کرتا آیا ہے۔ اور ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تو نے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سو یہ دوسرا بڑا فریضہ تھا جو حضرت موسیٰ پر دعوت حق اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کے بعد عائد ہوتا تھا اور جس کیلئے آنجناب کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی کی جکڑ بندیوں سے رہائی دلانا پہلی اور اصل ذمہ داری تو آپکی بہرحال تبلیغِ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–48
سیدنا موسیٰ کی دعاؤں کی قبولیت اور بچپن کی یادیں
تشریح : اصل اور مکمل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا سورة قصص میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہاں بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیات سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تبلیغ کے لیے کیا کچھ ضروری اور کیا کچھ مشکلات پیش آتی ہیں جیسا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی نبوت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ اور ان کو کئی مشکلات سے اپنی حکمت سے بچائے رکھا۔ مثلاً اللہ نے فرمایا : جو سال بچوں کے قتل کا تھا اس سال آپ کی پیدائش ہوئی۔ قتل کردیے جانے کے خوف سے تیری ماں نے اللہ کے حکم سے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–54
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
(شرح صدر)
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب عطا کا دروازہ کھلا پایا تو لگے جھولیاں بھرنے اور درخواست پہ درخواست کرتے چلے گئے سب سے اول جو شے مانگی وہ شرح صدر کی دعا تھی یعنی میرا سینہ کھول دیجے ، شرح صدر سے مراد ہوتا ہے کہ متعلقہ موضوعات پر اللہ کی طرف سے براہ راست علوم سینہ میں اترتے جائیں اور سینہ باعتبار علوم کے سمندر بن جائے ، اسی علم کو علم لدنی کہا گیا ہے اور جب وہ سینے میں آتا ہے تو سینہ وسیع ہوجاتا ہے جیسے کتاب اللہ میں ارشاد ہے کہ اللہ کریم جب کرم کرتے ہیں تو اسلام کے لیے سینہ کھول دیتے ہیں ۔ ” یشرح صدرہ للاسلام “۔ یہ نعمت اولیاء اللہ کو عموما نصیب ہوتی ہے مگر بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 1 یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے آپ کو مصر کا رب اعلیٰ بھی سمجھتا تھا۔ (نازعات :24) اور اللہ یعنی معبود بھی چناچہ قصص میں ہے۔ یایھا الملاء ما علمت لکم من الہ غیری کہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور اللہ بھی ہو۔ (آیت 38)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(20:48) تولی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تولی مصدر (تفعیل) اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ وہ پھر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–56
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 56
ائتیا تم آؤ، تم اس کے پاس جاؤ۔ ارسل بھیج دے۔ لاتعذب تکلیفیں نہ دے۔ اتبع جس نے پیروی کی۔ اعطی عطا کیا، دیا۔ خلق اس نے پیدا کیا۔ مابال کیا حال ہے، کیا معاملہ ہے۔ القرون (قرن) قومیں، جماعتیں۔ لایضل نہ وہ بہکتا ہے۔ نہ وہ غلطی کرتا ہے۔ لاینسی وہ بھولتا نہیں۔ مھد راحت کی جگہ، بچھونا۔ سلک اس نے چلایا۔ سبل (سبیل) راستے۔ ازواج (زوج) جوڑے جوڑے۔ نبات سبزہ، سبزی۔ شتی مختلف، متفرق۔ ارعو جانوروں کو چراؤ۔ انعام مویشی۔ اولی النھی (نھیۃ) عقل و سمجھ والے۔ نعید ہم لوٹائیں گے۔ نخرج ہم نکالیں گے۔ تارۃ اخری دوسری مرتبہ۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ ابی اس نے انکار کیا۔
تشریح : آیت نمبر 47 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فرعون کا قصہ اور قدرت کی نشانیاں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ارشاد ہے کہ فرعون سے تم یوں کہنا کہ ہم کو بذریعہ وحی بھی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا، اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں، ان کو نہ مانے گا، تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا سورة الشعراء (پارہ 19) میں آوے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا۔ اسی واسطے اگرچہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے اوپر کی آیتوں میں فرعون سے یہ کہا تھا کہ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے رسول ہیں لیکن فرعون نے غرور کے مارے ان لفظوں کو نہیں دھرایا، بلکہ موسیٰ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
[11] یعنی اپنی رسالت کے لئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ واقعات اس لئے یاد دلائے گئے کہ انھیں معلوم ہوجائے کہ مشیت الٰہی کا ہاتھ اول دن سے انھیں پیغمبری کے لئے چن چکا ہے۔ ان کا عجیب و غریب حالات میں پیدا ہونا۔ پھر مصر سے نکلنے پر مجبور ہونا اور مدین کے بیابانوں میں زندگی بسر کرنا۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ پیغمبری کی شخصیت تیار کرنے کے لئے ان ساری باتوں کی ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(ف 2) فرمایا فرعون سے جا کر بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرو ، اس سے کہو ، ہم اللہ کے رسول ہیں ، اور اس بات پر مامور ہیں کہ بنی اسرائیل کی غلامی اور رقیت کو آزادی اور حریت سے بدل دیں اب تمہیں زیبا نہیں ، کہ مزید تکلیفات اور عذاب میں ہماری قوم کو مبتلا رکھو ہم تمہارے پاس معجزات اور خوارق لے کر آئے ہیں ، سل امتی اور بہبودی اسی میں ہے کہ ہدایت ورشد کو قبول کرلو ، اور ان مظالم سے باز آجاؤ ۔
حل لغات :
طغی : سرکش ہوگیا حدود فطرت سے آگے بڑھ گیا ۔
Read the full tafseer →-48 اور بلاشبہ ہم کو یہ حکم بھیجا گیا ہے اور ہم کو یہ بات وحی کی گئی ہے کہ ہر قسم کا عذاب اس شخص پر ہوگا جو تکذیب کا مرتکب ہو اور احکام الٰہی سے روگردانی کرے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا وہی شخص دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جہان میں مستحق ہوگا جو دین حق کی تکذیب کرے اور راہ حق سے روگردانی کرے اور پیٹھ پھیرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–51
ف 5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے پیغام رسالت کی مزید وضاحت فرما دی کہ جھٹلانے والا عذاب کا مستحق ہوگا :
48۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پیغام ہدایت کی مزید وضاحت اس طرح فرمائی کہ ” ہم پر یہ وحی ہوئی ہے کہ جو شخص جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس کو عذاب دیا جائے گا ۔ “ حکومت فرعون کے پاس ‘ دولت فرعون کے پاس ‘ اعوان وانصار اور ہاں میں ہاں ملانے والے فرعون کے پاس لیکن یہ سب کچھ رکھنے والے کو کس خاموشی اور نرمی کے ساتھ وہ لوگ عذاب کی خبر دے رہے ہیں جن کے پاس نہ حکومت ہے ‘ نہ دولت ‘ نہ ہی اعوان وانصار اور نہ ہی ہاں میں ہاں ملانے والے ‘ دو آدمی ہیں جن کی بات تک سننے کے لئے کوئی تیار نہیں وہ فرعون وقت کے سامنے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
Allah said,إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ "I am surely with you both. I hear and I see." - 20:46) Here the word "with you" is used in the sense of divine help and support which human senses cannot perceive.
Sayyidna Musa (علیہ السلام) called upon the Pharaoh to embrace the True Faith and also to deliver the Bani Isra'il from bondage
This shows that the prophets have the duty of guiding mankind towards their salvation as well as to liberate their people from worldly and economic bondages. Therefore, in this verse Sayyidna Musa (علیہ السلام) is reminded of both these duties.
God…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
19. A comparative study of this incident as given in the Bible and the Talmud will show that the Quran does not copy the stories from these books, but gives its own version in order to portray the Messengers in their true glory and dignity. According to the Bible, when God said to Moses (peace be upon him) that He would send him to Pharaoh, Moses (peace be upon him) replied: Who am I, that I should go unto Pharaoh, and that I should bring forth the children of Israel out of Egypt? (Exodus 3: 11). God persuaded and encouraged Moses (peace be upon him) by giving him signs but he was still…
Read the full tafseer →